Header Ads

Rah_e_haq novel 53rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  53rd Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔

53rd epi...
 ارحم  خان باپ کی باتوں کے باعث طرح طرح کی سوچوں میں گھرا کار ڈرائیو کر رہا تھا دل عجیب طرح کے وسوسوں میں گھرا تھا۔۔۔۔ دفعتاً اسکے فون کی نوٹیفکیشن بیل بجی۔۔۔ اسنے کار کی سپیڈ سلو کرتے ڈیش بورڈ سے فون اٹھا کر اسے ان لاک کیا۔۔۔ ارد گرد سے گاڑیوں کا بے ہنگم شور ابھر رہا تھا۔۔۔ زندگی رواں دواں تھی۔۔۔ وہ ایک مشہور شاہرا پر موجود تھا تبھی گاڑی سائیڈ پر لے آیا۔۔۔
نوٹیفکیشن پر کلک کرتے ہی وہ کئ پلوں کے لئے ساکت رہ گیا۔۔۔ یکدم ہی بریک پر پاوں جا پڑا ۔۔۔ اور موبائل کی سکرین کی جانب دیکھتے سرعت سے اسکی آنکھیں نم ہو اٹھیں۔۔۔ 
سامنے ہی عینہ اپنے شوہر کے ساتھ اسکے کندھے پر سر رکھے کھڑی مسکرا رہی تھی جبکہ اسکے شوہر کی گود میں ایک بچی تھی۔۔۔
ارحم خان نے دقت سے گہرا سانس خارج کیا اور انگوتھے اور انگلی کی مدد سے نم آنکھیں مسلیں۔۔۔ دل میں ایک محشر بھرپا ہونے لگا تھا۔۔۔ موبائل اسکے کپکپاتے ہاتھوں سے چھوٹا اور وہ سٹرینگ پکر کر اس پر جھکتا گہرے گہرے سانس لینے لگا۔۔۔ 
کیا کیا یاد نا آگیا تھا۔۔۔ ایک دوسرے کی معیت میں گزارا خوبصورت وقت۔۔۔ مستقبل کی پلانینگ۔۔۔ ایک خوبصورت رشتے میں بندھنے کا سرور اور پھر یکدم ہی سب کچھ ایک آندھی کے نظر ہونا۔۔۔ عینا کا نفرت آمیز لہجہ اور آنکھوں سے لپکتے حقارت کے شرارے۔۔۔ اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔
خود پر غصہ حد سے سوا تھا کے کیوں ہو گیا وہ اسقدر پریشرائز کے اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے ہی اجاڑ ڈالی۔۔۔ خود کو آج تک وہ معاف تو پہلے ہی نہیں کر پایا تھا۔۔۔ مزید اب خود سے نفرت محسوس ہونے لگی تھی۔۔۔ بس ایک احساس ندامت اور احساس پشیمانی تھی جو کے سر اٹھانے دیتی تھی نا جینے دیتی تھی۔۔۔ وہ جس قدر تکلیف میں تھا کاش اسکا باپ کبھی سمجھ سکتا۔۔۔

اسنے آج جانا تھا کے ماضی کی خار دار جھاریوں کا سفر کرنا اتنا آسان بھی نہیں۔۔۔ ایک چیز جسے دل میں دفن کر کے اس پر مٹی ڈال دی جائے پھر اپنے ہاتھوں سے  گھڑے مردے اکھار کر مر چکی محبت کے شواہد اکھٹے کرنا اور محبت کے ڈھانچوں کو نکالنا بے دردی و بے رحمی سے اپنا کلیجہ نوچنے کے ہی مترادف تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد خود کو کمپوز کرنے کے بعد اسنے گیلی سانس اندر کھینچی اور جھک کر نیچے سے موبائل اٹھاتے موبائل سکرول ڈاون کرنے لگا۔۔۔۔
اب اسکا چہرا بے تاثر تھا۔۔۔
عینہ فرہاد۔۔۔۔ اپنے شوہر اور دو سالہ بیٹی کے ساتھ اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں چھوٹے سے گھر میں رہتی تھی۔۔۔ اسکا شوہر ایک پرائیوٹ کمپنی میں سوفٹ وئیر انجئینر تھا۔۔۔  وہ خود ہاوس وائف تھی اور اچھے سے زندگی کا گزر بسر چل رہا تھا۔۔۔۔
ارحم نے گہری سانس خارج کرتے موبائل فون بند کر دیا۔۔۔
ایک بات طے تھی کے اس بار ارحم خان کی وجہ سے عینہ کی ازواجی زندگی میں کوئی طوفان نہیں آئے گا۔۔۔
ہاں اسے ہی ان سب چیزوں کا کوئی سدباب کرنا تھا۔۔۔ اور جلد ہی کرنا تھا۔۔۔
کیسے وہ باپ کے ایک نئے شوشے سے جان چھڑوا سکتا تھا۔۔۔ اسکا دماغ تیزی سے چل رہا تھا۔۔۔
وہ باخوبی جانتا تھا کے عینا کو اسکا باپ محض اسے پریشرائز کرنے کو درمیان میں گھسیٹ رہا تھا۔۔۔۔ وہ آج بھی ارحم خان کی کمزوری تھی اور اسکا باپ اسکی کمزوری سے باخوبی واقف تھا۔۔۔ ورنہ وہ جانتا تھا کے اس بار بیٹے کو زیر کرنا آسان نہیں۔۔۔ لیکن یہاں ارحم خان بے حس نہیں بن سکتا تھا کے باپ کی سفاکی سے وہ باخوبی آگاہ تھا۔۔۔ اسکے اڑے رہنے پر یقیناً واجد خان شکست قبول نا کرتا ور آخری حربے کے طور پر اس معصوم کی ہستی بستی زندگی میں بونچال لا دیتا۔۔۔ اور ایسا وہ ہرگز ہرگز نہیں چاہتا تھا۔۔۔
 جو بھی تھا۔۔۔ ایک بات طے تھی کے وہ کبھی واجد خان کی پسند کی ہوئی لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ بلکہ وہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ اس جیسے بے وفا کو کسی معصوم لڑکی کے جذبات سے کھیلنے کے بعد اس دنیا سے اپنے لئے خوشیاں کشیدنے کا کوئی حق نا تھا۔۔۔ وہ خود کو اس قابل سمجھتا ہی نا تھا۔۔۔ مگر وہ یہ ساری باتیں اپنے باپ کو کیسے سمجھاتا ۔۔۔
دفعتاً اسکی غیر دانستہ نظر روڈ کنارے کھڑی ایک لڑکی پر پڑی ۔۔۔ وہ لڑکی جینز کے ساتھ لانگ کوٹ  زیب تن کئے ہوئے تھی۔۔۔ شولڈر کٹ بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔۔۔ چہرے پر حزن و ملال کی گہری چھاپ تھی وہ ہاتھ میں چند شاپنگ بیگز تھامے ہوئے تھی غالباً کسی کو تلاش کر رہی تھی۔۔۔۔
چند پل لگے تھے ارحم کو شناخت کے مراحل طے کرنے میں ۔۔۔ یکدم اسکے دماغ میں جھماکا سا ہوا۔۔۔ یہ لڑکی عروشہ اسکی یونیورسٹی فیلو تھی۔۔۔ اس سے جونیر تھی اور تقریباً سال بھر پہلے ہی تو اسکے ساتھ ایک ٹرجڈی ہوئی تھی جسکے بعد وہ ایک لمبے عرصے تک ہاسپیٹلائزڈ رہنے کے بعد  پوری دنیا سے کٹ گئ تھی۔۔۔ 
وہ سب گئے بھی تھے اسکے گھر اسکی خیریت معلوم کرنے۔۔۔۔
پہچان کے مراحل طے کرتے ہی ارحم نے گاڑی اسکی جانب موڑی۔۔۔ اسکے دماغ میں کچھ بری طرح کلک ہو رہا تھا اگر ایسا ہو جائے تو۔۔۔ اسکا دل تیزی سے ڈھرکا۔۔۔
وہ لڑکی روڈ کے مخالف سمت کھڑی تھی۔۔۔ جب تک ارحم اس تک پہنچتا غالباً اسکا ڈرائیور واپس آ گیا تھا وہ اپنی گاڑی میں سوار ہوگئ جبکہ ارحم اسکی لمحہ با لمحہ دور ہوتی گاڑی کو دیکھتا رہا۔۔۔ ایک ملاقات ناگزیر تھی اس لڑکی کے ساتھ پھر چاہے اسکے لئے اسے اس لڑکی کے گھر ہی کیوں نا جانا پڑتآ۔۔۔
*****
عروشہ بیٹے کہاں گی تھی تم ۔۔۔۔ میں پریشان ہو رہی تھی میری جان۔۔۔ عروشہ جس وقت مضحمل سی گھر میں داخل ہوئی تب مام پہلے سے ہی لاوئنج میں موجود تھیں۔۔۔ نفیس سی ساڑھی میں ملبوس  ڈائمنڈ جیولری پہنے مام بالکل تیار سی بیٹھی تھیں غالباً ابھی ابھی کسی کٹی پارٹی سے لوٹیں تھیں۔ کیونکہ جس وقت وہ گھر سے نکلی تھی تب مام گھر نا تھیں۔۔ 
جی مام میں لائبریری تک گئ تھی کچھ بکس اشو کروانیں تھیں اس لئے۔۔۔۔۔۔
وہ جواب دے کر سیدھی سیاہ ماربل لگی سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔۔
اچھی بات ہے نکلا کرو باہر۔۔۔۔۔
اور سنو تو مجھے بات کرنی ہے تم سے۔۔۔ مام کی آواز پر وہ سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے رکی۔۔۔
جی کہیے۔۔۔
یہاں آو۔۔ وہ خاموشی سے آکر مام کے پاس بیٹھ گئ۔۔۔ کتابیں سامنے کانچ کے میز پر رکھ دیں۔۔۔
بیٹا کسی ایک انسان کے چلے جانے سے زندگی ختم نہیں ہو جاتی۔۔۔  ایک انسان کے چلے جانے سے پوری دنیا سے کٹ کر رہ جانا کہاں کی عقلمندی ہے بیٹا۔۔۔
مام کی باتوں پر اسکی خوابناک آنکھوں میں کرب ہلکورے لینے لگا۔۔۔ وہ شعوری کوشیش سے خود پر ضبط کے پہرے بیٹھائے آنکھوں کو نم ہونے سے روکے ہوئے تھی۔۔۔
مانا کے حارث اور تم ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔۔۔ بچپن کا ساتھ تھا ۔۔۔ تم دونوں میں بہت انڈرسٹینڈنگ تھی۔۔۔
ہم لوگوں نے تو تم دونوں کی اسقدر سٹرانگ بانڈنگ اور انڈرسٹینڈنگ دیکھتے ہی تم دونوں کا رشتہ طے کیا تھا۔۔۔ 
لیکن نہیں تھا قسمت کو منظور۔۔۔ وہ اتنی ہی زندگی لکھوا کر آیا تھا کے شادی سے محض تین دن پہلے ایک روڈ ایکسیڈینٹ کی نظر ہوتا اس دنیا سے چلا گیا۔۔۔
عروشہ کی ضبط کی طنابیں چھوٹنے لگیں تھیں۔۔۔ اسنے آنکھیں جھپک جھپک کر خود سے رونے سے روکا۔۔۔
اسے نہیں رونا تھا۔۔۔ بہت رو چکی وہ سب کے سامنے اب مزید نہیں۔۔۔ اسے کسی کے سامنے نہیں رونا تھا۔۔۔
مام۔۔ وہ بولی تو آواز ضبط سے پھٹ رہی تھی۔۔۔
میں یہ سب جانتی ہوں۔۔۔ سب۔۔۔
پھر ان سب باتوں کو دہرا کر مجھے اذیت سے دوچار کرنے کا مقصد۔۔۔ اتنی سی بات کرتے ہی وہ ہانپنے لگی تھی۔۔۔ چہرا بھاپ چھوڑنے لگا تھا۔۔۔ یہ وہ زخم تھا جو بھرتا ہی نا تھا۔۔۔ ہر بار اس یاد پر تکلیف پہلے دن کی سی ہوتی۔۔۔ اب بھی دل پھٹنے لگا تھا۔۔۔ دل چاہا کے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔
میری جان اس اذیت سے ہی تو نکالنا چاہتی ہوں تمہیں۔۔۔
تم ہماری اکلوتی اولاد ہو۔۔۔ ہم تمہیں یوں اپنی زندگی برباد کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔۔۔ 
ایک سال کم نہیں ہوتا۔۔۔ ہم نے ابھی تک تمہاری ہی مانی ہے اب تم ہماری مان لو۔۔۔
شام میں تمہارے ڈیڈ کے دوست کا بیٹا آ رہا ہے وہ چاہتے ہیں کے تم اس سے ملو۔۔۔ بات چیت کرو۔۔۔ تا کے وہ۔۔۔
انف مام۔۔۔ پلیز انف۔۔۔ وہ غصے سے پیچ و تاب کھاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ دل چاہا سب تہس نہس کر ڈالے۔۔۔
انف عروشہ۔۔ ایک سال کافی ہوتا ہے کسی بھی صدمے سے نکلنے کو۔۔۔ مگر تم شاید اس صدمے سے نکلنا ہی نہیں چاہتی۔۔۔ جان بوجھ کر اذیت دینا چاہتی ہو مجھے اور اپنے بابا کو۔۔ مام اس سے بھی تیز لہجے میں چٹخیں کے جانتی تھیں کے انکی بیٹی نرمی سے ہینڈل ہونے والی نہیں۔۔۔
وہ گہرے گہرے سانس بھرتی شاکی نگاہوں سے ماں کو دیکھنے لگی۔۔۔
مجھے کسی سے نہیں ملنا۔۔۔ اسکی آنکھیں بھر آئیں۔۔
ٹھیک ہے پھر کچھ فوٹوگرافز آئی ہیں میرج بیورو سے۔۔۔ انہیں دیکھ لو۔۔۔ اور ۔۔۔
مام ابھی بول رہی تھیں جب وہ غصے سے کھولتی پلٹی اور دھپ دھپ کرتی سیڑھیاں چڑھ گئ۔۔۔
اسکے جاتے ہی مام بے بس  سی سر تھام کر رہ گئیں۔۔۔
***
کمرے میں آتے ہی وہ بستر پر ڈھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ یہ تم اچھا نہیں کیا میرے ساتھ حارث۔۔۔ بالکل اچھا نہیں کیا۔۔۔
اسے نہیں پتہ اسے وہاں روتے کتنی دیر گزر گئ جب ملازمہ دروازہ ناک کرتی اندر داخل ہوئی۔۔۔
اسنے رگڑ کر آنکھیں صاف کرتے رخ موڑا۔۔۔ اب وہ اپنا دکھ ہر کسی کو نہیں دکھاتی تھی۔۔۔
میم آپ سے ملنے کوئی ارحم صاحب آئے ہیں۔۔۔ کہہ رہے ہیں کے آپکے یونی فیلو ہیں  آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔ضروری کام ہے آپ سے۔۔۔
اس خلل سے اسکے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔ وہ اس وقت اس حال میں قطعاً نہیں تھی کے کسی سے مل سکتی۔۔۔
اور ناجانے کیوں آیا تھا وہ شخص۔۔۔ اس سانحے کے بعد تقریبا اسکے فرینڈ سرکل میں سے ہر شخص ہی اسکے پاس ہمدری جتانے آیا تھا اور اسے نفرت تھی ہمدری سمیٹنے سے۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے وہ اب بھی بے طرح کوفت میں مبتلا ہوئی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے جا کر بیٹھاو انہیں آتی ہوں میں۔۔۔۔
ملازمہ سے کہتی وہ اتنی ٹھنڈ میں ہی فریش ہونے واش روم میں گھس گئ۔۔۔ کیونکہ ایک بات تو طے تھی۔۔۔ اب وہ دنیا کے سامنے دکھ کا اشتہار بن کر کسی کو خود پر ہمدردی جٹلانے کا  موقع نہیں دے سکتی تھی۔۔۔ نفرت تھی اسے لوگوں کی ترحم آمیز نگاہوں سے۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی وہ کھلے سے ٹروازر اور شرت میں ملبوس ارحم کے روبرو ڈرائینگ روم میں تھی۔۔۔
فریش ہونے کے باوجود سرخ چہرا اور سرخی مائل آنکھیں اسکے ڈھیر سارا رو چکنے کی چغلی کھا رہی تھیں۔۔۔
البتہ ہلکے نم بال ہنوز شانوں پر بکھرے تھے۔۔۔
ارحم نے اسے غور سے دیکھا وہ بھی غالباً اسے پہلی نظر میں ہی پہچان گئ تھی۔۔۔ ارحم خان کا اکیڈمک ریکارڈ خاصا بہتریں تھا اس لئے وہ سنیئرز میں یونیورسٹی میں خاصا مقبول تھا۔۔۔۔
سلام دعا کے بعد وہ سیدھے مدعے پر آیا۔۔۔
مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے عروشہ کیا ہم کہیں باہر جا کر بات کر سکتے ہیں۔۔۔ پلیز منع مت کرنا۔۔۔ میں یہاں کمفرٹیبل نہیں۔۔۔ ارحم کے بے چینی سے التجائیہ کہنے پر وہ انکار کرتے کرتے رک گئ۔۔۔
پھر سر ہاں میں ہلاتی اسکے ساتھ  گھر سے واکنگ ڈسٹینس پر موجود کافی کورنز میں آگئ۔۔۔
یہاں آ کر مزید اذیت کے آکٹوپس نے اسے آ جھکڑا تھا۔۔۔ اسی لئے تو وہ کہیں باہر نہیں آتی جاتی تھی۔۔۔ اس شخص کی یادیں ہر جگہ بکھری ہوئی تھیں۔۔۔ اور وہ تو ہر روز ہی شام میں یہاں پائے جاتے تھے۔۔۔ وہ کس کس یاد سے منہ موڑتی جو ہوا کے جھونکے کی مانند اس تک آتی اسے اذیت سے دوچار کر کے تڑپا جاتی۔۔۔
دیکھو عروشہ مجھے غلط مت سمجھنا۔۔۔ میری بات کو تحمل سے سننا اسے سمجھنا ۔۔۔ پھر سوچ سمجھ کر مجھے جواب دینا اور ٹرسٹ می تمہارا ہر جواب میرے لئے قابل احترام ہو گا۔۔۔ وہ خاصے مدلل انداز میں گویا ہوا۔۔۔
اور وہ جو آنکھوں کی سرخی چھپاتی یہاں وہاں دیکھ رہی تھی اسکے بات شروع کرنے سے پہلے کی جانے والی تمہید سے بے طرح چونکی۔۔۔
میں تمہارے ماضی سے آگاہ ہوں۔۔۔ اور ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے ہوئے تم بھی میرے ماضی سے بہت حد تک واقف ہو۔۔۔ میں اپنی کلاس فیلو میں انٹرسٹڈ تھا لیکن کچھ وجوہات کی بنیاد پر ہم ایک نا ہو سکے۔۔۔ یا ہوئے بھی تو ایک رہ نا سکے۔۔۔
ارحم کا کوئی ارادہ نا تھا عروشہ سے کچھ بھی چھپانے کا۔۔۔
ارحم کے اتنی پرسنل گفتگو کی جانب آنے پر وہ چونک چونک گئ۔۔ اندر دل نے جیسے کسی گڑبڑ کی شدت سے نشاندہی کی۔۔۔ اسکے ماتھے پر شکنوں کا جال بچھنے لگا۔۔۔ جبکہ ارحم ہنوز بول رہا تھا۔۔۔
اب مسلہ یہ ہے کے میرے گھر والوں کی طرف سے مجھ پر شادی کا بہت پریشر ہے۔۔۔ اور یقیناًً ایسا ہی پریشر تمہارے گھر والوں کی طرف سے تم پر بھی ہو گا۔۔۔ تو اگر ایسے میں ہم دونوں۔۔
ایکسکیوز می مسٹر۔۔۔ وہ طیش سے میز پر ہاتھ مارتی چلا اٹھی۔۔۔ تم کیسے پہلی ہی ملاقات میں میری ذاتیات میں گھس سکتے ہو۔۔۔میری زندگی میں حارث کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔۔۔ے
کوئی نہیں مطلب کوئی بھی نہیں۔۔۔ آئی بات سمجھ میں۔۔۔ وہ غرائی۔۔۔
جیسے اسکی چھٹی حس نے اسے ارحم کے ارادے سے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کے وہ آگے کیا کہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔۔۔ہ
ارحم گہرا سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔
محترمہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کے تحمل سے بات سننا شرطِ اول ہے۔۔۔ اگر تمہاری زندگی میں تمہارے فیانسی کی جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا تو معاملہ اس جانب بھی کچھ ایسا ہی ہے۔۔۔
یہ محض ایک ڈیل ہے۔۔ کے اگر ہمارے گھر والوں کی تسلی یونہی ہوتی ہے تو یونہی سہی۔۔۔ تم اپنی ذات کے خول میں بند اور میں اپنی ذات کے ۔۔۔ لیکن دنیا کی نظر میں ہم ایک پرفیکٹ کپل بن کر اس اذیت سے بچ سکتے ہیں جس سے ہمارے گھر والے ہمیں تب تک دوچار کرتے رہیں گے جب تک ہم اپنی زندگیوں کا کوئی بہتر فیصلہ کر نہیں لیتے۔۔۔ اور یقیناً ایسی آفر تمہیں کہیں اور سے نہیں ملے گی۔۔۔۔
کیونکہ میں خود شادی کرنا ہی نہیں چاہتا۔۔۔ لیکن یہ مجبوری کا سودا ہے۔۔۔
میری بات کو اچھے سے سوچنا اگر میری باتیں سمجھ میں آئیں تو تم میرے ساتھ رابطہ کر سکتی ہو۔۔۔ لیکن جلد از جلد کیونکہ اگر تم نہیں تو مجھے اپنے لئے کوئی اور ڈھونڈنی ہے جسکے ہمراہ میں اپنے باپ کو ڈاج دے سکوں۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ جبکہ وہ وہیں گم صم بیٹھی اسکی پشت کو گھورتی رہی۔۔۔
****
رات پھر سے گھر کا ماحول خاصا برہم تھا عروشہ نے لڑکے سے ملنے سے انکار کر دیا تھا جسکے بعد مام اور ڈیڈ دونوں نے اسے خاصا لمبا لیکچر دیا تھا۔۔۔ وہ تنگ آ گئ تھی روز روز کے اس تماشے سے تبھی۔۔۔
ساری رات کی سوچ بچار کے بعد بلآخر عروشہ نے صبح ہوتے ہی ارحم کو فون کر کے اس نام کے رشتے کے لئے اپنی رضا مندی دے دی۔۔۔ کم از کم س طرح روز روز کے گھر میں لگنے والے ڈراموں سے تو جان چھوٹتی۔۔۔
اسکی جانب سے ہاں موصول ہوتے ہی ارحم نے باپ کے سامنے لڑکی کا نام پتہ اور ایڈریس رکھ دیا۔۔۔ واجد خان جتنا حیران ہوتا کم تھا۔۔۔ اسنے جانچتی نگاہوں سے بیٹے کو دیکھا جسکے سنجدہ چہرے سے کچھ بھی اخذ کرنا پانا مشکل ہی نہیں ناممکن امر تھا۔۔۔
وہ سابقہ آئی جی کی اکلوتی بیٹی تھی ایک دم انکے ہم پلہ۔۔۔ انہیں بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔۔۔
وہ اگلے ہی روز نعیمہ بیگم کے ہمراہ شگون کے سامان کے ساتھ عروشہ کے گھر موجود تھے۔۔۔
جب وہاں جا کر اس رشتے کے لئے عروشہ اور ارحم کی رضا مندی کا اظہار کیا گیا تو عروشہ کے ماں باپ پر تو شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئ ۔۔ کہاں انکی بیٹھی یہ بات سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ جاتی۔۔۔ کہاں پسند سے شادی کر رہی تھی۔۔۔ وہ بھی راتوں رات۔۔۔ بات تھی تو تشویش ناک لیکن اللہ اللہ کر کے تو کفر ٹوٹا تھا اس لئے کسی نے زیادہ کریدا نہیں۔۔۔
جھٹ سے یہ رشتہ قبولیت کی سند پا گیا۔۔۔
واجد خان تو فوراً نکاح کروانا چاہتے تھے لیکن یہاں ارحم نے انکی ایک نا چلنے دی اور چھوٹے سے فنگشن میں محض انگیجمنٹ ہی کی رسم ادا ہوئی۔۔
اس منگنی کے بعد وہ خوش تھا مطمیں تھا ۔۔ اس لئے نہیں کے وہ منگنی کر چکا تھا۔۔۔ بلکہ اس لیے کے وہ باپ کی نظر ایک معصوم کی خوشیوں اور اسے ہستے بستے گھر سے ہٹا چکا تھا۔۔۔
مگر وہ کہاں جانتا تھا کے ابھی قسمت میں کون کون سے امتحاں باقی ہیں۔۔۔۔
*****
اگلی قسط۔۔۔ بہت بہت بہت انٹرسٹنگ ہونے والی ہے۔۔۔
اینی گیسز۔۔ جب زوہان اور سبحان کے سامنے باپ کی دوسری شادی کی حقیقت آئے گی تو انکا ری ایکشن کیا ہوگا۔۔۔ اینی گیسز۔۔۔۔



No comments

Powered by Blogger.
4