Header Ads

Rah_e_haq novel 52nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  52nd Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔

52nd epi...
شامیر خان بے چین سا ہسپتال کی راہداری میں کھڑا تھا۔۔۔ کبھی دائیں سے بائیں چکر کاٹتا آپریشن تھیٹر کی باہر جلتی سرخ بتی کو دیکھتا تو کبھی وہیں تھم جاتا۔۔۔
ماں اور بابا بھی اسکے پاس ہی تھے۔۔۔
واجد خان بے صبری سے اندر سے آنے والی خوشخبری کے منتظر تھے۔۔۔ اللہ اللہ کر کے ہی تو انکی چھوٹی بہو نے اپنی فیملی پلان کرنے کے بارے میں سوچا تھا۔۔۔
دفعتا ایک باریک سی ابھرتی آواز کے ساتھ سسٹر گلابی کمبل میں لپٹا چھوٹا سا روئی کا گالہ لئے انکی طرف بڑھی۔۔۔
مبارک ہو سر۔۔۔ بیٹی ہوئی ہے۔۔۔
شامیر خان کی پروشہ سے شادی کے پورے چار سال بعد ایک ننھی پری نے اسکے آنگن میں قدم رکھا تھا۔۔۔
وہ فرط جذبات سے آگے بڑھا اور سسٹر کے ہاتھ سے بیٹی کو تھامتے اسے سینے میں بھینچا۔۔۔۔
جبکہ واجد خان وہیں اپنی جگہ پر گویا پتھر کا ہو گیا۔۔۔
یہ اس خاندان کی اس نسل سے چوتھی بیٹی تھی۔۔۔
عدنان خان کی ایک ہی بیٹی تھی اور زندگی نے اسے داغ مفارقت دے دیا۔۔۔ جبکہ ذوہیب خان کی دو بیٹیاں تھی۔۔۔ مزید اسکی بیوی کسی طبی مسائل کے باعث دوبارہ ماں نہیں بن سکتی تھی۔۔۔ وارث کے لئے انکی ساری آسیں امیدیں شامیر سے ٹکی تھیں یہ ہی وجہ تھی کے گھر میں ایک ننھے مہمان کی آمد کا سن کر وہ بہت خوش تھے۔۔۔ لیکن  انہیں لگا گویا چار سال بعد بھی انکا انتظار انتظار ہی رہا۔۔۔
بظاہر اپر کلاس فیملز میں ان باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔۔۔ وہاں ہر خاص و عام موقع پر بیٹی کو بیٹے سے متشبہ قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ محض دنیا کو اپنی لبرتی ظاہر کرنے کو تھا ورنہ اندر سے دل وہی روایتی تھا جسے وارث کی چاہ تھی۔۔۔۔
البتہ شامیر خان کی خوشی دیدنی تھی۔۔۔ اسکے احساسات و جذبات وہی تھی جو اپنی پہلی اولاد کو گود میں لیتے وقت تھے۔۔۔ اسے اس وقت اتنی ہی خوشی محسوس ہو رہی تھی جتنی ایک افلاطون زوہان شامیر خان کو پہلی مرتبہ گود میں لینے پر محسوس ہوئی تھی۔۔۔
اس وقت اسکی گود میں اسکی شہزادی تھی۔۔۔ اسکے دل کا ٹکرا۔۔۔
ماں نے اس سے بچی گود میں لی تو اسنے اپنی ننھی شہزادی کی سب سے پہلی تصویر لے کر وہاں سے میلوں دور بیٹی ایمان کو میری شہزادی کے کیپشن سے سینڈ کی۔۔۔
ماشااللہ بہت پیاری ہے خان۔۔۔ بالکل آپکی طرح۔۔۔ اللہ بخت بھی اتنے ہی روشن کرے۔۔۔ اگلے چند ہی منٹوں میں دعائیہ ریپلائے اسکی خوشی کو کئ گنا بڑھا گیا۔۔۔
شامیر خان وہی باپ تھا جو سبحان اور زوہان کا تھا۔۔۔
بیٹی کی پیدائش پر اسنے خزانوں کے منہ کھول دئیے تھے۔۔۔ صدقہ و خیرات کے ساتھ ساتھ پورے ہسپتال میں میٹھائی بانٹنے کے ساتھ ساتھ سارے رشتہ داروں اور پورے کاروباری حلقے میں میٹھائیاں بانٹی گئ۔۔۔
واجد خان اسے گم صم سے انداز میں دیکھ رہے تھے۔۔۔
شامیر۔۔۔ ہاتھ ہولا رکھو۔۔۔ بیٹا نہیں بیٹی ہے یہ اور اس خاندان کی چوتھی بیٹی ہے یہ۔۔۔ بابا نے دھکے چھپے الفاظ میں اسے تنبیہ کرنی چاہی۔۔۔
اس خاندان کی تو کیا اگر شامیر خان کی بھی چوتھی بیٹی ہوتی ۔۔۔ میں تب بھی اسکا استقبال ایسا ہی شاندار کرتا بابا۔۔۔
اسنے مسکرا کر کہتے بات ہی ختم کر دی۔۔۔۔
بابا گم صم رہ گئے۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ ہسپتال کے کمرے میں نڈھال سی لیٹی بیوی کے پاس تھا۔۔۔
Thanks for completing my life sweet heart... 
اسنے جھک کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیا تو وہ آسودگی سے مسکرا دی۔۔۔
تم خوش ہو شامیر۔۔۔ ۔۔۔
بہتتتتت۔۔۔
یہ مجھے اسقدر نایاب تحفہ دینے کے لئے۔۔۔
اسنے جیب سے ڈائمنڈ پینڈینٹ نکالتے پروشہ کی گردن کی زینت بنایا۔۔۔ تو وہ بے ساختہ مسکراتے ہوئے اپنا موبائل ڈھونڈنے لگی۔۔۔ میرا موبائل تھا یہیں کہیں۔۔۔
 شامیر جانتا تھا کے وہ اب کیا کرنے والی ہے۔۔۔
دوبارہ پہناو یہ پلیز۔۔۔ موبائل تھامتے ہی اسکی فرمائش پر شامیر نے اسے دوبارہ پینڈینٹ پہنایا جب اسنے بڑی مہارت سے اس خوبصورت منظر کو کیمرے کی آنکھ میں مقید کیا۔۔۔
اب بے بی کو لے کر آو۔۔۔ ایک فیملی سیلفی لینی ہے۔۔۔ اسکی اگلی فرمائش پر شامیر مسکراتا ہوا بے بی کاٹ سے بے بی کو لے آیا۔۔۔ وہ باخوبی جانتا تھا اب یہ ساری تصویریں مختلف کیپشنز کے ساتھ پروشہ کے مختلف اکاونٹس پر سٹوری اور سٹیٹس کے روپ میں لگنے والی تھی۔۔۔
دنیا پروشہ شامیر خان کی قسمت پر رشک کرتی تھی کے اسے اسقدر  چاہنے والا شوہر ملا ہے۔۔۔ شامیر نے شعوری کوشیش کی تھی کے پروشہ کو اس سے کوئی شکایت نا ہو۔۔۔ پروشہ نے جیسی زندگی گزارنی چاہی تھی ویسی گزاری تھی۔۔۔ شامیر کی جانب سے کبھی اس پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوئی۔۔۔ اسنے جب جب شامیر کے ساتھ کوئی ٹور پلان کرنا چاہا شامیر نے اپنے سبھی کام پس پشت ڈال دئیے تھے۔۔۔ ماں اور بابا دونوں پروشہ سے نالا تھے۔۔۔ اکثر و بیشتر پروشہ کی شکایت بھی اس تک آ جاتی مگر وہ ہمیشہ ہی ہس کر ٹال جاتا۔۔۔ اسنے ہمیشہ پروشہ کے ہر فیصلے کا احترام کیا تھا۔۔۔ فیملی پلانینگ کا فیصلہ بھی اسکا تھا وہ اتنی جلدی اولاد چاہتی ہی نا تھی۔۔۔ اور گھر میں سب سے زیادہ اسکے اسی فیصلے کی مخالفت ہوئی تھی۔۔۔
وہ شامیر کی ہمراہی پر نازاں تھی اور فخریہ یہ بات ہر جگہ پر بیاں کرتی۔۔۔ اپنی آسودہ زندگی کی ایک ایک جھلک سوشل میڈیا پر شئیر کرتی اور خوب خوب داد وصول کرتی۔۔۔
اور یہیں سے وہ موازنے شروع ہوتے جو اسکی بیویوں کو آگ اور پانی کی مانند متضاد ظاہر کرتے تھے۔۔۔ لیکن ہر بار وہ سر جھٹک جاتا۔۔۔
اسکی اُس دنیا میں سکون تھا تو اِس دنیا میں اسنے سکون قائم کرنے کی شعوری کوشیش کی تھی۔۔۔ یہ کوشیش کافی حد تک کامیاب رہتی لیکن کافی حد تک بری طرح ناکام بھی ہو جاتی۔۔۔۔
اسنے بیٹھ کر واضح اس مسلے کو حل کرنے کے بارے میں سوچا تو نتائج حیرت انگیز ظاہر ہوئے۔۔۔
ایمان ایک پبلک فگر تھی۔۔۔  وہ بہت اچھی کالم نگار تھی۔۔۔ اسکے کالمز روزانہ کی بنیاد پر اخباروں کی زینت بنتے۔۔ وہ سیلف ہیلپ پر لکھتی تھی اور بہت بہترین لکھتی تھی۔۔۔ پھلے چند سالوں میں اسنے بہت محنت سے ادبی حلقے میں اپنی ایک پہچان بنائی تھی۔۔۔ اسکی سوشل میڈیا پر بہت سی فالونگ تھی اور وہ اتنی فالونگ کے بعد بھی اطمینان سے رہتی تھی۔۔۔
کیوں۔۔۔۔
جبکہ یہاں معاملہ الٹ تھا۔۔۔پروشہ بھی سوشل میڈیا پر خاصی ایکٹو تھی اور سوشل ورکر ہونے اور اپنی سٹائیلنگ کےباعث اسکی بھی اچھی خاصی فالونگ تھی۔۔۔ مگر یہاں ہر دوسرے دن پروشہ پینک ہوجاتی۔۔۔ غصے میں کئ کئ وقت کڑھتی رہتی۔۔۔۔
بات سمجھ سے بالاتر تھی جب شامیر نے اسے گہرائی میں جا کر جانچنا چاہا۔۔۔
تب اس پر کچھ باتوں کا انکشاف ہوا۔۔۔ کے سوشل میڈیا پر کی بورڈ کے پیچھے بیٹھ کر لوگوں کی زبانیں نہیں انگلیاں بولتی ہیں۔۔۔ اور ہر انسان کو اظہار رائے کا حق حاصل تھا۔۔۔ اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح تھی کے دوسروں کی خوشی و کامیابی پر خوش ہونے والے کم اور تنقید کرنے والے زیادہ تھے۔۔۔
پروشہ کی ہر اپ ڈیٹ پر جہاں اسے بہت اپریسیشن ملتی وہاں بہت سے نیگٹو فیڈ بیک بھی موصول ہوتے۔۔۔ اور بعض اوقات وہ اتنے ذاتی اور نیگٹو ہوتے کے پروشہ بونچکا رہ جاتی۔۔۔جس میں شو آف۔۔۔ چھچھوڑی حرکتیں اور نا جانے کیا کیا ہوتا۔۔۔ ہر نیگٹو فیڈ بیک پر اسکا پارہ ہائی ہو جاتا۔۔۔
اس سے زیادہ اگر کوئی ٹرینڈنگ کام کر جاتا تو بھی وہاں کام بگڑ جاتا۔۔۔
یہ ہی چیز جب جا کر اسنے ایمان کے ہاں آبزرو کی تو پایا کے ایمان نے اپنی پڑائیوٹ لائف پڑائیوٹ ہی رکھی تھی۔۔۔ بالکل پڑائیویٹ ۔۔  اسکے سوشل اکاونٹ محض آفیشلی تھے۔۔۔
اس معاملے میں اسکا نظریہ قطعاً مختلف تھا۔۔۔ جب اس بارے میں شامیر نے اس بات کی تو اسنے بڑی خوبصورتی سے بات ہی ختم کر دی ۔۔  کے نیک اولاد رزق اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو لوگوں سے جسقدر چھپا سکتے ہو چھپا لو۔۔۔ کیونکہ حسد اور بری نظر سے خطرناک دنیا میں اور کوئی چیز نہیں۔۔  اور اسی لئے کہا گیا ہے 
وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ۟۠
وہ ہمیشہ اسے یونہی لاجواب کر دیتی تھی۔۔۔
اگلی چیز جو اسنے نوٹ کی کے ایمان کی پروفائل میں بہت کم زندگی سے بیزار لوگ تھے جو اپنی زندگی کی بیزاریت لفظوں کی صورت اس پر نکال کر اسکی مینٹل ہیلتھ کو ڈسٹرب کرتے۔۔۔
اس سے پوچھنے پر پتہ چلا کے اول تو وہ لوگوں کے فیڈ بیک کو فیڈ بیک سمجھتی ہے جو حقیقتاً فیڈ بیک ہو۔۔۔ لیکن اگر کوئی ایسا ناسور ہو جو ذاتیات پر اٹیک کرتے اسکے کام اسکی محنت اور خود اسے ٹارگٹ کرے تو ایسے ناسوروں کو وہ لمحے کی تاخیر کئے بنا خود سے کاٹ کر پھینک دیتی ہے۔۔۔ کے بحرحال اسے اپنی مینٹل ہیلتھ سب سے عزیز ہے۔۔۔ جو اسکے کام کی ریسپیکٹ نہیں کر سکتا جو اسے پڑھ بھی رہا ہے اور وہاں محض اپنی زندگی کی بیزاریت پھیلا  رہا ہے تو پھر ایسے لوگوں کی  جگہ اسکے پلیٹ فارمز پر تو نہیں۔۔۔   ان لوگوں کے لئے ایمان کے پاس محض بلاک کا بٹن تھا جسے دبا کر وہ بھول جاتی تھی۔۔۔
 شامیر اسکی باتوں سے متاثر ہوا تھا۔۔۔ ۔اور جب یہ ہی بلاک  کا آپشن اسنے پروشہ کو دیا تو وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔۔۔
کیا بول رہے ہو شامیر ۔۔۔ اتنی مشکل سے تو فالونگ بڑھی ہے۔۔۔ یہاں تو ہر دوسرا انسان ہی نیگٹو ہے۔۔۔ جیلس ہے دوسروں کی خوشیوں سے۔۔۔ کتنوں کو بلاک کر کے اپنی فالونگ گھٹاوں گی۔۔۔
شامیر اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
تمہیں اپنی فالونگ عزیز ہے کے مینٹل ہیلٹھ۔۔۔ وہ معتجب ہوا۔۔۔
دونوں۔۔۔ 
اسنے شانے اچکاتے بات ہی ختم کر دی۔۔۔
پھر اپنے پرسنلز سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنا چھوڑ دو۔۔۔ وہ گہرا سانس خارج کر کے گویا ہوا۔۔
کیوں۔۔۔ جب میں ہوں خوش تو اپنی خوشیاں کیوں نا دوسروں کے ساتھ بانٹوں۔۔
اوکے فائن جو دل چاہے وہ کرو۔۔۔ اس روز کے بعد سے شامیر نے اسے اسکے حال پر چھوڑ دیا تھا۔۔۔
****
واجد خان اس وقت اپنے سٹڈی روم میں ریوالونگ چیئر پر گم صم سے انداز میں بیٹھے تھے جبکہ ماں بھی لب کترتیں پاس ہی کاوئچ پر براجمان تھیں جب ارحم خان دروازہ ناک کرتا اندر داخل ہوا۔۔۔
جی بابا آپ نے بلوایا۔۔۔ وہ سنجیدہ سا مگر مودب انداز میں آ کر ماں کے ساتھ بیٹھا۔۔۔ ماں نے نم آنکھوں سے گھبرو جواب بیٹے کو دیکھا۔۔۔ وہ زندگی کے ایک تلخ تجربے کے باعث اتنے سالوں بعد بھی سب سے روٹھا روٹھا سا تھا۔۔۔
ہممم بات کرنی تھی تم سے۔۔۔ بابا نے ہنکارا بھرا۔۔۔
جی کہیے۔۔۔
آگے اپنی زندگی کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے۔۔۔۔
بابا کی بات پر اسنے جھکا سر اٹھا کر انہیں تعجب سے دیکھا ماتھے پر شکنوں کا جال بچھنے لگا تھا۔۔۔
کیا مطلب بابا۔۔۔ بزنس جوائن کر چکا ہوں۔۔۔ اچھا کھانے کمانے لگا ہوں۔۔۔ کسی پر بوجھ نہیں۔۔۔ پھر آپ یہ بات کس حساب سے بول رہے ہیں۔۔۔ ۔وہ ترش ہو اٹھا۔۔۔
وہ ایک واقعہ اسکی ساری نرمی اور لہیمی لے اڑا تھا۔۔۔
بابا نے لب بھینچتے چند لمے اسے سنجیدگی سے دیکھا۔۔۔
میں تمہاری شادی کروانا چاہتا ہوں۔۔۔ 
میں شادی کر چکا ہوں اور مزید کی چاہ نہیں۔۔۔
میں اس شادی کو نہیں مانتا ۔۔۔ بابا برہم ہو اٹھے۔۔
آپکے ماننے یا نا ماننے سے کیا ہوتا ہے بابا۔۔۔  وہ دو بدو گویا ہوا۔۔۔
چار سال ہوگے اس واقعہ کو تمہیں  نہیں لگتا کے اب تمہیں موو آن کر جانا چاہیے۔۔۔ وہ بھی تب جب وہ لڑکی اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکی ہے۔۔۔ نا صرف شادی کر چکی ہے بلکہ ایک بچے کی ماں بھی ہے۔۔۔ پھر تم کس آس پر بیٹھے ہو۔۔۔ بابا کا لہجہ برہمی سمیت لایا۔۔۔
ارحم نے حد درجہ شاک سے باپ کو دیکھا۔۔۔
آپ ابھی تک اسکے پیچھے ہیں۔۔۔ ابھی تک اسکا پیچھے کرواتے اسکے معاملات میں انٹر فئیر کر رہے ہیں۔۔۔ اسکے لہجے میں حیرت ہی حیرت تھی۔۔۔
مائے گاڈ بابا۔۔۔ کیا آپکا ارادہ اس معصوم کا قبر تک پیچھا کرنے کا ہے۔۔۔ 
وہ شاک میں گھرا تھا۔۔۔ احساس جرم کے باعث جس لڑکی کی کامیاب ازواجی زندگی کی دعائیں کرتے اسنے کبھی دانستہ اسکے بارے میں جاننے کی کوشیش نا کی تھی اسکا باپ یہ کام کر رہا تھا اور خوب خوب کر رہا تھا۔۔۔
اسے دلی تکلیف ہوئی تھی۔۔۔ شدت ضبط سے آنکھیں سدخ پڑنے لگی۔۔۔ دل میں ایک محشر بھرپا ہونے لگا تھا۔۔۔
ارحم خان۔۔۔ شادی کرلو۔۔۔ 
اگر نا کروں تو۔۔۔ وہ ٹرخا۔۔۔ اسکا باپ گڑھے مردے اکھاڑ رہا تھا۔۔۔ اسکے اتنے سالوں سے رفتہ رفتہ اذیت کی انتہاوں کو چھوتے اپنے ہاتھوں سے رفو کئے سارے زخم ایک جھٹکے میں ادھرنے لگے تھے۔۔ تکلیف حد سے سوا تھی ۔۔ اتنی کے اسے حقیقتاً دل کے مقام پر تکلیف محسوس ہونے لگی تھی۔۔
تو ارحم خان۔۔۔ بابا  گھٹنوں پر کہنیاں ٹکاتے ہاتھ باہم پھنسائے قدرے آگے کو جھکے اور اسکی ضبط سے سرخی چھلکاتی آنکھوں میں براہ راست دیکھنے لگے۔۔۔ یہ بات اسکے شوہر تک پہنچانے میں کے اسکی بیوی کا سابقہ عاشق ہنوز اسکے جوگ میں کنوارا بیٹھا ہے مجھے کتنا وقت لگے گا بھلا۔۔۔۔
This is too much baba....
ارحم نے شدت سے مٹھیاں میچیں۔۔۔ آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا۔۔۔ رگوں میں ڈورتے خون میں ابال تک اٹھنے لگے تھے۔۔۔
اور میرے خیال سے اسکا شوہر اسکی پہلی شادی سے ناواقف ہے رائٹ۔۔۔ بابا نے آنکھ اچکائی۔۔۔
گویا وہ اتنے لاعلم بھی نا تھے۔۔۔ وہ ہر چیز سے آگاہ تھے۔۔۔
پس ثابت ہوا کے واجد خان کے پاس ہمیشہ سامنے والے کو زیر کرنے کے لئے اسکی کمزوری ہوتی تھی۔۔۔
ارحم خان کا تنفس بڑھنے لگا۔۔۔۔۔
اسنے ضبط سے آنکھیں میچیں اور گہرے گہرے سانس لینے لگا۔۔
بابا کرسی کی پشت سے کمر ٹکائے کہنی کرسی کی ہتھی پر رکھے ہاتھ کی پشت تھوڑی تلے رکھے بڑی فرصت سے اسکا ایک ایک انداز   ملاخظہ کر رہے تھے۔۔۔
کچھ دیر بعد اسنے سرخی چھلکاتی آنکھیں کھول کر ماں کو شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
وہ بے ساختہ بیٹے سے نگاہیں چرا گئیں۔۔۔
کیا چاہتے ہیں آپ۔۔۔ وہ اندر اٹھتے طیش کو دباتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
میں جلد از جلد تمہاری شادی کروانا چاہتا ہوں۔۔۔
اور آپکو یہ خوش فہمی کیوں لاحق ہے کے میں آپ کے کہنے پر یا آپکی پسند کی لڑکی سے شادی کروں گا۔۔۔
یو نو واٹ۔۔۔ وہ ٹانگ پر ٹانگ جما گیا۔۔۔
آپکو میری پسند نا پسند تھی اور مجھے آپکی پسند کی کوئی بھی ایکس وائی لڑکی بنا دیکھے ہی نا پسند ہے۔۔۔ اسکی آواز میں گہری کاٹ تھی۔۔۔
ٹھیک ہے پھر اپنی پسند کی کوئی ہمارے ہم پلہ لڑکی لے آو مجھے تمہاری پسند پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔۔۔ 
وہ بنا کچھ بولے لب بھینچتے غصہ دابے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
تمہارے پاس ایک مہینہ ہے ارحم۔۔۔ اس ایک مہینے میں اگر تم ہمارے ہم پلہ کوئی اپنی پسند سامنے نا لا سکے تو پھر تمہیں وہیں شادی کرنا ہوگی جہاں میں کہوں گا۔۔۔ ورنہ انجام کے ذمہ دار تم خود ہوگئے۔۔
اسکے اٹھتے قدم بابا  کی سفاک آواز پر منجمد ہوئے۔۔۔ دل میں ایک جواڑ بھاٹا سا جل اٹھا۔۔۔ دل چاہا خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا ڈالے۔۔۔ جو اتنے سالوں بعد بھی محبت کی رسوائی کا موجب بن سکتا تھا۔۔۔
ڈئیر بابا جانی۔۔۔  اگر اب۔۔۔ وہ بولا تو آواز بہت سے جذبات سے بوجھل تھی۔۔۔ مجھے لے کر ۔۔۔ اس معصوم کے ہستے بستے گھر پر زرا بھی آنچ آئی۔۔۔ وہ لفظ چبا چبا کر بول رہا تھا۔۔۔
تو قسم خدا کی۔۔۔ آپ اس خاندان میں ارحم خان سے زیادہ باغی کسی کو نہیں پائیں گے۔۔۔
اور ٹرسٹ می۔۔۔ وہ رکا۔۔۔
 اگر ایسا ہو گیا تو۔۔۔ وہ بابا کی سفاکیت کے پیش نظر کمینگی سے مسکراتا انکی جانب پلٹا۔۔۔ تو آپ سب سے بڑا میرا ہی فائدہ کریں گے۔۔۔
لاحاصل کو حاصل بنا کر۔۔۔ اسکا انداز چیلنجنگ تھا۔۔۔
حلالہ حلال ہو جائے گا نا پھر مجھ پر۔۔۔ اسنے خط لینے والے انداز میں آنکھ اچکاتے اپنے سفاک باپ کے وہاں چوٹ لگائی جہاں وہ بلبلا کر رہ گئے۔۔۔
تم بے غیرت انسان۔۔۔ وہ مٹھیاں بھینچتے فوراً آپے سے باہر ہوئے جب وہ بنا انکی مزید کوئی بات سنے تیزی سے سٹڈی روم سے باہر نکل گیا۔۔۔
باہر نکلتے ہی اسکے چہرے کی مسکراہٹ سمٹی اور وہ خطرناک حد تک سنجیدگی چہرے پر سجائے سرعت سے گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔ کم از کم وہ اب اس طرف سے بے فکر تھا۔۔۔ اسکی کھلی دھمکی کے باعث اب اسکا باپ اسے دھمکانے کو بھی اس معصوم کا گھر تباہ کرنے کے بارے میں سوچنے سے پہلے بھی دس بار سوچے گا۔۔۔
گھر سے نکلتے ہی اسنے تیزی سے موبائل پر ایک نمبر ڈائل کیا۔۔۔
تمہیں ایک نام اور ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں۔۔۔ مجھے اس لڑکی کے بارے میں مکمل ڈیٹیلز چاہیے۔۔۔
چار سالوں بعد اسنے باپ کی بدولت مڑ کر ان راستوں کی جانب دیکھنا چاہا تھا جس جانب دیکھنا بھی وہ خود پر شجر ممنوعہ قرار دے چکا تھا۔۔۔
*****
ارحم خان کے کمرے سے نکلتے ہی واجد خان گہرے گہرے سانس بھر کر خود کو کمپوز کرنے لگے۔۔۔
انکا ہونہار سپوت جاتے جاتے انہیں اچھے سے آگ لگا گیا تھا۔۔۔
خان۔۔ ہم ٹھیک تو کر رہے ہیں ناں۔۔۔ یہ نا ہو کے وہ اس وجہ سے کوئی غلط قدم اٹھا ڈالے ۔۔۔۔ ماں کو ہنوز اسکی جانب سے ڈھرکا لگا ہوا تھا۔۔
بالکل ٹھیک کر رہے ہیں نعیمہ بیگم۔۔۔ میں نے بھی دنیا دیکھ رکھی ہے۔۔ وہ ایک مہینے کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی اس شادی پر آمادہ ہوگا۔۔۔ انکی آنکھوں میں شاطرانہ چمک تھی۔۔۔
تینوں بیٹوں کی جانب سے مایوس ہو کر انکی ساری امیدوں کا محور انکا چوتھا اور آج کل کچھ بگڑا ہوا سپوت ہی تھا۔۔۔
اسی لئے وہ جلد از جلد اسکی شادی کروانے پر سربستہ تھے۔۔۔ انہیں اپنے خاندان کا وارث چاہیے تھا اور ہر حال میں چاہیے تھا۔۔۔ اور یقیناً انکی یہ کاوش کامیاب ٹھہرنے والی تھی۔۔۔ وہ مطمئیں تھے۔۔۔
*****




  مصنفہ "ام ہانیہ


No comments

Powered by Blogger.
4