Header Ads

Rah_e_haq novel 51st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  51st Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

51st epi...
ارے میرا شہزادہ۔۔۔ پیارا بیٹا۔۔۔ میرا شونا کاکا۔۔۔۔ ایمان زوہان کے پاس بیٹھی اسکے بالوں میں ہاتھ چلا رہی تھی جو گہری نیند میں محو تھا۔۔۔ اسکا چہرا اترا ہوا اور چہرے پر چھائی سرخی مسلسل کی جانے والی گریہ وزاری کی چغلی کھا رہی تھی۔۔۔ بے ساختہ ایمان کا دل کسی نے مٹھی میں لے کر مسلہ۔۔۔
وہ اسکی نیند خراب نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اسے بھوکا بھی نہیں رہنے دے سکتی تھی۔۔۔ اس نے صبح سے دوائی تک نہیں لی تھی۔۔۔ وہ تکلیف میں تھا تو ایمان پرسکون کیسے رہ سکتی تھی۔۔۔۔
ایمان کے ہاتھوں کے پرسکون لمس اور میٹھے بولوں سے اسکی نیند ٹوٹی اور اسنے ناراضگی سے ماں کو دیکھتے بھرائی نگاہوں کے ساتھ رخ موڑا۔۔۔
ارے میرا پیارا بیٹا۔۔۔
کوئی نہیں۔۔۔ کوئی نہیں ہوں میں آپکا۔۔۔ بات مت کریں مجھ سے۔۔۔ اسنے روتے ہوئے غصے سے ماں کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔
او ہو میرا بیٹا اتنا ناراض ہے مجھ سے۔۔۔
اچھا سوری۔۔۔ ایمان  مفاہمتی انداز اپناتے پھر سے اسکے سامنے آئی۔۔۔
کوئی سوری نہیں۔۔۔ وہ نروٹھے پن سے کہتا پھر سے رخ پلٹ گیا۔۔۔
اوکے پھر سے سوری۔۔۔
نہیںننن۔۔۔
کان پکڑ کر سوری۔۔۔ وہ کان پکڑتے اسکے سامنے ہوئی۔۔۔
کوئی نہیں سوری۔۔۔
دوبارہ ممی کبھی اپنے بیٹے کو چھوڑ کر نہیں جائے گی پلیز سوری۔۔۔ میرا بیٹا کچھ کھا لے۔۔۔ ایمان نے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اسکے کھانے کی پلیٹ اور میڈیسن کو دیکھا۔۔۔
نہیں سوری۔۔۔ اور کچھ نہیں کھاوں گا میں۔۔۔ اسکے انداز ہنوز روٹھے تھے۔۔۔
اوکے نااااا۔۔۔ سوری بابا۔۔۔
نووووو۔۔۔
وہ شدت سے چلایا۔۔۔
چلو ٹھیک ہے پھر۔۔۔ مت کرو مجھ سے صلح۔۔۔ میں بھی نہیں کروں گی صلح۔۔۔ مت کھاو آپ کچھ۔۔۔ کھایا تو میں نے بھی صبح سے کچھ نہیں۔۔۔ کوئی نہیں آج میں بھی بھوکی ہی سووں گی۔۔
ایمان بھی اسی کے انداز میں روٹھتی رخ موڑ گئ۔۔۔
زوہان نے آنکھ چراتے چند منٹ ماں کو دیکھا پھر نیم رضا مندی سے ماں کے گلے میں بازو حائل کر گیا۔۔۔
بڑی جاندار مسکراہٹ ایمان کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔
وہ مسکرا کر زوہان کی جانب پلٹی اور اسے باہوں میں سمیٹتے چٹاچٹ کئے بوسے اسکے چہرے کے لے ڈالے۔۔۔۔
میرا پیارا بیٹا۔۔۔
ممی میں نے آپکو بہت مس کیا۔۔۔ کیوں گئ آپ مجھے چھوڑ کر۔۔۔ مجھے بھوک لگی تھی۔۔۔ میں نے کھانا بھی نہیں کھایا۔۔۔ مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔ صلح ہوتے ہی اسکا شکایت نامہ جاری ہو چکا تھا۔۔۔ جسے ایمان بہت سنجیدگی سے  سنتی بیٹے سے ہر بات کلئیر کر رہی تھی۔۔۔ ساتھ ساتھ اسے کھانا بھی کھلاتی جارہی تھی۔۔۔
جب تک ان دونوں کا معاملہ فکس ہوا وہ اسے کھانا کھلا چکی تھی۔۔۔۔
اب میڈیسن کی باری۔۔۔ چلو شاباش جلدی سے منہ کھولو۔۔۔ پھر کل ڈاکٹر کے پاس بھی جانا ہے۔۔۔ انشااللہ اب جلد میرے بیٹے کی ٹانگ کا پلستر کھلے گا اور میرا زونی پھر سے ہستا مسکراتا کھیل کود کرتا شرارتیں کرے گا۔۔۔
اسنے مسکرا کر زوہان کے بال بکھیرتے اسکی ناک سے ناک مس کی۔۔
وہ بھی کھل کھلا دیا۔۔۔
دفعتاً سبحان موبائل ہاتھ میں تھامے اندر داخل ہوا۔۔۔
زونی ڈیڈ کی کال ہے۔۔۔ تم سے بات۔۔
نہیںنننن۔۔۔
نہیں کرنی مجھے کسی سے بات۔۔۔ اور ڈیڈ سے تو بالکل بھی نہیں۔۔۔ جاو تم یہاں سے۔۔۔   ایک دم ہی وہ ہستا مسکراتا ہائپر ہو گیا ۔۔۔ باپ کی نظر اندازی پر آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تیرنے لگے۔۔۔
مائے گاڈ زونی۔۔۔ ایمان نے اسے شدت سے خود میں بھینچا اور سبحان کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔۔۔
بیٹا یہ کیسا ردعمل ہوا بھلا۔۔۔ ایسا کرتے ہیں کیا۔۔۔
بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔ انکا ایکسیڈینٹ ہوا تھا۔۔۔
میرا بھی ایکسیڈینٹ ہوا تھا ۔۔۔ پھر وہ آئے کیوں نہیں۔۔۔ میں نے انہیں کتنا مس کیا۔۔۔
پس ایمان نے جانا کے ضدی بچے کو سمجھا پانا اتنا بھی آسان کام نہیں۔۔
یقیناً اسکا لہجہ اور اسکی ناراضگی موبائل فون کے ذریعے سے اسکا باپ بھی باخوبی سن چکا تھا۔۔
*****
مبارک ہو مسٹر شامیر۔۔۔ اب آپ چل سکتے ہیں۔۔۔ ڈاکٹر نے شامیر کے مکمل چیک آپ کے بعد اسے خوشخبری سنائی تو پاس موجود بابا اور عدنان بھائی نے سکون کی سانس خارج کی۔۔۔
وہ مسکرا دیا۔۔۔
آج اسکی پٹیاں کھل گئ تھیں۔۔۔
امجد۔۔۔ لالا ہولڈنگز کے ساتھ میری شام کی میٹنگ فکس کرو۔۔۔ میں خود گوجرانوالہ جاوں گا اس میٹنگ کے لئے۔۔۔ کام کا بہت حرج ہو چکا ہے۔۔۔
ڈاکٹر کے کمرے سے نکلتے ہی اسنے امجد کو نیا حکم صادر کیا تو بابا اور عدنان بھائی بونچکا ہی رہ گئے۔۔۔
شامیر ابھی ابھی تو بستر سے اٹھے ہو۔۔۔ عدنان بھائی نے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔
اور بہت عرصے تک وقت کا ضیائع کر کے تقریباً مہینے بعد اٹھا ہوں۔۔۔ مزید وقت ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔۔۔
اسکا انداز سنجیدہ تھا۔۔۔
میرے خیال میں شامیر تمہیں آفیشلی کام کچھ وقت بعد شروع کرنے چاہیے۔۔ بابا نے بھی اسے سمجھانا چاہا۔۔۔ ابھی تو سب گھر میں تمہارا انتظار۔۔۔
پلیز بابا فور گاڈ سیک۔۔۔
میرا کام میرا جنون ہے اور اسکے بارے میں میں کسی کی نہیں سنوں گا آپ باخوبی جانتے ہیں یہ بات۔۔۔
میرا بہت لاس ہو چکا ہے۔۔۔ لوگ شامیر خان کو ہلکا لینے لگے ہیں۔۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ اور یہ بالکل ٹھیک وقت ہے مارکیٹ میں ری انٹری دینے کا۔۔۔
اسکا لہجہ بے لچک اور انداز دوٹوک تھا یوں کے بابا بھی خاموش ہو گئے۔۔۔
وہ انہیں سیدھے سے یہ بتا نہیں پایا کے اسکا سات سالہ شہزادہ اس سے ناراض ہے اور وہ ضد اور ناراضگی میں بنا ملے ہی بنا تامل اپنے دادا پر چلا گیا ہے۔۔۔ جسنے بارہا کوشیشوں کے باوجود باپ سے بات تک نہیں کی اور اسکی ناراضگی نے شامیر خان کی جان پر بنائی ہوئی تھی۔۔۔ جب تک وہ بیٹے سے مل نا لیتا اسے منا نا لیتا وہ کچھ اور نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
اسنے امجد کو اشارہ کیا جسکا مطلب وہ باخوبی جانتا تھا کے اسکی فلائٹ اسلام بعد سے سیالکوٹ ائیر پورٹ کی نہین بلکہ لاہور ائیر پورٹ کی ہی کروانی ہے۔۔
****
جس وقت بالکل غیر متوقع طور پر شامیر خان اپنے گھر پہنچا سبحان اسے لاوئنج میں ہی مل گیا۔۔۔ وہ بہت خوشدلی سے باپ سے لپٹا۔۔
اب کیسے ہیں آپ ڈیڈ۔۔
فرسٹ کلاس۔۔۔ آپکے سامنے ہی ہوں میری جان۔۔۔ اسنے سبحان کو خود میں بھینچا۔۔
آپکی مام اور میرا شیر کدھر ہے۔۔۔۔
شامیر کے پوچھنے پر اسنے اندر کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
بہت بڑا ڈرامہ ہے آپکا شیر۔۔۔ سامنے جائیں گے تو لگ پتہ جائے گا۔۔۔ سبحان نے اسے انجام سے آگاہ کرنا چاہا۔۔۔
لٹس سی۔۔۔ وہ آنکھ اچکاتا آگے بڑھا۔۔
یہ وہ گھر تھا جہاں آتے ہی اسکی توانائیاں بحال ہو جاتیں تھیں۔۔
جہاں زندگی کی لہر تھی۔۔۔ جہاں خوشیاں رقص کرتی تھیں۔۔۔ جہاں چھوٹی چھوٹی چیزوں سے خوشیاں کشیدی جاتیں تھیں۔۔۔ جہاں خوش ہونے اور سیلبریٹ کرنے کو بڑے بڑے کاموں کو پایہ انجام تک پہنچانے کا انتظار نہیں کیا جاتا تھا۔۔۔  جہاں کسی بھی چیز میں ناکامی کو سر پر سوار کرنے کی بجائے بڑے لائٹ انداز میں لیا جاتا تھا۔۔۔ یہاں پازیٹیویٹی تھی۔۔۔ جینے کی امنگ تھی۔۔۔ 
اسلام علیکممممم۔۔۔۔ لاوئنج میں داخل ہوتے ہی وہ پرجوش سا بلند آواز گویا ہوا۔۔
اس غیر متوقع مگر روح افزا آواز پر کچن میں کام کرتی ایمان کے ہاتھ سے بے ساختہ برتن چھوٹے اور لاوئنج میں بیٹھا ایل سی دیکھتا زوہان بھی چونک کر پلٹا۔۔۔
شامیر خان کی آمد وہاں یونہی ہوتی تھی بالکل اچانک اور غیر متوقع۔۔۔
جہاں ایمان اسکی آمد سے کھل اٹھی وہان زوہان بھی اتنی دیر بعد باپ کو دیکھ کر مسکراتا ہوا اسکی جانب لپکا۔۔۔ شامیر دونوں باہیں وا کرتا بیٹے سے ملنے کو دونوں گھٹنے زمین پر ٹیکٹا بیٹھا۔۔۔
دفعتاً  باپ کی طرف بڑھتے یکدم اسے یاد آیا کے وہ تو باپ سے خفا ہے۔۔۔ تبھی اسکے ڈورتے قدموں کو بریک لگی ۔۔۔ ماتھے پر ننھے ننھے سے بل پڑے اور وہ نڑوتھے پن سے رخ موڑ گیا۔۔۔
کوئی نہیں ناراض ہوں میں آپ سے۔۔۔ اسنے رخ موڑتے سینے پر ہاتھ باندھے۔۔
کچن کے دروازے میں کھڑی یہ منظر دیکھتی ایمان کے مسکراتے لب اوو شیپ میں ڈھلے۔۔۔
جب شامیر کھڑا ہوتا تیزی سے اسکی جانب بڑھا۔۔۔
ایسے کیسے نہیں ملتے۔۔۔ تمہاری نارضگی کی تو ایسی کی تیسی۔۔۔
اسنے لپک کر زوہان کو اٹھاتے اسے صوفے پر پٹخا اور خود اس پر جھکتا اسے یوں اور اس انداز میں گدگدی کرنے لگا کے وہ ہس ہس کر دہرا ہو گیا۔۔۔
بس ڈیڈ بس۔۔۔
اور ہس ہس کر دہرے تو ایمان اور سبحان بھی ہوگئے۔۔۔ 
بس ڈیڈ۔۔۔ وہ شامیر کے شکنجے میں ہستا ہستا چلا رہا تھا ۔۔ ہسی جے باعث آنکھوں سے پانی نکلنے لگا تھا۔۔۔
وہ باپ تھا اور اسکا منانا ماں جیسا بالکل نا تھا۔۔۔
بولو ہماری صلح کے نہیں۔۔  وہ زرا کی زرا رکا۔۔۔
نووو۔۔۔ ۔ٹھہرو تم۔۔۔ تمہاری تو۔۔۔ زوہان کے نو بولنے پر وہ مزید شدت سے  اسے گد گدی کرنے لگا۔۔
اچھا اچھا ڈیڈ۔۔۔اوکے فائن۔۔۔۔ ہماری صلح۔۔۔ پکی پکی والی صلح۔۔۔ وہ شامیر کو روکنے کو بعجلت بولا۔۔۔
شاباش میرے شیر۔۔۔ شامیر نے اسے خود میں بھینچتے اسکا بوسہ لیا۔۔۔
چلو آو اب ڈیڈ سے صلح کی خوشی میں شاپنگ کرنے چلتے ہیں۔۔۔
وہ اسے مکرنے کا موقع نہیں دے سکتا تھا کے نہیں ہماری صلح نہیں۔۔۔
شامیر کے کہنے پر وہ ایکسائٹڈ ہوتا جوتا پہن کر باہر باپ کی گاڑی کی جانب لپکا۔۔۔
دھیان سے زونی ۔۔۔ ایمان نے اسے یوں بھاگتے دیکھ پیچھے سے آواز لگائی۔۔۔
ان دونوں کے باہر نکل جانے کے بعد وہ کچن کے دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑی ان تینوں کو مسکرا کر دیکھتی ایمان کی جانب متوجہ ہوا۔۔ 
چلو آو تم بھی۔۔۔
اسنے نفی میں سر ہلا دیا۔۔۔
کیوں۔۔۔
آپکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو کیوں کیا اتنا لمبا سفر۔۔  وہ شامیر کے لئے فکر مند تھی۔۔۔
ضروری تھا۔۔۔ میرا شیر ناراض تھا مجھ سے۔۔۔ میں نے تو دن گن گن کر پٹیاں کھلنے کا انتظار کیا تھا۔۔ ویل اب میں بالکل ٹھیک ہوں ۔۔۔ تم چلو۔۔۔
نہیں آپ تینوں جاو۔۔۔ مجھے آپکے لئے کھانا تیار کرنا ہے۔۔۔
شاپنگ کے بعد کھانا ہم باہر سے کھا کر آ جائیں گے۔۔۔ تم آجاو ۔۔۔
نو ۔۔۔ نیور۔۔۔ ابھی ابھی بیماری سے اٹھے ہیں آپ اور ابھی سے اتنی لاپرواہی۔۔۔ کھانا آپ گھر کا ہی کھائیں گے۔۔۔
کنزل کے روب سے کہنے پر وہ سر خم کر گیا۔۔۔ جو حکم آپکا۔۔۔
کنزل مسکرا دی۔۔۔
اور پھر کچھ دیر بعد انکی واپسی بہت سی اشیا کے ہمرا ہوئی تھی۔۔۔ سبحان اور شامیر کے پسند کے کھلونے۔۔۔ چارجنگ کار۔۔۔ اور ڈھیر ساری کھانے پینے کی اشیاء کیساتھ۔۔۔
زوہان شامیر خان بہت بہتتتت خوش تھا۔۔۔ ساری ناراضگی جاتی رہی تھی۔۔۔
اور بچوں کو خوش دیکھ کر وہ دونوں خوش تھے۔۔۔
وہ حسب سابق وہاں سے بہت ہلکا پھلکا ہو کر آیا تھا۔۔۔ یہ گھر اور اسکی مکین اسکی توانائیاں بحال کرنے کے ساتھ ساتھ اسکی ساری اداسیاں اور فکرمندی اس سے دور کرتے اسے ہلکا پھلکا کر دیتے تھے۔۔۔
**** 
وقت پر لگا کر اڑ رہا تھا اور جیسے جیسے شامیر کی شادی کے دن نزدیک آتے جا رہے تھے ایک مسلسل بے چینی اسکا احاطہ کرتی جا رہی تھی۔۔۔ وہ بے چین تھا۔۔۔ بے انتہا بے چین۔۔۔ وہ اڑ کر کر کسی ایسی جگہ چلے جانا چاہتا تھا جہاں اس شادی کے کوئی ہنگامے نا ہوتے۔۔۔
اس شادی کی تیاری اسکے دل و دماغ پر ہتھوروں کی مانند برستی۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے اسکی مہندی کا دن بھی آن پہنچا اس روز اسکی بے زاری حد سے سوا تھی۔۔۔ ہر چیز میں موازنہ ہونے لگا تھا۔۔۔ دل اسکی اس دنیا میں لگ ہی نا رہا تھا۔۔۔
وہ اس قدر بے چین و بے قرار تھا کے اس بےچینی نے اسکے انگ انگ میں سرائیت کرتے اسے نیم جان کر دیا تھا۔۔۔
سارا دن وہ اپنے کمرے میں بند رہا اور حد یہ تھی کے آج اسنے ایمان یا بچوں سے ایک بار بھی بات نا کی تھی۔۔۔ ناجانے کیوں ضمیر پر بوجھ بڑھنے لگا تھا۔۔۔ باہر شام سے رات کی تاریکی ہوتی فنگشن کے ہنگامے عروج پر پہنچنے لگے تھے لیکن وہ ہر چیز سے بے پرواہ تھا۔۔۔
وہ اسی شش و پنج میں بیٹھا تھا جب عدنان بھائی اسکے کمرے میں آئے۔۔
شامیر یہ کیا یار۔۔۔ ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئے۔۔۔ وہ اسے ویسے ہی بیٹھے دیکھ سر پیٹ گئے۔۔۔ یار مہندی ہے آج تمہاری۔۔۔ ساری ارینجمنٹس مکمل ہو چکی ہیں۔۔ ہر کوئی تیار ہو کر نیچے پہنچ چکا ہے ڈرائیور پروشہ کو پک کرنے سیلون جا چکا ہے اور یہاں دلہے میاں ہے کے ابھی تک تیار ہی نہیں ہوئے۔۔۔۔
بھیا کی باتوں پر وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔ بس طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی بھیا۔۔۔ ابھی تیار ہوتا ہوں۔۔۔
وہ بے دلی سے بستر سے اترتا جوتا اڑسنے لگا۔۔۔
شامیر تمہاری پروشا سے لو میرج ہے۔۔۔ لیکن تمہیں دیکھ کر لگتا ہے جیسے یہاں زبردستی کا معاملہ ہو۔۔۔ بھیا نے گہری سانس خارج کی۔۔۔ واش روم کی جانب جاتا جاتا شامیر ٹھٹھکا۔۔۔ دل سے ایک ہوک سی اٹھی۔۔۔ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا تھا بھیا۔۔۔
کیوں۔۔ 
کیا وجہ وہی لڑکی ہے جو ہسپتال میں تم سے ملنے آئی تھی۔ ۔ بھیا کے ماتھے پر شکنوں کا جال ابھرا۔۔۔ انکا لہجہ اور آنکھیں کچھ کھوجتی ہوئی سی تھیں۔۔
جی بالکل وہی ہے۔۔۔ شامیر خود سے ایک جنگ لڑتا لڑتا تھک ہار کر وہیں بیٹھ گیا۔ ۔
بھیا اسکے اسقدر آسانی سے مان جانے پر دم باخود رہ گئے۔ ۔
یہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔۔۔ نیچے پورا خاندان اور میڈیا اکھٹا ہوا پڑا تھا۔۔۔ دلہن تیار ہو گئ تھی۔۔۔ ایسے میں شامیر کا انکشاف انہیں کسی انہونی سے آگاہ کر رہا تھا۔۔۔
انہوں نے گہری سانس خارج کی۔۔۔
شامیر میرے بھائی بھول جاو اسے۔۔
نہیں بھول سکتا بھائی۔۔۔ اسکی آواز شکست خوردہ تھی۔۔۔ وہ لڑکی نا صرف میری بیوی ہے۔۔۔
شامیر کے انکشاف پر عدنان نے دہل کر اسے دیکھا۔۔ 
بلکہ۔۔۔۔
بلکہ۔۔ وہ پتھرایا سا دو قدم اس کی جانب بڑھا۔۔۔
بلکہ میرے دو بچوں کی ماں بھی ہے۔۔۔
مائے گاڈ شامیر۔۔۔ انکشاف ایسا تھا کے عدنان سر تھامتا وہیں بیٹھ گیا۔۔۔
کہاں دفن کئے پھر رہے تھے اس راز کو۔۔۔ دو بچے ۔۔ انکی حیرت حد سے سوا تھی۔  
کب کی شادی تم نے۔۔۔ 
دس سال پہلے۔۔۔
بھیا نے اسے شاکی نگاہوں سے دیکھا۔ ۔
میرا بڑا بیٹا نو جبکہ چھوٹا بیٹا سات سال کا ہے۔۔۔
وہ سر جھکائے اعتراف کر رہا تھا ۔۔
دس سال پہلے مطلب یونیورسٹی لائف میں۔۔
بھائی کے کہنے پر وہ سر ہاں میں ہلا گیا۔ ۔
وہ چند لمحے گم صم سے بیٹھے رہ گئے۔۔
دس سال شامیر۔۔۔ اور دو بچے ۔
مطلب طے ہوا تمہاری کامیاب ازواجی زندگی کا راز اس راز کو دفن رکھنے میں پوشیدہ یے۔۔۔ چھوٹے ہو کر تم نے خاصی عقلمندی کا مظاہرہ کیا شامیر۔۔۔
کاش تم یہ فن وقت رہتے ارحم کو بھی سیکھا دیتے تو شاید وہ آج اتنی بری حالت میں نا ہوتا۔۔ 
عدنان کے لہجے میں ٹوٹے کانچ کی کرچیاں تھیں۔۔۔
آپکا اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔ اسنے لطیف سا طنز کیا۔۔۔
نہیں میں اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ بہت خوش ہوں۔۔۔ میرب ایک بہترین شریک حیات ہے اور میں اسکا قدر دان ہوں۔۔۔ باقی جو تھا وہ ماضی کا قصہ تھا۔۔  وہ فوراً سیز فائر کر گئے۔۔۔
میں نے سنا ہے بھائی کے وقت سے پہلے اور قسمت سے بڑھ کر کسی کو کچھ نہیں ملا۔۔۔۔
ارحم کی قسمت میں شاید یہ ہی لکھا تھا۔  
ہم لوح قلم پر لکھی تقدیر بدلنے پر قادر نہیں۔۔ لیکن ہاں اسکے لئے تدبیر کی جا سکتی ہے۔۔ 
مجھے میرے بھتیجوں کی تصویریں دکھاو۔۔۔ عدنان کی فرمائش پر اسنے مسکراتے ہوئے موبائل آن کر کے اسے تصویریں دکھائیں۔۔۔
ماشااللہ شامیر یہ دونوں تمہارا بچپن ہیں۔۔ وہ مسکرائے۔۔
کب ملوا رہے ہو ان سے ۔۔
جب آپ کہیں۔۔۔۔
پر پلیز بھائی کسی طرح سے اس شادی کو رکوا دیں۔۔۔
پاگل مت بنو شامیر۔۔
اگر پچھلے دس سالوں سے زندگی ایک حکمت عملی کے تحت گزارتے آئے ہو تو تم اتنے نازک موڑ پر نادانی کر کے پچھلے دس سالوں کی حکمت عملی پر پانی نہیں پھیر سکتے۔۔۔
یہ وقت بہت نازک ہے۔۔  ایسے وقت میں اگر تمہارے راز کا خلاصہ ہوا تو بابا اشتعال میں نہایت برا کریں گے۔۔۔ اس لئے وقت اور حالات کا تقاضا یہ ہی یے کے تم یہ شادی کرو۔۔۔
وقت کچھ گزرنے دو۔۔  تمہارے شادی کے ہنگامے زرا سرد پڑنے دو۔۔۔
ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔۔  اور چیزیں اور رشتے اپنے اصلی وقت پر ہی اپنی اصل جگہوں پر آتے ہیں۔۔۔ اگر کوئی بھی کام بے وقت کیا جائے تو سوائے خسارے کے کچھ ہاتھ نہیں اتا۔۔ 
تمہاری شادی کے ہنگامے سرد پڑنے پر مل کر اس چیز کا کوئ سدباب نکالتے ہیں۔۔ 
عدنان بھائی نے اسے بہت حوصلہ دیا تھا۔۔۔ اور اس وقت اسے اسی حوصلے کی ضرورت تھی۔۔۔
لیکن اسکا یہ حوصلہ ٹوٹا تب جب پروشہ کے ساتھ ہنی مون سے واپسی پر کڑیل جوان بھائی اور بھابھی کے لاشوں کو اسنے کندھا دیتے خود سے لحد میں اتارا۔۔۔
****
اینی گیسز کہانی میں اب کیا ٹرن آنے والا ہے بھلا۔۔۔۔









No comments

Powered by Blogger.
4