Rah_e_haq novel 50th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 50th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
پچاسویں قسط
واٹ دا ہیل۔۔۔ نوارد کے منہ سے حیرت انگیز طور پر الفاظ ادا ہوئے ۔۔۔
ایمان کی دروازے کی جانب پشت تھی۔۔۔ اسنے بعجلت کپکپاتے ہاتھوں سے چہرے پر نقاب درست کیا۔۔۔ اس ناگہانی صورتحال پر دل سوکھے پتے کی مانند کپکپانے لگا تھا۔۔۔
جبکہ شامیر لب بھینچے گم صم رہ گیا تھا۔۔۔ ۔دفعتا ہانپتا کانپتا بوکھلایا سا امجد بھی پیچھے ہی داخل ہوا۔۔۔
شامیر نے ایک گم صم نگاہ دروازے میں کھڑے عدنان خان پر ڈالی جو ماتھوں پر شکنوں کا جال لئے ایمان کی پشت کو گھور رہا تھا۔۔۔
تم جاو امجد کے ساتھ ۔۔۔ شامیر نے ایمان کے کان میں سرگوشی کرتے امجد کو آنکھ سے مخصوص اشارہ کیا۔۔۔
اجازت ملتے ہی ایمان تیزی سے اٹھی اور نوارد کو دیکھنے سے گریز برتتے جھکے سر سمیٹ سمٹ کر ہوا کے جھونکے کی مانند تیزی سے عدنان کے پاس سے گزر گئ۔۔۔
عدنان نے گھوم کر اسے دروازے سے نکلتا دیکھا اور دروازہ بند ہوتے ہی کینہ توز نگاہوں سے بھائی کو گھورا۔۔۔
یہ سب کیا فضولیات تھی شامیر۔۔۔ کون ہے یہ لڑکی۔۔۔ اسکی آواز سرد اور سنجیدہ تھی۔۔۔
شامیر نے لب بھینچتے تکیوں سے پشت ٹکائی اور خود کو ڈھیلا چھوڑا۔۔۔
پلیز بھائی بھول جائیں جو آپ نے دیکھا اور اس بات کو یہیں دفن کر دیں۔۔۔ پلیز۔۔۔ اٹس آ ریکویسٹ۔۔۔۔وہ عاجزانہ گویا ہوا۔۔۔
مائے گاڈ شامیر۔۔۔ کیا ہم سب یہ ہی سب کریں گے۔۔۔ پہلے میں پھر ارحم اور اب تم۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ وہ بے طرح ماتھا مسلتا وہیں پیدل مارچ کرنے لگا۔۔۔۔ غم و غصے سے اسکا دماغ چٹخنے لگا تھا۔۔۔
شامیر۔۔۔ کیا پروشہ سے شادی سے انکار کی وجہ یہ لڑکی ہے۔۔۔ دفعتاً دائیں بائیں پینڈولم کی مانند چکر کاٹتا وہ عین شامیر کے سامنے آ رکا۔۔۔
شامیر نے سنجیدہ نگاہیں اٹھا کر بھائی کو دیکھا۔۔۔
میں پروشہ سے شادی کرنے کو تیار ہوں بھائی۔۔۔ شامیر کا ٹھہرا لہجہ سن کر وہ کچھ پلوں کو ٹھٹھکا ۔۔۔ غور سے اسے دیکھتے کچھ جانچنا چاہا۔۔۔ لیکن سامنے والے کا چہرا اسقدر بند کتاب تھا کے پڑھنے والا اسکے سرورق سے آگے بڑھ ہی نا پاتا۔۔۔
پھر یہ لڑکی کون تھی۔۔۔ اسکا انداز ہنوز جانچتا تھا۔۔۔ جو غلطی ارحم نے کی اور اسکے بعد جس پچھتاوے کی آگ میں وہ خود کو جھونک چکا تھا عدنان اسی آگ کی نظر اپنے دوسرے بھائی کو نہیں ہونے دے سکتا تھا۔۔۔
اسے بھول جائیں بھائی۔۔۔ جیسے اسے آپ نے کبھی میرے ساتھ دیکھا ہی نہیں ۔۔۔ پلیز۔۔۔ وہ یہاں مجھ سے ملنے زندگی میں پہلی اور آخری مرتبہ آئی تھی۔۔۔ اب اسے اچھے سے سمجھا دیا ہے دوبارہ نہیں آئے گی۔۔۔ بس بات ختم
شامیر کے سنجیدہ انداز میں کہنے پر عدنان نے سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔
اسی میں ہم سب کی بہتری ہے۔۔۔
****
ایمان کا دل ہنوز بے ہنگم انداز میں ڈھرک رہا تھا۔۔۔ کچھ وقت پہلے کے واقعہ کے اثرات ہنوز دل و دماغ پر قائم تھے۔۔۔ وہ امجد کے ساتھ فاصلے پر چل رہی تھی۔۔ امجد آگے تھا۔۔۔ جب اپنے دھیان تیزی سے چلتی وہ راہداری مرنے پر کسی سے بے طرح ٹکرائی۔۔۔
یووووو۔۔۔۔ وہ ایک دراز قد لڑکی تھی جسنے مزید سات انچ کی لمبی ہیل پہن کر اپنے قد کو مزید نمایاں کیا تھا۔۔۔ کھلے سے سفید ٹروازر پر سفید اور سیاہ امتزاج کی پیٹ سے چند انچ نیچے تک آتی سلیو لیس شرٹ زیب تن کئے جسے پیٹ سے اوپر سٹائلش سا بیلٹ لگا کر اسکی خوبصورتی مزید بڑھائی گئ تھی۔۔۔۔۔
بال نیچے سے کرل کر کے دونوں شانوں پر ڈالے گئے تھے۔۔۔ ڈئزائنر سفید چھوٹا سا ہینڈبیگ کہنی پر اٹکایا تھا البتہ سر پر سن گلاسز ٹکے تھے۔۔۔ساتھ نیچرل سا میک آپ کیا گیا تھا جو اسکی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگا رہا تھا۔۔۔
اس ٹکراو پر وہ شدید بریم تھی۔۔۔
ایمان نے اسے دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔ اتنا مکمل حسن۔۔۔۔
ایم۔۔۔ ایم سوری میم۔۔۔۔ اسکے برہم ہونے پر وہ جلد ہی ایکسکیوز کرتی آگے بڑھ گئ۔۔۔ جبکہ وہ لڑکی برہم سے انداز میں سر جھٹکتی راہداری مڑ گی۔۔۔
ایمان نے بے طرح سر جھٹکا۔۔۔
ایمان بی بی کیا کرتی ہیں آپ۔۔۔ جانتی ہیں وہ لڑکی کون تھی۔۔۔ امجد آگے کھڑا ساری کاروائی دیکھتا ایمان کے انتظار میں رک گیا تھا۔۔۔
کون۔۔۔ ایمان نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔۔۔
پروشہ میم ہیں۔۔۔ باہر کیب کھڑی ہے آپ اس میں جا کر بیٹھیں میں ائیر پورٹ تک آپکو فاصلے سے فولو کروں گا۔۔۔
امجد کے بتانے پر ایمان کی ذات سناٹوں کی زد میں رہ گئ۔۔۔
وہ مرے مرے قدم اٹھاتے کیب میں اکر بیٹھی۔۔۔
دل و دماغ کی کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی۔۔۔۔ اس وقت اسے اللہ شدت سے یاد آیا۔۔۔ دل چاہا ابھی اسکی بارگاہ میں سجدہ زیر ہوتے پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔ اور اتنا روئے اتنا روئے کے دل کا سارا غبار دھو ڈالے۔۔۔
اس وقت دل کے احساسات عجیب سے تھے۔۔۔۔
اسنے آج شامیر کی اس دنیا کی ایک جھلک دیکھی تھی۔۔۔
پیسہ۔۔۔ پوزیشن۔۔۔۔ پاور۔۔ حسن کی فراونی۔۔۔ ہر چیز ایزی تو ایکسس۔۔۔۔ ہر چیز پانے کا اختیار۔۔۔ بڑوں کی پشت پناہی۔۔۔
ایسے میں وہ کونسی چیز تھی جو اسکے شوہر کو اسقدر ڈسٹریکٹڈ ماحول میں رہتے ہوئے بھی اس سے اور اسکے بچوں سے جوڑے ہوئے تھی۔۔۔ اسکے آنسو بے ساختہ بہہ نکلے۔۔۔ وہ کونسی چیز تھی جو شامیر جیسے سہل پسند شخص کو اس سے وفا نبھانے پر مجبور کر رہی تھی۔ اسکا دل بھر بھر آیا۔۔۔۔
واقعی شامیر کی دونوں دنیاوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔۔ اور اس فرق کی ہلکی سی جھلک ایمان نے آج دیکھی تھی۔۔۔ اور اس جھلک کو دیکھنے کے بعد وہ شوہر کی مزید قدر دان ہو گئ تھی۔۔۔ دل میں اسکی محبت کے پہاڑ کا قد کئ فٹ بلند ہو گیا تھا۔۔۔
وہ شخص تھا اس قابل کے ایمان اور اسکے بچوں کی جانب سے اسکے لئے آسانیاں پیدا کی جاتیں۔۔۔ اسکے ساتھ تعاون کیا تھا۔۔۔ اسکے ہر دکھ سکھ کا سانجھی بنا جاتا۔۔۔۔ اسے پرسکون ماحول فراہم کیا جاتا۔۔۔۔۔ جو دو کشتیوں کا مسافر بنا تن تنہا پوری دنیا کے سامنے انکے لئے ڈھال بنا ہوا تھا۔۔۔ جسکے لئے وہ تینوں اہم تِھے۔۔۔ انکی خوشیان انکے غم اہم تھے۔۔۔ انکی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا بھی وہ خیال رکھتا۔۔۔ جنکے ہر اہم موقع پر پہنچنا وہ فرض سمجھتا تھا۔۔۔
جنکے لئے معاش کی فکر میں وہ ہر دم ہلکان رہتا۔۔۔
ورنہ وہ اسی بے حس اود ظالم دنیا کا باسی تھا۔۔۔
اسی ارحم خان کا بڑا بھائی جو کسی بھی وجوہات کی بنا پر سہی مگر وفا نبھا نا سکا۔
خاموش آنسو اسکی آنکھوں سے موتیوں کی لڑی کی مانند ٹوٹتے اسکے نقاب میں جذب ہوتے جا رہے تھے۔۔
یا اللہ مجھے میرے شوہر کے لئے اور میرے شوہر کو میرے لئے ذہنی و قلبی سکون کا باعث بنا۔۔۔ ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے وفا محبت اور قدردانی آسمانوں سے نازل فرما۔۔۔ ہمیں ازواجی زندگی کی مسرتیں عطا فرما۔۔۔
بلاشبہ اس شخص کا دل ہماری جانب موڑنے اس میں میں ہمارے لئے وفا اور قدردانی ڈالنے کی قوت اور طاقت سوائے تیرے کسی کے پاس نہیں۔۔۔۔ ۔۔۔اے اللہ تو ہی میرا مدد گار ہے۔۔۔ اور جب تو میرے ساتھ ہے تو مجھے مزید کسی کی چاہ نہیں۔۔۔
اسنے آنسو رگڑ کر صاف کئے اور سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا۔۔۔
اب دل ٹھہرنے لگا تھا۔۔۔
اسے ہسی آتی تھی ان لوگوں پر جو اپنے کام کروانے کے لئے غیر اللہ کے آستانوں پر جاتے تھے۔۔۔
کہنے کو سب کی اپنی اپنی ضرورتیں اور خوایشات تھیں جو انہیں کھینچ کر وہاں تک لے جاتیں۔۔۔ لیکن اسکے نزدیک یہ ایمان کی کمزوری تھی جو انہیں غیر اللہ تک کھینچ کر لے جاتی کے انہیں اپنے اور اپنے اللہ کے تعلق پر یقین ہی نا تھا کے وہ اپنی ضروریات کو پورا کروانے کے لئے اللہ کے حضور جا پاتے۔۔۔ اس سے فریاد کر پاتے۔۔۔
کسی کو محبوب پا کر پسند کی شادی کرنی تھی۔۔۔ کسی کے پاس اولاد نہیں تھی۔۔۔ کسی کو بیٹے کی چاہ ان آستانوں تک لے جاتی تو کسی کا شوہر اسکا نہیں تھا۔۔۔
اگر غیر اللہ یہ سب دینے لگتے تو پھر کمی کس چیز کی تھی۔۔۔ ساری بات ہی ایمان کی تھی۔۔۔
اسے اپنی کوئی بھی ضرورت پوری کروانے کو کسی غیر اللہ کے آستانے پر جانے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔ اسے کسی پر جادو کروانے یا خود پر ہوئے جادو کا توڑ کروانے کے لئے بھی کسی غیر اللہ کے پاس جانے کی ضرورت نا تھی۔۔۔
کیونکہ اس دنیا کا سب سے بڑا جادو تو خود اسکے پاس تھا جس سے وہ جو چاہتی پا سکتی تھی۔۔۔
اور وہ جادو تھا اسکی دعا۔۔۔
جسکی طاقت سے وہ باخوبی آگاہ تھی۔۔۔
اور اس کے عمل کو پایا تکمیل تک پہنچانے والی ہستی کوئی موکل نہیں تھا۔۔۔ بلکہ وہ ہستی وہ تھی جسکے ہاتھ میں تمام جہانوں کی بادشاہت ہے۔۔۔ اسکا اللہ۔۔۔
وہ تو اسی در کی سوالی تھی۔۔۔ اس در کے علاوہ نا اسے کسی در کا پتہ تھا نا وہ جاننا چاہتی تھی۔۔۔
تکلیف ملنے پر مشکل پڑنے پر وہ دوڑ کر اسی در کی سوالی جا بنتی ۔۔۔ اسنے اپنی فریادیں آپنی آہیں اپنی سسکیاں محض اسی در تک محصور کر رکھی تھیں۔۔۔ اور اسنے اپنے ہاتھ میں موجود جادو کو مجسم حقیقت بن کر چلتے دیکھا تھا۔۔۔
اسنے اپنے رب پر توکل رکھتے جو مانگا تھا وہ پایا تھا اور جو نا ملا وہ بھی اس سے بہتر انداز میں اس تک لوٹا دیا گیا تھا۔۔۔
اسکی زندہ جاوید مثال اسکا شوہر تھا۔۔۔ اسکی اسقدر غیر متوازن آزواجی زندگی میں دوڑتا سکون تھا۔۔۔ اسکے بچے تھے اسکی چھوٹی سی جنت تھی۔۔۔
اسکا توکل اس کے رب پر مضبوط تھا کے ہماری زندگی میں رونما ہونے والا ہر واقعہ ایک پلان کا حصہ ہے۔۔۔ وہ پلان ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے ہم نہیں جانتے کے آنے والے دنوں میں ہمیں کیا ملنے والا ہے اور کیا نہیں۔۔ ہم محض یہ جانتے ہیں کے زندگی بس دو چیزوں کے سہارے کاٹنی ہے۔۔۔ آج کے حالات جو بھی ہیں جس نہج پر بھی ہیں اس پر صبر کر کے اور آنے والے کل کے لئے اللہ سے اچھی امید رکھ کر۔۔۔۔
بس یہ ہی خوشحال زندگی کا کلیہ ہے۔۔۔ آج حالات جتنے بھی خراب ہیں انشااللہ کل یہ وقت نہیں رہے گا۔۔۔ میرا اللہ یہ وقت بدل دے گا۔۔۔ اور انشااللہ اس کے بعد میرا اچھا وقت بھی آئے گا۔۔۔
انہیں سوچوں کے دوران وہ کب ائیرپورٹ پہنچی اور وہاں سے کب اسکی فلائیٹ لاہور لینڈ کر گئ وہ جان ہی نا پائی۔۔۔
اب ائیر پورٹ کے احاطے سے نکلتے اسے احساس ہوا کے رات کافی ہو گئ ہے۔۔۔ تبھی وہ وہاں سے کیب کرواتی موبائل آن کر کے اپنی لائیو لوکیشن شامیر کو واٹس ایپ کرتی گھر کے لئے روانہ ہوئی۔۔۔
*****
جھنجھلائی سی پروشہ نے شامیر کے کمرے میں جانے سے پہلے ساری جھنجھلاہٹ اور بے زاری وہیں دروازے کے باہر چھوڑی اور چہرے پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ سجاتی اندر داخل ہوئی۔۔۔
ہیلو ایوری ون۔۔۔
وہ مسکرا کر شامیر کی جانب بڑھی۔۔۔ عدنان بھیا جو ابھی اسے مزید کچھ کہنے والے تھے پروشہ کے آنے اور کرسی گھسیٹ کر شامیر کے پاس بیٹھنے پر لب بھینچتے کمرے سے نکل گئے۔۔۔
پروشہ نے ایک ادا سے ٹانگ پر ٹانگ جماتے اپنا چھوٹا سا بیگ سائیڈ پر رکھا۔۔
کیسے ہو شامیر۔۔۔ تم نے تو ہم سب کی جان ہی نکال دی تھی۔۔۔ تم جانتے ہو میں نے ہماری شادی کے حوالے سے کتنا کچھ پلان کیا ہوا تھا۔۔۔ کے شاپنگ مل کر اکھٹی کریں گے ۔۔ ایونٹس کی پریپریشنز اینڈ وینیو کی سلیکشن اتنا کچھ تھا مگر۔۔۔
وہ بات کرتی اداسی سے خاموش ہو گئ۔۔۔ شامیر نے گہرا سانس خارج کرتے بے ساختہ ماتھا مسلہ۔۔۔۔اٹس اوکے۔۔۔ تم شاپنگ خود کر لو۔۔۔ اگر نہیں تو اونلائن کر لیتے ہیں ۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
یا۔۔۔ ایکچولی اٹس آ گڈ آئیڈیا۔۔۔ اونلائن ڈیزائنرز کی ویڈینگ کلیکشن دیکھ لیتے ہیں۔۔۔ وہ ایکسائیٹڈ ہو اٹھی۔۔۔
ایک بات میں تم سے شادی سے پہلے کلئیر کرنا چاہتا ہوں پروشہ کے میں ایک بہت مصروف انسان ہوں۔۔۔ میری رات یہاں ہوتی ہے تو دن کہیں اور۔۔۔ کل کو اس حوالے سے ہمارے درمیان اگر چپقلش ہو کہ میں ٹائم مینج نہیں کر۔۔۔
اوہ کم آن شامیر۔۔۔ یہ مڈل کلاس لوگوں کے مسائل ہیں یار۔۔ وقت کی کمی۔۔۔ وقت نا دینا۔۔۔ گھر دیر سے آنا۔۔۔
یو نو۔۔۔ وہاں عورتوں کو سوائے شوہر کے انتظار کے دوسرا کوئی کام نہیں ہوتا۔۔۔ اسنے ہاتھ جھلایا۔۔۔
ہم اپر کلاس ہیں یار۔۔۔ یہاں وقت کس کے پاس ہے۔۔۔ میرے خود کے آئے دن کے ٹورز ہوتے ہیں۔۔۔ میرا اپنا تعلق بزنس کلاس سے ہے۔۔۔ میں خود بہت سے سوشل کاموں میں انوالو ہوں۔۔۔ ڈونٹ یو تھنک سو کے ایسے اشوز ہمارے آس پاس بھی بھٹکیں گے۔۔۔ چل پلیز۔۔۔ وہ شانے اچکاتے مسکرائی۔۔۔۔شامیر سادگی سے سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔
سو باتوں کی ایک بات شامیر۔۔۔ شادی پر ہمارا پورا فرینڈ سرکل آ رہا ہے۔۔ پھر سوشل میڈیا۔۔۔ یو نو۔۔۔
شادی پر تمہاری میرے لئے دی جانے والی پرفارمینس آوٹ کلاس ہونی چاہیے پلیز۔۔۔ چاہیے جتنی مرضی ریہرسل کر لینا۔۔۔ ٹاپ کا کریوگرافر ہائر کرنا ۔۔ مگر پرفارمینس اتنی بیسٹ اور رومینٹک ہونی چاہیے کے لوگ دیکھتے رہ جائیں۔۔۔ بسسس
اسکی بات سن کر اتنی ٹینس سچویشن میں بھی شامیر مسکرا دیا۔۔۔ کافی عرصے بعد وہ کھل کر ہسا تھا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ تم مسکرائے کیوں۔۔۔
نہیں کچھ نہیں۔۔۔ ہو جائے گا یہ بھی۔۔۔ اسنے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
وہ اسے کہہ نا سکا کے وہ اپنی قسمت پر ہس رہا ہے۔۔۔
کیا قسمت پائی تھی اسنے بھی۔۔۔ بیویاں مل رہی تھیں لیکن آگ اور پانی کے مترادف۔۔۔
کھلا تضاد لئے
*****
کنزل الایمان جس وقت گھر پہنچی حامد نینا اور سبحان لاوئنج میں ہی اسکے منتظر تھے۔۔۔
ایمان کہاں گئ تھی تم اور یہ کونسا وقت ہے گھر آنے کا۔۔۔ اوپر سے موبائل تمہارا آف ہے تم سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا تھا ہمارا۔۔۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کے ہم پیچھے کس قدر پریشان ہو گئے تھے۔۔۔ تمہیں کہیں جانا تھا تو کم از کم میرے ساتھ چلی جاتی۔۔۔
حامد اسے آتا دیکھ اپنی جگہ سے اٹھتا سنجیدگی سے مستفسر ہوا۔۔۔
نگارش نے اسکے تھکے تھکے انداز دیکھ کچن سے پانی کا گلاس لاتے اسے دیا تو وہ وہیں صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔
بھائی شامیر کا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا۔۔۔ سکیورٹی اشوز کی بنیاد پر مجھے وہاں تنہا ہی جانا تھا اور اسی غرض سے ہی موبائل بھی آف تھا۔۔۔ واپسی پر آن کرنا یاد نہیں رہا مجھے۔۔۔
وہ پانی کا ایک گھونٹ بھرتی پانی کا گلاس میز پر رکھ گی۔۔۔ تھکاوٹ انگ انگ میں سرائیت کرنے لگی تھی۔۔۔
اوہ۔۔۔ اب کیسا ہے وہ۔۔۔ حامد کا غصہ جھاگ کی مانند بیٹھا۔۔۔ کافی بہتر ہیں اب تو۔۔۔
اور سوری میری وجہ سے آپکو اسقدر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ اسنے دکھتا سر انگلیوں کی پوروں سے دابا۔۔۔ اور ہینڈ بیگ سے موبائل نکالتے اسے آن کرنے لگی۔۔۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ایمان۔۔۔ دراصل زوہان بہت تنگ کر رہا تھا۔۔۔ نا اسنے کچھ کھایا پیا ہے اور نا ہی دوائی لی۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ نگارش کے بتاتے ہی وہ کرنٹ کھا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
اب کہاں ہے وہ۔۔۔
رو رو کر ضد کر کر کے اب نڈھال ہو کر سو گیا ہے۔۔۔
ایمان کے دل کو کھینچ سی لگی۔۔۔ باقی ہر چیز سے دل اچاٹ ہو گیا۔۔۔
میں دیکھتی ہوں اسے بھابھی۔۔۔ وہ اسکے کمرے کی جانب بڑھی۔۔
ممی۔۔۔۔
ابھی وہ راہداری مڑی ہی تھی کے سبحان پیچھے ہی چلا آیا۔۔۔
جی بیٹا۔۔۔
اب کیسے ہیں ڈیڈ۔۔۔۔ اور کیا اسی وجہ سے اتنے دنوں سے ان سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا ہمارا۔۔۔ وہ اپنی ذہانت سے بھرپور نگاہیں ماں پر جمائے سنجیدگی اور مدبر انداز سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
جی بیٹا یہ ہی وجہ تھی۔۔۔ ایمان نے اداسی سے مسکراتے اسکے بال بکھیرے۔۔۔
ٹھیک یے آپ زوہان کو دیکھ لیں وہ بھوکا ہے۔۔۔
ایمان نے سر ہاں میں ہلایا دفعتاً اسکے ہاتھ میں تھاما موبائل بج اٹھا۔۔۔ اسنے موبائل کی سکرین دیکھی اور مسکرا دی۔۔۔
آپکے بابا کی کال ہے۔۔۔ آپ بات کرو میں تب تک زوہان کو دیکھ لوں۔۔۔ وہ موبائل سبحان کے حوالے کرتی خود زوہان کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
******

No comments