Header Ads

Rah_e_haq novel 49th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  49th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

انچاسویں قسط۔۔۔۔
بابا آپ کہاں جا رہے ہیں یار اٹس اوکے میں کھا لوں گا بعد میں۔۔ 
بابا کو واش روم کے درواَزے تک پہنچتا دیکھ وہ بے طرح کراہا۔۔۔
دروازے کے عین ساتھ ایمان سمٹ کر کھڑی اس آنے والے وقت سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے اللہ سے دعا گو تھی۔۔۔
آہہہہ۔۔۔۔
کیا ہوا شامیر۔۔۔
شامیر کی کراہ سن کر بابا الٹے قدموں اسکی جانب لپکے۔۔ جسکے ماتھے پر اس موسم میں بھی ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔۔۔ زندگی داو پر لگی تھی۔۔۔
امجددد۔۔ امجددد۔۔۔ وہ حلق کے بل ڈھارا۔۔۔ جب امجد گولی کی مانند بھاگتا آیا۔۔۔
حکم خان۔۔۔
یہ بابا سے فروٹس پکرو اور دھو کر لاو۔۔۔ نیز سسٹر کو بلاو میری میڈیکیشن کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔ مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔ وہ کوفت و جھنجھلاہٹ میں مبتلا تھا۔۔۔
امجد نے سر ہاں میں ہلاتے بعجلت واش روم میں جا کر فروٹس دھوئے اور باہر لاکر باسکٹ میں رکھے۔۔۔ ابھی وہ سسٹر کو بلانے کے لئے کمرے کے دروازے تک پہنچا ہی تھا کے واش روم میں ایمان کا فون بج اٹھا۔۔ 
مائے گاڈ۔۔۔ 
شامیر نے دہل کر واش روم کی جانب دیکھا۔۔۔ جبکہ بونچکا تو ایک مرتبہ امجد بھی رہ گیا۔۔۔
واش روم میں کوئی ہے کیا۔۔۔ بابا کی آواز میں غیر معمولی سنجیدگی جبکہ ماتھے پر شکنوں کا جال ابھر آیا تھا۔۔۔
شامیر کو اپنا آپ بے دم ہوتا محسوس ہوا۔۔۔
اگر تمہاری بے وقوفی کے باعث تم پر یا میرے معصوم بچوں پر آنچ بھی آئی نا ایمان۔۔۔ تو تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔۔ وہ اسقدر فریسٹریٹڈ صورتحال میں دل ہی دل ایمان سے شکوہ کناں تھا۔۔۔
*****
حسب سابق نیند سے جاگتے ہی زوہان نے ماں کو آس پاس موجود نا پا کر زمین آسمان ایک کر ڈالا تھا۔۔۔۔
نا وہ کچھ کھا رہا تھا نا پی رہا تھا۔۔۔ حد تھی کے اسنے دوائی تک نا لی تھی جسکے باعث اسکی ٹانگ میں شدید قسم کا درد اٹھنے لگا تھا۔۔۔۔
سبحان کو جب سکول سے آنے کے بعد ماں کی گھر میں غیر موجودگی کے بارے میں پتہ چلا تو اسکا ردعمل زوہان کے جیسا تو نہیں تھا البتہ وہ بجھ کر رہ گیا تھا۔۔۔ بس کھانا کھایا اور خاموشی سے اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔
لیکن زوہان نے یوں بونچال اٹھا رکھا تھا کے کسی  سے قابو نا آ رہا تھا۔۔۔ 
سبحان نے اسے سمجھانا چاہا مگر وہ کسی کی بھی بات سننے کو تیار نا تھا۔۔۔
مجبوراً اسکی بگڑتی حالت دیکھ نگارش نے بے بس ہو کر ایمان کا نمبر ڈائل کرتے اسے صورتحال سے آگاہ کرنا چاہا تھا۔۔۔
لیکن برا ہو جو وہ نہایت نازک وقت پر اسکا نمبر ڈائل کر چکی تھی۔۔۔
****
واش روم کی دیوار کے ساتھ لگی تھر تھر کانپتی ایمان نے دہلتے دل کے ساتھ بعجلت اپنے ہینڈ بیگ میں بجتے اس موت کے پروانے کو کپکپاتے ہاتھوں سے بیگ کی زپ کھول کر نکالتے بند کیا ۔۔۔ لیکن برا ہو جو تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔ غالباً باہر ساری  حقیقت کا عقدہ کھل چکا ہو گا۔۔۔
اب آگے کیا ہو گا۔۔۔
اسکا دل سوکھے پتے کی مانند کپکپانے لگا۔۔۔۔
بابا خطرناک حد تک سنجیدگی سے واش روم کی جانب بڑھے جب امجد ہڑبرا کر آگے آیا۔۔۔
او ہو بڑے خان۔۔۔ میرے خیال سے فروٹ دھوتے میرا فون اندر رہ گیا۔۔۔
وہ بعجلت واش روم میں داخل ہوا اور انہی قدموں سے اپنا فون جیب سے نکالتا ہاتھ میں پکڑ کر باہر آیا۔۔۔
ایمان نے سانس تک روکتے موبائل سوئچ آف کر کے واپس بیگ میں رکھا۔۔۔
دفعتا سسٹر میڈیسن ٹرے لئے اندر داخل ہوئی۔۔۔
پیشنٹ کی میڈیکیشن کا وقت ہو گیا ہے سر۔۔۔ کائنڈلی آپ سب باہر آ جائیں۔۔۔
سسٹر کے کہنے پر واجد خان اور امجد پیشنٹ روم سے باہر نکل گئے۔۔۔۔ کے شامیر کی اس میڈیکیشنز کے بعد آرام کا وقت ہوتا تھا۔۔۔ کیونکہ ان دوائیوں میں گنودگی تھی جسکے بعد وہ دو تین گھنٹوں تک بے سدھ ہو کر سو جاتا ۔۔۔ اس دوران کسی کو بھی اسے ڈسٹرب کرنے کی اجازت نا تھی۔۔۔
شامیر نے  سکون کا سانس خارج کیا۔۔۔
سسٹر ٹرے بیڈ کی سائیڈ پر رکھتی اسکے دائیں جانب آئی۔۔ 
وہ جانتا تھا کے اس میڈیکیشنز کے بعد وہ گنودگی میں چلا جائے گا۔۔۔
آںنن سسٹر۔۔ ایک ریکویسٹ ہے پلیز۔۔۔ 
کیسی ریکویسٹ۔۔۔ 
کیا آپ مجھے یہ میڈیکیشن بنا کسی کو بتائے ایک گھنٹے کے گیپ سے دے سکتی ہیں پلیز۔۔۔ شامیر لجاہت سے گویا ہوا۔۔
وھاٹ۔۔۔ 
لیکن یہ کیسے ممکن ہے مسٹر شامیر۔۔۔ یہ آپکی صحت کے لئے ٹھیک نہیں۔۔۔ آپکی چوٹوں میں درد ہونے لگے کا۔۔۔ اور اگر ڈاکٹر کو میری اس حرکت کا پتہ۔۔
امجددددد۔۔۔
شامیر نے امجد کو آواز دیتے اسے ایک مخصوص اشارا کیا۔۔۔
امجد نے بند مٹھی میں دابے کئ ہزار ہزار کے نوٹ سسٹر کے ہاتھ میں تھامی میڈیسن ٹرے میں رکھے۔۔۔
آپ بے فکر ہو جائیں سسٹر۔۔  کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔۔۔ آپ ایک گھنٹے بعد آ کر مجھے یہ ٹریٹمنٹ دے دیں  اس بیچ اگر مجھے زیادہ تکلیف ہوئی تو آپکو جلدی بلا لیا جائے گا۔۔۔اور باہر آپ نے سبکو یہ ہی بتانا ہے کے میں ٹریٹمنٹ کے بعد آرام کر رہا ہوں کوئی مجھے ڈسٹرب نا کرے۔۔۔
سسٹر نے چند پل سوچنے کے بعد وہ پیسے مٹھی میں دبا لئے اور سر ہاں میں ہلاتی کمرے سے نکل گئ۔۔۔ 
سسٹر کے جاتے ہی امجد بھی کمرے سے نکل گیا۔۔۔
شامیر نے گہری سانس خارج کی۔۔۔ اور تکیوں سے ٹیک لگا گیا۔۔
باہر آ جاو ایمان۔۔۔۔
چند پلوں بعد وہ شرمندہ سی سر جھکائے باہر نکلی۔۔۔ چہرا شدت ضبط سے لہو رنگ ہو رہا تھا جیسے وہ بس ابھی رو دے گی۔۔۔
شامیر نے غور سے اسے دیکھا اور اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
ایک تو کام غلط کیا اوپر سے اب ایسی صورت بنا کر دکھا رہی ہو۔۔۔ شامیر نے  تھوڑی سے تھامتے اسکا جھکا چہرا اونچا کیا۔۔۔
جھکی پلکوں سمیٹ باوجود ضبط کے بھی اسکے آنسو چھلک پڑے۔۔۔
شامیر نے لب بھینچتے اسے ساتھ لگایا اور اسکا سر تھپکنے لگا۔,
تم جیسی سمجھدار اور معاملہ فہم بندی ایسی بے وقوفانہ حرکتیں کرنے لگے ایمان تو  ہمارا کیا بنے گا۔۔۔
تم جانتی ہو آج تم نے کس قدر بے وقوفی کا مظاہرہ کیا ہے۔۔۔ 
میری سانسیں سینے میں اٹک گی تھیں ایمان۔۔۔ جو بابا ہماری حقیقت سے آگاہ ہو جاتے تو۔۔۔
پھر وہ اسے ارحم والا سارا واقعہ من و عن سناتا چلا گیا۔۔۔ جسے سن کر ایک پل کو تو ایمان بھی تھرا گئ۔۔۔ مطلب شامیر کا ڈر بے جان نا تھا۔۔۔
یہاں اسقدر بے حسی تھی۔۔۔ اسقدر بے حسی۔۔۔ یقین کرنا محال تھا۔۔۔
اور شامیر کے بابا کی روبدار شخصیت اور روب و دبدبے کے چند شواہد تو وہ واش روم کھڑی کھڑی بھی محسوس کر چکی تھی۔  
ایم سوری خان۔۔۔ مانتی ہوں کے واقعی بہت بڑی بے وقوفی کی مرتکب ہو چکی ہوں لیکن گزشتہ دنوں میں جس قدر ذہنی اذیت کا شکار رہی ہوں آپ نہیں سمجھ سکتے۔۔۔
یہاں آپ بستر پر پڑے ہیں اور وہاں ہمارا رابطہ آپ سے نہیں ہو پا رہا تھا۔۔۔ نیز رہتی کسر زوہان کے ایکسیڈنٹ سے پوری ہوگئ۔  ۔
وہاٹ۔۔۔ کیا ہوا زونی کو۔۔۔ وہ تڑپ اٹھا تھا۔۔ 
ایمان کے آنسو بے ساختہ بہہ نکلے پھر وہ اسے زوہان کے ایکسیڈینٹ اور بعد کے حالات و واقعات سے آگاہ کرتی رہی۔۔۔۔ جنہیں سن کر شامیر سر تھام کر رہ گیا۔۔۔۔
اسی دن کے ڈر سے تمہیں کہتا تھا ایمان ہر چیز میں دلچسپی لو۔۔۔ محض گھر شوہر اور بچوں تک محدود ہو کر نا رہ جاو۔۔۔
برا وقت کبھی بتا کر نہیں آتا۔۔۔
مجھے نہایت افسوس ہے ایمان کے تمہیں زوہان کے علاج کے لئے جیولری بھیچنی پڑی۔۔۔
ہر بار جب بچوں کے نام پر کی گئ انویسٹمنٹ کا پرافٹ ملنے پر تمہیں اس سے آگاہ کرنا چاہا تمہارا یہ ہی جواب رہا کے جتنے کی ہمیں طلب ہے ہوری ہو رہی ہے مزید کی چاہ نہیں۔۔۔ زندگی میں پیسہ ہی سب کچھ نہیں۔۔۔
شاید یہ بات میں تمہیں نہیں سمجھا سکتا تھا ایمان۔۔۔ یہ بات تمہیں حالات نے ہی سمجھانی تھی۔۔۔
مانتا ہوں کے زندگی میں پیسہ سب کچھ نہیں۔۔۔ لیکن. ایک بات اچھے سے سمجھ لو کے پیسے کے بنا بھی کچھ نہیں۔۔۔ ٹھیک ہے انسان کو اپنی ویلیوز اور اخلاقیات نہیں بھولنی چاہیے لیکن ایک فکسڈ مائنڈ سیٹ بھی نہیں رکھنا چاہیے۔۔۔
تبدیلی کائنات کا معمور ہے۔۔۔ گروتھ مائنڈ سیٹ کے ساتھ ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔۔۔
میں آج ہی امجد سے کہتا ہوں کے وہ تمہارے نام سے تمہارا کرنٹ اکاونٹ کھلوائے اور بچوں کے نام پر کئ جانے والی انویسٹمنٹ کا پرافٹ تمہیں اسی اکاونٹ میں موصول ہوتا رہے گا۔۔۔
یہ بات بہت بار زیر بحث آئی تھی اور ہر بار ہی ایمان یہ کہہ کر ٹال دیتی کے جب آپ ہمارے پاس ہیں تو ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ۔۔۔ لیکن اب جب زندگی نے ایک کڑی حقیقت سے آشنا کروایا تھا تو اس بار وہ کچھ بول ہی نا سکی تھی۔۔۔
زوہان نے بہت تنگ کر رکھا ہے خان۔۔۔ آپ سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا تو وہ آپ سے شدید قسم کا ناراض ہے۔۔۔ اور آج تو مجھ سے بھی ناراض ہو گا کیونکہ میں اسے وہیں چھوڑ آئی ہوں۔۔۔
شامیر نے بے طرح ماتھا مسلہ۔۔۔
جیسے ہی اپنے قدموں پر کھڑا ہوا نا ایمان۔۔۔ سب سے پہلے اپنے شہزادے سے ملنے آوں گا۔۔۔ لیکن اس سے پہلے اس سے بات ضرور کروں گا۔۔۔
اتنے دنوں کی نظر اندازی بھی لاشعوری تھی۔۔۔ ورنہ میں اپنے شہزادوں کو نظر انداز کر جاوں۔۔۔کیا یہ ممکن ہے۔۔ 
اور سبحان کیسا ہے۔۔۔ یکدم یاد آنے پر وہ مستفسر ہوا۔۔۔
ہمیشہ کی طرح خاموش اور گہرا مشاہدہ کرتا ہوا۔۔۔
بڑا ہی کوئی  گہرا بچہ ہے۔۔۔ خود سے میں سمجھ جاوں تو سمجھ جاوں۔۔۔ ورنہ کہاں وہ اپنی فیلنگز شئیر کرتا ہے۔۔۔
لیکن سچ ہے آپ سے رابطہ نا ہونے اور زوہان کے ایکسیڈینٹ نے اس پر بڑے گہرے اثرات ڈالے ہیں۔۔۔
ایمان نے ارد گرد دیکھا۔۔۔ تازہ بکے سے پھولوں کی اٹھتی مہک کمرے کے ماحول کو خوشگوار بنا رہی تھی۔۔۔
ہممم۔۔۔ میرے خیال سے ابھی تمہیں چلے جانا چاہیے ایمان۔۔۔ تمہیں لاہور پہنچتے پہنچتے رات ہو جائے گی۔۔۔ اور بچے تم سے اتنی دیر تک دوری برداشت نہیں کر سکتے۔۔۔۔اور ریلیکس میں اب رابطے میں رہوں گا۔۔۔
خان نے ہاتھ کی پشت سے اسکی گال سہلائی۔۔۔ وہ اداسی سے مسکرا دی۔۔۔
سچ تھا کے شامیر کے پاس آ کر اس سے مل کر اتنے دنوں کی کوفت بےزاری اور بے سکونی جاتی رہی تھی۔۔۔۔
ایک بات پوچھوں خان۔۔۔ اٹھنے سے پہلے وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔۔
ہمم ہوچھو۔۔۔
کوئی پرابلم ہے کیا۔۔۔ جس نے آپکو ڈسٹرب کر رکھا ہے۔۔۔اسنے پلکوں کی چلمن اٹھا خان کو دیکھا۔۔۔
بڑھی شیو اور ماتھے پر کی گئ پٹی۔۔۔ہسپتال کے مخصوص گاوں میں ملبوس بھی اسکی شخصیت ساحرانہ تھی جسکے سحر میں ہر بار ایمان جھکڑی جاتی۔۔۔
اگر میں کہوں کے کوئی پرابلم نہیں ہے تو۔۔۔
شامیر نے اسکی شہد رنگ آنکھوں میں براہ راست دیکھا۔۔۔
وہ مسکرا دی۔۔۔
تو میں کہوں گی کے یہ سراسر جھوٹ ہے۔۔۔۔
اور اگر میں کہوں کے پرابلم سچ میں ہے جسکے پیش نظر یہ ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔۔۔ وہ ہنوز اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔
تو میں کہوں گی کے مجھ سے شئیر کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔۔۔
اففف ایمان۔۔۔ اسنے گہرا سانس خارج کرتے ایمان کا مومی ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما۔۔۔
یار واقعی پرابلم تو ہے۔۔۔ اور اسی پرابلم نے بری طرح دل و دماغ جھکڑ رکھے ہیں۔۔۔ سمجھ نہیں آتا کے کیا کروں۔۔۔
کک۔۔۔ کیا پرابلم ہے خان۔۔ خان کی شکستہ آواز سن اسکے الفاظ ٹوٹنے لگے۔۔۔
بابا نے میری شادی کی ڈیٹ فکس کر دی ہے ایمان۔۔۔
اسنے ایمان کا ہاتھ سہلایا۔۔۔
ایمان کا دل بے ساختہ ڈوب کر ابھرا۔۔۔
اگلے مہینے میری شادی ہے یار۔۔۔ اتنے سالوں سے انکار کر رہا تھا مگر اس بار بابا نے شادی کی ڈیٹ فکس کر کے انکار کا جواز ہی ختم کر ڈالا ہے۔۔۔
اب اگر انکار کرتا ہوں تو۔۔۔ وہ بات کرتے کرتے بےبسی سے خاموش ہو گیا۔۔۔
سچی بات ہے میں پروشہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ ۔ ارحم کا سارا واقعہ تمہارے سامنے ہے۔۔۔
اور ارحم کے انجام کے بعد میرا دل ڈرتا ہے۔۔۔ جو ایموشنل بلیک میلنگ بابا نے کی یا ماں سے مجبوراً کروائی وہاں میرا نہیں خیال کے پتھر سے پتھر دل بیٹا بھی ماں کے ہاتھوں مجبور ہوتا پریشرائز نہیں ہوگا۔۔۔
میں اس صورتحال سے ڈرتا ہوں ایمان۔۔۔ اور ماں کے ہاتھوں بے بس ہونے سے مجھے سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے۔۔۔ ۔اور دوسری طرف میرے اپنے لخت جگر ہیں۔۔۔ جنہیں تکلیف پہنچانا تو دور میں انکی آنکھوں میں آنسو تک برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔
میں خود کو ایک منجدھار پر کھڑا پاتا ہوں۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے۔۔۔ یہ ساری صورتحال مجھے پینک کر رہی ہے.  
ایسے میں تم ہی بتاو کے مجھے کیا کرنا چاہیے۔۔۔
شدت ضبط سے شامیر آنکھیں میچ گیا۔۔۔
ایمان کئ پلوں تک گم صم سی اسے دیکھتی رہی۔۔۔
آپ شادی کر لیں شامیر۔۔۔
کافی دیر بعد اسکے بولنے پر وہ پٹ سے آنکھیں کھول گیا۔۔۔
جانتی بھی ہو کیا بول رہی ہو۔۔۔
جانتی ہوں خان۔۔۔ 
سودو زیاں کا حساب کتاب لگا لیتے ہیں ۔۔۔ اور یہ بات طے ہے کے میں زیان کا سودا نہیں کر سکتی کیونکہ میں تنہا نہیں بلکہ میرے ساتھ دو ننھی جانیں مزید نتھی ہیں۔۔۔ میں اپنے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے لئے بھی آزمائش کا سماں نہیں کر سکتی۔۔۔
پورے کا پورا خان تو کسی صورت میرا نہیں۔۔۔ اول روز سے نہیں تھا۔۔۔ آپ کی زندگی میں آئی ہی اس شرط پر تھی کے مجھے مت چھوڑئیے گا چاہیے دوسری یا تیسری شادی بھی کر لیجئے گا۔۔۔
ایمان نے انگلی کی پور سے نم آنکھ کا کونا دابا۔۔۔
شامیر نے کچھ بولنے کو منہ کھولنا چاہا جب وہ سرعت سے بات کاٹ گئ۔۔۔
مانتی ہوں کے تب یہ مجبوری کا سودا تھا۔۔۔ اور یہ کے آج حالات اس سے یکسر مختلف ہیں۔۔۔ لیکن اسکے باوجود پورے کا پورا خان میرا نہیں۔۔۔ یا تو بٹا ہوا خان میرا ہے۔۔۔ یا خان میرا ہے ہی نہیں۔۔۔
انکار کی صورت بات بڑھتی ہے اور اگر وہ بڑھتی بڑھتی میرے گھر اور بچوں تک آتی ہے تو خان ہمارا نہیں۔۔۔ 
چھپی رہتی ہے تو بٹا ہوا خان میرا ہے۔۔۔
میرے بچوں کے سر پر باپ کا سایہ ہے۔  زندگی میں سکون ہے۔۔۔ میرے بچوں کا بچپن کسی آزمائش یا کسی محرومی کا شکار نہیں۔۔۔۔
اور مجھے یہ سب منظور ہے۔۔۔ آپ کی دونوں دنیا الگ ہیں۔۔۔ آپ کی اس دنیا میں کیا چل رہا ہے مجھے اس سے غرض نہین۔۔۔ مگر میری اس دنیا میں سکون ہونا چاہیے۔۔ میرے بچوں کی شخصیت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ انکا بچپن پرسکون اور مطمئیں ہونا چاہیے۔۔۔
آپ بھی دماغ سے ہر سوچ جھٹک دیجئے۔۔۔ زندگی کو بہت دفعہ پرسکون رکھنے کے لئے نچلا داو کھیلنا پڑتا ہے۔۔۔
خود کو مطمئیں رکھیں جو جیسا چل رہا ہے چلنے دیجئیے۔۔ اپنے ماں باپ کو بیٹے کی خوشیاں دیکھنے دیجئے۔۔۔ اپنی دوسری بیوی کے سبھی حقوق پورے کیجئے۔۔۔ اور جب ہماری دنیا میں آئیں تو اپنے اس دنیا کے سبھی رشتے یہیں چھوڑ کر آئیں جو ہمارا وقت ہے وہ محض ہمارا ہے۔۔۔
ایمان کے ردعمل سے اسے بہت حوصلہ ہوا تھا۔۔۔ وہ ہمیشہ ہی اسے سمجھتی تھی اسکی آسانی کے لئے سدباب کرتی تھی۔۔۔ آج بھی اسنے یہ ہی کیا تھا۔۔۔۔
اسے سب سے بڑا ڈھرکا یہ ہی لگا تھا کہ اس خبر سے سب سے زیادہ ہرٹ ایمان ہو گی۔۔۔ اور وہ یہ ہی نہیں چاہتا تھا۔۔۔
کیا تمہیں اس بات کا دکھ نہیں ہو گا ایمان۔۔۔
بلآخر وہ دل کی بات زبان پر لے ہی آیا۔۔۔
اس بات کو آپ رہنے دیجئے خان۔۔۔
دکھ کی ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کے اسے جس قدر اہمیت کا پانی دے کر اسکی آبیاری کی جائے وہ اتنا ہی بڑا ہونے لگتا ہے۔۔۔ پھر وہ آپکی نس نس میں سرائیت کر کے آپکو توڑنے لگتا ہے۔۔۔
آپکو بیچارگی کے ڈھانچے میں ڈال کر  خود ترس بناتا ہے۔۔۔ 
دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جسے کوئی دکھ نا ہو۔۔۔ اگر دکھوں کو اہمیت نا دیتے اپنے پاس موجود نعمتوں پر اللہ کی شکر گزاری کی جائے تو اہمیت نا ملنے پر وہ دکھ چھوٹے پڑنے لگتے ہیں۔۔۔ اور چھوٹے ہوتے ہوتے ایک وقت ایسا آتا ہے جب اس دکھ کا کوئی نام و نشان تک نہیں رہتا۔۔۔
اگر میں اپنے ارد گرد شکر گزاری کے پہلو دھونڈنے لگوں تو کئ ایک پہلو نکل آئیں گے۔۔۔
میرے ارد گرد اپنے ہی ملک میں کئ لڑکیاں ایسی ہیں جنکے شوہر روز معاش کی غرض سے دوسرے ملکوں میں مقیم ہیں۔۔۔ انکی واپسی سالوں پر مشتمل ہوتی ہے۔۔۔۔
میرا شوہر میرے پاس ہے مہینے میں کئ بار ہماری خبر گیری کرتا ہے میرے پاس میرے بچے ہیں جنت جیسا گھر ہے سکون ہے۔۔۔ میں کس کس نعمت پر اپنے رب کا شکر ادا نا کروں۔۔۔
کئ لڑکیاں ایسی ہیں جنکے شوہر شادی کے بعد بھی بے وفائی کے مرتکب ہوتے ہیں۔۔۔ بیوی بچوں کے باوجود ایکسٹرا میٹریل افیئرز چلاتے ہیں۔۔۔
میرا شوہر میرا قدر دان ہے۔۔۔ مخلص ہے باوفا ہے۔۔۔ اسے میرے دکھ کی پروا ہے میں ان باتوں پر کیوں اپنے رب کی شکرگزار نا ہوں خان۔۔  زندگی میں بہت سے مقامات پر پرسکون زندگی گزارنے کے لئے بہت سی چیزیں نظر انداز کرنی پڑتی ہیں اور میرا ماننا ہے کے انہیں نظر انداز کر دینا چاہیے۔۔۔
کیونکہ میرا توکل میرے اللہ پر ہے خان۔۔۔ دنیا کے کسی انسان پر نہیں۔۔۔ آپ دوسری شادی کریں تیسری کریں یا چوتھی۔۔۔ آپ اپنی دنیا سے مجھے جتنا بھی دور رکھیں جتنا بھی اس دنیا سے مجھے چھپا لیں۔۔۔ ہماری دنیا میں ہمارے بچوں کو جتنا بھی سٹیبلش کر لیں۔۔۔لیکن میرا ایمان ہے اپنے اللہ پر شامیر کے آپ کی دنیا میں جو حق میرے بچوں کا ہے جو مقام انکا ہے۔۔۔ وہ انہیں مل کر رہے گا۔۔۔ انشااللہ۔۔۔
آپ بھی یہیں ہیں میں بھی یہیں ہوں۔۔۔ دیکھیے گا۔۔۔ ایک دن ایسا آئے گا جب میرا حرف حرف سچ ثابت ہو گا۔۔۔
میرا اللہ بڑا کارساز ہے۔۔۔ اور صبر کو ہی اجر ہے۔۔۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔۔۔ میں نہیں جانتی وہ وقت کب آئے گا۔۔۔ یہ میرا اللہ بہتر جانتا ہے۔۔۔ لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کے آئے گا ضرور۔۔۔
وہ گم صم سا اسکا پریقین چہرا دیکھ رہا تھا۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے اسنے شدت سے ایمان کو خود میں بھینچا۔۔۔
کہاں سے لاتی ہو دل کو تقویت پہنچاتی ایسی باتیں ایمان۔۔  تصور ہی اسقدر خوش کن ہے کے دل خوشی سے لبریز ہو گیا۔۔۔
انشااللہ یہ تصور مجسم حقیقت بھی بنے گا۔۔۔ اسکی آواز پریقین تھی۔۔۔
میرا قرآن سراپہ امید ہے۔۔ جو خود کو اس سے جوڑ لیتا ہے ممکن ہی نہیں کے وہ کبھی نا امید ہو جائے۔۔۔
 شامیر نے مسکراتے ہوئے اسکے بالوں پر لب رکھے۔۔۔
عین اسی وقت جھٹکے سے دروازہ کھلا۔۔۔
شامیر نے سرعت سے ایمان کو خود سے الگ کیا۔۔۔ جبکہ تھرا تو ایمان بھی اپنی جگہ پر گئ تھی۔۔۔۔
واٹ دا ہیل۔۔۔ نوارد کے منہ سے حیرت انگیز طور پر الفاظ ادا ہوئے ۔۔۔
*****
میں بہت خوش ہوں کے اس ہفتے کی چوتھی اور آخری قسط اپلوڈ کر پانے میں کامیاب ٹھہری۔۔۔۔ یہ میرے لئے کسی اچیومنٹ سے کم نہیں۔۔۔ 
عید کے دنوں کی بے حد مصروفیات اور گیٹ ٹو گیڈرنگز کے دنوں میں ساتھ ساتھ ایپی دینا اور اسقدر اوور لوڈ کام کی وجہ سے طبیعت بہت ڈسٹرب ہوگئ۔۔۔ آج کی ایپی مکمل کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا۔۔۔ 
Kindly pray for me...
 کے میری طبیعت ٹھیک ہو جائے اور میرا اگلے ہفتے کا ایپی پوسٹنگ کا شیڈیول ڈسٹرب نا ہو۔۔۔
Remember me in your prayers and don't forget to share your reviews..
#Umme_Hania



No comments

Powered by Blogger.
4