Header Ads

Rah_e_haq novel 48th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  48th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

اڑتالیسویں  قسط۔۔۔
دوسری طرف بیل جا رہی تھی۔۔۔ اور ہر جاتی بیل کے ساتھ ساتھ ایمان کو اپنے دل کی ڈھرکنیں واضح بڑھتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔
وہ زوہان کی نیند خراب ہونے کے ڈر سے اٹھ کر بالکنی میں آ گئ۔۔۔
ہیلو۔۔۔ دفعتاً اسے ائیر پیس سے امجد کی جھنجھلائی سی آواز سنائی دی۔۔
رابطہ استوار ہونے پر اسنے بے ساختہ اللہ کا شکر ادا کیا۔۔۔ صبح کے دس بج رہے تھے لیکن اسکے باوجود بدلتے موسم کے باعث باہر ابھی پوری طرح سے سورج نہیں نکلا تھا۔۔۔
اسلام علیکم امجد بھائی میں کنزل ایمان بات کر رہی ہوں۔۔۔ اسنے بامشکل ضبط سے کپکپاتی آواز کی لغزش پر قابو پایا۔۔۔
شامیر کا نمبر کیوں مسلسل آف  ارہا ہے۔۔۔ میرا۔۔۔ میرا ان سے رابطہ۔۔۔
بات کرتے کرتے وہ ضبط کے پیمانے کے چھلکنے کے ڈر سے بات ادھوری چھوڑتی لب دانتوں تلے سختی سے بھینچ گی۔۔۔۔
اوہ ایمان بی بی۔۔۔
امجد نے گہرا سانس خارج کیا۔۔
ایمان بی بی خان کا بہت شدید ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے۔۔۔۔
امجد کے کہنے پر اسے اپنے قدموں تلے سے زمین کھسکتی محسوس ہوئی۔۔
وہ ابھی تک ہاسپیٹلائزڈ ہیں۔۔۔ اس ایکسیڈینٹ میں انکا موبائل فون ادھر ادھر ہوا تو پھر کسی کی اس جانب کوئی خاص توجہ نا گئ۔۔۔
پہلے چند دنوں وہ انتہائی نگہداشت میں رہے ہیں۔۔۔ اب کچھ بہتر ہیں لیکن کمزوری اور چوٹوں کے باعث زیادہ تر دواؤں کے زیر اثر غنودگی میں رہتے ہیں۔۔۔ کم کم ہی ہوش میں ہوتے ہیں۔۔۔بس اتنا ہی کے کچھ کھا پی لیا۔۔۔ شاید تبھی انکا بھی اس جانب دھیان نہیں گیا۔۔۔ ورنہ آپ جانتی ہیں کے انکی پہلی ترجیح ہمیشہ سے انکی یہ ہی فیملی رہی ہے۔۔۔
امجد بتا رہا تھا جبکہ ایمان کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ خاموش آنسو مسلسل اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔۔  ایک طرف شوہر اور ایک طرف بیٹا وہ وقت اور حالات کی ستم ظریفی کے آگے بے بس ہو کر رہ گئ تھی۔۔۔
آنکھوں کے آگے یکدم ہی اندھیرا چھانے لگا تھا۔۔۔  تو مطلب اتنے دنوں کی بے چینی یونہی نا تھی۔۔۔
میری ان سے بات کرواو امجد۔۔۔  وہ کرلا اٹھی
ایمان بی بی ابھی یہ ممکن نہیں۔۔۔ وہ غنودگی میں ہیں۔۔۔ اسنے شائستہ انداز میں معذرت کی۔۔۔
ٹھیک ہے پھر میں بائے ائیر پہنچ رہی ہوں اسلام آباد۔۔  مجھے ہسپتال کا ایڈریس سینڈ کرو۔۔۔
وہ ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتی لمحوں میں فیصلہ کر اٹھی۔۔۔
ایمان بی بی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔ یہ خطرے سے خالی نہیں۔۔۔
یہاں ہسپتال میں ہمہ وقت خان کے ساتھ کوئی نا کوئی موجود ہوتا ہے۔۔۔ 
آپ یہاں آ بھی گئیں تو ان سے مل نہیں سکیں گی۔۔۔ رحم کریں خود پر بھی اور خان پر بھی۔۔۔ یہاں حالات بہت خراب ہیں آپکے آنے سے مزید خراب ہو سکتے ہیں۔۔۔
بے ساختہ امجد کی نگاہوں کے سامنے سے ارحم کی طلاق کا واقعہ گزر گیا۔۔۔
ابھی اس واقعہ کو وقت ہی کتنا ہوا تھا۔۔۔ ایسے میں اگر ایمان بھی وہاں آ جاتی اور اسکے اور شامیر کے رشتے کی بھنک بھی واجد خان کو لگ جاتی تو اس رشتے کا انجام کیا ہوتا یہ بات کسی سے دھکی چھپی نا تھی۔۔۔
تبھی اسکی جان پر بن آئی۔۔۔ وہ اسے روکنے کو جی جان کی بازی لگا دینا چاہتا تھا۔۔۔ وہ بھی تب جب شامیر خان بستر مرگ پر پڑا سدھ بدھ میں ہی نا تھا۔۔۔
میں کچھ نہیں جانتی امجد بھائی۔۔۔ بس بہت ہوا ۔۔۔ میرا شوہر وہاں بستر مرگ پر پڑا ہے اور میں یہاں۔۔۔ وہ سسک اٹھی۔۔ کپکپاتے لبوں نے بات مکمل ہونے ہی نا دی۔۔۔
میں بس ابھی نکل رہی ہوں آپ مجھے ائیر پورٹ سے رسیو کر لینا۔۔۔
نہیں ایمان بی بی میری بات۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ بات مکمل کرتا رابطہ منقطع ہو گیا ۔۔۔
امجد سر تھام کر رہ گیا۔۔۔ یہ بندی خاصہ سلجھی اور سمجھدار تھی یہ اتنی سر پھری کب سے ہوگئ۔۔۔ وہ محض سوچ کر رہ گیا۔۔۔
اسے آنے والے حالات ڈرا رہے تھے۔۔۔ وہ دعا گو تھا کے جلد از جلد شامیر ہوش میں اجائے تا کے وہ اسے حالات سے باخبر کر سکے۔۔۔ ورنہ یقیناً یہاں بڑی گڑبڑ ہونے والی تھی
****
 ایمان نے آنا فانا ساری تیاری کی تھی۔ اسنے فون کر کے نگارش کو گھر بلایا وہ اپنی چھ سالہ بیٹی  خولہ کے ساتھ فوراً اسکے کہے کے مطابق کچھ ہی وقت میں اسکے پاس تھی۔۔۔
زوہان سو رہا تھا یقیناً اٹھ جاتا اور ماں کو آس پاس نا پاتا تو ایک وبال کھڑا کر دیتا۔۔۔ سبحان سکول تھا یقیناً یہاں ہوتا تو ماں کو کبھی تنہا جانے نا دیتا۔۔۔ 
مگر وہ فیصلہ کر چکی تھی اور اپنی بات سے پھر نہیں سکتی تھی۔۔۔
اس نے بعجلت اپنی تیاری مکمل کی۔۔۔ لباس تبدیل کیا اور ہینڈ بیگ میں ضروری چیزیں رکھیں۔۔۔۔
نینا مجھے بہت ضروری کام سے کہیں جانا ہے۔۔۔ جب تک میں واپس نہیں آ جاتی تم پلیز زوہان کا خیال رکھنا اور سبحان کا بھی وہ سکول سے  آجائے تو اسے لنچ کروا دینا۔۔۔ زوہان کا کھانا فریج میں ہے نوریں سے گرم کروا کر اسے کھلا دینا۔۔۔
اور خولہ بیٹا۔۔۔ وہ گھٹنوں کے بل اس ننھی پری کے سامنے بیٹھی۔۔۔
بیٹا۔۔۔ زوہان آپ سے چڑتا ہے نا۔۔۔ اسنے خولہ کے چہرے ہر پیار کیا۔۔۔
میرا بچہ جب تک پھوپھو گھر واپس نہیں آ جاتی نا آپ نے زوہان کے کمرے میں نہیں آنا۔۔۔
باہر انکے سارے ٹوئز پڑے ہیں۔۔۔ آپ نے انکے ساتھ کھیلنا ہے اور سبحان بھائی آجائے تو اسکے ساتھ کھیل لینا لیکن زوہان کے پاس مت آنا۔۔۔ وہ جانتی تھی کے ایماں کی غیر موجودگی سے اسنے ویسے ہی بہت چڑنا ہے مزید وہ اسے چڑنے کا موقع نہیں دے سکتی تھی۔۔  خولہ نے معصومیت سے سر ہاں میں ہلایا تو ایمان نے اسے گلے سے لگاتے اسکے چہرے پر پیار کیا۔۔۔
میرا پیارا بچہ۔۔۔
لیکن تم جا کہاں رہی ہو ایمان وہ بھی تنہا۔۔۔ نینا کو اسکی جلد بازیاں دیکھ فکر لاحق ہوئی۔۔۔ وہ کچھ کھل کر بتا بھی تو نہیں رہی تھی۔۔۔
کہا نا ضروری کام ہے۔۔۔ اسنے بے چینی سے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔۔ ٹکٹ وہ اپنی آنلائن کروا چکی تھی۔۔۔ کیب باہر آئی کھڑی تھی۔۔ وہ بس اڑ کر شامیر کے پاس پہنچ جانا چاہتی تھی۔۔۔
اوکےےےے ضروری کام  تو ہو گا مگرر تم پلیز تھوڑا انتظار کر لو۔۔۔ حامد کو آ لینے دو انکے ساتھ چلی جانا کہاں تم تنہا خوار ہوتی پھرو گی۔۔۔ ایمان کی اڑی رنگت اور حواس باختگی سے نینا کی تشویش فطری تھی۔۔۔ نیز روئی روئی سی گلابی آنکھیں اور چہرے پر چھائی سرخی یقیناً کسی اچھی چیز کی علامت تو نا تھیں۔۔
نہیں تھینکیو نینا۔۔۔ لیکن میرے پاس وقت نہیں ہے۔۔۔ تم بس بچوں کا خیال رکھنا۔۔۔ اپنی بات کہہ کر وہ بنا اسکی بات سنے تیزی سے گھر سے نکلی۔۔ کیب میں بیٹھ کر ائیر پورٹ پہنچی۔۔۔ صد شکر کے اندرون پاکستان میں بائے ائیر سفر اسنے شامیر اور بچوں کے سنگ کئ دفعہ کیا تھا تو یہ سفر اسکے لئے  انجانا سفر نا تھا۔۔۔
اسلام آباد ائیر پورٹ پر لینڈ کر کے اسنے امجد سے رابطہ بحال کیا لیکن فکر مند سا امجد اسکے یہاں آنے کی خبر سن کر اس سے بھی پہلے ائیر پورٹ اسکے انتظار میں پہلے سے کھڑا تھا۔۔۔
یہ لڑکی اسکے باس کے لئے کیا تھا وہ باخوبی آگاہ تھا ایسے میں وہ کسی کوتاہی کا مرتکب نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔
ایمان بی بی ایک دفعہ پھر سے سوچ لیں۔۔۔ یقیناً آپ اپنے اور خان کے لئے مشکلات بڑھا لینے والی ہیں۔۔۔
امجد کے عاجزی سے کہنے پر ایمان نے اسے بھرائی نگاہوں سے دیکھا تو وہ بے بسی سے سر جھکا گیا۔۔۔
زندگی میں پہلی مرتبہ آپ سے مدد مانگی ہے امجد بھائی۔۔۔ اسکی بھرائی شکوہ کناں آواز پر وہ مزید کچھ نا بولا۔۔۔
یہاں اسے پھونک پھونک کر قدم رکھتے حکمت عملی سے کام لینا تھا تبھی ایمان کو اپنے ساتھ خان کی گاڑی میں ساتھ لیجانے کا وہ رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔۔ یوں ایمان بڑی جلدی سب کی نظروں میں آجاتی۔۔۔
تبھی اسنے حفظ ماتقدم کے طور پر ایمان کے لئے الگ سے کیب کروائی اور کیب کے ڈرائیور کو اپنی گاڑی کو فالو کرنے کو کہا۔۔۔
ایمان ڈھرکتے دل پر ہاتھ رکھے بے چینی سے آنے والے وقت کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔ ذہن پراکندگی  کا شکار ہو رہا تھا۔۔۔ کیا اسنے یہاں آ کر ٹھیک کیا تھا۔۔۔
کیا اسے یہاں آنا بھی چاہیے تھا یا نہیں۔۔۔
کہیں وہ واقعی یہاں آ کر اپنے اور شامیر کے لئے مشکلات بڑھا تو نہیں لینے والی۔۔۔
ہر گزرتا لمحہ اسکے لئے پریشانی بڑھاتا جا رہا تھا۔۔۔
******
 امجد چوکنے انداز میں چاروں جانب دیکھا ہسپتال کی راہداری میں آگے بڑھ رہا تھا جبکہ سرمئ کھدر کے قمیض شلوار سوٹ  اور سیاہ شال کے ہالے میں مقید چہرا نقاب سے ڈھانپے  ایمان بھی اس سے کچھ فاصلہ رکھے اسے فالو کر رہی تھی۔۔۔ مطلوبہ راہدری مرتے نا محسوس انداز میں امجد نے اسے رکنے کا اشارہ کیا اور خود لمبے لمبے ڈگ بھرتا خان کے مطلوبہ کمرے میں گیا۔۔۔
وہ ایک وی آئی پی پیشینٹ روم تھا جس میں بے شمار عیادت کرنے کے لئے آنے والوں کی جانب سے فریش بکے پڑے تھے۔۔۔
سامنے پیشینٹ بیڈ پر جھنجھلایا اور بے زار سا شامیر تکیوں کے سہارے نیم دراز تھا۔۔۔ صد شکر کے وہ ہوش میں تھا۔۔۔ امجد نء سکون کی سانس خارج کی۔۔۔ اسکا سر بازو اور ٹانگ پٹیوں میں جھکڑی تھی البتہ پاس ہی سائیڈ پر فروٹ باسکٹ ٹرے اور چھڑی پڑی تھی۔۔۔
دروازہ کھلنے پر اسنے سر اٹھا کر دیکھا سامنے اڑی اڑی سی رنگت اور بوکھلائی صورت لئے امجد کھڑا تھا۔۔۔
تمہیں کیا ہوا ہے۔۔۔ وہ خاصی بیزاری سے گویا ہوا جب امجد اسے تنہا دیکھ انہی قدموں پر باہر نکلا۔۔۔
خان اسکا انداز دیکھ حیران رہ گیا۔۔۔ وہ اسکی بات نظر انداز کر گیا تھا۔۔۔
دفعتاً پھر سے دروازہ کھلا اور قدموں کی چاپ ابھری ۔۔۔
شامیر نے غصے سے سر اٹھا کر سامنے دیکھا۔۔۔
مگر سامنے موجود ایمان کو دیکھ اسکے چودہ طبق روشن ہوگئے۔۔۔ ساری سستی اور بے زاری اڑن چھو ہو گئ۔۔۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جبکہ دل یوں ڈھرکا جیسے ابھی سینے کی حدود تور کر باہر آ نکلے گا۔۔۔
تم۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہی ہو ایمان۔۔۔ اسکی آواز خدشات سے پر تھی۔۔۔ آواز کی لغزش ایمان نے بھی شدت سے نوٹ کی۔۔۔
وہ دو قدم آگے بڑھی۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔ ڈیممم۔۔
تم لائے ہو اسے یہاں۔۔۔ مائے گاڈ امجد ۔۔۔ تم اسقدر بے وقوف اور عقل کے اندھے کب سے ہوگئے۔۔۔
شامیر کا خوف مجسم صورت کبھی بھی سامنے آنے کو تیار کھڑا تھا۔۔۔ وہ اپنا آپا نا کھوتا تو کیا کرتا۔۔۔
خان ایمان بی بی ضد۔۔۔
شٹ آپ۔۔۔ جسٹ شٹ آپ۔۔۔
چھوٹے دودھ پیتے بچے ہو تم۔۔۔  جو تمہیں صورتحال کا علم نہیں۔۔۔ کیا تم ارحم کا واقعہ بھول گئے۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ مائے گاڈ امجد۔۔۔ مرو گے تم میرے ہاتِھوں۔۔۔ وہ بے چینی سے پٹی جڑے ہاتھ کا مکہ ماتھے پر مارنے لگا۔۔۔
ایمان کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔
خان آپ یہ۔۔۔
امجد۔۔۔امجد۔۔۔ امجد۔۔۔ بابا ڈاکٹر کے روم میں میری ریپورٹس ڈسکس کرنے گئے ہیں کسی بھی پل واپس آتے ہوں گے بے وقوف انسان۔۔۔ یہ تم نے کیا کیا۔۔۔
وہ بے بسی سے حلق کے بل چلا اٹھا۔۔۔
اب سہی معنوں میں امجد کے ساتھ ساتھ ایمان کے بھی ہاتھوں کے طوطے اڑے۔۔۔
ایمان کو بے ساختہ اپنی فاش غلطی کا احساس ہوا۔۔۔
خان کا ضبط کی شدت سے سرخ پڑتا چہرا۔۔۔ متوحش آنکھئن اور لہجے کا خوف رفتہ رفتہ ایمان کے اندر سرائیت کرنے لگا تھا۔۔۔
یکدم عقل بیدار ہوئی تو اسے اندازہ ہوا کے وہ جذباتیت میں بہت غلط کام کر چکی ہے۔۔۔
میں ابھی واپس جاتی۔۔۔ وہ روہانسی ہوتی واپس پلٹی۔۔۔
رک جاو بے وقوف لڑکی۔۔۔ جب وہ بے ساختہ چلا اٹھا۔۔۔
ایمان اسکی ڈھار سے کپکپا کر رہ گئ۔۔۔
۔تم باہر جاو امجد۔۔۔ پہلے باہر کی صورتحال دیکھو۔۔۔ اسے کوئی میرے کمرے سے باہر نکلتا نا دیکھے۔۔۔ شامیر کی جان پر بنی ہوئی تھی۔۔
جج۔۔۔ جی خان۔۔۔ خان انہی قدموں باہر کو دوڑا۔۔۔
چند ہی پلوں میں اسکی واپسی ہوئی وہ حواس باختہ دکھائی دیتا تھا۔۔
خخ خان۔۔۔  بڑے خان یہیں آ رہے ہیں۔۔۔ بات کرتا وہ بے طرح ہکلایا ۔۔۔
ایمان کو اپنی روح پاوں کے رستے نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔ گویا رفتہ رفتہ اسکا پورا جسم مفلوج ہو کر بے جان ہو رہا ہو۔۔۔ 
دل کی ڈھرکن گویا تھمنے لگی تھی۔۔۔ یہ اسنے بھلا کیا کیا۔۔۔ آ بیل مجھے مار۔۔۔
جبکہ شامیر سانس تک روک گیا۔۔۔ دفعتا دروازے کے باہر قدموں کی واضح چاپ ابھرتی سنائی دی۔۔  
خام کی آنکھووں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا جبکہ ایمان اپنے کپکپاتے ہاتھ منہ پر جما گئ۔۔  کاش اسے کوئی منتر آتا ہوتا جسے پڑھ کر وہ اس وقت وہاں سے غائب ہو جاتی۔۔۔
دفعتاً کمرے کے دروازے کا ہینڈل گھما اور اگلے ہی پل بابا ہاتھ میں شامیر کی ریپورٹس فائل پکڑے  کمرے کے اندر موجود تھے۔۔۔
*****
شامیر کا اوپر کا سانس اوپر جبکہ نیچے کا سانس نیچے رہ کیا۔۔۔ جبکہ امجد کی رنگت بھی فق تھی۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔
بابا  امجد کی فق پڑتی رنگت دیکھ ناسمجھی سے مستفسر ہوئے۔۔۔ جبکہ شامیر نے ایک چور نگاہ واش روم کے ادھ کھلے دروازے کی جانب دیکھ سرعت سے چہرے کے تاثرات درست کئے۔۔۔ دل اندر سے دھک دھک کر رہا تھا جبکہ وہ باپ جیسے زیرک شخص کو اپنے چہرے کے تاثرات کے ذریعے سے اپنی زندگی کی کہانی کے عنوان کے بارے میں شک میں مبتلا کر کے انہیں پوری کہانی معلوم کرنے کے تجسس میں نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔۔
ان سب سے قطعی نظر واش روم کی نیم تاریکی میں ٹائلز سے مزین دیوار کے ساتھ جڑ کر کھڑی ایمان تیزی سے ڈھرکتے دل پر سختی سے ہاتھ جمائے سوکھے پتے کی مانند کپکپا رہی تھی۔۔۔
وہ۔۔۔ وہ بڑے خان۔۔
امجد نے تھوک نگلا۔۔۔ واجد خان جیسے شخص کے سامنے اس سے بات بنا پانا محال ہوا۔۔۔
کچھ نہیں بابا۔۔۔ عقل کا اندھا ہوگیا ہے یہ شخص۔۔ لگتا ہے اسکی نئ نویلی دلہن نے اسکی عقل سمجھ ساری ضبط کر لی ہے۔۔۔
شامیر نے لفظوں کے پیراہن میں کھولن نکالی۔۔۔ امجد نے سانس روکے اچھنبے سے اسے دیکھا کے وہ باپ کیسے سامنے بھلا کیسے کھل رہا تھا۔۔۔
جبکہ واجد خان اقدم قدم چلتے پیشنٹ بیڈ کے قریب ہی پڑے کاوئچ پر بیٹھ گئے۔۔۔
راستے میں آتے ایک بچے کا ایکسیڈینٹ کر آیا ہے۔۔۔ اور رکنے کی بجائے موقع واردات سے بھاگ نکلا ہے اسی لئے اسقدر حواس باختہ ہے۔۔۔ شامیر نے تاسف سے سر نفی میں ہلاتے غصیلے لہجے میں کہہ کر بات کور کرنا چاہی۔۔۔
امجد نے خان کے بات کور کرنے پر بے ساختہ سکون کا سانس خارج  کیا۔۔۔
یہ کوئی اتنا بڑا اشو نہیں۔۔۔ بابا نے ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔
امجد نے خاموشی سے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی۔۔۔
شامیر کے دل و دماغ ایمان کی جانب ہی لگے تھے۔۔۔ با بابا کسی طرح جلدی سے چلے جائیں۔۔۔ وہ بیٹھ کیوں گئے تھے بھلا۔۔۔
ڈاکٹر کے مطابق تمہاری ریپورٹس میں کافی بہتری ہے شامیر۔۔۔۔۔ انشااللہ تم جلد ریکور کر جاو گئے۔۔۔ بابا نے فائل سائیڈ پر رکھی۔۔۔
شامیر ہلکا سا مسکراتا سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔
پلیز بابا چلیں جائیں۔۔ پلیز پلیز۔۔۔ آپکو خدا کا واسطہ۔۔۔ وہ خاصا بے چین تھا۔۔۔
ارے شامیر تم نے تو فروٹس بھی نہیں کھائے۔۔۔ دفعتاً بابا کی نظر ہنوز ویسے کی ویسے پڑی فروٹ باسکٹ پر پڑی۔۔۔
اففف۔۔ شامیر نے جھنجھلا کر آنکھیں میچیں۔۔۔
بعد میں کھا لوں گا بابا۔۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ ڈائٹ کا خیال نہیں رکھو گے تو ریکور کیسے کرو گئے۔۔۔ روکو میں تمہارے لئے فروٹس کاٹتا ہوں۔۔۔
اس پل وہ وہی باپ تھے جو اولاد سے بے انتہا محبت کرتے تھے لیکن اپنے اصولوں کے معاملے میں وہ ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نا تھے۔۔۔
نہیں پہلے انہیں دھونا پڑے گا۔۔۔ 
بابا نے کوفت سے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ یقیناً وہاں کوئی ملازم نہیں تھا۔۔۔
اسی لئے کہہ رہا ہوں بابا بعد میں کھا لوں گا۔۔۔ وہ عاجز آیا۔۔۔
نہیں تم ٹھہرو میں اسے دھو لاتا ہوتا۔۔۔
بابا نے فروٹ باسکٹ سے دو سیب اٹھائے۔۔۔ اب انکا رخ واش روم کی جانب تھا جبکہ انہیں واش روم کی جانب بڑھتا دیکھ شامیر کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔۔
*****


No comments

Powered by Blogger.
4