Header Ads

Rah_e_haq novel 47th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  47th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

سنتالیسویں قسط۔۔۔
ایمان زوہان کو لے کر کس طرح ہسپتال پہنچی تھی یہ وہی جانتی تھی یا اسکا خدا۔۔۔
ہسپتال آتے ہی زوہان کو ایمرجنسی میں لیجایا گیا تھا۔۔۔
اسے تو کچھ سمجھ ہی نا آ رہا تھا۔۔۔ دفعتاً کچھ دیر بعد اسے دونوں بھائی اور بھابھیاں ہسپتال میں آتی دکھائی دیں تو میلے میں گمے کسی ننھے بچے کی مانند وہ اپنوں کو دیکھتی دیوانہ وار انکی جانب لپکی اور سجاد بھائی کے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
بھائی میرا بیٹا۔۔۔ میرا شہزادہ اسے کیا ہو گیا۔۔۔
سجاد بھائی نے اسکا سر تھپتھپایا جبکہ حامد صورتحال کی نوعیت کو جاننے کے لئے ڈاکٹر کے پاس چلا گیا۔۔۔
ان گزرے ماہ و سال میں ہوا یہ تھا کے ایک روز ماں چپکے سے انہیں چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملی تھیں لیکن جانے سے پہلے بیٹوں کے دل بہن کے لئے خوب نرم کر گئیں تھیں۔۔۔
مزید ماہ و سال کی گردش میں وہ لوگ ساری نا سہی لیکن کافی حد تک معاملے کی نوعیت سمجھ چکے تھے کے خان اکثرو بیشتر بزنس میٹنگز کے سلسلے میں گھر سے باہر رہتا ہے۔۔۔ اسی لئے اگر کسی ضرورت کے وقت ایمان آدھی رات کو بھی بھائیوں کو پکارتی تو وہ سر کے بل چلے آتے۔۔۔
ہاں آنسہ بھابھی کی فطرت کے باعث وہ سجاد بھائی سے کم کم ہی مدد طلب کرتی۔۔  البتہ ضرورت پڑنے پر آواز دینے کو اسکی پہلی ترجیح حامد بھائی ہوتا وجہ نگارش کا دوستانہ اور ہس مکھ رویہ تھا کے وہ حامد کے ایمان کے کسی کام کی وجہ سے دیر سویر ہو جانے پر ہس کر ٹال جاتی تھی جبکہ انسہ بھابھی بات کا بھتنگڑ بنا ڈالتی کے اسکا شوہر کہاں ہے۔۔۔ اپنے بیوی بچے چھوڑ کر آپ بہن کے پیچھے خوار ہوتے پھر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ پھر سجاد بھائی کو غصہ آنے پر انکے گھر کا سکون برباد ہوتا جو ایمان کو منظور نا تھا تبھی وہ سجاد بھائی کو نہایت ضرورت کے وقت تبھی آواز دیتی جب حامد کہیں شدید مصروف ہوتا۔۔۔
بیٹا ادھر آو مجھے بتاو کیا ہوا تھا سبحان کو۔۔۔
نگارش نے ایک طرف سہمے کھڑے سبحان کو پاس بلا کر ساتھ لگاتے پچکارا۔۔۔
مامی وہ۔۔۔ وہ مسجد سے نکلا تو بہت سپیڈ سے گھر کی طرف بھاگا تھا۔۔۔ موسم بہت خراب تھا تبھی ایک گاڑی اچانک سے وہاں نکل آئی اور سپیڈ سے بھاگتے زوہان سے ٹکڑا گئ۔۔۔
 موسم خراب تھا آندھی چل رہی تھی تو گاڑی والا بھی ٹکر مار کر بنا رکے گاڑی بھگا لے گیا۔۔۔
سجاد بھائی کے ساتھ لگی ایمان کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
اسکا بیٹا بچپن سے ہی شرارتی تھا  وہ جانتی تھی۔۔۔ بچپن سے ہی ہر الٹے کام میں ملوث ہونا فرض سمجھتا تھا۔۔۔ سیڑھیاں چلتا تو عین دھانے پر ہو کر۔۔۔ پانچویں چھٹی سیڑھی سے چھلانگ لگا دیتا۔۔۔ روڈ کراس کرتا تو اندھا دھند۔۔۔
ایمان کا اسے لے کر دل دہلاتا ہی رہتا۔۔۔ جتنا وہ اسے منع کرتی اتنا ہی اسکے اندر کا تجسس مزید بڑھتا وہ اس کام کو چھوڑ کر اس سے بھی خطرناک کام شروع کر دیتا۔۔۔
ایمان ہمہ وقت آیت الکرسی پڑھ کر اس پر پھونکیں مارتی رہتی کے یااللہ میں نے اسے تیری امان میں دیا۔۔۔
اسکا بیٹا تو تھا ہی شرارتی لیکن شاید لوگوں میں بھی انسانیت ختم ہو گئ تھی جو وہ شخص اتنے معصوم بچے کو ٹکر مار کر بنا رکے بھاگ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
دفعتاً حامد ڈاکٹر سے مل کر واپس آیا۔۔۔
ایمان ڈاکٹر سے بات ہوئی ہے میری۔۔۔ زوہان کے سر پر چوٹ لگی ہے۔۔۔ اور۔۔۔
وہ بات کرتے کرتے جھجھکا۔۔۔
اور۔۔۔ ایمان تڑپ کر اسکی جانب آئی۔۔۔ متوحش آنکھیں بکھرے بال اور کملایا چہرا وہ برسوں کی بیمار لگنے لگی تھی۔۔ بلاشبہ اولاد کا دکھ سب سے بڑا دکھ ہے۔۔۔
اور ۔۔۔ 
اور اسکی ٹانگ فکچر ہوئی ہے۔۔
کیااااا۔۔۔ ایمان کو لگا کسی نے پوری شدت سے انی اسکے سینے میں گاڑھ دی ہو۔۔۔
فوری طور پر آپریٹ کرنا ضروری ہے ۔۔۔ پانچ لاکھ ڈاکٹر کی آپریشن فیس ہے باقی کے اخراجات الگ ۔۔۔ فیس ابھی ریسیپشن پر جمع کروانا ہو گی پھر ہی ڈاکٹر اسکا آپریٹ شروع کریں گے۔۔۔
بھائی کی بات پر  اسنے تیزی سے اپنا فون تلاشنا شروع کیا۔۔۔
اسے جلد از جلد شامیر سے رابطہ کرنا تھا۔۔۔ کے وہ یہاں اس مقام ر خود پہنچے اگر فوری نہیں پہنچ سکتا  تو پیسے بھیجے۔۔۔ 
ظاہر سی بات تھی کے یہ رقم زوہان کے باپ کے لئے کچھ نا تھی۔۔۔ البتہ اسکے پاس فلحال اتنی بڑی اماونٹ نہیں پڑی تھی۔۔۔ جو اسکے بینک میں رقم تھی وہ ہنوز سیونگ اکاونٹ میں تھی۔۔۔
اسکے علاوہ انہیں جب جہاں پیسے کی ضرورت پڑتی انکے ایک فون کال پر پیسے پہنچ جاتے تھے تو اپنے پاس اتنی بڑی رقم رکھنے کا کبھی سوال ہی نہیں اٹھا تھا۔۔۔
مام آپکا موبائل۔۔۔
سبحان نے ماں کو فون تلاشتے دیکھا تو ہاتھ میں تھاما موبائل اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
وہ موبائل پر نمبر ڈائل کرتی ایک سائیڈ پر آ گی۔۔۔
بے چینی سے نمبر ڈائل کر کے کان سے لگایا۔   یقینی بات تھی شامیر اپنے لخت جگر کے لئے اپنے سو ضروری کام بھی چھوڑ کر سر کے بل چلا آتا۔۔۔
لیکن یہ کیا۔۔۔
فون سے آتی ناٹ رسپانڈگ کی آواز سن کر اسکا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
ایمان نے وہیں کھڑے کھڑے ایک بار دو بار اور پھر بار بار اسکا نمبر ڈائل کیا لیکن ہر بار نمبر ناٹ رسپانڈنگ آ رہا تھا۔۔۔
اب صحیح معنوں میں ایمان کے ہاتھوں کے طوطے اڑنے لگے۔۔۔ تشویش فطری تھی۔۔۔ اندر بیٹا زندگی اور موت کی کش مکش میں جھول رہا تھا اور یہاں اسکے باپ سے رابطہ استوار نا ہو رہا تھا۔۔۔
یکدم دماغ میں جھماکا ہوا۔۔۔ اسنے تیزی سے شامیر کا دوسرا نمبر ڈائل کرنا شروع کیا جو اسنے ایمان کو انتہائی ایمرجنسی کے وقت ڈائل کرنے کو کہا تھا وہ بھی تب جب شامیر کے اس نمبر پر رابطہ نا ہو سکے۔۔۔ اسکا یہ دوسرا نمبر ہمیشہ آن ہی ہوتا تھا۔۔
لیکن یہ کیا۔۔  آج تو اسکا دوسرا نمبر بھی بند جا رہا تھا۔۔۔
ایمان کو حقیقتاً اپنی آنکھوں کے سامنے تارے ناچتے دکھائی دینے لگی۔۔۔
اسکے پاس اتنی انویسٹمنٹ نا تھی۔۔۔ بھائی اسکے خود سفید پوش لوگ تھے جو سفید پوشی سے اپنا گزر بسر کر رہے تھے۔۔۔ شامیر سے اسکا رابطہ استوار نا ہو رہا تھا۔۔۔ اندر اسکا لخت جگر علاج کے لئے پڑا تھا۔۔۔ اسے اپنی سانسیں ڈوبتی محسوس ہوئیں۔۔۔
****
ساری رات خان ولا کے مکینوں نے ہسپتال کے سرد اور یخ بستہ کاریڈور میں جاگ کر گزاری ۔۔۔۔ ماں کے لبوں پر ہر دم بیٹے کی سلامتی کی دعائیں تھی۔۔ بابا نے شامیر کے علاج کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا ڈالا تھا۔۔۔
جوان اور کامیابی کی اونچائیوں کو چھوتے بیٹے کے اس غیر متوقع ایکسیڈینٹ نے نیز اسکی سریس حالت نے واجد خان جیسے مضبوط اور ظالم شخص کے اعصاب بھی جھنجھوڑ ڈالے تھے۔۔۔
صبح فجر کی اذانوں کے وقت کہیں جا کر ماں کی دعائیں رنگ لائیں اور ڈاکٹر نے شامیر کے ہوش میں آنے اور رسپانس کرنے کی خوشخبری سنائی۔۔
گہری چوٹوں اور خون کے بے جا ضیائع سے شامیر کے جسم کے اعضا رسپانس کرنا چھوڑ رہے تھے۔۔۔ صد شکر کے بروقت علاج سے اسکی بگڑتی حالت کو کنٹرول کر لیا گیا تھا۔۔۔
وہ خطرے سے باہر تھا لیکن ابھی انڈر آبزرویشن تھا اور اس وقت دوائیوں کے زیر اثر پھر سے گنودگی میں تھا۔۔۔
ماں یہ خبر سنتے ہی فوراً سجدہ شکر بجا لائیں۔۔۔
*****
کیا ہوا ایمان یہاں کیوں کھڑی ہو۔۔۔ ریسیپشن پر فیس جمع کروانی ہے۔۔۔ جب کافی دیر تک ایمان واپس نا آئی تو حامد اسے تلاشتا اسکے پاس ہی آگیا۔۔۔ اسکے لہجے سے فکر مندی عیاں تھی۔۔۔
بھائی شامیر سے رابطہ نہیں ہو پارہا۔۔۔ اور میرے پاس فلحال اتنی انویسٹمنٹ ہے نہیں۔۔۔ بے ساختہ ایمان کی آنکھیں چھلک پڑیں جبکہ ہل تو ایک مرتبہ حامد بھی گیا۔۔۔۔پھر اب۔۔۔
بھائی کیا۔۔۔ کیا کسی سے کچھ وقت کے لئے ادھار مل سکتا ہے۔۔۔ جیسے ہی شامیر سے رابطہ استوار ہوا میں سارے پیسے لوٹا دوں گی۔۔ وہ ہونٹ کچلتی بہتی آنکھوں سمیت آس و نراس میں گھری بھائی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
ایمان ادھار۔۔۔ وہ بھی اتنے شارٹ نوٹس پر۔۔  کوشیش کرنی پڑے گی۔۔۔ اور وقت لگے گا۔۔۔ وہ شش و پنج میں مبتلا ان تمام کنٹیکٹس کو دماغ میں کنگالنے لگا جہاں سے اس وقت مدد ملنے کے امکان تھے۔۔۔
ایمان کا دل بھر بھر آیا۔۔۔ شامیر کو پتہ لگے کے اسکا لخت جگر یہاں کن حالوں میں علاج کا منتظر پڑا ہے تو وہ اسکے علاج کو زمین آسمان ایک کر ڈالے۔۔۔
اسکا دل بھر بھر آیا۔۔۔
یااللہ تو تو اپنے بندوں پر انکی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا نا مالک۔۔۔ رحم کر مجھ پر۔۔۔ اس آزمائش کو ٹال دے۔۔۔ مجھے اتنا بے بس نا کر بیٹے کو اندر علاج سے محروم لیٹا دیکھتی رہوں۔۔ وہ زخمی زخمی ہوا دل لئے رب کے حضور کرلا اٹھی۔۔۔اسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی جب اسنے بے طرح اہنا سینہ مسلنا۔۔۔
اور عین اسی وقت ایک نوکیلی چیز اسکے ہاتھ سے ٹکرائی۔۔۔
وہ چونک چونک گئ۔۔۔ آنکھوں میں موجود آنسو تک ٹھٹھرنے لگے۔۔
اسنے سر جھکاتے اپنے گلے کے قریب اس چیز کو دیکھا وہ اسکے گلے میں موجود نفیس سا لاکٹ تھا۔۔۔
یکدم اسکے دماغ میں جھماکا سا ہوا۔۔۔
ان سب چیزوں کی ضرورت نہیں تِھی شامیر۔۔۔ لمحوں میں وہ اپنے اپارٹمنٹ کے لاوئنج میں جا پہنچی جہاں شامیر اسکے پیچھے کھڑا اسکے گلے میں وہ لاکٹ پہنا رہا تھا۔۔۔
آپ ہر مرتبہ ہی کچھ نا کچھ لاتے ہیں۔۔ اتنی ساری جیولری کا میں کیا کروں گی۔۔۔ مجھے اتنا شوق نہیں جیولری کا۔۔۔ وہ جھنجھلائی۔۔ کافی سارا گولڈ تو ہنوز انچھوا پڑا تھا وہ ہر مرتبہ اور لے آتا
ارے ایسے کیسے نہیں ضرورت اسکی ایمان۔۔۔ یہ ایک انویسٹمنٹ ہے جو تمہارے پاس ہونی ضروری ہے۔۔۔ کبھی اگر زندگی میں ایسا مقام آیا جب کسی وجہ سے میں تمہارے پاس نا ہوا یا زندگی نے قسمت میں ہجر لکھ ڈالا تو ضرورت پڑنے پر تمہیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔۔۔
ہر مرتبہ اسکے لئے گولڈ یا ڈائمنڈ کی جیولری لاتے یا کوئی پڑاپڑتی بچوں کے نام کرواتے وہ یہ ہی بات کہتا تھا۔۔۔
وہ ہمیشہ سے ہی شوہر کی دور اندیشی کی قائل تھی مگر اب اسے اس رب کی ہر مصلحت صاف نظر آنے لگی تھی۔۔۔
وہ اتنی بے بس تھی نہیں جتنا سمجھ بیٹھی تھی۔۔
اسنے رگڑ کر آنکھوں کے آنسوصاف کئے اور بھائی کی جانب پلٹی۔۔۔
پیسوں کا انتظام ہو گیا بھائی ۔۔۔ چلیں میرے ساتھ۔۔۔
حامد فون پر کسی سے پیسوں کے بارے میں پوچھ رہا تھا جب یکدم ایمان کے آنے پر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی ہسپتال کے خارجی راستے کی جانب بڑھ رہی تھی حامد نے بھی اسکی تقلید کی۔۔۔
گھر پہنچ کر اسنے لاکر کھولتے اپنی ساری ڈائمنڈ اور گولڈ جیولری  انگوٹھیاں بریسلیٹ نیکلس ائیر رنگز ہر وہ چیز جو مختلف مواقع پر شامیر لاتا رہا تھا وہ حامد کے سامنے ڈھیر کر دی۔۔۔۔ یہ ساری جیولری بیچ آئیں بھائی۔۔۔
حامد گم صم سا اسے دیکھتا رہ گیا۔۔ اسے بہن کی عقل پر شبہ ہوا۔۔ وہ جیولری بیش بہا قیمتی تھی اور وہ اسے ساری بیچنے کو بول رہی تھی۔۔۔
اسنے آگے بڑھتے چند مخصوص چیزیں اٹھائیں۔۔
اتنے میں ہمارا کام چل جائے گا ایمان۔۔۔ باقی جیولری سمبھال کو۔۔۔ دوبارہ ضرورت پیش آئی تو پھر سے سیل کر لیں گے۔۔۔ اور شاید تب تک تمہارا رابطہ شامیر سے استوار ہو جائے۔۔۔۔
وہ منتخب شدہ جیولری اختیاط سے جیب میں رکھتا ایمان کو لئے واپس نکلا۔۔۔ اسے ہسپتال میں چھوڑ کر خود جیولر کے پاس چلا آیا۔۔۔
*****
زوہان کا آپریشن کامیاب رہا تھا۔۔۔ لیکن اسنے اس بیماری کے دوران ایمان کو ناکوں چنے چبوا دئیے تھے۔۔۔ وہ پہلے ہی موڈی تھا۔۔۔ پلستر لگی ٹانگ کے ساتھ مزید حساس ہو گیا تھا۔۔۔
کچھ ایمان بھی اسکے پاس سے ایک پل کو ہٹنے کو تیار نا تھی۔۔۔
وہ معصوم بچہ تھا تھوڑے سے درد کو بھی زیادہ محسوس کرتا۔۔۔ درد کی شدت محسوس کرتا تو ساری ساری رات کرلاتا رہتا اور اسکی آہیں سن ایمان کی جان پر بن آتی۔۔ کبھی اسے پین کلرز دیتی تو کبھی کوئی سدباب کرتی۔۔۔ وہ ایک پل اسکے پاس سے ہٹنے کو تیار نا تھی۔۔۔۔
کبھی اسے سہارے سے بیٹھا کر کچھ کھلاتی تو کبھی اسکے مسلسل ایک جگہ پر بیٹھے رہنے کے باعث چڑچڑا ہونے پر اسکا دل بہلاتی۔۔۔
اس دوران ایک ضد جو وہ سوتے جاگتے  کرتا تھا وہ تھی باپ سے بات کرنے کی ضد۔۔۔۔ بارہا زوہان شامیر خان باپ کا نمبر ڈائل کر چکا تھا ۔۔۔
ایمان اپنی جگہ الگ پریشان تھی کے شامیر سے رابطہ کیوں استوار نہیں ہو رہا البتہ اسنے یہ پریشانی لبوں سے ادا نا کی تھی۔۔۔
لیکن زوہان باپ سے بری طرح ناراض تھا۔۔۔ وہ اس بیماری سے فیڈ آپ ہو رہا تھا۔۔۔
اس سارے پراسس میں سب سے زیادہ نظر انداز سبحان کی ذات ہو رہی تھی۔۔۔ ایمان جتنے دن ہسپتال میں رہی سبحان نگارش کے پاس رہا۔۔۔
اسکا کھانا پینا اسے پڑھائی کروانا سب نگارش کے ذمہ تھا۔۔
وہ الگ بات کے سبحان جیسے سہولیات و آرائش و زیبائش میں پلے بچے کے لئے ماموں کے گھر بنیادی سہولیات میں گزارا کرنا اپنے آپ میں ایک چیلنج ثابت ہوا تھا۔۔۔
وہ خاموش طبیعت تھا اور شور اسے سخت نا پسند تھا لیکن یہاں دونوں ماموں کے بچوں کا شور انکے لڑائی جھگڑے انسہ مامی کی آوازیں ایک پل کو بند نا ہوتی تھیں۔۔۔
اللہ اللہ کر کے زوہان کو ہسپتال سے چھٹی ملی اور ماں کے گھر آنے پر اسنے سکون کا سانس لیا۔۔۔
لیکن وہ بڑا سمجھدار بچہ تھا۔۔۔ اسنے اس معاملے میں ماں کو بالکل تنگ نا کیا تھا۔۔۔ وہ ہمہ وقت زوہان کے پاس ہوتیں تو صبح سکول کے لئے خود ہی تیار ہو کر بڑیڈ جیم کا ناشتہ کرتا ماں کے لئے ناشتے میں چاہے کا کپ اور بریڈ جیم اسکے پاس رکھ جاتا۔۔
ایمان کو اس پر ٹوٹ کر پیار آتا۔۔
نوریں آ جاتی تو وہ سکول جانے سے پہلے اسے ماں کو وقت پر لنچ کروانے کی یاد دہانی کروانا بالکل نا بھولتا۔۔۔
زوہان بھی رفتہ رفتہ صحتیاب ہو رہا تھا۔۔۔ بس ایک نا ہو پا رہا تھا تو شامیر سے اسکا رابطہ تھا جسنے اسکی دن رات کی نیندیں اڑا ڈالی تھیں۔۔۔
اور سچی بات تھی حالات کی چکی نے اسے اس ایک ڈیرھ ہفتے میں اچھے سے پیس ڈالا تھا یوں کے اسکی اپنی صحت پر اچھے خاصے اثرات مرتب ہوئے تھے۔۔۔
*****
وہ ابھی ابھی زوہان کو نہایت اختیاط سے نہلا کر اسے اچھے سے تیار کر کے لٹا کر اس پر لحاف اوڑھا کر اسکے پاس ہی بیٹھی اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتی رہی حتکہ وہ ماں کے سینے میں منہ چھپائے نیند کی وادیوں میں اتر گیا۔۔۔
ایمان نے اسے اختیاط سے سیدھا کیا اور اسکے معصوم سے چہرے کا بوسہ لیتے سیدھی ہوئی۔۔۔
ابھی بستر سے اتری نا تھی جب میسج ٹیون نے اسکی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔۔۔
اسنے چونک کر میسج کھولا۔۔۔
میسج سم کمپنی والوں کا تھا۔۔۔ وہ کوئی سروس تھی جو اس وقت اسکے دوسرے نمبر پر ایکٹو ہو سکتی تھی۔۔۔ یہ ایک یاد دہانی کا
اسکے موبائل میں موجود سم کس کے نام تھی۔۔۔
دماغ نے تیزی سے کام کیا۔۔۔
☺☺ میسج تھا کے آپ اپنی دوسری اس سم پر اس مخصوص سروس کو ایکٹو کر سکتے ہیں۔۔۔
یکدم ایمان کے دماغ میں ایک جھماکا سا ہوا۔۔۔
وہ جھٹکے سے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
اسکے پاس دوسری کوئی سم نا تھی۔۔۔ پھر یہ میسج کیسا۔۔۔
اسکے موبائل میں موجود سم کس کے نام تھی۔۔۔
دماغ نے تیزی سے کام کیا۔۔۔
امجد کے نام۔۔۔ جو شامیر نے حفظ ماتقدم کے طور پر ارادی طور پر اسے دی تھی۔۔۔ مطلب یہ دوسرا نمبر امجد کا تھا۔۔۔
اسکا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔
مطلب گھپ اندھیرے میں امید کی روشنی کا ایک سرا دکھائی دیا تھا۔۔۔
مطلب وہ اس نمبر پر امجد سے رابطہ کر کے اس سے شامیر کے بارے میں پوچھ سکتی تھی۔۔۔
اسکا دل کانوں میں بجنے لگا تھا اسکے کپکپاتے ہاتھوں کی انگلیاں تیزی سے موبائل پر وہی نمبر ڈائل کرنے لگیں تھیں۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.
4