Rah_e_haq novel 46th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 46th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
چھیالیسویں قسط
موسم خاصا بدل گیا تھا سرد ہوائیں چلنے لگیں تھیں ایسے میں کنزل الایمان بے چین و مضطرب سی اپنے گھر کے کشادہ سے لاوئنج میں صوفے پر بیٹھی تھی موسم کی مناسبت سے گرم کپڑے زیب تن کئے سر پر سٹالر ڈھیلے سے انداز میں لے رکھا تھا۔۔۔
صبح سے ہی اسکا دل مضطرب و بے چین تھا۔۔۔ نا جانے کیسی بے چینی تھی یہ جیسے کچھ غلط ہونے والا ہو۔۔۔ اسکی چھٹی حس اسے کسی خطرے سے آگاہ کر رہی تھی جو کہیں سر پر منڈلا رہا تھا۔۔۔
اسکے سامنے کانچ کی میز پر سبحان اور زوہان کی کتابیں اور نوٹ بکس کھلی پڑیں تھیں۔۔۔ وہ اسکے پاس بیٹھے پڑھ رہے تھے جب عصر کی اذانیں سن کر مسجد نماز ادا کرنے بھاگ گئے۔۔۔
اسے بچوں کو چھوٹی سی عمر میں ہی پانچ وقت کا نمازی بنانے کے لئے زیادہ تردد نہیں کرنا پڑا تھا۔۔۔
وہ خود پانچ وقت کی نمازی تھی اور نماز اول اوقات میں ادا کرتی تھی۔۔۔
سات سال کی عمر ہونے سے پہلے ہی وہ دونوں بچوں کو نماز سکھا چکی تھی۔۔
جس روز سبحان کی ساتویں سالگرہ تھی اس روز ہی اسنے دونوں کو پاس بیٹھا کر سمجھایا تھا کے آج سے آپ نے میرے ساتھ باقاعدہ نماز پڑھنی ہے۔۔۔ پھر جب وہ نماز ادا کرنے لگتی انہیں آواز دے ڈالتی۔۔۔
یوں ابتدائی دنوں میں وہ نماز اونچی آواز میں پڑھتی تاکے بچے نماز ادا کرنا سیکھ لیں۔۔۔ جلد ہی سبحان نے نماز ادا کرنا سیکھ لی تو زوہان کی مرتبہ یہ مسلہ بھی نا رہا۔۔۔ سبحان خود پیش پیش تھا کے وہ زوہان کو نماز ادا کرنا سیکھائے گا۔۔۔
یوں ابتدائی چند ماہ کی یاد دہانی کے بعد اسے بچوں کو یاد دہانی کروانے کی بھی ضرورت نا رہی کے وہ خود ہی اذان کی آواز سنتے اس سے بھی پہلے وضو کر کے جائے نماز پر کھڑے ہو جاتے۔۔۔
شامیر انکی یہ عادات دیکھ انہیں سراہے بنا نا رہ پاتا۔۔۔
ایمان نے انکا ٹائم ٹیبل سیٹ کر رکھا تھا اور اس ٹائم ٹیبل پر وہ خود بھی عمل کرتی۔۔
بچے فجر کے وقت اسکی پہلی آواز پر اٹھ بیٹھتے حتکہ زوہان بھائی پر سبقت لے جانے کو ہر کام میں اس سے آگے ہوتا۔۔۔
سکول سے آنے کے بعد فریش ہو کر کھانا کھانے کے بعد وہ دو گھںٹے کا نیپ لیتے۔۔۔ ایمان کے اٹھانے پر اٹھتے ہی پہلے وضو کر کے اپنے سپارے اٹھا لاتے پھر عربی کا سنا کر اپنا سکول بیگ کھول کر بیٹھ جاتے۔۔۔ عصر کی اذان کے ساتھ ہی سب کام چھوڑ چھاڑ نماز پڑھنے بِھاگتے اور سکول کا کام ختم ہوتے ہی وہ قریبی پارک میں سوسائٹی کے بچوں کے ساتھ کھیلنے چلے جاتے۔۔۔ کنزل کا سخت رول تھا کے مغرب کی اذان کے ساتھ دونوں بچے گھر ہونے چاہیے۔۔۔ یوں وہ اس چیز کا خاص خیال رکھتے ۔۔۔
مغرب کی نماز کے بعد کچھ وقت ماں کے ساتھ گزارتے پھر کھانا کھا کر ایل سی ڈی پر اپنے فیورٹ شو دیکھنے لگتے۔۔
پورے دس بجے انکا سکرین ٹائم ہر حال میں ختم ہو جاتا اور وہ سونے لیٹ جاتے۔۔۔ سردیوں میں یہ ٹائمنگ مزید کم ہو جاتی۔۔۔
بچے اس ٹائم ٹیبل پر اس قدر ثابت قدم ہو گئے تھے کے ایمان کو انہیں کچھ بھی کہنے کی ضرورت پیش نا آتی۔۔۔ البتہ اپنے ہر کام میں لچک وہ ضرور رکھتی تھی۔۔ اگر کسی دن بچوں کا پڑھائی کا موڈ نا ہوتا تو وہ باآسانی انکی بات مان جاتی۔۔۔ یا اس ٹائم ٹیبل میں ردو بدل اس روز ہو جاتی جس روز اسکے بھائی اپنی فیملز کے ساتھ آئے ہوتے۔۔ تب بھی وہ اپنا سکول کا ضروری کام نبٹا کر جلدی چھٹی کر لیتے۔۔
یا جن دنوں انکا باپ آیا ہوتا ان دنوں بچوں کا ٹائم ٹیبل بری طرح ڈسٹرب ہو جاتا اور بچوں کا ہی کیوں تب تو ایمان کا بھی کوئی کام وقت پر نا ہو پاتا۔۔۔
شروع شروع میں بچے گھر میں اسکے ساتھ نماز ادا کرتے تھے۔۔۔
لیکن اس گھر میں شفٹ ہونے کے بعد چونکہ مسجد گھر کے بالکل قریب تھی اس لئے وہ مسجد میں نماز ادا کرنے جاتے۔۔۔۔
بیٹھے بیٹھے یکدم ایمان کو ٹھنڈ کی شدت بڑھتی محسوس ہوئی تو پتہ چلا کے لاوئنج کی کھڑی کھلی رہ گئ ہے۔۔۔ وہ گہرا سانس خارج کر کے رہ گئ۔۔۔
موسم نے یکدم ہی تیور بدلے تھے اور سبک روئی سے چلتی ہواوں کی جگہ شدت سے چلتی ہواوں کے تھپیروں نے لے لی تھی۔۔ گویا آندھی چلنے کے اثرات تھے۔۔۔
دل پہلے ہی مضطرب تھا۔۔ وہ بے چینی سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔ ارادہ کھڑکی بند کرنے کا تھا۔۔۔ وہ ابھی کھڑکی کی جانب چند قدم ہی بڑھی تھی کے ہوا کا ایک شدید جھونکا آیا اور ایک ہی جھٹکے میں اسکے سر پر ڈھیلے سے انداز میں اوڑھے آنچل کو اپنے سنگ اڑاتا دور تک لے گیا۔۔۔۔
وہ لمحوں میں تہی داماں کھڑی رہ گئ۔۔
اسنے دہل کر پیچھے پلٹ کر دیکھا اور آنچل کو خود سے کافی دور زمین بوس پاس۔۔۔
یکدم ہی اس کا دل گہرائیوں سے ڈوب کر ابھرا۔۔۔ دل نے کسی انہونی کے ہونے کی شدت سے گواہی دی تھی۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سمیٹ کسی ان دیکھے خوف کے حصار میں جھکڑی کسی خزان رسید پتے کی مانند دل کو سینے کے مقام پر تھام کر رہ گئ۔۔۔
آنچل مطلب عزت۔۔۔ سر کا سائیں۔۔۔
دماغ نے کڑی سے کڑی ملا کر مطلب اخذ کرنا چاہا تو دل اسقدر دھک دھک کرنے لگا کے وہ اسکا شور اپنے کانوں میں سن سکتی تھی۔۔۔
یکدم ہی اسے اپنے سارے جسم سے روح پرواز کرتی محسوس ہوئی جیسے کسی نے ایک جھٹکے میں اسے بے دم کرتے بے جان کر ڈالا ہو۔۔۔
وہ بے ساختہ تیسرے کلمے کا ورد کرتی بے جان ہوتی ٹانگوں پر وزن ڈالتی آنچل کی جانب بڑھی اور کپکپاتے ہاتھوں سے اسے تھام کر سر پر اوڑھا۔۔۔
باہر یکدم ہی کالی آندھی نے تباہی مچانا شروع کر دی تھی۔۔۔جسکا ثبوت کھڑکی کے راستے یکدم اندر آتی دھول مٹی اور باہر سے لوگوں کی کھڑکیوں اور دروازوں کے بجنے کا شور تھا۔۔۔
یا اللہ رحم وہ شدت سے دعا کرتی تیزی سے آیات کا ورد کرنے لگی۔۔۔
اللہ کی جانب سفر طے کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کے انسان مختلف سائنز اور نشانیوں کی مدد سے آنے والی پریشانیوں اور خطرات کو بھانپ لیتا ہے۔۔ اور یہ بھی اللہ کی عطا کردہ ایک نعمت ہوتی ہے کے انسان اس چیز کو بھانپ لے۔۔۔
بلاشبہ انسان بہت بے بس ہے اور وہ تقدیر کو بدلنے پر قادر نہیں۔۔۔ لیکن اسکا فائدہ یہ ہوتا ہے کے وقت رہتے وہ اس پاک ذات کی جانب رجوع کر کے اس مشکل اور پریشانی سے نکلنے کی خاطر سدبات کرتا اس ذات سے مدد طلب کرنے لگتا ہے جسکے اختیار میں سب کچھ ہے۔۔
بلاشبہ انسان بے بس ہے لیکن اسکا رب بے بس نہیں۔۔۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔۔۔ اور اس بااختیار رب سے مدد طلب کرنے کو انسان کے پاس سب سے پاور فل چیز ہے دعا ۔۔۔
جس میں شدت جتنی زیادہ ہوگئ وہ اسقدر آپکی قسمت بدلنے میں معاون ثابت ہوگی۔۔۔
مصیب آتی ہے اوپر سے ۔۔ اللہ کی طرف سے اور اسے ٹالنے کو مدد کا بلاوہ جاتا ہے نیچے سے۔۔۔ انسان کی طرف سے ۔۔۔ پھر اوپر سے آنے والی مصیبت یا آزمائش چاہے جتنی بھی سخت کیوں نا ہو اگر نیچے سے مدد کے بلاوے کی شدت اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر بلا ٹل جاتی ہے۔۔۔ جیسے ایک بچہ مشکل وقت پڑنے پر کرلا کر ماں کو مدد کے لئے پکارتا ہے۔۔۔ پھر ماں اپنے سو کام چھوڑ کر گرتی پڑتی اسکی مدد کو ڈورتی ہے۔۔۔
اور جب مدد کے لئے پکارا اس ذات کو جائے معاف کرنا اور رحم کرنا جسکی صفت ہے تو پھر اس پکار کا جواب بہت شاندار انداز میں آتا ہے کیونکہ اس رب کی رحمت اسکے غضب پر حاوی ہے بس ضرورت محض اسکی رحمت کے امید وار بننے کی ہے۔۔۔ اور رحمت کا امیدوار کیسے بنا جاتا ہے۔۔۔
توکل سے۔۔۔
اور توکل کیسے آتا ہے۔۔ بری سے بری صورتحال میں بھی۔۔۔ جب آپکو لگے کے سارے راستے بند ہو گئے ہیں اور ہم اندھیری گلی میں آن کھڑے ہیں جہاں بچنے کا کوئی روزن نہیں۔۔۔ ہم کسی صورت اس مشکل سے نکل نہیں سکتے اس وقت نا امیدی اور مایوسی جو آپکو کسی اکٹوپس کی مانند جھکڑنے کو کھڑی ہوتی ہے اسے خود سے کوسوں دور پھینکتے اس بات کی امید اور توکل رکھنا کے میرا اللہ ہے۔۔۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔۔۔ مجھے اس مشکل میں ڈالنے والا وہ ہے تو وہ مجھے یہاں سے نکالنے پر بھی قادر ہے۔۔۔۔
وہ مسلسل اس پاک ذات سے مدد کی دعا کرتی کھڑکی کے شیشے بند کر رہی تھی جب اسے یکدم ہی باہر سے سبحان کے بے طرح چیخ کر اسے پکارنے کی آواز سنائی دی۔۔۔
اسکا خوف سے ڈھرکتا دل مزید دہل اٹھا۔۔۔
سبحان رو رہا تھا اور بے طرح روتے ہوئے شدت سے اسے پکار رہا تھا۔۔۔ اسکی پکار میں کرب تھا۔۔۔ ایمان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔
وہ گرتی پڑتی اندھا دھند خارجی دروازے کی جانب بھاگی۔۔۔
مام۔۔۔ دفعتا وہ اندھا دھند اندر کو بھاگتا آتا اسکے قریب اتے آتے بے طرح زمین بوس ہوا۔۔۔
اسکی رنگت فق تھی جبکہ ہونٹ خوف کے باعث سپید پڑنے لگے تھے۔۔۔
ایمان نے بیٹے کی اس سے بری حالت پہلے کبھی نا دیکھی تھی۔۔۔
سبحان۔۔۔ سبحان بچے کیا ہوا۔۔۔ خوف نے اسکا جسم اور حسیات ایک ساتھ مفلوج کرنا شروع کر دی تھیں۔۔۔ اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے سبحان کا چہرا تھپتھپایا جو بے طرح رو رہا تھا۔۔۔
وقت جب برا آتا ہے تو ہر طرف سے راہیں بند دکھائی دینے لگتی ہیں۔۔۔
برا ہو جو آج گارڈ بھی چھٹی پر تھا ورنہ اتنی پریشانی نا ہوتی۔۔۔
مام۔۔۔ زونی۔۔۔ وہ کپکپاتے لبوں سے باہر کی جانب اشارہ کرتا ماں کو کچھ سمجھانے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
یکدم ایمان کا دل کپکپا اٹھا۔۔۔ رنگت زردی مائل ہو گئ۔۔۔ باہر غضب کا طوفان آ گیا تھا۔۔۔ وہ اس کنڈیشن میں نہیں تھی کے بیٹے سے پوری تفصیل جانتی تبھی اسے وہیں اسکے حال پر چھوڑتی اپنے کپکپاتے وجود کو گھسیٹتی اندھا دھند باہر کو بھاگی۔۔۔
زندگی میں پہلی مرتبہ وہ یوں ننگے سر باہر جا رہی تھی کے اس حواس باختگی میں آنچل کہاں گرا اسے ہوش ہی نا تھا۔۔۔
گھر کے آہنی گیٹ کے پاس آ کر یکدم اسکے قدموں کو بریک لگی ۔۔ آنکھیں پھٹ گئیں گویا دل بھی ساتھ ہی پھٹ گیا ہو۔۔۔
سامنے عین روڈ کے درمیان میں اسکا معصوم لخت جگر اسکے گھر کی رونق خون میں لت پت بے سدھ اونڈھے منہ بے ہوش پڑا تھا۔۔۔ ارد گرد خون کا امڈا سیلاب دیکھ وہ بن جل مچھلی کی مانند ٹرپتی ہوئی اسکی جانب بڑھی اور کپکپاتے ہاتھوں سے اسے سیدھا کیا۔۔۔
خون کا فوارا امڈ پڑا تھا۔۔۔
یکدم اسکی ساری حسیات مفلوج ہوگئیں۔۔۔ صورتحال نے اسکے سوچنے سمجھنے کی سبھی صلاحیتں صلب کر ڈالیں۔۔۔
وہ پاگلوں کی طرح بیٹے کو خون میں لت پت دیکھ یہاں وہاں دیکھ رہی تھی کے وہ کیا کرے۔۔۔ وہ کیا کر سکتی تھی۔۔۔ وہ وہاں تنہا تھی۔۔۔ وہ کیا کرتی کسے مدد کو پکارتی۔۔۔
بے ساختہ آسمان کی جناب منہ کرتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
یا اللہ رحم۔۔۔ رحم میرے مالک۔۔
یکدم اسنے خون کو روکنے کی غرض سے اپنا آنچل زوہان پر باندھنا چاہا ۔۔۔ تب اس پر انکشاف ہوا کے آنچل تو اسکے سر پر ہے ہی نہیں۔۔۔
مام میں ماموں کو فون کروں۔۔۔۔۔
دفعتاً سبحان کی آواز پر اسنے سبحان کو خالی خالی نگاہوں سے دیکھا اور بات سمجھ میں آنے پر سر ہاں میں ہلاتی زوہان کے بے ہوش وجود کو اٹھاتی سامنے ساتھ والے ہمسائیوں کے گھر کی جانب مدد کو بھاگی۔۔۔ ابھی تو سب سے پہلے اسے سبحان کو ہسپتال پہنچانا تھا۔۔۔
******
شامیر خان کے شدید ایکسیڈینٹ کی خبر اسکے گھر والوں پر قیامت بن کر ٹوٹی تھی۔۔۔ شامیر کو وہاں سے ریسکیو ٹیم نے ریسکیو کر کے ہسپتال پہنچایا اور انہوں نے ہی اسکے فون سے اسکے گھر والوں کو اطلاع دی تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے اس وقت سبھی گھر والے آنا فانا وہاں موجود تھے۔۔۔
شامیر کی حالت بہت سیریس تھی۔۔۔ خون خطرناک حد تک بہہ چکا تھا۔۔۔
فلحال تو اسکے اندر زندگی کی رمق باقی رکھنے کو اسکے جسم میں خون کی سپلائی مکمل کرنا اولین مقصد تھا۔۔۔ اور اسکا خون او نیگٹو ہونے کی صورت میں اتنی ہنگامی صورت میں خون ملنا اور وافر مقدار میں ملنا ایک نا ممکن سا امر بننے لگا تھا۔۔۔ ہر پراسس میں وقت لگتا اور انکے پاس وقت کی ہی کمی تھی۔۔۔ شامیر خان کی سانسوں کی ڈور کو اس سے جوڑے رکھنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر خون کی ضرورت تھی۔۔۔
کڑی آزمائش اور سخت مشکل حالات کبھی کبھار اپنی زندگی میں جمود کا شکار ہو چکے انسانوں کے لئے ایک پش کا کام کرتے ہیں۔۔۔ انسان سوچ بھی نہیں سکتا کے وہ کبھی اپنی زندگی میں وہ کام بھی کر سکتا ہے جو حالات اس سے کروا دیتے ہیں کے وہ اتنی تیزی سے آگے بھی بڑھ سکتا ہے جس تیزی سے حالات کے تقاضے اسے آگے دھکیلتے لے جاتے ہیں۔۔۔
یہ پریشانیاں اور مصائب انسان کو اپنے اندر ہاتھ ڈال کر اپنا سب سے بیسٹ دینے پر مجبور کر دیتی ہیں۔۔۔ وہ بیسٹ جو وہ عام حالات میں دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔
تب اونچائی کے آخری دہانے پر کھڑا ہو کر نیچے گہری کھائی میں دیکھنے کا خوف اسے ہمت ہار کر کھائی میں گرنے کی بجائے اسکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو تیز کر کے بروئے کار لاتے حکمت عملی اختیار کر کے چند قدم پیچھے لے کر پھر پوری قوت سے بھاگ کر آتے اسے کھائی کو عبور کرنے کا حوصلہ دیتا ہے ۔۔
وہ حوصلہ جو وہ کبھی زندگی میں ایسا کام کرنے کے بارے میں جٹا نہیں سکتا ہوتا وہ یہ تنگ پڑتے حالات انسان کو زندگی اور موت کی کش مکش میں جھولتے گٹ گٹ کر مرنے کی بجائے خود میں یہ حوصلہ جٹانے اور پوری قوت سے زندگی میں آگے بڑھ جانے کی ترغیب دیتے ہیں۔۔
ایسا ہی کچھ ارحم خان کے ساتھ ہوا تھا۔۔۔
وہ ارحم خان جسکی زندگی ایک ناقابل فراموش واقعہ کے بعد جمعود شکار ہو چکئ تھی جسکی آنکھیں ویران اور زندگی کی رمق سے عاری ہو چکی تھیں۔۔۔ جو جینے کی چاہ چھوڑ چکا تھا۔۔۔ جسکے لئے زندگی بے معنی ہو گئ تھی جو ارد گرد کی ہر چیز سے کٹ کر اپنی ذات کے خول میں مقید ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔۔یہ حادثہ اسکے لئے ایک زبردست پش ثابت ہوا تھا۔۔۔ جسنے پوری قوت سے اسکے دماغ میں جم چکے ایک منظر اور ایک واقعہ جسکے حصار کی زد میں وہ خود کو بے طرح مقید پاتا تھا اسے پوری قوت سے دھکیلتے اسکے دماغ میں یہ تازہ ترین حادثہ سٹک کر دیا تھا۔۔۔۔
پھر یوں اسکی ذات کے گرد بنا خول چٹخا اور یکدم اسکی ساری صلاحتیں ایکٹو ہوئیں تھی کے وہ شاید شعوری کوشیش سے بھی خود کو اس حصار سے نکال نا سکتا تھا۔۔۔
اس وقت اسکا عزیز از جان بھائی ہسپتال میں بستر مرگ پر پڑا زندگی اور موت کی کش مکش میں جھول رہا تھا اس ایک زبردست جھٹکے نے پچھلے ہر حادثے کا نقش اسکے دماغ میں کافی حد تک دھندلا دیا تھا۔۔۔۔
وہ سب جی توڑ کوشیش کرتے خون کا بندوبست کر رہے تھے۔۔۔
لیکن سو مسائل درپیش تھے۔۔۔ پہلے تو بلڈ گروپ ملتا ہی مشکل سے مل جاتا تو کوئی ڈونر آوٹ آف ٹاون ہوتا اور کوئی ڈونر اپنے کسی ذاتی کام میں مصروف ہوتا۔۔۔
ایسے میں سب سے فاسٹ ارحم کی سروس تھی۔۔۔
اسنے اپنی کنٹیکٹ لسٹ ساری کی ساری کنگال ڈالی تھی۔۔۔ ان ان لوگوں سے رابطہ کر ڈالا جس سے پچھلے کافی عرصے سے اسکا کوئی رابطہ نا تھا۔۔۔
تینوں بھائیوں اور باپ کی بھرپور کوشیشوں سے ہسپتال میں بلڈ ڈونرز کی لائن لگ گئ تھی۔۔۔
پے در پے شامیر کو خون کی بوتلیں لگ رہی تھی۔۔۔
اللہ اللہ کر کے شامیر کے جسم میں خون کی مقدار مکمل ہوئی تو سب نے سکون کا سانس لیا۔۔۔
اسکی حالت ابھی بھی خطرے سے باہر نا تھی۔۔۔
اگلے چوبیس گھنٹے نہایت اہم تھے۔۔۔
جیسے جیسے لوگوں کو شامیر کے ایکسیڈینٹ کا علم ہو رہا تھا کاروباری حلقے کا ایک حجم عفیر ہسپتال میں امڈ آیا تھا۔۔۔ سب کی زبانوں پر شامیر کہ زندگی کے لئے دعا تھی جبکہ دوسری جانب گہرا مہیب سناٹا تھا۔۔۔
ایسے میں سہی جان کنزل الایمان کی سولی پر لٹکی تھی جو ان حالات میں بوکھلا کر رہ گئ تھی۔۔۔ وقت نے جب اسے اپنی لپیٹ میں لیا تھا تو یوں بے بس کر کے اسکے ہاتھ پاوں بندھ کر لیا تھا کے وہ وقت کے تھپیروں کے ہاتھوں بے بس ہوتی پھڑ پھڑا کر رہ گئ تھی۔۔۔۔
*****

No comments