Header Ads

Rah_e_haq novel 45th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  45th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

 پینتالیسویں قسط۔۔۔
پچھلے ایک ہفتے سے ارحم کو سکون آور ادوایات پر رکھا گیا تھا۔۔۔
وہ اس صدمے کو قبول کر ہی نا پا رہا تھا۔۔۔ وہ جب ہوش میں آتا پینک ہو جاتا اور پینک ہو کر تین دفعہ وہ خود کو نقصان پہنچانے کی کوشیش کر چکا تھا۔۔۔ اسکے پینک ہوتے ہی اسے دوبارہ سکون آور انجیکشن لگا دیا جاتا۔۔۔
اسکی حالت قابل رحم تھی۔۔۔ گلٹ تھا کے ختم ہونے کا نام ہی نا لیتا۔۔۔
رات تک ہی دونوں بھائی بھی واپس آ گئے تھے۔۔۔ ان تینوں نے چھوٹے لاڈلے بھائی کے لئے دن رات کا سکون غارت کر ڈالا تھا۔۔۔ ہر وقت اسکے ساتھ کوئی نا کوئی ہوتا۔۔۔
ماں کی طبیعت اب قدرے بہتر تھی لیکن جوان اولاد کا دکھ انہیں بستر سے اٹھنے نا دے رہا تھا۔۔۔
نیز احساس ندامت تھا جو ضمیر بیٹے کو مجبور کر کے ایک قبیح فعل سر انجام دلوانے  کے جرم میں ہر دم کچوکے لگاتا رہتا۔۔
ایسے میں اگر کوئی مطمئیں تھا تو واجد خان۔۔۔ جو بیٹے کی بگڑتی صورتحال سے قدرے متفکر تو تھے لیکن انکے خیال میں وقت ہر چیز کا بہتریں مرہم ہے۔۔
مانا کے انکا بیٹا انجانے میں گہری چوٹ لگوا چکا تھا لیکن دنیا میں کوئی ایسا زخم نہیں جو بھرا نا جاسکے۔۔
جبکہ دوسری طرف موجود عینا شامیر کے لئے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوئی تھی۔۔۔
بابا کے نزدیک اسکے بارے میں سوچنا ہمارا درد سر نہیں تھا۔۔۔ ہمارا اس لڑکی سے کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔
لیکن شامیر نے بھائیوں کے ساتھ مل کر ان کی مدد سے بہت معاملہ فہمی سے یہ نازک معاملہ حل کرنا چاہا تھا جو اسکے بھائی کی زندگی کا روگ بن گیا تھا۔۔۔
آج تقریباً ارحم کو ہسپتال کے اس کمرے میں ایڈمٹ ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا۔۔۔
اب بھی اسے ہوش میں آتا دیکھ شامیر اسکی جانب لپکا۔۔۔
کیسے ہو میری جان۔۔۔ بی ریلیکس۔۔۔ پلیز پینک مت ہونا۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔
شامیر نے اس پر جھکتے اسکے بالوں میں انگلیاں چلائی تو وہ خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے ان خالی نگاہوں میں نمی سمٹنے لگی اور ضبط کی کوشیشوں میں بے طرح ہلکان وہ نمی چھلک پڑی۔۔۔۔
بھائی سکون نہیں مل رہا۔۔۔ اسکی نحیف سی آواز میں اتنی تڑپ تھی کے شامیر ضبط سے لب بھینچ گیا۔۔۔
آنکھوں کی التجا اور چہرے کا کرب دل چیرتا تھا۔۔۔
میں نے غلط کیا۔۔۔ بھائی بہت غلط کیا۔۔۔ میں شاید اس لمحے میں ہپناٹائز ہو گیا تھا۔۔۔
کاش میں محبت سے دستبردار ہو جاتا لیکن محبت کی ناقدری نا کرتا۔۔۔
مجھ سے بہادر تو عدنان بھائی نکلے۔۔۔ محبت میں راستے جدا کرتے کسی کی عزت کے ساتھ تو نہیں کھیلے۔۔۔ اور میں۔۔۔
بس میری جان۔۔۔ جو ہو گیا۔۔۔ اسے بدلا نہیں جا سکتا۔۔۔ شامیر نے انگوٹھے سے ناک مسلتے گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔
کیسی ہے وہ بھائی۔۔۔ اسے ہوش آیا۔۔۔ اسکے علاج کے  ایکسپینسز کون اٹھا رہا ہے۔۔۔ اسکی اواز میں تڑپ تھی۔۔۔
شامیر وہیں اسکے پاس کرسی گھسیٹتا ڈھ گیا۔۔۔
*****
اسی روز بھائیوں کو واپس بلوانے کے بعد اسنے امجد سے کہہ کر اس لڑکی کا سارا بائیو ڈیٹا نکلوایا تھا۔۔۔ اور بھائیوں کے آنے کے بعد ان سے باہمی مشاورت کر کے وہ اس لڑکی کے باپ کے پاس گیا تھا۔۔۔ اور سارا واقعہ بہت سی ردو بدل کے ساتھ انکے گوش گزارا۔۔۔ جو اس وقت کی ضرورت تھی۔۔۔
واقعہ سے وہ عینا اور ارحم کے نکاح کا ذکر سرے سے گول کر گیا۔۔۔
عینا کے گھر عیںا کی گمشدگی کے باعث ایک کہرام مچ گیا تھا۔۔۔ جتنے منہ تھے اتنی باتیں بننے لگیں تھیں۔۔۔اسکی ذات پر طرح طرح کی انگلیاں اٹھائی جا رہی تھیں۔۔۔ بیٹی کے غم میں اسکا باپ بستر سے جا لگا تھا۔۔۔ شامیر کو اس بے بس باپ کی بے بسی پر تکلیف محسوس ہوئی۔۔۔
شامیر نے اسکے باپ کو بتایا کے عینا اسے یونیورسٹی سے واپسی کے راستے پر بے ہوش ملی تھی۔۔۔ چونکہ وہ اسکی آنکھوں کے سامنے چلتی چلتی بے ہوش ہوئی تھی اس لئے وہ بنا تاخیر کئے اسے ہسپتال لے آیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اسے ہارٹ اٹیک آیا ہے۔۔ اب پتہ نہیں اسے کوئی پہلے سے ہارٹ اشو تھا یا یہ کسی صدمے کے تحت ہوا شامیر اس سے نابلد تھا۔۔۔
اس خبر کے بعد عینا کے گھر میں جہاں اسے کوسا جا رہا تھا وہاں عینا کے لئے فکر مندی کی لہر ڈور گئ۔۔۔
عینا کا باپ بھائی اور منگیتر لمحے کی تاخیر کئے بنا شمیر کے ساتھ ہسپتال آئے۔۔۔
لفظوں کی زرا سی ردو بدل نے ایک معتوب ٹھہرائی لڑکی کو مظلوم بنا ڈالا تھا بیشک لفظ ہی ہوتے ہیں جو حیات بخشتے ہیں اور لفظ ہی ہوتے ہیں جو بے موت مار ڈالتے ہیں۔۔۔ دنیا میں لفظوں کی مار سے بڑی مار شاید کوئی نہیں۔۔۔
شامیر نے بھائیوں کی مدد سے ہائی اتھورٹیز استعمال کرتے اس نکاح کو رجسٹر ہونے سے رکوایا اور ریکارڈ سے اس نکاح کا سارا ریکارڈ غائب کروا ڈالا تھا۔۔
کام مشکل تھا لیکن نا ممکن نہیں۔۔۔
اس نکاح کی اب ویسے بھی کوئی ویلیو نا رہی تھی جب ارحم اسے طلاق ہی دے چکا تھا۔۔۔ تو حکمت عملی یہ ہی تھی کے اسکا ذکر بھی صفحائے ہستی سے مٹا دیا جاتا۔۔
اب فکر مندی محض عینا کے بارے میں تھی جو ہوش میں آنے کے بعد ناجانے کیسا ردعمل دیتی۔۔۔
*****
پھر وہی ہوا جسکا ڈر تھا۔۔۔
عینا تقریبا دو دن بعد ہوش کی دنیا میں واپس لوٹی تھی۔۔۔ اور ہوش میں آتے ہی اسکا ردعمل بھی ارحم سے مختلف نا تھا۔۔۔ وہ پینک ہو رہی تھی۔۔۔ اسے مستقبل کے ناگ ڈسنے لگے تھے۔۔۔جس طرح بیچ منجدھار میں وہ ایک شخص کے بھروسے ماں باپ کو چھوڑ کر آئی تھی اسکے بعد اب ماں باپ سے سامنا کرنے سے زیادہ ترجیح وہ موت کو دے رہی تھی۔۔۔
شامیر اور اسکے بھائی لاکھ بات کور کرنے کی کوشیش کرتے لیکن حقیقت تو یہ ہی تھی کے جو ناقابل قبول گھاو دونوں کو لگا تھا وہ چھوٹا نا تھا۔۔۔ اس زخم کو مندمل ہونے کو ناجانے کتنا وقت درکار تھا۔۔۔
ایسے میں بہتری یہ ہوئی کے شامیر کو عینا کے گھر والوں کے اس سے ملنے سے پہلے عینا سے ملنے کا موقع مل گیا۔۔۔
وہ نہایت تحمل سے ساری صورتحال اسکے گوش گزارنے کے بعد اس سے عاجزانہ ریکوئسٹ کر کے آیا تھا کے وہ شعوری کوشیش سے خود پر قابو پاتی اس راز کو یہیں دفن کر دے۔۔۔ سب کی بہتری اسی میں تھی۔۔۔ کے اس حادثے کو برا خواب سمجھ کر بھول جایا جائے۔۔۔
وہ جانتا تھا اس بات کو کہنا جتنا آسان تھا کرنا اتنا ہی مشکل۔۔۔ ایک پل کو ارحم کی جگہ خود کو اور عینا کی جگہ ایمان کو رکھ کر سوچتا تو روح کانپ اٹھتی۔۔۔
مگر وقت کا تقاضا یہ ہی تھا۔۔۔
پتہ نہیں اسکی باتیں عینا کو سمجھ میں آئی یا نہیں مگر اسے گہری چپ لگ گئ۔۔۔ اسکا صدما چھوٹا نا تھا۔۔۔
عینا کے سارے اخراجات شامیر نے اٹھائے تھے جس پر اسکا باپ اور بھائی شامیر کے شکر گزار تھے۔۔۔ اب اسکی حالت قدرے بہتر تھی تبھی آج یا کل میں اسے ڈسچارج مل جانا تھا۔۔۔ جبکہ اسکی شادی اسکی طبیعت کے پیش نظر ایک مہینہ آگے بڑھا دی گئ تھی۔
شامیر کی زبانی ساری داستان سن کر ارحم بستر پر چت لیٹا فین سیلنگ کو گھورتا رہا۔۔۔ خاموش آنسو کنپتیوں کی جانب بہتے جا رہے  تھے۔۔۔
دل میں ایک محشر بھرہا تھا۔۔۔  وہ خود کو اس وقت دنیا کا سب سے بدقسمت شخص تصور کر رہا تھا۔۔۔ خوش بختی جسکے دروازے پر دستک دے کر لاکھ چاہنے کے باوجود بھی واپس پلٹ گئ تھی۔۔۔۔
بھائی میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔
اسکی نحیف سی آواز پر شامیر نے اسے چونک کر دیکھا۔۔۔
وقت اور حالات کا تقاضا یہ ہی ہے کے تم اسے بھول جاو۔۔۔ یہ ملاقات سوائے تکلیف اور دکھ کے کچھ نہیں دے گے۔۔ اور شاید اس معصوم کی مشکلیں مزید بڑھ جائیں۔۔
ایک آخری مرتبہ بھائی پلیز۔۔۔
اسکی آواز میں موجود تڑپ اور کرب محسوس کر کے شامیر لب بھینچ گیا۔۔۔
*****
دروازہ چڑررر کی آواز سے کھلا تو ہسپتال کے گاون میں ملبوس صدیوں کا بیمار لگتا ارحم جھجھکتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔
سامنے بستر پر لحاف شانوں تک اوڑھے وہ نازک وجود لیٹا تھا جسے حاصل کر کے بھی وہ لاحاصل رہا۔۔۔ اسکا چہرا کملا گیا تھا۔۔۔ شادابی مرجھا گئ تھی۔۔۔ گویا اس حادثے نے اس معصوم وجود پر زیادہ گہرے اثرات مرتب کئے تھے
اسکی یہ قابل رحم حالت دیکھ خاموش آنسو ارحم کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔۔۔ ہونٹ کپکپا اٹھے۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا آگے بڑھا اور  پائنتی کی جانب اس پر جھکتا لحاف میں چھپے  اسکے پاوں پکڑ کر سسک اٹھا۔۔۔
دل کرلا رہا تھا اور اسے دکھ دینے کی اذیت انگ انگ میں سرائیت کرتی جا رہی تھی۔۔۔
کرب زدہ آنسو اسکے پاوں بگھونے لگے تھے۔۔۔
ایک انجانے لمس سے یکدم عینا کی نیند ٹوٹی۔۔۔ وہ  بے تحاشہ خوف اور ڈر کے تحت ایک چیخ مارتی اٹھ بیٹھی۔۔۔
آج کل تو وہ ویسے ہی زرا سے شور پر ڈر جاتی۔۔۔ اس حادثے نے اسے بے طرح توڑتے بے حد کمزور دل بنا ڈالا تھا۔۔۔
اور سامنے موجود ارحم کو دیکھ اسکا دل چاہا وہ اس شخص کو آگ لگا ڈالے جو محبت میں منکر ٹھہرا تھا۔۔۔
عینا نے اسے دیکھ کر نفرت سے منہ موڑا تو گویا ارحم پورے قد سے ڈھ گیا۔۔۔
مجھے معاف کر دو عینا میں تمہارا مجرم۔۔۔
شٹ آپ۔۔۔ جسٹ شٹ آپ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ اپنے کپکپاتے ہاتھ عینا کے سامنے جوڑتا وہ طیش سے چلا اٹھی۔۔۔
جسم کے ساتھ ساتھ ہونٹ بھی بے طرح کپکپانے لگے تھے۔۔۔ اس شخص کو دوبارہ روبرو پا کر دل پھٹنے لگا تھا۔۔۔
میرا مزید تماشا مت بناو مسٹر ارحم۔۔۔۔ آواز میں ایسی تکلیف اور کرب تھا جو ارحم کی رگیں چیرتا چلا گیا۔۔۔۔چلے جاو میری زندگی سے ۔۔۔ میں تمہاری شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔
وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
تم جیسے رئیس زادے وفا جیسی صفات سے نابلد ہوتے ہو۔۔۔
اسکا لفظ لفظ ارحم کا دل چیرتا اسے خون کے انسو رلا رہا تھا۔۔۔
زندگی تم لوگوں کے لئے مذاق ہوتی ہے۔۔۔
اور بہت اچھا ہوا میرے ساتھ۔۔۔ وہ خود اذیتی کی انتہا پر تھی۔۔
مجھ جیسی لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔۔ جو ماں باپ کی عزت پر ایک نامحرم کو ترجیح دیتی ہیں۔۔۔ 
جب ایک لڑکی باپ اور بھائی کی عزت کو مجروح کرتی کسی نامحرم پر اعتبار کر کے گھر کی دہلیز عبور کرتے نئ منزلوں کی مسافر بننے کی کوشیش کرتی ہے نا تو اسے تم جیسے رئیس زادوں سے اس دھوکے کی توقع رکھنی چاہیے۔۔۔ ماں باپ کو دھوکا دے کر کوئی سکھی نہیں رہ پاتا۔۔۔ کاش یہ بات ہم جیسی کم عقل اور نا فہم لڑکیوں کو سمجھ آ جائے جو تم جیسے بے وفاوں کے ہاتھوں ٹریپ ہو جاتی ہیں۔۔۔
چیخ چیخ کر اسکی رگیں پھولنے لگی۔۔۔ وہ کسی مجرم کی مانند سر جھکائے خاموش آنسو بہا رہا تھا۔۔۔
صفائی میں پیش کرنے کو لفظ اپنی موت آہ مر گئے تھے۔۔۔
یو نو واٹ مسٹر ارحم۔۔۔
مرد کبھی مجبور نہیں ہوتا۔۔۔ اسکی اواز میں کرب نمایاں تھا۔۔۔
یہ بس ڈھکوسلے ہوتے ہیں۔۔۔ ساری بات پراریٹرز کی ہوتی ہے۔۔ مرد کے لئے پہلی پڑاریٹی ہمیشہ اسکے ماں باپ ہوتے ہیں۔۔۔ اور یہ بات مجھ جیسی نادان لڑکیاں کبھی نہیں سمجھ پاتیں۔۔۔ جو اپنے ماں باپ کو ہمیشہ دوسری ترجیح پر رکھتیں ایسے بے وفا مرد کی ہمراہی میں گھر کی دہلیز عبور کرتیں اگلا سفر طے کرنے نکل پڑتی ہیں۔۔۔
پھر انکے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔
وہ پھر سے پینک ہونے لگی تھی۔۔۔ اسکی آواز باہر تک آ رہی تھی جب بگڑتی صورتحال پر شامیر کسی انہونی کے خدشے کے تحت سرعت سے اندر داخل ہوا۔۔ اور بت بنے کسی مجسمے کی مانند بے حس و حرکت کھڑے بھائی کو گھسیٹتا ہوا کمرے سے باہر لے کر نکلا۔۔۔
اس سے پہلے کے عینا کے گھر والوں میں سے کوئی وہاں آنکلتا اور ساری بات پر سے پردہ فاش ہو جاتا۔۔۔
******
بہت دنوں کے بعد آج خان ولا کے لاوئنج میں پورا خاندان اکھٹا تھا۔۔۔
وجہ آج ارحم کو ہسپتال سے ڈسچارج ملا تھا یہ ہی وجہ تھی کے اس وقت ارحم ڈھیلے سے ٹراوز شرٹ میں ملبوس سر جھکائے صوفے پر بیٹھا تھا۔۔۔
وہ دنوں میں مرجھا گیا تھا۔۔۔ اسکی صحت ہر خاصا اثر پڑا تھا۔۔۔ کندھے ڈھلک گئے تھے جبکہ آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے واضح ہو رہے تھے۔۔۔ رنگت کملا گئ تھی۔۔۔ ہونٹوں پر مستقل قفل لگ گئے تھے۔۔۔
ماں اسکے ساتھ بیٹھی جوان بیٹے کی ایسی شکستہ حالت دیکھ دیکھ نم آنکھیں بار بار صاف کر رہی تھیں۔۔۔
شامیر۔۔۔۔ دفعتاً بابا نے سنگل صوفے پر بیٹھے موبائل میں مصروف شامیر کو پکارا۔۔۔
جی بابا۔۔۔ وہ مصروف سا گویا ہوا۔۔۔
بیٹا اگلے مہینے تمہاری پروشہ سے شادی ہے۔۔ 
یکدم ہی بیٹھے بیٹھے وہ اسکے سر پر دھماکہ کر چکے تھے۔۔۔
What the hell is this baba...
 کیا فضولیات ہے یہ۔۔۔ ایک جھٹکے سے سر اٹھاتا وہ چیخ اٹھا۔۔۔ موبائل اور کام سے یکدم ہی دلچسپی ختم ہو گئ۔۔۔
مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔۔۔
انف از انف شامیر۔۔۔
میں مزید یہ فضولیات نہیں سن سکتا۔۔۔ تیس کے ہونے والے ہو اور تمہیں ابھی شادی نہیں کرنی۔۔۔
میں پروشہ کے باپ کو زبان دے چکا ہوں۔۔۔ بلکہ تاریخ بھی طے کر چکا ہوں ۔۔۔ اب محض رسم باقی ہے شادی اسی مقررہ تاریخ پر ہو گئ۔۔
بابا کے دو ٹوک اندار پر شامیر لبوں کے ساتھ ساتھ مٹھیاں بھی سختی سے میچ گیا۔۔۔
رگوں میں خون کی گردش ٹھاٹے مارنے لگی تھی۔۔۔
بہت کچھ کہنے کی چاہ میں وہ لب بامشکل سی گیا۔۔۔
وہ ارحم جیسی جلد بازی اور حماقت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
ارحم تنہا تھا اسکے ساتھ دو ننھی جانیں نتھی تھیں۔۔۔
مزید گھر کے بگڑے حالات اور موجودہ صورتحال کا تقاضا تھا کے وہ خاموش رہتا البتہ آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا۔۔۔
اسکی دن با دن بڑھتی کامیابیوں اور پراگریس ریپورٹ  سے شاید پروشہ کا باپ خوفزدہ ہو گیا تھا۔۔۔
پورے کاروباری حلقے میں کم و بیش سبھی بزنس مین اپنی بیٹیوں کے لئے شامیر کے رشتے کے خواہشمند تھے۔۔ اس لئے پروشہ کا باپ اس معاملے میں کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔۔ اسی لئے آج کل اسکی جانب سے شادی کے لئے پریشر بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔۔۔
کل وہ لوگ باقاعدہ ڈیٹ فکس کرنے کے لئے آ رہے ہیں اس لئے کل کی ساری میٹنگز کینسل کر کے تم وقت پر گھر موجود ہونے چاہیے۔۔۔
بابا کے دو ٹوک حکمیہ امداز پر وہ لب بھینچتا جھٹکے سے اٹھا اور بنا کوئی جواب دئیے لمبے لمبے ڈگ بھرتا گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔
پیچھے سب اسکا اسقدر غیر متوقع ردعمل دیکھتے رہ گئے۔۔۔
*****
شامیر خان منتشر ہوتے حواسوں کے ساتھ گاڑی ہواوں میں اڑاتا لے جا رہا تھا۔۔۔
کانوں میں بابا کے جملے کسی ہتھوڑے کی مانند بج رہے تھے۔۔۔
جلد یا بدیر یہ تو ہونا ہی تھا۔۔۔ یہ اسکی خام خیالی تھی کے وہ اگر کبھی شادی کے لئے حامی نہیں بھرے گا تو اسکی شادی ہی نہیں ہو گئ۔۔ اسکا باپ ساری اولاد کو قابو کرنے کے گر سے آگاہ تھا۔۔۔
چھوٹے بھائی کی حالت اس کے سامنے تھی۔۔۔
وہ اپنے بیوی بچوں پر کسی طرح کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔۔
بیوی بچوں کے چہرے آنکھوں کے سامنے آتے اسے بے بس کر رہے تھے۔۔۔
وہ بس کسی بھی طرح اس صورتحال سے نمٹنے کا طریقہ ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔
وہ پروشہ سے شادی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ یہ طے تھا تو بس طے تھا۔۔۔ مگر کیسے۔۔
وہ مسلسل منتشر ہوتے ذہن کے ساتھ کچھ نا کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔
بے خیالی میں گاڑی کی سپیڈ حد سے تجاوز کرتی جا رہی تھی۔۔۔
جب اچانک سے بےقابو ہوتی گاڑی کے سامنے ایک ٹرالا ناجانے کہاں سے آ گیا یا شاید سوچوں کے آکٹوپس میں الجھا وہ ہی دیکھ نا پایا۔۔
وہ چونک کر ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا۔۔
گاڑی کو قابو کرنے کا ہر حربہ ہر تدبیر بے سود گئ اور گاڑی بے قابو ہوتی سامنے سے آتے ٹرالے سے بے طرح ٹکراتی پیچھے کو الٹی۔۔۔۔
تصادم زبردست تھا۔۔۔
اور ڈھرام کی آواز کے ساتھ وہاں خاموشی چھا گئ۔۔ مگر اس آواز نے ارد گرد رواں دواں تمام لوگوں کی توجہ اپنی جانب ضرور مبذول کروا لی تھی۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4