Header Ads

Rah_e_haq novel 44th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  44th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ


چوالیسویں قسط۔۔۔
ارحم نے ہلکی سی سرخ متوحش آنکھیں کھول کر شامیر کو دیکھا اور پھر سے آنکھین موند گیا۔۔۔
ارحم میری جان ۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔ یہ کیا حال بنا رکھا ہے تم۔۔۔ گھبرو جوان بھائی کی ایسی حالت دیکھ شامیر کے دل پر گھونسہ پڑا۔۔۔۔
بھائی۔۔۔ اسکی نیم وا سرخ آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔۔۔
بابا کو منائیں پلیز۔۔۔ عینا میری محبت ہے میں اسکے بنا نہیں رہ سکتا۔۔۔ اسنے بے طرح اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔۔
شامیر کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔
میں بات کروں گا بابا سے ارحم۔۔۔
اس سے کیا ہو گا۔۔۔ کیا ہو گا بھائی۔۔۔ کیا وہ مان جائیں گے۔۔۔ ارحم نیم دراز سا ہو بیٹھا۔۔۔ اسکے لہجے میں کرب تھا۔۔۔
محبت ہونے سے پہلے سٹیٹس کہاں دیکھتی ہے۔۔۔ وہ تو  بس ہو جاتی ہے۔۔۔ اور بابا نے سٹیٹس کی رٹ یوں لگا رکھی ہے جیسے میں نے  عینہ کے گھر جا کر رہنا ہے۔۔۔ یار رخصت ہو کر اسنے آنا ہے میری زندگی میں پھر بھلا اسکے بیک گراونڈ کو نشانہ بنانے کا کیا مقصد۔۔۔۔
کیا یہ سراسر حماقت نہیں۔۔۔
اب عزیر بھائی کو دیکھ لیں۔۔۔ عزیر انکا تایا زاد تھا۔۔۔
پچھلے ہفتے کسی گوری سے شادی کر کے  پاکستان لے آئیں۔۔۔ لیکن سب نے ماڈرنزم کے نام پر اسے کھلے دل سے قبول کر لیا۔۔۔ کسی نے نہیں پوچھا کے کیا وہ مسلمان بھی ہوئی کے نہیں۔۔۔ شادی پہلے اس لڑکی کے رسم و رواج کے مطابق ہوئی پھر نکاح ہوا۔۔۔ کسی نے اس پر سوال نہیں اٹھایا۔۔۔ کسی نے نہیں پوچھا کے یوں نکاح ویلڈ ہے بھی یا نہیں۔۔۔
یہاں ماڈرنزم آگئ۔۔۔
اور اپنے سے نیچلے طبقے پر یہ لوگ اکتفا کر نہیں سکتے۔۔۔ وہاں اونچی ناک بیچ میں حائل ہو جاتی ہے۔۔۔ اسکی آواز میں کرب تھا۔۔۔
شامیر کے اندر سناٹے اترنے لگے۔۔۔ گھر سے لاتعلق رہنے اور کئ کئ ہفتے گھر سے باہر رہنے کی بدولت وہ گویا ہر چیز سے کٹنے لگا تھا۔۔۔
لیکن میں بتا رہا ہوں بھائی بابا کو میری بات ماننا ہو گئ۔۔۔ میں کسی طور عینہ سے دستبردار نہیں ہونگا۔۔۔
اس سے پہلے کے شامیر اسے کچھا کہتا وہ نم آنکھیں مسلتا اٹھ کر واش روم میں گھس گیا۔۔۔
*****
باپ بیٹا تن کر آمنے سامنے آ گئے تھے۔۔۔ بابا نے تو ہار ماننا سیکھا ہی نا تھا مگر ارحم۔نے بھی ہار نا ماننے کی ٹھانی تھی۔۔۔ آخر معاملہ اسکی زندگی کا تھا۔۔۔
ماں دونوں کو سمجھاتیں درمیان میں پس رہی تھیں۔۔
ارحم کیا دنیا ایک لڑکی پر ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ بابا کو کسی صورت اپنی بات سے پھرتے نا دیکھ ماں بیٹے کو ہی سمجھانے آگئیں۔۔۔
پتہ نہیں لیکن میرے لئے میری دنیا عینا ہی ہے۔۔۔ وہ بھی دھن کا پکا تھا۔۔۔
بیٹے گھر کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ ایک سے ایک بڑھ کر لڑکی موجود ہے ہمارے سرکل میں۔۔۔ جس پر ہاتھ رکھو ہم آج ہی اسکے گھر رشتہ لے جائیں گے۔۔ پر بیٹا اپنے بابا کی بات بھی تو سمجھو نا۔۔۔
اسکا باپ معمولی کلرک ہے۔۔۔ اود تمہارے بابا اپنا گارڈ رکھنے کے لئے بھی ملازم کا حسب نسب چیک کرتے ہیں۔۔۔ 
کل کو وہ کلرک رشتے داری کی بنیاد پر تمہارے باپ کے برابر بیٹھے یہ وہ کہاں برداشت کر پائینگے۔۔
وہ اتنے چھوٹے طبقے کی لڑکی کو اپنے خاندان میں بہو کے طور پر متعارف نہیں کر وا سکتے کے اس طبقے کی عورتیں ہمارے گھروں میں کام کرتی ہیں۔۔۔ اور نوکرانیوں کے خاندان سے رشتے داری جوڑنا تمہارے بابا کی انا پر کوڑا ہے۔۔۔ وہ کبھی نہیں مانیں گے بیٹا۔۔۔ تم ضد چھوڑ دو۔۔۔
ماں کو آنے والے وقت میں اپنے گھر کا شیرازہ بکھڑتا دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ تبھی وہ تنکا تنکا آشیانہ بچانے کو ہلکان ہوتیں اختیاطی تدابیریں کرتی پھر رہی تِھیں۔۔۔
وہ ماں کے منہ میں باپ کی بولتی زبان دیکھ تاسف سے انہیں دیکھتا رہا۔۔۔۔
ذات پات اونچ نیچ رنگ نسل یہ سب اسکی سمجھ سے بالاتر باتیں تھی اور وہ سمجھنا چاہتا بھی نا تھا۔۔۔
****
وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔۔۔ خان ولا کی درو دیوار دہل اٹھی تھیں۔۔۔
واجد خان کی آنکھوں میں خون اترا آیا تھا۔۔۔ آج انکے خاندان میں انکے اپنے خون نے بغاوت کر ڈالنے کی جرات کی تھی۔۔۔
آج انکی شان و شوکت رعب و دبدبے پر ایک کاری ضرب لگی تھی۔۔۔ آنکھوں میں اترے خون تلے سارے خونی رشتے کہیں دب گئے تھے۔۔۔
دو تلواریں ایک ساتھ ایک میان میں نہیں رہ سکتیں آج یا واجد خاں نہیں یا انکا سب سے چھوٹا باغی سپوٹ نہیں۔۔۔
گھر کے دالان میں ہی عدالت لگی تھی۔۔۔ امل لاوئنج کو جاتے لکڑی کے منقش دروازے کے پاس  تھر تھر کانپتی اسی  دروازے کے سہارے کھڑی تھی۔۔۔
آنکھیں ابل کر باہر آ رہی تھیں جبکہ دل بھی کسی خزان رسید پتے کی مانند کپکپا رہا تھا۔۔۔
ماں کی حالت سب سے بری تھی جو کسی بھی پل ڈھ جانے کے در پر ناجانے کیسے اپنے کپکپاتے وجود کو گھسیٹتی پھر رہی تھی۔۔۔
ممتاز۔۔۔ افضل ۔۔۔ اکبر کوئی میرے شامیر کو بلاوووو۔۔۔ فون کرو اسے ۔۔۔ فون کرو۔۔۔ وہ جلدی گھر پہنچے۔۔۔
وہ بہتی آنکھوں سمیت بے چینی سے یہاں وہاں پاگلوں کی طرح جاتیں ایک ایک ملازم کو پکار رہی تھیں۔۔۔ 
آج وہ ہوا تھا تو جو تاریخ میں کبھی نا ہوا تھا۔۔۔
باپ بیٹا آمنے سامنے تھے۔۔ منظر دیکھ دیکھ ماں کی روح کپکپا رہی تھی۔۔۔
بات پگڑی اور اونچے شملے پر آئی تو باپ کی آنکھیں اولاد پر سے پھر چکیں تھیں۔۔ اب سامنے بیٹا نہیں گستاخ کھڑا تھا جو آنکھوں میں بغاوت بھرے  بنا ڈرے انکے سامنے تن کر کھڑا تھا جبکہ اسکے پیچھے سیاہ ہالے میں چھپا صورتحال سے خوفزدہ ایک نازک وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔۔ جس سے آج ارحم خان نے سب سے بغاوت مول لیتے کورٹ میرج کر کے اسے اپنے نکاح میں لیا تھا۔۔۔ 
یہ خبر اس خاندان پر بجلی بن کر ٹوٹی تھی۔۔۔ مزید براں وہ بڑے ڈھرلے سے ڈھنکے کی چوٹ پر اسے گھر بھی لے آیا تھا۔۔۔
واجد خان تو کف اڑاتے مرنے مارنے پر تل آئے تھے ۔۔
بڑے دونوں بیٹے بیوی بچوں کے ساتھ فیملی ٹور پر گئے تھے۔۔۔ ایک شامیر ہی بچتا تھا جو آج کل گھر ہی تھا۔۔۔ ماں کی کل امیدوں کا محور اس وقت وہی تھا جو اس وقت کسی انہونی کو  ہونے سے روک سکتا تھا۔۔۔
ورنہ اگر ایک کی آنکھوں میں خون اترا تھا تو دوسرے کے آنکھوں میں بغاوت تھی۔۔۔ ہواوں کا رخ بتلا رہا تھا کے آج یہ آشیانہ نہیں بچنے والا۔۔۔
ارحم خان پشت پر ہاتھ باندھے تن کر باپ کے سامنے کھڑا باغی نگاہیں انکی خون چھلکاتی نگاہوں میں گاڑھے ہوئے تھا۔۔۔
جس طرح خاموشی سے اس بدذات کو یہاں لے کر آئے ہو ارحم خان اسی خاموشی سے اسے طلاق دے کر فارغ کرڈالو ورنہ ۔۔۔
بات کرتے وقت  تہذیب کا دامن تھامے رکھیں بابا جان۔۔۔ یہ لڑکی اب میری عزت ہے۔۔۔
ارحم خاننننن۔۔۔۔ بابا ڈھارتے ہوئے گرج کر اسکی جانب بڑھے جب ماں سرعت سے بیٹے اور باپ کے درمیان حائل ہوئیں۔۔۔
غصہ جب سر پر سوار ہو تو رشتے ناطے سب فراموش ہو جاتے ہیں۔۔ واجد خان نے بے طرح بازو جھٹک کر خود کو چھڑوایا ۔۔۔ نتیجتاً ماں کا بیلنس بگڑا اور وہ اونڈھے منہ زمین بوس ہوئیں۔۔۔
آہہہ۔۔۔ ایک دل خراش چیخ انکے حلق سے برآمد ہوئی۔۔۔ امل تڑپ کر انکی جانب لپکی۔۔۔ جبکہ ماں کی حالت پر ارحم کے قدموں تلے سے زمین کھسکی جب وہ بے آب مچھلی کی مانند تڑپ کر انکی جانب لپکا لیکن بابا نے اسے بیچ سے ہی دبوچ لیا۔۔۔
وہ پے در پے اسکے چہرے پر گھونسوں کی بارش کر رہے تھے۔۔۔ بے غیرت اولاد۔۔۔ 
آج یا تو نہیں یا میں نہیں۔۔۔ وہ اپنے آپے میں نا رہے تھے۔۔۔ جبکہ ارحم خاموشی سے انکے مکوں اور گھونسوں کی بارش سہتا انہیں پیچھے کر کے ماں کی جانب بڑھنا چاہ رہا تھا جنکی حالت بگڑ رہی تھی۔۔۔
دفعتاً بابا  اسے غصے سے دور  جھٹکتے گارڈ کی جانب بڑھے اور اسکے یونیفارم کے ساتھ لٹکے ریوالور کو جھپٹ کر اتارا۔۔۔
دفعتاً برق رفتاری سے شامیر کی گاڑی زن سے کار پورچ میں داخل ہوئی۔۔۔
آج میرا خون تمہارے سر ارحم۔۔۔ بابا نے کف اڑاتے ریوالور اپنی کنپٹی پر تانا۔۔۔
بابا۔۔۔ خان۔۔۔  امل اور ماں دہل اٹھیں۔۔۔ جبکہ اس بگڑتی صورتحال سے ارحم کے بھی ہاتھوں کے طوطے اڑے۔۔  سب سوچا تھا مگر یہ کہاں سوچا تھا۔۔  لمحوں میں اسکی رنگت فق پڑی۔۔
شامیر ایک جست میں گاڑی سے نکلا۔۔۔ اور بھاگتا ہوا باپ کی جانب لپکا۔۔
آج تمہیں چننا ہوگا ارحم۔۔۔ باپ یا یہ کم ذات معمولی لڑکی۔۔۔ وہ ڈھارے۔۔۔
بابا بی ریلیکس۔۔۔ ہم ۔۔۔ ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔ شامیر نے انکے قریب آتے دونوں ہاتھ اٹھا کر تحمل سے کہتے انہیں ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔۔
میرے تین گننے تک اگر تم نے اس لڑکی کو طلاق نا دی تو میرا خون تمہارے سر پر ہوگا۔۔ اس گستاخ کو میرے جنازے کو کندھا نہیں دینے دینا شامیر۔۔۔
وہ روبدارانہ آواز میں کہتے آخر میں بھرائی آواز میں شامیر سے مخاطب ہوئے۔۔۔ جو خود اس صورتحال سے بوکھلایا لگتا تھا۔۔۔ اسنے شدت سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
ایک۔۔۔واجد خان گرجے۔۔۔
شامیر حواس باختہ سا کبھی باپ تو کبھی چھوٹے بھائی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
ناجانے کہاں سے اتنی ہمت مجتمع کرتی ماں اٹھی اور ارحم کے قدموں میں گر پڑیں۔۔۔
تمہیں خدا کا واسطہ ارحم چھوڑ دو اس لڑکی کو۔۔۔ ماں نے کپکپاتے ہاتھوں سے ارحم کے پاوں پکڑے تو وہ جی جان سے لرز اٹھا۔۔۔ روح پاوں کے رستے جسم سے پرواز کرتی محسوس ہوئی۔۔۔  وہ بے دم ہونے لگا۔۔
آنکھیں صدمے سے پھٹ پڑیں جسم یوں کپکپایا جیسے وہ ابھی زمین بوس ہو جائے گا۔۔۔
نہیں۔۔۔ ارحم کے پیچھے چھپا وہ نازک وجود بگڑتی صورتحال پر چیخ مارتا پیچِے ہٹا۔۔۔
نن۔۔۔ نہیں۔۔ ارحم۔۔۔ نہیں۔۔۔
آ۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔ مم۔۔ میں اپکے لئے اپنا گھر بار۔۔۔ ہر چیز۔۔۔ ہر چیز داو پر لگا کر واپسی کے سبھی راستے بند کئے ساری کشتیاں جلا کر آئی ہوں۔۔۔ وہ نازک وجود مخالف چلتی ہواوں کے تھپیروں میں بے یارو مددگار رہ جانے کے خوف سے تڑپ تڑپ کر رو دیا۔۔۔
ارحم کے دل کی ڈھرکنیں سست پڑنے لگیں تھیں۔۔۔ ایک طرف محبت تھی تو دوسری طرف اسکے پاوں کو پکڑے اسے بے دم کرتی ماں۔۔ جبکہ سامنے باپ ریوالور تانے کھڑا تھا۔۔۔ اسے لگا ابھی روح قفص عنصری سے پرواز کر جائے گی۔۔۔
دو۔۔۔۔
ارحم کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں مفلوج ہو رہی تھیں۔۔۔ 
ارحم میں تمہیں دودھ نہیں بخشوں گی ۔۔۔ تمہیں اپنا مرا منہ تک نہیں دیکھنے دوں گی۔۔۔ ماں پھپھپک کر رو دیں۔۔۔۔ انکے کمزور ہاتھوں کی گرفت اسکے قدموں سے ڈھیلی پڑی۔۔۔ وہ گہرے گہرے سانس بھر رہیں تھیں۔۔۔
ماں۔۔۔
شامیر انکی ٹیرھی ہوتی آنکھین اور ڈھیلا پڑتا جسم دیکھ شدت سے انکی جانب لپکا۔۔۔
طلاق دو اس لڑکی کو ارحم ورنہ میں گولی چلا دوں گا۔۔۔
نہیں ارحم۔۔۔ نہیںنننن۔۔۔
ماںنننننن۔۔۔ 
تینننن۔۔۔
گہرے گہرے سانس لیتا ارحم اس یکدم پلٹا کھا کر بگڑتی صورتحال کے ڈھارے میں بہتا۔۔۔۔فق پڑتی رنگت اور بہتی آنکھوں سمیٹ بے دم ہوتے وجود کیساتھ گرتا پڑتا محبت کی بازی ہار گیا تھا۔۔۔
اتنی دیدہ دلیری سے ایک بڑا قدم اٹھا کر باپ کے روبرو آنے کے بعد وہ ماں کی دم توڑتی حالت اور باپ کا جنون دیکھ ہارتے ہوئے  وہ قبیح الفاظ منہ سے نکال گیا جسنے لمحے میں مضبوطی سے جڑے رشتے کو کچے دھاگے کی مانند ثابت کرتے ان دونوں کو لمحوں میں ایک دوسرے پر حرام کر دیا تھا۔۔۔
ساتھ ہی جہاں بابا کے منہ پر فاتحانہ مسکراہٹ چمکی وہیں اپنے پیچھے سے ڈھرام کی ابھرتی آواز پر وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں پلٹا اور پیچھے اسکی بے وفائی و عہدو پیمان میں کاذب ٹھہرنے پر وہ معصوم یہ صدمہ نا سہارتے سانسوں کی ٹوٹی ڈور سمیٹ آنکھیں آپس میں پیوست کئے زمین بوس ہو چکی تھی۔۔۔
جیسے اس غضب کی بے وفائی کے بعد وہ اس بے وفا کا چہرا دیکھنا بھی خود پر حرام کر چکی ہو۔۔۔
جبکہ محبت کی اس ناقدری پر گویا ارحم کا دل پھٹ گیا۔۔۔ آنکھ سے خون ٹپکنے لگی۔۔۔ اسے لگا وہ دوسرا سانس تک نا لے پائے گا۔۔۔
*****
ارحم ہسپتال کی یخ بستہ راہداری میں سنجیدہ و گم صم سا بینچ پر بیٹھا گھٹنوں پر کہنیاں رکھے ہاتھ باہم پیوست کئے ہاتھوں پر سر ٹکائے بیٹھا تھا۔۔
سینے میں ڈھرکتا دل گویا ساکت ہو گیا تھا۔۔۔ جیسے وہاں جینے کی کوئی امنگ بچی ہی نا ہو۔۔۔ 
اس جیسا بد نصیب بھی کوئی ہو گا بھلا جو محبت کو پا کر گنوا دے۔۔۔۔ سینے سے اٹھتا یہ بے جان کرتا درد اسکے پورے جسم میں سرائیت کرتا جا رہا تھا۔۔۔
اسی ہسپتال کے ایک کمرے میں ماں ایڈمٹ تھی جنکی خطرناک حد تک شوٹ کرتی شوگر بائیں کندھے اور بازو کو مفلوج کر رہی تھی۔۔ بروقت ٹریٹمنٹ سے انکی کنڈیشن کو کنٹرول کیا گیا تھا۔۔۔ جبکہ اسی راہداری کے ایک کمرے میں وہ دشمن جان تھی جسکا سب سے بڑا مجرم ارحم خود تھا۔۔۔
دفعتاً تھکا ہارا شامیر تھکے تھکے قدم اٹھاتا اسکے پاس آ کر بیٹھا اور اسکے شانے پر پر ہاتھ رکھا۔۔۔ گویا تسلی دینے کو الفاظ ختم ہو گئے ہوں۔۔۔
اس صورتحال نے شامیر کو بھی اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔ اصول تو سب بیٹوں کے لئے بابا کے ایک سے تھے۔۔۔ جب ارحم کا یہ حال تھا کے دیکھا نہیں جا رہا تھا تو اسے رعایت کیسے مل جاتی۔۔  یہ ہی چیز اسکے اندر سناٹے اتار رہی تھی۔۔۔
ارحم نے خشک بنجر ویران اور زندگی سے عاری نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
ارحم کی حالت دیکھ گویا شامیر کے سینے پر کسی نے آرا چلا دیا ہو. ۔
ڈاکٹر کہتے ہیں کے صدمہ برداشت نا کر پاتے عینہ کا دل بند ہو گیا۔۔۔ اسے میجر ہارٹ اٹیک آیا ہے بھائی۔۔۔۔
سچی محبت تو پھر وہی کرتی تھی نا میرے ساتھ بھائی۔۔۔ جو بے وفائی برداشت نا کر پائی۔۔۔
ورنہ میرا دل کیوں بند نا ہو گیا۔۔۔
ارحم نے کپکپاتے ہاتھ کی پشت سے نم آنکھیں صاف کیں۔۔۔
بھائی کی شکستہ خیر حالت دیکھ شامیر کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔۔
اسنے شدت سے ارحم کو خود میں بھینچا۔۔۔
وہ بچوں کی مانند سسک اٹھا۔۔۔
قسم سے بھائی۔۔۔ دل چاہتا ہے خود کشی کر لوں۔۔۔ یہ میں نے کیا کر ڈالا۔۔۔ میں اتنا کمزور کیسے نکلا۔۔۔ کیا یہ ہی تھی میری محبت۔۔۔
شامیر گہری گہری سانس بھرتا اسکی کمر سہلا رہا تھا۔۔۔
تکلیف کی شدت اسکی رگیں کاٹ رہی تھیں۔۔۔ اپنا آپ مجرم لگنے لگا تھا۔۔۔ وہ پینک ہو رہا تھا۔۔  کچھ بعید نا تھا اسی گلٹ میں خود کو نقصان پہنچا بیٹھتا۔۔۔
اسکے گھر والوں کو اطلاع دی ہے کیا ارحم۔۔۔ اسنے ہاتھوں سے نکلتے ارحم کو جھنجھوڑ ڈالا۔۔۔
ارحم نے اسے یوں دیکھا جیسے وہ کوئی بھوت دیکھ چکا ہو۔۔۔ ہو۔۔۔
بھائی اگلے ہفتے اسکی شادی تھی اسکے کزن کے ساتھ۔۔۔ وہ اپنی ساری کشتیاں جلا کر آئی تھی میرے ساتھ۔۔۔ میں نے بھی اسے تہی دامن چھوڑ دیا۔۔۔ مائے گاڈ بھائی یہ میں نے کیا کیا۔۔۔ 
شامیر کو گمان گزرا یہ صدمہ اسکے بھائی کو پاگل کر چھوڑے گا۔۔۔
اب اسے کس کے آسرے چھوڑوں ۔۔۔  اسکے گھر والوں کو بلا کر حقیقت سے آشنا کرتا ہوں تو مشکلات تو اسکے لئے ہی بڑھیں گی ۔۔۔ اسکے گھر والے اسے سنگسار کر ڈالیں گے بھائئ۔۔ یہ میں نے کیا کر ڈالا۔۔۔
کیوں کیا میں نے ایسا۔۔۔ کیوں۔۔۔ کیوں ایسے اسے بھیچ منجدھار چھوڑ دیا میں نے۔۔۔ اگر یہ ہی سب کرنا تھا تو میں نے کیوں کی اس سے شادی ۔۔
وہ دونوں ہاتھوں سے زدو کوب کرتا اپنے چہرے پر زور زور سے تھپڑ مارنے لگا تھا۔۔۔
شامیر اسکی حالت دیکھ گھبرا اٹھا۔۔۔
فوری طور پر ڈاکٹر کو بلواتے وہ اسے زبردستی روم میں لے کر گیا اور اسے سکون آور انجیکشن لگوائے۔۔۔
بھائی میں اب کیا کروں۔۔۔ میں اسکے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ بھائی میں اسے اس بے رحم دنیا سے کیسے بچاوں۔۔۔ بھائی اسے بچا لیں۔۔  آپکو خدا کا واسطہ ہے۔۔۔ غنودگی میں جانے تک وہ بہتی نکھوں سمیٹ محض یہ ہی سب بولتا رہا تھا۔۔۔
جبکہ اسکے پرسکون ہو کر کے سوتے ہی شامیر کرسی پر ڈھے گیا۔۔۔
معاملہ تو خاصا گھمبیر تھا آخر کو ایک لڑکی کی پوری زندگی کا معاملہ تھا جو اس وقت زندگی اور موت کی کش مکش میں جھول رہی تھی۔۔۔
آج اسے حقیقتاً اپنی روایات ذات پات اونچ نیچ اور باپ پر جی بھر کر غصہ آیا تھا۔۔۔
عدنان بھائی اور ذوہیب بھائی کو وہ پہلے ہی فون کر کے اس گھر پر ٹوٹی اس قیامت کے بارے میں آگاہ کر چکا تھا۔۔۔۔۔
رات تک وہ بھی پہنچنے والے تھے۔۔۔ انکے چھوٹے لاڈلے بھائی کو اس وقت ان سب کی ضرورت تھی۔۔۔
*****




******

No comments

Powered by Blogger.
4