Rah_e_haq novel 43rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 43rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
ترتالیسویں قسط۔۔۔
وقت کچھ مزید سرکا تھا۔۔۔ بچے تھوڑے سے بڑے ہوئے حتکہ دونوں بچے سکول جانے لگے تو ایمان کی مصروفیات کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئیں۔۔۔
وہ انہیں سکول اور عربی کا خود پڑھاتی تھی
ایک ایک چیز کی پہچان کروا کر۔۔۔ اور صرف تب تک ہی نہیں پھر گھر کے باقی چھوٹے موٹے کام کرتے ۔۔۔ شام کی چائے پیتے۔۔۔پارک میں آتے جاتے وہ انہیں یاد کروایا گیا کام بار بار دہرا کر سنتی۔۔۔ دھند کے باعث کھڑکیوں کے شیشوں پر بننے والی دھند یا کھڑکی کے شیشوں پر گرد پڑ جانے پر انہیں صاف کرنے سے پہلے وہ انگلی سے اس پر حروف تہجی یا گنتی کے لفظ لکھتی اور انہیں بھی ایسا کرنے کو بولتی۔۔۔ یہ بچوں کے لئے ایک دلچسپ ایکٹیویٹی ہوتی۔۔۔ دونوں بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیتے۔۔۔ یوں پارک میں بھی کھیلتے کھیلتے وہ کچی زمین پر تنکے کی مدد سے انہیں سارا کام ریوائز کروا دیتی۔۔۔ یوں تعلیمی ریکارڈ میں بھی بچوں کی کارکردگی بہتریں رہتی۔۔۔
اسنے اپنے بچوں کی شخصیت کو پاور فل بنانے کے لئے ان پر سختی نا کی تھی۔۔۔ بلکہ چھوٹے چھوٹے سٹیپس لیتے غیر محسوس انداز میں رفتہ رفتہ ہر ویلیو کو بچوں کی زندگیوں میں شامل کر دیا تھا۔۔۔
جیسے شروعات اسنے پہلے کلمے سے کی۔۔۔ روز رات کو سونے سے پہلے وہ دونوں کو تعوز اور تسمیہ کے بعد پہلا کلمہ پڑھاتی۔۔۔ اور اسکے بعد آیت الکرسی۔۔۔ اسکا روز کا معمول تھا۔۔
تقریبا تین سے چار ہفتوں کی روٹین کے بعد جس روز بچوں نے روانگی سے اسے یہ دونوں چیزیں خود سے سنائیں اس روز اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا تھا۔۔۔
اسکے بعد اسنے بچوں کو نماز بھی اسی طریقہ کار کے تحت سیکھائی۔۔۔ سب سے پہلے ثنا۔۔۔ جس روز بچوں نے اسے خود سے ثنا سنا دی وہ ایک ایک صورت بڑھاتی گئ۔۔۔
اور یہ سلسلہ کبھی رکا نا تھا۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ۔۔۔ چھ کے چھے کلمے۔۔ پھر ایمان مفصل اور ایمان مجمل اور پھر دعائے قنوت۔۔۔ ایک ایک چیز اسنے بچوں کو سیکھائی تھی۔۔۔ اور روزانہ کی بنیاد پر ان سے رات سونے سے پہلے وہ سب کچھ سنتی۔۔۔
شامیر ہر خاص موقع پر انکے ساتھ ہوتا۔۔۔ وہ کسی بھی بچے کی سالگرہ ہوتی۔۔۔ عید ہوتی۔۔ بچوں کا رزلٹ ہوتا ۔۔۔ پیرنٹ ٹیچر میٹنگ ہوتی۔۔۔ پتہ نہیں وہ اتنی مصروفیات کے ساتھ اپنا وقت کیسے مینج کرتا تھا۔۔۔ لیکن اپنی فیملی کے ہر خاص موقع پر وہ ساتھ ہوتا۔۔۔ اور ہر خاص موقع کو مزید خاص بنایا جاتا۔۔۔۔
مزید انکی زندگیوں میں تبدیلی یہ آئی تھی کے شامیر کو فون کرنے اس سے بات کرنے کے لئے اسکے مسائل کے درپیش وقت کا حساب کتاب لگانا اور بہتر وقت پر کال کرنے جیسی بندشیں ایمان کے لئے تھی۔۔۔ بچوں کے لئے ایسی کوئی بندش نا تھی۔۔۔ اور نا ہی وہ ایسی کوئی بندش مانتے۔۔ سبحان تو کم کم ہی کرتا مگر زوہان شامیر خان کو کوئی چیز روک نہیں سکتی تھی۔۔۔
جب سے اسنے باپ کا نمبر ملانا سیکھا تھا وہ دن میں کئ کئ بار باپ کو فون کر کے اپنی فرمائشیں نوٹ کرواتا۔۔۔
اور کبھی کبھار تو ضد کر کے یوں باپ کو حکم دیا جاتا کے وہ ابھی گھر آئے مطلب ابھی۔۔۔ کے شامیر کو اپنا سارا شیڈیول پس پشت ڈالتے اسکے سامنے ہتھار ڈالتے اسکے پاس آنا پڑتا۔۔۔
ایمان نے کئ بار اسے سمجھانا چاہا۔۔۔ مگر وہ زوبان خان ہی کیا جو سمجھ جائے۔۔۔ اسکے لئے اسکا باپ اسکا تھا۔۔۔ اور اسکے باپ پر سب سے زیادہ حق بھی اسکا تھا۔۔۔ وہ جب باپ کو پکارے گا باپ کا اسکے پاس آنا لازم ہے۔۔۔ اور اپنی بات ثابت کرنے کو اسکے پاس ایسی ایسی دلیلں ہوتی کے شامیر تو کورنش بجا لاتا جبکہ ایمان سر تھام کر رہ جاتی۔۔۔
جیسے جیسے وہ بڑے ہو رہے تھے۔۔۔ انکی ڈیمانڈز بڑھ رہی تھی۔۔۔ اور دلیلیں دے کر اپنی بات ثابت کرنے کے لئے انکی پاس دلیلوں کی کمی نا ہوتی۔۔۔
زوہان چھ سال کا تھا جب شامیر کے آنے پر وہ نہایت مدبرانہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
ایمان کچن میں کام کر رہی تھی۔۔۔ سبحان کارپٹ پر بیٹھا اپنا ہوم ورک کر رہا تھا۔۔۔ جبکہ شامیر صوفے پر بیٹھا دیوار گیر ایل سی ڈی پر کوئی نیوز سن رہا تھا جب باپ کے ساتھ بیٹھا وہ اپنی پھولی پھولی گال تلے انگلی رکھے نہایت پرسوچ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
ہمارا گھر اتنا چھوٹا کیوں ہے ڈیڈ۔۔۔۔ اسکے سوال پر شامیر چونکا۔۔۔۔حالانکہ آپ ریچ بھی ہو۔۔۔ اپکے پاس پیسے بھی ہیں بڑی سی گاڑی بھی ہے۔۔ ہم مالز میں بھی جاتے ہیں۔۔۔ ڈھیر ساری شاپنگ بھی کرتے ہیں۔۔۔
اسکی باتیں سن کر جہاں شامیر نے ایل سی ڈی کی آواز میوٹ کی وہیں کچن میں کام کرتی ایمان کے ہاتھ بھی ٹھٹکے۔۔ اسکے شہزادے انہیں یونہی مضحمے میں ڈالتے تھے۔۔۔
ہمم بات تو ٹھیک ہے میرے شیر۔۔۔ ہیں تو ہم ریچ۔۔۔ مگر پرابلم کیا ہے۔۔۔ شامیر نے ایل سی ڈی کا ریمورٹ میز پر رکھتے اسے اٹھا کر گود میں بیٹھایا۔۔۔۔
میرے سب فرینڈز کے گھروں کی اتنی بڑی بڑی چھتیں ہیں ڈیڈ۔۔۔ اسنے معصومیت سے دونوں ہاتھ کھول کر گویا اسے چھت کا سائز بتانا چاہا۔۔۔
وہ علی ہے نا۔۔۔ شامیر نے ناسمجھی سے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
اسکی برتھ ڈے پارٹی کی ساری ارینجمنٹس انکی بڑییییی سے چھت پر کی گئ تھی۔۔۔
اور فہد کی برتھ ڈے کی ارینجمنٹس انکے بڑے سے لان میں۔۔۔
بس ہم ہی ہیں جن کی برتھ ڈے پارٹی ریسٹورینٹ میں سیلبریٹ ہوتی ہے۔۔۔ ہمارے گھر کی بڑی سی چھٹ اور ہمارا لان کیوں نہیں ہے۔۔۔
اپنی عمر کے مطابق اسنے بہت بڑی بات کرتے شامیر کے لئے سوچ کے بہت سے در وا کر دئیے تھے۔۔۔
وہ گم صم رہ گیا۔۔ اسکے بیٹے نے اسکی سوچ اس جانب مبذول کروا دی تھی جس جانب وہ خود سے نا جاسکی تھی۔۔۔
ہمممم۔۔۔ بات تو ٹھیک ہے آپکی بیٹا۔۔۔
ادھر آو سبحان۔۔۔ اسنے پنسل ہونٹ پر رکھے ان دونوں کی جانب دیکھتے سبحان کو بھی اپنے پاس بلوایا۔۔۔
اچھا دونوں بتائیں آپکو کیسا گھر چاہیے ہم آج ہی فائنل کر لیں گے۔۔۔ وہ دونوں بیٹوں کے ساتھ یوں باہمی مشاورت کرنے لگا تھا جیسے وہ دونوں واقعی اسے بہت اچھے اچھے آئیڈیاز دیں گے۔۔۔
اور پھر اسنے محض کہا ہی نا تھا واقعی واپس جانے سے پہلے ایک خوبصورت سا بنگلہ خرید کر وہاں انکی شفٹنگ یقینی بنائی تھی۔۔۔
یہ اس بنگلے کے کاغذات ہیں ایمان۔۔۔ اوراپنی ضروری پیکنگ کر لو۔۔۔ کل صبح ہماری وہاں شفٹنگ ہے۔۔۔ جانے سے پہلے میں یہ کار خیر بھی سر انجام دے کر جاوں گا۔۔۔
بنگلے میں شفٹ ہونے سے ایک رات پہلے اسنے ایمان کو وہ کاغذات تھمائے۔۔۔
کیا کرتے ہیں آپ بھی خان۔۔۔ وہ تو بچے ہیں۔۔۔ آپ تو بڑے ہیں۔۔۔ بڑا گھر ہماری ضرورت نہیں تھا۔۔۔ ہم نے اکیلے رہنا ہوتا ہے۔۔۔ آپ ہمارے ساتھ ساتھ کم کم ہوتے ہیں۔۔۔ ایسے میں یہ گھر ہمارے لئے بلکل محفوظ ٹھکانہ تھا۔۔۔ وہ جھنجھلائی۔۔۔
غلط۔۔۔ وہ شدت سے اسکی نفی کر گیا۔۔۔
ہر وہ جگہ جہاں رہا جائے وہاں چند اختیاطی تدابیر کے باعث اسے اپنے لئے محفوظ بنا لیا جاتا ہے۔۔۔۔
اور یہ میرے بچوں کے بڑھتی عمر کے ساتھ بنیادی تقاضے ہیں۔۔ جن کی طرف میرا پہلے خیال نا جا سکا۔۔۔
وہ ایک بزنس مین شامیر خان کے بچے ہیں۔۔ انکا رہن سہن اور لائف سٹائل اس لیول کا ہونا چاہیے۔۔۔ جس لیول کا لائف سٹائل انکا حق ہے۔۔
آخر اتنی محنت انکے باپ نے کیوں کی ہے۔۔۔ تاکے میری اولاد میرے دم پر عیش کر سکے۔۔۔ ورنہ میری عیش کے لئے میرے باپ کی وراثت کم نہیں تھی۔۔۔
ہاں میں وقتاً فوقتاً اپنے بچوں کے لئے کوئی نا کوئی پڑاپڑتی خریدتا رہتا ہوں تاکے مستقبل قریب میں انہیں کبھی کوئی فنانشلی چیلنج نا برداشت کرنا پڑے۔۔۔ لیکن یہ اپارٹمنٹ بھی تمہارے نام تھا۔۔۔ اور وہ بنگلہ بھی۔۔۔
اس گھر کی چھت تمہاری ہے ایمان۔۔۔
گھر کو بناتی ہے عورت۔۔۔ اسے سنوارتی ہے سجاتی ہے عورت۔۔۔ وہاں مختلف رنگ بھرنے کے ساتھ ساتھ سکون اور اطمینان کا رنگ بھرتی ہے عورت۔۔۔
عورت ہی ہوتی ہے جو گھر کو جنت بناتی ہے اور عورت ہی ہوتی ہے جو گھر کو جہنم بناتی ہے۔۔۔ نسلوں کی امین ہوتی ہے عورت۔۔ عورت باوفا اور مخلص ہو تو نسلیں سنور جاتی ہیں۔۔۔
میں اس معاملے میں خوش قسمت ہوں ایمان۔۔۔ اور گھر تمہارے نام کرنے کی سیدھی سی وجہ ہماری زندگی کی غیر یقینی صورتحال ہے جو کبھی بھی پلٹا کھا سکتی ہے۔۔۔ ایسے میں کسی بھی ناگہانی صورتحال میں کم سے کم کوئی تمہارے سر سے چھت نہیں کھینچ سکتا۔۔۔
وہ انکے بارے میں جب بھی سوچتا گہرا مدبر ہی سوچتا۔۔۔ اور ایمان ہمیشہ ہی اسکی دور اندیشی کی قائل ہو جاتی۔۔۔
پھر وہ اپنی زیر نگرانی انکی شفٹنگ کروا کر وہاں تمام حفاظتی اقدام جیسے کیمراز لگوانا گارڈ کا انتظام کرنا وغیرہ سب کر کے گیا تھا۔۔۔ وہ دنیا کے جس بھی کونے میں موجود ہوتا اسکی سوچ کا محور ہمیشہ اسکے بیوی بچے ہی ہوتے۔۔۔
*****
پچھلے چند سالوں میں بزنس کی دنیا میں شامیر خان نےدن رات کا فرق مٹاتے محنت کی تھی بے انتہا محنت۔۔۔ یوں کے محنت کا حق ادا کر دیا تھا۔۔۔ یوں کے اس جیسا لا ابالی اور غیر ذمہ دار شخص جس سے اسکا سارا حلقہ احباب واقف تھا ورطہ حیرت میں مبتلا ہو گیا تھا۔۔۔ وہ جس چیز میں ہاتھ ڈالتا اسے اپنی محنت اور ٹیلنٹ کی بیس پر کندن بنا ڈالتا۔۔۔ اسنے یوں محنت کی تھی اور اس تسلسل کے ساتھ کے اسکے باپ جیسا جہاندیدہ شخص اس میں آتی تبدیلیوں کو قدرتی تبدیلیاں سمجھنے لگا تھا۔۔۔
کوئی نہیں جانتا تھا کے اس ان تھک محنت کے پیچھے اسکی بھولی بھالی بیوی کا چہرا ہے یا دن رات کا فرق مٹا کر بنا رکے آگے سے آگے بڑھتے جانے اور جوش و جنون سے کام کرنے کے پیچھے دو معصوم چہروں کی مسکراہٹ پنہاں ہے۔۔۔ جو اسکے چلتے قدموں کو رکنے نا دیتے تھے۔۔ جو اسے پہاڑوں پر راستہ بنانے کا حوصلہ دیتے تھے۔۔۔ اپنی اس دنیا سے رابطہ بحال رکھنے کے لئے اسنے خود کو کاموں میں اسقدر غرق کر لیا تھا کے اپنی ہائی فائی دنیا سے اسکا میل ملاپ رسمی سا ہو گیا تھا۔۔۔
اتنے مصروف شیڈیول میں اسکی غیر حاضری ٹریک کر پانا ناممکن امر تھا۔۔۔
آئے دن وہ مختلف ملکوں میں ہوتا۔۔ پاکستان میں ہوتا بھی تو مختلف شہروں میں اسکے پڑاجیکٹس زیر تعمیر ہوتے۔۔۔ ایسے میں ہر ٹور پر آتے جاتے اسکا ایکسائٹمنٹ لیول پیک پر ہوتا وجہ راستے میں پڑنے والا وہ پراو ہوتا جو اسے تازہ دم کر دیتا۔۔۔
کبھی کبھار اسکے ہفتے میں دو دو ٹوڑ ہوتے اور اسکا معمول تھا ہر فلائیٹ لاہور سے کنڈکٹ ہوتی اور آتے جاتے اسکا پڑاو اپنے گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ ہوتا۔۔۔ یہ ہی چیز اسکی پڑودکٹیویٹی بڑھاتی تھی۔۔۔
باپ کے گھر کا رخ کئے تو اسے مہینہ مہینہ گزر جاتا ۔۔۔ اور سب رفتہ رفتہ اسکی اس روٹین کو قبول کرنے لگے تھے۔۔۔
اسکی اسقدر انتھک محنت کا نتیجہ اسکی غیر معمولی کامیابی کی صورت نکلا تھا کے کمپنیز پڑاجیکٹ کے لئے اسکے پیچھے پیچھے پھرنے لگی تھیں۔۔۔
جہاں اسنے بزنس کی دنیا میں بہت ساری ناموری کمائی تھی وہاں بہت سی دشمنیاں بھی پال لی تھیں۔۔۔
جہاں وہ اتنی بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتا تھا وہاں وہ اتنے بڑے بڑے خطرات بھی ساتھ لئے پھرتا تھا۔۔۔۔
اسکے دشمن کسی چیل کی مانند اسکی طاق میں تھے کے اسکی کوئی کمزوری کوئی غلطی قابل گرفت ہو جسکی بنیاد پر اسکی ٹانگ کھینچ کر اسے زمین بوس کیا جا سکے۔۔۔
لوگ اتنی کم عمری میں اسکے بزنس کی دنیا میں ایک مقام پا جانے کو قبول ہی نہیں کر پا رہے تھے۔۔۔ اور شامیر خان اسے کسی کی پرواہ نا تھی۔۔۔۔
اس دفعہ بھی وہ تقریباً تین ہفتوں بعد اپنے اسلام آباد والے گھر آیا تھا۔۔۔ اس وقت وہ ڈھیلے سے ٹراوز شرٹ میں ملبوس گھر کے لاوئنج میں بیٹھا تھا لیکن وہ پہلی ہی نظر میں گھر میں چھائے ایک غیر معمولی سے سناٹے سے گھر کی بگڑی آب و ہوا کے بارے میں جان گیا تھا۔۔۔ وہ گھر کم کم ہی رہتا تھا اس لئے گھر کے معاملات سے بھی کم کم ہی آگاہ ہوتا تھا۔۔۔۔
ماں بھی اسے بہت گم صم سی لگیں البتہ امل بھی چپ چپ سی تھی۔۔۔ بابا کے رویے سے وہ کچھ اخذ نا کر پایا تھا جبکہ عدنان بھائی اور ذوہیب بھائی اپنی اپنی فیملز کے ساتھ کسی فیملی ٹورز پر گئے تھے۔۔۔
دفعتا امل اسے کچن میں جاتی دکھائی دی تو وہ بھی اٹھ کر اسکے پیچھے ہی آ گیا۔۔۔ پچھلے سال ہی اسکی شادی بہت دھوم دھام سے کی گئ تھی اور آج کل وہ وہاں آئی ہوئی تھی۔۔۔
امل گھر میں سب خیریت ہے نا۔۔۔ مجھے یہاں کچھ غیر معمولی سا لگ رہا یے۔۔۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھتا کچن کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا گیا۔۔۔
فریج سے جوس نکالتی امل پھیکا سا مسکرائی۔۔۔
نئ کہانی نہیں ہے بھائی۔۔۔ پرانی ہی کہانی ہے جو دہرائی جا رہی یے۔۔۔ بس فرق یہ ہے کے کچھ عرصہ پہلے اس مقام پر عدنان بھائی تھے اب کی مرتبہ ارحم ہے۔۔۔
مجھے بھی اسی نے بلوایا تھا کے شاید بابا کو راضی کیا جاسکے۔۔ مگر بابا تو پھر بابا ہیں۔۔۔ کیا یہ آسان امر ہے انہیں راضی کرپانا۔۔۔ وہ خاصی دلبرداشتہ لگتی تھی۔۔۔
ارحم کہاں ہے۔۔۔ شامیر لب بھینچ گیا۔۔۔
اپنے کمرے میں ہے بھائی۔۔ وہ عدنان بھائی جیسا سمجھدار نہیں ہے بھائی۔۔۔ بابا کے انکار سے وہ بہت ڈس ہارٹ ہوا ہے۔۔۔ اور وہ اپنی کلاس میٹ کو لے کر کافی سنجیدہ ہے۔۔۔مجھے ڈر ہے کے وہ جذباتی ہو کر کوئی غلط قدم نا اٹھا بیٹھے۔۔۔ امل کی آواز بھرائی۔۔۔
فکر نا کرو تم۔۔۔ میں دیکھتا ہوں۔۔۔ وہ پریشان سا وہیں سے ارحم کے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔
*****
شامیر نے ارحم کے کمرے کا دروازہ وا کیا تو اندر سے اے سی کی خنکی کے ساتھ ساتھ نیم اندھیرے اور ڈھیر سارے سگرٹ کے دھویں نے اسکا استقبال کیا۔۔۔
اس قدر فرسٹریٹڈ ماحول میں اسکا دل بے طرح گھبرایا۔۔۔
اسنے جلدی سے آگے بڑھتے کمرے کی بتی روشن کی۔۔۔
کمرا دھویں سے بھڑا پڑا تھا۔۔۔ اتنا دھواں کے سانس لینے میں دشواری ہو۔۔۔ سائید ٹیبل۔اور کارپٹ پر جگہ جگہ سگریٹ کے ٹکرے گرے پڑے تھے۔۔۔ شامیر نے بے طرح کھانستے تیزی سے آگے بڑھتے کھڑکی کے شیشے کھولے ۔۔ واپس بیڈ کی جانب پلٹا تو دل دھک سے رہ گیا کے ارحم آڑی ترچھی حالت میں بستر پر بے سدھ گرا پڑا تھا۔۔۔
وہ تڑپ کر اسکی جانب لپکا۔۔۔
ارحم۔۔۔ ارحم اٹھو بڈی۔۔۔
اسنے گھبراتے ہوئے بے طرح اسکا چہرا تھپتھپایا۔۔
******

No comments