Rah_e_haq novel 42nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 42nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
بیالیسویں قسط۔۔۔
حسب سابق سبحان اپنی نیند پوری کر کے اٹھا تو کافی فریش تھا۔۔۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہو رہا تھا اٹھنے پر کاٹ میں بیٹھ جاتا اور باقاعدہ باہر نکلنے کی کوشیش کرتا۔۔۔ اور اس کوشیش میں وہ کئ دفعہ زمین بوس ہو کر چوٹ بھی لگوا لیتا۔۔۔ اسی امر کے تحت حکمت عملی ایمان نے یہ اختیار کی کے سبحان کی کاٹ کو دیوار کے ساتھ لگا کر اسکی دوسری طرف وہ نیچے سنگل میٹرس بچھا دیتی۔۔۔ یوں اگر سبحان کاٹ سے نکلنے کی کوشیش میں گرتا بھی تو میٹرس کے باعث بچت رہتی۔۔۔
آج بھی یہ ہی ہوا۔۔۔ ایمان عصر کی نماز پڑھ رہی تھی جب وہ اٹھ کر کاٹ سے نکلتا رینگتا ہوا کمرے سے باہر آیا۔۔۔ اور باپ کو صوفے پر گہری نیند میں محو پا کر جوش سے اسکی جانب بڑھا ۔۔۔ شامیر کے پاس پہنچ کر وہ صوفے کے سہارے کھڑا ہوا اور خوشی سے چہکتے اسکے چہرے پر زوردارانہ انداز میں ہاتھ مارتے اسکے بال تک کھینچ ڈالے۔۔۔
اوہہہہہ۔۔۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھا۔۔۔
جتنا غصہ گہری نیند ٹوٹنے پر آیا تھا سامنے اپنے شہزادے کا مسکراتا چہرا دیکھ جھاگ کی مانند بیٹھ گیا۔۔۔
اوہ۔۔۔ حان بے بی۔۔۔ یہ کیا کیا آپ نے شہزادے۔۔۔ وہ تنے تاثرات ڈھیلے چھوڑتا اسے اٹھا کر اپنے اوپر لٹاتا تھپکنے لگا۔۔۔
لاوئنج کے کونے میں نماز پڑھتی ایمان سلام پھیر کر بے ساختہ مسکرا دی۔۔۔
کوئی نہیں۔۔۔ آپ نے بھی ایسے ہی اسکی نیند خراب کی تھی۔۔۔
کبھی بیٹے کے سامنے میری سائیڈ مت لینا تم۔۔۔۔ وہ اسے شدت سے خود میں بھینچتا اٹھ بیٹھا جبکہ ایمان مسکرا کر رہ گئ۔۔۔
****
یہ کونا تم نے کافی خوبصورتی سے سجایا ہے ایمان۔۔۔ جان ڈال دی ہے تم نے اس کونے میں۔۔۔ ایمان شامیر کے لئے کافی بنا کر لائی تو اسے اپنی ورکنگ پلیس میں بیٹھے پایا۔۔۔۔
وہ بک ریک میں موجود سبھی کتابوں کو دیکھ کر اب اسکی ورکنگ کرسی پر بیٹھا ورکنگ ٹیبل پر پڑے سارے آرگنائزر منظم طریقے سے آرگنائزڈ دیکھ کر اب لیپ ٹاپ آن کئے بیٹھا تھا۔۔۔
تھینکیو۔۔۔۔ وہ اسکا مگ اسکے سامنے رکھ کر اپنا مگ ہاتھ میں ہی تھامے دوسری کرسی گھسیٹ کر اسکے پاس رکھتی وہیں بیٹھ گی۔۔۔
تم آڑٹیکلز لکھتی ہو ایمان۔۔۔ وہ لیپ ٹاپ کی سکرین پر دیکھتا مختلف فولڈرز چیک کر رہا تھا۔۔۔
کوشیش کر رہی ہوں۔۔۔ وہ مسکرائی۔۔
میں نے تمہارے آرٹیکلز پڑھے ہیں ایمان۔۔۔ کافی پاور فل لکھا ہے تم نے۔۔۔ تمہارے الفاظ بھی تمہاری شخصیت کی طرح پاور فل ہیں۔۔۔ اس تعریف پر وہ بے طرح جھینپ گی۔۔۔
کہنے کا مطلب ہے کے میرا ایک دوست ہے جسکا نیوز پیپر پبلشنگ ہاوس ہے۔۔۔ اگر تم چاہو تو میں اس سے بات کر سکتا ہوں تم اپنے آرٹیکلز اسے میل کرو۔۔۔ اگر سلیکٹ ہو گئے تو اخبار میں چھپنے لگیں گے۔۔۔ وہ ایک کے بعد ایک اسکا کام چیک کرتا مصروف سا کہہ رہا تھا۔۔۔
واقعی۔۔۔
افکورس۔۔۔
یہ غیر متوقع تھا۔۔۔ اسے اپنے الفاظ زیادہ لوگوں تک پہنچانے کو پلیٹ فارم نہیں مل رہا تھا اور اللہ نے بیٹھے بیٹھائے اسکے لئے راہیں استوار کر ڈالی تھیں۔۔۔ بلاشبہ وہ رب وہاں وہاں سے وسیلے بنا دیتا ہے جہاں تک انسان کا گمان تک نا جاسکتا ہو۔۔۔۔۔۔ ایک مستند ادارے کے ذریعے سے اسکا کام ایک ہی جھٹکے میں پورے پاکستان میں گردش کر جاتا۔۔۔ اسکا دل خوش گمان ہونے لگا۔۔۔ اور دلی خوشی کا عکس چہرے پر چھانے لگا تھا
اور یوں تمہاری ادبی حلقے میں پہچان بنے گی سو الگ۔۔۔
ویل ویٹ میں ہی اسے میل کر کے اس سے رابطہ کرتا ہوں۔۔۔ اسنے وہیں بیٹھے جی میل کھول کر اسکے چند ایک آرٹیکلز ہیڈنگ کے بیس پر سلیکٹ کر کے اپنے دوست کو میل کر ڈالے ۔۔۔ساتھ ہی اسکا نمبر ملاتا فون کان سے لگا کر رابطہ استوار ہونے کا انتظار کرنے لگا۔۔
اب واقعی اگر تمہارے آرٹیکلز دم دار ہوئے تو جلد ہی اخبار کی ذینت بنیں گے۔۔۔ ایمان کے سامنے ہی اپنے دوست سے بات کر کے اسے سارا موقف سمجھا کر فون بند ہونے پر وہ ایمان سے گویا ہوا۔۔۔ وہ مسکرا دی۔۔۔
ارد گرد سبحان اپنے واکر میں موجود ہاتھ میں تھاما سیب کا پیس کھا رہا تھا جو ایمان نے اسے دیا تھا۔۔۔
تیار ہو جاو تم بھی ایمان۔۔۔ تب تک میں بھی فریش ہو جاوں پھر باہر چلتے ہیں۔۔۔
اور پھر ایمان اور سبحان کے سنگ ایک خوبصورت شام گزار کر وہ چلا گیا تھا لیکن جاتے جاتے اپنی اور ایمان کی زندگیوں میں چھایا جمود توڑ گیا۔۔۔ ایمان اسکے چکر لگا جانے سے مطمئیں تھی۔۔۔ اور وہ خود بھی ان دونوں سے مل کر جانے کے بعد خود کو سٹریس فری اور مطمئیں محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
ظاہر سی بات تھی جب تک سانس چل رہی ہے نا زندگی کے مسائل ختم ہونے ہیں نا پریشانیاں اور نا ہی چیلنجز۔۔ کیونکہ زندگی نام ہی جہد مسلسل کا ہے ماں کی گود سے لے کر قبر کی لہد تک۔۔ چھوٹے بچے کے لئے چلنا چیلنج ہے تو سکول گوئنگ کے لئے پڑھنا۔۔۔ اسی طرح زندگی کی مختلف فیزز میں چیلنجز بدلتے جاتے ہیں۔۔۔ لیکن یہ ختم نہیں ہوسکتے۔۔۔ کیونکہ زندگی کے مسائل اور چیلنجز کے ختم ہونے کا نام زندگی کی ڈور ٹوٹ کر آنکھیں بند ہو جانا ہے۔۔۔ تو جب تک زندگی کی ڈور قائم ہے یہ تو چلتے رہیں گے۔۔۔ البتہ اس جہد مسلسل والی زندگی میں ایک چیز جو سب سے اہم ہے وہ ہے ذہنی اور قلبی سکون ۔۔ جو حاصل ہو جائے تو زندگی جنت ہے
*****
شامیر خان اس وقت صوفے پر نیم دراز ماں کی گود میں سر رکھے آنکھیں مونڈے لیٹا تھا۔۔۔ رات لیٹ وہ گھر پہنچا تھا تبھی صبح ہی سب سے ملاقات ہوئی۔۔۔ ویسے بھی آج اتوار تھا تو سب گھر پر ہی تھے۔۔۔
کیسا رہا تمہارا ٹور شامیر۔۔۔ دفعتاً بابا وہاں آئے اور سامنے سنگل صوفے پر بیٹھتے میز پر پڑا خبار اٹھا کر پڑھنے لگے۔۔۔
پڑفیکٹ بابا۔۔۔ وہ مسکرایا۔۔۔
تمہاری خواہش تھی میری ٹکر کا بزنس مین بننے کی ینگ مین۔۔۔دفعتاً عدنان بھیا بھی وہیں آ بیٹھے۔۔۔ لیکن تمہارا جنون بتا رہا ہے کے تم بہت جلد میری پرفارمینس کو بھی بیٹ کرتے مجھ سے آگے نکلنے والے ہو۔۔۔ بزنس کی دنیا میں شامیر خان کا ایک نوجوان شارپ مائنڈڈ بزنس مین کے حوالے سے نام گھونجنے لگا ہے چھوٹے۔۔
بھیا کے کہنے پر وہ سیدھا ہوتا کورنش بجا لایا۔۔۔۔ تم سے اتنی امید نہیں تھی شامیر کے تم اتنے کریٹو اور مستقل مزاج نکلو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے کام کی بنیاد پر اپنا سکا منوانے لگو گے۔۔۔
اس تعریف کا شکریہ بھیا۔۔۔ پر مجھے خود نہیں پتہ کے وہ کونسی طاقت ہے جو مجھے اس معاملے میں مستقل مزاج بناتی ہے۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا لاپرواہی سے شانے اچکا گیا۔۔۔۔ہاں میں بھی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں اس وقت پانچ سے سات کمپنیز ویٹنگ پر ہیں جو اپنی بلڈنگز کی کنسٹرکشن شامیر سے کروانا چاہتی ہیں کیونکہ پچھلے دونوں ہڑاجیکٹس میں شامیر نے ایکسٹرا آرڈنری کریٹیویٹی دکھائی ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا کے تم انہیں اتنا ڈیلے کیوں کر رہے ہو۔۔۔ کام چل کر تمہارے پیچھے آ رہا ہے اور تم ان میں ہاتھ تک نہیں ڈال رہے۔۔۔۔دفعتاً ذوہیب بھیا بھی انکے پاس ہی آ بیٹھے۔۔۔
ذوہیب بھائی۔۔ مجھے تھکنا نہیں ہے۔۔۔ کام کو بوجھ نہیں بنانا۔۔ انجوائے کرتے ہوئے کرنا ہے۔۔۔
ویسے بھی میں ایک وقت پر ایک سے زیادہ پڑاجیکٹس پر مکمل یکسوئی سے فوکس نہیں کر سکتا۔۔۔
کڑیٹو کام وقت لیتے ہیں۔۔۔ اور کچھ ایکسٹرا آرڈنری دینا ہے تو محنت تو لگے گی۔۔۔ اس لئے اب پچھلا پڑاجیکٹ مکمل ہو گیا تو ان سب میں سے جو مجھے بہتر چوائس لگے گی اللہ کا نام لے کر اس پڑاجیکٹ میں ہاتھ ڈال دوں گا۔۔۔ وہ مسکرایا۔۔۔
مام بھوک لگ رہی ہے۔۔۔۔
بھوک لگ رہی ہے تو کک سے بولو تمہیں ناشتہ بنا دے۔۔۔ اسکے یوں ماں سے لاڈ سے کہنے پر بابا ناگواری سے گویا ہوئے۔۔۔
مام مجھے آپکے ہاتھ کے آلو کے پراٹھے کھانے ہیں۔۔۔ وہ بابا کو نظر انداز کئے ماں سے گویا ہوا۔۔۔
ماں مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔۔ساری مڈل کلاس والی عادتیں آتی جا رہی ہیں تم میں شامیر۔۔۔
بابا نے گہرا طنز کیا۔۔۔
جیلس نا ہوں آپ میرا اور مام کا پیار دیکھ کر۔۔۔ اسنے ناک سے مکھی اڑائی جبکہ بابا تاسف سے سر ہلا کر رہ گئے۔۔۔
مام میرے لئے بھی بنا دیں ایک پلیز۔۔۔ پاس ہی کارپٹ پر بیٹھی ڈھیلی سی ہاف سلیو شرٹ اور ٹراوزر میں ملبوس فیشن میگزین پڑھتی امل نے ہانک لگائی۔۔۔
اب تمہاری ڈائٹنگ کا کیا بنے گا کاپی کیٹ۔۔۔ اس کے عین پیچھے سنگل صوفے پر بیٹھے موبائل سکرول ڈاون کرتے ارحم نے اسکے سٹیکنگ زدہ سٹریٹ بال کھینچ ڈالے۔۔۔ آہہہہ۔۔۔ اسنے چڑ کر ارحم کے ہاتھ پر چٹکی کاٹی۔۔۔
کبھی کبھار کھانے سے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔
عدنان آپ ناشتہ کریں گے یا سمودی لے آوں آپکے لئے۔۔
دفعتاً نک سک سے تیار میرب بھابھی عدنان بھیا کے پاس آتی گویا ہوئیں تو شامیر چونک کر انکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔۔
خوبصورت سے سٹائیلش سوٹ میں ملبوس۔۔۔ نفاست سے کئے گئے میک آپ اور مناسب جیولری پہنے بالوں کی ٹیل ہونی بنائے سامنے کھڑی میرب بھابھی ہر لحاظ سے ایک نوبیاہتا لگ رہی تھیں جن کے چہرے کی خوشی انکی ازواجی زندگی کی آسودگی کی گواہ تھی۔۔۔
اسنے نہیں پتہ کے بھیا نے انہیں کیا جواب دیا لیکن بھیا کے اٹھ کر باہر لان میں جانے پر وہ بھی انکے پیچھے ہی اٹھ آیا۔۔۔
وہ غالباً کوئی فون کال سننے باہر آیا تھا۔۔۔ اسکے پلٹنے پر وہ اسکے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔۔
میں آپ کے لئے بہت خوش ہوں بھائی۔۔۔ آپکو اور بھابھی کو آپس میں یوں ہسی خوشی دیکھ مجھے واقعی بہت خوشی ہوئی ہے ۔۔۔
عدنان مسکرا دیا پھر شامیر کے سنگ وہیں لان میں چلنے لگا۔۔۔۔
شامیر۔۔۔۔ ہم سب اپنی اپنی ذات کے خول میں بند انسان ہیں۔۔۔۔ جو اپنے خول سے نکل کر کسی دوسرے کو دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔۔۔ ہمارے لئے ہمارے غم ہمارے دکھ ہماری تکلیفیں اتنی بڑی ہیں کے ہمیں کسی دوسرے کے غم انکے دکھ انکی تکلیفیں دکھائی ہی نہیں دیتیں۔۔۔ اور نا ہی ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔
ہم سب کو وہ کندھا چاہیے جہاں سر رکھ کر دل کا بوجھ ہلکا کیا جاسکے۔۔۔ لیکن ہم خود کسی کے لئے وہ کندھا بننا نہیں چاہتے۔۔
بعض اوقات اپنی ذات کے خول میں بند انسان اپنے سے وابسطہ لوگوں کو جان بوجھ کر نظر انداز نہیں کرتا نا ہی مقصد انہیں ایذا پہنچانا ہوتا ہے۔۔۔ لیکن لاشعوری طور پر ہمارا رویہ یہ کام باخوبی سر انجام دے جاتا ہے۔۔۔
میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔۔۔
اپنی ذات کے خول میں بند میں اپنے گرد موجود جیتی جاگتی احساسات و جذبات سے گندھی سانس لیتی ایک معصوم سی بندی کو سمجھ ہی نا سکا۔۔۔۔
میرا کوئی بھی عمل شعوری نا تھا۔۔۔ لیکن لاشعوری طور پر ہی سہی میں کسی کو نظر اندازی کی مار مار رہا تھا۔۔۔ ایک کھلتا گلاب میری سنگت میں مرجھانے لگا تھا۔۔۔
لیکن آگاہی سے روشناس ہونے کے بعد جب میں نے اسے سمجھا اسے جانا۔۔۔ اس سے انٹریکٹ کیا تو جانا کے وہ تو بہت پیارے دل کی مالکن ایک سویٹ سی لڑکی ہے۔۔۔ بلاشبہ میں ہی غلطی کا مرتکب تھا۔۔۔
یقیناً وہ میرے لئے ایک بہترین شریک حیات ثابت ہو سکتی ہے۔۔۔ وہ مسکرایا۔۔۔
تھینکس ٹو یو یار۔۔۔۔ تم نے وقت رہتے میرا ٹریک درست کر دیا کے واقعی طاقت ور پر بس نا چلے تو ایک بے بس اور قطعی بے قصور انسان کو رگیڈنا قطعی نامناسب امر ہے۔۔۔ بھیا نے اسکا شانا تھپتھپاپا تو وہ مسکرا دیا۔۔۔
میں دعا گو ہوں بھائی کے اللہ آپکی زندگی کو مزید پرسکون بنائے۔۔۔ آپ بھی میرے لئے یہ ہی دعا کرنا۔۔۔ لفظوں کے پیراہن میں لپیٹ کر وہ اپنا دکھ اسکے سامنے بیان کرتا اسے ناسمجھی کے بھنور میں الجھا چھوڑ واپس پلٹ گیا۔۔۔
****
وقت کا کام ہے چلنا۔۔۔ وہ کبھی بھی کسی کے لئے بھی نہیں رکا۔۔۔۔ جو اس تیز رفتاری سے بھاگتے وقت کے سنگ تیزی سے قدم اٹھاتے چلتے ہیں وہ اس تیزی سے بدلتی دنیا میں سروائیو کر جاتے ہیں۔۔۔ جبکہ جو خود کو وقت کے ڈھارے پر چھوڑتے ہاتھ پاوں چھوڑ دیتے ہیں پھر وقت انہیں وہیں لے کر جاتا ہے جہاں وہ انہیں لیجانا چاہتا ہے۔۔۔ ایسے لوگوں کی زندگی کی نا کوئی سمت ہوتی ہے اور نا مقصد۔۔۔ یونہی تیزی سے بھاگتی دوڑتی زندگی میں سبحان شامیر خان کی
ہیدائش کے دو سال بعد ایک دن انکی زندگیوں میں آمد ہوئی ایک افلاطون دا گریٹ زوہان شامیر خان کی۔۔۔ جسنے آتے ہی انکی پرسکون سبک روی سے چلتی زندگیوں میں بونچال بھرپا کر دیا۔۔۔۔زوہان شامیر خان اپنے بڑے بھائی سبحان شامیر خان کی نیچر سے ایک دم الٹ نیچر کا بچہ تھا۔۔۔
جیسا کے ہر بچہ الگ فطرت کا ہوتا ہے۔۔۔۔ اور وہ بچہ ماں اور باپ دونوں کے لئے ایک چیلنج ثابت ہوا تھا۔۔۔ ابھی تک ان کا پالا سبحان جیسے کالم اینڈ کول نیچر کے بچے سے پڑا تھا۔۔۔ لیکن زوہان نے انکی زندگیوں میں آتے انہیں بچوں کی قسموں اور انکی نیچر سے متعارف کروا دیا تھا۔۔۔
ایمان کو اپنی پیرنٹنگ پر حاصل کی تمام کونسلنگ خطرے میں جاتی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔
وہ کسی صورت قابو میں نا آتا تھا۔۔۔۔
چھوٹی سی عمر میں ہی ضد شروع کرتا تو ماں کے ساتھ ساتھ باپ کو بھی ناکوں چنے چبوا دیتا۔۔۔ حتکہ رو رو کر سو جاتا۔۔۔
مانگنے پر کوئی چیز نا ملنے پر وبال کھڑا کر دیتا حتکہ ماں باپ دونوں اسکے سامنے ہار مان جاتے۔۔۔ وہ محض ایک سال کا تھا۔۔۔ لیکن بہت کوئیک لرنر تھا۔۔۔
چیزوں میں فرق کرنا جاننے لگا تھا۔۔۔ اور بہت اچھے سے کرنے لگا تھا۔۔۔ اس بات کا احساس اسکے باپ کو اس روز ہوا جس روز مال میں کولڈرنگ مانگنے پر اسنے زوہان کو کولڈرنگ لے کر دینے کی بجائے نیسلے کا جوس لے دیا۔۔۔
پھر جو اس مال میں ہوا شامیر نے کانوں کو ہاتھ لگاتے اسے ریگولر کولڈرنگ لے کر اسکے ہاتھ میں تھمائی تو اسکی ضد پوری ہونے پر اسکا منہ بند ہوا۔۔۔
ایمان اسے جس چیز سے منع کرنے کی کوشیش کرتی وہ وہی کام زیادہ کرتا۔۔۔
سبحان سے چھوٹا ہونے کے باعث جب اس سے جھگڑتا زوہان ہی جھگڑتا۔۔۔
جہاں ایمان کو سبحان کی جانب سے سکون تھا وہیں زوہان اسکے سبھی اندیشے سچ ثابت کر ڈالتا۔۔۔
وہ دونوں بچوں کو بہت پیار سے ڈیل کرنے کی کوشیش کرتی۔۔۔ کبھی کبھار زوہان کی حرکتوں سے عاجز بھی آجاتی۔۔۔ زوہان کے آنے سے ہوا یہ تھا کے اسنے ماں اور باپ کے سبھی کاموں کو محدود کرتے انکی ساری توجہ سمیٹ لی تھی۔۔۔۔ایمان کا زیادہ تر وقت انہی پر سرو ہونے لگا۔۔۔ وہ انہیں چھوٹی چھوٹی کریٹو چیزوں میں الجھائے رکھتی۔۔۔۔
کھلونے بھی ایسے لے کر دیتی جس سے انکی کریٹویٹی باہر نکلتی۔۔۔
وہ ٹیلنٹڈ ماں باپ کی اولاد تھے مزید برآں بچے ہوتے ہی ٹیلنٹڈ ہیں بس انکے ہنر کی پہچان کر کے انہیں باہر نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ جو ماں باپ سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔۔۔
اسنے بچوں کو ڈھیر سارے بلاکس اور بریکس لے کر دئیے جس سے وہ دن کا بیشتر حصہ کچھ نا کچھ بناتے رہتے۔۔۔ اور جب کچھ بنا لیتے تو شامیر ہی انکی کریٹیویٹی دیکھ دھنگ رہ جاتا۔۔۔
بھئ باپ بلڈنگز کنسٹرکٹ کرواتا ہے تو اولاد پیدا ہوتے ہی بلڈنگز بنانے لگی۔۔۔ وہ انکے بلاکس کے ماڈلز دیکھ مسکرا دیتا۔۔۔
انکے کھلونوں میں زیادہ تر جانور اور پرندے ہوتے۔۔۔ جنہیں استعمال کر کے ایمان انکے ساتھ بیٹھ کر پورے جنگل کا ماڈل بنا ڈالتی یوں چھوٹی سی عمر میں انہیں کھیل کھیل میں وہ جانوروں اور پرندوں کے نام یاد کروانے کے ساتھ ساتھ انکے کام بھی یاد کروا چکی تھی۔۔۔
بچے کوئیک لرنز تھے کچھ ماں کی بے انتہا توجہ کا نتیجہ تھا کے وہ سب بہت جلد سیکھتے جاتے۔۔۔ اور شامیر ہر دفعہ انکی ایک نئ کڑیٹویٹی دیکھ ان سے زیادہ انکی ماں کو سراہنا نا بھولتا۔۔۔
سچ تھا بچے پالنا آسان نا تھا۔۔۔ درحقیقت بچوں کی اونچے معیار پر تربیت کر کے انہیں پالنا آسان نا تھا۔۔۔ ورنہ بچے پالنا کچھ مشکل نہیں وہ تو جانوروں کے بھی پل جاتے ہیں۔۔۔ پالنے والی ذات تو اللہ کی ہے۔۔۔ وہ تو بن ماں باپ کے بچے بھی پل جاتے ہیں۔۔۔
لیکن انسان اور باقی مخلوقات کے بچوں کی پرورش میں فرق کرتی چیز تربیت ہے۔۔۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک پودے کا بیج بو کر اسکی آبیاری کر لی جائے۔۔۔
جو انکی آبیاری میں جتنی زیادہ تکنیکس اور وقت سرو کرے گا وہ اتنا بہتریں سایہ دار اور پھل دار درخت پائے گا۔۔۔ جو جتنی بے دھیانی میں انکی آبیاری کرے گا وہ پھل بھی ویسا ہی پائے گا۔۔۔
اور ایمان سارا سارا دن انکے پیچھے کھپ جاتی۔۔۔ بچے ہوں اور شرارتی نا ہو یہ تو ممکن ہی نا تھا۔۔۔
وہ سر شام ہی بچوں کو نورین کے ساتھ قریبی پارک لے جاتی۔۔۔ وہاں حقیقی اڑتے پرندوں اور درختوں پر پھدکتی گلہریوں اور ارد گرد گھومتی بلیوں کو دیکھ ان دونوں کو متوجہ کر کے ان کے نام پوچھتی ور انہیں انکے کام سمجھاتی۔۔۔
ایمان کے ایک بار سمجھانے پر انکے کئ کئ سوال جنم لیتے۔۔۔ جیسے تجسس کی تشفی نا ہوئی ہو۔۔۔ اور اس معاملے میں سبحان زوہان کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا۔۔۔۔وہ انکے بے تکے سوالوں کے جوب دیتے دیتے عاجز آ جاتی مگر انہیں ٹوک کر چپ نا کرواتی کے یوں بچوں کی مینٹل گروتھ رک جاتی ہے۔۔۔
لیکن اسے محسوس ہوتا انکے سوالوں کے تسلی بخش جواب دے دے کر اسکی مینٹلی گروتھ ضرور ریورس میں چلنے لگے لگی۔۔۔
جب وہ دونوں مل کر ادھم مچاتے اور انکی الٹی سیدھی حرکتیں دیکھ دیکھ جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا تو وہ پھٹ پڑتی۔۔۔
اور اسکے زرا سے غصہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا کے بچپن سے ہی ماں کی ناراضگی محسوس کرتے دونوں بھائیوں کی جان پر بن آتی۔۔۔
پھر جو دونوں مل کر اسے منانے کی سعی کرتے۔۔۔ دوبارہ شرارتیں نا کرنے کے وعدے۔۔۔ جو کے ایمان ہمیشہ سے جانتی ہوتی کے اگلے دس منٹوں تک بامشکل ایفا ہونگے۔۔۔ پھر سبحان کان پکڑ کر سوری کرتا تو زوہان ماں کی گود میں چڑھ کر اسکا چہرا اپنے ننھے معصوم ہاتھوں میں تھام کر اس پر بوسہ لیتا ماں کی ناراضگی دور کرنے کی کوشیش کرتا۔۔۔
اور ایمان کی ناراضگی ہوتی بھی یہیں تک۔۔۔ جلد ہی وہ سب بھلا کر دونوں کو آغوش میں چھپا لیتی۔۔۔
اگر کوئی پوچھتا کے ایمان کے بیٹوں کا اسکے ساتھ اسقدر سٹرانگ بانڈ کیوں تھا کے وہ ماں کے لئے پوری دنیا سے لڑنے بھرنے کو تیار ہوتے۔۔۔ تو جواب تھا ایمان کا درست وقت پر اپنی زندگی کے کل اثاثے پر انویسٹ کیا جانے والا بہترین وقت۔۔۔
******
اینی گیسز آگے کہانی کس سمت میں جانے والی ہے۔۔۔

No comments