Header Ads

Rah_e_haq novel 41st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  41st Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

اکتالیسویں قسط
الےلےلےلےلےےےےے۔۔۔ میلا پالا بےبی۔۔۔ کھیر کھائے گا میلا بےبی۔۔۔ بششش بششش بششش۔۔ میں ابھییییی لائی۔۔۔
سبحان ڈائینگ ٹیبل کی کرسی کے سہارے کھڑا کچن میں کام کرتی ماں کو دیکھ کر مختلف قسم کی آوازیں نکال رہا تھا۔۔۔
ایمان ڈھیلے سے لان کے سوٹ میں ملبوس بالوں کا رف سا جوڑا بنائے آستینیں کہنیوں تک چڑھائے کچن سمیٹنے کے بعد اب فریج سے کھیر کا باول نکال کر کاونٹر ٹاپ پر رکھے کانچ کی کٹوری میں سبحان کے لئے کھیر نکالتی اس سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔۔
آج نوریں نہیں آئی تھی اس لئے اسکی مصروفیات بڑھ گئ تھیں۔۔۔ سارا گھر سمیٹنے کے بعد اب کچن کی باری آئی تھی۔۔۔ اور کچن سمیٹ کر اب وہ سبحان کو کھیر کھلا کر سلانے کے بعد خود لنچ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔
دفعتاً آہستگی سے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھلا اور کوئی اس حسین منظر کو دیکھتا دبے قدموں کچن کی جانب بڑھا۔۔۔
ایمان کی اس جانب پشت تھی البتہ سبحان کی وہاں نظر پڑ چکی تھی تبھی وہ کرسی کی بیک کو سختی سے تھامے خوشی سے اچھلنے لگا تھا۔۔۔
ارےرےرےرے رے۔۔۔ بس بس لا رہی ہوں کھیر۔۔۔
میرا بیٹا ابھی کھیر۔۔۔
یارررر بیٹے کے باپ کو بھی کھلا دو کھیر۔۔۔ یا ساری بیٹے کو ہی کھلانے کا ارادہ ہے۔۔۔
کانوں میں سرگوشی نما روح افزا آواز ابھرنے پر اسکا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔۔ وہ اپنی جگہ جامد رہ گئ۔۔۔ باول سے کھیر کٹوری میں ڈالتے ہاتھ بھی ہوا میں معلق ہوتے ساکت رہ گئے۔۔۔ وہ کاونٹر ٹاپ پر اسکے ڈائیں بائیں ہاتھ رکھے کسی گھٹا کی مانند اس پر چھایا اسکے کان کے پاس جھکا سرگوشانہ گویا ہوتا گویا اسکی روح فنا کر گیا تھا۔۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔۔ کافی پلوں کے بعد ایمان کے لبوں سے سراسراتے ہوئے لفظ ادا ہوئے۔۔۔ سن ہوتا دماغ کچھ سمجھنے کے قابل ہوا تو وہ چمچ اور کٹوری شلف پر چھوڑتی پیچھے کو پلٹی ۔۔۔ آنکھوں سے سیل رواں ہو گیا تھا۔۔۔ ہونٹ کپکپانے لگے تھے۔۔  وہ اسکے عین قریب بالشت بھر کے فاصلے پر کھڑا تھا۔۔۔ 
نیوی بلو پینٹ وائٹ شرٹ اور پینٹ کے ہمراہ کوٹ میں ملبوس۔۔۔ بکھرے بال اور تھکن زدہ چہرا۔۔۔ وہ غالبا لمبی فلائٹ سے تھکا ہارا سیدھا یہیں آیا تھا۔۔۔
اس چہرے کو دیکھ کر ناجانے اسے کتنا سکون میسر آیا تھا اور دوسری جانب بھی حالت مختلف نا تھی۔۔۔ وہ اسکے سینے پر سر رکھتی رو دی۔۔۔
یہ دو ماہ کے طویل اور جان گسل انتظار کے بعد میسر آنے والے خوش کن لمحات کا اعجاز تھا کے دل بھر آیا تھا۔۔ وہ جتنا اپنے رب کا شکر ادا کرتی کم تھا۔۔۔ کم از کم اسکا انتظار تو ختم ہوا۔۔۔
شامیر نے نامحسوس انداز میں اسکے گرد حصار قائم کرتے اسکا سر تھپکا اور انگوٹھے اور دو انگلیوں کی مدد سے اپنی نم آنکھیں مسلیں۔۔۔
دفعتاً سبحان رینگتا ہوا آ کر باپ کی ٹانگوں سے لپٹا تو وہ دونوں ہوش میں ائے۔۔۔
شامیر نے مسکراتے ہوئے جھک کر اپنے لخت جگر کو سینے میں بھینچ کر چٹا چٹ اسکے چہرے کے بوسے لئے تو ایمان بھی مسکراتی ہوئی نم آنکھیں صاف کر کے فریج کی جانب بڑھی۔۔۔
فریج سے جوس کا جگ نکالتے گلاس میں انڈیل کر گلاس شامیر کی جانب بڑھایا۔۔۔ اور خود جھٹ سے کمرے میں گم ہو گئ۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد اسکی واپسی ہوئی۔۔۔
اسے مجھے دیں خان۔۔۔ کمرے میں آپکی سوفٹی اور واش روم میں آپکا لباس رکھ دیا ہے آپ پلیز پہلے فریش ہو جائیں۔۔۔ اتنے لمبے سفر سے آئے ہیں۔۔۔ تب تک میں اسے بھی کچھ کھلا دوں۔۔۔
اس نے سبحان شامیر کی گود سے لیا تو وہ بھی مسکراتا ہوا اٹھ کر کمرے میں چلا گیا۔۔۔ حقیقت تھی کے وہ واقعی بہت تھک چکا تھا۔۔۔
جب تک شامیر فریش ہو کر  واپس آیا تب تک ایمان سبحان کو کھیر کھلا کر سلا چکی تھی۔۔۔
شامیر ٹراوزر پر ہاف سلیو شرٹ ذیب تن کئے پاوں میں سوفتی پہنے باہر آیا البتہ گیلے بال ماتھے پر بکھرے تھے۔۔۔۔
کچن میں کام کرتی ایمان کے ہاتھ اسے باہر آتا دیکھ مزید تیزی سے چلنے لگے۔۔۔
چچ۔۔۔ ایمان۔۔۔ سلا دیا تم نے میرے شہزادے کو۔۔۔ ابھی میں اس سے اچھے سے کھیلا بھی نہیں تھا۔۔۔ شامیر نے تاسف سے سبحان کے کمرے کی جانب دیکھا جسکا دروازہ کھلا تھا اور لاوئنج سے باآسانی وہ اسے کاٹ میں سویا نظر آ رہا تھا۔۔۔
نہیں خان۔۔۔ پلیز نہیں۔۔۔ وہ اٹھ جائے گا۔۔۔ اسکی نیند خراب ہو جائے گی۔۔۔ مت کریں۔۔۔
وہ خان کو اسکے کمرے میں جا کر کاٹ پر جھک کر سبحان سے شدت سے پیار کرتا دیکھ کچن میں کھڑی ہی دہائیاں دینے لگی۔۔۔
نہیں خان۔۔۔ دو کے بعد جب اسنے تیسرا بوسہ لیا تو رونے کی باریک سے آواز ابھرنے پر ایمان سر تھام کر رہ گئ۔۔۔
کیا ملے گا آپکو معصوم سے بچے کی نیند خراب کر کے۔۔۔ وہ روہانسی ہو اٹھی۔۔۔
خان نے کاٹ کو جھلایا تو گہری نیند میں موجود سبحان جلد ہی سو گیا۔۔۔
تم دشمن ہی رہنا میرے اور میرے بیٹے کی۔۔۔ واپس لاوئنج میں آتے اسنے بے طرح ایمان کو گھورا۔۔۔
اللہ۔۔۔ اللہ۔۔۔  وہ ہونق بنی اسے دیکھ کر رہ گئ
دو مہینے بعد آیا ہوں اور مجھے میرے شہزادے سے پیار بھی کرنے نہیں دیا۔۔۔ اسکے لہجے میں تاسف ہی تاسف تھا۔۔۔
خان اٹھ جائے گا تو جتنا مرضی پیار کیجئے گا اس سے۔۔۔ ابھی زرا اسکی ماں سے بھی بار چیت کر لیں۔۔۔ اسنے کھانے کی ٹرے لا کر وہیں اسکے سامنے موجود میز پر رکھی۔۔۔
کھانے پر اہتمام رات میں ہو گا۔۔۔ ابھی جو میسر ہے اسی پر اکتفا کریں۔۔
شامیر نے نظر اٹھا کر ٹرے دیکھی جس میں پراٹھا چائے اور سنہری پھولا پھولا سا آملیٹ پڑا تھا۔۔۔
ساتھ کٹوری میں کھیر تھی۔۔۔
چونکہ مجھے آپکی آمد کا علم نہیں تھا اس لئے جلدی میں یہی بن سکا۔۔۔اسکا انداز معزرت خواہانہ تھا۔۔۔
تمہارے ہاتھ کا بنا یہ کھانا بھی کسی نعمت مترکبہ سے کم نہیں۔۔۔ خان نے بسمہ اللہ کرتے نوالہ توڑا ۔۔۔
تمہارا کھانا کہاں ہے۔۔۔ 
بس ابھی لا رہی ہوں۔۔۔ وہ واپس کچن کی جانب گئ اور اپنی ٹرے لئے بھی اسکے پاس ہی آگئ۔۔۔
رات میں بتائیں آپ کیا کھائیں گے۔۔۔ اسنے پہلا نوالہ توڑ کر منہ میں ڈالا۔۔۔
رات کے کھانے میں کوئی تردد نہ کرنا۔۔۔ میں زیادہ دیر کے لئے نہیں آیا۔۔۔ رات ڈنر ہم باہر کریں گے۔۔۔ اس لئے جتنا وقت یہاں ہوں خود کو کاموں میں مت جھونکو۔۔۔ میں اپنی اس خوبصورت سی فیملی کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔ اسنے چائے کا کپ اٹھاتے چسکی لی۔۔
جلدی چلے جائیں گے آپ۔۔ ایمان کے ہاتھ سست پڑے۔۔۔
ہاں۔۔۔ کیونکہ فلائیٹ میں نے لاہور کی کی تھی اور درمیانی وقفہ تمہارے پاس ہوں۔۔۔ پھر لاہور سے اسلام آباد کی فلائٹ سے مجھے اسلام آباد جانا ہے۔۔۔
لیکن آتا جاتا رہوں گا۔۔ بالکل نامحسوس انداز میں۔۔۔ ہر نیشنل یا انٹرنیشل ٹور کے لئے فلائٹ لاہور سے ہی کنڈکٹ کروں گا اس لئے غیر محسوس انداز میں آتے جاتے یہاں سے ہو کر جاوں گا۔۔۔
ایمان اسکی حکمت عملی سمجھ کر سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
ایک بات پوچھوں خان۔۔۔ اسکی آواز پست تھی جیسے یکدم ہی اسکی بھوک مر گئ ہو۔۔۔ اسنے نا محسوس انداز میں کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔۔۔
ہممم پوچھو۔۔۔ خان نے ٹھٹک کر اسے دیکھا۔۔۔
گھر کے سادہ سے حلیے میں ملبوس ہونٹ چباتی وہ شش و پنج میں مبتلا تھا۔۔۔
بلفرض آپکے بابا کو یا آپکے باقی گھر والوں کو ۔۔۔ وہ رک رک کر سوچ سوچ کر بول رہی تھی۔۔۔ جیسے ذہنی خلفشار کا شکار ہو۔۔۔
اگر ہمارے رشتے کے بارے میں پتہ چل جائے۔۔۔ تو۔۔۔۔۔ وہ رکی۔۔۔
خان اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ الجھی الجھی سی تھی۔۔۔
تو۔۔۔
Worst case scenario
کیا ہوگا۔۔۔ مطلب ۔۔۔۔
خان گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔۔ اسنے بھی کھانے کی ٹرے پیچھے کھسکاتے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی۔۔۔ پرسوچ خدشات سے پر کرب زدہ نگاہیں فین سیلنگ پر مرکوز تھیں۔۔۔
 میرے بیٹے کے باغی ہونے کے پیچھے وجہ وہ لڑکی ہے تو میں تمہیں بتا دوں کے شامیر خان کا معیار اتنا گرا ہوا نہیں ہو سکتا۔۔۔ اس بے حد معمولی محلے میں رہنے والی لوئر مڈل کلاس لڑکی ہمارے گھر میں ملازمہ رکھنے کے بھی قابل نہیں۔۔۔
اور اگر واقعی تمہارے باغی ہوتے قدموں کے پیچھے
 کا محرک کچھ ایسا ہے تو ٹرسٹ می شامیر خان ایسی لڑکیاں یا تو پھر کوٹھوں کی زینت بنتی ہیں۔۔۔

یا پھر راہ چلتے ایک گولی کی نظر ہوتی ہیں اور لاورثوں کی طرح کہیں پھینک دی جاتی ہیں۔۔۔ 
شامیر کی وال سیلنگ پر ٹکی نگاہوں میں نمی ابھرنے لگی۔۔۔ وہ دقت سے سانس خارج کر رہا تھا۔۔۔
پھر آنکھیں بند کر کے گہرے سانس خارج کرتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
Worst case scenario
ہی کیوں ایمان۔۔۔ میں تمہیں اس راز کے افشاں ہونے کی سب سے بہتریں صورتحال بتاتا ہوں۔۔۔ اس سے تم
Worst case scenario
کی نشاندہی خود ہی کر لینا۔۔۔
ظاہر سی بات تھی جو باتیں اسکے باپ نے ایک خدشے کے تحت اس سے کہیں۔۔۔ جسے ہر بار محض یاد کرنے پر ہی اسکے خون میں ابال اٹھنے لگتے تھے۔۔۔ وہ وہ سب باتیں بے تحاشا انڈرسٹینگ اور ایک سٹرانگ بانڈنگ ہونے کے باوجود بھی ایمان سے شئیر نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
ایمان سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
بالفرض میری زندگی کا اگر یہ سب سے اہم راز افشاں ہو جاتا ہے۔۔۔  اور میرے گھر والے اور میری دنیا کے باقی سب باسی اسے باخوشی قبول کر بھی لیتے ہیں۔۔۔
جو ایک نا ممکن امر ہے۔۔ وہ محض سوچ سکا۔۔۔
تو بھی آگے کیا ہوگا۔۔۔ بولتا بولتا وہ رکا۔۔۔
ایمان کا تجسس مزید بڑھا۔۔۔ لیکن وہ لب بھینچے بیٹھا تھا۔۔  جیسے غالبا بولنے کو مہذب الفاظ تلاش کر رہا ہو۔۔۔
تو کیا ہوگا۔۔۔ وہ الجھی۔۔۔
افف ایمان۔۔۔ اسنے جھنجھلا کر بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔
یاررر۔۔۔ میری بیوی ایک لوئر مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہے۔۔۔ ایک معمولی سرکاری ملازم کی بیٹی ہے۔۔۔
Sorry to say emaan... I don't want to hurt you... But...
Its OK khan....
 مجھ میں سچائی سننے کا حوصلہ ہے۔۔۔ وہ جیسے اسکی کیفیت سمجھ گئ تھی تبھی اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتی اسکی ہمت بندھانے کو گویا ہوئی۔۔
تو بھی وہ تمہیں ایکسیپٹ تو کر لیں گے مگر عزت کبھی نہیں دیں گے۔۔۔
انکی ۔۔۔ اسنے لبوں پر زبان پھیرتے انہیں تر کیا۔۔۔ انکی ہر بات میں طنز ہو گا۔۔۔ موازنہ ہو گا۔۔۔
لہجوں میں کاٹ ہوگی۔۔۔ جیسے کسی کمتر یا کم حیثیت انسان سے بات کرتے ہوئے ہوتی ہے۔۔۔
جگہ جگہ پر تمہاری سیلف اسٹیم ہرٹ کی جائے گی۔۔۔ تمہاری سیلف ریسپیکٹ ہرٹ ہوگی۔۔۔ وہ پڑھے لکھے براڈ کلاس کے لوگ ہیں۔۔۔ جسمانی تشدد پر ذہنی تشدد کو ترجیح دیتے ہیں۔۔۔ تمہیں مینٹلی ٹارچر ہی اتنا کیا جائے گا کے تم اس ماحول سے فیڈ آپ کرتی راہِ فرار ڈھونڈنے لگو گی۔۔۔ وہ بے چین ہونے لگا تھا۔۔۔
ایمان کے اندر گہرے سناٹے چھانے لگے۔۔۔
اور کچھ نہیں ہوگا ایمان۔۔۔ بس زندگی سے سکون رخصت ہو جائے گا۔۔۔۔۔ 
اور یہ سب سے بہتریں صورتحال ہے ایمان۔۔۔ اس سے تم 
Worst case scenario 
کے بارے میں اندازہ لگا سکتی ہو۔۔۔ ایمان گم صم رہ گئ۔۔۔ کہنے کو جیسے کچھ بچا ہی نا تھا۔۔۔
 وہ واپس صوفے کی پشت سے  ٹیک لگا گیا۔۔۔
پتہ ہے ایمان۔۔۔ جہاں تک میں نے جانا ہے کے  اس دنیا میں شاید انسان نہیں فرشتے رہتے ہیں۔۔۔۔
ہر انسان اپنی ذات میں مقید خود کو فرشتہ سمجھتا ہے ۔۔۔غلطیوں سے مبرا۔۔ ایک دم درست اور پرفیکٹ۔۔۔ جسکی نظر میں دوسرے سب انسان ہیں خطا کے پتلے اور گناہگار۔۔۔
اور اگر اس موازنے میں معاشرتی طبقات کا فرق آ جائے تو اپر کلاس کے لوگ تو شاید فرشتوں سے بھی اگلے لیول میں شامل ہوتے ہیں اور مڈل کلاس کے لوگ انکی نظروں میں شاید انسان بھی نہیں بلکہ کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں۔۔۔ 
اسکی آنکھیں شدت ضبط سے سرخ پڑنے لگی تھیں۔۔۔
ہمارے ہاں لڑکیاں امریکہ کی بہترین یونیورسٹیوں سے پڑھ کر آنے کے بعد بھی گردن اکڑا کر چلتیں خود کو کوئی ماورائی مخلوق تصور کرتی ہیں اور انہیں طنطنہ کروفر اور اپنی ذات کا غرور شاید ورثے میں ملتا ہے۔۔۔
خان نے آنکھیں مونڈے سر بے طرح مسلہ۔۔۔ 
ایمان کو اسے دیکھ کر اپنی فاش غلطی کا احساس ہوا۔۔۔ وہ غلط وقت پر غلط موضوع چھیڑ بیٹھی تھی۔۔۔
وہ پہلے ہی سفر سے تھکا ہارا آیا تھا اور اسنے یہ موضوع شروع کر کے اسے مزید ڈپریسڈ کر ڈالا تھا۔۔۔
Khan leave the topic...
,ہم دوبارہ اس ٹاپک پر بات نہیں کریں گے۔۔۔ آپ پلیز لیٹیں۔۔۔ اسنے کشن اٹھا کر صوفے پر رکھا اور اسے بازو سے پکڑ کر لیٹانے لگی۔۔۔
آپ سفر سے تھکے آئیں ہیں کچھ دیر کی نیند لے لیں۔۔۔ پھر اٹھ کر ہمیں ڈھیر ساری باتیں بھی کرنی ہیں اور آپکو سبحان کے ساتھ کھیلنا بھی ہے اور ہمیں ڈنڑ کرنے بھی جانا ہے۔۔۔ وہ اسے زبردستی لیٹاتی اسکے گھنے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی تھی۔۔۔
خان نے اپنی تھکاوٹ اور ذہنی خلفشار کے باعث سرخ پڑتی نگاہیں کھول کر اسے دیکھا۔۔۔
جب وقت اتنا کم ہے تو سو کر برباد کیوں کرنا ایمان۔۔۔ میں جلد ہی چلا جاوں گا۔۔۔
اٹس اوکے خان۔۔۔ ذہنی سکون سب سے پہلے۔۔۔ باقی سب بعد میں۔۔۔ ہم ساتھ تھوڑا وقت گزار لیں گے لیکن کوالٹی ٹائم گزاریں گے۔۔۔ ہم تھوڑے پر ہی شکر گزار رہیں گے تو میرا ایمان ہے کے میرا اللہ ہمارے تھوڑے میں بھی برکت ڈال دے گا۔۔۔
ہم دور رہیں گے لیکن ہمارے دل ایک دوسرے کے پاس ہونگے۔۔۔ باہر کا انتشار ہمیں ذہنی طور پر ڈسرب نہیں کر سکتا۔۔۔ ہم ہمبل اور شکر گزار رہیں گے۔۔۔ باہر کی دنیا میں آپ جتنے بھی ڈسٹرب رہیں لیکن اس گھر میں اپکو ہمیشہ سکون ملے گا۔۔جہاں آ کر آپ اپنی زندگی کی تمام فریسٹریشن اور پریشانیاں چاہے کچھ وقت کے لئے ہی سہی لیکن بھول جائیں گے۔ اور میرے لئے میرے شوہر بچوں اور اس گھر کے سکون سے بڑھ کر کچھ نہیں۔۔۔
اور یہاں اس جگہ پر دنیا کی ہر سوچ کو جھٹک کر ایک پرسکون نیند لینا بھی اللہ کی نعمت سے کم نہیں۔۔۔ یہ بھی ہمارے لئے کوالٹی ٹائم ہیں۔۔۔ آپ اپنی بیوی بچے کے پاس آ کر مطمئں ہیں اور آپکو یہاں پرسکون نیند لیتے دیکھ میں مطمئیں ہوں۔۔۔
اب کچھ دیر کی نیند لے لیں کیونکہ آپکا شہزادہ اٹھنے کے بعد تو خود آپکو اٹھا ہی لے گا۔۔۔ پھر چاہے آپ کتنی ہی گہری نیند میں کیوں نا ہو۔۔۔
ایمان کے مسکرانے پر وہ بھی مسکرا دیا۔۔۔ اور پھر ناجانے کتنی ہی ایسی باتوں اور پرسکون ماحول میں وہ نیند کی وادیوں میں اتر گیا۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4