Rah_e_haq novel 40th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 40th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
چالیسویں قسط
ایمان اپنے لاوئنج میں موجود ڈارک براون کلر کے رگ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی تھی۔۔۔ ارد گرد سبحان کے کھلونے بکھرے ہوئے تھے جبکہ وہ خود بھی ان کھلونوں کے درمیان بیٹھا ہاتھ مار مار کر کھیل رہا تھا۔۔۔ کبھی ایک کھلونا اٹھا کر ایمان کو دیتا تو کبھی دوسرا۔۔۔ دونوں اپنی دنیا میں مگن تھے جب سے ایمان نے بچوں کی تربیت پر کتاب پڑھنا شروع کی تھی تب سے وہ شعوری طور پر سبحان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگی تھی۔۔۔۔
جبکہ نورین کچن سمیٹ رہی تھی۔۔۔
دفعتاً اپارٹمنٹ کی بیل بجی تو ایمان چونکی ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ دروازہ کھولنے جاتی نورین پہلے ہی کچن سے نکلتی دروازے کی جانب بڑھئ۔۔
وہ پھر سے سبحان کی جانب متوجہ ہو گئ البتہ توجہ دروازے کی جانب بھی تھی۔۔۔
آپی باہر کوئی آپ سے ملنے آیا ہے۔۔۔ نورین کے کہنے پر وہ الجھتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھی اور جوتا اڑس کر دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔ بھلا ایسا کون تھا جو اس سے ملنا چاہتا تھا۔۔۔ ماں یا بھائی ہوتے تو ڈائریکٹ اندر آجاتے اور نورین بھی تو ان سب سے واقف تھی۔۔۔
شش و پنج میں مبتلا وہ دروازے تک آئی۔۔۔
سلام ایمان بی بی۔۔۔ سامنے موجود امجد کو دیکھ ایمان بے طرح ٹھٹھکی۔۔۔ دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ یہ بھلا یہاں کیوں آیا تھا۔۔۔ خودباخود ہی ماتھے پر شکنوں کا جال بچھنے لگا۔۔۔
اس شخص سے اسے شروع سے ہی چڑ تھی۔۔۔ خان کے رویے میں زرا سی لچک نکل بھی آتی تھی تو یہ واحد شخص تھا جسنے اسکے اور خان کے رشتے کو تڑوانے کے لئے جی جان سے کوشیش کی تھی۔۔۔ اسکی جانب سے ایمان کا دل تب سے ہی کھٹا تھا۔۔۔ چاہیے یہ بات پرانی ہوچکی تھی لیکن ایمان کو ابھی تک کھٹکتی تھی۔۔۔
دراصل یہ سامان خان نے سبحان اور آپکے لئے بھیجا ہے۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے ہاتھوں میں تھامے کئ شاپنگ بیگز کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ ایمان نے سنجیدہ تاثرات سمیٹ ان شاپنگ بیگز کی جانب دیکھا البتہ پکڑنے کو ہاتھ تک نا بڑھایا۔۔۔
امجد نے مسکراتے ہوئے کھلے دروازے سے اندر سے نظر آتے سبحان کو دیکھنا چاہا جب ایمان نے دروازے کے کونے میں ہوتے باقی دروازہ بند کر ڈالا۔۔۔۔
انہوں نے یہ سامان آپکے ہاتھ کیوں بھیجا ۔۔۔ وہ خود کیوں نہیں آئے۔۔۔ حالات نے اتنے اتار چڑھاو دکھائے تھے اسے کے وہ آنکھیں بند کر کے کسی پر بھی اعتبار نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔
دراصل وہ پاکستان میں ہیں نہیں نا جدہ میں ہیں اس وقت۔۔۔۔ وہ الجھا
ایمان کی جانب سے کسی قسم کی پذیرائی نا ملنے مزید اسکے سخت و سنجیدہ انداز اور اس تفتیش پر امجد کے چہرے کی مسکراہٹ سمٹی۔۔۔
تو پھر ان سب چیزوں کی کیا ضرورت تھی جب وہ آتے تو آتے ہوئے خود ہی لے آتے۔۔۔ ایمان کے لہجے میں کسی قسم کی لچک نا آئی تھی۔۔۔
امجد اس تفتیش پر لب بھینچتا شش و پنج میں مبتلا ہو گیا۔۔۔
میں یہ سب اس لئے لایا ہوں کیونکہ مجھے خان نے کہا تھا۔۔۔
معذرت امجد بھائی۔۔۔ مجھے نہیں پتہ کے یہ انہوں نے بھیجا ہے یا نہیں۔۔۔ کیونکہ میرا ان سے رابطہ نہیں ہوا۔۔۔ نا انہوں نے اس بارے میں مجھے کچھ بتایا لحاظہ آپ یہ واپس لیجائیے وہ آئیں گے تو سب سامان بھی لے آئیں گے۔۔۔ نیز براہ کرم آپ دوبارہ خان کی غیر موجودگی میں یہاں کا رخ مت کیجئے گا۔۔۔ وہ بغیر لگی لپٹی رکھے گویا ہوئی۔۔۔
اس سے پہلے کے امجد ایمان کے تند و تیز لہجے پر اپنی صفائی میں کچھ کہنے کے لئے منہ کھولتا ایمان نے ٹھک سے دروازہ اسکے منہ پر بند کر دیا جبکہ امجد حق دق سا کھڑا ہاتھوں میں تھامے شاپنگ بیگز کو بے بسی سے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔
*****
خان فون کان سے لگائے پیٹ پکڑے ہس ہس کر دہرا ہو رہا تھا۔۔۔۔ جبکہ امجد اپارٹمنٹ بلڈنگ کی راہداری کے ایک نسبتاً پرسکون گوشے میں کھڑا بے بس سا اسے ساری داستان سنا رہا تھا۔۔۔ شاپنگ بیگز پاس ہی زمین پر پڑے تھے۔۔۔
ہستے ہستے شامیر کی آنکھوں میں پانی آگیا۔۔۔ کچھ لوگ آپکی زندگیوں میں ایسے ہوتے ہیں جو آپکی ساری توانائیاں نچوڑ لیتے ہیں۔۔۔ جنکی موجودگی میں آپ خود کو بہت ہارا ہوا محسوس کرتے ہیں۔۔۔ جبکہ کچھ لوگ آپکی زندگیوں میں تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہوتے ہیں۔۔۔ جنکے ہونے سے آپ زندگی کے تمام مسلے مسائل اور جھنجھٹوں کے باوجود خود کو تروتازہ اور توانا محسوس کرتے ہیں۔۔۔ جو یکدم آپکو توانائیوں سے بھر دیتے ہیں۔۔۔ آپکو اپنی زندگی متحرک لگنے لگتی ہے۔۔۔ اسکی زندگی کے لئے کنزل الایمان بھی ایک ایسا ہی تروتازہ ہوا کا جھونکا تھی۔۔۔ جسکے محض احساس نے ہی اسکی ساری بے کلی و بے چینی ختم کر ڈالی تھی۔۔۔ جیسے کوئی اسفنج تھا جو اسکے اندر سے سارے منفی جذبات چوس کر اسے تروتازہ کر گیا تھا۔۔۔
امجد کی زبانی ساری کہانی سن کر وہ ہستا ہستا خود کو بہت فریش محسوس کرنے لگا تھا۔۔۔۔
بلاشبہ نیک اور وفادار بیوی کی یہ ہی پہچان ہوتی ہے کے وہ شوہر کی غیر موجودگی میں بھی خود کو سینت سینت کر رکھتے اسکی عزت کی حفاظت کرتی ہے۔۔۔
خان میں یہاں ذلیل ہو گیا ہوں۔۔۔ شاپنگ بیگز کے انبار کے ساتھ راہداری میں کھڑا آپکو اپنے دکھڑے سنا رہا ہوں۔۔۔ آتا جاتا ہر انسان مجھے مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہا ہے اور آپ ہیں کے ہستے جا رہے ہیں۔۔۔ وہ بے بسی سے گویا ہوا۔۔۔
ریلیکس ہو جاو یار۔۔۔ جاو واپس جاو اسکے پاس۔۔۔
دوبارہ بے عزتی کروانے۔۔۔ پہلی والی کم تھی کیا۔۔۔ اندر بلا کر کوئی پانی وانی پوچھنے کی بجائے انہوں نے میرے منہ پر ہی دروازہ بند کر ڈالا اور آپ کہہ رہے ہیں۔۔۔
امجد۔۔ حوصلہ رکھو یار۔۔۔ شامیر مسلسل مسکرا رہا تھا۔۔۔ جا کر میری اس سے بات کرواو۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ خان کے کہنے پر وہ نیم رضامند سا واپس اپارٹمنٹ کی جانب بڑھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں دوبارہ اپارٹمنٹ کے دروازے پر دستک ہوئی تو سبحان کے ساتھ کھلیتی ایمان پھر سے چونکی۔۔۔
نوریں دروازہ کھولنے گی تھی اور وہ ماتھے پر شکنوں کا جال لئے اسی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔
باجی وہی شخص ہے۔۔۔ آپکو بلا رہا ہے۔۔۔
نورین کے کہنے پر وہ غصے سے کھولتی اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔
آپکو کیا مسلہ ہے امجد بھائی۔۔۔ جب کہہ دیا کے نہیں کچھ چاہیے تو پھر۔۔۔ دروازہ وا کرتی وہ بھڑک کر بولی۔۔۔ جب۔۔۔
ایمان بی بی۔۔۔ یہ خان کا فون ہے۔۔ بات کرنا چاہ رہے ہیں وہ آپ سے۔۔۔ امجد کے اسکی جانب فون بڑھانے پر اسنے ایک مشکوک نگاہ امجد کو دیکھا اور دوسری فون کو۔۔۔
خان ہی ہیں ایمان بی بی۔۔۔ خود بات کر کے دیکھ لیں۔۔۔
ایمان نے الجھتے ہوئے فون پکڑا اور کان سے لگایا۔۔۔
ہیلو۔۔۔
مائے گاڈ لڑکی۔۔۔ مجھے زرا احساس نا تھا کے میرے سامنے اتنی چھوئی موئی سی بنی رہنے والی لڑکی میرے پیچھے اسقدر شیرنی بھی بن جاتی ہے۔۔۔
وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔
خان کی آواز سن کر اسے کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔ وہ فون لئے اندر کو بڑھی۔۔۔
حالات بنا دیتے ہیں خان۔۔۔
ایمان بی بی یہ سامان بھی۔۔۔ وہ ایمان کو اندر داخل ہو کر دروازہ بند کرتا دیکھ کراہ اٹھا۔۔۔
مگر وہ بنا سنے دروازہ بند کر چکی تھی۔۔۔
یار اس سے سامان لے لو۔۔۔۔ میں نے بھیجا ہے اسکے ہاتھ تمہارے اور سبحان کے لئے۔۔۔۔ خان غالباً امجد کی بات سن چکا تھا ۔۔
ایمان نے وہیں سے نورین کو باہر سے سامان اندر لانے کو بولا اور خود سبحان کو لے کر کمرے میں آ گئ۔۔۔
کتنے دنوں بعد اسکی آواز سن رہی تھی۔۔۔ دل کو عجیب سا سکون میسر ہوا تھا ۔۔۔
کیسے ہیں آپ خان۔۔۔
ٹھیک ہوں۔۔۔ تم بتاو کیسی ہو۔۔۔ اور میرا شہزادہ۔۔۔
وہ اداسی سے مسکرا دی۔۔۔ انگلی کی پور سے آنکھ کا نم کونا صاف کیا۔۔۔
شکر الحمدللہ۔۔۔۔
یہاں چکر کب لگائیں گے آپ۔۔۔۔
انشااللہ جلد۔۔۔ بس تم دعا کرتی رہنا۔۔۔
اور سنو۔۔۔ میں امجد سے کہتا ہوں وہ اپنے نام پر سم اشو کروا کر تمہیں دے جائے گا۔۔۔ سم ایکٹو کر کے مجھ سے رابطہ بحال کرنا۔۔۔ چکر بے شک میرا کچھ عرصے بعد لگے لیکن ہمارا رابطہ بحال ہو جائے گا۔۔۔ مجھے اپنی اور میرے شہزادے کی تصویریں سینڈ کرنا۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے اسکی باتیں سن رہی تھی۔۔۔ دکھی دل میں سکون سرائیت کرنے لگا تھا۔۔۔ جب انسان اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کر کے صبر سے کام لیتا ہے نا تب یونہی اسکا رب بند اندھیری کوٹھریوں میں بھی روزن کھول دیتا ہے۔۔۔ جو روشنی اور تازہ ہوا کے جھونکھوں کا سب بنتے ہیں۔۔۔
شامیر کا اس سے دوبارہ رابطہ بحال ہونا بھی اسی امر کی ایک کڑی تھی۔۔۔۔
فون بند ہوا تو اسنے نورین کے باتھ فون واپس بھیج دیا۔۔۔ خان کے اس اچانک فون نے یکدم ہی اسے تروتازہ کرتے اسکے چہرے پر مسکراہٹ کے سوتے کھلا دئیے تھے۔۔
شام تک امجد اسے سم بھی دے گیا اور اسنے سم ایکٹو کرتے خان کو میسج بھی بھیج دیا۔۔۔ اس وقت وہ سبحان کو اپنے پاس بیٹھائے خان کا بھیجا سامان دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جیسے جیسے وہ سامان ان پیک کر رہی تھی اسکی آنکھیں نم ہوتی جا رہی تھیں۔۔۔ بلاشبہ زمہ دار شوہر بھی اللہ کی عطا کردہ ایک نعمت ہے۔۔۔
اسنے سبحان کے کھلونے اور چاکلیٹس کینڈیز اور سلانٹی کے انبار اسکے ارد گرد لگائے تو وہ خوشی سے چہکتا ہاتھ مار مار کر ان سے کھیلنے لگا۔۔۔ ایمان نے موبائل کا کیمرا آن کرتے اس خوبصورت منظر کو کیمرے کی آنکھ میں مقید کیا اور اسکے باپ کو سینڈ کر ڈالا۔۔۔
*****
آج ایک عرصے بعد زخرف ایمان کے گھر آئی تھی۔۔۔ وہ اس وقت ٹائٹس پر لانگ اوپن شرٹ زیب تک کئے لاوئنج کے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھی اٹھی گردن اور مسکراتی نگاہوں سے ارد گرد دیکھ رہی ۔۔۔ اسکے سامنے جوس کا گلاس پڑا تھا جبکہ ایسا ہی ایک گلاس اسکے مقابل بیٹھی ایمان کے سامنے بھی پڑا تھا۔۔۔۔
ایمان کے ہاتھ میں شادی کا کارڈ تھا جسے وہ مسکراتے ہوئے پڑھ رہی تھی۔۔۔
تمہیں بہت بہت مبارک ہو زخرف ۔۔۔ میں تمہارے لئے بہت خوش ہوں۔۔۔ وہ خوشدلی سے گویا ہوئی۔۔۔ زخرف کی اٹھی گردن تفاخر سے مزید اٹھ گئ۔۔۔
افکورس ایمان۔۔۔ اب دنیا ایک انسان پر ختم تو نہیں ہو جاتی نا۔۔۔ وہ تو میں ہی پاگل تھی جو ہیرا سمجھ کر کسی کے بھی پیچھے خوار ہو رہی تھی۔۔۔
دراصل تمہارا بھائی مجھے ڈیزرو کرتا ہی نا تھا۔۔۔
اب میرے منگیتر کو ہی دیکھ لو ماشااللہ سے سیون سٹار ہوٹل کا مینجر ہے۔۔۔ کئ سائٹ بزنس بھی شروع کر رکھے ہیں اسنے۔۔۔ گھر ایسا ہے کے اس پر نگاہ نہیں ٹکتی۔۔۔۔ خاندان میں جس نے بھی اس رشتے کے بارے میں سنا منہ میں انگلیاں داب کر رہ گیا کے زخرف کے لئے اتنا بہترین رشتہ آ گیا۔۔۔
وہ پاوں جھلاتی بے فکری سے مسکرائی۔۔
اللہ نصیب اچھے کرے زخرف۔۔۔
بلاشبہ یہ اللہ کے ہی بس کا کام ہے۔۔ ورنہ انسان تو لمحوں میں فرشتے بنتے دوسروں کو حقیر جاننے لگتے ہیں۔۔۔ زخرف نے گہرا طنز کیا۔۔۔ جسے سمجھنے کے باوجود وہ ہس کر ٹال گئ۔۔۔۔آنا ضرور تم میری شادی پر۔۔۔
انشااللہ پوری کوشیش کروں گی ۔۔
ویسے مجھے پتہ چلا کے تم نے بھی لکھنا شروع کیا ہے۔۔۔ وہ جیسے یکدم یاد آنے پر مضنوعی سا چونکی۔۔۔
مختلف گروپس میں سینڈ کر رہی ہو تم اپنی روحانیت بیسڈ رائیٹنگ کو۔۔۔ اور شاید اپنے پیج بھی بنائے ہیں تم نے مختلف پلیٹ فارمز پر۔۔۔ جہاں غالباً تمہاری سو یا ڈیڑھ سو کے قریب فالونگ ہے۔۔ رائٹ۔۔۔۔اسنے ایک ادا سے جوس کا گلاس اٹھاتے منہ کو لگایا۔۔۔
ایمان محض مسکرا کر رہ گئ۔۔۔ یا تو لگاتار اور زیادہ ملتی فالونگ سے وہ خود کو سٹار ماننے لگی تھی یا پھر شاید نئے نئے جڑے اس رشتے کی خماری تھی جو اسکے رنگ دھنگ ہی بدل گئے تھے۔۔۔
بائے دا وے اگر تمہیں شاٹ آوٹ چاہیے ہوا تو بتانا ۔۔۔ آخر میری لاکھوں کی فالونگ کب کام آئے گی۔۔۔۔ آخر کو تم میری دوست ہو۔۔۔ اب تمہارے لئے اتنا تو کر ہی سکتی ہوں نا میں۔۔۔۔ اگر میری فالونگ میں سے کسی کو تمہاری روحانیت بیسڈ رائٹنگ میں انٹرسٹ ہوا ۔۔۔ وہ روحانیت کو چبا کر گویا ہوئی۔۔۔
تو ضرور تمہارے پلیٹ فارمز پر آئے گا۔۔۔۔ اسکی ہر ہر بات میں طنز شامل ہونے لگا تھا۔۔۔ یا وہ خاص طور پر یہاں آئی ہی ایمان پر طنز کے تیر برسانے تھی جسنے اسے اور اسکی رائٹنگ سکیلز کو اتنا برا بھلا کہا تھا۔۔۔
نہیں تھینکیو ویری مچ۔۔۔ لیکن اسکی ضرورت نہیں۔۔۔
ٹرسٹ می میرا کانٹینٹ سب کے لئے نہیں۔۔۔ یہ انہی کے لئے ہے جس کے لئے یہ بنا ہے یا جسے اسکی ضرورت ہے۔۔۔
آہہہ۔۔۔ دل کو بہلانے کو یہ خیال بھی اچھا ہے غالب۔۔۔ وہ چٹخارہ لے کر کہتی اپنا ڈیزائنر بیگ اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
بیٹھو نا ابھی تو آئی ہو زخرف۔۔۔ ابھی تو کھایا بھی نہیں تم نے کچھ۔۔۔ نورین لنچ تیار کر رہی ہے لنچ کر کے جانا۔۔۔
اوہ نونو پلیز۔۔۔ ایکچولی ٹائم نہیں ہے ناں میرے پاس۔۔۔ شہر کے سب سے بڑَے سیلون میں اپائنمنٹ ہے میری ۔۔۔ پھر کبھی سہی۔۔۔ وہ اپنے بلور ڈائی بالوں کو جھٹکتی مسکرا کر اپارٹمنٹ سے نکل گئ۔۔۔ جبکہ ایمان اسکے انداز اور رنگ دھنگ دیکھتی رہ گئ
قدرت کی چیزوں ر غور و فکر کرنے کا یہ ہی فائدہ ہوتا ہے کے انسان چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بڑے بڑے راز اخذ کر لیتا ہے۔۔۔
ایمان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔ زخرف کے رویے سے اسے لکھنے کو ایک پاورفل ٹاپک مل گیا تھا۔۔۔
اسنے بنا تاخیر کئے کرسی سمبھالی اور لیپ ٹاپ آن کیا۔۔۔ اسکے ہاتھ تیزی سے لیپ ٹاپ کی کیز پر چلنے لگے تھے۔۔۔
اپنی ذات کی بہتری کا سفر کیسے ممکن ہے۔۔۔۔ا
ہیڈنگ دے کر وہ کچھ پلوں کو رکی کچھ سوچا اور پھر سے اسکی انگلیاں متحرک ہو گئیں۔۔۔
بہتری کا سفر کیا جاتا ہے خود پر کام کر کے۔۔۔ اپنے اندر موجود کمیوں اور خامیوں کو ڈیفائن کر کے ان پر کام کرتے انہیں خود سے دور کر کے۔۔۔
ہم سب میں بہت سی کمیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔۔۔ کوئی انسان ایسا نہیں جس میں کمی یا خامی نا ہو اور کوئی انسان ایسا نہیں جس میں کوئی اچھائی نا ہو۔۔۔ ہم سب کمیوں خامیوں اور اچھی عادات کا مرکب ہیں ۔۔۔۔
ہاں سب میں اسکا تناسب مختلف ہو سکتا ہے لیکن یہ موجود سب میں ہوتی ہیں۔۔۔
کامل صرف اللہ اور حضرت محمد کی ذات ہے۔۔۔
ایسے میں ایک انسان بہتری کا سفر کرتا ہے اپنی کمیوں خامیوں اور غلطیوں کو پوائنٹ آوٹ کر کے ان پر کام کرنے سے ۔۔۔ خود کو امپروو کر کے۔۔۔۔
اب میری بات زرا توجہ سے سنیں اور زرا ڈیفائن کریں اپنی کٹگری کے آپ خود کو کونسی کیٹگری میں موجود پاتے ہیں۔۔۔۔ کیونکہ انسان سب سے جھوٹ بول سکتا ہے مگر خود سے نہیں۔۔۔ ایک انسان سب سے بہتر طریقے سے اپنے بارے میں ہی جانتا ہوتا ہے۔۔۔
اپنی غلطیوں کا ادراک ہونا اور اس پر پشیمانی محسوس کرتے انہیں چھوڑ کر بہتری کے سفر پر گامزن ہونا بھی اللہ کی ایک بہت بڑی عطا ہے۔۔۔۔
کیونکہ۔۔۔۔زرا غور سے سنیں۔۔۔
کیونکہ۔۔۔۔
کیونکہ بہت سے لوگوں کو اپنی غلطیاں دکھائی ہی نہیں دیتیں۔۔۔ انہیں اس چیز کا کبھی احساس ہی نہیں ہوتا
وہ خود کو غلطیوں سے مبرا اور پرفیکٹ سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ جن کے لئے وہ ٹھیک اور پوری دنیا غلط ہوتی ہے۔۔۔
اسکے ہاتھ تیزی سے کی بورڈ کی کیز پر متحرک تھے۔۔۔ ایسے لوگوں کے لئے انکی ذات پرفیکٹ ہوتی ہے جن میں کوئی خامی نہیں ہوتی۔۔۔ اور ایک مزے کی بات بتاوں ایسے انسان میں بہتری کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہوتی۔۔۔
لفظ وہاں بے تاثر ہوجاتے ہیں کیونکہ بہتری کی گنجائش وہیں ہوتی ہے جہاں غلطی کا ادراک ہو۔۔۔ جب غلطی کا ادراک ہی نہیں ہوگا تو بہتری کی گنجائش کہاں سے نکلے گی۔۔۔
اس لئے آپ چاہے بہتری کے سفر پر گامزن ہوں یا نا ہوں۔۔۔ خود کو بدلنے کی جہد کریں یا نا کریں۔۔۔لیکن ایک نقطہ نظر پر اڑ کر خود کو درست کہنے کی بجائے اپنے اندر فلیکسیبیلٹی ضرور رکھیں۔۔۔ خود کو بدلیں یا نا بدلیں۔۔۔ لیکن اپنی غلطیوں کا اعتراف کسی اور کے سامنے نہیں تو محض اپنے سامنے کرنے کا حوصلہ خود میں ضرور پیدا کریں۔۔۔ ٹرسٹ می یہ ہی بہتری کے راستے پر گامزن ہونے کے لئے پہلا قدم ہے۔۔ اور کسی بھی راستے کا مسافر بننے کے لئے محض پہلا قدم اٹھانا مشکل ہوتا ہے۔۔۔ پھر تو راہیں اللہ استوار کرتا جاتا ہے۔۔۔۔
یہ قانوں قدرت ہے۔۔ اور سائنس بھی اسے ثابت کر چکی ہے۔۔۔ کے تیزی سے بدلتی اس دنیا میں کامیاب محض وہی ہوئے ہیں جنہوں نے خود کو بدلا ہے۔۔۔ تبدیلی کائنات کا معمور ہے۔۔۔
اس لئے خود میں خود کو بدلنے کی لچک سدا رکھنی چاہیے۔۔۔ غلطی پر ثابت قدم رہنے کی بجائے ادراک ہونے پر پسپائی اختیار کر لینی چاہیے۔۔۔
کیونکہ۔۔۔۔
کیونکہ مکمل علم تو کبھی عالم فاضلوں کے پاس بھی نہیں ہوا ۔۔۔ ہمارا علم تو پھر بہت ناقص اور محدود ہے۔۔۔
اور کبھی آبزرو کرنا علم والوں کو ۔۔۔ وہ غلطی یا کوتاہی پر بہت جلد پسپائی اختیار کرتے اعتراف کر جاتے ہیں۔۔۔
ہمیشہ غلطی پر ثابت قدم وہی رہے گا جو خود کو پرفیکٹ سمجھے گا اور یہ سوچ ہی انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا ہے۔۔۔
آخری لفظ ٹائپ کرتے اسکی انگلیاں ساکت ہوئیں اسنے ایک گہرا سانس خارج کیا۔۔۔ وہ اپنے لکھے سے مطمئیں لگتی تھی
******

No comments