Header Ads

Rah_e_haq novel 39th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  39th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

انتالیسویں قسط
بالکنی سے چاند کی چاندنی اور ٹھنڈی میٹھی ہوا اندر آ رہی تھی۔۔۔ ڈائینیگ ٹیبل انواع و اقسام کے کھانوں سے سجا تھا۔۔۔ ماں حامد اور نگارش ڈائینگ ٹیبل کی کرسیوں پر بیٹھے تھے جبکہ نورین ایمان کی زیر نگرانی ڈشز لا کر ٹیبل پر رکھ رہی تھی۔۔۔
ننھا سبحان پورے لاوئنج میں رینگتا ہوا شرارتیں کر رہا تھا۔۔۔ کبھی کسی چیز کے سہارے کھڑا ہونے کی کوشیش کرتا تو کبھی پھر سے رینگنے لگتا۔۔۔ سب لوگ اسکی معصوم شرارتیں اور حرکتیں دیکھ مسکرا رہے تھے۔۔۔
ایمان نے بھائی اور بھابھی کی دعوت شامیر کی موجودگی میں کرنی تھی لیکن درپیش حالات کی زیر نظر اسنے خان کی جانب سے معذرت کرتے آج انکی دعوت کر ڈالی۔۔۔
شامیر براون پینٹ کوٹ میں ملبوس کانفرنس روم میں موجود سربراہی کرسی پر بیٹھا تھا۔۔۔ ٹانگ پر ٹانگ جما رکھی تھی جبکہ کہنی کرسی کی ہتھی پر ٹکائے ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر جمائے وہ سامنے پروجیکٹر کی مدد سے سکرین پر ابھرتے مناظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔ پاس ہی ٹیبل پر ایک عمارت کا ماڈل پڑا تھا۔۔۔
باقی سب کی محویت بھی سکرین پر چلتی سلائیڈز پر تھی۔۔۔
ایمان کمر پر ہاتھ رکھے چمکتی نگاہوں سے دیوار پر موجود براوں کلر کے اس بک شلف کو دیکھ رہی تھی جس نے وہاں سجتے اس دیوار کی خوبصورتی مزید بڑھا دی تھی۔۔۔ کاریگر ابھی ابھی اس وال شلف کو وہاں سیٹ کر کے گئے تھے۔۔۔ نورین نیچے پھیل چکے زروں اور ڈسٹ کو جھاڑوں کی مدد سے صاف کر رہی تھی۔۔۔ ایمان نے چمکتی نگاہوں سے اپنے پیچھے موجود کتابوں کے انبار کو دیکھا اور باری باری کتابوں کے اس خزانے کو انکے سائز اور کیٹگری کی بنیاد پر  اس جدید طرز کے بنے بک شلف میں سیٹ کرنے لگی۔۔۔
شامیر چلچلاتی دھوپ میں ماتھے پر ہاتھ کا چھجا بنائے آنکھیں چندہی کئے اس غیر آباد بنجر زمین کو دیکھ رہا تھا جہاں عمارت کی کنسٹرکشن کا کام شروع ہو گیا تھا۔۔۔ ارد گرد لیبر لگی ہوئی تھی۔۔۔ دھول مٹی اینٹوں اور بجری کا شور ایسے میں وہ بلڈنگ کی جانب دیکھتا سائٹ انجینئیر کو بریفنگ دے رہا تھا جسے وہ مستعدی سے سن رہا تھا۔۔۔
شام کے وقت ایمان بالکنی میں بیٹھی اپنی اگلی کتاب خود شناسی کا سفر ہڑھ رہی تھی یہاں اسی پوزیشن میں بیٹھ کر پڑھتے اسے دو گھںٹے ہو گئے تھے اور اسنے جانا کے اپنی ذات کے سفر پر پڑھنا کسی بھی ناول کو پڑھنے سے زیادہ دلچسپ ہوتا ہے۔۔۔ ہوا سے اسکے بال اڑ رہے تھے۔۔۔ پاس ہی ماربل لگے فرش پر بیٹھا شامیر سلانٹی کھا کم ان سے کھیکتا ہوا انکا سرمہ زیادہ بنا رہا تھا۔۔۔ اسکے پیچھے لاوئنج میں وہ کونا واضح دکھائی دے رہا تھا جو آج کل ایمان کا فیورٹ تھا۔۔۔ بک شلف میں سجی کتابیں اور اسکی عین نیچے موجود اسکا سفید رنگ کا شفاف بے داغ ورکنگ ٹیبل جسکے ایک سائیڈ پر جرنل آرگنائزر جبکہ اسکے ساتھ پین ہولڈر تھا جبکہ دوسری طرف دو منی پلانٹس پڑے تھے۔۔۔ ٹیبل کے وسط میں ایک لیپ ٹاپ اور ایک ہولڈر میں اسکے چارجر اور وائرز وغیرہ پڑئ تھیں۔۔۔
رات کا ایک بج رہا تھا جبکہ لاوئنج کے صوفے پر بیٹھا شامیر ٹانگیں میز پر رکھے لیپ ٹاپ کی کیز کھٹا کھٹ دباتا ایک کے بعد دوسری سلائیڈ بناتا اپنی فائل مکمل کر رہا تھا۔۔۔ اسکا چہرا سنجیدہ اور بے تاثر تھا۔۔۔۔ کچن میں اسکا ڈنر اسکی کرم نوازی کا منتظر پڑا پڑا ٹھنڈا ہو گیا تھا۔۔۔ مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔۔
وہ تو دن رات کا فرق بھلائے خود کو کاموں میں غرق کئے ہوئے تھا۔۔۔ کسی کی یادوں سے پیچھا چھڑانے کا یہ بہتریں حربہ تھا۔۔۔۔
ایمان اپنے ورک ٹیبل پر بیٹھی کھٹا کھٹ ٹائپ کر رہی تھی۔۔۔ خود شناسی کے سفر پر وہ اتنے مصنفین کی کتابیں پڑھ چکی تھیں کے خود شناسی پر مشتمل وہ سارا کانٹینٹ جو اسنے کنزیوم کیا تھا وہ اب اسے ٹک کر بیٹھنے نا دے رہا تھا۔۔۔ اپنی ذات کا سفر طے کر کے اسنے اپنے اندر سے جو کھوجا تھا وہ اب اسے فارغ بیٹھ کر وقت ضائع کرنے کی اجازت ہرگز نا دیتا تھا اس لئے اب وہ ذہانت سے بھرپور چمکتی نگاہیں لیپ ٹاپ کی سکرین پر جمائے کھٹا کھٹ لکھ رہی تھی۔۔۔ سجان کمرے میں سو رہا تھا جبکہ پورے لاوئنج میں محض اسکے لیپ ٹاپ کی کیز دبانے کی آواز ہی ابھر رہی تھی۔۔۔۔
آفس سے تھکے ہارے واپس آنے کے بعد شامیر فریش ہو کر باہر ڈآئینیگ ٹیبل پر آیا تو کُک نے مستعدی سے اسکے آگے کھانا چن دیا۔۔۔ شامیر نے کھانے کا پہلا نوالہ توڑا اور منہ تک جاتا ہاتھ راستے میں ہی رک گیا۔۔۔ کسی معصوم کی یاد نے اسے بے طرح فریز کیا تھا۔۔۔ کسی کی معصوم شرارتوں اور ننھے ننھے ہاتھوں کے لمس نے شدید بھوک ہونے کے باوجود کھانا حلق سے اترنے نا دیا۔۔۔۔۔ 
وہ لب سختی سے بھینچ گیا۔۔۔ شدت جذبات سے چہرا سرخ ہونے لگا اور آنکھوں میں نمی ابھرنے لگی تو وہ نوالہ واپس پلیٹ میں رکھتا پلیٹ کھسکا کر وہاں سے اٹھ آیا۔۔۔
بس بہت ہوا۔۔۔۔۔ اسے ان دونوں سے دور ہوئے انکی آواز سنے مہینہ ہو گیا تھا۔۔۔ اب تو بے چینی و بے کلی بھی انگ انگ میں سرائیت کرنے لگی تھی تبھی کمرے میں آتے اسنے جیب سے موبائل نکالا اور تیزی سے ایک نمبر ڈائل کرنے لگا۔۔۔
*****
ایمان نم آنکھوں سے لیپ ٹاپ کی سکرین کی جانب دیکھتی اپنے لکھے پہلے آرٹیکل کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسنے انگلی کی مدد سے لیپ ٹاپ کی سکرین کو سکرول ڈاون کرتے آرٹیکل کی لمبائی دیکھنی چاہی۔۔۔ وہ اپنے لکھے سے مطمئیں نظر آتی تھی۔۔۔ اسنے آرٹیکل اوپر کر کے اسکی ہیڈنگ پڑھی۔۔۔
بندے اور اسکے رب کا تعلق۔۔۔
اسکی آنکھوں کی نمی مزید نمایاں ہوئی۔۔۔ اسکی نگاہیں اگلی سطروں پر پھسلتی چلی گئیں۔۔۔
انسان اس دنیا میں قانوں قدرت کے تحت پیدا ہوا جسکے مطابق اسکے دل کو یوں ڈئزائن کیا گیا کہ وہ ہر خوبصورت چیز کی طرف اٹریکٹ ہو گا اسے سراہے گا انسپریشن پالے گا اور اسکا متمنی ہوگا۔۔۔ انسانی دل محبت کی مٹی سے گوندھ کر بنایا گیا ہے اس لئے اس دل کا المیہ یہ ہے کے یہ بنا محبت کے خالی رہ ہی نہیں سکتا۔۔۔۔
انسانی دل کا کسی محبت میں مبتلا ہونا فطری امر ہے۔۔۔
لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کے ہماری ہمارے رب سے پہچان کروائی ہی نہیں جاتی۔۔۔  ہم مسلمان ہیں۔۔۔ ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں وہ ہر چیز کا مالک کا ہمیں رزق ہمارا رب دیتا ہے۔۔۔۔ اور ایسے بہت سے فقرے جنہیں بچپن سے ہی ہم رٹتے آتے ہیں اور ہم انہیں اتنا رٹ لیتے ہیں کے کبھی اسکی گہرائی میں اتر کر غور نہیں کرتے اور اس چیز کو فارگرانٹڈ لینے لگتے ہیں۔۔۔
ہمارا رب کون ہے۔۔۔ اسنے ہمیں کیوں پیدا کیا۔۔۔ کس مقصد کے تحت۔۔۔ اسنے یہ دنیا کیوں اور کس طرح بنائی ہم کبھی ان سب چیزوں پر غور و فکر نہیں کرتے۔۔۔ اور ہمیں یہ غور و فکر کرنا سیکھایا بھی نہیں جاتا۔۔۔ اسی لئے ہم کبھی اسکی جستجو بھی نہیں کرتے۔۔۔۔
 یہ دنیا اسقدر بھول بھلیاں ہے کے ہم اس میں کھو جاتے ہیں اور اپنے اور رب کے تعلق کو کبھی ڈیفائن ہی نہیں کر پاتے۔۔۔
ہماری اس دنیا کو ڈیزائن ہی اس طرح سے کیا گیا ہے اسے اتنی خوبصورتی سے مضنوعی آرائش و زیبائش سے آراستہ و پیراستہ کیا گیا ہے کے زرا ہوش سمبھالتے ہمارا دل بظاہر خوبصورت دکھائی دیتی ہر چیز کی جانب ہمکنے لگتا ہے۔۔۔
جیسے ہوش سمبھالتے ہی ہم سیلیبریٹز سے انسپائر ہونے لگتے ہیں۔۔۔ ان کا رنگ روپ۔۔۔ انکا لائف سٹائل ۔۔۔ انکے کپڑے جوتے۔۔۔ انکے ڈیزائنز۔۔  انکے ڈیزائنر پرس ۔۔۔ انکا میک آپ انکی جیولری۔۔۔ نامحسوس انداز میں ہم انہیں فالو کرنے لگتے ہیں۔۔۔ 
خود کو بنانا سنوارنا اچھے سٹائیلش کپڑے پہننا۔۔۔ بال خوبصورت بنانا سکن خوبصورت بنانا۔۔۔ ہر شادی یا کسی بھی تقریبات کے موقع پر خود کو سب سے خوبصورت بنانے کا خبط اور اس مقصد کے تحت خود پر کی جانے والی محنت۔۔۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو شعور کی منزل کو چھوتے ہی کم و بیش ہم سب کرتے ہیں۔۔۔ یہ ہمارے فطری تقاضے بن جاتے ہیں کیونکہ کہا نا انسانی دل ہے ہی اس طرز کا جو ہر خوبصورت چیز کی جانب مائل ہو گا۔۔۔ اور یہ محبت سے خالی نہیں رہ سکتا یہ اس دل کی مجبوری ہے۔۔۔ اس لئے ہم کسی کی خوبیوں اسکی شکل و صورت اور سٹیٹس کو دیکھے نامحرم کی محبت کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔۔ کیونکہ یہ اس محبت سے گھونڈے دل کی طلب ہے۔۔۔
لیکن اسقدر مصروفیت بھری اور خوبصورتی سے سجی اس دنیا میں رک کر ہم سوچتے ہی نہیں کے ہمارا ٹریک درست ہے بھی یا نہیں۔۔۔
ہم سوجھ بوجھ والا کام کرتے ہی نہیں۔۔ بس دیکھتے ہیں کے کونسا ٹریک ہے جسکی سب سے زیادہ پیروی کی جا رہی ہے۔۔ اور پھر جہاں زیادہ بھیڑ لگی ہوتی ہے اسی بھیڑ کا حصہ بن جاتے ہیں۔۔۔
میں کنزل الایمان نے خود پر بہت زیادہ محنت کرنے کے بعد جب وہ سہی ٹریک ڈیفائن کیا تو تھرا گئ۔۔۔ آنکھیں نم ہوگئیں۔۔۔ دل نے کہا یہ تو غلط ٹریک پر بہت آگے تک آگئ میں۔۔۔۔مگر پھر دل نے تسلی دی کے واپسی کا راستہ تو بحرحال ہر حال میں ہمارے پاس ہے ہی ہے۔۔۔
ہر خوبصورت چیز جسکی جانب ہمارے دل نے متوجہ ہونا تھا وہ خوبصورت چیزیں کونسی تھیں بھلا۔۔۔
وہ خوبصورتی تھی اللہ کی قدرت۔۔۔ کیا بھلا اسکی قدرت سے بڑھ کر بھی اس دنیا میں کچھ خوبصورت ہو سکتا ہے۔۔۔
میں نے اپنی بھاگتی ڈورتی زندگی میں رک کر دیکھی وہ خوبصورتی جسے ہم فارگرانٹڈ لیتے ہیں۔۔۔
دیکھنا کبھی طلوع سورج کا نظارا۔۔۔۔ اور کبھی شام میں غروب سورج کا منظر۔۔۔ دیکھنا کبھی قدرت کی خوبصورتی کو۔۔۔ کبھی بارش کے بعد بننے والی ست رنگی دھنک کو۔۔۔۔ دیکھنا کبھی چھوٹے چھوٹے اپنے ہاتھ کے برابر پرندوں کو آسمانوں کی وسعت کو چھوتے ایک لیول پر پرواز کرتے ہوئے۔۔۔ اور سوچنا کے یہ کیسے اتنے درست طریقے سے بیلنس برقرار رکھتے اڑ رہے ہیں۔۔۔ وہ کونسی ذات ہے جو انہیں گرنے نہیں دیتی۔۔۔
کبھی غورو فکر کرنا پھولوں کی پولی نیشن پر کے کیسے ایک مکھی ایک پھول پر بیٹھ کر دوسرے تک کا سفر کرتی انکی افزائشِ نسل بڑھاتی ہے۔۔۔ تمہارا دل اس پاک ذات کی محبت میں پور پور ڈوب جائے گا۔۔۔۔
غور و فکر کرنا کبھی زرا اپنے ارد گرد اور مشاہدہ کرنا بچوں پر جو قانوں قدرت کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔۔۔ یہ ہم ہوتے ہیں جو بڑے ہونے پر اپنا اصل بھولتے اس دنیا کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔۔۔ لیکن بچے پیور ہوتے ہیں۔۔۔ بالکل خالص۔۔ کورے کاغذ کی طرح ۔۔۔ جن پر ہم اپنی مرضی کی تحریریں رقم کر دیتے ہیں۔۔۔
کبھی محنت سیکھنی ہوئی تو بچوں سے سیکھنا۔۔۔ میں لاوئنج کے ایک کونے میں بیٹھ جاتی ہوں اور اپنے بیٹے کو جدوجہد کرتے دیکھتی ہوں۔۔۔ وہ چھوٹا سا بچا جسنے ابھی بامشکل چلنا بھی نہیں سیکھا وہ ہار ماننے کو تیار نہیں ہوتا ۔۔  وہ کاونٹر ٹاپ کے سہارے کھڑا ہوتا ہے اور اپنے قد سے اونچی کاونٹر ٹاپ پر پڑی اشیا کو اچک اچک کر اٹھانے کی کوشیش کرتا ہے۔۔۔ لیکن جب کامیاب نہیں ہوتا تو ہار نہیں مانتا ۔۔۔ میرے بیٹے نے تھک کر نیا طریقہ ڈھونڈا اس چیز تک رسائی حاصل کرنے کا ۔۔۔ وہ رینک کر پلاسٹک کا چھوٹا سٹول کھینچ لایا پھر اس پر چڑھنے کی جستجو کر کے کاونٹر ٹاپ پر پڑے اس ڈبے کو کھینچنے کی کوشیش کرنے لگا۔۔۔ میں مسکراتے ہوئے اسکی کوشیشوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ ظاہر ہے وہ چھوٹا تھا اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا تھا لیکن ہار ماننے کو تیار نا تھا اسنے ایک اور کوشیش کی لیکن اسکا بیلنس بگڑا اور وہ بے طرح زمین بوس ہونے والا تھا لیکن میں ٹرپ کر آگے بڑھی  اسے زمین بوس ہونے سے بچایا اور اپنی ممتا کے آنچل میں چھپا لیا۔۔۔۔ تب مجھ پر انکشاف ہوا کے میرا اللہ بھی تو ایسے ہی کرتا ہے۔۔۔ کب گرنے دیتا ہے وہ اپنے بندوں کو۔۔۔ تھام لیتا ہے وہ بھی تو۔۔۔ لیکن ہم اس پر غور و فکر کیوں نہیں کرتے۔۔
میں نے اپنے بیٹے کی جدوجہد دیکھ وہ ڈبہ اٹھا کر اسکے سامنے رکھ دیا۔۔۔ اسکی خوشی کی انتہا نا رہی۔۔۔ اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے  کے میرا رب بھی تو محنت ضائع نہیں جانے دیتا۔۔۔ وہ بھی تو ہماری تڑپ اور محنت دیکھ ہمیں بے بہا نوازتا ہے۔۔۔ پھر ہم قدردان کیوں نہیں ہوتے۔۔۔
جب انسان اللہ کی بنائی قدرت پر غور و فکر کرنے لگتا ہے نا پھر اللہ اسے چھوٹے سے چھوٹے واقعہ سے بھی بہت بڑے بڑے مطلب اخذ کروا دیتا ہے۔۔۔
وہ دل جو نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی کسی نامحرم کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔۔۔ اسے کسی نامحرم کی محبت میں گرفتار ہونے سے پہلے اپنے رب کی محبت میں گرفتار کروانا ہوتا ہے۔۔۔ اور یہ کیسے ہوتا ہے بھلا۔۔۔ ہم کسی نامحرم کی محبت میں گرفتار کیوں ہوتے ہیں۔۔۔ اسکی لکس دیکھ کر اسکا اخلاق دیکھ کر۔۔۔ اسکا لائف سٹائل دیکھ کر۔۔۔
اسی طرح ہمیں اپنے رب کی تخلیق کردہ  انہی چیزوں پر غور کرنا ہے جو اس کائنات کا حسن ہے اور ان میں ہمیں ایسے ایسے راز اور بنانے والے کی ایسی ایسی کارگری نظر آئے گی کے انسان خودباخود  اسکی محبت میں بے طرح گرفتار ہوتا اسے سامنے سربسجود ہو جائے گا۔۔۔
یہ ہے ایک انسان کا اسکے رب سے تعلق جو جیسے جیسے اسکی قدرت پر غور و فکر کرے گا ویسے ویسے اسکی محبت میں مبتلا ہوتا اسکے مزید قریب ہوتا چلا جائے گا پھر دنیا داری ساری چلتی رہتی ہے۔۔۔ انسان خود کو بناتا سنوارتا بھی اور خود کو اس سوسائٹی کے قائم کردہ اصول کے مطابق اللہ کی قائم کردہ حدود میں رہ کر رپریزینٹ بھی کرتا ہے۔۔۔ مگر تب پہلی ترجیح جسم نہیں روح بن جاتی ہے۔۔۔ وہ پہلے روح پر کام کر کے اسے سنوارتا ہے جسم کا نمبر دوسرا ہوتا ہے۔۔۔
آرٹیکل پڑھتے اسکی آنکھیں نم تھیں۔۔۔ وہ بے یقین تھی کے یہ اسنے لکھا ہے۔۔۔ وہ بے یقین تھی کے وہ کبھی اتنی گہرائی میں بھی لکھ سکتی ہے۔۔ مگر نہیں جب انسان قدرت کی ضناعی پر کام کرتا ہے تو قدرت یونہی اس پر اپنے راز کھولتی ہے۔۔۔ ایسے ہی تو انسان اشرف المخلوقات نہیں۔۔۔
دفعتاً سبحان کے رونے کی آواز پر وہ سب کچھ وہیں چھوڑ اندر کو بھاگی وہ شاید نیند میں ڈر کر اٹھ گیا تھا۔۔۔
******
حکم خان۔۔۔
خان کا رابطہ امجد سے استوار ہو گیا تھا۔۔۔ وہ فون کان سے لگائے صوفے پر ڈھیلے سے انداز میں بیٹھا صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں مونڈے ماتھے پر ہاتھ کی مٹھی مار رہا تھا۔۔۔
کیا اپڈیٹ ہے امجد۔۔ ۔
سب سیٹ ہے خان ۔۔۔ افضل نے دوبارہ کوئی گڑبڑ نہیں کی ۔۔۔ میری نگاہ ہر دم اسی پر ہے۔۔۔ نیز میں معاملات کو باریکی بینی سے سمجھنے کے لئے آج کل لاہور میں ہی قیام پذیر ہوں۔۔۔
ہممم۔۔۔ گڈ۔۔۔
ایک کام کرو۔۔۔ اپارٹمنٹ جاو۔۔۔۔ میں نے تمہیں ایک لسٹ سینڈ کی ہے۔۔۔ جاتے ہوئے ایمان اور سبحان کے لئے وہ سب کچھ لے کر جانا ۔۔۔ بالخصوص سبحان کے لئے کھلونے چاکلٹس اور سلانٹی۔۔۔۔۔
میرے بیٹے سے مل کر اسکا حال احوال دریافت کرو امجد کے وہ کیسا ہے ۔۔۔ اور ہاں وہاں جا کر اپنے نمبر سے میری ان دونوں سے بات کروانا۔۔۔ 
اور ہاں سب کچھ خرید کر ان تک پہنچنے کے لئے تمہارا پاس محض ایک گھنٹہ ہے۔۔۔ اس سے زیادہ انتظار میرے لئے عبث ہے۔۔۔ اپنی کہہ کر وہ بنا اسکی کوئی بات سنے رابطہ منقطع کر گیا۔۔۔ ایک گھنٹے کا مطلب تھا ایک گھنٹہ۔۔۔ اور اب یہ ایک گھنٹہ کاٹنا ہی اسکے لئے محال ہو گیا تھا۔۔۔۔
****

No comments

Powered by Blogger.
4