Rah_e_haq novel 38th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 38th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
اڑتیسویں قسط۔۔۔
شامیر خان آفس میں بیٹھا منتشر ذہن کیساتھ کام کر رہا تھا۔۔۔ دماغ کے پنچھی باپ تک بھی اڑ کر جاتے کے افضل کے ہاتھوں ملنے والی انفارمیشن کو وہ کس نظر سے لیتے ہیں یا اس انفارمیشن کی بنیاد پر انکا اگلا سٹیپ کیا ہو گا۔۔۔
نیز اپنے معصوم بچے کی ننھی ننھی شرارتیں دیکھے بنا اور بیوی سے بات کئے بنا ایک عجیب سی بے چینی و بے کلی اندر چٹکیاں کاٹنے لگی تھی۔۔۔
ابھی وہ اسی اڈھیر پن میں مصروف تھا جب دروازہ ناک کر کے اسکا سیکریٹری اندر داخل ہوا۔۔۔۔
سر آپکو واجد سر بلا رہے ہیں۔۔۔
اسنے طیش سے اپنی مٹھی میچی البتہ چہرے کے تاثرات ہنوز نارمل تھے۔۔۔.
ہممم۔۔۔ چلو میں آتا ہوں
سیکریڑی کے جانے کے بعد اسنے دو تین گہرے گہرے سانس خارج کئے اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ فائنلی اسکا بلاوا آگیا تھا اب جانا تو تھا ہی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ سپاٹ تاثرات سمیٹ باپ کے روبرو بیٹھا تھا۔۔۔ وہ ریوالونگ چئیر پر بیٹھے پیپر ویٹ گھماتے اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
جی آپ نے بلایا بابا۔۔۔ اسنے کمرے میں سرائیت کرتی وحشت ناک خاموشی کو توڑتے بات کا آغاز کیا۔۔
یہ نسیم بی بی کون ہے۔۔۔ بابا کی جانب سے چھبتا ہوا سوال آیا۔۔۔ گویا تفتیش شروع ہوچکی تھی۔۔۔
کون نسیم بی بی۔۔۔ وہ بے طرح چونکا۔۔۔
وہی۔۔۔ جس کو دن میں بارہا فون کرتے رہے ہو۔۔۔ جسکے لئے آئے دن لاہور کے چکر لگاتے رہے ہو۔۔۔
بابا کے لہجے میں گہری کاٹ تھی۔۔۔۔
اوہ۔۔۔ تو مطلب آپ نے میرے پیچھے منجر چھوڑ رکھے ہیں۔۔۔ شدید غصے کو ضبط کرتا وہ خظ اٹھانے والے انداز میں بولا۔۔
ظاہر سی بات ہے جب بیٹا باغی ہونے لگے تو منجر چھوڑنے پڑتے ہیں۔۔۔ بابا بلا مبالغہ پیپر ویٹ گھماتے اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ وہ ہمیشہ سے ہی سٹریٹ فارورڈ تھے۔۔۔
لائک سیریسلی بابا۔۔۔ اسنے ایک بھنور اچکائی۔۔۔۔ پھر کیا پتہ چلا میری منجری کروا کر۔۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
یہ ہی کے ایک متوسط طبقے کی انتہائی معمولی اور حقیر سی خاتون ہے نسیم بی بی جس کے نمبر پر تم دن رات کالز کرتے ہو۔۔۔ اور اسی غرض سے تم آئے دن لاہور جاتے ہو۔۔۔ واجد خان کے لہجے میں اتنی حقارت تھی کے شامیر کو اپنی رگوں میں خون کی گردش واضح تیز ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔۔
سہی۔۔ تو پھر تو آپکو میرے وہاں جانے کا مقصد بھی پتہ لگ گیا ہو گا۔۔۔ کافی فاسٹ اور ایکوریٹ سروسز ہیں نا آپکی ۔۔۔۔ شامیر کے لہجے میں طنز کی آمیزش گھلی۔۔۔
ظاہر سی بات ہے شامیر خان کے تمہارے جیسے رئیس زادے کی دلچسپی کا سامان وہ عورت تو ہو نہیں سکتی۔۔۔ یقیناً اسکی بیٹی ہی ہوگی۔۔۔
شامیر خان کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ گویا کمرے کی پوری چھٹ دھڑام سے اسکے سر پر آ گری ہو۔۔۔ مگر اسنے تیزی سے اپنی تاثرات نارمل رکھے۔۔۔ وہ اپنے باپ جیسے زیرک انسان کے ہاتھ اپنی کوئی کمزوری نہیں تھما سکتے تھا۔۔۔
کنزل ایمان نام ہے اسکی بیٹی کا۔۔۔ شامیر کا دل یوں پھڑپھڑایا جیسے وہ ابھی بے دم ہو جائے گا۔۔۔ وہ بے خیالی میں مرنے والا تھا۔۔۔ اسنے اپنے باپ کو اور اسکی پہنچ کو اتنا ہلکا کیسے لے لیا۔۔۔
مڈل کلاس گھرانوں کی لڑکیاں اکثر اپنی ماوں کے نمبر سے رئیس زادے پھنساتی ہیں۔۔۔ کیونکہ انکی اتنی اوقات بھی نہیں ہوتی کے وہ اپنا ذاتی موبائل فون ہی رکھ سکیں۔۔۔۔
شامیر کو واضح اپنا فشار خون بلند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔ کنپتی میں ابلتا ہوا لاوا ٹھوکریں مارنے لگا تھا۔۔۔
اور یہ نام نہاد کہانی کس لئے مجھے سنائی جا رہی ہے۔۔۔ وہ سیدھا ہوتا باپ کی جانب جھک کر انکی آنکھوں میں دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔۔
اسی لئے کے اگر تمہارے قدم غلط راستے پر چل نکلے ہیں۔۔۔ اور میرے بیٹے کے باغی ہونے کے پیچھے وجہ وہ لڑکی ہے تو میں تمہیں بتا دوں کے شامیر خان کا معیار اتنا گرا ہوا نہیں ہو سکتا۔۔۔ اس بے حد معمولی محلے میں رہنے والی لوئر مڈل کلاس لڑکی ہمارے گھر میں ملازمہ رکھنے کے بھی قابل نہیں۔۔۔اور اگر واقعی تمہارے باغی ہوتے قدموں کے پیچھے کا محرک کچھ ایسا ہے تو ٹرسٹ می شامیر خان ایسی لڑکیاں یا تو پھر کوٹھوں کی زینت بنتی ہیں۔۔۔۔
آہہہہہ۔۔۔ شامیر خان کا دل کیا کے سامنے پڑے میز کو ایک ٹانگ رسید کرتا یہاں ہر چیز تہس نہس کردے مگر کسی طرح باپ کی کانوں میں صور پھونکتی آواز بند کروا دے۔۔ مگر بے بسی یہ تھی کے وہ باپ کے ارادوں سے باخوبی واقف تھا۔۔۔ وہ اتنی سخت باتوں پر معمولی سا رد عمل دے کر بھی انکے شک پر یقین کی مہر ثبت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
یا پھر راہ چلتے ایک گولی کی نظر ہوتی ہیں اور لاورثوں کی طرح کہیں پھینک دی جاتی ہیں۔۔۔
شامیر خان کا سینے کی حدود میں مقید دل کسی بے بس قیدی زخمی پرندے کی مانند پھڑ پھڑا کر رہ گیا ۔۔۔۔۔
وہ دلکشی سے مسکرا دیا۔۔۔
My dear Father.....
یار آپ تو میرے انکار کو اسقدر سیریس لیتے دل پر ہی لے گئے ہیں۔۔۔ اففففففف۔۔۔
کہاں کہاں سے جوڑتا ہے آپکا دماغ اتنی خرافاتی کہانیاں۔۔۔ مائے گاڈ۔۔ وہ ہلکا سا قہقہ لگاتا ہسا۔۔۔
یار وہ ایمان ہے شمان ہے یا جو بھی ہے۔۔۔ وہ بے طرح سر جھٹکتا ہسا۔۔۔ اسکے ساتھ آپکو جو بھی کرنا ہے پلیز اسکا الزام میرے سر پر رکھ کر مت کریں۔۔ کے تمہاری وجہ سے ایسا کیا۔۔۔
پروشہ سے منگنی سے منع اس لئے کیا کے نہیں کرنی ابھی شادی۔۔۔ کیوں اس انکار کو انا کا مسلہ بنا رہے ہیں بابا۔۔۔ یار نا کریں پلیز۔۔۔
زندگی انجوائے کرنے دیں۔۔۔ کرسی سے ٹیک لگا کر ٹانگ پر ٹانگ جمائے انگلیاں انگلیوں پر بجاتا جھولتا ہوا وہ بڑے دوستانہ انداز میں بول رہا تھا
واجد خان شش و پنج میں مبتلا اسکا یہ نارمل اور لاابالی انداز دیکھ رہے تھے۔۔۔
ہم تمہاری شادی نہیں کر رہے تھے۔۔۔ انکے تنے تاثرات زرا ڈھیلے پڑے۔۔۔۔
میں اپنی مست زندگی میں منگنی بھی افورڈ نہیں کر سکتا۔۔۔ وہ دوبدو بولا۔۔۔
میں اسکے باپ کو زبان دے چکا ہوں۔۔۔ اور پھر تمہاری اور پروشہ کی دوشتی بھی تو بڑی پکی ہے۔۔۔
سب اپنی جگہ پر ٹھیک ہے بابا۔۔۔ چلیں چھوڑیں آپ۔۔۔ جب شادی کا موڈ ہوا تو کر لوں گا پروشہ سے۔۔۔ لیکن کوئی کمٹمنٹ نہیں۔۔۔ اسنے ہاتھ جھلاتے لاپرواہی سے کہتے گویا بات ٹالنی چاہی۔۔۔
بابا نے اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔
اور یہ نسیم بی بی کا کیا چکر ہے۔۔۔ وہ گویا اس ساری بات چیت میں اہم نقطہ نا بھولے تھے۔۔۔۔
یارررر باباااا۔۔۔ کیا مڈل کلاس ابا کی طرح ہر ہر بات کی تفتیش کرنے بیٹھنے لگے ہیں آپ۔۔۔ لگتا ہے یہ کلاس کچھ زیادہ ہی سوار ہو گئ ہے آپکے ذہن میں۔۔۔
وہ جھنجھلایا۔۔۔ اب ہر ہر واقعہ باپ سے شئیر کرنے والا بھی نہیں ہوتا نا۔۔۔۔۔
اسکے ہر ہر انداز سے لاپرواہی لا ابالا پن جھنجھلاہٹ اور کوفت عیاں تھی جو کبھی اسکی ذات کا خاصہ ہوا کرتی تھی۔۔۔۔
ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا اس عورت کا میری گاڑی سے۔۔۔ پولیس کیس تھا۔۔۔ جانتا ہوں کے میں پیسے کے بل پر سب کلئیر کروا سکتا تھا۔۔۔
مگر سوچا جب میں پیسے کے بل پر سب کلئیر کروا ہی سکتا ہوں تو کیوں نا وہ پیسے اس غریب عورت کو ہی دے دوں۔۔۔ میرا مسلہ بھی حل ہو جائے گا اور وہ ضرورت مند بھی خوش ہو جائے گی۔۔۔
کافی سیریس حالت تھی خاتوں کی اسی لئے رابطے میں رہا کے کہیں اسکا پتہ تو نہیں کٹ ہو گیا۔۔۔
اور پناہ خدا کی آپ پتہ نہیں کون کونسی کہانیاں گڑھ لیتے ہیں۔۔۔ اسنے کوفت سے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔
واجد خان کے سر سے جیسے کوئی بوجھ سرکنے لگا۔۔۔
پھر لاہور کیوں جا رہے تھے بار بار۔۔۔ گویا انکی ابھی تک تسلی نا ہوئی تھی۔۔۔
یا خدا۔۔۔ اس تفتیش سے بہتر ہے تو مجھے اٹھا لے۔۔۔
بابا یار کیا ہے آپکو۔۔۔ لاہور میں میرا پورا لائف سٹائل ہے۔۔۔ یونیورسٹی دوست ہیں۔۔۔ کئ گرل فرینڈز ہیں۔۔۔ موج مستی ہے ہلہ گلہ ہے۔۔۔ آپ اتنے کنزرویٹو اور نیور مائنڈڈ کب سے ہو گئے۔۔۔
اوکے اوکے۔۔۔ بابا اسکی جھنجھلاہٹ اور کوفت دیکھ سیز فائر کر گئے۔۔۔۔
یو مے گو ناو۔۔۔ انہوں نے ہاتھ اٹھاتے گویا میٹنگ برخاست کا اشارہ کرتے اسے جانے کی اجازت دی۔۔۔
اجازت ملتے ہی وہ سرعت سے آفس سے باہر آیا۔۔۔
کچھ کہا نہیں جاسکتا تھا کے بابا قائل ہوئے یا نہیں۔۔۔ کے بحرحال وہ اسکے بابا تھے۔۔۔ ہمیشہ سے اس سے دو ہاتھ آگے رہنے والے۔۔۔ دور کی کوڑی لانے والے۔۔۔ وہ محض اس کنورسیشن کی بنیاد پر پرسکون ہو کر نہیں بیٹھ سکتا تھا کے اسکا باپ سب کراس چیک بھی کروا سکتا تھا۔۔۔ اور سب سے بڑی اور غور طلب بات کے وہ کنزل الایمان کے نام تک سے آشنا ہو چکا تھا۔۔۔ اور اس بنیاد پر آگے کے معاملات جاننا اس کے لئے کچھ مشکل نا تھا۔۔۔
اور اگر واقعی تمہارے باغی ہوتے قدموں کے پیچھے
کا محرک کچھ ایسا ہے تو ٹرسٹ می شامیر خان ایسی لڑکیاں یا تو پھر کوٹھوں کی زینت بنتی ہیں۔۔۔
یا پھر راہ چلتے ایک گولی کی نظر ہوتی ہیں اور لاورثوں کی طرح کہیں پھینک دی جاتی ہیں۔۔۔
شامیر کی آنکھوں میں خون اترنے لگا۔۔۔۔ چہرا خطرناک حد تک سرخ ہو گیا۔۔۔
دفعتاً اسے سامنے سے آتا افضل دکھائی دیا اسکا دل چاہا کے ابھی کے ابھی اس شخص کا سینہ گولیوں سے چھلنی کر ڈالے۔۔۔
افضللللل۔۔۔ کیسے ہو یار۔۔۔ یکدم ہی اسکے سامنے آتا شامیر مسکرایا یوں کے ایک پل کو افضل بھی گھِبرا اٹھا۔۔۔
کرم اللہ کا چھوٹے خان۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔ سنا ہے بڑی منجریاں کی جا رہی ہیں۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے افضل کے کندھے سے نادیدہ دھول جھاری۔۔۔ وہ تھوک نگل کر رہ گیا۔۔۔
چھوٹے خان ہم تو بڑے خان کے حکم کے غلام ہیں۔۔۔
اچھی بات ہے۔۔۔ ہونا بھی چاہیے۔۔۔ خیر نسیم بی بی کا میری گاڑی سے ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا جسکے علاج کے لئے میں انہیں پیسے دیتا تھا اور انکی خبر گیری کرتا تھا۔۔۔ بات مکمل کر کے وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھا۔۔۔
افضل کی سانس میں سانس آئی۔۔۔ یقیناً چھوٹا خان اپنی بات کور کر رہا تھا اسنے سر جھٹکا۔۔۔ اسے کیا۔۔۔ بڑے خان کے کہنے پر وہ ویسے بھی سب کراس چیک کر لیتا۔۔۔
ویسے۔۔۔۔ دفعتا شامیر آگے بڑھتا بڑھتا دو الٹے قدم اٹھاتا اسکے روبرو ہوا۔۔۔
تمہاری بیٹی بہت پیاری ہے ماشااللہ۔۔۔ ابھی حال ہی میں سکول جانا شروع ہوئی ہے نا۔۔ میں نے دیکھا تھا سکول یونیفارم کافی سوٹ کرتا ہے اس پر۔۔۔ گہری کاٹ دار تنبیہً نگاہوں سے اسے دیکھتا مسکرا کر اپنی بات مکمل کر کے
وہ انہی قدموں پر آگے بڑھ گیا۔۔
جبکہ افضل لرز کر رہ گیا۔۔۔ اسکی پشانی عرق آلود ہو نے لگی تھی۔۔۔ دل کے ساتھ ساتھ جسم بھی سوکھے پتے کی مانند کپکپانے لگا تھا۔۔۔
یہ کھلی دھمکی تھی جس سے وہ اسے بڑی خوبصورتی سے آشنا کروا گیا تھا۔۔۔
افضل نے کپکپاتے ہاتھوں سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔۔۔۔
*****
اپنے کیبن میں آ کر شامیر کرسی پر ڈھنے کے انداز میں بیٹھا اور سرخ پڑتی آنکھیں مونڈ کر سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔ اندر جیسے ایک لاوہ سا پک رہا تھا۔۔۔ مگر وہ غصے میں کوئی کام خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اسے حوصلے اور تحمل سے کام لینا تھا۔۔۔ نہایت سوچ بچار اور عقلمندی سے۔۔۔
دفعتاً کچھ دیر یعد اسنے فون اٹھاتے نمبر دائل کیا اور فون کان سے لگا گیا۔۔۔
حکم خان ۔۔۔ دوسری جانب سے رابطہ استوار ہو چکا تھا۔۔۔
امجد میری جدہ میں شروع ہونے والے نئے پڑاجیکٹ کے لئے آج رات کی جدہ کی ٹکٹ بک کرواو۔۔ اس پڑاجیکٹ کو لیڈ میں کروں گا۔۔۔ اور ہاں پیچھے سے ایمان اور سبحان کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔۔۔ اور یاد رکھنا اس کام میں کوتاہی کا ازالہ تمہاری موت ہوگی۔۔۔ اسکی آواز میں ڈھار تھی۔۔۔ گویا وہ انگارے چبائے بیٹھا ہو۔۔۔میں ان دونوں کو تمہارے بھروسے چھوڑ کر جا رہا ہوں۔۔۔ اور رہ گیا وہ افضل اس پر نظر رکھنا یہ کوئی گڑبڑ نا کرے۔۔۔ اور اگر پھر سے ایمان کی کھوج میں نکلے تو بے ڈھرک اسکی بیٹی اٹھا لینا۔۔۔ پھر دیکھتا ہوں میں اسکا بابا سے وفاداری کا بھوت۔۔۔ کے بات جب اولاد پر آئے تو انسان ہر نفع و نقصان سے عاری ہو جاتا ہے۔۔۔ اگر کوئی میرے معصوم بچے کی گردن کو آئے گا تو میں اسکا کلیجہ نوچ ڈالوں گا۔۔۔ غصہ ضبط کرتے اسنے رابطہ منقطع کیا اور فون بند کر کے میز پر پھینکتے سر ہاتھوں میں گرا گیا۔۔۔
*****
اپنے کمرے میں موجود شامیر نے سنجیدہ تاثرات سمیٹ اپنی پیکنگ مکمل کی اور ہینڈ کیری کی زپ بند کرتا اسے بستر سے اتار کر نیچے رکھا۔۔۔ کمرے سے باہر نکلا اور ملازم کو آواز دے کر ہینڈ کیری گاڑی میں رکھنے کو بولا۔۔۔
اسکی فلائیٹ میں ابھی وقت تھا لیکن وہ وقت سے پہلے ہی گھر سے نکل جانا چاہتا تھا کیونکہ اسے اس گھر میں وحشت ہو رہی تھی جہاں زخمی ہوئے پڑے دل کے ساتھ بھی اسے بے دلی سے مسکرانا پڑ رہا تھا کے کہیں اسکے چہرے کے غمگین تاثرات اسکا بھید نا کھول دیں۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے سیڑھیاں اترا رخ باہر کی جانب تھا جب جاتا جاتا کچن کی جانب پلٹا۔۔۔ ۔
کچن میں کاونٹر ٹاپ کے سامنے سٹائلیش سے ڈریس میں ملبوس بالوں کی ٹیل پونی بنائے افسردہ سی میرب بھابھی کھڑی کچھ بنا رہی تھیں۔۔۔ شامیر انہیں دیکھ کر ٹھتھکا اور قدم قدم اس جانب بڑھا۔۔۔
تمہیں کچھ چاہیے شامیر۔۔۔ وہ اسکی موجودگی محسوس کر کے چولہے کی آنچ ہلکی کرتی اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔
شامیر سنجیدگی سے انکا اترا اترا اور افسردہ چہرا دیکھ رہا تھا۔۔۔ یہ چہرا کسی صورت ایک نوبیاہتا کا نا تھا۔۔۔ اور انکی شادی کو وقت کتنا ہوا تھا۔۔۔ بامشکل ایک ہفتہ۔۔۔ یہ موازنہ اس لئے بھی زیادہ تھا کے اسی گھر میں ایک اور بھرپور نیا نویلا شادی شدہ جوڑا ہر وقت اپنی زندگی میں مست موج مستی اور ہلا گلہ کرتا نظر آتا۔۔۔۔
جانے کیوں شامیر کو انکے چپ چپ سے روپ میں ایمان کی جھلک نظر آئی۔۔۔
بھائی کہاں ہے بھابھی۔۔۔ اسنے ادھر ادھر متلاشی نگاہ ڈورائی۔
بھابھی اداسی سے مسکراتی شانے اچکا گئ۔۔۔ شامیر لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔
وہ دوبارہ سے چولہے کی آنچ تیز کرتی اس جانب متوجہ ہو گئ۔۔۔ صاف ظاہر تھا وہ اپنا بھرم رکھنے کو آنکھوں کی نمی چھپا رہی تھیں۔۔۔
وہ بنا مزید وہاں رکے باہر نکل آیا۔۔۔ ڈرائیوے پر ہی اسکا سامنا عدنان بھائی سے ہوا جو اپنی گاڑی سے نکل کر اندر کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔
اسے دیکھ کر مسکرا دئیے۔۔۔
کدھر کی تیاری ہے چھوٹے۔۔۔
جدہ جا رہا ہوں نئے پڑاجیکٹ کے لئے۔۔۔ شامیر کے خوشدلی سے کہنے پر وہ سمجھ کر سر ہلا گیا۔۔۔
ایک بات کہوں بھائی۔۔۔ وہ شش و پنج میں مبتلا بول اٹھا۔۔۔
ہممم کہو۔۔۔ عدنان خان چونکا۔۔۔
طاقت ور پر بس نا چلے اور بے بس پر زور چلانا عقلمندی تو نہیں۔۔۔
مطلب۔۔ عدنان کا انداز نافہم تھا۔۔۔
مطلب یہ کے ہوسکتا ہے جس طرح سے آپ اپنی شادی کے لئے مجبور کئے گئے تھے اسی طرح بھابھی نے بھی بڑوں کے فیصلے کا احترام کرتے سر خم کیا ہو۔۔۔ آپکو نہیں لگتا کے وہ اس ساری کہانی کا ایک بے ضرر اور معصوم کردار ہے جن کے ساتھ آپکا رویہ قطعی نامناسب ہے۔۔۔
کیونکہ جہاں تک میں نے جانا ہے۔۔۔ اس سے پہلے کے عدنان اسے کچھ کہتا وہ بنا اسکی بات سنے مذید گویا ہوا۔۔۔ بھابھی بہت اچھی اور پیاری نیچر کی مالکن ہے۔۔۔ رفیہ بھابھی کی طنزیہ اور حاکمانہ فطرت کے بالکل برعکس نرم مزاج اور ہس مکھ۔۔۔
ٹھیک ہے محبت دل کا معاملہ ہے لیکن میرے خیال سے وہ آپکی جانب سے عزت ضرور ڈیزرو کرتی ہیں۔۔۔
اپنی بات مکمل کر کے شامیر وہاں رکے بنا گاڑی میں بیٹھتا گاڑی نکال باہر لے گیا۔۔۔ جبکہ جاتے جاتے وہ عدنان خان پر سوچو کے بہت سے در وا کر گیا تھا۔۔۔ وہ شاید واقعی غلطی کا مرتکب ہو رہا تھا۔۔۔ محبت میں ناکامی کی سزا کسی بے ضرر وجود کو دے رہا تھا۔۔۔
لاوئنج میں آتے ہی اسکی نظر کچن میں کام کرتی میرب پر پڑی تو الجھا الجھا سا اسی جانب آگیا۔۔۔
کام کرتے میرب کی نگاہ اس پر پڑی تو یکدم ہڑبڑا اٹھی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔ آپ کب آئے عدنان۔۔۔ وہ سب وہیں چھوڑ فریج کی جناب لپکی اور بوتل سے پانی گلاس میں انڈیلتے اسکی جانب بڑھا۔۔۔ وہ سر سے سلام کا جواب دیتا گلاس تھام گیا۔۔۔۔
کیا کر رہی ہو۔۔۔۔
رس ملائی بنا رہی تھی۔۔۔ آپکو پسند ہے نا۔۔۔ وہ تیار شدہ رس ملائی پین سے نکالتی باول میں ڈال رہی تھی۔۔۔ توقع نہیں تھی کے عدنان جیسے خاموش طبیعت انسان کی جانب سے جواب موصول ہو گا۔۔۔ شادی کے بعد اسنے عدنان میں محض ایک ہی چیز دیکھی تھی۔۔۔ مہیب چپ اور خاموشی۔۔۔ اسکی چھوٹی سے چھوٹی بات کے نتیجے میں بھی اور لمبی سے لمبی بات کے نتیجے میں بھی۔۔۔
ہممم۔۔۔ پسند ہے۔۔۔ تم اس ٹھنڈا ہونے کے لئے فریج میں رکھ دو۔۔۔ اور خود تیار ہو جاو۔۔ ہم کچھ ہی دیر میں شاپنگ کے لئے چل رہے ہیں اور پھر وہاں سے ڈنر کر کے ہی لوٹیں گے۔۔۔ رس ملائی ہم آ کر کھائیں گے۔۔ اپنی بات مکمل کر کے وہ اسے حیرت کے سمندر میں غوطہ زن چھوڑ اوپر چلا گیا۔۔۔ جبکہ میرب اسکے اتنی لمبی بات وہ بھی اس سے کرنے پر غش کھا کر گرنے کو تھی۔۔۔ کچھ دیر بعد حیرت زرا کم ہوئی تو وہ حیرت زدہ سی مسکرا دی۔۔۔ جیسے اس تبدیلی کی وجہ وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر ہو۔۔۔
****

No comments