Rah_e_haq novel 37th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 37th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
سینتیسویں قسط
گاڑی مطلوبہ جگہ پر آ کر رکی تو اندر سے مضطرب سا شامیر نکلا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپاڑتمنٹ بلندنگ کے مطلوبہ فلور پر مطلوبہ اپارٹمنٹ میں آیا۔۔۔
امجد نے بھی اسکی تقلید کی۔۔۔ شامیر اس وقت سکون کا خواہاں تھا اور تنہائی میں سکون سے بیٹھ کر اس مسلے کا کوئی حل سوچنا چاہتا تھا جو اسکے حلق کو آ گیا تھا۔۔۔
اسلام آباد میں یہ اسکا وہ اپارٹمنٹ تھا جہاں دوستوں کے ساتھ وہ کئ دفعہ سٹے کرتا تھا۔۔۔۔ جہاں اکثر تنہا رہنے کے لئے وہ کی کئ دن آ کر رکتا۔۔۔
لاوئنج میں آتے ہی وہ صوفے پر ڈھ گیا۔۔۔ دماغ تیزی سے چلتا اس صورتحال سے نبٹے کا کوئی طریقہ ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔
دفعتاً یکدم دماغ میں کچھ کلک ہوا۔۔۔۔ وہ الرٹ ہو بیٹھا۔۔۔
امجد اپنا فون دو۔۔۔ امجد نے بنا تامل اپنا موبائل نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
شامیر کی انگلیاں تیزی سے امجد کے موبائل پر ایمان کا نمبر ڈائل کر رہی تھیں۔۔
نمبر ملا کر اسنے فون کان سے لگایا وہ پاوں جھلاتا بے صبری سے دوسری جانب سے فون اٹھائے جانے کا منتظر تھا۔۔۔
لیکن اسکا دل دھک سے رہ گیا جب فون بج بج کر بند ہو گیا۔۔۔
ایک پل کو دل میں بہت برا خیال ابھرا ۔۔۔ وہ تھوک نگل کر رہ گیا۔۔۔
کک۔۔۔ کب میری انفارمیشن اکھٹی کرنے کے لئے بولا بابا نے افضل کو۔۔۔ الفاظ اسکا ساتھ چھوڑنے لگے تھے۔۔ ساتھ ہی ساتھ وہ پھر سے ایمان کا نمبر ڈائل کر رہا تھا۔۔۔ بے کلی و بے چینی حد سے سوا تھی۔۔۔
کل رات ہی۔۔۔
شامیر کا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔ افضل کی سروس اتنی تیز نہیں ہوسکتی تھی کے محض چند گھںٹوں میں بابا کو ساری معلومات دے دیتا اور وہ ایمان تک پہنچ جاتے۔۔۔ اسنے خود کو تسلی دی۔۔۔
لیکن ایسا ہو بھی سکتا ہے۔۔ اندر سے ایک خدشہ سر ابھارنے لگا۔۔۔۔
ایمان فون بھی تو نہیں آٹھا رہی تھی۔۔۔ اور ہنگامی بنیادوں پر بذات خود لاہور جا کر سب چیک کرنا آ بیل مجھے مارنے کے مترادف تھا۔۔۔ اگر بابا کا ذہن اس جانب نا بھی جا رہا ہوتا تو بھی شامیر کے لاہور جانے سے چلا جاتا۔۔۔
دفعتاً دوسری طرف سے رابطہ استوار ہوا اور ایمان کی نیند سے بوجھل آواز سنائی دی تو۔۔ شامیر کی جان میں جان آئی۔۔۔ اسنے بے ساختہ ایک پرسکون سانس خارج کی۔۔۔
ہیلو ایمان شامیر خان بات کر رہا ہوں۔۔۔ دل کی ڈھرکن بحال ہوتے ہی وہ گویا ہوا۔۔۔
خان آپ۔۔۔ دوسری جانب کالج سے ہلکی پھلکی ہو کر آ کر سبحان کے سنگ سو چکی ایمان نے زیرو پاور کی لائٹ میں بستر پر نیم دراز ہوتے کان سے فون ہٹا کر الجھتے ہوئے نمبر دیکھا۔۔۔
یہ نمبر تو آپکا نہیں خان۔۔۔
جانتا ہوں۔۔۔ ساری فضول باتیں چھوڑو پہلے یہ بتاو کے تمہارے زیر استعمال سم کس کے نام ہے۔۔۔
شامیر کے لہجے کی بے چینی محسوس کر وہ کچھ پلوں کو ساکت رہ گئ۔۔۔
امی کے نام ہے۔۔۔۔۔۔
اوہ شکر۔۔۔۔ وہ بے ساختہ چہرے پر ہاتھ پھیرتا صوفے سے ٹیک لگا گیا۔۔
سب خیریت ہے نا خان۔۔۔۔ جانے کیوں ایمان کو خان کا لہجہ ڈرا رہا تھا۔۔۔۔
میری باتیں غور سے سنو ایمان۔۔۔ اگلے کچھ عرصے تک تم مجھ سے رابطہ نہیں کرو گی۔۔۔ نا فون کال نا میسج۔۔ نا ہی اپنی یا سبحان کی کوئی فوٹو ویڈیو بھیجو گی۔۔۔ یاد رکھنا۔۔۔ جتنا بھی ضرودی کام ہو تم مجھ سے رابطہ نہیں کرو گی۔۔۔ جب تم سے رابطہ کروں گا میں خود کروں گا۔۔۔۔ اور ہاں یہ فون کال بند ہوتے ہی یہ سم اپنے موبائل سے نکال کر توڑ دینا۔۔۔ اس سم کو دوبارہ اپنے زیر استعمال مت لانا۔۔۔ وہ ایک ایک بات پر زور دیتا اسے تاکید کر رہا تھا۔۔۔ اور اسکا یہ ہی انداز ایمان کو شامیر کی طرف سے کہی جانے والی باتوں کی سنگینی سے آگاہ کر رہا تھا۔۔۔
شامیر کی باتوں سے ایمان کو اپنا دل مسلسل ڈوبتا محسوس ہوا۔۔۔
ہوا کیا ہے خان۔۔۔ اسکی پست سی آواز ابھری۔۔۔۔
ایک پرابلم ہو گئ ہے ایمان۔۔۔ میری دنیا والے تمہاری کھوج میں ہے۔۔۔ اور تم جانتی ہو نا کے ہم پرسکون طریقے سے اپنی دنیا تب تک بسا سکتے ہیں جب تک میری یہ چھوٹی سی دنیا میری اس ظالم دنیا والوں کی نظر سے اوجھل رہے۔۔۔
شمیر کی بے بس آواز پر ایمان کا دل اتنی زور سے ڈوبا کے اسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔۔۔
اب کیا ہوگا خان۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔ تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ بس کچھ اختیاط لازم ہے۔۔۔ پھر سب سیٹ ہو جائے گا۔۔۔ تم بس دعا کرنا۔۔۔۔
جی خان۔۔۔ وہ مریل سی آواز میں کہتی بے جان ہوتے وجود کیساتھ رابطہ منقطع ہونے کی آواز سنتی رہی۔۔۔ جو غالباً جلدی میں تھا جو بعجلت اسے صورتحال سے آگاہ کر کے رابطہ منقطع کر گیا۔۔۔۔زندگی کیوں تھی اسقدر غیر متوقع اور آزمائشوں سے پر۔۔۔ یہ پرسکون کیوں نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔
اسنے پچھلے دنوں خان کے سنگ اتنا خوبصورت اور مکمل وقت گزارا تھا کے اسے محسوس ہوا اب زندگی میں کوئی غم نہیں۔۔۔
لیکن شاید لوگوں کی حاسد نظر ہی اسے کھا گئ تھی۔۔۔ یا شاید زندگی تھی ہی غیر متوقع ۔۔۔۔۔بے ساختہ اسکے آنسو چھلک پڑے۔۔۔
****
گڈ۔۔۔ چلو یہ مسلہ تو حل ہوا کے ایمان کی سم سے وہ لوگ اس تک نہیں پہنچ سکتے۔۔۔ سم اسکی ماں کے نام تھی اور اسکی ماں کے گھر اور اپارٹمنٹ بلڈنگ کے درمیان اچھا خاصا فاصلہ تھا۔۔۔ نیز دونوں گھروں کے سٹیٹس میں بھی فرق تھا۔۔۔۔ اعر وہ اسکی سم بند کروا چکا تھا تو لوکیشن ٹریکنگ کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا۔۔۔
اسے کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔
چلو شکر کے ٹریول ہسٹری اور اسکی کال ہسٹری سے وہ لوگ شکوک و شبہات کا شکار ہو سکتے تھے۔۔۔ اسکے لئے وضاحت طلب کئ سوال اٹھا سکتے تِھے لیکن ایمان تک یا اسکے راز تک نا پہنچ سکتے تھے۔۔۔ یکدم ہی اسے اپنی ختم ہوتی توانائیاں بحال ہوتی محسوس ہوئیں۔۔۔
وہ سب کچھ فیس کر سکتا تھا۔۔۔ بابا کی عدالت میں لگتی انکوائری بھی اور انکے وضاحت طلب سوال بھی۔۔۔ یقیناً اس شک کے بیچ سے وہ آئندہ کچھ وقت تک اس پر نظر رکھتے۔۔۔ اور آئندہ اختیاط لازم تھی۔۔۔ اسے اگلے کچھ عرصہ تک ایمان سے ہر طرح کا رابطہ ختم کرنا تھا۔۔۔
امجد۔۔۔ جی سر۔۔۔ کچھ سوچتے سوچتے وہ چونکا۔۔۔
جو اپارٹمنٹ ہم نے ایمان کے نام کروایا ہے۔۔۔ اسکی ہیمنٹ اونلائن کروائی تھی یا کیش۔۔۔
اونلائن ہی کی تھی سر۔۔۔۔
امجد کے کہنے پر وہ کہنی صوفے کی ہتھی پر رکھے ہاتھ پشت سے انگلیاں ہونٹوں پر بجاتا کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔
اب وہ کچھ ریلیکس اور پہلے سے قدرے بہتر تھا۔۔۔
پیمنٹ والی بات کافی پرانی تھی۔۔۔ اب تو اسکا بیٹا بھی چھ سات ماہ کا ہو گیا تھا۔۔۔ یہ اسکی یونیورسٹی لائف کا قصہ تھا۔۔۔۔ وہاں تک شاید وہ لوگ سوچ نا پاتے۔۔۔
اسنے سوچ کے گھوڑے دوڑاتے جیب سے موبائل نکالا اور اس پر اپنی بنکنگ ایپ لاگ ان کرتے پچھلے کچھ عرصے کی ٹرانزکشن ہسٹری چیک کرنے لگا۔۔۔ لیکن جیسے جیسے وہ ٹرانزکشن ہسٹری چیک کر رہا تھا اسکے چہرے پر سکون کی لہریں سرائیت کرتی جا رہی تھیں۔۔۔ اسکے اکاونٹ سے ڈائریکٹ ایمان کے اکاونٹ میں شازو نادر ہی کوئی ٹرانزکشن ہوئی تھی۔۔۔ زیادہ تر اسنے ایمان کو کیش ہی دیا تھا۔۔۔ اونلائن شاپنگ کروائی تو پیمنٹ اپنے کارڈ سے کر دی۔۔۔
مالز سے جا کر کچھ خرید تو بھی کارڈ سوائپ اپ کیا۔۔۔ یہ ایک چیز لاشعوری طور پر اسکے حق میں گئ تھی۔۔۔ اب وہ پرسکون تھا۔۔۔ اسکا ہوم ورک مکمل تھا اب وہ اپنے باپ کی عدالت میں جا کر اپنا کیس لڑ سکتا تھا۔۔
لیکن ایک بات طے تھی کے وہ اپنے اور اپنی بیوی کے سٹیٹس ڈفرینس کو درمیان میں لاتا کبھی اپنے بچے کی معصومیت اور اسکا بچپن تباہ نہیں ہونے دے سکتا تھا۔۔۔ وہ اپنی چھوٹی سی پرسکون دنیا کو کبھی اپنے اونچے شملے والے باپ کی ضد کی نظر نہیں ہونے دے سکتا تھا۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ بلاشبہ جب سب راستے بند ہو جاتے ہیں تب بھی اس مالک کی جانب سے ایک راستہ کھلا رہتا ہے جسے تحمل سے تلاشنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ جو غصے اور جلد بازی میں کبھی نہیں ملتا کیونکہ وہ فرماتا ہے۔۔۔ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔۔۔ آسانی مشکل کے ساتھ ہی ہوتی ہے لیکن ہم مشکل پڑنے پر تحمل کا دامن چھوڑتے اس آسانی کو دیکھنے کے قابل نہیں رہتے شاید۔۔۔
وہ مضبوط قدم اٹھاتا واپسی کے راستے پر گامزن تھا۔۔۔ اب وہ پہلے سے بہت بہتر تھا۔۔۔ مصیبت ٹلی نہیں تھی تو اسے حل کرنے کا حوصلہ مل گیا تھا اسے۔۔۔
*****
شامیر کے فون سے ایمان کی نیند ویسے ہی ٹوٹ گئ تھی سبحان ابھی تک سو رہا تھا وہ بستر سے اتری اور کمرے کی بتی روشن کی۔۔۔۔
وال کلاک پر نظر پڑی تو پتہ چلا کے عصر کا وقت ہو رہا تھا۔۔۔ اسنے وضو کر کے نماز ادا کی اور ہاتھ بارگاہ الہی میں بلند کر کے کئ لمحے گم صم سی خاموش بیٹھی رہی۔۔۔ آنسو آنکھوں سے رواں تھے۔۔۔ بعض اوقات لفظ ختم ہو جاتے ہیں اور خاموشی ہر دکھ تکلیف بیان کر دیتی تھی۔۔۔ کافی دیر رک کر یونہی بیٹھنے کے بعد وہ اللہ تعالی سے اپنے لئے بہتریاں اور آسانیاں طلب کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
اس وقت جائے نماز تہہ کر کے وہ ایک نئے حوصلے اور عزم سے کمرے سے نکلی تھی۔۔۔
ہاں وہ پریشان تھی۔۔۔ اسکے شوہر نے جس ہواس باختگی اور پریشانی میں اسے فون کیا تھا۔۔۔ اسکا پریشان ہونا بنتا تھا۔۔۔
لیکن اب وہ اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ چکی تھی۔۔۔
اب سب سے پہلے جو غور طلب کام تھا وہ اسے اپنی ذات پر کرنا تھا۔۔۔
جب وہ تھی ہی اشرف المخلوقات ۔۔۔ تو اسے تمام ثانوی چیزوں سے اوپر اٹھتے خود کو خاص بنانا تھا۔۔۔ جب انسان کے پاس سب سے بڑی طاقت موجود تھی جسکی بنیاد پر وہ کوئی بھی پہاڑ سر کرسکتا ہے تو پھر وہ اس طاقت کا استعمال کیوں نا کرتی۔۔۔
اور وہ طاقت جو انسان سے ستاروں پر کمنڈ دلوا سکتی ہے اسکا نام ہے قوت ارادی۔۔۔۔
ہر انسان کے اندر بہت سے ہائی جیکرز ہوتے ہیں۔۔۔ وہی ہائی جیکرز جو بالکل غیر متوقع طور پر طیارے کو اغواہ کر لیتے ہیں ۔۔۔ پھر چلتا طیارہ پائیلیٹ کے بھی اختیار میں نہیں رہتا۔۔۔ اسے کہا جاتا ہے کے طیارہ ہائی جیک ہو گیا۔۔۔
بالکل اسی طرح ایک انسان میں بھی بہت سے ہائی جیکرز ہوتے ہیں جو اسے ٹرگر کرتے ہیں۔۔۔ جو اسے تکلیف اٹھانے نہیں دیتے بلکہ کمفرٹ زون میں پٹخے رکھتے ہیں۔۔۔ وہ ہائی جیکرز جو انسانی دماغ کو مختلف طرح کی فینٹسیز میں دھکیل کر اسکی سوچ کو محدود کر دیتے ہیں۔۔۔ جو اسے اونچا سوچنے نہیں دیتے۔۔۔ جو انسان کو سست اور کاہل بنا دیتے ہیں۔۔ آرام پسند اور غافل۔۔۔
جیسے علامہ اقبال نے کہا تھا کے ایک سوئے ہوئے انسان کو تو جگایا جا سکتا ہے مگر جو انسان سو ہی غفلت کی نیند رہا ہو اسے کیسے جگایا جائے۔۔۔
ضرورت ہوتی ہے ان ہائی جیکرز کو کنٹرول کرنے کی جو انسان کو یرغمال کر کے اپنا قیدی بنا لیتے ہیں۔۔۔
پھر سارا سارا دن سوشل میڈیا سکرول ڈاون کرتے اور بے مقصد کے کاموں میں نکل جاتا ہے۔۔۔ دن شروع ہوا دیر سے اٹھے۔۔ کھایا پیا۔۔۔ سوشل میڈیا سکرول ڈاون کیا غفلت میں وقت گزارا دن تمام ہوا اور اگلا سورج طلوع۔۔۔
دن گزرا ہفتہ گزرا مہینے گزرے سال گزرے اور زندگی ختم ہوئی چلو اب فوت ہو جاتے ہیں۔۔۔
ان ہائی جیکرز کو کنٹرول کرتا ہے انسان کا قوت ارادہ۔۔۔۔
شعور کی منازل طے کرنے کے بعد انسان اپنی عادات بناتا ہے خود۔۔۔ اور پھر وہ عادات مل کر انسان کو کامیاب بناتی ہیں۔۔۔
اور اس وقت کنزل الایمان ایسے ہی ایک جذبے سے سرشار بہتری اور خودشناسی کے سفر پر چل نکلنے کو مصمم ارادہ کئے بیٹھی تھی۔۔
جب وہ ٹھان چکی تھی تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی تھی۔۔۔
اسنے موبائل اٹھاتے سوشل میڈیا آن کیا اور سب سے پہلے زخرف کے ایف بی پیج اور یوٹیوب چینل کو ان فالو اور ان سکسکرائب کیا۔۔۔۔
حیرت کی بات تھی یہ کرتے نا اسکے ہاتھ تھرکے نا دل کپکپایا۔۔۔ بلکہ اندر ایک عجیب طرح کا سکون سرائیت کر رہا تھا۔۔۔ بس ایک کلک کی بات تھی اور وہ ایک غلط چیز کو اپنی زندگی سے کک آوٹ کر چکی تھی۔۔۔
اسکے بعد ایمان نے یکے بعد دیگرے ان تمام چیزوں کو اپنی ذات سے کاٹ پھینکا جو اسکے لئے ناسور بن گئے تھے جو اسے ٹرگر کرتے اسکے اور اسکے رب کی ذات کے درمیان حائل ہو جاتے تھے۔۔۔
اور اس سب کی شروعات ہو گی اللہ کے لئے اپنی سب سے پیاری چیز قربان کر کے۔۔۔ یہ آپکے نفس پر ایک کوڑا ہوگا۔۔۔
ہوا کے دوش پر ایک آواز اسکے کان سے ٹکرائی۔۔۔
اسنے بہت سوچا تھا کے اسکی سب سے پیاری چیز کونسی ہے جسے وہ اللہ کی راہ میں قربان کر سکے۔۔۔
نیند تھی نہیں۔۔۔ کیونکہ وہ پہلے ہی ماں کی بدولت صبح خیز تھی۔۔۔
پھرررر۔۔۔ بہت سوچ بچار کے بعد دماغ میں کلک ہوا کے اسکی آج کے دور میں سب سے پیاری چیزیں یہ سوشل میڈیا کی سستی انٹرٹینمنٹ تھی۔۔۔ فحش ناول۔۔۔ میوزک۔۔۔ ٹرگر کرتے سینز۔۔۔ اور اسکے ارد گرد پھیلا کانٹینٹ کے نام پر ٹرگر کرتا مواد۔۔۔ جسکے بنا اسکا دن مکمل نہیں ہوتا تھا۔۔۔ اسے جب زرا فرصت میسر آتی ہاتھ خود باخود موبائل کی جانب رینگ جاتا۔۔۔ پھر وہ ہائی جیکرز سیکنڈ منٹوں اور منٹ گھںٹوں میں اڑا لے جاتے۔۔۔۔
ہاں اسنے دل پر پہاڑ جتنا وزن رکھتے محض اللہ کی رضا کے لئے انٹرٹینمنٹ کے نام پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔۔۔ بس اب وہ اللہ کے حضور دعا گو تھی کے وہ اسے اسکے اس فیصلے پر ثابت قدم رکھے۔۔۔
اسنے ایک چیز شدت سے نوٹ کی۔۔۔ جب وہ سارے ٹرگر کرتے کانٹینٹ کو اپنی ذات سے کاٹ کر پھینک چکی اور شعوری کوشش سے موبائل کا زیادہ استعمال ترک کر دیا تو اسکے پاس فراغت ہی فراغت تھی۔۔۔ پھر تو دن کاٹے نا کٹتا۔۔۔ دن اتنا لمبا ہو گیا تھا۔۔۔
تب اسے زندگی میں پہلی مرتبہ احساس ہوا تو دل دہل کر رہ گیا کے زندگی کا کتنا وقت لاحاصل اور فضول کاموں میں ضائع کر دیا۔۔۔ جسکا کوئی حساب کتاب ہی نا تھا۔۔۔
اب اسکے پاس وقت تھا اپنی ذات پر کام کرنے کو اور اپنے رب کی جانب سفر کرنے کو۔۔۔
سب سے پہلے اسنے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاونٹس کو ریپلیس کیا۔۔۔ وہاں وہ کانٹینٹ سرچ کر کے اسے فالو کیا جو اسے اسکے رب سے جوڑتا تھا۔۔۔ ریلز ۔۔۔پوسٹ۔۔۔ شارٹ ویڈیوز۔۔ لانگ ویڈیو۔۔۔ وہاں ان سب چیزوں کی بھی بہتات تھی۔۔۔۔تب وہ اس چیز پر ایمان لے ائی کے واقعی انسان کی دنیا محض وہیں تک محدود ہوتی ہے جتنا اسکا دائرہ کار ہوتا ہے۔۔ وہ اس دائرہ کار سے باہر جھانکتا ہی نہیں اور سمجھتا ہے کے بس یہیں دنیا تمام ہوگئ۔۔۔
فحاشی اور بیڈ روم سینز پڑھتی تھی تو لگتا تھا کے دنیا محض یہی ہے۔۔۔ یہ ہی سب کچھ ہے۔۔۔ اسی کے خیال دن رات ذہن میں چلتے رہتے۔۔۔ حالانکہ وقت اور حالات نے اسے سیکھایا تھا کے جس چیز کو ان فحش ناولز میں پرومینینٹ کر کے ہائی لائٹ کیا جاتا ہے وہ محض زندگی کا ایک حصہ ہے۔۔۔ اور اسکی انسانی زندگی میں اہمیت محض اتنی ہی ہے جتنا بھوک لگنے پر کھانا کھالیا جائے۔۔۔ زندگی میں اور بہت بڑے بڑے کام اور مسلے ہیں۔۔۔ جو غور طلب ہوتے ہیں۔۔۔
اب کانٹینٹ تبدیل کیا تھا تو دماغ کو کلیرٹی ملنے لگی تھی۔۔۔۔ ہر مرتبہ سوشل میڈیا کھولنے پر کوئی نئ چیز سیکھنے کو ملتی جو اللہ پر توکل مزید بڑھا دیتی۔۔۔ یہ کانٹینٹ سکون فراہم کرتا تھا۔۔۔ سوشل میڈیا نے یہ آسانی کر دی تھی اور کچھ بہت اچھا کام کرنے والے بھی تھے جو چن چن کر اللہ کے۔معجزے ریلز اور پوسٹ کی صورت بیان کرتے جس سے ہر بار سوشل میڈیا کھولنے پر ایمان تازہ ہو جاتا اور اپنے مسلے مسائل کم لگنے لگتے۔۔۔ جسے پڑھ کر یا دیکھ کر ایمان کا سارا دن ایک نئ اور پازیٹیو انرجی سے گزر جاتا۔۔۔
اس سے وہ ایک سٹیپ مزید آگے بڑھی اور مارکیٹ جا کر واصف علی واصف اور قاسم علی شاہ کی کتب خرید لائی۔۔۔
شروعات اسنے یہیں سے کی۔۔۔ دماغ آہستہ آہستہ سب قبول کرنے لگتا۔۔۔
شروعات اسنے قاسم علی شاہ کی بچوں کی تربیت پر موجود کتاب۔۔۔ اولاد کی تربیت کے سنہری اصول سے کی۔۔۔ کہ یہ آج کل اسکے لئے اشد ضروری تھی۔۔۔ وہ کم عمر تھی اور ناتجربہ کار لیکن اولاد کی تربیت اونچے پیمانوں پر کرنا چاہتی تھی۔۔۔
جیسے جیسے وہ اس کتاب کو پڑھتی اور بچوں کی تربیت کی باریکیاں پڑھتی تو اسکی آنکھیں نم ہو جاتیں۔۔ کے اسکا اللہ جانتا تھا اسے کس وقت کس رہنمائی کی ضرورت ہے۔۔ تبھی اس وقت اسے اس کتاب سے متعارف کرایا گیا تھا۔۔۔۔پڑھ کر اسکے علم میں اضافہ ہو رہا تھا۔۔۔ اسکی سوچ کو وسعت مل رہی تھی اور اسکا دائرہ کار وسیع ہو رہا تھا۔۔۔
اسنے جانا کے زندگی میں کرنے کو سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔۔۔ بس ضرورت ہے اپنے محدود دائرہ کار کو وسیع کرنے کی۔۔۔ جو بنا کوشیش کے نہیں ہوتا۔۔۔ کمفرٹ زون میں رہ کر سست اور کاہل بن کر آپ دنیا ایکسپلور نہیں کر سکتے۔۔۔
اگر زندگی بامقصد گزارنی تھی اور دنیا سے جانے سے پہلے یہاں پر اپنے نام سے اگر کوئی امپیکٹ کریٹ کرنا تھا تو کمفرٹ زون کو توڑ کر باہر تو نکلنا پڑنا تھا۔۔۔ مشقت تو اٹھانی ہی پڑنی تھی ۔۔۔محنت تو لازم تھی۔۔۔ اور کنزل ایمان ایک ہی جھٹکے میں اپنا کمفرٹ زون توڑتی کمر کس کر میدان میں اتر چکی تھی۔۔۔
کیا بھلا کبھی مشکلیں اور مصائب بھی ختم ہوئی ہیں۔۔۔ کیا بھلا کبھی حالات بھی سازگار ہوئے ہیں۔۔۔ کیا بھلا کوئی سازگار حالات میں بھی بیدار ہوا ہے۔۔۔ جس نے کچھ کرنا ہوتا ہے وہ حالات سازگار ہونے کا انتظار نہیں کرتا کیونکہ حالات تو نبیوں پیغمبروں کے بھی سازگار نا تھے۔۔ جو اپنی زندگی میں کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ بگڑے حالات اور مخالف چلتی ہواوں کا سینہ چیر کر بھی آگے نکل جاتے ہیں۔۔۔۔ کیوں۔۔۔ کیونکہ وہ کمفرٹ زون توڑ کر ہر تکلیف سہنے کو تیار اور محنت کرنے کے لئے ٹھان چکے ہوتے ہیں
*****
******

No comments