Header Ads

Rah_e_haq novel 36th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  36th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

چھتیسویں قسط۔۔۔
ایمان اس وقت سٹاف روم میں اس لیکچرار کے ساتھ موجود تھی۔۔۔ جن سے اسکی ملاقات تھورے سے تردد کے بعد ممکن ہو ہی گئ تھی۔۔۔
سٹاف روم میں قدرے فاصلے پر کچھ لیکچرار اور بھی تھیں۔۔۔ سب اپنے اپنے مشغلوں اور باتوں میں مصروف تھیں۔۔۔
میم۔۔۔ آپکے آج کی لیکچر سے مجھے بہت کلیرٹی ملی ہے ۔۔  اور اسی کلیرٹی سے ہمت پا کر میں آپ سے ملنے آئی ہوں۔۔۔ دراصل بہت وقت سے مجھے کچھ کنفیوزن ہے۔۔۔ میں اس کنفیوزن کو دور کرنا چاہتی تھی لیکن کوئی طریقہ سمجھ نہیں رہا تھا۔۔۔ آج آپکو دیکھ کر آپکو سن کر ایک امید بندھی ہے اور اسی مقصد سے میں یہاں آپکے پاس آئی ہوں۔۔۔ 
وہ مودب سی انکے سامنے بیٹھی تھی۔۔۔ دونوں ٹانگیں سیدھی اور پاوں زمین پر جما کر رکھے ہاتھ باہم پھنسائیں  وہ مسکراتی ہوئی بول رہی تھی۔۔۔
جی بیٹا پوچھیں کیا پوچھنا چاہتی ہیں۔۔۔
وہ لیکچرار شفقت سے مسکرائیں۔۔۔
میم۔۔۔ بحثیت انسان ہم سب خطا کے پتلے ہیں۔۔۔ خطا کار ہیں۔۔۔ ہم سب غلطیاں کرتے بلکہ گناہ بھی۔۔۔ اسنے رک کر تصیح کی۔۔۔
وہ لیکچرار کہنی کرسی کی ہتھی پر جمائے انگلی گال تلے رکھے اسے توجہ سے سن رہی تھی۔۔۔
لیکن جیسے ہی ہمیں اپنی کوتاہیوں اور گناہوں کا احساس ہوتا ہے ہم اللہ کے حضور جھک جاتے ہیں ۔۔۔ گڑگڑا کر اس سے توبہ طلب کرتے ہیں۔۔۔ لیکن کچھ عرصہ بعد ہم پھر سے اسی گناہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔۔
میرے کہنے کا مطلب ہے۔۔۔ اسنے بے چینی سے ہونٹوں پر لب پھیرتے وضاحت کرنی چاہی۔۔۔
مطلب ہم کیسے اس گناہ کے چکر کو توڑ سکتے ہیں۔۔۔ کے جب اللہ سے سچی توبہ کر لی۔۔۔ سجدے بگو لئے۔۔۔ پھر ہم راہِ حق کے مسافر بن گئے۔۔۔ پھر ہم کیسے خود کو واپس ٹریک سے ہٹنے سے روک سکتے ہیں۔۔ کیسے ہم شعوری کوشیش سے اسی تباہی کے دبانے کی جانب جانے سے خود کو روک سکتے ہیں۔۔۔ مطلب یہ کیسے ہو جاتا ہے جب ایک انسان مسلسل اللہ سے توبہ کر رہا ہو۔۔۔  اس سے ایک گناہ کی لت کو چھوڑنے کے لئے مدد طلب کر رہا ہو لیکن اسکے باوجود وہ اس چیز کو چھوڑ نا پائے۔۔۔
بات مکمل کر کے وہ بے چینی سے لب چباتی انہیں دیکھنے لگی۔۔۔
وہ مسکرا کر سیدھی ہو بیٹھیں۔۔۔
ایمان بیٹا ایک بات تو بتائیں مجھے۔۔
جی میم۔۔۔ وہ الڑت ہوئی۔۔۔
ایک انسان ہے۔۔۔ اسنے کئ مہینوں کی سیونگ اکھٹی کر کے اے سی خریدا۔۔۔ اسے کمرے میں فٹ کروایا۔۔۔ بجلی خرچ کر کے اسے چلایا۔۔۔۔ ۔ اب یہاں حیرت کی بات یہ ہے کے وہ ہر مہینے بجلی کا بل بھرتا ہے لیکن اسکے باوجود اے سی چلانے پر کمرا ٹھنڈا نہیں ہوتا۔۔۔۔
اسنے کمرا ٹھنڈا کر کے اسکی ٹھنڈک سے مستفید ہونے کی بہت کوشیش کی۔۔۔ لیکن باوجود کوشیش کے کمرا ٹھنڈا نہیں ہو پا رہا۔۔۔ اب وہ شخص بہت پریشان ہے۔۔۔ ہمہ وقت الجھا الجھا سا رہتا ہے کے اتنا پیسہ خرچ کیا لیکن کمرا ٹھنڈا نہیں ہو رہا۔۔۔ وہ روز اپنے اللہ سے دعا کرتا ہے کے اے اللہ پلیز مہربانی فرما میرا کمرا ٹھنڈا ہو جائے لیکن اسکی دعائں قبول نہیں ہو رہیں۔۔۔ اسکا کمرا ابھی بھی ٹھنڈا نہیں ہوا۔۔۔۔
ایمان کا سانس تک رک کیا۔۔۔ وہ بلکل ساکت سی بیٹھی یک ٹک سی اس لیکچرار کو دیکھ رہی تھیں جو ناجانے آگے کیا انکشاف کرنے جا رہی تھیں۔۔۔
کیوں۔۔ ایمان کیوں اسکا کمرا ٹھنڈا نہیں ہو رہا۔۔۔
ایمان نے بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔
کیونکہ کمرے کا دروازہ تو کھلا ہے۔۔۔۔
ایمان کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
کمرے کا دروازہ کھلا ہے جو باہر کی ہیٹ اور کمرے کی کولینگ کے درمیان باڑ ہے۔۔۔
وہ شخص اسے بند کرنا تو بھول ہی گیا۔۔۔ جسکی وجہ سے باہر سے آنے والی ہیٹ کا راستہ نہیں رک رہا اور وہ بڑے ڈھرلے سے اندر آتی اس شخص کی اتنی محنت سے کمرا ٹھنڈا کرنے کی کوشیش پر پانی بہا جاتی۔۔۔۔
اب یہاں اس شخص کی دعائیں کیسے قبول ہونگی۔۔۔ اسے کسی نے بتایا ہی نہیں کے کمرے میں کولنگ کرنے کے لئے پہلے باہر سے آنے والی ہیٹ کا راستہ روکا جاتا ہے۔۔۔ اس دروازے کو بند کیا جاتا ہے۔۔۔
ایمان کو لگا وہ یہاں سے کبھی ہل نہیں پائے گی۔۔۔انکی باتیں دماغ میں کوئی سائرن بجانے لگی تھیں۔۔۔۔
بس اتنی سادہ سی بات ہوتی ہے بیٹا۔۔۔ جسے ہم لوگ بہتتتتتت کمپلیکیٹڈ بنا دیتے ہیں۔۔۔۔اللہ پر توکل رکھتے گناہ کی لت چھوڑنا اس سائیکل کو توڑنا کچھ مشکل نہیں۔۔۔ یہ آسان ہے۔۔۔  بہتتتتتت آسان۔۔۔ اتنا آسان جتنا کمرے کا دروازہ بند کر کے اے سی چلنے پر کمرا ٹھنڈ کرنا۔۔۔
بس ضرورت اس دروازے کو بند کرنے کی ہوتی ہے جو گناہوں کو آپ تک آنے سے روکتا ہے۔۔۔ جسکی بدولت آپکی بے بہا کوشیشوں کے باوجود گناہ آپکو اٹریکٹ کرنے آپ تک آ پہنچتے ہیں۔۔۔
ہم اس دروازے کو بند کرنا بھول جاتے ہیں۔۔
جسکی وجہ سے باہر سے گناہوں کی تپش اندر آتی ہے اور ہم ایمان کی ٹھنڈک کو محسوس نہیں کر پاتے۔۔۔ اور اسی راستے کے ذریعے سے وہ گناہوں کی طاقت آپکو ایک بہاو کے سنگ اپنے ساتھ بہاتی لے جاتی ہے۔۔۔ اور جب وہ بہاو ختم ہو جاتا ہے تب آپ تھکے ہارے شکستہ خیز جھکے سر اور کندھوں سمیٹ اسی بارگاہ میں دوبارہ آ کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔
سمجھ رہی ہو میری بات۔۔۔ ہم انسان ہیں۔۔۔ ہم اپنے نفس سے کھلم کھلا جنگ نہیں لڑ سکتے۔۔۔ اس سے جنگ لڑنے کے لئے کچھ اختیاطی تدابیر لازم ہیں۔۔  جیسے اگر کوئی انسان ویٹ لاس جرنی شروع کرے تو۔۔۔ اب وہ ڈائٹ پر ہے۔۔۔ اسے یہ تو پتہ ہے کے اسے کھانا ہیلڈی کھانا ہے۔۔  لیکن اس چیز کے لئے وہ اپنی اندر سے ابھرتی ان ہیلڈی کھانے کی خواہش پر قابو کیسے پائے یہ وہ نہیں جانتا۔۔۔اب ایسے میں بے دھیانی میں ہی سہی اگر اسکی فریج میں پیسٹریز کولڈرنگز اور اسکے کیبنز میں چپس کے پیکٹس اور نوڈلز کے پیکٹس ہونگے تو تمہارے خیال کے مطابق وہ کب تک خود پر جبز کرتا خود کو ان چیزوں سے دور رکھ سکے گا۔۔۔
وہ جب فریج کھولے کا وہ پیسٹریز اور کولڈرنگز اسے اپنی جانب کھینچیں گی   وہ خود پر پہاڑ جتنا ضبط کرتا فریج بند کر دے گا۔۔  لیکن ہر دفعہ فریج کھولنے پر اسے وہی سب سامنے ملے گا تو ضبط کرتے کرتے ایک پوائنٹ ایسا آئے گا جب اسکے ضبط کا پیمانہ چھلک جائے گا۔   وہاں اس مقام پر وہ بے بس ہوتا وہ چیزیں کھا لے گا۔۔۔ یہ سمپل تھیوڑی یے۔۔۔
اگر اسے اپنے ویٹ لاس کرنے کے عہد پر ثابت قدم رہنا ہے تو اسے ان تمام چیزوں کو ریپلیس کرنا ہوگا ہیلڈی چیزوں سے۔۔۔
جیسے فریج کھولنے پر اسے سبزیاں اور کھیرے ملیں۔۔۔ کیبنز کھولنے پر نٹس اور بھنے چنے تو چانسز بہت کم ہے وہ ہیلڈی ڈائٹ چھوڑ کر ان چیزوں کی طلب کرے گا جو اسکے آس پاس ہیں ہی نہیں۔۔۔ دماغ ہی اس جانب نہیں جائے۔۔۔ 
کچھ کلیریٹی آ رہی ہے آپکو۔۔۔ وہ مسکرائیں تو ایمان خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی سر ہاں میں ہلا گئ
دیکھو بیٹا میری بات کو دھیان سے سنو۔۔۔۔
دنیا میں ہر گناہ کی شروعات ہوتی ہے آنکھوں سے۔۔۔ ہم کسی بھی چیز کو دیکھتے ہیں ۔۔۔ دماغ اسے سینسر کرتا ہے دل کو وہ بھاتی ہے پھر نفس کا غلبہ طاری ہوتا ہے اور ہم گناہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔۔۔
اس لئے گناہ ترک کرنے کا سب سے اہم اصول یہ ہے کے اپنی نگاہ کی حفاظت کی جائے۔۔۔ 
پہلی لاشعوری نگاہ کی چھوٹ ہے کیونکہ اس میں ہمیں کچھ پتہ نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن لاشعوری نگاہ کے بعد نظر پھیر لینے کے بعد جو دوسری نظر اٹھتی ہے وہ شعوری ہوتی ہے اور وہ ہماری منشا پر ہوتی ہے۔۔۔ 
آج ایمان پر بہت سے انکشافات ہو رہے تھے۔۔۔
ہمیں اس دوسری شعوری نگاہ پر محنت کرنی ہے۔۔۔ اور یہ شعوری نگاہ کب ہمارے کنٹرول میں ہو گی جب ہم اس دروازے کو بند کریں گے جو کمرا ٹھنڈا ہونے نہیں دیتا۔۔۔
اپنے ارد گرد دیکھیں۔۔  وہ کونسی چیزیں ہیں جو آپکو ٹرگر کرتی گناہوں کے راستوں کا راہی بناتی ہیں۔۔۔ اللہ کی جانب گامزن ہونے کے سفر کے آغاز میں ان تمام چیزوں کو خود سے کاٹ ڈالیں۔۔ 
آپ بیمار ہیں اور شفا چاہتے ہیں تو ان ناسوروں کو کاٹنا پڑے گا جو آپکو شفا یاب  ہونے نہیں دے رہے۔۔۔
وہ کچھ بھی ہو سکتا ہے جو آپکو ٹرگر کر رہا ہو۔۔۔ فریج مین پڑا ان ہیلڈی کھانا۔۔
کوئی میوزک۔۔۔
کسی موی کا کوئی سین۔۔۔
کسی فحش ناول کے کوئی فحش ڈائیلوگز۔۔۔۔
وٹ ایور ۔۔ وہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ ان تمام چیزوں کو تلاس کر کے خود سے کاٹنا ہے۔۔۔ اپنے ارد گرد وہ تمام پردے گرا دینے ہے تا کے آپکو ٹرگر کرنے والی چیزیں آپ تک پہنچ نا سکیں۔۔۔
اب آپ اپنی بیماری سے صحت یابی کی طرف پہلا قدم اٹھا چکے ہیں۔۔۔ اور اس پہلے قدم سے ہی آپکو بہت افاقہ ہوگا۔۔۔
اب اگلا مرحلہ ہے میڈیکیشن کا۔۔۔ اب آپکو خود کو ہیل کرنے کی شعوری کوشیش کرنی ہے۔۔۔ اپنے اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کی جدوجہد۔۔۔
اگر دنیا کا ہر گناہ آنکھ سے شروع ہوتا ہے تو اللہ کی جانب بڑھنے کا سفر بھی نگاہ سے ہی شروع ہوتا ہے۔۔۔
آپکو اللہ کے احکامات کا اور اسکے پاک کلام کا ادب کرنا ہے۔۔۔ جب کوئی آیت یا کوئی تلاوت کسی بھی توسط سے آپ تک آئے تو آپکو اسے چھوڑتے آگے نہیں بڑھ جانا۔۔۔ آپکو اپنی مصروف ترین زندگی میں سے کچھ وقت نکالنا ہے۔۔۔ اس آیت کو پڑھنا ہے اور وہ آیت اللہ کی طرف سے ایک رینمائی ہو گی آپکے لئے جسکی آپ کو اس وقت اشد ضرورت ہوگی۔۔۔
آنکھ کے راستے وہ تسلی آمیز روح کو ہیل کرتے الفاظ آپکے دل میں اتریں گے اور وہاں سے گناہوں کی کالک پر نور کا ایک قطرہ چھوڑ جائیں گے۔۔۔
آپکو صرف با ادب ہو جانا ہے۔۔۔ یہ عمل ہر بار دہرانا ہے۔۔ جب اللہ اکبر کی آواز سنیں تو آپ کو رک جانا ہے۔۔۔ جتنی بھی ضروری بات کر رہے ہوں آپکو اپنی زبان روک دینی ہے۔۔۔ اذان کا ادب کرنا ہے۔۔۔ با ادب بن جانا ہے۔۔۔ کیونکہ اللہ اکبر کا مطلب ہی یہ ہے کے آپ دنیا کا جو بھی کام کر رہے ہیں اللہ اس ہر کام سے بڑا ہے۔۔۔  
موبائل سکرول کرتے۔۔۔ ٹی وی دیکھتے۔۔۔ کسی دیوار پر لگی کسی سنری کو دیکھتے کسی پوسٹر پر نظر پڑتے جہاں آپکو اللہ کا کلام نظر آئے آپ نے رک کر اسے پڑھنا ہے۔۔۔ یوں قطرہ قطرہ آنکھ کے راستے نور آپکے
 دل میں داخل ہوتا جائے گا۔۔۔۔
اپنے ارد گرد ایسی سچویشنز قائم کریں جس سے وہ نور وافر مقدار میں آپکے دل میں اتر سکے۔۔۔ اللہ کو پانے کی جستجو کریں۔۔۔ کیونکہ انسان کو وہی ملا ہے جسکی وہ جستجو کرتا ہے۔۔۔
آج کل اگر گناہ آسان ہے تو گناہ سے دوری اس سے بھی آسان ہے۔۔۔ فرق صرف نظرے کا یے۔۔۔
ہر وہ سوشل میڈیا اکاونٹ جس پر آپکا زیادہ وقت گزرتا ہے اسکو ریپلیس کریں۔۔۔ ان چیزوں کو وہاں سے کاٹ کر جو آپکو ٹرگر کرتی ہیں ان چیزوں کو اپنی زندگی میں شامل کریں جو آپکا دل نور سے بھر رہی ہیں۔۔  ہر دفعہ انسٹا کھولنے پر یوٹیوب کھولنے پر ایف بی یا کوئی بھی سوشل میڈیا آکاونٹ کھولنے پر سب سے پہلے آپکی نگاہوں کے سامنا آنے والا کانٹینٹ آپکے اللہ کا کلام ہونا چاہیے۔۔۔ جو اس  ظالم دنیا میں۔۔۔ آزمائشوں اور تکلیفوں سے پر دنیا میں آپکے تڑپتے بلکتے دل کے لئے ایک مرہم ہو۔۔۔ جو آپکو بے سکونی میں سکون فراہم کر دے۔۔۔ آپ جب بے سکون ہونے لگیں بھاگ کر تلاشیں اپنے ارد گرد اس پاک کلام کو جو آللہ کی طرف سے آپکے لئے آپکے زخموں کا مرہم ہے۔۔ جو ٹوٹے دل کے لئے آس ہے۔۔۔ جو بالخصوص آپ کے لئے اللہ کی طرف سے آیا ہے۔۔۔
جب یہ چیز رفتہ رفتہ آپکی زندگیوں کا حصہ بننے لگے تو ایک مقام آپکی زندگی میں ایسا آئے گا کے وہ دل جو کبھی گناہوں میں لتھرے ہونے کے باعث سیاہ ہو چکا تھا وہ ایمان کے نور سے نور و نور ہو چکا ہو گا۔۔۔
اب آپکی زندگی میں اللہ اور اسکا پاک کلام اسقدر شامل ہو گیا ہے کے آپکا ہر کام اللہ کی رضا کے مطابق ہونے لگے گا۔۔۔ اس مقام پر آپ وہ اشرف المخلوقات ہیں جسے نفس دبا نہیں سکتا گناہ متوجہ کر نہیں سکتا۔۔۔۔
یہ وہ لیول ہے جہاں آپ گناہ کو دور سے دیکھ کر اسکی جانب اٹریکٹ ہونے کی بجائے نفرت سے منہ موڑ لیں گے۔۔۔ کیوں۔۔۔ اس خوف سے کے یہ چیز آپکے رب کی ناراضگی کا باعث بن جائے گی۔۔۔۔
تب اللہ اسکے احکام اور اسکا پاک کلام آپکی زندگی کی پہلی ترجیح بن جائے گا۔۔۔ تب آپکا ہر کام صرف اسی ذات کے لئے ہو گا۔۔۔ تب رفتہ رفتہ اس چھوٹی سی تبدیلی کا اثر غیر محسوس طریقے سے آپکی پوری زندگی پر پڑنے لگے گا۔۔۔
جھوٹ بولتے آپکی زبان تھرک جائے گی کے کہیں میرا اللہ ناراض نا ہو جائے۔۔۔
جب انتخاب کے وقت ہر اچھی چیز اپنے لئے منتخب کرتے ہوئے آپکا دل ڈر جائے گا کے کہیں کسی کی حق تلفی نا ہو جائے۔۔۔
تب ناپ تول میں کمی کے وقت آپکے ہاتھ کپکپا جائیں گے کے آپ اتنے چھوٹے سے عمل کے بدلے میں اللہ کی ناراضگی مول نہیں لے سکتا۔۔۔
تب اللہ کی رضا کی خاطر دوسرے لوگ آپکے ہاتھ اور آپکی زبان کے شر سے محفوظ رہنے لگیں گے۔۔۔ اور جب آپکا ہر کام اللہ کی رضا سے ہونے لگے تب آپکی زندگی میں اللہ کی جانب سے بے بہا رحمتیں داخل ہونا شروع ہو جائینگی۔۔۔ تب یہ ہر وقت کا ڈپریشن ایگزائٹی اور مسقبل کا خوف اللہ پر توکل مضبوط ہونے کے باعث خودباخود دم دبا کر بھاگ جائے گا۔۔۔
یہ سب مشکل تو نہیں بیٹا۔۔۔ بس ٹریک درست کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ ایمان کی ساکت ہو چکی نگاہیں چھلک پڑیں۔۔۔
ہم اپنے نفس سے نہیں لڑ سکتے۔۔۔ نفس سے صرف ایک چیز لڑ سکتی ہے اور وہ ہے آپکے ایمان کی طاقت۔۔۔۔ اپنے نفس کو اپنے ایمان کی طاقت کے حوالے کر دیں۔۔۔ اور وہ طاقت اتنی زور آور ہونے چاہیے کے نفس اس سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے۔۔۔
اور ایمان کی طاقت اسقدر زور آور کب ہوگی۔۔۔ وہ مسکرائیں۔۔  جب اللہ اسکے احکام اور اسکا پاک کلام ہماری زندگی کی پہلی ترجیح ہو گا۔۔ اور باقی ہر چیز اسکے تابع۔۔۔۔
لوگ کہتے ہیں کے گناہ میں بہت لذت ہے۔۔۔ مجھے ہسی آتی ہے ایسے لوگوں پر۔۔۔ کیونکہ انہوں نے چکھی ہی محض گناہ کی لذت ہوتی ہے۔۔۔
میں تمہیں ایک راز کی بات بتاوں۔۔۔ وہ اسے پراسرار نگاہوں سے دیکھتیں اسکی جانب جھکیں۔۔۔ ایمان نے نم آنکھوں سے انہیں دیکھتے بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔
پتہ نہیں ابھی کونسا انکشاف ہونا باقی تھا۔۔۔
اللہ کے قرب میں جو لذت ہے نا۔۔۔ اس پوری دنیا میں اس لذت کا کوئی نعمل البدل نہیں۔۔۔
ایمان کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
اور ایک گناہ گار کیا جانے اس لذت کو۔۔۔ وہ واپس پیچھے کو ہوتیں کرسی کی پشت سے ٹیک لگا گئیں۔۔۔
اس لذت سے تو وہی آشنا ہو گا جسنے اس لذت کو چھکا ہوگا۔۔۔ محسوس کیا ہوگا۔۔۔ 
اور جس شخص کو اس لذت کی لت لگ گئ نا ۔۔۔ وہ کچھ توقف کو رکیں۔۔۔ پھر اسے کسی لذت کی طلب نہیں رہتی۔۔۔

ضبط کی کوشیش میں ایمان کے لب کپکپا اٹھے۔۔  وہ شاید ہپناٹزم جانتی تھیں جو ایمان کو ہپناٹائز کر رہی تھیں۔۔۔
کبھی جانا اس لذت کو محسوس کرنے رات کے تیسرے پہر اپنے نرم مخملی بستر کو چھوڑ کر۔۔۔ اور اس ملاقات کی خاص بات بتاوں۔۔۔ وہ پھر سے مسکرائیں۔۔۔ اس ملاقات میں اللہ پہلے سے ہی پہلے عرش پر آیا اس ملاقات کے لئے اپنے بندے کا منتظر ہوتا ہے۔۔۔
اس وقت زرا اللہ کے سامنے دل کھول کر رکھنا اور محسوس کرنا زرا اس لذت کو جو آپکے دل کو سکون سے بھر دے۔۔۔ اور سکون ایسا کے انسان اسکی سکون میں بے دم ہوتا فنا ہو جانا چاہے۔۔۔
اس لذت کو محسوس کرنے کے بعد زرا بتانا کی گناہ کی لذت بھی کوئی لذت ہے۔۔۔
گناہ میں لذت ہے یہ تو صرف وہی کہے گا جسنے اللہ کے قرب کی لذت نہیں چکھی۔۔۔
اور تمہیں ایک اور بات بتاوں۔۔۔ اگر باوجود کوشیش کے بھی اللہ کے قرب کی لذت کو نا محسوس کر سکو تو اس سے دعا کرنا کے وہ تمہیں تمجد میں اس سے ملاقات کی توفیق دے۔۔۔ تمہیں اسکے قرب کی لذت محسوس کرنے کی توفیق دے۔۔۔
کیونکہ دنیا کا کوئی بھی کام اسکی توفیق کے بنا نہیں ہوتا۔۔۔۔
اس لئے اپنے لئے ہر اچھے کام کی توفیق مانگتے رہنا چاہیے۔۔۔
اس روز کنزل الایمان وہاں سے مر کر مٹی ہو کر اٹھی تھی۔۔۔ اور جو وہاں سے اٹھی تھی وہ وہ ایمان تھی ہی نہیں جو وہاں آئی تھی۔۔۔
******




No comments

Powered by Blogger.
4