Rah_e_haq novel 35th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 35th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
پینتیسویں قسط۔۔۔۔
ایمان کالج کے سفید بے داغ اور شفاف یونیفارم میں ملبوس کالج کے آدیٹوریم میں موجود دوسری قطار میں بیٹھی تھی۔۔۔ آدیٹوریم اس وقت طالبعلموں سے بھرا پڑا تھا لیکن اسکے باوجود وہاں پن ڈراپ سائیلنس تھا۔۔۔۔ اس سے اگلی قطار میں اسکی نشست سے دائیں ہاتھ زخرف بیٹھی تھی جس سے اسکی بول چال آج کل بالکل بند تھی۔۔۔ وجہ حامد کی شادی کے بعد زخرف کا کھنچا کھنچا رویہ تھا۔۔۔
سامنے سیاہ عبایہ اور گولڈن سکارف میں ایک بہت ہی نفیس اور معمر سی لیکچرار لیکچر دے رہی تھیں۔۔۔
اور انسان کو وہی ملا ہے جسکی وہ جستجو کرتا ہے۔۔۔۔ ایمان یکدم سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔ خاموش اور ساکت سی۔۔۔ کل کی باتیں اسکے دماغ میں گھومنے لگیں۔۔۔
کیا یہ محض اتفاق تھا یا واقعی انسان کو وہی ملا ہے جسکی وہ جستجو کرتا ہے۔۔۔
ہمارا تخلیق کار جسنے اتنے بڑے پیمانے پر اس دنیا کو بنایا اور اس میں ایک اندازے کے مطابق آٹھ اشاریہ سات ملین یعنی کے ستاسی لاکھ مخلوقات کو تخلیق کیا۔۔۔۔ اور اس ستاسی لاکھ مخلوقات میں سے اسنے ایک مخلوق بنائی جسے حرف عام میں انسان کہا جاتا ہے۔۔۔ پھر اس انسان کو باقی ستاسی لاکھ مخلوقات میں سے سب سے افضل بناتے اشرف المخلوقات کہا۔۔۔
کیا یہ بات آپ سب جانتے ہیں۔۔۔ لیکچرار نے مسکراتے ہوئے سب کو اپنے ساتھ انگیج رکھنے کو پوچھا۔۔۔ یک لخت ہی ہال میں چھایا سناٹا ٹوٹا اور وہاں سے مختلف آوازیں گھونجی۔۔۔۔ سب متحرک ہو اٹھے تھے۔۔۔
آپ نے بہت بار سنا ہوگا کے انسان اشرف المخلوقات ہے۔۔۔۔ لیکن کیا آپ کو اس ایک لفظ کی اہمیت کا اندازہ ہے۔۔۔ اشرف المخلوقات کا مطلب کیا ہے۔۔۔ وہ لیکچرار دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں چکر کاٹتی سب سے انٹریکٹ کر رہی تھی۔۔۔۔
اس سے مراد ہے تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ افضل۔۔۔ یعنی کے خاص۔۔۔ یہ ہے ایک انسان کی پہچان۔۔۔ یہ ہے ایک انسان کا مقام ۔۔ دفعتاً وہ سٹیج کے درمیان میں آ کر رکیں۔۔۔۔
تو کیا آپ سب۔۔۔ انہوں نے پورے حال کی جانب انگلی گھمائی۔۔۔ آپ کوئی عام ہیں۔۔۔
آپ سب اپنے آپ میں خاص ہیں۔۔۔ اور جب آپ ستاسی لاکھ مخلوقات میں سے سب سے خاص اور افضل ہیں تو کیا آپ کو لگتا ہے کے اللہ نے انسان کو بغیر کسی مقصد کے بنایا ہو گا۔۔۔ یو نو ایم لیس۔۔۔۔۔
ہال میں ایک مرتبہ پھر سے پن ڈراپ سائیلنس ہو گیا تھا ۔۔۔۔
نووووو۔۔۔۔ نیور۔۔۔
جب دنیا کی کوئی بھی تخلیق بے مقصد نہیں تو کیسے ممکن ہے کے اللہ انسان کو جسے اشرف المخلوقات کہا گیا اسے بے مقصد پیدا کرتا۔۔۔ انکی آواز ہال میں ایک سماں باندھ رہی تھی۔۔۔ جس میں سب جکڑے جا رہے تھے۔۔۔
وہ الگ بات کے ہم نے کبھی اپنے اصل پر غور نہیں کیا۔۔۔۔ کیا ہوتا تو ہمیں پتہ چلتا کے اللہ کے کسی کام میں کوئی جھول نہیں۔۔۔۔ جاننے کی حد تک ہم سب یہ بات جانتے ہیں۔۔۔ لیکن جاننے میں اور غور و فکر کرنے میں یہ ہی تو فرق ہے۔۔۔
حضرت یونس کا واقع یاد ہے آپکو کیسے مچھلی نے اللہ کے حکم سے انہیں زندہ نگل لیا اور پھر بالکل ویسے ہی باحفاظت اللہ کے حکم سے انہیں بنا کوئی نْقصان پہنچائے زندہ اگل بھی دیا۔۔۔
سبحان اللہ۔۔۔ یہ ہے اس پاک ذات کا معجزہ۔۔۔
لیکن کہنے کو بات یہاں پر ختم ہو سکتی تھی۔۔۔ کے حضرت یونس کو جب مچھلی نے اگل دیا تو وہ اللہ کے حکم سے زندہ تھے۔۔۔
لیکن نہیں اگر آپ مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کے چالیس دن بعد جب مچھلی نے حضرت یونس کو اُگلا تو انکا جسم اسقدر نرم ہو چکا تھا اور سارے جسم کے بال یوں جھڑ گئے تھے جیسے کوئی نوزائیدہ بچہ ہو۔۔۔
انکی قوت جاتی رہی تھی وہ خود کو بہت کمزور محسوس کر رہے تھے۔۔۔
ایسے میں اللہ نے وہاں اس خشکی کے قطعہ پر ایک بکری بھیجی جسکا دودھ حضرت یونس پیتے تھے۔۔۔ جن سے وہ طاقت محسوس کرتے تھے۔۔۔ اور وہاں جنگلی پودے اگائے جسے وہ بکری کھاتی تھی۔۔۔ اور زندہ رہتی تھی۔۔۔
یہ ہے میرے اللہ کا نظام اسکا فریم آف ورک۔۔۔ جس میں کوئی جھول نہیں۔۔۔ اگر ہم اپنے اصل سے جڑیں اس پر غور و فکر کریں تو ہی ان باریکیوں کو جانے گے۔۔۔ اور جتنا انہیں جانے گے اتنا ہی اپنے رب سے محبت میں گرفتار ہوتے جائیں گے۔۔۔ اور خود شناسی کے سفر پر نکلنے کی پہلی شرط ہی یہ ہے کے جسنے اپنے رب کو پا لیا۔۔۔ اسنے خود کو پا لیا۔۔۔
کیا لگتا ہے آپکو کے ہمارا مقصد حیات کیا ہے۔۔۔ کھا لیا۔۔۔ پیا لیا۔۔۔ سو لیا۔۔۔ انجوائے کر لیا۔۔۔ خواہشیں پوری کر لی۔۔۔۔ ہلہ گلہ کر لیا۔۔۔ گانے سن لئے۔۔۔۔ موویز دیکھ لیں اور فینٹسی کے نام پر ناولز پڑھ لیے۔۔ دن تمام ہوا اور اگلا سورج طلوع۔۔۔
کیا یہ زندگی ہے۔۔۔ ایسی زندگی گزارنی چاہیے اس اشرف المخلوقات کو جسے ستاسی لاکھ مخلوقات جس میں چرند پرند جنات سب شامل ہیں اور وہ ان سب سے افضل ہے۔۔۔
ایمان سانس تک روکے انکی باتیں سن رہی تھی۔۔۔
نووووو۔۔۔ زندگی گزارنی ہے تو بامقصد گزارو۔۔۔ جس طرز پر ہم زندگی گزار رہے ہیں اسی طرز پر تو باقی کی ستاسی لاکھ مخلوقات بھی گزار رہی ہیں۔۔۔ پھر ہم افضل کیسے۔۔۔۔ وہ بات کے دوران چند پلوں کو رکیں اور حال میں نظر ڈورائی۔۔
جب افضل ہو تو افضل بن کر جیو۔۔۔ اوپر اٹھاو خود کو ان تمام کاموں سے جو آپکو افضل بننے نہیں دیتے۔۔۔
درست کرو اپنے معاملات اپنے رب سے۔۔۔۔ کے ہمیں اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔۔۔ نکلو اس دنیاوی اٹریکشنز سے اور وہ کرو جو دنیا یاد رکھے۔۔۔
اور یہ کیسے ہوگا۔۔۔ اللہ سے معاملات درست کر کے۔۔۔ اس سے مدد طلب کر کے۔۔۔ اور انسان کو اپنا مقصد حیات کیسے معلوم ہوتا ہے۔۔۔ یہ ہر کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔۔۔ اسے معلوم کرنے کے لئے سجدے کرنے پڑتے ہیں۔۔۔ سجدے بھگونے پڑتے ہیں۔۔۔ اللہ کا در بار بار کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔۔۔ کے اے میرے مالک مجھے میرا مقصد حیات بتا۔۔۔ مجھے میرا اس دنیا میں آنے کا مقصد سمجھا۔۔۔ پھر انسان کی جستجو دیکھ اللہ اسے اشارے دیتا ہے۔۔۔
یہ ہے جستجو کا سفر۔۔۔ جس چیز کی جستجو کرو گے وہ ملے گی۔۔۔
گمراہی کی جستجو کرو گے تو گمراہ ہوتے جاو گے یہاں تک کے گمراہی کے گڑھے میں جا گرو گے۔۔۔ ایمان نے بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔۔۔۔۔
بالکل اسی طرح ہدایت پانے کی جستجو کرو گے تو ہدایت یافتہ ہوتے جاو گے۔۔۔
یہ قانون قدرت ہے۔۔۔ اس لئے آپکے ہاتھ سے خیر بٹتی رہنی چاہیے۔۔۔ آپ کے ہاتھ سے امید پھیلنی چاہیے۔۔۔ لوگ آپ سے مستفید ہونے چاہیے۔۔۔
اور خود شناسی کا سفر طے کر کے اپنا مقصد حیات پا لینے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ۔۔۔ انسان کسی بھی عمر میں اپنے مقصد حیات کو پا سکتا ہے۔۔ اہم یہ ہے کے جب کوئی انسان اپنے مقصد حیات کو پا لے تب سے ہی اس سمت میں کام شروع کر دے۔۔
انسان کی دنیا اسی چیزوں کے گرد محصور ہوتی ہے جتنا علم اسے ہوتا ہے۔۔۔ اپنے ارد گرد اپنی دنیا کا دائرہ کار بڑھانے کے لئے پہلا سٹیپ یہ ہے کے اپنے محدو دماغ اور سوچ کو وسعت فراہم کی جائے۔۔۔ زیادہ سے زیادہ نالج حاصل کیا جائے۔۔۔
اور یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔
وہ سوال کر کے کچھ توقف کو رکیں۔۔۔
یہ ممکن ہے اچھے لوگوں کی کمپنی میں بیٹھ کر۔۔۔ ان کے ایکسپرینس سے سیکھ کر ۔۔۔ اور کتابیں پڑھ کر۔۔۔ جیسے جیسے آپکا مطالعہ وسیع ہوگا ویسے ویسے آپ جانے گے کے ہم نے تو دنیا دیکھی ہی نہی ۔۔۔۔
جو ہم جانتے تھے وہ تو اسقدر وسیع دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ تھا۔۔۔
جیسے کہا جاتا ہے کے ۔۔۔
Knowledge comes from experiences
& experience comes from bad experiences...
اس لئے آج ابھی اسی وقت یہاں سے خود سے وعدہ کر کے اٹھیں۔۔ کے آپ خود کو دنیا کی ان تمام ثانوی اور اٹریکٹو چیزوں سے اوپر اٹھاتے خاص بنیں گے۔۔۔ اپنے کمفرٹ زون کو توڑیں گے اور اپنا مقصد حیات تلاش کر کے ایک بامقصد زندگی گزارنے کی جستجو کریں گے۔۔۔ کیونکہہہہہہ۔۔۔
کیونکہ انسان کو وہی ملا ہے جسکی وہ جستجو کرتا ہے۔۔۔ ہال میں موجود ہر فرد یک زبان بول اٹھا۔۔۔
اور اسکی شروعات ہو گی اپنی ایک پیاری اور عزیز چیز اللہ کی راہ میں قربان کر کے۔۔۔ اس سے کیا ہوگا۔۔۔ اس سے اپکے نفس پر ایک کورا برسے گا۔۔۔ وہ پسپائی اختیار کرے گا۔۔۔ اور اللہ کی طرف سفر شروع کرنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے نفس کو ہی پسپا کرنا ہے۔۔۔
یاد رہے کے جب اللہ کی راہ میں اپنی ایک پیاری اور عزیز چیز قربان کردی۔۔۔ اس اللہ کی راہ میں جسنے آپکو بے حساب اپنی نعمتوں سے نوازا ہے۔۔۔ جسنے کبھی آپکو تنہا نہیں چھوڑا۔۔۔ جس سے زیادہ اس پوری دنیا میں آپکا کوئی خیر خواہ نہیں۔۔۔ جو آپ پر ستر ماوں جتنا رحیم ہے۔۔۔ جب اسکی راہ میں کوئی چیز قربان کر دی تو آپ کو اس بات پر سٹک ہو جانا ہے۔۔۔ بالکل ثابت قدم۔۔۔ اس سے پیچھے نہیں ہٹنا۔۔۔۔ اپنے اللہ کی جانب پہلا قدم اٹھاتے اس چیز پر ثابت قدم رہتے اپنے اللہ سے محبت کا ثبوت دینا ہے کے اے اللہ میں نے اپنی یہ پیاری چیز تیرے لئے قربان کی بے شک تو بہترین اجر دینے والا ہے۔۔۔
اور وہ پیاری اور عزیز چیز کوئی بھی ہو سکتی ہے۔۔۔ جس سے آپکو پیار ہو۔۔۔۔ چاہے تو فجر کے وقت یا آدھی رات کو تہجد کے وقت پیاری اور میٹھی نیند کی قربانی۔۔۔
ہوسکتا ہے آپکو تصویریں کھنچوانے اور گلیمر میں رہنے کا بہت شوق ہو تو آج سے تصویریں نا بنانے کا عہد کر کے اسکی قربانی۔۔۔
ہو سکتا ہے آئبرو بنوائے بنا آپکو آپکا چہرا اچھا نا لگتا ہو۔۔۔ تو دل کو مار کر اس کام کو دوبارہ نا کرنے کا عہد کر کے اس پیاری چیز کی قربانی۔۔
غرض وہ کوئی بھی چیز ہو سکتی ہے۔۔۔ جو اللہ کی محبت میں اپکے دل کو مار کر اور نفس کو دبا کر دی جائے۔۔۔
ہاں یہ مشکل ہوگا لیکن اللہ کی محبت میں ناممکن نہیں۔۔۔ جب آپ کے لئے آپکے اللہ کی محبت دنیاوی ہر شے سے افضل ہوگی تو یقین جانیے آپ کا رشتہ بھی آپکے رب سے مضبوط ہو جائے گا۔۔۔۔۔
کیونکہ یہ آیت آپ سب نے سنی ہوگی کے کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی عجمی کو کسی عربی پر کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے تقوی کی بنیاد پر۔۔۔
اور جب آپ دل کو مار کر تقوی اختیار کرو گے تو خودباخود اللہ کے مزید قریب ہو جاو گے۔۔۔ اور ٹرسٹ می میرا اللہ ہر چیز کا بہترین اجر دینے والا ہے۔۔۔ وہ آپکی اس پیاری چیز کی قربانی کا اجر آپکو بہت زیادہ بڑھا کر لوٹائے گا۔۔۔
لیکن آغاز اور پھر جستجو شرط ہے۔۔۔ اور کسی بھی کام کو کرنے کا بہتریں وقت آج اور اسی وقت ہے۔۔۔ یاد رہے جو آج ابھی اسی وقت یہاں سے نیت کر کے اٹھے گا اسکے آگے کے مراحل اسکے لئے آسان ہوتے جائیں گے جو اس کارخیر کو کل پر ڈالے گا تو پھر ایسے انسان کی کل کبھی نہیں آتی۔۔۔
انکے خاموش ہوتے ہی ہال تالیوں کی گِونج سے گونج اٹھا۔۔۔
کئ نگاہیں اشکبار تھیں جن میں کنزل الایمان بھی شامل تھی ۔۔۔ آنسو اسکی سپید گالوں سے پھسل پھسل کر بہہ رہے تھے۔۔ آج اس وقت وہ وہاں سے بہت سارے عہد کر کے اٹھی تھی۔۔۔۔
یہ لیکچرار آج یہاں خصوصی لیکچر کے لئے آوٹ آف دا ٹاوں سے آئی تھیں۔۔۔ اور اسے انکے واپس جانے سے پہلے بالخصوص ان سے مل کر اپنی ساری الجھنیں ان سے بیان کرنی تھی۔۔۔ یقیناً اسے اپنی سبھی الجھنوں اور سوالوں کے جوابات ان ہی سے ملنے والے تِھے۔۔
کیونکہ۔۔۔
بلاشبہ انسان کو وہی ملا ہے جسکی وہ جستجو کرتا ہے۔۔۔
*******
تم کہاں ہو اس وقت امجد۔۔۔ فوری ملو مجھ سے۔۔۔۔ مختل ہوتے حواسوں کے ساتھ شامیر نے سر پر ہاتھ پھیرا اور بیڈ سے اتر کر چپل اڑستا سیدھا واش روم میں گھس گیا۔۔۔
چہرے پر دو چار پانی کے چھپاکے مار کر اسنے کھڑے کھڑے بال بنائے اور والٹ موبائل اور کار کی چابی اٹھاتا بعجلت کمرے سے نکلا۔۔۔
دماغ میں جھکڑ سے چل رہے تھے۔۔۔۔ اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا کے کیوں وہ جب جب لاہور گیا بائی ائیر ہی گیا۔۔۔۔بائے روڈ جاتا تو اسکے باپ کو اسکی ٹریول ہسٹری کبھی معلوم نا پڑتی۔۔۔۔
وہ ایک ایک جست میں دو دو سیڑھیاں اترتا نیچے جا رہا تھا ۔۔۔ انداز میں عجلت و بے چینی نمایاں تھی۔۔۔۔ اور کیوں نا ہوتی۔۔۔ اسکی دنیا لٹ رہی تھی بلبلانا تو بنتا تھا ۔۔۔۔
شامیر ناشتہ بیٹے۔۔۔ ماں نے اسے ہوا کے گھوڑے پر سوار گھر سے نکلتے دیکھ روکنا چاہا۔۔۔
بعد میں ماں۔۔۔ وہ وہیں سے اونچی ہانک لگاتا بنا رکے باہر نکل گیا۔۔۔۔ کوئی کلیجہ نوچ کر پھینک رہا تھا۔۔۔ ایسے میں اسے بھلا ناشتہ سوجھتا۔۔۔۔
کار پورچ سے کار نکالتے اسنے زبان پھیر کر خشک پڑتے ہونٹ تر کئے۔۔۔ اولاد پر مصیبت آنے کا سوچ کر ہی روح کیسے تڑپتی ہے یہ شامیر خان جیسے لاابالی شخص نے آج جانا تھا۔۔۔
اور یہ اذیت ہر اذیت پر بھاری تھی۔۔۔۔ اسکا معصوم لخت جگر اور کم عمر بیوی۔۔۔۔ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دھند چھاتی محسوس ہوئی
راستے میں ہی اسے امجد مل گیا۔۔۔
لائیں خان ڈرائیو میں کرتا ہوں۔۔۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھا۔۔۔
اوہ بیٹھ جاو یار۔۔۔ کر رہا ہوں میں ڈرائیو۔۔۔۔ وہ ذہنی طور پر اسقدر منتشر تھا کے ہر ہات پر چڑ رہا تھا۔۔۔ دل یوں بے ہنگم انداز میں ڈھرک رہا تھا جیسے ابھی سینے کی دیواریں توڑ کر باہر آ نکلے گا۔۔۔۔
امجد خاموشی سے پیسنجر سیٹ کی جانب بڑھا۔۔۔۔ اسکے پیسنجر سیٹ پر بیٹھتے ہی خان گاڑی بھاگا لے گیا۔۔۔
کسے لگایا ہے بابا نے میرے پیچھے۔۔۔۔ ارد گرد گزرتی ٹریفک تیزی سے پیچھے رہ رہی تھی۔۔۔
افضل کو۔۔۔۔
شٹ۔۔۔ وہ سر پر ہاتھ کی مٹھی مار کر رہ گیا۔۔۔ افضل بابا کا وفادار آدمی تھا جسے خریدنا ناممکن امر تھا۔۔۔
وہ تیزی سے توڑ جوڑ کرتا حساب کتاب لگا رہا تھا کے اسکی ہسٹری کی بیس پر بابا کن کن معاملات سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔۔۔ ویسے کسی کی موبائل ہسٹری یا ٹریول ہسٹری جان پانا تقریباً ناممکن امر تھا لیکن بابا کے لیے یہ ناممکن نا تھا۔۔۔ کیونکہ انکی جان پہچان بہت اونچے لیول تک تھی ۔۔
ہاں ٹریول ہسٹری سے انہیں شامیر کے آئے دن سب سے زیادہ لاہور لگنے والے چکروں کے بارے میں پتہ چل جاتا۔۔۔۔ اسے شروع دن سے محتاط رہنے کی ضرورت تھی۔۔۔ لیکن خیر۔۔۔ لاہور پہنچ جانے سے وہ ایمان اور سبحان تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔۔۔ دل نے تسلی دی۔۔۔
اور اسکی موبائل ہسٹری سے وہ اسکے راز کے کتنا قریب پہنچ سکتے تھے۔۔۔ اسنے بے طرح لب چباتے ذہن کے پنچھی اڑائے۔۔۔۔
ایمان کے نمبر تک ۔۔۔۔
اففففف۔۔۔ اسنے آنکھیں زور سے میچیں۔۔۔ ظاہر سی بات تھی۔۔۔ اسکی کال ہسٹری میں سب سے زیادہ نمبر پر کالز کی جانے والا نمبر باقی ساری کال ہسٹری میں سے انکی توجہ اپنی جانب مبذول کروا جاتا۔۔۔
اسکا سینے میں موجود دل کپکپا اٹھا۔۔۔ ایمان کے نمبر سے اسکے بارے میں اور اسکی لوکیشن کے بارے میں پتہ کروانا کیا مشکل تھا واجد خان کے لئے۔۔۔۔
اس سے آگے وہ کچھ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ بات اسکی بیوی یا بچے تک آ جاتی تو آگے دنیا اندھیر تھی۔۔۔
اپنے باپ کی سفاکیت سے وہ باخوبی آگاہ تھا۔۔۔
گاڈڈدددد۔۔۔۔ جذبات کا غلبہ حاوی ہوا اور آنکھوں کے سامنے دھند چھائی تبھی سٹرینگ پر گرفت پھسلی ۔۔۔
آہہہہہہ۔۔۔
بامشکل سامنے سے آتے ٹرک سے گاڑی بچاتے بچاتے اسنے یکدم سٹرینگ تیزی سے گھما کر سڑک سے گاڑی کچی سڑک پر اتاری۔۔۔
یکدم گاڑی کو بریک لگاتے ہی وہ سر سٹیرینگ سے ٹکرائے گہرے گہرے سانس لینے لگا۔۔۔۔
یہ سب غیر متوقع تھا۔۔۔ سب۔۔۔
اسکی ہستی کھیلتی زندگی میں جو اچانک سے آندھی چلی تھی وہ اسکا تنکا تنکا کر کے بنایا آشایہ ایک جھٹکے میں ہی اڑا کر لے جانے کے در پر تھی۔۔۔
ایسے میں اسکے حواس منتشر کیسے نا ہوتے۔۔۔۔
خان آپ مجھے ڈسٹرب لگ رہے ہیں۔۔۔ پلیز آپ باہر آئیں گاڑی میں ڈرائیو کرتا ہوں۔۔۔
امجد نے بے بسی سے خان کو دیکھتے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا تو ابکی بار وہ بنا بحث کئے ڈرائیونگ ڈور کھولتا باہر نکل آیا۔۔۔۔
گاڑی ایک مرتبہ پھر سے سڑک پر رواں دواں تھی۔۔۔۔
شامیر گاڑی کے دروازے پر کہنی ٹکائے ہاتھ کی مٹھی تھوڑی تلے رکھے گہری سوچ میں غرق تانے بانے بن رہا تھا۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا۔۔۔۔
نہیں وہ اپنے بیوی بچوں پر آنچ تک نہیں آنے دے گا۔۔۔۔
ایسے میں یکدم اسکے دماغ میں ایک سپارک سا ہوا۔۔۔۔
اپنی بینک ڈیٹلیز اور ٹرانزکشن ہسٹری کو تو وہ یکسر فراموش کر گیا تھا۔۔۔ اسکی ٹرانزکشن ہسٹری میں کونسا اکاونٹ نمایاں ہوتا یہ سوچنے کی بات تو نا تھی۔۔۔
وہ سر تھام کر رہ گیا۔۔۔ جب راستے بند ہونے پر آئے تھے تو چاروں جانب سے ہوگئے تھے۔۔۔ اور وہ خود کو اندھیری کوٹھری میں گھرا پا رہا تھا۔۔۔کون جانتا تھا کے ایمان کے وجود سے یکسر منکر شخص کو تقدیر ایک روز اسقدر بے بس کرتی اس دہانے پر لے آئے گی جہاں وہ ایک ایک لمحے میں ہزار مرتبہ مرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
******

No comments