Rah_e_haq novel 34th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 34th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
چونتیسویں قسط۔۔۔
میں اپنے بیٹے شامیر خان اور پروشہ کو انوائٹ کرتا ہوں کے وہ سٹیج پر آئیں اور آکر رنگ سرمنی کریں۔۔۔ بابا مسکراتے ہوئے ان دونوں کو دیکھ کر گویا ہوئے۔۔۔
شامیر کی کنپٹی کی رگ پھڑکنے لگی۔۔۔ اسکے بابا یوں اسے بھڑے مجمعے میں بے بس نہیں کر سکتے تھے۔۔۔ گویا رگوں میں خون کی جگہ لاوا بہنے لگا تھا۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوا البتہ پروشہ مسکراتی ہوئی سٹیج کی جانب بڑھی۔۔۔
اوہ کم آن بابا۔۔۔ لوگوں نے شامیر خان پر فقرے کسنے ہیں کے اسنے مڈل کلاس لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور خرچہ بچانے کو اپنے بھائیوں کے فنگشن میں ہی اپنی نیا پاڑ لگوا لی۔۔۔ رحم کریں مجھ پر بابا۔۔۔
میں واقعی آپکی سگی اولاد ہوں نا۔۔۔ کچڑے کے ڈھیر سے تو نہیں اٹھایا تھا آپ نے مجھے۔۔۔
جہاں کام میٹھی چھری بن کر نکل سکتا ہو وہاں غصہ دکھا کر کام خراب کرنا حماقت تھی تبھی وہ مسکراتا ہوا دوہائیوں پر اترا تو پورا ہال قہقوں سے گھونج اٹھا۔۔۔۔
بابا اسے تاسف سے دیکھنے لگے۔۔۔
شامیر خان کی زندگی کا کوئی بھی فنگشن ہو گا تو دنیا دیکھے گی۔۔۔ ایم رئیلی سوری آپ میرے ساتھ اتنا فرق نہیں کر سکتے کے میرے بھائیوں کے فنگشن پر مجھے بھگتا دیں۔۔۔۔
یہ محض ایک سرمنی ہے۔۔۔ ہم تمہاری انگیجمنٹ دوبارہ بھرپور فنگشن میں کریں گے۔۔۔
بابا نے اسے قائل کرنا چاہا جبکہ وہ سر نفی میں ہلاتا قدم قدم پیچھے لینے لگا۔۔۔
یہاں سے میں سیدھا ہسپتال جاوں گا۔۔۔ وہاں پوری تحقیق کروں گا کے میں واقعی آپکی سگی اولاد ہوں یا لے پالک ہوں۔۔۔ قدم قدم پیچھے لیتا بھی وہ اپنی دوہائیوں سے باز نا آیا تھا۔۔۔
ہال میں یونہی قہقے گھونج رہے تھے۔۔۔
بابا سٹیج پر کھڑے بے بس نظر آ رہے تھے۔۔۔ انکا صاحبزادہ بڑی خوبصورتی سے انہیں سب کے سامنے ڈاج دے گیا تھا۔۔۔
جبکہ پارکنگ میں آتے ہی شامیر تیز قدموں سے گاڑی تک پہنچا اور گاڑی پارکنگ سے نکالتا ہواوں میں اڑاتا بھگا لے گیا۔۔۔
اسکی آنکھیں سرخ انگارہ ہو رہی تھیں۔۔۔ جبکہ دماغ میں چٹاخے سے بج رہے تھے۔۔۔ اسکے بابا اسے یوں بے بس نہیں کر سکتے تھے۔۔۔
*****
وہ ناحلف ناہجار میری اولاد سب کے سامنے مجھے جھوٹا کہہ کر فرار ہو گیا۔۔۔ اسنے زرا باپ کی عزت کی پرواہ نا کی کے کیسے سب کے سامنے باپ کی عزت دو کوڑی کی کر گیا۔۔۔
وہاں سب لوگ تھو تھو کر رہے ہوں گے مجھ پر کے میری اولاد کو باپ کا مان تک نا رکھنا آیا۔۔۔ کہہ رہا تھا کے یہ محض فارمیلیٹی ہے تمہاری انگیجمنٹ کا باقاعدہ فنگشن کیا جائے مگر نہیں۔۔۔ کیا جاتا جو وہ باپ کا بھرم رکھ لیتا۔۔۔
واجد خان ۔۔۔ خان مینشن کے لاوئنج میں کھڑے گرج رہے تھے۔۔۔ اور گرج ایسی تھی کے درو دیوار تک دہل رہے تھے۔۔۔ ارد گرد پوری فیملی فنگشن سے واپسی پر اسی حلیے میں کھڑی تھی البتہ جسکی کلاس لی جا رہی تھی وہ سرے سے غائب تھا۔۔۔
ارحم اور امل نے اس طوفان کو تھمتے نا دیکھ ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا اور خاموشی سے وہاں سے کھسک گئے جبکہ ذوہیب بھائی نے بھی اپنی نئ نویلی دلہن رفیہ کو آنکھ سے اشارہ کرتے کمرے میں جانے کو کہا۔۔۔۔
اب وہاں محض ذوہیب خان عدنان خان ماں اور میرب ہی موجود تھے جب باہر شامیر کی گاڑی رکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔
جسے سن کر بابا کا غصہ از سر نو ابھرنے لگا۔۔۔۔ انکے اندر ایک لاوہ تھا جو کسی بھی پل پھٹ پڑنے کے در پر تھا۔۔۔
ماتھے پر شکنوں کا جال بچھا تھا جبکہ سختی سے بھینچے جبڑے انکے ضبط کے گواہ تھے۔۔۔ وہ لاوئنج کے وسط میں ہاتھ پشت پر باندھے یوں کھڑے تھے کے اندر داخل ہوتے ہی شامیر کا پہلا ٹاکرا ان سے ہی ہوتا۔۔۔
اور یوں کھڑے ہونے کے پیچھے مقصد بھی اسکی ٹھیک ٹھاک کلاس لینا ہی تھا۔۔۔
دفعتاً در در کی خاک چھان کر اپنے اندر چلتے خلفشار سے لڑ کر ذہنی و جسمانی طور پر تھکا ہارا شامیر تھکے تھکے قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا۔۔۔ اسکا چہرا سنجیدہ جبکہ آنکھیں ویران تھیں۔۔۔ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی تھی جبکہ کوٹ بازو پر لٹک رہا تھا۔۔۔۔
مل گئ فرصت صاحبزادے کو گھر آنے کی۔۔۔ بھرپور طنز سے اسے خوش آمدید کہا گیا۔۔۔ اسنے خالی خالی نگاہیں اٹھا کر باپ کو دیکھا۔۔۔ اس وقت وہ انہیں کسی سخت و جابر قسم کے انسان ہی لگے۔۔۔۔
شامیر خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔۔۔
مجھے جواب دئیے بنا تم آگے نہیں بڑھ سکتے شامیر خان۔۔۔ غم و غصے سے بابا کی آواز کسی ڈھار سے کم نا تھی۔۔۔ وہ شیر سی گرج لئے شامیر کی جانب پلٹے۔۔۔ شامیر کے اٹھتے قدم بھی یک لخت ساکت ہوگئے۔۔۔
باپ بیٹے کے اس ٹکروا پر ماں کی جان پر بن آئی۔۔۔۔
کیا جواب دوں آپکو۔۔۔ شامیر بولا تو آواز شکست خوردہ تھی۔۔۔
اپنے اس عمل کی وضاحت دو جو تم نے ہال میں سب کے سامنے میرے منہ پر کالک مل کر سرزد کیا۔۔۔ بابا کی آواز غم و غصے سے بلند ہوئی۔۔۔۔
معذرت بابا جان۔۔۔ مگر میں نے کوئی ایسا عمل سرزد نہیں کیا جسکے باعث آپکی کہیں سبکی ہوئی ہو۔۔۔ الٹا آپ نے مجھے یکدم ایک ان ایکسپیکٹڈ اور بے مقصد اناونسمنٹ کر کے ذہنی طور پر ڈسٹرب کر ڈالا۔۔۔۔۔ باوجود ضبط کے اسنے تحمل کا دامن نا چھوڑا۔۔۔
وہ اپنے ازلی غصیلی طبیعت کے باعث حسب معمول وہاں لڑنے مرنے پر اتر آتا اگر پیروں میں بیوی بچے کی بیڑیاں نا ہوتیں۔۔۔ ابھی اسے صورتحال کو تحمل سے ہی ڈیل کرنا تھا۔۔۔
مگر کہاں جانتا تھا کے شامیر خان جیسے ضدی اریل گھوڑے کا یوں پسپائی اختیار کرنا اور دبا لہجہ سب کو ٹھٹھکا گیا تھا۔۔۔
بابا نے غور سے اسکا چہرا دیکھا۔۔۔
ذہنی طور پر ڈسٹرب کیوں کر دیا میری اناونسمنٹ نے تمہیں شامیر۔۔۔ تمہاری شادی پروشہ سے ہی ہوگی یہ طے ہے۔۔۔ پھر۔۔۔ بابا کی آواز ابکی بار کچھ دھیمی تھی۔۔۔ جیسے کچھ جانچتی ہوئی۔۔۔ سرسراتی سی۔۔۔ شامیر کے آر پار ہو کر ساری حقیقت جان لینے والی۔۔۔
فار گاڈ سیک بابا۔۔۔ میں نے کب کہا کے میں پروشہ سے شادی کروں گا۔۔۔ انفیکٹ میں ابھی شادی کے لئے تیار ہی نہیں۔۔۔ کیا عمر ہے ابھی میری۔۔۔۔ وہ جھنجھلا اٹھا۔۔۔
محض بائیس سال۔۔۔ بلکہ اس میں بھی چند ماہ باقی ہیں۔۔۔ اور مجھے یونیورسٹی لائف سے نکلے کتنی دیر ہوئی ہے بامشکل سال بھی نہیں۔۔۔ اور آپ چاہتے ہیں کے میں ابھی سے شادی جیسے جھنجھٹ میں پر جاوں۔۔۔
وہ الگ بات کے میں شادی شدہ ایک بچے کا باپ ہوں)
ہم تمہاری شادی نہیں کر رہے تھے یہ محض انگیجمنٹ تھی۔۔۔ اور رہی بات پروشہ کی تو تمہاری شادی وہیں ہوگی میں اسکے باپ کو زبان دے چکا ہوں۔۔۔ بابا پشت پر ہاتھ باندھے قدم قدم اسکی جانب بڑھے۔۔۔
مجھے انگیجمنٹ بھی نہیں کرنی۔۔۔ وہ دو بدو گویا ہوا۔۔۔
مجھے ابھی اپنی زندگی میں اتنا کچھ کرنا ہے کے اس میں شادی جیسے فضول کام کے لئے فلحال کوئی گنجائش نہیں۔۔۔ اپنا کئریئر بنانا ہے۔۔۔ بزنس کی دنیا میں ایک نام کمانا ہے۔۔۔ پھر کہیں جا کر میں شادی کے بارے میں سوچوں گا۔۔۔
تم کئریر شادی کے بعد بھی بنا سکتے۔۔۔
انف بابا۔۔۔ اس سے پہلے کے بابا اپنی بات مکمل کرپاتے عدنان خان ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتا مٹھیاں بھینچے اٹھ کھڑ ہوا۔۔۔
اپنی ساری اولاد کو کاٹھ کا الو سمجھتے من پسند کھونٹوں سے باندھنا بند کر دیں۔۔۔ پلیز۔۔۔۔
وہ قدم قدم چلتا باپ کے سامنے آیا۔۔۔ آنکھیں لہو رنگ ہو رہی تھیں۔۔۔ بابا کے ساتھ ساتھ شامیر نے بھی چونک کر بھائی کو دیکھا۔۔۔
وہ ابھی ایسی کسی خرافات میں نہیں پڑنا چاہتا ۔۔۔ اٹس اوکے۔۔۔ اسے لائف انجوائے کرنے دیں۔۔۔ آپ اس پر وقت سے پہلے اپنے فیصلے نہیں تھوپ سکتے۔۔۔ ایک لڑکی کی عزت کی خاطر اپنا مقدمہ بنا لڑے شکست قبول کر لینے والا عدنان خان آج چھوٹے بھائی کے لئے باپ کے آگے ڈٹ گیا تھا۔۔۔
فرمابردار بیٹے کو یوں مقابل پا گویا بابا کی زبان گنگ ہوئی۔۔۔
وہ جب خود کو ذہنی طور پر تیار پائے گا اسکی شادی تب ہی ہوگئ۔۔۔
اینڈ ٹرسٹ می وہ رکا۔۔۔۔ عدنان خان اپنے چھوٹے بھائی کے معاملے میں کسی کی نہیں سنے گا۔۔ اپنی بات مکمل کر کے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا گھر سے نکل گیا۔۔۔۔ وہاں کھڑا ہر شخص عدنان خان کا یہ روپ دیکھ رہا تھا۔۔ صرف ایک معصوم وجود تھا جسکی ذات آج ایک حقیقت آشنا ہونے پر زلزلوں کی زد پر تھی۔۔۔
تو یہ وجہ تھی عدنان خان کے اسقدر ریزرو رہنے کی کے میرب عدنان خان اپنے شوہر کی زندگی میں ایک ان چاہا وجود تھی۔۔۔ ولیمے کی دلہن کے روپ میں موجود میرب خان بھرائی آنکھوں سمیٹ اپنے شکستہ خیز وجود کو گھسیٹتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
****
شام کا وقت تھا۔۔۔ ایمان لاوئنج میں بیٹھی تھی جبکہ سبحان کمرے میں سو رہا تھا۔۔۔ پچھلے دنوں ایمان پر بہت سے انکشافات ہوئے تھے۔۔۔ جن میں ایک انکشاف یہ بھی تھا کے پچھلے بہت سے دنوں وہ برائی کی جانب راغب نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔ کیونکہ وہ بھائی کی شادی کی تیاریوں بازاروں کے چکر اور پھر خان کے آ جانے کی بدولت مصروف ہی اتنا تھی کے دماغ اس جانب گیا ہی نہیں۔۔۔۔
تو اسکا مطلب اگر یہ کہا جاتا کہ گناہ کا سیدھا سیدھا تعلق تنہائی سے ہے تو یہ بے جا نا تھا۔۔۔۔ تو وہ کون لوگ تھے بھلا جنکی تنہائیاں پاک ہوتی ہیں۔۔۔ جن کا تنہائیوں میں بھی ساتھی انکا رب ہوتا ہے۔۔۔ جو تنہائی میں گناہ کی جانب گامزن ہونے کی بجائے اپنے رب سے راز و نیاز کرتے ہیں۔۔۔ کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنکی تنہائیاں پاک ہوتی
ہیں۔۔۔ کتنے اعلی و ارفع ہونگے وہ لوگ جنکی زندگی میں دکھاوا نہیں ہوتا بلکہ حقیقتاً انکا انکے رب سے ایک مضبوط تعلق ہوتا ہے۔۔ جنکا نفس بھی انکے سامنے دم دبا کر رہتا ہے۔۔۔ جو نفس کے سر اٹھانے پر بے رحمی سے اسکا سر کچل ڈالتے ہیں۔۔۔جو دنیا کی کسی برائی کی جانب راغب محض اپنے رب کی ناراضگی کے خوف کے باعث نہیں ہوتے۔۔۔ جو ہر اس کام سے نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں جو انکے رب کی رضا کے خلاف ہوتا ہے۔۔۔ جو ہر کام اپنے اللہ کی رضا کے لئے کرتے ہیں۔۔۔ جنکی نمازوں میں عجلت نہیں بلکہ خشوع و خضوع ہوتا ہے۔۔۔ جنکی دعائیں پر تاثیر ہوتی ہیں۔۔۔ کیا وہ کبھی اس مقام تک پہنچ سکتی تھی۔۔۔ وہ کونسا راستہ تھا جس پر سے گزر کر انسان اس مقام تک پہنچ پاتا ہے جہاں جا کر وہ اپنے سب خوف و خطر اپنے رب کے حوالے کرتا دنیا کے ہر مسلے مسائل اور ہر طرح کے حالات کو لے کر بے خوف 1 ہو جاتا ہے۔۔۔
اسکے دل میں پکڑ دھکڑ شروع ہو چکی تھی۔۔۔
اگر کہا جاتا کے کنزل ایمان ڈیرھ سال پہلے جس دلدل میں گری تھی وہاں سے نکل چکی تھی ایک شعوری کوشیش کے تحت تو یہ غلط تھا۔۔۔ یہ وہ راز تھا جو اسکے اور اسکے رب کے درمیان لاک ہو گیا تھا۔۔۔ اور یہ دلدل اسکی زندگی کی وہ ہڈی تھی جسے وہ نا نگل پا رہی تھی اور نا ہی اگل پا رہی تھی۔۔۔ یہ ہڈی اسکی جان کا ازار بن گئ تھی۔۔۔
وہ شعوری کوشیش سے اس گناہوں کی دلدل سے دور رہنے کی بھرپور کوشیش کرتی کئ کئ ہفتوں بلکہ مہینوں کا گیپ تک پڑ جاتا۔۔۔ اور جب وہ اس چیز پر نازاں ہونے لگتی کے وہ ایک غلاظت کے ڈھیر سے نکل آئی ہے تبھی کسی نا کسی وجہ سے نفس کا ایسا غلبہ اس پر چھاتا کے اسے بے بس کرتا پھر سے انہی راہوں کا مسافر بنا دیتا۔۔۔۔جسکے بعد محض پشیمانی ہوتی۔۔۔
لیکن ایک بات جو اس سارے سفر کے درمیان اسنے سیکھی تھی کے گناہ کا احساس ہوتے ہی توبہ کی جستجو۔۔۔ جب جب اس سے ایک قبیح فعل سرزرد ہوتا اور احساس ہونے پر وہ لمحے کی تاخیر کئے بنا سجدے میں گر کر گڑگڑانے لگتی۔۔۔ اسنے اپنے گناہوں کو جسٹیفائی کرنے کی بجائے انہیں کھلے دل سے قبول کرتے ان پر توبہ کرنی شروع کر دی تھی۔۔۔
اور یہ ہی چیز اسے کھٹکتی تھی۔۔۔ کے کہیں کچھ مسنگ تھا۔۔۔ کوئی کڑی۔۔۔ جو اسے مکمل طور پر راہِ حق کا مسافر بننے نا دیتی تھی۔۔۔ ایسی کڑی جسکے مسنگ ہونے کے باعث پزل مکمل نا ہو پاتی اور اسکے قدم لڑکھڑا جاتے۔۔۔
وہ اسکی تلاش کی جستجو میں تھی۔۔۔ اسے گناہوں کا راستہ یوں نہیں چھوڑنا تھا کے اسکا نفس دوبارہ سے سر اٹھاتا تو وہ بے بس ہوجاتی۔۔۔ اور نفس کے ہاتھوں زیر ہو کر اپنے رب سے شرمندہ پھرتی۔۔۔
اسے گناہوں کا راستہ یوں چھوڑنا تھا کے اسے گناہوں سے شدید نفرت ہو جاتی۔۔۔ گناہوں کی جانب دیکھنا تو دور کی بات بلکہ محض اسکی سوچ ہی دماغ میں ابھرنے پر وہ نفرت سے سر جھٹک دیتی۔۔۔ اسے گناہ سے نفرت کرنی تھی۔۔۔ یوں کے نفس اگر اسکے سامنے سر اٹھانے کی جرات کرتا تو اسے بے دردی سے اپنے جوتے تلے مسل ڈالتی۔۔
وہ کیسے پہنچ سکتی تھی اس مقام تک۔۔ طلب واضح تھی اور جستجو بے پناہ۔۔۔۔
اور بلاشبہ انسان کو وہی ملا ہے جسکی وہ جستجو کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ زندگی کی جانب سے جواب کبھی اس انسان کو موصول نہیں ہوا جو غیر سنجیدہ ہو۔۔۔
قدرت نے اپنے راز ہمیشہ اسی پر آشکار کئے ہیں جو اسکی جستجو کرتا ہے۔۔۔ جو ان رازوں کو جانے کے لئے سنجیدہ ہوتا ہے۔۔۔۔ پھر قدرت اسے اشارے دیتی ہے۔۔۔ سامنے کھلی کتاب کے الفاظ اسے بے طرح اپنی جانب متوجہ کر رہے تھے۔۔۔ وہ یک ٹک انہی لفظوں کو پڑھ رہی تھی۔۔۔ کیا اسے بھی اسکے سوالوں کے جواب ملیں گے۔۔۔ کیا وہ کبھی اس مقام تک پہنچ پائے گی جہاں پہنچ کر وہ گناہوں کی زنجیروں سے آزاد ہو جائے گی۔۔۔ اسکے دماغ میں بار بار یہ ہی سوال ابھر رہے تھے۔۔۔
*****
دیوار گیر گھڑیال اس وقت دوپہر کے بارہ بجا رہا تھا باہر دوپہر اپنے جوبن پر تھی لیکن ائیر کندیشن کی خنکی اور دیوار گیر کھڑکیوں پر پڑے دبیر پردوں کے باعث کمرے میں نیم تاریکی کا راج ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول کافی پرسکون تھا ایسے میں شامیر خان اپنے بستر پر اوندھے منہ لیٹا محو استراحت تھا۔۔۔
پاس پڑے موبائل کی مسلسل بجتی بیل اسکی نیند میں خلل ڈال رہی تھی۔۔۔ شاید فون کرنے والا ڈھیٹ تھا۔۔۔ اسنے کوفت سے مندی مندی آنکھوں سمیٹ ہاتھ مار کر اپنا موبائل تلاش کرنا چاہا اور پھر ویسے ہی فون یس کر کے کان سے لگایا ۔۔۔۔
خان۔۔۔ آپکے لئے ایک بری خبر ہے۔۔۔ آپکے بابا آپکی طرف سے کسی خدشے کا شکار ہو کر آپکی منجری کروا رہے ہیں۔۔۔۔ قوی امکان ہے کے آپکی موبائل اور ٹریول ہسٹری بھی چیک کروائی جائے۔۔۔ آپکو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔۔۔ فون سے ابھرتی آواز گویا امجد کی آواز نہیں بلکہ گویا صور پھونکا جا رہا تھا۔۔
خان کی نیند بھک سے اڑی وہ جھٹکے سے سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ البتہ دل ہنوز دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔
اسنے اپنے باپ کو شاید ہلکا لے کیا تھا۔۔۔ اسکا باپ وہ شخص تھا جسے کبھی ہار قبول نہیں۔۔۔ پھر وہ یہ بات کیسے بھول گیا۔۔۔ ٹریول ہسٹری اور فون کالز سے وہ باآسانی اسکے راز کو پا جاتے۔۔۔
پھرررررر۔۔۔۔
آگے ایک بڑا سوالیہ نشان تھا۔۔۔ اسنےبے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔۔۔
*****
******

No comments