Header Ads

Rah_e_haq novel 33rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  33rd Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

تیتیسویں قسط۔۔۔
شادی کا فنگشن بہت اچھے سے گزرا۔۔۔ پوری شادی کے دوران سبحان ماں سے زیادہ باپ کے پاس رہا۔۔۔ وہ جب زرا بے چین ہونے لگتا شامیر اسے گاڑی میں لیجاتا اسکا اے سی آن کر کے وہیں بیٹھ جاتا۔۔۔ فنگشن کے دوران وہ دو دفعہ سویا ۔۔۔ دونوں دفعہ شامیر اسے گاڑی میں لے آیا۔۔۔۔ باہر گرمی اتنی تھی کے گیڈرنگ کے باعث میرج حال کے ائیر کنڈیشن تک کام نا کر رہے تھے۔۔۔ اور سبحان کے بے چین ہونے کی وجہ بھی یہ ہی تھی۔۔۔
نگارش اور حامد کی جوڑی کو سب نے سراہا۔۔۔ حامد کے پہلو میں سمٹ کر بیٹھی وہ چھوئی موئی سی شرم و حیا کا پیکر لگ بھی بہت پیاری رہی تھی۔۔۔ ایمان نے بھائی کی شادی بہت نجوائے کی۔۔۔ رخصتی کے وقت وہ آ کر پارکنگ میں بیٹھی تو اسکا صاحبزادہ پیسنجر سیٹ کو پیچھے ریلیکسنگ انداز میں کئے وہاں پرسکون انداز میں محو استراحت تھا جبکہ اسکا باپ بھی اسی انداز میں بیٹھا موبائل سکرول کر رہا تھا۔۔۔ اسے آتا دیکھ شامیر نے اپنی سیٹ سیدھی کی اور موبائل بند کر کے رکھا۔۔۔
ویسے مجھے توقع نہیں تھی کے میرا فنگشن اسقدر اچھا گزرے گا۔۔۔ لیکن اب مجھے یقین ہو گیا۔۔۔ میرے بیٹے کی محض اپنی ماں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ باپ کے ساتھ بھی بانڈنگ بہت سٹرونگ ہے۔۔۔ وہ مسکرائی۔۔۔
ایسی ویسی۔۔۔ ارے تم سے زیادہ سٹرونگ ہے ہم باپ بیٹے کی بانڈنگ۔۔۔ میرے ہوتے ہوئے یہ تمہیں مجھ پر ترجیح دے کر دکھایے تو۔۔۔
وہ تو تمہارے پیچھے پیچھے رہتا ہے کیونکہ میں اسکے پاس نہیں ہوتا ۔۔۔ میں پاس ہوں تو اسے کوئی اور درکار نہیں ہوتا۔۔۔ وہ ایکسلریٹر پر پاوں رکھتا گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔۔۔
اوہ ہو۔۔۔ آپ ہماری بانڈنگ سے جیلس فیل کر رہے ہیں۔۔  چچ۔   پر سوری حقیقت یہ ہی ہے کے میرا بیٹا اپنی ماں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔۔۔
اپنے منہ سے اب تم جو مرضی کہتی رہو۔۔۔ وہ شانے اچکاتے اسے بے طرح جھٹک گیا۔۔۔
جی نہیں۔۔۔ اسے تھوڑا سا بڑا ہو لینے دیں آپ۔۔۔ پھر دیکھئے گا ۔۔ خود بول کر بتائے گا وہ آپکو کے وہ ہم دونوں میں سے کس سے زیادہ محبت کرتا ہے۔۔۔ انکی نوک جھونک میں راستہ کیسے کٹا پتہ ہی نا چلا۔۔۔
واپس آ کر ایمان نے دلہن کا ستقبال کیا اور دلہن گھر آنے کے بعد کی رسمیں کر کے ماں سے اجازت لیتی گھر واپس آگی۔۔۔
****
سبحان کمرے میں سو رہا تھا جبکہ شامیر خان ٹراوزر اور ہاف سلیو شرٹ میں ملبوس لاوئنج میں بیٹھا کسی سے فون ہر بات کر رہا تھا۔۔  ایسے میں ایمان سادہ سی لان کی پرنٹڈ قمیض شلوار میں ملبوس بالوں کا جوڑا بنائے آنچل ایک شانے پر ٹکائے کچن میں موجود شامیر کے لئے کافی بنا رہی تھی۔۔۔
کافی بنا کر اسنے کپ لا کر شامیر کے سامنے رکھا اور خود واپس کچن میں آگئ۔۔۔ جب تک وہ کچن سمیٹ کر اپنے چھوٹے موٹے کام نبٹا کر واپس شامیر کے پاس آ کر بیٹھی شامیر اپنی کافی ختم کر چکا تھا۔۔۔ البتہ کال ابھی بھی جاری تھی۔۔۔ کچھ دیر بعد فون بند ہوا تو وہ موبائل میز پر رکھتا ایمان کی گود میں سر رکھے وہیں صوفے پر لیٹ گیا۔۔۔۔
ایمان مسکرا دی۔۔۔ پھر رفتہ رفتہ اپنے ہاتھ کی انگلیاں اسکے گھنے بالوں میں پھیرنے لگی۔۔۔ وہ پرسکون سا آنکھیں موند گیا۔۔۔
تھک گئے آپ۔۔۔۔۔
بہتتتتت زیادہ یار۔۔۔  اسنے انگلیوں کی پوروں سے ماتھا مسلہ۔۔۔۔ یہ شادیوں کے فنگشن کم میرے لئے تھکاوٹ کا انتظام زیادہ تھے۔۔۔ نا مہندی کی رات سویا گیا نا بارات کی صبح۔۔۔ اور بارات واپس آنے کے بعد میں یہاں آگیا۔۔۔ اب صبح پھِر سے بھائیوں کے ریسیپشن کے لئے وقت پر اسلام اباد پہنچا ہے۔۔۔۔ وہ واقعی بہت تھکا ہوا تھا۔۔۔ ایمان کو یکدم اس پر ڈھیر سارا پیار آیا۔۔۔ دل قدر دانی کے احساس سے لبریز ہو اٹھا۔۔۔۔ وہ دل سے اس شخص کی قدر دان تھی جو اپنے ہر ہر عمل سے اسے معتبر کر رہا تھا۔۔۔ دنیا کی نظر میں وہ جو بھی تھا۔۔۔۔ لیکن اسکی زندگی کا مرکز تھا۔۔۔ ایک ایسا  مرکز جسکے گرد اسکی زندگی گھومتی تھی۔۔
اس شخص سے محبت شعوری نہیں بلکہ لاشعوری و فطری تھی۔۔۔۔
دفعتاً شامیر کا موبائل پھر سے بج اٹھا۔۔۔ اسنے ہاتھ بڑھاتے میز سے فون اٹھایا۔۔
افف۔۔۔ بابا۔۔۔ خیریت ہو۔۔۔ یہ بھلا مجھے کیوں فون کر رہے ہیں۔۔۔ وہ الجھا الجھا سا بڑبڑایا اور فون یس کر کے کان سے لگا گیا۔۔۔
ایمان کی اسکے بالوں میں سرائیت کرتی انگلیاں یک لخت تھم گئیں۔۔۔
جی بابا۔۔۔  وہ ہنوز یونہی لیٹا مضحمل سا گویا ہوا۔۔
کہاں ہو شامیر۔۔۔۔ ایمان کو فون سے ابھرتی ہلکی سی بارعب آواز سنائی دی۔۔۔
یہیں ہوں۔۔۔ خیریت۔۔۔   اسنے پہلو تہی سے کام لیا۔۔۔ 
یہیں کہاں۔۔۔ گھر میں دکھائی تو نہیں دے رہے۔۔۔  اوہ بابا۔۔۔۔ پلیز جو کام ہے وہ بتائیے نا۔۔۔ میں دوست کی طرف ہوں۔۔۔ اسنے آنکھیں میچتے درد سے پھٹتے سر پر ہاتھ کی مٹھی ماری۔۔۔ بابا کے فون سے سر مزید درد کرنے لگا تھا۔۔۔۔ انکی جانب سے شامیر کو ڈھرکا لگا ہی رہتا کے کہیں وہ چیل سی نگاہ رکھنے والے اسکے راز کو نا پا جائیں۔۔۔ وہ بھی تب جب اسکی بیوی اور بچہ اسکی زندگی کا لازمی جز بن گئے تھے۔۔۔ ایسے میں ان دونوں سے جدائی موت کے مترادف تھی۔۔۔ لیکن وہ یہ بات اپنے اونچے شملے والے باپ کو کیسے سمجھاتا۔۔۔
وہ اسے گھر میں آنے والے مہمانوں کے حوالے سے کوئی کام بتا رہے تھے۔۔۔۔ٹھیک ہے ہوجاتا ہے یہ کام ابھی۔۔۔ بات مکمل کر کے شامیر فون کاٹ گیا۔۔۔
ساتھ ہی وہ ایک دوسرا نمبر ملانے لگا۔۔۔
ہاں امجد کہاں ہو یار۔۔۔ رابطہ استوار ہوتے ہی وہ بول اٹھا۔۔۔
ایمان خاموشی سے اسے سن رہی تھی البتہ انگلیاں سست روی سے دوبارہ سے بالوں میں چلنے لگی تھیں۔۔۔ 
اچھا دونوں بھابھیوں کے مائیکے والے ناشتہ لا رہے ہیں۔۔۔ انکے لئے کچھ ارینجمنٹس کروانے ہیں ارحم سے رابطہ کر کے جو بھی کرنا ہے کروا دو۔۔۔
خان۔۔۔ ناشتہ اور اس وقت۔۔۔ خان کا فون بند ہوتے ہی ایمان الجھی الجھی سی پوچھ بیٹھی۔۔۔ باہر عشا ہو رہی تھی اور ناشتہ۔۔۔ دونوں متضاد چیزیں تھیں۔۔۔۔
چھوڑو یار۔۔۔ کہا نا میری دونوں دنیا الگ الگ ہیں۔۔۔ جن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔ وہاں یہ ہی سب چلتا ہے۔۔۔ شام ڈھلے تو سب اٹھے ہونگے۔۔۔ پھر تیاری اور ناشتے کا وقت یہ ہوچلا۔۔۔ میری اس دنیا کے دن ویران اور راتیں آباد ہوتی ہیں۔۔۔ اسنے ایمان کا رک چکا ہاتھ تھام کر دوبارہ اپنے سر پر رکھا۔۔ 
اشارہ واضح تھا۔۔۔ وہ پھر سے انگلیاں اسکے بالوں میں چلانے لگی۔۔۔
خان۔۔۔ 
ہممم۔۔۔
آپکے گھر میں کسی کو نہیں پتہ کے آپ لاہور آئے ہوئے ہیں۔۔۔ وہ لب کترتی دل کی بات زبان پر لے آئی۔۔۔
یہ بھی کوئی بتا کر آنے والی بات تھی بھلا۔۔۔۔
نہیں مطلب کسی نے گھر میں اپکی غیر موجودگی محسوس نہیں کی۔۔۔ وہ الجھی الجھی سی شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔۔
یار کی تو ہے بابا نے۔۔۔ سب اٹھے ہی شام ڈھلے تو اب ہی محسوس کرنا تھا میں کہاں ہوں۔۔۔ اب کہہ دیا دوست کی طرف ہوں تو بے فکری ہے۔۔۔ کے میں خود ہی حسب سابق رات ڈھلے گھر آ جاوں گا۔۔۔ شادی کے فنگشنز کے باعث سب پھر سے صبح دیر سے اٹھیں گے اور اٹھتے ہی سب کو اپنی تیاری کی پڑی ہوگی۔۔ اور جب تک تیار ہو کر فنگشن اٹینڈ کرنا ہے میں وہیں ہونگا۔۔۔ سمپل۔۔۔ وہ شانے اچکاتا گویا بات ہی ختم کر گیا۔۔۔ جبکہ وہ گم صم سی واقعی خان کی دونوں دنیا کا گیپ محسوس کر رہی تھی۔۔۔
زندگی محض ایمان کے لئے ہی غیر متوقع نا تھی۔۔۔ بلکہ جو دو کشتیوں کا مسافر بن بیٹھا تھا وہ بہتر جناتا تھا کے اسے اپنی دونوں دنیاوں میں ہر چیز کیسے مینج کرنی ہے۔۔۔
*****
ایمان تم نورین کو فون کر کے بلوا لو۔۔۔ میں حامد کا ولیمہ کچھ دیر تک اٹینڈ کر کے وہاں سے سیدھا ائیر پورٹ کے لئے نکل جاوں گا۔۔۔ یوں نورین کے باعث تمہیں سہولت رہے گی۔۔۔ ولیمے کے بعد اپنے مائیکے جانا چاہو تو بھی۔۔۔ یہاں آنا چاہو تو بھی۔۔۔
مجھے اسلام آباد وقت سے پہنچنا ہے۔۔۔ وہ براون تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھا جبکہ کندھے سے لگا سبحان بھی سیم اسی لباس میں ملبوس تھا۔۔۔
جی بہتر خان میں کرتی ہوں اسے فون۔۔۔ وہ ڈائریکٹ ہال ہی پہنچ جائے گی۔۔۔ ایمان براون کلر کی ساڑھی میں ملبوس بالوں کا میسی جوڑا بنائے سبحان کی ضرورت کی چیزیں اسکے منی بیگ میں رکھ رہی تھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں یہ خوبصورت سا کپل ایک مرتبہ پھر سے ہال میں سب کی نگاہوں کا مرکز تھا۔۔۔۔ شامیر نے وہاں جاتے ہی سجاد بھائی کے ساتھ مل کر ساری بھاگ دوڑ سمبھالنی چاہی۔۔۔
مینیو میں بہت سی ردو بدل کر کے کچھ نئ ڈشز ارجینٹلی شامل کروائیں اور کھانے کی ساری پیمنٹ تک کر ڈالی۔۔۔ 
سجاد بھائی حق دق سے اسے دیکھ رہے تِھے۔۔  معاملہ بڑھتے ہوئے حامد اور ماں تک بھی آن پہنچا تو وہ دونوں بیٹے ماں کے ہمراہ خان اور ایمان کو لئے ایک پرسکون گوشے میں آگے۔۔۔
خان یہ آپ نے کیا کیا ۔۔۔۔ ہم حسب توفیق سب کر رہے تھے۔۔۔ آپ نے پیمنٹ کیوں ادا کی۔۔۔ ہم آپکا کوئی احسان افورڈ نہیں کر سکتے۔۔۔حامد لب بھینچے غصہ ہو رہا تھا البتہ بات کرتے تہذیب کا دامن نا چھوڑا کے اب اس شخص سے ایک بہت قریبی رشتہ استوار تھا۔
کیسی باتیں کر رہے ہو حامد۔۔۔ احسان کیسا۔۔۔ شادی پر ہر کوئی حسب توفیق دلہا دلہن کو کوئی نا کوئی تحفہ دیتا ہے۔۔۔ یہ تمہاری بہن اور بہنوئی کی جانب سے شادی کا تحفہ ہے۔۔۔ تم بات کو غلط سائیڈ پر کیوں لے کر جا رہے ہو۔۔  کیوں ایمان۔۔۔ اسنے تحمل سے بات کرتے ایمان کی رائے لی۔۔۔
سو فیصد درست۔۔۔ ہر بہن کے بھائیوں کی شادی ہر بہت ارمان ہوتے ہیں۔۔۔ کیا میں آپکی شادی پر کوئی تحفہ نہیں دے سکتی۔۔۔  ایمان کے کہنے پر حامد کے چہرے کے تنے اعضلات کچھ ڈھیلے پڑے۔۔ البتہ اس بات پر متفق وہ ابھی بھی نا تھا۔۔۔
دیکھو ایمان۔۔۔ تحفے اتنے مہنگے نہیں۔۔۔
کیا مہنگے یار۔۔۔ تحفے کی قیمت نہیں دینے والے کا خلوص دیکھتے ہیں۔۔۔ اس سے پہلے کے حامد کچھ بولتا شامیر نے اسکی بات کاٹتے اسکا شانا سہلا کر اسے اپنے ساتھ لگایا تو وہ بالکل خاموش ہو گیا۔۔۔ بولنے کو کچھ بچا ہی نا تھا۔۔۔
ماں ان دونوں کو دعائیں دیتیں واپس حال میں چلی گئیں۔۔۔
خان۔۔۔ خان بھی ان سب کے جانے کے بعد واپس پلٹا تو بے ساختہ ایمان پکار اٹھی۔۔۔
ہمممم۔۔۔ وہ رکا۔۔۔
تھینک یو۔۔۔ اس سب کے بارے میں ایمان نہیں جانتی تھی۔۔۔ لیکن شامیر خان کے اس اقدام سے اسکی قدر ایمان کے دل میں مزید بڑھ گئ تھی۔۔۔
بات تحفے کی نا تھی۔۔۔ بلکہ بات اس نرم لہجے کی تھی جس سے اسنے اسکے گھر والوں کو قائل کیا تھا۔۔۔ بلاشبہ میٹھی زبان دلوں کو موہ لیتی ہے۔۔
مینشن ناٹ۔۔۔ خیر لیٹ ہو رہا ہوں۔۔۔ اب اجازت چاہوں گا۔۔۔ اپنا اور سبحان کا خیال رکھنا وہ جھک کر اسکے ماتھے پر مہر عقیدت ثبت کرتا پلٹ گیا۔۔۔ جبکہ ایمان مسکراتی ہوئی نم آنکھ کا کونا صاف کرتی اس شخص کا سایا صدا اپنے سر پر قائم و دائم رہنے کی دعا کرتی پلٹ گئ۔۔۔
*****
شامیر خان بلیک پینٹ بلیک شرٹ اور گرے کوٹ میں ملبوس خوبصورتی سے ڈیکوریٹ کئے ہال میں موجود تھا۔۔۔ جہاں ارینجمنٹس پر پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا تھا۔۔۔۔ کھانے میں انواع و اقسام کی ڈشز تھی۔۔۔ سپیشل گلوکار بلوائے گئے تھے۔۔۔
ارد گرد رنگ و بو کا سیلاب امڈا پڑا تھا۔۔۔ نقری قہقے۔۔۔ ہلہ گلا۔۔۔ دھیمے سروں سے بجتا میوزک ۔۔ دونوں جوڑیاں سٹیج پر بیٹھیں تھیں۔۔۔
ذوہیب بھائی کافی خوش تھے البتہ عدنان بھائی کی سنجیدگی و لاتعلقی ہنوز برقرار تھی۔۔
ایک طرف پروشہ سلیو لیس ہیوی سلور میکسی زیب تن کئے ہئیر سٹائیلنگ اور ماہرانہ بیوٹیشن کے ہاتھوں کئے گئے میک آپ میں تتلی بنی گھوم رہی تھی۔۔۔
وہ چند فوٹو گرافر کے نرغے میں موجود مختلف پوز بناتی اپنا فوٹو شوٹ کروا رہی تھی۔۔۔ فوٹو گرافرز اسکے ایک ایک پوز میں کئ کئ تصویریں لے رہے تھے۔۔۔
شامیر ایک کونے کی میز پر بیٹھا بے دلی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔۔
یہ گہما گہمی۔۔۔ رزق کی بے قدری چلتا میوزک اور رنگ و بو کا سیلاب کچھ بھی اسے اچھا نا لگ رہا تھا۔۔۔
دل بس جیسے وہیں اس دنیا میں رہ گیا تھا۔۔۔
اگاہی کا سفر طے کرتے ہی بہت سے موازنے شب و روز اسکی زندگی کا حصہ بنتے جا رہے تھے اور انہی سب میں ایک موازنہ یہ بھی تھا۔۔۔
وہ اپنی اس دنیا اور دوسری دنیا کا بھی موازنہ کرنے لگا تھا۔۔۔
جہاں ہر وقت شو آف۔۔۔ دکھاوا۔۔۔ بے چینی و بے سکونی تھی۔۔۔
جبکہ اس گھر میں مخلص پن  تھا۔۔۔ خلوص تھا ۔۔۔ سادگی تھی۔۔۔ وہاں محبت تھی مضنوعی آرائش سے پاک۔۔۔ 
وہاں ایمان کو اسکے سامنے آنے کے لئے گھںٹوں سیلون میں کھڑے نہیں رہنا پڑتا تھا۔۔۔ بلکہ وہ گھر کے عام سے حلیے میں دھلے دھلائے چہرے اور رف سے بنے جوڑے میں بھی اپنائیت کا احساس بخشتی سیدھا دل میں اترتی تھی۔۔۔
وہاں انہیں وقت گزارنے کے لئے سیون سٹار ریسٹورینٹ میں کھانا کھانے نہیں جانا پڑتا تھا بلکہ شام کے وقت کافی کے مگ تھام کر بالکنی میں کھڑے ہو کر ڈھیروں ڈھیر باتیں کرنا اور اپنے شہزادے کے ساتھ مستیاں کرنا ہی انکا بہترین وقت ہوتا۔۔۔
وہ ناچاہتے ہوئے بھی موازنے کر رہا تھا۔۔۔ اور جتنا موازنا کرتا اتنا ہی اسکا دل وہاں سے اچاٹ ہوتا جاتا۔۔۔
دفعتاً بابا کی آواز پر وہ چونکا۔۔۔ جو سٹیج پر مائیک تھامے کھڑے اناونسمنٹ کر رہے تھے۔۔۔
آج اس خوشی کے موقع پر جب میرے دونوں بڑے بیٹوں کا ریسیپشن ہے میں اپنے چھوٹے اور لاڈلے بیٹے شامیر خان کی انگیجمنٹ کا اعلان اپنے دوست کی بیٹی پروشہ سے کرتا ہوں۔۔۔ آج یہیں اس خوشی کے موقع پر یہ کارخیر بھی سرانجام دینا چاہتا ہوں۔۔۔  بابا کی اناونسمنٹ کے ساتھ ہی حال تالیوں سے گھونج اٹھا جبکہ شامیر حرت و صدمے کی سی کیفیت میں جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ اسکا چہرا شدت ضبط سے سرخ پڑ گیا تھا جبکہ چہرے کے اعضلات کھینچنے لگے تھے۔۔۔
اسکے اندر بھڑ بھر بھانبھر جلنے لگے ۔۔۔ دل چاہا بنا لحاظ کئے سب تہس نہس کر ڈالے۔۔۔ دفعتاً سپاٹ لائٹ کا رخ اسکی اور پروشہ کی جانب ہوا تو اسنے سرعت سے اپنے تاثرات پر کنٹرول کیا۔۔۔۔
****






No comments

Powered by Blogger.
4