Rah_e_haq novel 32nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 32nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
بتیسویں قسط۔۔۔۔
سبحان کے اٹھتے ہی ایمان شامیر کی نیند ٹوٹنے کے ڈر سے اسے لاوئنج میں لے آئی۔۔۔ سبحان کو سیریلیک کھلانے کے بعد اسنے سبحان سے باتیں کرنے کے دوران اپنا ناشتہ بنایا اور لاوئنج میں سبحان کی پرام کے سامنے بیٹھتی خود ناشتہ کرنے لگی۔۔۔ ان دونوں کی زندگی گویا ایک دوسرے تک محصور تھی۔۔۔ سبحان اسکی ہر چیز میں شامل تھا۔۔۔ وہ ہمہ وقت بیٹے کو آنکھوں کے سامنے رکھتی یہ ہی وجہ تھی کے وہ بھی ماں کے آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہی مچل اٹھتا۔۔۔ یہ تو وہ ماں سے مانوس ہو گیا تھا جسکی وجہ سے ایمان کالج جا پاتی۔۔۔ لیکن واپس آ کر سارا وقت وہ دونوں ایک دوسرے کے لئے ہی تھے۔۔۔۔
ایمان کا ایک اصول تھا جب شامیر گھر آتا وہ نورین کو چھٹی دے دیتی۔۔۔ اسکا شوہر پہلے ہی اسے کم کم میسر ہوتا اور جب وہ آتا تو وہ اسکی زندگی کی پہلی ترجیح بن جاتا۔۔۔ پھر اسے اپنی زندگی میں کسی تیسرے کی ڈسٹربنس قبول نا تھی۔۔۔ جو وقت شامیر اسکے پاس ہوتا وہ وقت محض اسکا ہوتا۔۔۔۔ جس میں محض وہ دونوں ہوتے اور انکی زندگیوں کو مکمل کرتا انکا شہزادہ سبحان شامیر خان۔۔۔ شامیر جن دنوں وہاں ہوتا ان دنوں تو ایمان کالج تک نا جاتی چاہیے اسکا کتنا ہی اہم ٹیسٹ کیوں نا ہوتا۔۔۔ وہ شامیر کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی خود کرتی۔۔۔ اسکے لئے کھانا بناتی۔۔۔ اسکے کپڑے استری کرتی حتکہ اسکے جوتے تک پالش کرتی۔۔۔ ایک دو بار شامیر نے اسے اس کام سے منع کرنا چاہا۔۔۔ لیکن وہ سہولت سے منع کر جاتی۔۔۔
میں یہ سب اپنی مرضی سے کر رہی ہوں شامیر۔۔۔ اور یہ سب کر کے مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے۔۔۔ آپ مجھ سے میری خوشی نہیں چھین سکتے۔۔۔ اسکے بعد سے شامیر نے اسے ٹوکنا چھوڑ دیا۔۔۔۔
ایسے میں وہ کیسے نا اسکا گرویدہ ہوتا۔۔۔ وہ لڑکی دل میں گھر کرنے کے فن سے آشنا تھی۔۔۔ تبھی تو شامیر خان جیسا شخص اسکی بے لوث محبت اور وفا کے آگے نا نا کرنے کے باوجود گھٹنے ٹیکنے لگا تھا۔۔۔
ناشتہ کرتے وہ مسکرا دی۔۔۔۔ اسے یاد آیا جب پہلی بار شامیر کو تیار ہوتے دیکھ اسنے شامیر کے ٹائی باندھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔۔۔
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے شامیر نے مسکراتے ہوئے اسکی خواہش کا احترام کرتے تائی اسکے حوالے کی اور خود سیدھا کھڑا ہو گیا۔۔۔
ایمان ٹائی کو الٹ پلٹ کرکے دیکھتی اسکے قریب آئی۔۔۔ پھر شرٹ کے کھڑے کالر تلے ٹائی رکھے وہ ٹائی دونوں سائیڈوں سے پکڑے اسے شش و پنچ سے دیکھنے لگی۔۔۔
کیا ہوا ایمان۔۔۔ باندھ کیوں نہیں رہی۔۔۔۔ جب کافی دیر تک وہ یونہی کھڑی ٹائی دیکھتی رہی تو بلآخر شامیر الجھتا ہوتا پوچھ بیٹھا۔۔۔
وہ دراصل خان ایک پرابلم ہے۔۔۔ وہ کھسیائی۔۔۔
کیسی پرابلم۔۔۔۔۔۔
وہ دراصل مجھے ٹائی باندھنا نہیں آتی۔۔۔۔
وھاٹ۔۔۔ شامیر کو چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔۔
مائے گاڈ۔۔ ایمان باندھنی نہیں آتی تو تب سے ہاتھ میں لئے کیوں کھڑی ہو۔۔۔ وہ تاسف زدہ سا بولا۔۔۔
کوشیش کر رہی تھی نا۔۔۔ اس لئے۔۔۔ آپ سیکھائیں گے تو آ جائے گی پکا خان۔۔۔ وہ آنکھیں پٹپٹا کر کھسیانا سا ہسی تو خان نے اسے تاسف سے دیکھتے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔
پلیز سکھائیں نا خان۔۔ ایمان میں الگ ہی اَٹریکشن تھی کے خان باآسانی اسکا کہا مانتا اسکے فضول سے کاموں میں بھی ساتھ دینے لگتا۔۔۔۔
اب بھی یہ ہی ہوا۔۔۔ خان نے اسکے سامنے ٹائی باندھتے اسے سیکھانا شروع کی۔۔۔
اتنی جلدی جلدی نہیں۔۔۔ آہستہ آہستہ۔۔۔۔ خان نے اسے دیکھتے بندھی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے اسے کھول ڈالا۔۔۔ اور یہاں ہوا اصل کام ۔۔۔ ایمان کو ٹائی باندھنی آئی ہو یا نا۔۔۔ کھولنی ضرور آ گئ تھی۔۔۔
اسنے اب کی بار آہستہ آہستہ ٹائی کے ناٹ لگاتے اسے کسا۔۔۔ ایمان بہت توجہ سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اب میری باری۔۔۔ ایمان نے ایک ہی بار میں ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے اسے کھول ڈالا۔۔۔ شامیر ضبط کا مظاہرہ کرتا کھڑا رہا۔۔۔
اب وہ اپنے کومل ہاتھوں سے رفتہ رفتہ ٹائی کی ناٹ باندھ رہی تھی۔۔۔ مگر ناٹ کسنے پر جو سیٹ ہوئی وہ ٹائی ہرگز نا تھی۔۔۔
میرے خیال سے یہ غلط ہو گئ۔۔۔ آپ ایک مرتبہ پھر سے سیکھائیں نا۔۔
ایمان اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہوتی ناقدانہ نگاہوں سے اپنی باندھی گئ ٹائی دیکھتی بولی۔۔۔
شامیر نے ضبط سے سانس خارج کی۔۔۔
آج کے لئے اتنا کافی ہے ایمان۔۔۔ باقی کی پڑیکٹس بعد میں۔۔۔ وہ جلدی سے ٹائی درست کرتا اسکے آگے سے ہٹا۔۔۔
اور اسکے بعد شامیر جب جب ٹائی باندھتا وہ ایک ٹرائی ضرور لیتی۔۔۔ لیکن سچی بات تھی اسے ابھی تک ٹائی باندھنی نا آئی تھی۔۔۔
ناشتہ مکمل کر کے وہ مسکراتی ہوئی برتن اٹھا کر کچن کی جانب چل دی۔۔۔
ناشتے کے برتن دھو کر اسنے سب سے پہلے سبحان کو تیار کیا۔۔۔ پھر خود تیار ہونے لگی۔۔۔
یہ ایک الگ محاز تھا۔۔۔ تیار ہونے لگتی اور سبحان رو پڑتا تو اسے اٹھا لیتی۔۔۔ وہ اپنے ننھے ہاتھ اسکی کھلی کمر پر جھولتی شہد رنگ آبشار میں الجھا کر اسے کھینچتا منہ میں دال لیتا تو وہ بلبلا اٹھتی۔۔۔
رات نورین موجود تھی اس لئے اسے تیاری میں سہولت رہی تھی۔۔۔ لیکن اب اسکا شہزادہ اسے ناکوں چنے چبوا رہا تھا۔۔۔
تبھی اسنے وال کلاک کی جانب دیکھا جو ساڑھے دس بجا رہی تھی۔۔۔ شامیر نے اسے گیارہ بجے اٹھانے کا کہا تھا۔۔۔ لیکن خیر ہے۔۔۔ اتنا وقت اوپر نیچے چلتا رہتا ہے۔۔۔
تبھی وہ سبحان کو اٹھائے کمرے میں آئی اور اسے بے سدھ سوئے ہوئے خان کے پاس بیٹھایا۔۔۔
اٹھ جائیں خان۔۔۔ اپنے افلاطوں کو سمبھالیں۔۔۔ یہ مجھے تیار نہیں ہونے دے رہا۔۔۔
سبحان سوئے ہوئے خان کی جانب متوجہ ہوا تو وہ ڈریسنگ کے سامنے آ گئ۔۔۔ وہ اس وقت گولڈن کیپری پر پیچ ایمبرائڈڈ شرٹ زیب تن کئے ہوئے تھی۔۔۔
شہد رنگ بال پشت پر بکھرے تھے جنہیں وہ سٹریٹنر سے سٹریٹ کر رہی تھی۔۔۔
سبحان نے کچھ دیر تک کھیلنے کے بعد شامیر کے بالوں اپنے ننھے ہاتھوں میں بھرتے اسے زور سے کھینچا۔۔۔
آہہہہ۔۔۔ وہ کراہتا ہوا اٹھ بیٹھا۔۔۔ جبکہ ایمان ہس ہس کر لوٹ پوٹ ہو گئ۔۔۔۔کیا ہے یہ سب کنزل ایمان۔۔۔ وہ نیند ٹوٹنے پر بگڑا۔۔۔ سبحان شامیر خان کی گرفت اتنی ہلکی بھی نا تھی۔۔۔
کیا ہے۔۔۔ میرا شہزادہ اپنے باپ کے ساتھ انجوائے کر رہا ہے۔۔ اور خبردار آپ نے اسے یا مجھے کچھ کہا تو۔۔۔ اسے ویسے ہی آپ کم کم میسر ہوتے ہیں۔۔۔ اب میسر ہیں تو اسے انجوائے کرنے دیں۔۔۔ آفٹرآل اسکا اپنا ذاتی باپ ہے۔۔۔
ایمان کی باتیں سن کر اسکا غصہ جھاگ کی مانند بیٹھا۔۔۔ وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگاتا اپنے صاحبزادے کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ جو بیڈ پر اچھلتا منہ سے مختلف قسم کی آوازیں نکالتا باپ کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
شامیر نے مسکراتے ہوئے اسے خود میں بھینچا۔۔۔
دونوں ماں بیٹا تیار ہوگئے۔۔۔ بس میں ہی ہیچھے رہ گیا۔۔۔ ناٹ فئیر۔۔۔ وہ سبحان کی ناک سے ناک مس کرتا کھیل رہا تھا۔۔۔
ایمان میرے ہینڈ کیری سے میرے کپڑے بھی نکال دو۔۔۔ اس میں تمہارے اور سبحان کے بھی میچنگ ڈرسز ہیں تم دونوں بھی چینج کر لو۔۔۔ سیم ڈریسنگ کریں گے۔۔۔۔
شامیر کے کہنے پر وہ مسکرا دی۔۔۔
شامیر جب بھی آتا اسکے اور سبحان کے لئے کچھ نا کچھ لاتا۔۔۔ اور جو وہ خود سے لے کر آتا ان چیزوں کی ایمان کی نظر میں بہت قدر تھی۔۔۔ وہ ہر بار شامیر کی جانب سے ملنے والے تحفے پر یونہی کھل اٹھتی۔۔۔ اب بھی وہ دونوں باپ بیٹے کو ایک دوسرے میں مگن چھوڑ باہر کپڑے نکالنے آ گئ۔۔۔
*****
بارہ بجنے میں چند منٹ باقی تھے۔۔۔ سبحان برینڈڈ بلیک کرتا شلوار پر سفید ا
واسکٹ زیب تن کئے بستر پر بیٹھا کھلونوں سے کھیل رہا تھا۔۔۔
جبکہ شامیر وقت کی قلت کے باعث دوسرے کمرے کے واش روم میں تھا۔۔۔ شامیر اور سبحان کا لباس ایک جیسا تھا جبکہ ایمان بلیک میکسی میں ملبوس تھی جس پر گولڈن پرلز کا کام ہوا تھا۔۔۔
اس میکسی میں اسکی چھب ہی نرالی تھی۔۔۔ سپید رنگت مزید دمکنے لگی تھی۔۔۔۔ بال پشت پر کھلے چھوڑ اسنے ہلکا پھلکا سا میک آپ کیا اور اس لباس کے ساتھ موجود وائٹ پرلز کی جیولری پہننے لگی۔۔۔
وہ جھک کر اپنے نازک سے سینڈل کے سٹیپ بند کر رہی تھی جب نک سک سے تیار شامیر خان اپنی پوری وجاہت سمیٹ کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔
سٹیپ بند کرکے سیدھے ہوتے ایمان کی ایک نادانستہ نگاہ اس پر اٹھی اور گویا پلٹنا بھول گی۔۔۔ سیاہ کرتا شلوار پر سفید واسکٹ پہنے ہلکی بڑھی تراشیدہ بیئرڈ اور جیل سے سیٹ کئے گئے بال۔۔۔ بئیرڈ اور بال دونوں کا کلرر ہلکا براوں کیا گیا تھا۔۔۔ سرخ و سپید رنگت پر یہ سٹائیلنگ اسے انگریزوں سے مشبہہ کر رہی تھی۔۔۔
یہ سپیشل تیاری غالباً بھائیوں کی شادی کے لئے تھی۔۔۔ لیکن خیر جو بھی تھا یہ سٹائیلنگ اس پر خوب خوب جچ رہی تھی۔۔۔ اتنی کے ایمان کی اس پر سے نگاہ ہٹا پانا محال ہوا۔۔۔
وہ ایمان کی محویت نوٹ کرتا کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں قدم قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔۔۔
کیا بہت ہینڈسم لگ رہا ہوں۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجاتا شریر ہوا۔۔۔
ایمان چونک کر حواسوں میں لوٹی اور اپنی اس بے خودی پر ہڑبڑا کر نظروں کا رخ موڑتے ڈریسنگ ٹیبل سے چوڑیاں اٹھاتی پہننے لگی۔۔۔
ہاں مگر میرے بیٹے سے زیادہ نہیں۔۔۔
شامیر خان کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔ میرا اور میرے بیٹے کا بھلا کیا موازنہ۔۔۔ وہ اسکی حالت سے خظ اٹھا رہا تھا۔۔۔۔
کوئی موازنہ نہیں بس میں تو یہ بتانے کی کوشیش کر رہی تھی کے میری ساس کا بیٹا میرے بیٹے سے زیادہ ہینڈسم نہیں۔۔۔ شامیر خان اسکے بوکھلائے روپ اور اسکی لفاظی کو انجوائے کرتا ہس ہس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔۔۔
لیکن میری ساس کی بیٹی بہت پیاری ہے۔۔۔ وہ شامیر کے پاس سے گزرتی سبحان کی جانب بڑھ رہی تھی جب اسنے بے ساختہ ایمان کی بازو پکڑتے اسے روکا۔۔۔۔
اسکا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
وللہ۔۔۔ شامیر خان اس پر تب دل ہارا تھا جب وہ دھلے دھلائے چہرے کیساتھ کالج یونیفارم میں ملبوس تھی۔۔۔ آج تو وہ پھر کیل کانٹوں سے لیس ہے۔۔۔ سوچو آج خان کا کیا حال ہوگا۔۔۔
یکدم ہی وہ سنجیدہ ہوتا پٹری سے اترا۔۔۔ خان کے ہاتھ میں تھاما ایمان کا ہاتھ کپکپا اٹھا۔۔
خخ۔۔۔ خان۔۔ دیر ہو رہی ہے۔۔۔ پلیز۔۔۔ اسکی بدلتی نگاہوں کے تقاضے ایمان کو بوکھلا رہے تھے۔۔۔
شامیر نے مسکراہٹ دابتے اسکی کلائی چھوڑی۔۔۔
جاو کیا یاد کرو گی۔۔۔۔جلدی اپارٹمنٹ لاک کر کے باہر آو۔۔۔ اس سے پہلے کے میرا اردہ بدل جائے۔۔۔ وہ سبحان کو اٹھاتا باہر نکلا تو ایمان سرپٹ بھاگتی سبحان کے لئے تیارہ کردہ منی بیگ اپنا کلچ اور چادر اٹھاتی باہر کو بھاگی۔۔۔۔
****
شامیر خان کی لیٹس ماڈل کی ایم جی آ کر ایمان کے محلے میں رکی تو ہر کسی کی مرکز نگاہ وہی گاڑی تھی۔۔۔
اور اس میں سے نکلتی اس جوڑی کو دیکھ نا صرف سب کی چلتی زبانیں رکیں بلکہ منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔۔۔۔شادی والے گھر میں ایمان شوہر کے سنگ داخل ہوئی تو ماں بیٹی اور داماد کو اکھٹا آتے دیکھ سب کام چھوڑ انکے واری صدقے جاتے نا تھک رہی تھیں۔۔۔
دونوں بھائی خوشدلی سے آ کر خان سے ملے۔۔۔ جبکہ سب مہمان انگشت بدنداں ایمان کے شوہر کو دیکھ رہے تھے جسکی پرسنیلٹی سب سے الگ تھی۔۔ وہ مرکز نگاہ تھا۔۔۔ کئ نگاہوں نے ایمان کو حسد و رشک سے دیکھا۔۔۔
وہ مغرور شہزادہ جو پشت پر ہاتھ باندھے محض بیوی سے مسکرا کر باتیں کر رہا تھا۔۔۔
ایمان نے بالخصوص اسے تمام رشتہ دار خاتوں سے ملوایا۔۔۔ بالخصوص کل باتیں کرنے والیں ممانی اور دور پڑے کی رشتہ دار خواتیں سے۔۔۔
ایمان یہاں سب مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں جیسے میں کسی دوسرے سیارے سے آیا ہوں۔۔۔ وہ سب کی اپنی جانب اٹھی نگاہوں سے جزبر ہوتا مسکراتا ہوا ایمان کے کان کے قریب جھک کر گویا ہوا تو ایمان مسکرا دی۔۔۔
کہا نا میری ساس کا بیٹا پیارا ہے لیکن میرے بیٹے سے زیادہ نہیں۔۔۔
اففف۔۔۔ ایمان۔۔۔ انہیں بتاو چیف آف دا گیسٹ میں نہیں حامد ہے۔۔۔ وہ مرکز نگاہ بنے جزبر ہوتا بے چین ہو رہا تھا۔۔۔۔
اور ایمان اسکی بے چینی باخوبی بھانپ رہی تھی۔۔ کیونکہ واقعی وہ مرکز نگاہ تھا۔۔۔ لوگ حق دق سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔ سب کی توقعات کے مطابق وہ وہاں نہیں آنے والا تھا لیکن وہ آیا تو آیا اسکی وجاہت و پرسنیلٹی نے سب کو مرغوب کر ڈالا تھا۔۔۔
دفعتاً سبحان پھر سے اس ہنگامے میں بے چین ہوتا رونا شروع ہو چکا تھا۔۔۔
اوہ خدا تیرا شکر۔۔۔
سبحان کے رونے پر شامیر کے بے ساختہ شکر ادا کرنے پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
لاو ایمان اسے مجھے دو یہ یہاں گیڈرنگ میں ان کمفرٹیبل محسوس کر رہا ہے میں اسے باہر گاڑی میں لے کر جاتا ہوں تم رسموں سے فارغ ہو کر وہیں آ جانا۔۔۔
شامیر کے شکر ادا کرنے کی وجہ ایمان کو تب سمجھ میں آئی جب وہ اسکی گود سے روتے ہوئے شامیر کو لیتا مسکرا کر اونچی آواز میں کہہ کر گھر سے نکل گیا۔۔۔
یہاں بارات کی روانگی سے پہلے کی رسمیں ادا کی جا رہی تھیں۔۔۔ ایمان اسکی چالاکی پر مسکرا دی۔۔۔
واہ ایمان قسمت ہے تمہاری یار۔۔۔ ایک تو اتنا ہینڈسم شوہر۔۔۔ اوہر سے جوڑو کا غلام۔۔۔ تمہیں سہولت دینے کے لئے بیٹے کو باہر لے گیا۔۔۔ ایک ہمارے شوہر ہیں۔۔۔ مجال ہے جو کسی فنگشن پر زرا دیر کو انہیں تھام لیں۔۔۔
ایمان کی ایک کزن ایک بچے کو کندھے سے لگائے دوسرے کا بازو تھامے حسرت سے اسے دیکھتی گویا ہوئی تو ایمان محض مسکرا ہی سکی۔۔ کچھ دیر کے بعد بینڈ باجوں کے درمیاں بارات گھر سے نکلی تو حامد کے گاڑی میں بیٹھتے ہی ایمان تیز قدموں سے چلتی محلے کی نکر پر کھڑی سٹارٹ گاڑی کی جانب بڑھی۔۔۔
جہاں شامیر گاڑی کا اے سی آن کئے صاحبزادے کو پیسنجر سیٹ پر بیٹھائے سامنی دکان سے سلانٹی اور لیز کے پیکٹ کا اسکے گرد انبار لگائے اسے مصروف رکھے ہوئے تھا۔۔۔
ایمان کے آ کر گاڑی میں بیٹھتے ہی اسنے گاڑی آگے بڑھاتے قطار میں حامد کی گاڑی کے پیچھے لگائی۔۔۔
اوہ شکر کے آپ نے اسے چاکلیٹ نہیں لے کر دی۔۔۔ ورنہ اس نے سارے کپڑے خراب کر لینے تھے۔۔۔ وہ بنا اپنے شہزادے اور اسکی دکان کو ڈسٹرب کئے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔ ویسے میں بھی سوچوں یہ اتنی دیر تک آپکے پاس چپ کیسے ہے۔۔ یہ تو میرے علاوہ کسی کے پاس بھی زیادہ دیر نہیں تکتا۔۔ مجھے کیا پتہ آپ نے اسکے لئے یہاں پورا ماحول ہی سیٹ کر ڈالا ہے۔۔۔
آفٹرآل باپ ہوں اسکا۔۔ اتنا تو جانتا ہوں کے اپنے شہزادے کو کمفرٹ زون کیسے مہیا کرنا ہے۔۔۔ ویسے شکر خدا کا تمہارا کوئی اور بہن بھائی ایسا نہیں جسکی شادی ابھی ہونے والی ہو۔۔ بہت ان کمفرٹیبل ماحول فراہم کرتے ہیں تمہارے رشتہ دار یار۔۔
مطلب میں کوئی انسان نا ہوا عجوبہ ہی ہو گیا۔۔۔ جو سب کے سب اتنی عجیب نگاہوں سے مجھے دیکھ رہے ہیں۔۔۔ اسکے حیرت سے کہنے پر ایمان بے ساختہ مسکرا دی۔۔۔
خان محبت ہے یہ ان لوگوں کی۔۔۔
توبہ۔۔۔ نہیں چاہیے ایسی ندیدوں والی محبت۔۔۔
دفعتا سبحان کے رونے پر ایمان نے اسے گود میں لیا۔۔۔ وہ غالبا اب سونا چاہتا تھا۔۔۔ مگر شامیر کی دوہائیوں پر وہ مسلسل مسکرا رہی تھی۔۔۔۔
******

No comments