Header Ads

Rah_e_haq novel 31st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  31st Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

اکتیسویں قسط۔۔۔۔
حامد کی مہندی کا فنگشن عروج پر تھا۔۔۔ گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا۔۔۔۔ ننھیال اور دودھیال سے سبھی رشتہ دار آئے تھے۔۔۔۔
ایسے میں سبحان آتا ہوا راستے میں ہی سو گیا تو ایمان نے اسے حامد کے کہنے پر اسکے کمرے میں لٹا دیا کیونکہ وہ کمرا خالی تھا۔۔۔۔۔ صد شکر کے وہ شادی کے فنگشنز اٹینڈ کرنے کے لئے نورین کو ساتھ لائی تھی تبھی نورین کو سبحان کے پاس بیٹھا کر بے فکری سے اب باہر مہمانوں سے مل رہی تھی۔۔۔
ایمان کے بدلتے سٹیٹس کے باعث اسے سب رشتہ داروں کی جانب سے وی آئی پی پروٹوکول مل رہا تھا۔۔۔ رشک اور حسد سے ملی جلی نگاہیں اسکے دمکتے روپ کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
ایمان تمہارا شوہر نہیں آیا ساتھ۔۔۔ لوگ اپنے پسندیدہ مشغلے کی جانب آ چکے تھے۔۔۔
ارے بھئ اونچے لوگ ہیں وہ بھلا کہاں یہاں ان چھوٹے گلی محلوں میں آنا پسند کرتا ہو گا۔۔۔
دوسری عورت نے ٹھٹھہ لگایا۔۔۔
ایمان گم صم سی انہیں دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں آنٹی۔۔۔ ارے رہنے دو ایمان۔۔۔ اب وارفتہ تو وہ تم پر ہو گا نا۔۔۔ تم ہو بھی تو اتنی خوبصورت۔۔۔ کر دیا ہوگا تمہاری خوبصورتی نے اسے متاثر۔۔۔ لیکن تمہارے پچھلوں سے ملنا کیوں پسند کرے گا وہ بھلا۔۔۔
ایسی بات نا ہوتی تو وہ تمہارے ساتھ تمہارے مائیکے کے اتنے اہم فنگشن پر نا ہوتا۔۔۔ اسکی ممانی نے ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔
ایمان کا دل مکدر ہونے لگا۔۔۔ اسنے انکی  تصدیق کی نا تردید بس محض انہیں قیاس لگاتے سنتی رہی۔۔۔
ارے شازمہ تمہاری شادی کو دو سال ہوگئے نا۔۔۔ ابھی تک کوئی خوشخبری نہیں سنائی۔۔۔ اسکی ایک کزن کے وہاں آ جانے پر سب اسکی جانب متوجہ ہوگئے ۔۔ یکدم اس لڑکی کی رنگت بھی انکے سوالوں پر ایمان کی مانند ہی فق ہوئی۔۔۔۔
ایمان ایک تاسف زدہ نگاہ ان سب پر ڈالتی بھاری دل کے ساتھ وہاں سے اٹھ آئی۔۔۔
پتہ نہیں لوگوں کو کونسی تسکین حاصل ہوتی تھی دوسروں کی ذاتیات میں گھس کر۔۔۔ انکے کھرنڈ لگے زخم کھرچ کر۔۔۔
کوئی اپنے گھر میں کیا ہے۔۔۔ کیسے گزارا کر رہا ہے۔۔۔ بھلا آپکو اس سب سے کیا غرض۔۔۔ لوگ اپنے کام سے کام کیوں نا رکھتے تھے۔۔۔
حامد کی رسم شروع ہوئی تو ماں کے بعد وہ جا کر رسم کر آئی۔۔۔
سبحان نے اٹھتے ہی گھر سر پر اٹھا لیا۔۔۔
ارے موڈی باپ کا موڈی بیٹا ہے۔۔۔ باپ کی طرح یہ کہاں یہاں ٹھہرنا پسند کرے گا۔۔۔
لوگوں کے تبصروں پر ایمان لب بھینچ گی۔۔۔۔ جتنی وہ بھائی کی شادی کے لئے ایکسائٹڈ تھی۔۔۔ ساری ایکسائٹمنٹ کافور ہو گئ تھی۔۔۔
پتہ نہیں کیوں لوگ اپنی باتوں کے نشتروں سے دوسروں کے چہروں پر کھلی مسکراہٹ نوچ کر تسکیں حاصل کرتے تھے۔۔۔
سبحان اسقدر گیڈرنگ میں سمبھلنے کا نام نا لے رہا تھا۔۔۔ وہ تنہا رہنے والا بچہ اس ماحول کا عادی نا تھا۔۔۔ کچھ اسکا دل اسقدر مکدر ہو چکا تھا کے وہ بیچ فنگشن سے ہی سبحان کی بدولت گھر واپس آگئ۔۔۔۔
*****
ایمان اس وقت ڈھیلے سے لباس میں ملبوس کھوئی کھوئی سی بستر پر بیٹھی تھی۔۔۔ سبحان پاس ہی لیٹا اپنے ننھے ننھے سے ہاتھ پاوں مارتا کھیل رہا تھا۔۔۔ وہ وہاں سے واپس تو آگئ لیکن دماغ جیسے وہیں کہیں اٹک گیا تھا۔۔۔
کیوں لوگ دوسروں کی زندگیوں میں اتنا انٹرفئیر کرتے ہیں۔۔۔ کیوں وہ کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتے۔۔۔ کوئی رو رہا ہو گا تو ہمدردی کے دو بول بولنے آ جائیں گے۔۔۔ اگر کوئی خوش ہو گا تو لوگوں سے اسکی خوشی کیوں نہیں دیکھی جاتی۔۔۔ یا اگر کوئی کامیاب ہورہا ہو گا تو لوگ اسکی خوشی میں خوش ہونے کی بجائے اسکی ٹانگ کیوں کھینچنے لگتے ہیں۔۔۔ ہم کیوں اسقدر نیگٹو ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔۔ شاید اسی بدولت ہماری زندگیوں سے برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں۔۔۔ ہم ہمہ وقت بے سکونی چڑچڑے پن اور ڈپریشن میں رہنے لگے ہیں۔۔۔
وہ مسلسل ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی کس غیر مری نقطے کو دیکھتی دماغی طور پر کہیں اور ہی پہنچی ہوئی تھی۔۔۔ 
جب جب ہم قانوں قدرت کے خلاف چلیں گے ہم بے سکون رہیں گے۔۔۔  اور قانوں قدرت کیا ہے۔۔۔
ہمیں حکم کس چیز کا ملا ہے۔۔۔ سب سے پہلے تو اپنی نعمت چھپا لو۔۔۔ اسے ابھی پچھلے دنوں ہی کی پڑھی بات یاد آئی کے فرمایا گیا اگر آپکے گھر میں کوئی اچھی چیز بنے تو سب سے پہلے اپنے ہمسائیوں کو دو۔۔ 
اگر چیز اتنی وافر مقدار میں نا ہو کے اسے کسی کو دیا جا سکے تو اس چیز کی خوشبو بھی آپکے ہمسائیوں کے گھروں تک نہیں پہنچنی چاہیے۔۔۔ تاکے کسی کی دل آزاری نا ہو۔۔۔ اس چیز کی خوشبو سے کسی کا وہ چیز کھانے کو دل نا مچلے۔۔۔
لیکن ہم اس کے الٹ چل پڑے۔۔۔ آج کل ٹرینڈ ہی ایسا سیٹ ہو گیا کے کوئی بھی نعمت ہو استعمال بعد میں کرو پہلے اسے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتے اسکی تشہیر کرڈالو۔۔۔ پھر چاہے وہ کوئی کھانے کی چیز ہو۔۔۔ ٹریول ہو یا کچھ بھی۔۔۔ شاید اسی لئے ہماری چیزوں سے برکت اٹھنے لگی۔۔۔ کیونکہ ہم نعمت سمبھالنے کی بجائے شو آف میں پڑ گئے
یہ تھا ایک پہلو۔۔۔ دوسرا پہلو کیا تھا بھلا۔۔۔ اسنے دماغ پر زور ڈالا۔۔۔
کے اگر کسی کی اچھی چیز دیکھو۔۔۔ کوئی ایسی چیز جسکی تمہارے دل میں خواہش ہو اور تم اسے حاصل نا کر پاو بلکہ کوئی اور اسے حاصل کر لے تو اسکی اس اچھی چیز کو دیکھ کر بجائے حسد میں مبتلا ہونے کے اس شخص کی اس چیز سے خوش ہو کر اسے دل سے دعا دو۔۔۔ شاید تمہارے اس عمل کی بدولت وہ رحیم ذات تمہیں بھی اس سے نواز دے۔۔۔
لیکن اسکی بجائے لوگوں کی کریدنے اور انگلیاں اٹھا کر مثبت بات پر بھی منفی پہلو ڈھونڈ کر دوسروں کی زندگیوں میں بے جا مداخلت نے ہماری زندگیوں سے سکون رخصت کر دیا۔۔۔۔
یکدم سبحان کے رونے کی آواز پر وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ وہ شاید کھیلتے کھیلتے تھک کر اب بھوک سے رو رہا تھا۔۔۔
ایمان نے اسکا فارمولہ ملک تیار کرتے فیڈر اسکے منہ سے لگایا اور اسے تھپکتے ہوئے سلانے لگی۔۔۔
نہیں لوگوں کی سوچ کو بدلنا یا انکے اندر سے صدا کا بھرا زہر نکالنا میرے بس میں نہیں۔۔۔ میں وہی کروں گی جو میرے بس میں ہے۔۔۔ اور وہ ہے لوگوں کی منفی باتوں کا اثر قبول نا کرنا۔۔۔
ہاں میں کسی کے بھی منہ سے نکلی نشتروں کی مانند چھبتی باتوں کا اثر قبول نہیں کروں گی۔۔۔ کیونکہ میں خوش ہوں اپنی زندگی سے۔۔۔ مطمئیں ہوں اس حال میں جس حال میں مجھے میرے رب نے رکھا۔۔۔
لوگوں کی کوئی بھی باتیں مجھے برا محسوس نہیں کروا سکتیں ۔۔  کیونکہ میں شکر گزار ہوں اپنے رب کی جسنے مجھے اتنی بہتریں زندگی دی۔۔۔ ایک ذمہ دار شوہر اور بیٹے جیسی نعمت سے نوازا۔۔۔ اسنے گہری سانس خارج کرتے خود کو ہر نادیدہ بوجھ سے آزاد کروانا چاہا۔۔۔
میرا شوہر نہیں آ سکا کیونکہ وہ مجبور تھا۔۔۔ انکے اپنے سگے بھائیوں کی شادی ہے۔۔۔ لیکن میں وضاحتیں کسی کو نہیں دوں گی۔۔۔۔ سبحان سو گیا تو وہ عشاء کی نماز ادا کرنے کو اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
****
کمرے میں زیرو پاور کی لائٹ جل رہی تھی۔۔۔ ایسے میں اے سی کی خنکی  میں ایمان  کندھوں تک کمفرٹر اوڑھے سو رہی تھی۔۔۔ ساتھ ہی ننھا سبحان محو استراحت تھا۔۔۔ دفعتاً سائیڈ ٹیبل پر پڑے ایمان کے موبائل پر فجر کے لئے سیٹ کیا گیا الارم بجا تو اسنے مندھی مندھی آنکھیں کھولتے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور الارم بند کیا۔۔۔
کچھ سیکنڈ کے توقف سے وہ آنکھیں مسلتی سیدھی ہوئی جب سبحان کے مقابل دیکھتے اسکا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ آنکھیں خوف سے پھٹ گئیں جبکہ حلق سے ایک دلخراش چیخ بلند ہوئی۔۔۔
کیا ہوا ایمان۔۔۔ نوارد نے جھٹکے سے اٹھتے سائئد لیمپ جلایا۔۔
ایمان ہنوز ہونق بنی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے حواسوں میں نا لگتی تھی۔۔۔
کیا ہوا ایمان۔۔۔ شامیر نے پریشانی سے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔۔
آا۔۔ آپ خان۔۔۔۔ وہ ہکلائی۔۔۔
نہیں خان کا بھوت۔۔۔ یو سلی گرل ۔۔۔ محض یہ بات پوچھنے کے لئے تم نے رات کے اس پہر میرے کان کے پردے پھاڑ ڈالے۔۔۔۔ وہ دانت پیس کے کہتا خود کو ڈھیلا چھوڑ کر تکیے پر گرا۔۔۔
خخ۔۔۔خان آپ کب آئے۔۔۔ اسنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتے اسے تر کیا۔۔۔
آپکے تو بھائیوں کی شادی۔۔۔
اففففف۔۔۔ ایمان بولا تھا نا میں نے کے میں ٹائم مینج کر کے دونوں فنگشنز اٹینڈ کر لوں گا۔۔۔ وہ اوندھے منہ لیتے تکیے پر گال رکھے اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔
رات تین بجے بھائیوں کی بارات واپس آئی ہے۔۔۔ صد شکر کے دونوں کی بارات ایک ہی ہال میں تھی۔۔۔ انکے گھر آتے ہی میں بائے ائیر پہلی فلائیٹ سے یہاں آگیا۔۔۔
اور انکا ولیمہ۔۔۔۔ ایمان کی شاید تشفی نا ہوئی تھی۔۔۔ شامیر نے مندھی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔۔۔ ان میں رتجگے اور تھکاوٹ کی سرخی اتری ہوئی تھی۔۔۔ اتنی رات کو بارات واپس آئی ہے کل شام سے پہلے تو کوئی بھی نہیں اٹھنے والا۔۔۔ لحاظہ ولیمہ ایک دن کے گیپ سے ہے۔۔ 
اوہ۔۔۔ ایمان ریلیکس ہوئی۔۔۔
تھینکیو خان۔۔۔
میری بات سنو تم۔۔ بہت تھکا ہوا ہوں میں۔۔۔ تم ایک دفعہ میری نیند خراب کر چکی ہو۔۔۔ بڑی مہربانی دوبارہ مت کرنا۔۔۔ شادی پر کتنے بجے جانا ہے۔۔۔ بات کرتے کرتے وہ رکا۔۔۔
بارہ بجے ۔۔۔
گڈ مجھے گیارہ بجے جگا دینا۔۔۔ لیکن گیارہ سے ایک منٹ پہلے نہیں۔۔۔ میں چند گھنٹوں کی نیند لینا چاہتا ہوں۔۔۔ اپنی بات مکمل کر کے وہ سبحان کے گرد حصار بناتا اسکے چہرے کا بوسہ لے کر پھر سے آنکھیں موند گیا۔۔
جی بہتر۔۔۔ ایمان مسکراتی ہوئی وضو کرنے کو اٹھ گئ۔۔۔
******
فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد ایمان شامیر کی نیند خراب ہونے کے ڈر سے کمرے کی بجائے لاوئنج میں آکر قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگی۔۔۔ لیکن یہ وہ آواز تھی جسے سنتے ہی شامیر کی نیند ٹوٹ جاتی تھی۔۔۔ وہ الگ بات کے آج تک وہ اس آواز کی بدولت نیند ٹوٹنے پر کبھی غصہ نا ہوا تھا۔۔۔ آج بھی یہ ہی ہوا۔۔۔ وہ بستر پر چت لیٹا مندھی مندھی آنکھیں کھولے اس پر تاثیر نرم اور میٹھی آواز کو سن رہا تھا جو دل کے راستے سیدھا روح میں اترتی تھی۔۔۔۔ اس آواز میں سکون تھا۔۔۔ ایمان سورت الرحمن کی تلاوت کر رہی تھی اور اسکا لفظ لفظ شامیر کو اپنے دل پر اترتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔ نیند کا غلبہ اب بھی طاری تھا لیکن اب وہ شعوری کوشش سے تلاوت سن رہا تھا۔۔۔
تلاوت مکمل کرکے ایمان نے قرآن پاک جزادن میں لپیٹا اور اسے بک شلف میں سب سے اوپر رکھ کر کمرے میں واپس آئی۔۔۔ بیڈ کے قریب آ کر اسنے پہلے سبحان پر پھونک ماری پھر گھوم کر شامیر کی جانب آ کر اس پر جھکتی پھونک مار کر سیدھی ہونے ہی والی تھی جب بے ساختہ شامیر نے اسکی کلائی تھامتے اسے اپنی جانب کھینچا۔۔۔
آہ۔۔۔ اس غیر متوقع ردعمل پر ایمان کا دل خوف سے ڈھرکا اور توازن برقرار رکھنے کو اسنے سرعت سے سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ رکھا۔۔۔
اب صورتحال یہ تھی کے وہ اس پر جھکی کھڑی تھی جبکہ شامیر سرخ نیند کے خمار میں ڈوبی آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اتنی بڑی ساحرہ ہو تم۔۔۔ اور کتنا سحر پھونکو گی مجھ پر۔۔۔ قید تو کر لیا شامیر خان کو تم نے کنزل ایمان۔۔۔ اسکی آواز گنودہ تھی۔۔۔ ایمان کو لگا وہ شاید حواسوں میں نہیں۔۔۔
اب یہ سحر پھونکنا بند کر دو ایمان۔۔۔  دل تمہاری جانب ہمکتا ہے۔۔۔ میری دنیا میں میرا اب دل نہیں لگتا۔۔۔ میں وہاں ہو کر بھی وہاں نہیں ہوتا۔۔۔۔ تم یوں میری زندگی بہت مشکل بنا دو گی ایمان۔۔۔ خدا کے لئے مجھ پر رحم کرو۔۔۔ بات کرتے اسکی ایمان کی بازو پر گرفت رفتہ رفتہ ڈھیلی ہوئی اور نیم غنودہ آنکھیں مکمل بند ہوگئیں۔۔۔ لیکن سونے سے پہلے وہ ایمان پر جو انکشاف کر چکا تھا اسنے ایمان کو پتھر کا بنا ڈالا۔۔۔۔
آنسو زارو قطار  اسکی آنکھوں سے بہنے لگے۔۔۔ دل چاہا ابھی اس پاک ذات کے حضور پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔۔
دل بے ہنگم انداز میں ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔ وہ سینے کے مقام پر ہاتھ رکھے اسے زور سے مسلتی لاوئنج میں آتی صوفے پر ڈھ گئ۔۔۔
اگر ہمیں دعاوں کی تاثیر کا علم ہو جائے تو شاید ہم دعائیں مانگتے نا تھکیں۔۔۔ دعا کس قدر پاور فل چیز ہے ہمیں اندازہ ہی نہیں۔۔۔ کیونکہ ہمیں دعا مانگنے کا طریقہ ہی نہیں آتا۔۔۔ دعا کس کس انداز میں آپکی قسمت بدلتی ہے اور کیسے کیسے آپکی راہوں کے کانٹے چنتی ہے اگر ہمیں اس چیز کا اندازہ ہو جائے تو شاید ہم صبح و شام اس پاک ذات سے دعائیں مانگتے نا تھکیں جسکے ہاتھ میں پوری کائنات کا نظام ہے۔۔۔ جو سارے جہانوں کا بادشاہ ہے۔۔۔
اے ابن آدم تمہاری ہر دعا کے ساتھ تمہارا رب تمہارے لئے راہیں ہموار کر رہا ہوتا ہے۔۔۔ کبھی کسی کا دل تمہارے لئے نرم کر کے تو کبھی کسی دوسری طرف سے تمہارے لئے وسیلے بنا کر۔۔ 
صبح کا پڑھا لیکچر یاد آیا تو وہ مزید شدت سے رو دی۔۔۔
میرے مالک میں اس قابل تو نا تھی جتنا تو نے مجھے نواز دیا۔۔۔ میں تو کبھی تصور بھی نا کر سکتی تھی کے شامیر خان جیسا مکمل شخص کنزل ایمان سے محبت کر سکتا ہے۔۔۔ وہ اپنی دنیا میں رہ کر بھی مجھے یاد کر سکتا ہے۔۔۔ میں نے تو ناممکن کو ممکن کرنے کی دعا مانگی تھی۔۔۔ میں تو ایک ادنی سی بندی ہوں لیکن شاید بھول گئ تھی کے میرا مالک ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔۔۔ تیرا شکر میرے مالک۔۔۔ میرے شوہر کا دل میرے لئے نرم کرنے کے لئے اور اس میں کنزل ایمان کی محبت ڈالنے کے لئے۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر یہ سب مجھ پر آشکار کرنے کے لیے۔۔۔ شاید وہ شخص اس وقت ہوش میں ہوتا تو اس پر کبھی نا کھلتا۔۔۔
وہ کون تھا جس نے شامیر خان جیسے انا پرست اور ایمان کی جانب مڑ کر نا دیکھنے والے شخص کے دل میں اسکی محبت ڈالی اور وہ کون تھا جسنے آج صبح صادق کے وقت اسکی زندگی کا سب سے خوبصورت راز کنزل ایمان پر آشکار کیا ۔۔۔۔۔۔
آج کنزل الایمان کا اپنے رب پر اور دعاوں کی تاثیر پر ایمان مزید پختہ ہو گیا۔۔۔ اسکے دل سے بے ساختہ نکلا۔۔۔
فَبِأَيِّ آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
*****







No comments

Powered by Blogger.
4