Rah_e_haq novel 30th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 30th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
تیسویں قسط۔۔۔
جب سے ایمان اور ماں نگارش کے گھر سے ہو کر گئ تھیں تب سے ہی نگارش لب چباتی کسی گہری سوچ میں کھوئی سی بیٹھی تھی جبکہ عینا نے اسے تنگ کر کر کے اسکی ناک میں دم کر رکھا تھا۔۔۔
اچھا بتا تو دو حامد بھیا دکھتے کیسے ہیں۔۔۔ ویسے بڑی چھپا رستم ہو تم آج گھر مہمان آ رہے تھے اور بھنک تک نا لگنے دی۔۔۔ الٹا میڈم جی سو گئیں۔۔۔
نگارش نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔ لیکن سامنے بھلا کہاں اثر ہونے والا تھا۔۔۔۔
ان قاتل نگاہوں سے ہمیں مت دیکھو یار۔۔۔ ان نگاہوں کے وار سے محض حامد بھائی ہی گھائل ہوتے ہیں۔۔۔ وہ کھلکھلا کر ہس دی جبکہ نینا جھنجھلا کر وہاں سے اٹھ ہی کھڑی ہوئی۔۔۔
رات کو بابا واپس آئے تو اسے اپنے پاس بلوا دے بھیجا۔۔۔ تجسس کے مارے عینا بھی ساتھ ہی ہو لی۔۔۔
بیٹھو بیٹا۔۔۔ بابا نے اسے اپنے پاس ہی بیٹھایا۔۔۔
اچھا مجھے بتاو کے حامد کیسا لڑکا ہے۔۔۔۔ بابا کے پوچھنے پر اسنے بھرائی شکوہ کناں نگاہوں سے انہیں دیکھا۔۔۔
بابا اب آپ بھی عینا کی طرح کریں گے۔۔۔ میں سچ کہتی ہوں میری ان سے کوئی گپ شپ نہیں۔۔۔ حتکہ میں یہ تک بھی نہیں جانتی تھی کے انکے گھر والے ہمارے گھر آنے والے ہیں اور اس مقصد سے۔۔۔ اسکی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو ٹوٹ کر گرے تو بابا بے ساختہ تڑپ اٹھے۔۔
ارے۔۔۔ نینا بیٹا میں نے ایسا کب کہا۔۔۔ مجھے الحمدللہ اپنی بیٹی پر پورا بھروسہ ہے۔۔۔ بھروسہ نا ہوتا تو کیا آپکو انٹرنشپ کے لئے وہاں جانا دیتا۔۔۔
میں تو محض آپ سے جاننا چاہتا ہوں۔۔۔ اچھا ایک پل کے لئے اس بات کو ذہن سے نکال دیں کے آپکے لئے حامد کا رشتہ آیا ہے۔۔۔ اب غیر جانبداری سے مجھے وہ بتائیں جو میں پوچھ رہا ہوں۔۔۔ یوں مجھے اپنی بیٹی کے بارے میں کوئی فیصلہ لینے میں سہولت ہو گئ۔۔۔
اب سوچیں کے حامد محض آپکا سینیئر ہے اور میں اسکے بارے میں آپکی رائے لینا چاہتا ہوں۔۔۔۔ اب بتائیں کے وہ کیسا شخص ہے۔۔۔
نینا۔۔۔ شش و پنج میں مبتلا سر جھکائے لب چبا رہی تھی۔۔۔ لیکن بابا کے ڈیل کرنے کے انداز پر اسے کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔
اچھے انسان ہیں بابا۔۔۔ غیر ضروری بات نہیں کرتے ۔۔۔ کبھی انہوں نے مجھ سے تو کیا آفس میں موجود کسی لڑکی سے بھی کام کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں کی۔۔۔ اپنے کام سے کام رکھنے والے محنتی انسان ہیں۔۔۔۔
او۔۔۔ ہووووو۔۔۔۔ بابا کے پاس ہی سائیڈ ٹیبل پر بیٹھی ٹانگیں جھلاتی عینا نے یکدم ہوٹنگ کی ۔۔۔
دیکھ لیں بابا۔۔۔ نینا نے شکایتی انداز میں باپ کو دیکھا۔۔۔
عینا انسان بنیں اور چلیں جائیں باہر۔۔۔ بابا نے اسے مضنوعی گھورتے ڈپٹا تو وہ سرعت سے سنجیدہ ہوتی منہ پر انگلی رکھ گئ۔۔۔ البتہ مسکراہٹ اب بھی ہونٹوں کے کناروں سے مچل رہی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے میں ایک دو روز تک انکے گھر چکر لگاوں گا۔۔۔
بابا میں بھی جاوں گی ساتھ۔۔۔ اس سے پہلے کے بابا مزید کچھ کہتے عینا ایک دم سے بول پڑی۔۔۔ بابا نے بات روکتے تاسف سے اسے دیکھا۔۔۔۔ وہ سرعت سے دوبارہ منہ پر انگلی رکھ گئ۔۔۔
تو اگر مجھے لڑکا پسند آئے تو کیا میں یہ رشتہ پکا کر دوں۔۔۔۔ بابا نے وہیں سے سلسلہ کلام جوڑا۔۔۔
مجھے نہیں پتہ بابا۔۔۔ جیسا آپ مناسب سمجھیں۔۔۔ وہ آہستگی سے کہتی وہاں سے اٹھ آئی۔۔۔
اسکے جاتے ہی بابا نے مسکراتے ہوئے دوسری بیٹی کو دیکھا۔۔۔ اب آپ یہاں سے جانے کا کیا لیں گی۔۔۔
آٹھ سوٹ۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔
پورے آٹھ سوٹ لوں گی نینا کی شادی پر۔۔۔ وہ ایکسائٹڈ سے سائیڈ ٹیبل سے اتری۔۔۔
کیا شادہ آپکی ہو رہی ہے۔۔۔
افکورس ناٹ۔۔۔
آپکے کپڑوں کی تعداد سے تو یہ ہی لگ رہا ہے کے پھر لگتے ہاتھوں مجھے آپکا بھی بندوبست ساتھ ہی کر دینا چاہیے۔۔ بابا نے مسکراہٹ دابتے اپنی چلبلی سی بیٹی کو دیکھا۔۔۔
بااابااااا۔ وہ پاوں پٹختی کمرے سے نکل گئ۔۔۔ جبکہ بابا مسکرا کر رہ گئے۔۔۔۔
****"
دو دن بعد نگارش کے بابا حامد کے ہاں سے ہو آئے۔۔۔۔ انہیں حامد پہلی ہی نگاہ میں پسند آگیا تھا۔۔۔ بقول ایمان کے اسکا بھائی تھا ہی ہیرا۔۔۔ کوئی اسے ریجیکٹ کر ہی نہیں سکتا تھا ۔۔۔
بابا کے ساتھ عینا بھی آئی تھی۔۔۔ اسنے اپنی چلبلی عادت کے باعث وہاں کافی محفل لگائی رکھی۔۔۔
ان دو دنوں میں حامد آفس میں ایسے ہی رہا جیسے نگارش کے ساتھ پہلے تھا۔۔۔ البتہ نگارش اس سے کچھ جھجھک رہی تھی لیکن حامد کی ریزرو عادت کے باعث وہ کچھ پرسکون ہو گئ۔۔۔
آج بھی وہ آفس میں حامد سے پہلے ہی موجود تھی۔۔۔ وہ اپنے ڈیسک پر بیٹھی اپنی چیزیں سیٹ کر رہی تھی جب حامد اپنے دھیاں اندر داخل ہوا۔۔۔
مارنینگ سر۔۔۔ وہ اسکے ڈسک کے پاس سے گزرا جب اسنے حسب معمول کھڑے ہوتے اسے وش کیا۔۔۔۔ جاتا جاتا وہ رک کر پلٹا اور ایک گہری نگاہ اس پر ڈالی۔۔۔ ہلکے گلابی کاٹن کے شلوار قمیض پر ہم رنگ آنچل اوڑھے وہ کافی فریش لگ رہی تھی۔۔۔
نینا اسکی اس نگاہ سے جزبر ہو اٹھی۔۔۔ ہمیشہ تو وہ مارنینگ وش کر کے آگے بڑھ جاتا تھا آج کیوں رکا۔۔۔
وہ عادتاً لب چبانے لگی۔۔۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ حامد کےبلبوں پر امڈی۔۔۔
مس نگارش آپ بہت پیاری ہیں۔۔۔ حامد کی اس بات پر نینا کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ جھکی پلکیں مزید جھکتی چلے گئیں۔۔۔ لیکن ٹرسٹ می آپ اور بھی پیاری لگیں گی آگر چہرے کا پردہ کریں گی تو۔۔۔
مسکرا کر کہتا وہ آگے بڑھ گیا جبکہ نینا ساکت سی کھڑی ڈھنے کے انداز میں کرسی پر بیٹھی اور چہرے پر ہاتھ پھیرتے مختل حواس بحال کرنے چاہے۔۔۔۔
شاید یہ کل ہی نئے نئے بندھے رشتے کا اعجاز تھا کے وہ آج اسے ٹوک گیا تھا۔۔۔۔ نینا نے سر جھٹکتے بڑی مشکل سے اپنا فوکس کام پر کیا۔۔۔ لیکن وہ حامد کی کہی بات پر عملدار ہونے کا پورا پورا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔
******
خان مینشن میں جشن کا سماں تھا۔۔۔ وہاں اس گھر کے دونوں بڑے بیٹوں عدنان خان اور ذوہیب خان کی شادی کی ڈیٹ فکس ہو گئ تھی اور اب زور و شور سے تیاریاں چل رہی تھیں۔۔۔
شادی کی تیاریوں میں پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا تھا۔۔۔ شادی سے تین ہفتے پہلے ہی ناجانے کون کونسی رسمیں نکال کر فنگشنز شروع کر دئیے گئے تھے۔۔۔
ذوہیب خان تو اپنی شادی کا ایک ایک فنگشن انجوائے کر رہا تھا جبکہ ایک عدنان ہی تھا جو محض آفس اور کام میں خود کو جھونکے ہر طرف سے لاتعلق سا تھا۔۔۔
اپنے اس بھائی کو دیکھ شامیر کے دل سے ہوک سی اٹھتی۔۔۔
اب بھی عدنان کھڑے کھڑے کوئی فائل لینے گھر آیا تھا۔۔۔ جبکہ لاوئنج میں چیزوں کا جیسے مینا بازار لگا تھا۔۔۔ جیولر ٹاپ ٹرینڈ کی جیولری لئے گھر ہی آگیا تھا۔۔۔ جبکہ ذوہیب ارحم کے ساتھ بیٹھا ویڈنگ ڈریس کے لئے ڈیزائنرز کی نئ کلیکشن دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ایسے میں محض شامیر تھا جو ان سب سے لاتعلق سنگل صوفے پر بیٹھا موبائل پر رات ایمان کی سبحان شامیر خان کی بھیجی گئ نئ تصاویر اور ویڈیو دیکھتا مسکرا رہا تھا۔۔۔
اسکی دلچسپی سب سے الگ تھی۔۔۔ اسکی دوسری دنیا میں اسکے لئے دلچسپی کا ایسا سامان تھا کے وہ اپنی اس دنیا میں ہو کر بھی وہاں نہیں تھا۔۔۔ گویا دل وہ اپنی اسی دنیا میں چھوڑ آیا تھا۔۔۔
آو عدنان ۔۔۔ تم بھی اپنے لئے دلہا ڈریس سلیکٹ کرو۔۔۔ ویسے کیا پہننے کا ارادہ ہے تمہارا۔۔۔ ذوہیب خان لیپ ٹاپ پر جھکے مصروف سے انداز میں سیڑھیاں اترتے عدنان خان سے مخاطب ہوا تو شامیر بھی موبائل بند کر کے جیب میں رکھتا ان سب کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
دیکھ لو تم خود ہی ذوہیب ۔۔۔ سیم ڈریسنگ کرنی چاہو تو بھی۔۔۔ کلر بریک کرنا چاہو تو بھی۔۔ اور میرا سائز پہلے ہی ڈئزائنر کے پاس ہے۔۔۔ وہ بےزاری سے کہتا آگے بڑھ گیا جبکہ اسکی لاتعلقی دیکھ لاوئنج میں سناٹا چھا گیا۔۔۔
سیڑھیاں اترتے بابا نے بیٹے کی لاتعلقی شدت سے محسوس کی لیکن خاموش رہے۔۔۔ ابھی فلحال انکے لئے اتنا کافی تھا کے انکا بیٹا انکی بات مانتا شادی کر رہا تھا۔۔۔
*****
ماں نے ہاتھوں پر سرسوں جما رکھی تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے جلد از جلد حامد اور نینا کی شادی کی ڈیٹ فکس کر کے اب شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔۔۔ آج کل ماں بھابھی اور ایمان کے خوب خوب بازاروں کے چکر لگ رہے تھے۔۔۔
ایمان کی مصروفیات بہت بڑھ گئ تھیں۔۔۔ وہ کالج دوبارہ جوائن کر چکی تھی۔۔۔ کالج ٹائمنگ میں سبحان ماں کے پاس ہوتا۔۔۔ اور ننھے سبحان کی اتنی مصروفیات تھیں کے اسے کسی اور چیز کا ہوش ہی نا رہتا۔۔۔
بیٹے کو سجانا سنوارنا اسکا بہتریں مشغلہ تھا۔۔۔ اور اسکی پیاری پیاری تصویریں اور کھلکھلاتی ویڈیوز لے کر اسکے باپ کو سینڈ کرنا اس سے بھی بہتریں مشغلہ تھا۔۔۔ بہت نامحسوس انداز میں وہ ننھی جان ماں اور باپ کو جوڑنے والی کڑی بن چکا تھا۔۔۔
اور اسکی آمد سے شامیر پر بھی بہت سے مثبت اثرات مرتب ہوئے تھے۔۔۔ وہ جو پہلے مہینے مہینے بعد اس سے رابطہ کرتا تھا۔۔۔ اب ہر دوسرے دن وقت بے وقت فون کر ڈالتا۔۔۔
پہلے اس سے ایمان کی محض بات ہوتی تِھی۔۔۔ اب اسکی ہر کال ہی ویڈیو کال ہوتی۔۔۔ اور ویڈیو کال پر وہ ان دونوں کی مستیاں بہت انجوائے کرتا۔۔۔۔
اب بھی وہ بازار سے آکر بیٹھی تھی۔۔ سبحان کو سلا کر اسنے خود شاور لیا۔۔۔ ابھی نم بال سلجھا ہی رہی تھی کے اسکا فون بج اٹھا۔۔۔ اور فون پر جگمگاتا نمبر دیکھ وہ کھل اٹھی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ فون اٹھا کر وہ مسکراتی ہوئی آ کر بستر پر بیٹھی ۔۔۔ دوسری جانب اسکا تروتازہ چہرا دیکھ ناجانے شامیر کو کتنا ڈھیروں ڈھیر سکون محسوس ہوا تھا۔۔
آپکا شہزادہ اس وقت آرام فرما رہا ہے۔۔۔ اسنے سبحان کے ساتھ نیم دراز ہوتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا تو شامیر مسکرا دیا۔۔۔۔
اور میرے شہزادے کی ماں۔۔۔ اسنے مسکراہٹ دابی۔۔۔۔ وہ تو آپکے سامنے ہی ہے۔۔۔ کنزل نے لاپرواہی سے شانے اچکائے۔۔۔
شامیر آپ سے ایک التجا کرنی تھی۔۔۔۔ یکدم کچھ یاد آنے پر وہ سنجیدہ ہوتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔۔
آپ حکم کیجئے جناب۔۔۔ وہ اسکے انداز دیکھ مسکرا دیا۔۔۔۔
نہیں حکم نہیں التجا۔۔۔
اوکے۔۔۔ اوکے۔۔۔ بولیے۔۔۔
حامد بھائی کی شادی کی ڈیٹ فکس ہو گئ ہے۔۔۔ اسنے لب کترے
اوہ گڈ۔۔۔ انفیکٹ کانگریجولیشنز۔۔۔۔۔
تھینکس۔۔۔ وہ بے دلی سے بولی۔۔۔
یہ تو خوشی کی خبر ہے نا ایمان پھر اتنی بجھی بجھی سی کیوں ہو۔۔۔ وہ اسکا بجھا بجھا انداز دیکھ الجھا
خان پلیز کیا آپ اپنے مصروف ترین شیڈیول سے تھوڑا سا وقت نکال سکتے ہیں۔۔۔۔ ہماری شادی کے بعد میرے خاندان میں پہلا فنگشن ہے۔۔۔ آپکی شمولیت لازمی ہے۔۔۔ ورنہ بہت باتیں بنیں گی۔۔۔ پورا خاندان اکھٹا ہوگا۔۔۔ وہ جھجھکتی ہوئی منمنائی۔۔۔
شامیر مسکرا دیا۔۔۔ بس اتنی سی بات۔۔ جناب آپکے لئے تو جان بھی حاضر ہے۔۔۔
آج کل خان کے بدلتے موڈ کے باعث خان کی ایسی باتیں ہمیشہ ہی اسکا دل ڈھرکا جاتی تھیں۔۔۔۔ وہ اندر سے ہلکی پھلکی ہوگئ۔۔۔ صد شکر کے خان مان گیا۔۔۔ اب وہ بھائی کی شادی بے فکری سے انجوائے کر سکتی تھی۔۔۔
شادی کس ڈیٹ کو ہے۔۔۔ شامیر بستر پر نیم دراز ہوتا بولا۔۔۔۔۔
اس مہینے کی ستائیس اٹھائیس اور انتیس۔۔۔۔۔
تاریخ سن کر وہ یکدم خاموش ہو گیا۔۔۔ حتکہ چہرے کی مسکراہٹ تک غائب ہو گئ۔۔
ایمان نے اس کے بدلتے چہرے کے تاثرت شدت سے نوٹ کئے۔۔۔
کیا ہوا خان۔۔۔ سب خیریت ہے نا۔۔۔
ایمان ستائیس تاریخ کو عدنان بھائی اور ذوہیب بھائی کی بارات ہے۔۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ شامیر کے بتانے پر اسکا سارا جوش مانند پڑ گیا۔۔۔۔ ظاہر سی بات تھی وہ اب سگے بھائیوں کی شادی چھوڑ کر تو آنے سے رہا۔۔۔۔۔
لیکن میں پھر بھی کوشیش کروں گا۔۔۔ کے وقت کی توڑ جوڑ کر کے اسے مینج کر سکوں۔۔ کسی طرح دونوں ہی فنگشنز اٹینڈ کر سکوں۔۔۔
وہ جانتی تھی کے شامیر اب اسکا اترا چہرا دیکھ اسے تسلی دے رہا تھا۔۔۔۔
جیسے اسکے لئے اسکے بھائی کی شادی کا فنگشن اہم تھا۔۔۔ یقیناً شامیر کے لئے بھی اسکے بھائیوں کی شادی اتنی ہی اہم تھی۔۔۔ اور اسلام آباد سے لاہور کا فاصلہ اتنا بھی کم نا تھا کے وہ دونوں فنگشنز اٹینڈ کر سکتا۔۔۔
کوئی بات نہیں شامیر۔۔۔ آپ فنگشن انجوائے کریں۔۔۔ میں مینج کر لوں گی۔۔۔ وہ بے دلی سی کہتی رابطہ منقطع کر گئ۔۔۔۔
******
اللہ اللہ کر کے وہ دن بھی آ پہنچا جسکا ماں اور ایمان کو شدت سے انتظار تھا۔۔۔۔ آج حامد کی مہندی تھی۔۔۔ گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا۔۔۔ ایمان شادی سے چند دن پہلے ہی ماں کے گھر جانا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن اپنے موڈی چھوٹے نواب کے باعث نہیں جا سکی۔۔۔۔اسکا چھ ماہ کا بیٹا اس لائف سٹائل کا عادی ہو چکا تھا جو اسکے باپ نے اسے دیا تھا۔۔۔ نا وہ زیادہ گرمی برداشت کرتا اور نا ہی زیادہ رش۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے کل ماں کے گھر جا کر رکنے کی شدید خواہش کے باوجود وہ وہاں رک نا سکی۔۔۔ کیونکہ اسکے صاحبزادے نے یکدم اتنے لوگوں کو دیکھ کر رونا شروع کر دیا۔۔۔ پھر کیا ایمان کیا ہی ماں اور کیا ہی سجاد اور حامد وہ کسی سے نا سمبھلا۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے وہ محض ایک گھنٹے بعد ہی واپس اپارٹمنٹ آگئ۔۔۔
اب بھی وہ مہندی کے فنگشن کے حساب سے سبز شرارے پر سرخ لانگ شرٹ زیب تن کئے سبز اور سرخ ہی آنچل شانے پر ڈالے پھولوں کی جیولری پہنے ہلکا سا میک آپ کئے تیار شیار سی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ جبکہ سبحان شامیر خان وائٹ کرتا شلوار میں ملبوس چھوٹا سا سبز دوپٹہ گلے میں ڈالے پرام میں لیٹا سوفٹ ٹوئے سے کھیل رہا تھا۔۔
یہاں اتنے خوش ہو بے بی۔۔۔ پلیز وہاں جا کر بھی ایسے ہی رہنا۔۔۔ میرا شونا رونا مت وہاں جا کر۔۔۔ ورنہ ماما آپکے ماموں کی شادی کیسے اٹینڈ کرے گئ۔۔۔ وہ اسکے سامنے دوزانو بیٹھی اس سے یوں باتیں کر رہی تھی جیسے وہ اسکی ساری باتیں سمجھتا ہو۔۔۔ اور وہ بھی آگے سے ہاتھ اٹھاتا اپنی آواز میں اسے یوں جواب دے رہا تھا جیسے وہ اسکی ساری باتیں سمجھتا ہو۔۔۔۔
سبحان کے اسقدر ایکٹو ہونے کی وجہ بھی یہ ہی تھی کے ایمان چلتی پھرتی اس سے بہت سی باتیں کرتی اسے ہمہ وقت اپنی جانب متوجہ رکھتی تھی۔۔۔
ایمان نے اپنی اور سبحان کی تیاری سے مطمئں ہو کر سبحان کی پرام کے ساتھ دوزانو بیٹھے ہی ایک اپنی اور اسکی سیلفی لی اور پھر اپنے شہزادے کی ڈھیروں تصویروں کے ساتھ وہ تصویر بھی اسکے باپ کو سینڈ کر دی۔۔۔
لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ تصویر میلوں دور اپنے لگزری کمرے میں بھائیوں کی بارات کے لئے تیار ہوتے شامیر کے موبائل پر پہنچیں۔۔۔ بارات کا نائٹ فنگشن تھا اور بارات نکلنے کو تیار کھڑی تھی محض وہی لیٹ تھا تبھی بعجلت بال بناتے اسنے نوٹیفیکشن کی آواز پر واٹس ایپ کھولا اور سامنے ان تصویروں میں اسکی نظر ان ماں بیٹے کی مشترکہ تصویر پر گویا ٹھہر سی گئ۔۔۔ وہ لگ بھی اتنی ہی پیاری رہی تھی کے اسکی تصویر پر ٹھٹھکا جاتا۔۔۔ بے ساختہ ایک مسکراہٹ شامیر کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔
اسنے زبرداست کی ایموجی ان دونوں کی تصویر کے نیچے لگاتے اسے ری سینڈ کیا۔۔۔
****

No comments