Rah_e_haq novel 29th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 29th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
انتیسویں قسط۔۔۔
ٹھیک ہے بھائی یہ اتنا آسان نا سہی لیکن ناممکن بھی نہیں ہے۔۔۔ آپ ماشااللہ ویل سیٹلڈ ہیں۔۔۔ اچھا کما رہے ہیں۔۔۔ اپنا بزنس ہے۔۔۔ پھر کس چیز کی فکر۔۔۔
آپ کورٹ میرج کر لیں۔۔۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔۔۔ کچھ وقت کے بعد بابا خود باخود ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔۔
غلط شامیر۔۔۔ وہ آنکھیں میچ کر دقت سے سانس خارج کرتا شامیر کی بات کاٹ گیا۔۔۔۔ میں بلاشبہ بزنس کر رہا ہوں اور اچھا کما رہا ہوں۔۔۔ لیکن اسکے باوجود یہ ایک حقیقت ہے جس سے انحراف ممکن نہیں کے بزنس بابا کا ہی ہے۔۔۔ ٹھیک ہے ہم وراثتی حق رکھتے ہیں۔۔۔ لیکن جہاں بابا بہت اچھے ہیں وہاں اپنی روایات اور اونچے شملے کے معاملے میں بہت کٹر بھی ہیں۔۔۔
رہ گئ بات کورٹ میرج کی۔۔۔ تو میں وہ بھی کر ڈالوں اگر وہ مانے تو۔۔۔۔ میں ایک دنیا سے لڑ جاوں گا اگر وہ ہاں کہے تو۔۔۔ عدنان کے لہجے میں تھکن اترنے لگی۔۔۔
مطلب۔۔۔ شامیر چونکا۔۔۔
مطلب یہ کہ وہ کہتی ہے کے اسکے سفید پوش باپ نے پوری زندگی سفید پوشی میں گزارتے محض عزت ہی کمائی ہے اور عزت کے معاملے میں وہ کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتی۔۔۔ اگر وہ یوں تنہا میرے ساتھ جا کر کورٹ میرج کرتی ہے تو اسکا باپ یہ ذلت سہہ نہیں پائے گا۔۔۔ ۔محبت پر وہ عزت کو زیادہ مقدم جانتی ہے ۔۔ بقول اسکے اگر باعزت طریقے سے میرے بڑے اسکا رشتہ مانگنے اسکے باپ کے پاس آتے ہیں تو وہ گارنٹی دیتی ہے کہ اسکی جانب سے انکار نہیں ہوگا۔۔۔ ورنہ اسکے علاوہ کوئی دوسرا چور راستہ اسے منظور نہیں۔۔۔ عدنان نے انگلیوں کی پوروں سے اپنا دکھتا سر دابا۔۔۔
شامیر خاموش رہ گیا۔۔۔ گویا بولنے کو کچھ بچا ہی نا تھا۔۔۔
جس راز پر اللہ نے ہی پردہ ڈال دیا۔۔۔ پھر ہم کون ہوتے ہیں اسے افشاں کرنے والے۔۔۔
مجھے میرا بھرم سب سے زیادہ عزیز ہے۔۔۔ سب سے عزیز۔۔۔ ہوا کے دوش پر آوازیں اسکے کانوں سے ٹکرائیں تو وہ گہرا سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔
میں دعاگو ہوں آپ کے لئے بھائی۔۔۔ کے بابا ماں جائیں۔۔۔ باقی ماں آپکے لئے بہت پریشان ہیں۔۔۔ناراضگی گلہ شکوہ سب بابا سے۔۔۔ لحاظہ ماں سے مل آئیے گا۔۔۔ وہ رسٹ واچ ر نظر ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ اسکی فلائٹ کا وقت ہو رہا تھا۔۔۔
Wish you best of luck shameer...
میں پریقین ہوں کے تمہاری کل کی فائنل میٹنگ بھی بہت اچھی جائے گی۔۔ بھائی نے آگے بڑھتے اسے گلے سے لگایا تو وہ مسکرا دیا۔۔۔
*****
ایمان ریڈ بلیک اور سفید کمبینیشن کی لمبے چاک والی کھلی سی قمیض زیب تن کئے ساتھ کیپری پہنے ہوئے تھی۔۔۔ سر پر ہم رنگ آنچل جما رکھا تھا۔۔۔ چہرے پر ہلکا پھلکا میک آپ اور لائٹ سی جیولری پہنے اسکی تیاری مکمل تھی۔۔۔۔ اسنے جھک کر میز سے اپنا ہینڈ بیگ اٹھاتے اس میں موبائل رکھا۔۔۔
جبکہ ننھا سبحان نیوی بلو کاٹن کی نیکر شرٹ میں ملبوس سر پر باریک کیپ پہنے ہوئے ماں کی گود میں تھا۔۔۔ اس رنگ میں اسکی رنگت مزید دمک رہی تھی۔۔۔
ایمان نے آیت الکرسی پڑھ کر بیٹے پر پھونکی اور جھک کر اسکے کھلکھلاتے چہرے کا بوسہ لیا۔۔۔۔
ماں اوبر آگئ۔۔۔ ایمان کے کہنے پر ماں اٹھ کھڑی ہوئی تو ایمان نے سبحان کو بے بی باسکٹ میں ڈالتے باسکٹ کا ہینڈل تھاما اور ہینڈ بیگ اٹھاتی ماں کے ساتھ اپارٹمنٹ سے نکل آئی۔۔۔
****
ایمان یہ ہی ایڈریس دیا تھا نا حامد نے۔۔۔۔ ماں اجنبی نگاہوں سے اس متوسط درجے کے علاقے کو دیکھتی گویا ہوئیں جہاں مکان کسی ڈبی کی مانند ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔۔۔ سامنے دھول اڑاتی سڑک دور تک جا رہی تھی۔۔۔ آگے گلیوں کا سفر انہیں پیدل عبور کرنا تھا۔۔۔
جی ماں ایڈریس تو یہ ہی ہے۔۔۔ چلیں مزید کسی سے پوچھ لیتے ہیں۔۔۔ وہ ہاتھ میں تھامی پرچی پر ایڈریس کی جانب دیکھتی آگے بڑھی۔۔۔ پھر ایک راہ گیر سے پوچھنے پر انہیں گھر کا پتہ بھی چل گیا۔۔۔۔
دروازہ لڑکی کی بڑی بہن نے کھولا تھا۔۔۔۔۔ دو بہنیں تھیں جو باپ کے ساتھ رہتی تھیں۔۔۔ انکی ماں کا چند برس پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا۔۔۔
چھوٹا سا صاف ستھرا گھر تھا۔۔۔ عینا نگارش کی چھوٹی بہن تھی۔۔۔ جو انہیں ڈرائینگ روم میں لا کر بیٹھاتی اب الکھی الجھی سی ان سے انکے آنے کا مقصد پوچھنا چاہ رہی تھی جو دیکھنے سے تو اچھے گھرانے کی معلوم ہوتی تھیں لیکن عینا انہیں جانتی نا تھی۔۔۔
بیٹا آپ کسی بڑے کو بلا لائیں ہمیں ان سے کام ہے۔۔ ماں کے سبھآو سے کہنے پر وہ الجھ گئ۔۔۔
ماں جی میری ایک بڑی بہن ہے جو ابھی سو رہی ہے جبکہ ابو ابھی گھر نہیں۔۔۔۔۔وہ شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔۔
ماں کو حامد کی غفلت پر تاو آیا۔۔۔ کم از کم انہیں یہاں آنے سے پہلے نگارش کو آگاہ کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔ یا وہ خود ہی نگارش کو انکی آمد کا بتا دیتا۔۔۔
وہ کب تک آئیں گے۔۔۔۔ ایمان نے بے بی باسکٹ میز پر رکھتے سبحان کو گود میں اٹھایا۔۔۔
وہ ویسے تو دوپہر کا کھانا کھانے گھر آتے ہیں۔۔۔ شاید کچھ دیر تک آ جائیں۔۔۔
عینا بیٹا گلی کا دروازہ کیوں کھلا ہے۔۔۔ دفعتاً باہر سے ایک روبدار آواز ابھری۔۔۔
لیں آگے بابا۔۔۔ عینا چونک کر پلٹی اور سرعت سے باہر نکل گئ۔۔۔ بابا آپ سے ملنے مہمان آئے ہیں۔۔۔ وہ باپ کو مہمانوں کی آمد کا بتاتی خود نگارش کو اٹھانے چلے گئ۔۔۔
بابا بھی الجھتے ہوئے ڈرائینگ روم میں داخل ہوئے کے بھلا انکے کونسے مہمان آگئے
ماں نے بابا کے ساتھ ابتدائی سلام دعا کے بعد حامد کے حوالے سے اپنا تعارف بیان کرتے بہت سبھاو سے اپنے آنے کا مقصد بیاں کیا۔۔۔۔
آپ پلیز اپنی ہر طرح کی تسلی کر لیں۔۔۔ نگارش بیٹی حامد کو جانتی ہے۔۔۔ مزید آپ آئیں ہمارے گھر پھر سوچ سمجھ کر جواب دیں۔۔۔۔
بابا تو گھر بیٹھے بیٹھائے بیٹی کے رشتے پر خاموش رہ گئے کہ دونوں جوان بیٹیوں کی فکر تو انہیں بھی تھی۔۔۔ باقی اللہ مسبب الاسباب تھا۔۔۔
دفعتاً نگارش جھجھکتی ہوئی ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی اور اجنبی نگاہوں سے انہیں دیکھتی ان سے سلام دعا کرنے لگی۔۔۔
ایمان نے اسے نگاہ بڑھ کر دیکھا ۔۔۔ سرخ و سپید رنگت پر آنکھوں میں موجود الجھن اور شرم و حیا۔۔۔ وہ بے ساختہ بھائی کی چوائس کی قائل ہوئی۔۔۔۔ لڑکی واقع شرم و حیا کا پیکر تھی.
نینا بیٹا کوئی حامد صاحب آپکے ساتھ آفس میں کام کرتے ہیں۔۔۔ بابا براہ راست بیٹی سے مخاطب ہوئے۔۔۔
جی بابا حامد سر میرے سینئر ہیں۔۔۔ وہ مزید الجھی۔۔۔
یہ انکی والدہ اور بہن ہیں۔۔۔ اب کے بابا نے انکا کلئیر تعارف کروایا۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ کیسے آنا ہوا آنٹی۔۔۔ ویسے مجھے تو سر نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔۔۔۔
وہ بہت میٹھا بولتی تھی۔۔۔ نرم لہجہ سیدھا دل پر اثر کرتا تھا۔۔۔ ایمان تو مسلسل یک ٹک اسے ہی دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
بیٹا ہم جس مقصد سے آئے ہیں وہ عرضی آپ کے بابا کے سامنے پیش کر چکے ہیں۔۔۔ اب اگر تمہارے بابا ہماری عرضی پر غور کریں تو انشااللہ ہم بہت جلد تمہیں بیٹی بنا کر حامد کے سنگ رخصت کرواکر لے جائیں گے۔۔۔
ماں کے کہنے پر اسنے بدک کر انہیں دیکھا۔۔ اور یکدم ہی اسکے چہرے پر حیا کے اتنے رنگ ابھرے اور آنکھیں بار حیا سے یوں جھکی کے ایمان بے ساختہ مسکرا دی۔۔۔۔
دفعتا عینا چائے اور لوازمات سے بھری ٹرے لئے اندر داخل ہوئی تو نگارش موقع پاتے ہی معذرت کرتی وہاں سے فرار ہوگئ۔۔
نینا سے اس بارے میں رائے لے کر پھر کسی دن چکر لگاتے ہیں آپکی طرف بہن جی۔۔۔ پھر آگے دیکھیں گے اس معاملے کو۔۔۔ بابا کے سبھاو سے کہنے پر ماں نے مسکراتے ہوئے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
****
لڑکی تو ہیرا ہے ہیرا۔۔۔ بس میرا تو دل وہیں کہیں اٹک گیا۔۔۔ وہ بولتی کتنا پیارا اور میٹھا ہے۔۔۔ بس میں نے تو سوچ لیا۔۔۔ میرے حامد کے ساتھ وہی جچے گی۔۔۔۔
ماں جب سے واپس آئی تھی اسی کی تعریفوں میں رطب اللسان تھی۔۔۔۔
اے ایمان یہ مجھے پکڑاو۔۔۔ اسے میں سلاتی ہوں۔۔۔ تم حامد کو فون کرو کے آفس سے سیدھا یہیں آئے۔۔۔ ماں نے اس سے سبحان تھاما تو وہ موبائل لینے باہر چلی گئ۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد حامد آفس سے سیدھا وہیں آیا تھا۔۔۔
بھائی ماں کو تو ہماری چاند سی بہو بہت بھاگی ہیں۔۔۔ وہ تو بہت جلد انہیں بھابھی بنا کر گھر لانا چاہ رہی ہیں۔۔۔ اسکے آتے ہی ایمان نے اسے چھیرا تو وہ بے ساختہ مسکرا دیا۔۔۔
کہا کیا ان لوگوں نے ۔۔۔ وہ ماں کے پاس آ کر بیٹھا۔۔۔ ارے کہنا کیا تھا۔۔ پہلے ہمارے گھر آئیِں گے۔۔۔ تم سے ملیں گے۔۔۔ پھر ہی بات آگے بڑھے گی نا۔۔۔
بھائی پلیز آپ نا نینا بھابھی سے کہنا کے اپنے بابا سے کہیں جلد از جلد ہمیں ہاں کہہ دیں تا کے ہم پھر۔۔۔
حامد کی زبردست گھوری پر یکدم اسکی زبان کو بریک لگی۔۔۔
کیا ہے بھائی۔۔۔ آپکے آفس میں تو ہوتی ہیں وہ۔۔ آپ ان سے اتنا سا نہیں کہہ سکتے۔۔۔۔ اسنے منہ بسورا۔۔۔
ایمان گڑیا۔۔۔ وہ ہوتی میرے آفس میں ہی ہے۔۔ مگر اتنی فرینکنس نہیں اسکے ساتھ کے اسے یہ سب جا کر بولوں۔۔۔ اور جس نیچر کی وہ بندی ہے میرے خیال سے حتمی فیصلہ وہ اپنے بابا پر ہی چھوڑے گی۔۔۔ اب دیکھیں کیا بنتا ہے اسکے بابا کو تمہارا بھائی پسند آتا ہے یا نہیں۔۔ تم جاو میرے لئے چائے بنا کر لاو۔۔۔ حامد نے مسکرا کر کہتے اسکے سر پر چیت رسید کی تو وہ منہ بسورتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
*****
تقریباً ایک ہفتے بعد شامیر کی دبئ سے واپسی ہوئی تھی۔۔۔ وہ اپنا تمام پیپر ورک نبٹا کر آیا تھا۔۔۔ لیکن گھر واپسی پر اسے چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔۔۔ گھر میں عدنان بھائی اور ذوہیب بھائی کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں۔۔۔ بابا کے دوست کی بیٹی کے ساتھ عدنان بھائی کی شادی فکس ہوگئ تھی۔۔۔ چند دنوں میں شادی کی تاریخ رکھی جانے والی تھی۔۔۔ وہ الجھ الجھ گیا۔۔۔ کہیں تو ذوہیب بھائی محاز سے ہلنے کو تیار نا تھے۔۔۔ کہیں اسقدر پسپائی۔۔۔ سمجھ سے باہر تھا سارا معاملہ۔۔۔
امل سنو۔۔۔ اسنے پاس سے گزرتی امل کو آواز دی۔۔۔ جی بھائی۔۔۔ وہ سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے رکی۔۔۔۔
یہ شادی کا کیا چکر ہے۔۔۔ عدنان بھائی مان گے کیا۔۔۔۔ دل میں کہیں خدشہ تھا کے بابا یہ سب زبردستی کر رہے ہیں۔۔۔
جی بھائی ۔۔۔ عدنان بھائی کے اس رشتے کے لئے حامی بھرنے پر ہی بابا نے یہ رشتہ فکس کیا ہے۔۔۔۔
شامیر جتنا الجھتا اتنا کم تھا۔۔۔ وہ بھائی سے ملنا چاہتا تھا۔۔۔ ابھی اسی وقت۔۔۔
بھائی ہیں کہاں۔۔۔ کچھ سوچتا ہوا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔ وہ تو آفس ہیں۔۔۔
وھاٹ۔۔۔ یہ بات ہضم کرنا مشکل تھی۔۔۔ اسکے اندازے کے مطابق انہیں کم از کم احتجاج تو کرنا چاہیے تھا۔۔۔
اور الجھا الجھا سا گھر سے نکلتا آفس کی جانب بڑھا۔۔۔ بھیا اپنے آفس میں نا تھے بلکہ کوئی میٹنگ اٹینڈ کر رہے تھے۔۔ وہ انکے انتظار میں بھائی کے ہی آفس میں بیٹھ گیا۔۔۔
کچھ دیر بعد عدنان بھائی اپنی اسسٹینٹ کے ساتھ آج کی میٹنگ کے اہم پوائنٹس ڈسکس کرتے آفس میں داخل ہوئے اور سامنے شامیر کو بیٹھے دیکھ کھل اٹھے۔۔۔
انہوں نے وہیں سیکریٹری سے فائل تھامتے اسے واپس بھیجا اور خود خوشدلی سے اسکی جانب بڑھتے اس سے گلے ملے۔۔۔ وہ کتنی ہی دیر بھائی کے مسکراتے چہرے کو دیکھتا رہا۔۔۔ کیا اس مسکراہٹ کے پیچھے کوئی درد تھا۔۔۔۔
بھائی یہ سب کیا ہے یار۔۔ گھر میں آپکی شادی کی تیاریاں۔۔۔ وہ معتجب سا اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
آپ نے اتنی جلدی ہار مان لی۔۔۔ اتنی جلدی۔۔۔ یا وہ آپکی محبت تھی ہی نہیں۔۔۔ شامیر کی آواز میں ملال اترا۔۔۔
عدنان گہری سانس خارج کرتا ڈھنے کے انداز میں کرسی پر بیٹھا۔۔۔ اب چہرے سے وہ مسراہٹ غائب تھی اور مسکراہٹ کے پیچھے کا کرب واضح ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔
بھائی یار حوصلہ تو کریں۔۔۔ ہم مل کر بابا سے بات کریں گے۔۔۔ انہیں منا لیں گے یار۔۔۔ یہ ہماری زندگی ہے۔۔۔ وہ ان کے سامنے دوزانو بیٹھتا انکے ہاتھ تھام گیا۔۔۔۔
کوئی فائدہ نہیں شامیر۔۔۔ کوئی فائدہ نہیں۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے میں ایسے ہی اپنی محبت سے دستبردار ہو گیا ہوں۔۔۔
میں کبھی پیچھے نا ہٹتا اگر اسکی آنکھوں میں آنسو نا دیکھتا تو۔۔۔
اسنے مجھے میری ہی محبت کا واسطہ دے کر میرے قدموں میں بیڑیاں ڈال دیں۔۔۔
ناجانے بابا نے کیا کیا انکے ساتھ ۔۔۔ کیونکہ میں جانتا ہوں بابا سکون سے نہیں بیٹھ سکتے ۔۔۔ انہیں ہار قبول ہی نہیں۔۔۔ اور ہمارے بیچ سٹیٹس ڈفرینس کو انہوں نے اپنی ضد ہی بنا لیا ہے۔۔۔
وہ یہاں آئی تھی میرے آفس میں ۔۔۔ یہیں اسی جگہ وہ میرے سامنے ہاتھ جوڑے زارو قطار رو رہی تھی۔۔۔ وہ مجھے خود سے دور جانے کو بول رہی تھی۔۔۔
محبت اور عزت میں سے عزت اسکی پہلی ترجیح تھی شامیر۔۔۔
اسنے کہا کہ اگر میں اسے اپنی فیملی میں عزت نہیں دلوا سکتا تو میں چلا جاوں اسکی زندگی سے۔۔۔ اسکی زندگی پہلے ہی بہت مشکل ہے میں اسے مزید مشکل نا بناوں۔۔۔
اسنے کہا کے وہ سادہ سی بندی ہے اور وہ سادہ سی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔۔۔ جہاں عزت سے سر اٹھا کر جی سکے۔۔۔ اور میرے ساتھ سے اسے محبت تو ملے گی لیکن عزت نہیں۔۔۔ اور شاید بہت حد تک یہ بات درست ہے کے میں ڈھنکے کی چوٹ پر اس سے نکاح کر کے اسے اپنی زندگی میں شامل تو کر سکتا ہوں لیکن گھر والوں کو اسکی عزت کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا ۔۔۔
اس لئے اسنے مجھے میری محبت کا واسطہ دیا کے اگر میں اس سے سچی محبت کرتا ہوں تو اپنی راہیں جدا کرتا وہیں شادی کرلوں جہاں بابا چاہتے ہیں۔۔۔
وہ گہری گہری سانسیں بھرتا خود کو کمپوز کر رہا تھا۔۔۔ ناجانے وہ اپنے دل میں کتنا کرب چھپائے بیٹھا تھا جبکہ شامیر گم صم بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔۔۔ دل سے ایک ہوک سی اٹھ رہی تھی۔۔۔ ایک ننھی سی شبیہہ نگاہوں کے سامنے ابھری۔۔۔
تو کیا آپ نے پتہ لگوانے کی کوشیش نہیں کی کے بابا نے ایسا کیا کیا ہے۔۔۔ بے چینی شامیر کے انگ انگ میں سرائیت کرنے لگی تھی۔۔۔
کروایا تھا پتہ۔۔۔ اسنے لب بھینچتے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
کیا۔۔۔ شامیر چونکا۔۔۔
انہوں نے اسکے بابا کی ورک پلیس پر ہنگامہ کرواتے انہیں کافی ذلیل کروایا تھا۔۔۔ اور سچی بات یہ ہے کے میری خاموشی کے پیچھے بھی یہ ہی مقصد ہے کے میں چاہتا ہوں یہ بات یہیں تھپ جائے۔۔۔ دوبارہ ایسے کسی ہنگامے میں اسکا نام نا آئے وہ بھی اس صورت جب اسکا نام میرے نام کے ساتھ بھی نہیں جڑ رہا۔۔۔ ورنہ اس معصوم کے لئے مشکلات بہت بڑھ جائیں گی۔۔۔ اس لئے میں نے خاموشی اختیار کر لی کے انکی سالوں کی بنائی ساکھ پر انکی بیٹی کے حوالے سے آنچ نا آئے۔۔۔
کیونکہ میں اپنے باپ کو بہت اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔ ہار انہیں قبول نہیں۔۔۔ اور میں کسی کی پاکدامنی کو محض اپنی اور بابا کی ضد کی نظر نہیں کر سکتا۔۔۔
ہاں اگر وہ میرا ساتھ دیتی تو شاید معاملات اور ہوتے۔۔۔ عدنان بھیا نے اپنی نم آنکھیں مسلیں۔۔۔
شامیر کے اندر پکڑ ڈھکر شروع ہوگئ تھی۔۔۔ عدنان بھائی بابا کی سب سے بڑی اولاد تھے۔۔۔ انکے دائیں بازو ۔۔۔ جن سے مشاورت کے بغیر انکا کام نا چلتا تھا۔۔۔۔۔ جب وہ اپنے اسے بیٹے کو اسقدر بے بس اور مجبور کر کے اپنی منوا سکتے تھے تو پھر شامیر خان کیا چیز تھا۔۔۔
اگر جو اسکی باپ کے سامنے سچائی سامنے آ جاتی تو۔۔۔ اندر کہیں دل نے زور سے کروٹ بدلی۔۔۔
نہیں۔۔۔ میں اس معصوم کو اپنی وجہ سے مزید کسی مصیبت میں نہیں ڈال سکتا جسکی زندگی میں نے پہلے ہی بہت مشکل بنا دی تھی۔۔
نو نیور۔۔۔ ہاں میں اسے اور اپنے بچے کو پوری دنیا سے چھپا لوں گا۔۔۔ لیکن کبھی اسکے سٹیٹس کو اسکے اور اپنے درمیان نہیں آنے دوں گا۔۔۔۔ میرا باپ کبھی میرے اس راز کو نہیں پا سکے گا۔۔۔ وہ ایمان کی مصومیت اور اپنے بچے کے بچپن کو کسی ضد کی نظر نہیں ہونے دے گا۔۔۔ اندر کی گھٹن بڑھنے لگی تو وہ وہاں سے نکل آیا۔۔۔
پارکنگ تک آتے آتے وہ وہی نمبر ملا چکا تھا جہاں اسکا سکھ چین سکون سب کچھ تھا۔۔۔
*****

No comments