28th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 28th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
اٹھائیسویں قسط
شامیر خان سارے انتظامات دیکھ کر اپنے زیر نگرانی سب غریبوں کو کھانا کھلا کر ان میں کپڑے بانٹ کر واپس اپارٹمنٹ آیا۔۔۔۔ اس سب میں اسے خاصی دیر ہوگئ تھی۔۔ وہ اس وقت سفید کلف لگے کرتا شلوار میں ملبوس تھا جس میں اسکی دراز قد و قامت مزید نمایاں ہو رہی تھی۔۔۔ صبح کی نسبت وہ اب فریش اور نکھرا نکھرا سا تھا۔۔۔ چہرے پر ایک مستقل مسکراہٹ گویا چسپاں ہو گئ تھی جو اسکی وجاہت میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔۔۔۔ کچھ وقت کے بعد سب لوگ واپس چلے گئے۔۔۔ محض ماں ہی تھیں جو نورین کے ساتھ کچن میں ایمان کے پرہیزی کھانے کے ساتھ ساتھ شامیر کے لئے کھانے پر اہتمام کروا رہی تھیں۔۔۔
سب کے جانے کے بعد وہ فرصت سے قدم قدم چلتا کمرے میں آیا۔۔۔ جہاں ایماں بستر پر تکیوں کے سہارے بیٹھی تھی۔۔۔ گود میں ننھا سبحان تھا جو سو چکا تھا۔۔۔ ایمان نے اسے فیڈ کروانے کے بعد اسکا منہ صاف کیا اور خان کو اندر آتا دیکھ مسکرا کر سوئے ہوئے سبحان کو بستر پر لٹاتے اس پر لحاف دیا۔۔۔
شامیر اسکے پاس ہی کرسی کھینچتا آ بیٹھا۔۔۔۔
کیسی ہو ایمان۔۔۔ اسنے ایمان کا کومل ہاتھ اپنے مضبوط بھاری مردانہ ہاتھ میں تھاما۔۔۔۔
اب تو کافی بہتر ہوں خان۔۔۔ وہ سادگی سے مسکرا دی۔۔۔۔ خان کتنی ہی دیر خاموش نگاہوں سے اس معصوم بے ریا چہرے کو دیکھتا رہا ۔۔۔ پھر اسنے ہاتھوں کے پیالے میں اسکا چہرا بھرتے اسکے ماتھے پر مہر محبت ثبت کی تو ایمان جہاں کی تہاں رہ گئ۔ ۔۔ دل ایک دم بھر آیا۔۔۔۔۔۔
Thanks for coming into my life sweat heart & thanks for completing my life...
وہ اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکرائے اعتراف کرتا اسے سن کر گیا۔۔۔۔ ایمان کو لگا وہ کبھی ہل تک نا پائے گی۔۔۔
بہت زیادتی کی ہے میں نے تمہارے ساتھ ایمان۔۔۔ بہت زیادہ۔۔۔ کیا مجھے میرے کردہ گناہوں کی معافی مل سکتی ہے۔۔۔ اسکی آواز بھرائی تھی۔۔۔ ہمہ وقت انا کو بلند رکھنے والا شامیر ناجانے کس ضبط سے اسکے سامنے پسپائی اختیار کر رہا تھا۔۔۔ اس سب کے پیچھے کونسا جذبہ کارفرما تھا جو وہ اس لڑکی کے سامنے بے بس ہونے لگا تھا۔۔۔ وہ خود نا جانتا تھا۔۔۔
اور ایمان اسکا حوصلہ بس یہیں تک تھا۔۔۔۔ وہ اسکے سینے ہر سر رکھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ناجانے اپنی کس کس محرومی پر۔۔۔
میں نے غلط کیا ایمان۔۔۔ خدا نے اگر تمہاری خواہش میرے دل میں ڈالی تھی تو تمہیں حاصل کرنے کا میرا طریقہ بہت غلط تھا۔۔۔ میں نے جو کیا وہ غلط کیا۔۔۔ لیکن مجھے یہ قبول کرنے میں کوئی آر نہیں کے اگر تم میری زندگی میں نا آتی تو شاید شامیر خان کبھی ایک خودپرست انسان سے ذمہ دار انسان نا بن پاتا۔۔۔۔
میں جانتا ہوں کے تمہاری پوری فیملی تمہیں غلط سمجھتی رہی ہے۔۔۔ ان سب کی نگاہوں میں تمہارا ایک بہت غلط امیج بنا۔۔۔اس لئے میں سب کے سامنے اس بات کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کے تم کہیں بھی غلط نا تھی۔۔۔ غلطی سراسر میری تھی۔۔۔ بلکہ میں نے تمہیں بے بس اور مجبور ہی اتنا کر ڈالا تھا کے تمہارے پاس سوائے نکاح کے کوئی دوسری چوائس ہی نا بچی تھی۔۔ اسنے انگوٹھے سے ناک رگڑتے گیلی سانس اندر کھینچی تو ایمان نم آنکھیں رگڑتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
ہرگز نہیں خان۔۔۔ وہ شدت سے انکاری ہوئی۔۔۔ تمہارا اس سب میں کوئی قصور نہیں میں یہ بات کلئیر کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ خان نے اسے وضاحت دی۔۔۔ شاید وہ غلط سمجھی تھی تبھی انکاری تھی۔۔۔۔۔
خان کچھ سچائیاں پھولوں کی مانند ہوتی ہیں جو سامنے آتی ہیں تو سب کو مہکا جاتی ہیں۔۔۔ جبکہ کچھ سچائیاں کارپٹ کے نیچے چھپے گند کی مانند ہوتی ہیں جو سامنے آئیں تو کراہیت اور نفرت سے منہ موڑ لئے جاتے ہیں ۔۔۔
اور مجھے اپنا بھرم سب سے زیادہ عزیز ہے خان۔۔۔ سب سے زیادہ عزیز۔۔۔۔۔ میرے گھر کی کہانی زبان زد عام ہو مجھے یہ قطعاً قطعاًً منظور نہیں۔۔۔۔ میرے گھر کی بات میرے گھر کی چار دیواری سے ہرگز باہر نہیں جانی چاہیے۔۔۔۔
مجھے نہیں کروانا سب کچھ کلئیر۔۔۔ جب ایک راز پر اللہ نے ہی پردہ ڈال دیا تو ہم کیوں اسے فاش کریں۔۔۔ اور ویسے بھی آپکو اپنی کوتاہیوں کا احساس ہے آپ اس سب کا میرے سامنے اعتراف کر چکے ۔۔۔ یہ کافی ہے۔۔۔ میرے بھائی ویسے بھی اس فیز سے نکل کر آگے بڑھ چکے اور مجھے معاف بھی کر چکے ہیں۔۔۔۔۔ پھر مجھے ایسے میں اپنے شوہر کی قدر انکی نگاہوں میں گھٹانے کا کوئی شوق نہیں۔۔۔
شامیر خان اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ اسے نا صرف اپنی عزت کا خیال تھا بلکہ اسے شوہر کی عزت بھی عزیز تھی۔۔۔ میں صرف آپکے ساتھ ایک پرسکون زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔۔۔ میرا گھر میرے بچے اور میرا شوہر۔۔۔ اور بہت سا سکون۔۔۔ اس سے زیادہ کی چاہ نہیں۔۔۔ اور گڑھے مردے اکھاڑے نہیں جاتے بلکہ ان پر بہت سی مٹی ڈال کر انہیں دفن کر دیا جاتا ہے۔۔۔
اور میں بھی اپنے ماضی کو دفن کر چکی ہوں ۔۔۔۔
ایک بات کہوں۔۔۔ وہ اداسی سے گویا ہوا۔۔۔
ہمممم۔۔۔
تمہیں ڈیزرو نہیں کرتا تھا ایمان۔۔۔ پتہ نہیں اللہ نے تمہیں میری کس نیکی کے انعام میں مجھے عطا کر دیا۔۔۔ وہ ہولے سے مسکرایا۔۔۔۔
ایمان بھی مسکرا دی۔۔۔ وہ اسے بتا نا پائی کے اسکے اس اعتراف نے اسے کیسے اندر سے ہلکا پھلکا کرتے سرخرو کر دیا تھا۔۔۔
*****
ایمان یہ کتنا پیارا ہے نا۔۔۔۔ شامیر خان سبحان کے پاس اونڈھے منہ لیٹا اسکے ننھے ننھے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے اس سے کھیل رہا تھا۔۔۔ جبکہ ایمان مسکرا کر انہیں دیکھتی اردگرد سبحان کا بکھیرا سمیٹ رہی تھی۔۔۔۔
شامیر کی موجودگی میں اسے کسی چیز کی کوئی فکر نا ہوتی۔۔۔ ہر چیز وافر مقدار میں موجود تھی پھر چاہے وہ بے بی کے پیمپرز اسکا فارمولہ ملک تھا یا گھر کا راشن نیز فریج تک فروزن اشیاء سے بھری پڑی تھی۔۔۔۔ اور تو اور اسنے کل سبحان کا کمرا پھر سے ازسر نو سیٹ کروایا تھا جیسے وہ ابھی سے اپنے کمرے میں سونے کے قابل ہو۔۔۔
سبحان کھیلتا کھیلتا سو گیا تو شامیر بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
میں کل صبح چلا جاوں گا ایمان۔۔۔ وہ بات کرتے دیوار گیر الماری کی جانب بڑھا۔۔۔ بیڈ شیٹ کی شکنیں درست کرتی ایمان کے ہاتھ زرا کی زرا تھمے۔۔۔ پھر سے وہ اپنے کام میں مشغول ہوگی۔۔۔
جی بہتر ۔۔۔ بیڈ شیٹ درست کر کے وہ وہیں بیڈ کراون سے ٹیک لگاتی بیٹھ گئ جب وہ ہاتھ میں ایک خاکی لفافہ تھامے قدم قدم چلتا اسکے قریب آیا اور وہیں اسکے پاس براجماں ہوگیا۔۔۔
دیکھو میری بات غور سے سننا ایمان۔۔۔ اور اسے سمجھنے کی کوشیش کرنا۔۔۔ کل صبح میں چلا جاوں گا۔۔ لیکن کوشیش کروں گا کے جلد واپس آ سکوں۔۔ یہ اس اپارٹمنٹ بلڈنگ کے قریب ترین بننے والے شاپنگ مال کی ایک شاپ کے پیپرز ہیں۔۔۔ یہ شاپ میں نے سبحان کے نام پر اس کے لئے خریدی ہے۔۔۔ شامیر نے وہ خاکی لفافہ ایمان کی گود میں رکھا تو وہ حیرت سے اسکی باتیں سنتی اس لفافے کو الٹ پلٹ کر کے دیکھنے لگی۔۔۔
تم بہت معصوم ہو ایمان اور میری دنیا کے لوگ بہت ظالم ہیں۔۔۔ زندگی بہت غیر متوقع ہے ایمان اس لئے اگر مجھے کچھ ہو جائے یا میں دنیا کی بھیڑ میں کہیں کھو جاوں تو کبھی اسکا حق مانگنے میری ظالم دنیا میں مت جاتا۔۔۔ اسنے سبحان کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں خان۔۔۔ وہ دہل اٹھی۔۔۔
بی پریکٹیکل ایمان۔۔۔ مجھے غور سے سنو۔۔۔ یہ دنیا بہت ظالم ہے ۔۔۔ یہاں کچھ بھی متوقع ہے۔۔۔ اس لئے میں اپنے بچوں کے لئے انکی دنیا میں ہی اتنا انتظام کر دینا چاہتا ہوں کے کبھی انہیں میری غیر موجودگی میں بھی کسی چیز کے لئے میری اس دوسری دنیا کی جانب دیکھنا نا پڑے۔۔۔
جب میری دونوں دنیا ہی الگ الگ ہیں تو میرے بچوں کا تمام سیٹ اپ یہیں ہونا چاہیے۔۔۔ تمہارے انڈر۔۔۔
سمجھ رہی ہو تم میری بات۔۔ میری دنیا سے میری وراثت میں سے تمہیں یا میرے بچوں کو وہاں سے کچھ نہیں ملے گا۔۔۔ اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو میرے بچوں کا سارا سیٹ اپ یہاں تمہارے پاس ہونا چاہیے ۔۔۔ تمہارے انڈر۔۔۔ جسے تم باآسانی ہینڈل کر سکو۔۔۔
جیسے میں ابھی تک اپنے باپ کے پیسے پر عیش کرتا آیا ہوں۔۔۔ بالکل ویسے ہی میرے بچوں کو کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔۔ یہ میرے پہلے پراجیکٹ کی کمائی ہے جسکی میں نے سبحان کے لئے یہ شاپ خریدی ہے۔۔۔ مستقبل میں میں اپنے بیٹے کے نام یہیں تمہارےا نڈر اتنی پڑاپڑتی بنا دوں گا کے اسے باپ کی وراثت کی جانب دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔
شامیر کیا پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ وہ محلول سی بول اٹھی۔۔۔
نہیں پیسہ سب کچھ نہیں۔۔۔ لیکن پیسے کے بنا بھی کچھ نہیں۔۔۔ ایمان گم صم رہ گئ۔۔۔ پیسے کی اہمیت سے تو وہ بھی پچھلے دنوں آگاہ ہوگئ تھی جب ہاتھ میں کچھ نا رہا تھا۔۔۔ اس لئے میں جو کر رہا ہوں وہ کرنے دو کیونکہ یہ کسی حکمت عملی کے تحت ہی کر رہا ہوں۔۔۔ تا کے میرے بچوں کو کسی چیز کی کمی محسوس نا ہو۔۔۔باپ کی غیر موجودگی میں بھی نہیں۔۔۔
اگلے مہینے سے اس شاپ کا رینٹ بھی تمہیں آنا شروع ہو جائے گا۔۔۔ اب شاباش ان کاغذات کو سمبھالو۔۔۔ خان کے سمجھانے پر وہ گم صم سی سر ہاں میں ہلاتی کاغذات تھامے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
*****
میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں شامیر۔۔۔ تھے کہاں تم اب تک۔۔۔ ایسا کونسا ضروری کام آ گیا تھا جو تم اتنی اہم میٹنگ چھوڑ کر وہاں سے چلے آئے۔۔۔ بابا خان مینشن کے لاوئنج کے وسط میں کھڑے آگ بگولہ ہو رہے تھے جبکہ شامیر ڈھیٹ بنا صوفے پر سر جھکائے بیٹھا انہیں سن رہا تھا۔۔۔ ارحم نے ایک چور نگاہ کچن سے باہر ڈالی۔۔۔ اور براونیز بیک کرتی بہن کی جانب پلٹا۔۔۔ ابھی باہر مطلع صاف نہیں۔۔۔ اس لئے ہم باہر نہیں جاسکتے۔۔۔ اگر براونیز بیک ہوگئ ہیں تو مجھے یہیں دے دو۔۔۔
امل نے اسے خونخوار نگاہوں سے گھورا۔۔۔ عدنان بھائی کہاں ہیں ویسے۔۔۔ امل بھی لب چباتی ارحم کی سائیڈ سے باہر دیکھنے لگی۔۔۔ جہاں بابا غصے میں صاحبزادے کی کلاس لے رہے تھے جبکہ ماں مسلسل انکا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشیش کر رہی تھیں۔۔۔
یار بابا مجھے آپکی بات سمجھ نہیں آتی۔۔۔۔ بندہ لاپرواہ بن جائے کسی کام کو ہاتھ نا لگائے۔۔۔ عیاشی کرتا پھرے تو کوئی پوچھ گچھ نہیں۔۔۔ لگے رہو۔۔
یہ بندہ ذمہ دار بن کر ننانوے کام کر کے کہیں ایک کام کی غلطی سے ڈنڈی مار دے تو اتنا بڑا لیکچر سننے کو مل جاتا ہے۔۔۔ وہ لہجے میں کوفت لاتا کوفت زدہ سا بولا۔۔۔
بکواس بند کرو۔۔۔ تھے کہاں تم ابھی تک۔۔۔ وہ گرجے۔۔۔ پاکستان میں ہی تھا۔۔۔ ایک گیٹ ٹو گیڈر تھا۔۔۔ اس لئے اٹینڈ کرنا پڑا۔۔۔ اسنے شانے اچکاتے گیٹ ٹو گیڈر کی نوعیت بتانا ضروری نا سمجھا۔۔۔۔
اور میٹنگ کیا وہ ضروری نہین تھی۔۔۔ بس اتر گیا بزنس کا بھوت اتنی جلدی دماغ سے۔۔۔ وہ مزید برہم ہوئے۔۔۔
ہرگز نہین اترا۔۔ میٹنگ کینسل کی تھی۔۔۔ رات کی فلائٹ سے جا رہا ہوں واپس دبئ کل کو یہ میٹنگ فائل ہو جائے گی سمپل۔۔۔ اسنے لاپرواہی سے شانے اچکائے جبکہ بابا اسے تاسف سے دیکھنے کے بعد اسکی شان میں قصدے پڑھتے گھر سے نکل گئے کیونکہ انکی ضروری میٹنگ تھی۔۔۔
افف مام۔۔۔ انکے جاتے ہی شامیر دھپ سے ماں کے قریب صوفے پر گرتا انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔۔۔
کیوں تنگ کرتے ہو اپنے باپ کو شامیر۔۔۔ ماں محبت سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں۔۔۔ میں تنگ کرتا ہوں انہیں۔۔۔ اسنے پٹ سے آنکھیں کھولتے ماں کو خفگی سے دیکھا۔۔۔۔
اور نہیں تو کیا۔۔۔ پہلے کیسے زبردستی تم نے ایموشنل بلیک میلنگ کی بنیاد پر ان سے پراجیکٹ لیا۔۔۔
تو اچھے سے مکمل بھی تو کیا نا مام۔۔۔۔ وہ درمیان سے ہی انکی بات اچک گیا۔۔۔
کہاں مکمل کیا۔۔۔ فائنل میٹنگ تو کی نہیں۔۔۔ اور آج کل گھر کا ماحول تو ویسے ہی بڑا خرب ہے۔۔۔۔
اس میں کونسی نئ بات ہے مام۔۔۔ کچھ نیا بتائیں۔۔۔ دفعتاً ارحم ہاتھوں میں براونیز کی ٹرے تھامے وہیں آتا لقمہ دے گیا۔۔۔ اسکے پیچھے ہی امل تھی۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔ کیا میرے پیچھے سے گھر میں کچھ ہوا ہے۔۔۔ شامیر حیرت زدہ سا ایک جھٹکے میں اٹھ بیٹھا۔۔۔۔
بھائی آپ لیں گے براونیز۔۔۔ امل نے براونیز پلیٹ میں ڈالی۔۔۔
میں کیا پوچھ رہا ہوں۔۔ کیا بات ہوئی ہے۔۔۔ اسنے باری باری تینوں کو دیکھا۔۔۔۔ امل کی پیش کش وہ یکسر فراموش کر گیا۔۔۔۔تم نے نوٹ نہیں کیا کے جب سے تم آئے ہو عدنان تم سے نہیں ملا۔۔۔ بلآخر ماں نے ہی لب کشائی کی۔۔۔
ہاں تو بھائی مصروف ہوں گے نا۔۔ کہاں ہیں وہ۔۔۔
تمہارے بابا نے اسے اپنے دوست کی بیٹی کا پرپوزل دیا ہے۔۔۔ لیکن وہ اپنی کسی پرانی یونی فیلو میں انٹرسٹڈ ہے۔۔۔
سو۔۔۔ اس میں برائی کیا ہے۔۔۔
آپکے لئے اس میں برائی نہیں بھائی۔۔ میرے لئے بھی نہیں۔۔۔ لیکن ہمارے اونچے شملے والے باپ کے لئے ہے۔۔۔۔
ارحم تمیز سے بات کرو۔۔۔ ماں نے اسے غصے سے ڈپٹا۔۔۔
کیونکہ لڑکی کا باپ معمولی سرکاری ملازم ہے۔۔۔ اسنے گویا ماں کی بات سنی ہی نہیں۔۔ تبھی بات جاری رکھی۔۔۔۔
اور ایک معمولی سرکاری ملازم کی بیٹی ایک بزنس ٹائیکون کے گھر میں آگئ تو ہماری تو ناک کٹ جائے لگی۔۔۔ اسی لئے گھر اجکل میدان جنگ بنا ہوا ہے۔۔۔ نا عدنان بھائی پیچھے ہٹ رہے ہیں۔۔۔۔ اور ہمارے ابا حضور تو پھر ہیں ہی ابا حضور۔۔۔۔ ارحم اسے ساری بات سے آگاہ کرتا ساتھ میں براونیز سے بھی لطف اندوز ہو رہا تھا۔۔۔
اے مانو۔۔ سچ میں یار براونیز اچھی بناتی ہو تم۔۔۔۔ ایک اور دو نا۔۔۔۔ اسنے خالی پلیٹ پھر سے امل کی جناب بڑھاتے اسے مسکا لگایا۔۔۔
جبکہ شامیر کے اندر تک سناٹے اتر گئے۔۔۔۔
وہ اپنے باپ کے اونچے شملے سے باخوبی آگاہ تھا تبھی اپنی بیوی اور بچے کے بارے میں سو طرح کے تحفظات کا شکار تھا۔۔۔
بھائی ہیں کہاں ماں۔۔۔ وہ گم صم سا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
اپنا ٹھکانا اسنے بتایا ہو تو کمی کس بات کی ہے۔۔۔ ماں کا دل پہلے ہی دکھی تھا۔۔۔ لیکن وہ باخوبی جانتا تھا کے اسکا بھائی اس وقت کہاں ہو سکتا ہے۔۔۔ اسے رات دبئ جانے سے پہلے بھائی سے ملنا تھا۔۔۔
****
اور رات ائیر پورٹ جانے سے پہلے وہ اپنے فارم ہاوس آیا تھا اور توقع کے عین مطابق عدنان وہیں تھا۔۔۔
بھائی یہ کیا یار مجھ سے ملے تک نہیں۔۔۔ وہ آ کر خوشدلی سے اس سے ملا۔۔۔ وہ بھی چھوٹے بھائی کی پہلی کامیابی پر خوش تھا۔۔۔
مجھے آج ہی گھر سے آپ کے بارے میں پتہ چلا بھائی۔۔۔ میرا مشورہ آپکو یہ ہی ہے کے زندگی آپ نے گزارنی ہے لحاظہ پاوں پر وزن ڈالئے۔۔ اور اس بندی کو میری بھابھی بنا کر گھر لے آئیے۔ باقی بعد کی بعد دیکھی جائے گی۔۔۔ شامیر نے دل کی بات کہی۔۔۔ بڑا بھائی پہلا قدم اٹھاتا تو راہیں اسکے لئے خودباخود آسان ہو جاتیں۔۔۔۔ عدنان بھائی تلخی سے مسکرا دئیے۔۔۔
تمہارے خیال میں یہ اتنا ہی آسان ہے شامیر۔۔۔۔
*****

No comments