Header Ads

Rah_e_haq novel 27th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  27th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

ستائیسویں قسط۔۔۔
ماں حامد بھائی اور سجاد بھائی ہسپتال کے کاریڈور میں بیٹھے شدت سے کسی اچھی خبر کے منتظر تھے۔۔۔ ایمان کے ماں کو فون کرنے سے پہلے ہی ماں وہاں موجود تھیں۔۔۔ وہ لمحے کی تاخیر کئے بنا اسے ہسپتال لے آئی تھیں۔۔۔ وہ بہت کم عمر تھی نیز یہ اسکا پہلا ایکسپیرینس تھا لحاظہ اسکے کیس میں بہت سی پیچیدگیاں بتائی گئ تھیں۔۔۔ ماں باہر بینچ پر بیٹھیں مسلسل کسی نا کسی آیت کا ورد کر رہی تھیں۔۔۔
بھابھی کی گڑیا بھی اسی ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں ایڈمٹ تھی۔۔۔
دفعتاً کچھ دیر بعد بچے کے رونے کی باریک سی آواز ابھری تو ماں کے ساتھ ساتھ وہ دونوں بھائی بھی الرٹ ہو اٹھے۔۔۔ تبھی نرس ایک ننھا سا روئی کا گالہ لئے انکے پاس آئی۔۔۔ مبارک ہو بیٹا ہوا ہے۔۔۔ ماں کی آنکھیں تو یہ سنتے ہی اشکبار ہو اٹھیں۔۔۔
سجاد بھائی نے آگے بڑھتے اس ننھے وجود کو تھاما۔۔۔
سسٹر میری بیٹی کیسی ہے۔۔۔  ماں کی آواز آبدیدہ تھی۔۔۔
بہتر ہے۔۔۔ کچھ دیر تک انہیں روم میں شفٹ کر دیا جائے گا تب آپ اس سے مل سکتے ہیں۔۔۔ ماں کو کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔ اب وہ فرصت سے نواسے کی جانب متوجہ ہوئیں جو انکی لاڈلی بیٹی کا لخت جگر تھا۔۔۔۔
****
نڈھال سی ایمان ہسپتال کے بستر پر تکیوں کے سہارے نیم درز تھی۔۔۔ چہرا زرد ہو گیا تھا جبکہ ہاتھ پر آئی وی لائن کی مدد سے ڈرپ لگی تھی۔۔۔۔
ماں نے بے بی اسکی گود میں لٹایا تو وہ اس ننھی جان کو سینے سے لگاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
ناجانے وہ کیسے احساسات تھے۔۔۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اسکے پاس کچھ ایسا تھا جو صرف اسکا تھا۔۔ وہ مسلسل اس ننھے گالے کو پیار کر رہی تھی۔۔۔ ۔سنو۔۔۔ تمہارا باپ مجھے بہت کم کم میسر ہے۔۔۔ مگر تم میرے ہو۔۔۔ تمہیں میں صدا سینے سے لگا کر رکھوں گی۔۔۔ ایک پل کے لئے بھی خود سے دور نہیں کروں گی۔۔۔ تم میرے لئے میرے اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہو۔۔۔ وہ مسلسل اس ننھے گالے کو سینے میں بھینچے ہوئے تھے۔۔۔ آنسو تواتر سے آنکھوں سے گرتے جا رہے تھے۔۔۔
دفعتاً بے بی نے گھبرا کر زارو قطار رونا شروع کر دیا تو ماں نے آگے بڑھتے بیٹی کو دلاسہ دیتے بچے کو اپنی گود میں لیا۔۔۔
میرے خیال سے وہ اس وقت اپنے شوہر کو مس کر رہی ہے۔۔۔ بڑا ہی کوئی غیر ذمہ دار مرد ہے۔۔۔ بھلا اولاد سے بڑھ کر بھی کوئی کسی کے لئے ہوا ہے۔۔۔ اور وہ بھی پہلی اولاد۔۔۔ چچ۔۔۔
بھابھی تاسف  سے سر ہلاتی اپنی گڑیا کی جانب متوجہ ہوئیں سجاد بھائی انہیں تنبیہہً گھور کر رہ گئے جبکہ ایمان نے کن اکھیوں سے اپنے سرہانے پڑے موبائل کو دیکھا جو ہنوز خاموش تھا۔۔۔
****
خان کا سارا دن ہی بہت مصروف ترین گزرا تھا۔۔ دبئی آ کر ساری ڈسٹریکشنز خود سے کاٹ کر اپنی ساری انرجی اور محنت اس ایک پراجیکٹ پر صرف کرتے اسنے دن رات کا فرق مٹا ڈالا تھا۔۔۔ اس بیچ پاکستان میں محض اسنے ایمان سے ہی ایک دو بار بات کی تھی وہ چند منٹ کے لئے۔۔۔ اسکے علاوہ اسکا کسی سے کوئی رابطہ نا تھا۔۔۔ بھیا اور بابا سے بھی آفیشل اونلائن میٹنگز میں ہی ڈسکشنز ہو جاتیں۔۔۔۔
وہ اپنا کام تیزی سے وائنڈ آپ کر رہا تھا۔۔۔ اسے کسی بھی طرح تین ہفتوں سے پہلے پاکستان واپس پہنچنا تھا۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے کل اسکی سب سے اہم اور آخری میٹنک تھی۔۔۔ تین ہفتوں کا کام وہ دو ہفتوں میں ختم کر چکا تھا اور اپنی اس کامیابی پر وہ بے تحاشہ خوش تھا۔۔۔ 
اپنے اپارٹمنٹ جاتے ہوئے امجد نے اسے اسکا فون تھمایا جو دن بھر اسی کے پاس ہوتا تھا اور وہ محض ضرورت کی کال پر وہ اسے دیتا۔۔۔ 
آج کا دن بہت مصروفیت بھرا اور تھکا دینے والا تھا یہ ہی وجہ تھی کے وہ اب فریش ہو کر ایک پرسکون اور گہری نیند لینا چاہتا تھا۔۔ 
ابھی وہ اپارٹمنٹ میں داخل نہیں ہوا تھا جب اسکا فون بج اٹھا۔۔۔ کال پاکستان سے اسکے دوستوں کی تھی۔۔۔ وہ جھنجھلا اٹھا۔۔۔ وہ اسکا آفیشل نمبر بھی حاصل کر چکے تھے۔۔۔۔ فلحال وہ کسی ڈسٹریکشن کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔ اسی لئے اسنے بنا فون اٹھائے فون سائلینٹ پر لگا دیا۔۔۔  وہ بھی شاید ڈھیٹ ابن ڈھیٹ تھے جو کوئی نیا ایڈوینچر پلان بنا رہے تھے جس میں شامیر کو گھسیٹنا لازم تھا۔۔۔  بحرحال وہ فون کی جلتی بجھتی سکرین کو نظر انداز کرتا فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔ فریش ہو کر آیا تو سکرین ہنوز جل بجھ رہی تھی۔۔۔ وہ گہرا سانس لے کر رہ گیا۔۔۔ اسکے دوست بھی اسی کی طرح ڈھیٹ ثابت ہوئے تھے۔۔۔
لیکن وہ ڈھیٹ ابن ڈھیٹ تھا۔۔ تبھی ساری فون کالز نظر انداز کئے کمرے کی لائٹ آف کر کے بستر پر اوندھے منہ ڈھنے کی صورت لیٹا اور لمحوں میں ہوش و حواس سے غافل ہو گیا یہ جانے بنا کہ ابکی بار آنے والی کال اسکے دوستوں کی نہیں بلکہ اسکی بیوی کی تھی جسنے بہتتتتت ہمت کر کے زندگی میں پہلی مرتبہ اسے خود سے پکارا تھا۔۔۔
****
دوبارہ شامیر کی آنکھ رات کے کسی پہر پیاس کی شدت سے کھلی۔۔۔ وہ  جوتا پاوں میں اڑستا لائٹ جلا کر پانی کی غرض سے کچن کی جانب بڑھا۔۔  جب جاتے جاتے اسکی نظر موبائل پر پڑی جسکی سکرین اس وقت بے رونق اور خاموش تھی۔۔۔ وہ جھک کر موبائل بھی ساتھ ہی اٹھا لے گیا۔۔۔ ۔
کچن میں پہنچنے تک اسنے مسڈ کالز چیک کی۔۔۔ وہاں لاتعداد مس کالز تھی۔۔  اسنے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔ مگر آخری مسڈ کال پر نظر پڑتے ہی وہ ساکت  رہ گیا۔۔۔ کچن کی جانب اٹھتے قدم گویا اپنی جگہ پر فریز ہو گئے۔۔۔ وہ ایمان کی کال تھی۔۔۔
ایمان کی۔۔۔۔ یقین کرنا محال تھا۔۔۔ ایمان میں بہت سی خوبیاں تھی جو شامیر خان جیسے غیر ذمہ دار کسی کام پر کنسیسٹینٹ نا رہنے والے بگڑے رئیس زادے کو کسی
 مقنطیس کی مانند اپنی جانب کھینچتی تھیں۔۔۔ جو ایک لابالی شخص کو ذمہ داری کا مطلب سمجھاتیں اسے رفتہ رفتہ ہی سہی ٹریک پر لا رہی تھیں۔۔ جو اسکی من موجی سوچ میں ڈرار ڈال رہی تھیں۔۔۔ اور ان سب خوبیوں میں سب سے نمایاں خوبی تھی اسکا فرماں بردار ہونا۔۔۔
کنزل الایمان کی فرمابرداری اسکے دل کو بھا گئ تھی۔۔۔ یوں اور اس انداز میں کے وہ نا نا کرنے کے باوجود بھی خود کو بدل رہا تھا۔۔۔ بہت نامحسوس انداز میں مستقبل کی سوچ رکھنے لگا تھا۔۔۔ اسنے جب ایمان سے کہا تھا کے وہ پلٹ کر اسے آواز نہیں دے سکتی۔۔۔ تو اس بندی نے اسے پلٹ کر دیکھا تک نا تھا۔۔۔ جب اسنے کہا تھا کے وہ شکوے شکایات کا حق نہیں رکھتی تو وہ اپنے خول میں سمٹ گئ تھی۔۔۔ اور شامیر خان جیسے شخص کی سوچ پر ہمہ وقت سوار رہنے کے پیچھے بھی یہ ہی سب کارفرما تھا۔۔۔ کے وہ کیوں تھی اتنی فرمابردار۔۔۔ اسکے کہے کو حرف آخر ماننے والی۔۔۔ وہ شاید ایسی نا ہوتی تو شامیر خان اسکی جانب اسقدر اٹریکٹ بھی نا ہوتا۔۔۔ اور غور طلب بات بھی یہ ہی تھی کے اسکی اسقدر فرمابردار بیوی نے خود سے اس سے رابطہ کیا تھا۔۔۔ اور یہ چھوٹی بات قطعاً نا تھی۔۔۔ یقیناً کوئی بہت اہم بات تھی جو وہ اس سے رابطہ کر رہی تھی۔۔۔۔
کچن کی جانب بڑھتے اسنے تیزی سے ایمان کا نمبر ڈائل کر کے فون کان سے لگایا۔۔۔ لیکن اس بار شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔ دوسری طرف فون بند جا رہا تھا۔۔۔  اسے شدید جھنجھلاہٹ ہوئی۔۔۔ زندگی میں پہلی بار اسنے جانا کے ضرورت پڑنے پر رابطہ بحال نا ہو تو کیا احساسات ہوتے ہیں۔۔۔ وہ اب ایمان کی کیفیت سمجھ سکتا تھا۔۔۔ دل بے طرح بے چین ہونے لگا تھا۔۔  وہ بس ہر حال میں اس سے رابطہ کرنے کا خواہشمند تھا۔۔۔
جھنجھلاتے ہوئے اسنے واٹس ایپ کھولی۔۔۔ دوسرے ہاتھ سے وہ فریج کھول کر اندر سے پانی کی بوتل نکال رہا تھا۔۔۔
ایمان کے نمبر سے کئ میسجز شو ہو اٹھے۔۔۔ اسکا دل بے طرح ڈھرکا۔۔۔۔ یقیناً کوئی غیر معمولی بات تھی۔۔۔ اسنے ہاتھ میں تھامی بوتل کاونٹر ٹاپ پر رکھی اور خود پہلے میسج پر کلک کیا۔۔۔ اسکا سارا جسم کان بن گیا ۔۔۔۔۔
خان میری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔ پلیز آپ پہلی فرصت میں میرے پاس آ جائیں۔۔۔
آئی نیڈ یو۔۔۔
اس تکلیف زدہ آواز کا کرب وہ اتنی دور سے بھی محسوس کر سکتا تھا۔۔۔۔ اسکا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔  اگلا میسج خود ہی شروع ہو گیا تھا۔۔۔
میں امی اور بھائی کے ساتھ ہسپتال آ گئ ہوں خان۔۔  اینڈ یس۔۔۔ آئی مس یو آلوٹ۔۔۔ خان کے ہاتھ میں تھاما موبائل کپکپا اٹھا۔۔۔۔ گردن میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔
ایک باریک سی آواز کے ساتھ اگلا میسج شروع ہوا۔۔۔۔
کانگریجولیشنز خان۔۔۔ آواز میں نقاہت تھی۔۔۔۔  اللہ نے ہمیں بیٹے کی نعت سے نوازا ہے۔۔۔ اور وہ بہتتتت پیارا ہے۔۔۔ آپ سے بھی زیادہ۔۔۔ وہ جیسے بات کرتے مسکرائی تھی۔۔۔ مجھے کچھ دیر تک ڈسچارج مل جائے گا تو ہم گھر چلے جائیں گے۔۔۔
خان کے ہاتھ میں تھاما موبائل کپکپاتے ہاتھ سے زمین بوس ہوگیا۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹ کر پھسلا۔۔۔۔ وہ گہرے گہرے سانس بھرنے لگا۔۔۔۔۔ پھر اسنے آنکھین زور سے میچتے بالوں میں ہاتھ چلا کر خود کو کمپوز کرنا چاہا ۔۔
وہ خود ہی اپنے احساسات سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔ پھر یکدم ہوش میں آتے اسنے نیچے سے موبائل اٹھایا اور تیزی سے اس پر نمبر ڈائل کرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔
ہیلو امجد۔۔۔ ابھی پاکستان جانے کے لئے سب سے پہلی فلائٹ میں میری بکنگ کرواو۔۔۔۔ اسنے کمرے میں آتے ہی وارڈروب کے اوپر سے اپنا ہیند کیری کھینچا اور اسے بستر پر رکھتے اسکی زپ زور سے کھولی ززززررر کی آواز سے ہینڈ کیری کھل گیا۔۔۔
ہاں ہاں ۔۔۔ بالکل ابھی۔۔۔ جس بھی ائیر لائن کی مل جائے۔۔۔۔ وہ تیزی سے وارڈروب کے پٹ کھولے اندر سے اپنے کپڑے نکال کر اس میں رکھ رہا تھا۔۔۔
میٹنگ گئ بھاڑ میں یار۔۔۔ مجھے پاکستان جانا ہے۔۔۔  امجد غالباً آدھی رات کو اٹھنے کے باعث اسکی باتیں سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔
دیکھو امجد مجھے ابھی پاکستان جانا ہے۔۔۔ پیچھے تم میٹنگ کینسل کر کے چند روز آگے بڑھا دینا۔۔۔ کہہ دینا کے پیچھے کوئی ایمرجنسی ہو گئ ہے۔۔۔ جانتا ہوں کے یہ پڑاجیکٹ میرے لئے بہت اہم ہے۔۔۔ لیکن قسم خدا کی میرے بیٹے سے زیادہ اہم نہیں۔۔۔ بیٹے کے نام پر اسکے ہونٹوں پر بڑی دلکش مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔ مجھے اپنے چھوٹے خان کا استقبال کرنے جانا ہے امجد اور دنیا کی اور کوئی چیز اس سے زیادہ اہم نہیں۔۔۔ اسنے پیکنگ مکمل کرکے زپ بند کی۔۔۔ غالباً امجد کو اسکی بات سمجھ آگئ تھی تبھی سب سمجھ کر رابطہ منقطع کر گیا۔۔۔
*****
ایمان کو رات ہی ہسپتال سے ڈسچارج مل گیا تھا وہ فجر کی اذانوں سے کچھ وقت پہلے ہی گھر واپس آگئے تھے۔۔۔ ماں دونوں بھائی اور بھابھی بھی خوشی کے اس موقع پر اسکے ساتھ ہی گھر آئے تھے۔۔۔
اس وقت صبح کے دس بج رہے تھے اور ایمان اپنے کمرے میں بستر پر نیم دراز تھی جبکہ وہ ننھی جان ماں کے پاس تھی جسکی طرف سب متوجہ تھے حالانکہ پاوں پاوں چلتی سجاد بھائی کی گڑیا سب سے زیادہ ایکسائٹڈ تھی۔۔۔ 
لیکن ایمان کے لئے سہی تفکرات کے در ابھی وا ہوئے تھے۔۔۔ خان سے اسکا رابطہ ابھی تک نا ہو سکا تھا۔۔۔ اور جس طرح کا لائف سٹائل خان نے اسے دیا تھا اس لائف سٹائل میں اسکے سیونگ اکاونٹ سے ہر ماہ ملنے والی پچاس ہزار کی رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف تھی۔۔۔ یہ رقم شادی سے پہلے اسکے لئے ایک بہت بڑا اماونٹ تھی لیکن اب تو یہ ساری رقم بجلی گیس کے بلوں میں ہی اڑ جاتی۔۔۔ جو اچھی خاصی رقم اسے خان جانے سے پہلے دے کر گیا تھا وہ اسے اب تک استعمال کر چکی تھی۔۔۔ اور حق رکھنے کے باوجود منہ بھر کر دوبارہ اس سے پیسے مانگنے کا مطالبہ وہ نا کر سکی تھی نا مستقبل میں کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔ البتہ اب ہر طرف سے خالی ہاتھ ہو کر وہ اپنے اخراجات پر قابو پانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی تھی۔۔۔۔ سچی بات تھی کے اس وقت وہ پیسے کے نام پر خالی ہو چکی تھی اور اب حقیقت میں پریشان تھی۔۔۔ بات بھائیوں تک پہنچتی تو بھرم جاتا۔۔۔ اسی لئے وہ گم صم سی بیٹھی تھی۔۔۔
ارے ایمان تم نے اپنی بلڈنگ میں میٹھائی نہیں بانٹی۔۔۔ ارے اللہ نے بیٹے جیسی نعمت سے نوازا ہے۔۔۔۔ 
بھابھی اپنی ہی دھن میں بول رہی تھیں جبکہ وہ گم صم سی بیٹھی سن رہی تھی۔۔۔
تم فکر نا کرو انسہ۔۔۔ بچے کے باپ کو آنے دو وہ اسکے سارے چاو لاڈ پورے کر لے گا۔۔۔۔ ماں اسے دودھ پلانے کے بعد اسکا منہ صاف کرتیں مسکرا کر مصروف سے انداز میں گویا ہوئیں۔۔۔
وہی تو امی۔۔۔ کہاں ہے اسکا باپ۔۔۔ بھابھی کو تو گویا موقع مل رہا تھا دل کی بھراس نکالنے کا۔۔۔ ارے پہلی اولاد ہے اور۔۔۔
دفعتاً کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور قدموں کی چاپ کیساتھ ساتھ ہینڈ کیری گھسیٹنے کی آواز بھی ابھری۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ گھمبیر بھاری آواز میں کئے جانے والے سلام پر جہاں بھابھی کی زبان کو بریک لگا وہیں ایمان کے چہرے کے سوتے کھل اٹھے۔۔۔
وہ سب اسکی جانب متوجہ ہوئے جہاں تھکا ہارا سا شامیر خان قدم قدم اسی جانب چلا آ رہا تھا۔۔۔ حامد اور سجاد نے آگے بڑھتے اس سے گلے مل کر اسے بیٹے کی مبارکباد دی۔۔۔
ان دونوں سے مل کر وہ ماں کی گود میں تھامے اس گول گوتھنے وجود کی جانب آیا۔۔۔ ماں نے مسکراتے ہوئے بچہ اسکی گود میں ڈالا۔۔۔ وہ کتنے ہی پل مبہوت سا یک ٹک اس ننھے وجود کو دیکھتا رہا۔۔۔۔ وہ اس وقت باپ بنا تھا جب ابھی اسکے دونوں بڑے بھائیوں کی شادی کی بات چل رہی تھی۔۔۔ اسنے نم آنکھوں سمیٹ جھک کر اس روئی کے گالے کا بوسہ لیا اور جیب میں ہاتھ ڈالتے کئ پانچ پانچ ہزار کے نوٹ نکال کر بچے کا صدقہ اتارا اور پیسے ماں کی جانب بڑھا دئیے۔۔۔ یہ کسی مستحق کو دے دیں۔۔۔ اس ننھے گالے کو گود میں لینے کا احساس ہی انوکھا تھا۔۔۔
بھابھی حیرت سے گنگ آنکھیں لئے ماں کے ہاتھ میں تھامے ان نوٹوں کو دیکھ رہی تھی جنکا خان نے اپنے بیٹے کا صدقہ ادا کیا تھا۔۔۔
ویسے آپ ابھی تک تھے کہاں بھائی۔۔  آپکو نہیں لگتا کے اس وقت آپکو یہاں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ بھابھی کے کہنے پر ایمان کا حلق خشک ہوا اسنے اڑی ہوئی رنگت سمیٹ پہلے بھابھی کو دیکھا پھر شامیر کو۔۔۔۔
جانتا ہوں بھابھی۔۔۔ مجھے ایمان کے پاس ہی ہونا چاہیے تھا ۔مگر میرے خیال میں ابھی ڈیلیوری میں وقت تھا اسی لئے اپنے سبھی آفیشلی کام نبٹا رہا تھا۔۔۔ اب ِبھی ایمان کا میسج موصول ہوا تو سب کام چھوڑ چھاڑ پہلی فلائٹ سے واپس پاکستان آ گیا۔۔۔  
کوئی نام سوچا ہے آپ نے اسکا خان۔۔۔  حامد اسے بچے میں مگن دیکھ مسکرایا۔۔۔
ہننہہ۔۔ وہ چونک کر متوجہ ہوا پھر مسکرا دیا۔۔۔  سبحان شامیر خان۔۔۔ میرا شہزادہ۔۔ اسکی آواز محبت سے لبریز تھی۔۔۔ کیوں ایمان۔۔۔ نام پیارا ہے نا۔۔۔ یا تم نے کچھ اور سوچا ہے۔۔۔ شامیر کے یوں سب کے سامنے اسکی رائے مانگنے پر وہ دل سے مسکرا دی۔۔۔ بہت پیارا نام ہے خان۔۔۔ آپکی چوائس خراب ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔۔
سبحان رونے لگا تو ماں نے اسے شامیر کی گود سے لے لیا۔۔۔ واقعی سبحان شامیر خان کا باپ آ گیا تھا اور اس بات کا اندازہ پوری اپارٹمنٹ بلڈنگ کو ہو گیا تھا۔۔۔ اسنے نا صرف پوری بلڈنگ میں میٹھائی بٹوائی بلکہ دعوت عام کا انتظام کرتے تمام غربا کو کھانا کھلانے کیساتھ ساتھ کپڑے بھی دئے گئے۔۔۔ جہاں باقی سب بہت خوش تھے وہیں بھابھی اس فیاض دلی کو بس دیکھتی رہ گئ۔۔۔ اتنا خرچہ وہ بھی ایک چھوٹے سے بچے کے لئے۔۔۔
*****






No comments

Powered by Blogger.
4