Header Ads

Rah_e_haq novel 26th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  26th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

چھبیسویں قسط۔۔۔
ابھی ابھی ماں اور بھابھی اسکے پاس سے ہو کر گئے تھے۔۔۔ نوریں کھانے کے برتن سمیٹ رہی تھی جبکہ ایمان ایل سی ڈی پر کوئی ٹاک شو دیکھ رہی تھی ۔۔ برتن دھو کر نورین جانے والی تھی کیونکہ ماں اور بھابھی کے آجانے کے باعث اسے دیر تک رکنا پڑا ورنہ وہ مغرب کے بعد چلی جاتی تھی۔۔ دفعتاً ایمان کا فون بج اٹھا ۔۔۔ اسنے ہاتھ بڑھا کر میز سے فون اٹھایا  اور فون پر جگمگاتے نمبر کو دیکھ وہ یکدم الرٹ ہو اٹھی۔۔۔۔ 
ہاتھ بڑھا کر اسنے ریمورٹ سے ایل سی ڈی بند کی اور نورین کی جانب متوجہ ہوئی۔۔
نورین یہ سب میں سمیٹ لوں گی۔۔۔ رات زیادہ ہو رہی ہے تم جاو۔۔۔  
نورین کے سب وہیں چھوڑ کر نکلتے ہی وہ اپارٹمنٹ کا دروازہ بند کر کے فون اٹھاتی کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔۔ 
فون اٹھاتے ہی اسنے سلامتی بھیجی ۔۔۔۔ 
وپاں سے میلوں دور اپنے کمرے کے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا نک سک سے تیار خود پر رفیوم سپرے کرتے شامیر کو اس آواز کو سن کر نجانے کیسا سکون محسوس ہوا تھا۔۔۔
وہ دلکشی سے مسکرا دیا۔۔۔
کیسی ہو۔۔۔ سلام کا جواب دیتا وہ ڈریسنگ کے سامنے سے ہٹتا بیڈ کی جانب بڑھا۔۔۔۔۔
شکر الحمدللہ آپ سنائیں۔۔۔ وہ کمرے کی لائٹ اور سپلٹ آن کرتی آ کر بیڈ پر بیٹھی۔۔۔
مجھے مس کیا۔۔۔۔ پچھلی دفعہ کی گفتگو یاد کرتے شامیر شریر ہوا۔۔۔ غالباً اسکا موڈ کافی فریش تھا۔۔۔
جواب آپکو پسند نہیں آئے گا خان اس لئے رہنے دیں۔۔۔ وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگاتی کشن اپنی گود میں رکھ گئ۔۔۔
خان نے بامشکل اپنی ہسی ضبط کی۔۔۔ تم سب کے ساتھ ہی اتنی سٹریٹ فارورڈ اور خطرناک حد تک سچ بولتی ہو یا یہ کوالٹی محض میرے لئے ہے۔۔۔ وہ خظ اٹھاتا اسی کی باتیں اسے لٹا رہا تھا۔۔۔
محض آپکے لئے ہے۔۔۔ دوبدو جواب آیا۔۔۔
خان کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔۔اچھا مجھ سے نہیں پوچھو گی کے میں نے تمہیں مس کیا یا نہیں۔۔۔ وہ اسکے لئے دئیے انداز پر گویا اسے کھل کر بات کرنے پر اکسا رہا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ ٹکرا ٹوڑ جواب آیا۔۔۔
کیوں۔۔۔ اسنی ستائشی آئبرو اچکائی۔۔۔ 
کیونکہ پھر آپکا جواب مجھے پسند نہیں آئے گا۔۔۔ لحاظہ اخلاقیات کا تقاضا ہے کے بھرم قائم رہنے دیا جائے۔۔۔۔
یار تم مجھے شاک پر شاک دے رہی ہو۔۔۔ وہ واقعی حیرت زدہ تھا۔۔۔۔ وہ اسکی طرف سے وہی بے تابی اور شکوے شکایات کی توقع رکھتا تھا کیونکہ وہ اسے بہت دیر بعد فون کر رہا تھا لیکن دوسری طرف کا ٹھنڈا رسپانس اسے کچھ ہضم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
بس آپ ہی کی صحبت کا اثر ہے۔۔۔ اسنے گہری سانس خارج کی۔۔۔۔
ڈاکٹر کے پاس گئ تھی چیک آپ کے لئے۔۔۔ وہ کلائی میں پہنی رسٹ واچ کی جانب دیکھتا مین  بات کی طرف  آیا۔۔۔ اسکی فلائٹ میں کچھ ہی دیر باقی تھی۔۔۔
جی ۔۔ اسنے تین ہفتے بعد کی ڈیلیوری ڈیٹ دی ہے۔۔۔ لیکن امی کہہ رہی تھیں کے اللہ کے کاموں کا کچھ پتہ نہیں ہو سکتا۔۔۔ اس مہینے میں ڈیلیوری کبھی بھی متوقع ہو سکتی ہے۔۔۔ وہ قمیض کے پرنٹ پر انگلی پھیرتی اسے تفصیل سے آگاہ کرنے لگی۔۔ 
تین ہفتے۔۔۔ شامیر نے گویا زیر لب  دہرایا۔۔۔ تب تک میں واپس آ جاوں گا۔۔۔
آپ کہیں جا رہے ہیں۔۔۔ اسے کان فوراً کھڑے ہوئے۔۔۔
ہاں پراجیکٹ کے سلسلے میں دبئ جا رہا ہوں۔۔۔ میں انشااللہ تین ہفتوں سے پہلے لوٹ آوں گا۔۔  دبی میں میرا یہ نمبر آف رہے گا۔۔۔ میں تمہیں اپنا آفیشل نمبر سینڈ کر رہا ہوں۔۔۔ اگر کچھ بہت ضروری بات ہو تو تم مجھ سے رابطہ کر سکتی ہو۔۔۔
شامیر کی بات پر وہ جہاں ی تہاں رہ گی۔۔۔ ایک دم ساکت سی۔۔۔
مطلب گلئشیر پگھل رہا تھا۔۔۔ اسکی دعائیں قبولیت کا شرف پا رہی تھیں۔۔۔ یہ وہی شخص تھا جو اسے سختی سے منع کر کے گیا تھا کے وہ اسے پیچھے سے پکار نہیں سکتی۔۔۔ اب یہ شخص خود اسے اپنے آفیشل نمبر فراہم کر کے اسے رابطہ کرنے کی اجازت دے رہا تھا۔۔۔ اسکی آنکھیں سرعت سے نم ہونے لگیں۔۔۔ اللہ پر توکل مزید مضبوط ہوا۔۔۔ اگر بات یہاں تک پہنچ گئ تھی تو انشااللہ وہ دن دور نہیں جب اسکی ساری دعائیں رنگ لے آتیں۔۔۔
کوشیش کروں گا کے جلد کام نبٹا کر میں جلد واپس آ جاوں۔۔۔ باقی تم دعا کرنا کے اللہ مجھے میرے مقصد میں کامیاب کرے اور میری زندگی کا پہلا پڑاجیکٹ سپر کامیاب رہے۔۔۔ کیونکہ بقول تمہارے اللہ تمہاری ساری دعائیں قبول کرتا ہے۔۔۔
اللہ سب کی دعائیں قبول کرتا ہے خان اور آپ تو  میری دن رات  کی دعاوں کا محور ہیں۔۔۔ باقی کہتے ہیں جس دل کو تکلیف ہو وہ خود اپنے لئے دعا کرے تو اسکی تڑپ سب سے زیادہ ہوتی ہے۔۔۔ اور دعا جتنے توکل شدت اور تڑپ سے مانگی جائے اتنی جلدی قبول ہوتی ہے۔۔۔
اسکی باتیں سن کر شامیر خان کئ پلوں کے لئے خاموش رہ گیا ۔۔۔
پھر گہرا سانس خارج کرتا بستر سے اٹھا۔۔۔ ٹھیک ہے ایمان۔۔۔ اپنا خیال رکھنا میری فلائٹ کا وقت ہو رہا ہے۔۔۔ وہ الوداعی کلمات کہہ کر فون بند کر چکا تھا۔۔۔ اس بندی سے رابطہ کم کم رکھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی تھی کے یہ لڑکی مقناطیسی صلاحیتوں کی مالکن تھی وہ جب جب اس سے بات کرتا وہ اسے کسی کشش کی مانند اپنی جانب کھینچتی تھی یوں کے شامیر خان بے بس ہونے لگتا اور یہ قطعاً اچھے سائنز نا تھے۔۔۔۔
*****
ایمان بالکنی میں موجود چئیر پر ڈھیلے سے انداز میں بیٹھی پاوں دوسری چئیر پر رکھے ہوئے تھی۔۔۔ اتنے دنوں کی پرزور گرمی کے بعد آج موسم خاصا خوشگوار تھا ۔۔ تِبھی وہ ڈھیلے سے لان کے پرنٹڈ سوٹ میں ملبوس دھلے دھلائے چہرے کیساتھ وہاں ٹھنڈی ہوا میں آ بیٹھی تھی۔۔۔ شہد رنگ بالوں کی چوٹی کمر پر جھول رہی تھی۔۔۔ فضا میں سوجھی اور بیسن کے حلوے کی مخصوص خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔۔۔ آج ماں اسکی فرمائش پر اسکے لئے سوجھی اور بیسن کا حلوا بنا رہی تھیں۔۔۔ وہ دن با دن یونہی ماں سے بے موقع فرمائش کر دیتی اور وہ بھی بنا ماتھے پر شکن لائے فوراً مسکرا کر اسکی فرمائش پوری کرنے اٹھ کھڑی ہوتیں۔۔۔
اسکی ڈیلیوری کے آخری ایام چل رہے تھے تبھی ماں حفظ ماتقدم کے طور پر اسکے پاس ہی رہ رہی تھیں۔۔۔ ماں کے آجانے سے اسے بھی بہت ڈھارس ہوئی تھی کے جب بھی کبھی طبیعت خراب ہوتی تو ماں قریب ہوتیں یا رات کو نیند نا آتی تو وہ آدھی رات تک ماں سے باتیں کرتی رہتی۔۔۔
دفعتاً ماں بادام اور پستے سے سجا حلوے کا باول اور پلیٹیں لئے وہیں اسکے پاس آگئیں۔۔۔
واہ ماں خوشبو تو بہت پیاری آ رہی ہے۔۔۔ وہ فوراً سیدھی ہو بیٹھی اور ماں کے ہاتھ سے برتنوں والی ڈش تھام کر چھوٹی گول میز پر رکھی۔۔۔
لگتا ہے بارش آنے والی ہے۔۔۔۔  ماں کرسی سمبھالتیں باہر موسم کے تیور دیکھ رہی تھیں۔۔۔ بے ساختہ ایمان کے ہوںتوں پر ایک مسکراہٹ ابھری۔۔۔ اسے اپنے گھر کی بارش یاد آئی۔۔۔ وہاں بارش آنا بھی ایک محاز تھا۔۔۔ کھلے سے صحن میں بھاگ بھاگ کر صحن میں پڑی تمام اشاء کو اٹھانا پڑتا اور بارش ختم ہونے پر سب واپس انکی جگہوں پر رکھنا پڑتا۔۔۔ وہاں بارش آنے پر بھی وہ جھنجھلا جایا کرتی تھی۔۔۔
اممم۔۔۔۔ بہت مزے کا بنا ہے ماں۔۔۔ وہ پہلا چمچ منہ میں ڈالتے ہی بے ساختہ تعریف کر اٹھی۔۔۔ ماں نرمی سے مسکرا دیں۔۔۔
ماں آپ سے ایک بات پوچھوں۔۔۔ باہر ہواوں کی شدت میں اضاصہ ہونے لگا تھا۔۔۔ اسکا آنچل بار بار ہوا کے سنگ اڑ رہا تھا۔۔۔
ہمم پوچھو۔۔۔
بھائی کہتے ہیں کے نصیحت سب کے لئے ایک جیسی نہیں ہوتی۔۔۔ وہ بول کر رکی جیسے درست الفاظ کا چناو کر رہی تھی۔۔۔
سو فیصد درست کہتا ہے۔۔۔ نصیحت محض عقل والوں کے لئے ہوتی ہے ۔۔۔
تو اگر کوئی آپکا عزیز غلط راستے پر چل رہا ہو اور سمجھانے پر بجائے سمجھنے کے بھڑک اٹھے آپکو اپنا دشمن سمجھنے لگے تو پھر ایسے میں کیا کرنا چاہیے۔۔۔ اسے کیسے سمجھایا جا سکتا ہے۔۔۔ بلآخر وہ اپنی پریشانی ماں سے شئیر کر ہی گئ۔۔۔
ایسے شخص کو سمجھایا نہیں جاسکتا۔۔۔ اسے اسکے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔ باہر اب تیز ہواوں کے بعد ہلکی ہلکی رم جھم شروع ہو گئ تھی۔۔۔
جیسے ایک گوالا تھا  نا وہ دودھ میں پانی ملا کر بیچتا تھا۔۔۔ کچھ عرصے بعد اسکی بھینس مر گئ تو اسنے خدا سے توبہ کر لی کے میں ایک غلط کام کر رہا تھا دودھ میں پانی ملا کر بیچتا تھا تبھی میری گائے مر گئ۔۔۔ اے اللہ تو مجھے معاف کردے میں دوبارہ ایسا غلط کام نہیں کروں گا اور رزقِ حلاق کماوں گا۔۔۔
جب دوسرے گوالے کو اسکی کہانی پتہ چلی تو وہ بے ساختہ مسکرا دیا۔۔۔ کے ارے بےوقوف تم تو بہت جلد ہار مان گئے۔۔۔ تمہاری جگہ میں ہوتا تو کہتا۔۔۔ میری ایک بھینس مری ہے اب مجھے اس بھینس کا نقصان بھی اسی دودھ میں پانی ڈال کر پورا کرنا ہے۔۔۔
ایمان گم صم سی رہ گئ۔۔۔
سارا فرق ہی سوچ کا ہوتا ہے بیٹا۔۔۔  کچھ لوگ غلطی پر جلد سمبھل جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنکے دل نرم اور ضمیر زندہ ہوتے ہیں۔۔۔
کچھ لوگ گرنے پر بھی نہیں سمبھلتے ۔۔۔ ایسے لوگوں کو پھر حالات اور وقت اپنے انداز میں سب سمجھاتے ہیں۔۔۔ اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کے اللہ غافلوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے اور آنکھوں اور کانوں کے گرد پردے گرا دیتا ہے۔۔۔ پھر نا وہ کچھ دیکھ پاتے ہیں اور نا سن پاتے ہیں۔۔۔ اور پوری زندگی گمراہی میں گزار دیتے ہیں۔۔۔
دل کا نرم ہونا بھی اللہ کی ایک نعمت ہے۔۔۔ اور غلطیوں پر پشیمان ہونا بھی۔۔۔ جب غلطی کا احساس ہو اپنے رب کے سامنے جھک جاو۔۔۔۔ اور انسان خود سے تو جھوٹ بول سکتا ہے مگر اپنے رب کے سامنے نہیں۔۔۔ کیونکہ وہ تو پہلے ہی ہر بات سے آگاہ ہے۔۔۔ وہاں اپنی غلطیوں اور گناہوں کی
 جسٹیفکیشن دینے کی بجائے انہیں کھلے دل سے قبول کرتے انکی معافی مانگنی ہے۔۔۔ اور دن رات اللہ سے ہدایت طلب کرنی ہے۔۔۔ کیونکہ اللہ ہر چیز بن مانگے عطا کر سکتا ہے مگر ہدایت وہ واحد چیز ہے جو وہ بن مانگے عطا نہیں کرتا۔۔   ہدایت یافتہ ہونے کے لئے اللہ سے ہدایت مانگنی پڑتی ہے۔۔۔ سراط مستقیم پر چلنے کی ہدایت اور توفیق۔۔۔ اس لئے اگر دل مردہ بھی ہوجائے اور کچھ اور نا بھی کر سکو تو اٹھتے بیٹھے چلتے پھرتے اللہ سے ہدایت کی دعا مانگتے رہنا چاہے۔۔  
ایمان گم صم سی ماں کو سن رہی تھی جب اسکی پلیٹ خالی ہونے پر ماں نے اس میں مزید حلوا ڈالا۔۔
دفعتاً ڈور بیل بجی اور نورین کے دروازہ کھولنے پر انہیں قدموں کی چاپ اپنے جانب بڑھتی سنائی دی۔۔۔
اسلام علیکم کچھ دیر بعد حامد سلام کرتا وہیں آ گیا تو دونوں اسے دیکھ کر کھل اٹھیں۔۔۔ وہ گویا آفس سے سیدھا وہیں آیا تھا۔۔۔
ارے واہ۔۔۔ یہاں تو حلوا کھایا جا رہا ہے۔۔۔ مطلب موسم خوب خوب انجوائے ہو رہا ہے۔۔۔ وہ آفس کی فارمل پینٹ اور شرٹ میں ملبوس تھا البتہ تائی ڈھیلی کی گئ تھی۔۔۔ اور شرٹ پر ہلکی کن من کے اثرات تھے۔۔۔۔  
آپ بھی کھائیں نا بھائی۔۔۔۔۔ ایمان نے اسکے لئے حلوا ڈالا۔۔۔۔
ویسے کیا باتیں چل رہی تھیں میرے آنے سے پہلے۔۔۔ ہمم حلوا مزے کا ہے۔۔۔ یقیناً ماں نے بنایا ہے۔۔۔ اسنے پہلا چمچ منہ میں ڈالا اور بے ساختہ بول اٹھا۔۔۔
ماں مسکرا دیں۔۔ کیا باتیں چل سکتی ہیں۔۔۔ اب تو بس ایک ہی فکر ہے کے تمہاری کسی اچھی جگہ شادی کردوں۔۔۔۔ رشتے والی کو بولا ہے کے کوئی اچھا رشتہ دکھائے۔۔۔ ۔ اسے دیکھتے ہی ماں کو سب سے اہم موضوع یاد آ گیا جسکی آج کل انہیں سب سے زیادہ فکر تھی۔۔۔
ویسے اگر آپ برا نا منائیں تو ایک رشتہ ہے میری نظر میں۔۔۔ حلوا کھاتے اسنے زرا توقف لیا۔۔۔
بھائیییییی۔۔۔ آپ تو بہت چھپے رستم نکلے۔۔۔ ایمان حیرت سے گنگ منہ کھولے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے ایمان۔۔۔ لڑکی میرے آفس میں انٹرنشپ پر آئی ہے۔۔۔ اچھی باکردار لڑکی ہے باقی آپ لوگ انکے گھر جا کر دیکھ لیں۔۔۔  کچھ سمجھ آیا تو ٹھیک ورنہ جو اللہ کو منظور ہوا۔۔۔۔
اسنے شانے اچکاتے بات ہی ختم کر ڈالی۔۔۔
آپکو کیسے پتہ بھائی کے وہ اچھی بااخلاق لڑکی ہے ایمان ٹانگ پر ٹانگ جماتی گھٹنے پر کہنی جمائے ہاتھ کی ہتھیلی تھوڑی تلے رکھے محظوظ ہوتی گویا ہوئی۔۔۔
جیسے اللہ نے عورت کو چھٹی حس عطا کی  ہے کے وہ مرد کی خود پر اٹھتی ہر نگاہ باآسانی بانپ جاتی ہے کے وہ کس نیت کا مرد ہے۔۔۔ بالکل ویسے ہی مرد پہلی نگاہ میں دیکھ کر بتا دیتے ہیں کے عورت کس کردار کی ہے۔۔۔ لڑکی کی شرم و حیا بات کرنے اور دیکھنے کا انداز اسکے سارے بھید کھول دیتا ہے۔۔۔ وہ گھٹنوں پر کہنیاں رکھے ہاتھ باہم پھنسائے آگے کو جھک کر اسکی آنکھوں میں دیکھتا آخر میں زرا سا مسکرایا۔۔۔
ماں بھائی سے میری ہونے والی بھابھی کا ایڈریس لیں۔۔۔ نام پتہ پوچھیں۔۔۔ ہم پہلی فرصت میں وہاں جائیں گے۔۔۔ جو لڑکی میرے بھائی کو پسند آئی ہے بس وہی میری بھابھی بنے گی۔۔۔
وہ ایک دم ایکسائٹڈ ہوتی ماں سے گویا ہوئی۔۔۔ 
اتنی ایکسائٹمنٹ بھی اچھی نہیں ہوتی ایمان۔۔۔ میں نے محض ایک سجیشن دی ہے۔۔۔ پتہ نہیں وہ لڑکی کہیں انگیج ہے یا نہیں۔۔  وہ اپنی بات مکمل کر کے اٹھ کھڑا ہوتا اندر آگیا جبکہ ایمان پیچھے تاسف سے سر نفی میں ہلا کر رہ گئ۔۔۔
*****
یکدم ہی بھابھی کی گڑیا کی طبیعت بہت خراب ہوگئ جسکی وجہ سے ماں کو ایمرجنسی جانا پڑ گیا۔۔۔ وہ رات تک واپسی کا کہہ کر گئ تھیں۔۔۔ جبکہ مغرب کے بعد نورین بھی چلی گئ تو وہ نماز کے بعد اپنے کمرے میں آگئ۔۔۔ طبیعت آج صبح سے ہی بوجھل بوجھل سی تھی۔۔۔۔ ناجانے کیوں آج اسے خان کی شدت سے یاد آ رہی تھی۔۔۔ وہ بیٹھ بیٹھ کر تھک گئ تھی تبھی بستر پر دراز ہوتی کمفرٹر شانوں تک اوڑھ گی۔۔۔
کچھ دیر بعد یکدم ہی اسکی طبیعت بگڑنے لگی تو وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔
اے سی کی خنکی کے باوجود اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔۔۔ وہ گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔۔۔
تکلیف کی شدت بڑھنے لگی تو اسے پہلی مرتبہ تنہائی سے خوف محسوس ہوا۔۔۔ وہ اس وقت تنہا تھی۔۔۔ ماں رات تک آنے کا بول کر گئ تھیں مگر ابھی تک واپس نہیں آئی تھیں۔۔۔ 
بگڑتی طبیعت نے اسکے اوسان خطا کر دئیے ۔۔۔
اسنے تکلیف کی شدت کو برداشت کرتے لب بھینچے اور کپکپاتے ہاتھوں سے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا۔۔۔ اسکے کپکپاتے ہاتھ تیزی سے خان کا نمبر ڈائل کر رہے تھے۔۔۔
دوسری جانب بیل جا رہی تھی مگر جواب ندارد۔۔۔ بیل بج بج کر فون بند ہو گیا۔۔۔ ایمان کا دل ڈوبنے لگا۔۔۔ اسنے پہلی مرتبہ خود سے پہل کرتے خان سے رابطہ کیا تھا اور پہلی دفعہ ہی ایسا رسپانس۔۔۔۔
اسنے ہمت نا ہارتے دوسری دفعہ کال ملائی مگر پھر سے جواب ندارد۔۔۔
بے بسی بھرے آنسو آنکھوں سے چھلک پڑے۔۔۔۔
اسنے واٹس ایپ کھولتے وائس میسج پر کلک کیا۔۔۔
خان میری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔ پلیز آپ پہلی فرصت میں میرے پاس آ جائیں۔۔۔
آئی نیڈ یو۔۔۔ اسکی آواز کرب زردہ تھی۔۔۔ میسج سینڈ ہوتے ہی وہاں ایک ٹک لگا۔۔۔ مطلب وہ اونلائن ہی نا تھا۔۔۔
مزید بگڑتی طبیعت کے پیش نظر وہ بامشکل کپکپاتے ہاتھوں سے ماں کا نمبر ملانے لگی۔۔۔
*****





No comments

Powered by Blogger.
4