Rah_e_haq novel 25th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 25th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
پچیسویں قسط۔۔۔۔
ایمان بے بی روم میں بیٹھی پالنا سیٹ کر رہی تھی جو اسنے اونلائن آرڈر کیا تھا اور اسے آج ہی موصول ہوا تھا۔۔۔ اسکی ڈیلیوری میں بہت کم وقت رہ گیا تھا آج کل وہ انہی سبھی چیزوں میں الجھی ہوئی تھی۔۔۔ اس روز کے بعد سے دوبارہ خان نے اسکے ساتھ رابطہ نہیں کیا تھا۔۔۔ اور پچھلی گفتگو میں وہ اسے بھی اپنے اور اسکے رشتے کے بارے میں بہت کچھ باور کروا چکا تھا۔۔۔ بے ساختہ اسے اپنے کورس کا آخری لیکچر یاد آیا۔۔۔
آپکے لئے آپکی سیلف ریسپیکٹ اور آپکی اپنی ذات آپکی زندگی کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔۔۔ زندگی میں کبھی اس چیز پر سمجھوتا مت کرنا۔۔۔
کبھی کسی کی زندگی میں پکے ہوئے پھل کر طرح گرنے کی کوشیش مت کرنا یہ چیز اس شخص کی زندگی میں آپکی عزت اور قدر دونوں گھٹا دے گی۔۔۔
Be your best Version...
کوئی آپکو نظر انداز کر رہا ہے۔۔۔ یا آپ سے ایک قدم پیچھے ہٹا ہے تو اس سے دس قدم پیچھے ہٹ جائیں۔۔۔ وہ شخص آپکا ہوا تو آپکا گریز محسوس کر کے خود آپکی طرف مائل ہو جائے گا۔۔۔ ورنہ سمجھ لینا کے اس شخص کے سامنے خود کو جھکانا محض اپنی ذات کچلنے کے مترادف ہے۔۔۔ دل مار لینا لیکن سیلف ریسپیکٹ کو مرنے مت دینا۔۔۔۔
کبھی یہ مت سوچنا کے میں فلاں شخص کے بنا نہیں رہ سکتی اسکے لئے میں اپنی سیلف ریسپیکٹ کے لئے قائم کردہ معیار سے نیچے آ سکتی ہوں۔۔۔ نو نیور۔۔۔
یہ فیلنگز محض اس پاک ذات کے لئے ہونی چاہیے۔۔۔ جسکے سامنے جھکنے کا حکم ہے جو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا اور جسکے ہاں فریادیں رائیگاں نہیں جاتیں۔۔۔ جو بہتر لے کر بہتریں سے نوازنا جانتا ہے بس۔۔۔۔
اسکے علاوہ کسی کے سامنے بھی جھک کر اپنی سیلف ریسپیکٹ رولو گے تو خوار ہو جاو گے۔۔۔
زندگی کا ایک ہی اصول ہونا چاہیے۔۔۔ سیلف ریسپیکٹ پر کوئی سمجھوتا نہیں۔۔۔
دفعتاً پالنا سیٹ کر کے وہ اٹھی اور زرا فاصلے پر جا کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔ تقریبا وہ اچھے سے اسکے جوائنٹ فکس کر چکی تھی۔۔۔ وہ مطمئیں ہوئی۔۔۔
یہ اس کورس میں انرول کرنے کا ہی نتیجہ تھا کے اس میں بہت سے پازیٹیو چینجز آئے تھے۔۔۔ دل جو ہمہ وقت شامیر کی جانب لپکتا تھا۔۔۔ اس سے بات کرنے کو ہمکتا تھا اس میں اب ٹھہراو آنے لگا تھا۔۔۔
وہ رفتہ رفتہ اس چیز کو قبول کرنے لگی تھی۔۔۔
شامیر خان اسکا تھا۔۔۔ اسے اسکے پاس ہی آنا تھا۔۔۔ مگر تب جب وہ خود چاہتا۔۔۔ اس معاملے میں اب کنزل ایمان خود کو جھکانے والی نہیں تھی۔۔۔
وہ جب اسکے پاس آتا وہ اس سے خوشدلی سے ملنے والی تھی۔۔۔ لیکن ڈیمانڈ یا شکووں کو وہ اپنے دماغ سے ہی نکال چکی تھی۔۔۔ صرف شکرگزاری اسکی ذات کا حصہ بنتی جا رہی تھی۔۔۔۔ وہ صرف اپنے مالک سے اپنی بہتری کی دعائیں کر رہی تھی اور صبر سے اسکی جانب سے آنے والی مدد کی منتظر تھی۔۔۔ وہ یہ جان چکی تھی کے ہر چیز کا وقت مقرر ہے ہر کام اپنے وقت پر ہوتا ہے۔۔۔ اور وہ بھی اس بہترین وقت کی منتظر تھی جب اسکے رب کی جانب سے اسکے لئے مدد آتی۔۔۔ کن فیاکن کا عمل مکمل ہوتا اور اسکی زندگی میں خیر ہی خیر اور بہتریاں ہی بہتریاں ہوتیں۔۔۔
وہ پرامید تھی اسی لئے دل ٹھہرنے لگا تھا۔۔۔ دفعتاً باہر گھنٹی کی آواز سنائی دی تو وہ اٹھ کر باہر نکل آئی کے شاید زخرف آ گئ تھی جسے کل رات ہی اسنے ملنے کے لئے بلایا تھا۔۔۔
**"**
شامیر خان ایک میٹنگ اٹینڈ کر کے میٹنگ روم سے باہر نکلا اور تیزی سے قدم اٹھاتا راہداری مڑ گیا اسکا رخ عدنان بھائی کے کیبن کی جانب تھا۔۔۔ کوٹ بازو پر موجود تھا جبکہ شرٹ کے اوپری دو بٹن کھلے تھے۔۔۔ آنکھوں میں رتجگے کے باعث سرخی اتر رہی تھی جبکہ چہرا بھی تھکان زدہ تھا۔۔۔
دروازہ ہلکا سا ناک کر کے وہ اندر داخل ہوا۔۔۔
اس پراجیکٹ پر میری اب تک کی کارکردگی کیسی ہے بھائی۔۔۔ اندر داخل ہو کر وہ سامنے ریوالونگ چیئر پر بیٹھے کسی فائل کا مطالعہ کرتے عدنان کے پاس آتا گویا ہوا۔۔۔
وہ بیٹھا نہیں تھا البتہ کرسی کی پشت پر ہاتھ رکھے ہنوز کھڑا تھا۔۔۔ جیسے کھڑے کھرے ہی بات کر کے وہاں سے جانے کا ارادہ رکھتا ہو۔۔۔
ایم ایمریسڈ شامیر۔۔۔ تم نے مجھے اور بابا دونوں کو شاک کر دیا ہے یار۔۔۔ تم واقعی بہت محنت کر رہے ہو۔۔۔ عدنان بھائی ستائشی انداز میں کہتے اٹھ کر اسکے مقابل آئے۔۔۔
بائے دا وے یہ اتنی تبدیلیاں اور اتنا جنون آ کہاں سے رہا ہے۔۔۔ مطلب مجھے تو یہ ایک دو دن کا فوبیہ لگتا تھا ۔۔۔ بھائی نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
وہ اداسی سے انہیں دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ وہ انہیں بتا نا پایا کے اولاد کی محبت چیز ہی ایسی ہے جو آپکو سب بھلا کر دن رات ایک کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔۔۔ وہ وجود ابھی دنیا میں آیا بھی نہیں تھا مگر اسکی محبت سب پر بھاری تھی۔۔۔
دراصل میری خواہش ہے آپ سے بھی قابل بننا اس لئے اتنی محنت کر رہا ہوں کے آپکو ٹکر دے سکوں۔۔۔ وہ مسکرا کر بات مذاق میں ڈال گیا جبکہ عدنان بھائی کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔
چلع دعا گو ہوں تمہارے لئے کے تم جلد از جلد مجھے ٹکر دینے کے قابل ہو جاو۔۔۔
*****
امجد میں آج رات کی فلائٹ سے دبئ جا رہا ہوں ۔۔۔ تمہاری ٹکٹس بھی کنفرم ہے تم بھی میرے ساتھ جا رہے ہو۔۔۔۔ وہ آفس سے نکل کر تیز تیز قدم اٹھاتا پارکنگ کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔۔
جی خان۔۔۔ اسنے آگے بڑھتے مستعدی سے خان کے لئے دروازہ کھولا اور اسکے بیٹھنے کے بعد آ کر ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی۔۔۔
اگلے چند دنوں کے لئے پراجیکٹ کے حوالے سے ہم وہیں رہیں گے۔۔۔ اس پراجیکٹ کے لئے میرا تمام پیپر ورک مکمل ہے اب وہاں لوکیشن پر جا کر پلازے کی کنسٹرکشن کا کام شروع کروانا ہے۔۔۔۔ بس ایک دفعہ سب ٹھیک ٹھاک طریقے سے ہو جائے۔۔۔ اسنے گہری سانس خارج کی۔۔۔
یہ میرا فون ہے اس میں میں نے نئ سم اشو کروا کر آن کی ہے۔۔۔ یہ میرا آفیشل نمبر ہے یا پھر یہ محض فیملی ممبرز کے پاس ہے۔۔۔ یہ فون تمہارے پاس رہے گا۔۔۔ جب کوئی اہم کال ہوئی تب تم میری بات کرواو گے ورنہ فضول کسی کال پر تم میری بات نہیں کرواو گے۔۔۔ اپنے اس جنون کو پورا کرنے کے لئے مجھے تمام غیر ضروری رابطے جو فلحال میرا سارا وقت کھا جاتے ہیں انہیں کاٹنا ہوگا تاکے اپنا مقصد پورا کر سکوں۔۔۔ ان میں سے کسی سے تم میرا رابطہ استور نہیں کروا گئے۔۔۔ وہ ماتھا مسلتا اسے بریف کر رہا ہے جبکہ امجد سمجھ کر تابعداری سے سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔۔
اپنا پرسنل نمبر رات فلائیٹ سے پہلے میں آف کرکے یہیں پاکستان چھوڑ جاوں گا۔۔۔ اسے واپس پاکستان آ کر آن کروں گا۔۔۔ یونہی شاید میں اس ٹریپ کو ٹورنے میں کامیاب ہو پاوں۔۔۔۔ بس جانے سے پہلے اس پرسنل نمبر سے ایک پرسنل کال کرنی ہے۔۔۔۔وہ تھک کر سر سیٹ کی پشت سے لگاتا آنکھیں موند گیا۔۔۔ چھم سے ایک معصوم سا چہرا پورے استحقاق سے آنکھوں کے پردوں پر ابھرا۔۔۔ افف یہ ساری خواری اسی چہرے اور اپنی اولاد کے لئے ہی تو تھی۔۔۔ ورنہ کون تھا جو شامیر خان کو ٹریک پر لے آتا۔۔۔۔ اسکا سر بھاری ہو رہا تھا اور وہ ایک پرسکون نیند کا خواہشمند تھا۔۔۔۔
*****
زخرف اور ایمان لاوئنج میں بیٹھے تھے جبکہ سامنے میز پر چائے کے ساتھ سنیکس پڑے تھے۔۔۔
ایمان بجھی بجھی سی تھی۔۔۔ جیسے کوئی چیز اندر ہی اندر اسے کھا رہی ہو۔۔۔
کیا تم نے حامد سے بات کی ہمارے رشتے کے حوالے سے ۔۔۔ زخرف نے چائے کا کپ اٹھا کر اسکی چسکی لی۔۔۔۔ ایمان نے خاموش اداس نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔۔ پس منظر میں وہ تمام باتیں چلنے لگیں جو حامد نے اس رشتے کے انکار کے لئے اسے کہی تھیں۔۔۔
زخرف تم پلیز لکھنا چھوڑ دو۔۔۔۔ وہ شش و پنج میں مبتلا لب چبا کر رہ منمنائی۔۔۔
وھاٹ۔۔۔ وہ یوں اچھلی جیسے بچھو نے ڈنگ مار لیا ہو۔۔۔ ہاتھ میں تھامے کپ سے چائے تک چھلک پڑئ۔۔۔ اسنے تیزی سے کپ واپس میز پر رکھا اور ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
میں تم سے پوچھ کیا رہی ہوں اور تم کہہ کیا رہی ہو۔۔۔۔
اگر لکھنا نہیں چھوڑ سکتی تو پھر لکھنے کے لئے اپنی تھیم بدل ڈالو۔۔۔ رومینٹک مت لکھو اسنے چیپ رومینس اور فحاشی کا لفظ حدف کرتی بہت مہذب الفاظ استعمال کرتے ہنوز اسی پوزیشن میں بیٹھے اپنے ہاتھوں کی لکیروں پر انگلی پھیرتے اداسی سے کہا۔۔۔
آڑ یو کڈنگ ایمان۔۔۔ جانتی ہو نا میں کتنی محنت کر رہی ہوں۔۔۔۔ میرا شیڈیول کوئی آسان نہیں ۔۔ مجھے صبح کالج بھی جانا ہوتا ہے۔۔۔ واپسی پر امی کی مدد بھی کروانی ہوتی ہے۔۔۔ بیچ میں قسط لکھ کر اسکی نوک پلک سنوارانا اور اپلوڈنگ۔۔۔ فیڈ بیک پڑھنا اور اسکا ریپلائے دینا۔۔۔ مجھے اس سارے کام میں رات دو بھی بج جاتے ہیں۔۔۔ اتنی محنت کے بعد مجھے ایک مقام ملنے لگا ہے کے میری فالونگ جو ایک سال میں پچیس ہزار ہوئی تھی وہ محض چند ماہ میں پچیس ہزار سے ساتھ ہزار ہوگئ ہے۔۔۔ اپنی محنت سے آج میں اس قابل ہوئی ہوں کے لوگ مجھے پہچاننے لگے ہیں۔۔۔ یہ میری اتنی محنت کا نتیجہ ہے کہ میں اب فنانشلی خودمختار ہو رہی ہوں ایسے میں تم کہہ رہی ہو کے لکھنا چھوڑ دوں۔۔۔ سٹرینج۔۔۔ وہ تلخی سے کہتی استہزائیہ ہسی۔۔۔
لکھنا نہیں چھوڑ سکتی یار۔۔۔ اب تو یہ میری ایک عادت بنتی جا رہی ہے۔۔ کے جیسے ہم دن میں تین دفعہ کھانا کھاتے ہیں ویسے ہی مجھے روزانہ کی بنیاد پر ناول کی قسط اپلوڈ کرنی ہے اسنے شانے اچکائے۔۔۔
ایمان اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
دیکھو زخرف میں مانتی ہوں کے تم محنت کر رہی ہو۔۔۔ میں تمہاری محنت کی قائل ہوں اور تمہاری کامیابی سے بہت خوش ہوں۔۔۔ تم فنانشلی خود مختار ہو رہی ہو یہ بہت اچھی بات ہے۔۔۔ ہر لڑکی کو فنانشلی خود مختار ہونا چاہیے۔۔۔ ہر لڑکی کے ہاتھ میں کوئی ایسا ہنر لازمی ہونا چاہیے جسے بروقت ضرورت وہ بروئے کار لاتی اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکے۔۔۔
لیکن ہمیں ایک پل کے لیے رک کر سوچنا تو چاہیے نا کے کہیں ہم غلط ڈائریکشن میں تو محنت نہیں کر رہے۔۔۔ کہیں ہمارا ٹریک تو غلط نہیں۔۔۔ وہ شعوری کوشیش سے وہ الفاظ استعمال کر رہی تھی جس سے زخرف کی دل آزاری نا ہو۔۔۔۔
تم کہنا کیا چاہتی ہو۔۔۔ وہ ماتھے پر شکنوں کا جال لئے اسے دیکھ رہی تھی جو بڑی خوبصورتی سے گفتگو کا رخ ہی چینج کر چکی تھی۔۔۔
میرے کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کے تم جو رومینس لکھ رہی ہو۔۔۔ مطلب اسے پڑھنے والے پندرہ سال کے ناسمجھ بچے بھی ہیں۔۔۔ اور یہ مواد انکے کچے ذہنوں پر غلط اثر ڈال سکتا ہے زخرف اور یہ چیز ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کے ہماری وجہ سے۔۔۔
ہمارے لئے لمحہ فکریہ کیوں ہے ایمان۔ وہ بے ساختہ اسکی بات کاٹ گئ کے ایمان کو یکدم خاموش ہونا پڑا۔۔۔
آج کے فاسٹ دور میں کم عقل کوئی بھی نہیں۔۔۔ چاہے وہ پھر پندرہ سال کی بچی ہے یا تیرہ سال کی۔۔۔ آج کل بچوں کو ہر چیز کی سمجھ ہے ہر چیز کے بارے میں آگاہ ہیں وہ۔۔۔ ان سے کچھ مخفی نہیں۔۔۔۔۔۔ باشعور ہیں وہ۔۔۔ انہیں سب پتہ ہے۔۔۔ اور وہ سب اپنی مرضی سے پڑھتے ہیں۔۔۔ جنہیں میرے لکھنے سے مسلہ ہے وہ مت پڑھے۔۔۔ میرے پیج اور چینل سے دور رہے۔۔۔۔سمپل۔۔۔۔
زخرف کے اتنی آسانی سے بات ہی ختم کر دینے پر وہ کتنے ہی پل گم صم سی اسے دیکھتی رہ گی۔۔۔
جس بات نے اسے رات سے بے چین کر رکھا تھا وہ کتنے آسانی سے اسے ہوا میں اڑا چکی تھی۔۔۔
کیسے بات ختم زخرف۔۔۔ وہ بچے ناسمجھ ہیں۔۔۔ اس لئے اس کانٹینٹ کو کنزیوم کرتے ہیں جس میں اٹریکشن محسوس کرتے ہیں۔۔۔ اور یہ چیز تو سائنس بھی ثابت کر چکی ہے کے ٹین ایج میں بدلتے ہارمونز کے باعث ٹین ایجرز ایسی چیزوں میں اٹریکشن محسوس کرتے اس جانب مائل ہوجاتے ہیں۔۔۔ اسی لئے تو ٹین ایج کو زندگی کا سب سے حساس حصہ کہا گیا ہے جہاں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ جہاں قدم لڑکھڑائے وہیں وہ ایک گڑھے میں گر جائیں گے۔۔۔ یار یہ ہماری یوتھ ہے۔۔۔ ہماری قوم ہے۔۔۔ ہمارا فرض ہے کہ۔۔
اوہ پلیز ایمان۔۔۔ کیا میں تنہا ہوں جو یہ رومینٹک ناولز لکھ رہی ہوں۔۔۔ جاو جا کر ایف بی اور یوٹیوب چینل سرچ کرو۔۔۔ میرا لکھا تو کچھ بھی نہیں۔۔۔ رائٹرز نے اسقدر بولڈ اور اوپن رومینس لکھ ڈالا ہے کے حد نہیں۔۔۔ اور دیکھو وہاں کتنی بھیر ہے۔۔۔ پڑھنے والے سراہنے والے موجود ہیں تو ہم لکھ رہے ہیں نا۔۔۔ نا پڑھیں لوگ ہمیں ۔۔۔ ہم نہیں لکھیں گے۔۔۔
وہ ایمان کے انداز سے تلخ ہو اٹھی تھی۔۔۔
ایمان کو اسکے سامنے ان لفظوں کا فقدان محسوس ہونے لگا جن سے وہ اسے قائل کر سکتی تھی۔۔۔
اسے بے ساختہ وہ آیت یاد آئی۔۔۔
کے آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
زخرف اگر ہر کوئی ٹرینڈ کو فالو کرتے ایک ان دیکھی بھیڑ میں اندھا دھند بھاگ رہا ہے تو کیا ضروری ہے اسی بھیڑ کی اندھی تقلید کی جائے۔۔۔ ۔بھیر کا حصہ تو سبھی بن جاتے ہے۔۔ اس میں کیا خاص بات ہے۔۔۔ خاص بات تو ہے تنہا حق کا سفر طے کیا جائے۔۔۔ اور حق کا سفر ہر کوئی نہیں طے کر سکتا۔۔۔ یہ محض انہی گنے چنے لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو چن لئے جاتے ہیں۔۔۔۔ بے ہودہ ٹرینڈ کو فالو کرنے کی بجائے ہم آج ایک نئے ٹرینڈ کی بنیاد کیوں نہیں رکھ سکتے۔۔۔۔
لوگ اس فحش کانٹینٹ کو اس لئے کنزیوم کر رہے ہیں کیونکہ ایف بی رائٹرز نے سستی فیم کے لئے اسے ایزی تو ایکسس بنایا ہے۔۔۔ ہم گھٹیا مواد فراہم کرتے ہیں تو وہ پڑھتے ہیں نا۔۔۔
اگر انہیں وہ گھٹیا مواد نا ملے تو وہ کیسے پڑھیں گے۔۔۔
اور تم یہ وعظ مجھے اس لئے دے رہی ہو کیونکہ اس معاشرے میں فحش اور گھٹیا مواد صرف میں ہی پھیلا رہی ہوں ہے نا۔۔ بھڑک کر کہتے زخرف کی آواز بلند ہونے لگی۔۔۔ لفظ فحش اور گھٹیا مواد اسکے خون میں ابال اٹھا رہا تھا۔۔۔
اور جو میں یہ نا لکھوں تو تمہارا معاشرہ لفظ تمہارے پر زور دیا گیا اور تمہاری یوتھ بالکل صاف ستھری ہو جائے گی گند سے پاک رائٹ۔۔۔۔
وہ طنزیہ گویا ہوئی۔۔
ایمان تحمل سے اسے دیکھتی رہی۔۔۔
نہیں سارا معاشرہ صاف نہیں ہو جائے گا۔۔۔ اگر تم اپنی تھیم بدل کر پازیٹیویٹی پر لکھنے لگو تو اتنے سارے فحش اور گھٹیا مواد کے درمیاں ایک امپیکٹ ضرور پیدا ہوگا۔۔۔ جہاں فحش مواد کی بہتات ہوگئ وہاں لوگوں کو صاف ستھرا معیاری مواد بھی دکھے گا۔۔۔ پھر چوائس سبکی اپنی اپنی جو اسے پڑھنا چاہیے۔۔۔
کم از کم روز محشر تم اپنے رب کے سامنے یہ تو کہ سکو گی کے تم نے بساط بھر جہاد بالقلم کرنے کی کوشیش کی۔۔۔
دادا دینی پڑے گی تمہاری ۔۔۔ واو۔۔ یار یو آر گریٹ۔۔۔
وہ طنزیہ ستائشی انداز میں تالی بجاتی تمسخرانہ بولی۔۔۔
ویسے یہ خناس آ کہاں سے رہا ہے تمہارے دماغ میں۔۔۔ نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔۔۔ ابھی تک تو تم میرے ناولز بڑے چسکے لے کر پڑھتی تھی۔۔۔ اب یکدم سے پاک بی بی بن گئ۔۔۔ اسقدر طنزیہ تیروں پر ایمان کرب سے آنکھیں میچ گئ۔۔
ہدایت جب نصیب ہو قبول کر لینی چاہیے نا۔۔۔ اور نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو ہی جائے گی۔۔۔ کیونکہ ہماری جائے پناہ ہی اس ذات کے پاس ہے۔۔۔ تو اس میں طعنہ کیساپ۔۔۔ پتہ نہیں کیسے ایمان اسقدر تحمل کا مظاہرہ کر پا رہی تھی۔۔۔
پلیز زخرف تم میری باتوں کا غلط مطلب مت لو۔۔۔ ان سب چیزوں سے لوگ ٹرگر ہو کر کن غلط راہوں کے مسافر بن رہے ہیں تمہیں اندازہ ہی نہیں۔۔۔ اور انکی۔۔۔
تم نے پوری دنیا کا تھیکہ لے رکھا ہے کیا۔۔۔ کم عمر بچے کم عمر بچے۔۔۔ ارے انکے ماں باپ ہیں انہیں دیکھنے کے لگی۔۔۔ تم سب کی ماں کیوں بن رہی ہو۔۔۔ وہ غصے سے چٹختی اٹھ کھڑی ہوئی کے ایمان حق دق سی اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ اور تمہاری باتوں کا تو بہت اچھے سے مطلب سمجھ چکی ہوں میں۔۔۔ جل رہی ہو تم میری کامیابی سے۔۔ کے تمہاری جیسی عام سی لڑکی اسقدر مقبول کیسے ہو رہی ہے۔۔۔ کیسے لوگ اسے جاننے لگے ہیں۔۔۔
مائے گاڈ۔۔ ایمان سر تھام کر رہ گئ۔۔۔
ٹھیک ہے میں گھٹیا میرا کانٹینٹ گھٹیا۔۔۔ مجھے پڑھنے والے ہم سے بھی گھٹیا۔۔۔ تم تو پاکباز ہو نا۔۔۔ تو جو تنہا راستہ تم مجھے چننے کو بول رہی ہو وہ خود کیوں نہیں چن لیتی۔۔۔ زخرف کی نگاہوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔۔۔ ہاتھ تو تمہارے پاس بھی ہیں اور ساتھ میں دماغ بھی۔۔۔ تو لکھو جو لکھنا چاہتی ہو۔۔۔ کس نے روکا ہے۔۔۔
کرو کریٹ امپیکٹ اس معاشرے پر۔۔۔ میں بھی تو دیکھوں زرا تمہیں اور تمہارے امپیکٹ کو۔۔۔ اور جب تم امپیکٹ کریٹ کر لو تب شاید میری فالونگ مجھے چھوڑ کر تمہارا یونیققققق اور معیاری کانٹینٹ کنزیوم کرنے آ جائے۔۔۔ تب تک جان چھوڑو میری۔۔۔ وہ زوردار انداز میں اسکے سامنے ہاتھ جورٹی انتہائی حقارت سے کہتی واپس پلٹ گی جبکہ ایمان جہاں کی تہاں رہ گی۔۔۔
اسکی آنکھوں سے سیل رواں جاری تھا اور کانوں میں محض ایک ہی آواز گھونج رہی تھی۔۔۔
نصیحت سب کے لئے ایک سی نہیں ہوتی۔۔۔
جب یہ ہی آگ کچھ سالوں بعد گھوم پھر کر آ کر اپنے ہی گھر کو لگے گی۔۔۔ جب اس آگ نے اپنے ہی دامن جلائے نا کلیجے پر ہاتھ تب پڑے گا۔۔۔ ابھی غلط راہ اختیار کرنے والی دوسروں کی بچیاں ہیں اور بدلے میں ڈالرز مل رہے ہیں کل جب غلط راہ اختیار کرنے والی اپنی بچی ہوئی نا دل تب دہلیں گے۔۔۔
اسکے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے
*****

No comments