Rah_e_haq novel 24th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 24th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
چوبیسویں قسط۔۔۔
یہ خناس کس نے تمہارے دماغ میں بھرا ایمان۔۔۔۔ اس لڑکی سے مجھے کس قدر چڑ ہے یہ بات باخوبی جاننے کے باوجود تم مجھے یہ بول رہی ہو۔۔۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے تم پر۔۔۔ وہ واقعی حیرت زدہ تھا۔۔۔ دوستوں کے ساتھ جانے کی جلدی کہیں جاتی رہی تھی۔۔۔ اس بات نے اسے ڈسٹرب ہی اتنا کر دیا تھا کے اسے کچھ اور یاد ہی نا رہا۔۔۔ وہ کوفت سے بیٹھا ماتھا مسل رہا تھا۔۔۔
بھائی وہ اچھی لڑکی ہے۔۔۔اور۔۔۔۔
ایک منٹ ایمان۔۔۔۔ صرف ایک منٹ۔۔۔ میں نہیں جانتا کے وہ اچھی لڑکی ہے یا نہیں۔۔۔ کسی کو جج کرنے کا اختیار ہمارے پاس نہیں۔۔۔ لیکن اپنی زندگی کے بارے میں بہترین فیصلے لینے اور اپنی نسل کی بقا اور بہتری کے بارے میں سوچنا ہمارے اختیار میں ہے۔۔۔ وہ یکدم ہی بے حد سنجیدہ ہو اٹھا تھا۔۔
ایمان لب چباتے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ میں آپکی بات سمجھ نہیں پا رہی بھائی۔۔۔
میری بات سنو تم۔۔۔ انسان کی اصلیت کیا ہے یہ جاننا ہے تو انسان اپنی تنہائی کو جانچ لے۔۔۔ کوئی بھی انسان اپنی تنہائی میں جیسا ہوتا ہے بس وہی اسکی حقیقت ہے۔۔۔
ایمان کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ گردن میں ایک گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔ دل میں ایک چور سا جاگا۔۔۔ اسنے تھوک نگلا۔۔۔۔۔
اور انسان کی تنہائی کیسی ہے یہ تو اس انسان کے سوا کوئی نہیں جان سکتا نا بھائی۔۔۔ انسان کی تنہائی پر بھی اللہ نے پردے ڈال کر اسے اپنے اور اپنے بندے تک محدود کر ڈالا۔۔۔ تو پھر آپ کسی کی تنہائی کے بارے میں کیسے بات کر سکتے ہیں۔۔ جب ہم جانتے ہی کچھ نہیں۔۔۔۔
ہاں ہم نہیں جانتے کسی کے تنہائی کے بارے میں۔۔۔ لیکن انسان کی سوچ اسکی شخصیت کی عکاسی ہوتی ہے۔۔۔ جیسی آپکی شخصیت ہوگی ویسی ہی آپکی سوچ ہو گی۔۔ اور جیسی آپکی سوچ ہوگی ویسے ہی خیالات کا اظہار آپ اپنے الفاظ کے ذریعے دوسروں کے سامنے کریں گے۔۔۔
سمجھ پا رہی ہو میری باتوں کو۔۔۔ یہ سب چیزیں انٹر لنک ہے۔۔۔ اسی لئے سمجھدار لوگ کسی سے محض ایک ملاقات میں ہی اس سے بات کر کے اسکی شخصیت کے بارے میں جان لیتے ہیں۔۔۔
اب یہاں سے میری باتوں کو اور ان سے اٹھتے نقاط کو اچھے سے سنو۔۔۔ غیر جانداری سے ریلیٹ کرو۔۔۔ اور حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرنا۔۔۔
حامد کے سنجیدہ انداز اور باتیں اسکا دل ہولا رہی تھیں۔۔۔ ناجانے وہ مزید اپنی باتوں کے ذریعے اس پر کیا کیا انکشاف کرنا چاہتا تھا۔۔۔
جی بھائی۔۔۔ وہ الڑت ہو اٹھی۔۔۔
تمہاری دوست کسی طرح کا لکھتی ہے اور کیا لکھتی ہے تم بہتر جانتی ہوگئ۔۔۔ بھائی کے کہنے پر یکدم ہی اسکا سر جھک گیا۔۔۔ شرمندگی نے بے طرح اسکا احاطہ کیا۔۔۔
وہ اپنے لفظوں کے ذریعے سے رائٹنگ کے نام پر فحاشی پھیلا رہی ہے۔۔۔ جسکا اسے احساس نہیں ہے اور نا ہی اسے پڑھنے والوں کو ہے۔۔ وہ لفظوں کے ذریعے سے اپنی سوچ کو قرطاس پر بکھیر رہی ہے۔۔۔ اور پڑھنے والے نامحسوس انداز میں اس زہرہ کو قطرہ قطرہ اپنے اندر جذب کر رہے ہیں۔۔۔ وہ گھٹنوں پر کہنیاں رکھتا آگے کو ہو بیٹھا۔۔۔
اب ہم یہاں یہ نہیں کہہ سکتے کے وہ محض انجوائے منٹ کے لئے لکھتی ہے اور پڑھنے والے محض انجوائے منٹ کے لئے پڑھتے ہیں۔۔۔
کیونکہ قدرت کا ایک اصول ہے۔۔۔ جو اندر جائے گا۔۔۔ وہی باہر آئے گا۔۔۔
دھیاں سے سننا۔۔۔۔ جنک فوڈ کھا کر کوئی صحتمند جسم حاصل نہیں کر سکتا۔۔۔ جو جنک کھائے گا وہ اوور ویٹ ہوگا۔۔۔۔
صبح سے شام تخریب کاری والی خبریں سن کر دماغ ویسے ہی کام کرے گا تب آپکے اندر سے پازیٹیویٹی نہیں نکلے گی نکل ہی نہیں سکتی۔۔۔
جیسے شیروں کی صحبت میں بیٹھو گے تو شیر بن جاو گئے۔۔ اور گیڈروں کی صحبت میں بیٹھو گے تو گیڈر ہی بنو گے۔۔۔ صحبت کا ماحول کا اور کانٹینٹ کنزیوم کرنے کا آپکی شخصیت پر اتنا گہرا اثر پڑتا ہے۔۔۔۔
اسی طرح پڑھنے کے نام پر فحش مواد گھٹیا رومانس اور چیپ بیڈ روم سینز پڑھ پڑھ کر چوبیس گھنٹے دماغ میں یہ ہی سب چلے گا۔۔۔ اس سے کیا ہوگا۔۔ یہ چیز آپکی کریٹو ایبیلتی کو ختم کر دے لگی۔۔۔ آپکی سوچ اور آپکی دنیا محدود ہو کر محض اسی فحش مواد تک محصور ہو جائے گی۔۔۔ یہ زہر قطرہ قطرہ آپکی جسم میں جا کر نا صرف آپکو بلکہ آپکی آنے والی پوری نسل کو مفلوج کر دے گا۔۔۔ کیسے۔۔۔
جو لڑکی سالہا سال سے لکھ ہی فحش مواد رہی ہے۔۔۔ دن رات اسکے دماغ میں چل ہی یہ رہا ہے۔۔ ایک کے بعد دوسری قسط اور ایک ناول کے بعد دوسرا ناول اور تھیم سبکی فحاشی۔۔۔ اسکی دنیا محض انہی چیزوں کے گرد محصور ہو کر رہ گئ ہے۔۔۔۔
معذرت کیساتھ۔۔۔ بہت معذرت کے ساتھ ایمان۔۔۔ بہت بھاری بات کہنے جا رہا ہوں۔۔۔ وہ لڑکی کبھی بھی اپنی زندگی میں ایک اچھی ماں ثابت نہیں ہو سکتی۔۔۔
ڈھر ڈھر ڈھر۔۔۔ ایمان کو لگا پورے اپارٹمنٹ کی چھت اس پر آ گری ہو۔۔۔
انف بھائی۔۔۔ یہ اب بہت زیادہ ہو رہا ہے۔۔۔ وہ جھنجھلا اٹھی۔۔۔ جذباتیت کو پڑے رکھ کر میری بات سنو۔۔۔ اسے سمجھو۔۔۔
جس لڑکی کی زندگی ہی اس ایک فضول چیز کے گرد محصور ہو کر رہ گئ ہو جسنے ایک دنیا کی نوجوان نسل کے کچے اور شفاف ذہنوں کو غلط سوچ عطا کی انہیں غلط راستے پر چلنے کی راہ دکھائی۔۔۔۔ ترغیب دی۔۔۔۔ وہ اپنی اولاد کی تربیت کیا کرے گئ۔۔۔ اور بالفرض اگر اسکی بیٹیاں ہوئیں تو انہیں کیا سکھائے گی۔۔۔ جو آج ڈھرلے سے غلط پھیلا رہی ہے فحاشی کو پرموٹ کر رہی ہے کیا کل وہ اپنی بیٹیوں کے غلط کرنے کو غلط کہے گی۔۔۔
وہ بہت گہری باتیں تھیں جو ابھی تک ایمان کی عقل سمجھ سے پڑے تھیں جو اسکا بڑا بھائی اسے کھول کھول کر بتا رہا تھا۔۔۔ جنہیں سن کر ایمان کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔
اور میری آج کی کہی ایک بات پلو سے گانٹھ باندھ لو ایمان۔۔۔ یہ دنیا مقافات عمل ہے ۔۔۔ ببول بو کر کبھی پھول نہیں اگائے جا سکتے۔۔۔۔ جو آگ آج ایک ٹرینڈ کے طور پر دوسروں کے گھروں کو انکے معصوم پھولوں کے کچے ذہنوں کو لگائی جا رہی ہے نا۔۔۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔۔۔ جب یہ ہی آگ کچھ سالوں بعد گھوم پھر کر آ کر اپنے ہی گھر کو لگے گی۔۔۔ جب اس آگ نے اپنے ہی دامن جلائے نا کلیجے پر ہاتھ تب پڑے گا۔۔۔ ابھی غلط راہ اختیار کرنے والی دوسروں کی بچیاں ہیں اور بدلے میں ڈالرز مل رہے ہیں کل جب غلط راہ اختیار کرنے والی اپنی بچی ہوئی نا دل تب دہلیں گے۔۔۔
اللہ نا کرے بھائی کیسی باتیں کر رہے ہیں۔۔۔ وہ بس کسی بھی پل رو دینے کو تیار تھی۔۔۔
حقیقت سے آشنا کروا رہا ہوں تمہیں ایمان۔۔۔ تاکے تم میری اور زخرف کی شادی کی سوچ ہی دماغ سے نکال دو۔۔۔
ہم نے ہوری دنیا کا ٹھیکا نہیں لے رکھا ایمان۔۔۔ نا ہی ہم دنیا کو راہ راست پر لا سکتے ہیں۔۔۔ نصیحت سب کے لئے ایک سی نہیں ہوتی۔۔۔
بہتری کا سفر ہمیشہ خود سے شروع کیا جاتا ہے۔۔۔ پھر وہ آپکی شخصیت سے پھوٹنے والی پازیٹیویٹی ہوتی ہے جو دوسروں کو آپکی جانب اٹریکٹ کرتی ہے۔۔۔
ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور اپنی ذات کا سفر ہر کسی کو تنہا ہی کرنا پڑتا ہے۔۔۔
میں اپنا اپنی سوچ کا اپنی تنہائیوں کا اور اپنے اعمال کا ذمہ دار ہوں اور مجھے خود ہی ان سب پر کام کرنا ہے۔۔۔ ہر انسان اپنے بارے میں سوچتا ہے۔۔۔ اپنے بارے میں سوچنا اپنے لئے ایک بہتریں نیک اور پرہیزگار شریک حیات کو اپنی زندگی میں شامل کرنا اپنی آنے والی نسل کے بارے میں سوچنا یہ سب میرا کام ہے۔۔۔ میں ہر کسی کے معاملے میں ٹانگ نہیں اڑا سکتا۔۔۔
میں نہیں کہتا کے زخرف بری ہے۔۔۔ میں دعا گو ہوں کے اسے کوئی بہت بہتریں ہمسفر ملے لیکن وہ میں نہیں۔۔۔ میں خود کو اسکے لئے اہل ہی نہیں سمجھتا۔۔۔ میں سادا سا بندہ ہوں مجھے کوئی اپنے جیسی ہی چاہیے۔۔۔۔
بس تمہیں اور تمہارے ذریعے زخرف کو ایک ہی بات کہنا چاہوں گا کے اتنی مختصر سی زندگی ہے کیا پتہ کب واپسی کا بلاوا آ جائے۔۔۔ تو کیا جائے ہمارا اگر ہم اس مختصر سی زندگی کو اللہ اور اسکے حکموں کو پر سر جھکا کر گزار دیں۔۔۔
کیا جائے ہمارا جو ہم خود کو اللہ کی پسند کے مطابق ڈھالنے کی کوشیش شروع کردیں تو۔۔۔ اگر اللہ نے لکھنے کا ہنر دیا ہی ہے تو کیا جائے اگر اسکا بہتریں استعمال کرتے اسے اللہ کے احکام پھیلانے کے لئے استعمال کر لیا جائے تو۔۔ کیا جائے اگر اس ہنر کے ذریعے سے ٹوٹے دلوں کو انکے رب سے ملانے والی کڑی بن جایا جائے تو۔۔۔
کیا جائے اگر قلم کے استعمال سے کچے ذہنوں میں ایک غلط اٹریکش ڈالنے کی بجائے ان کچے ذہنوں اور دلوں پر اپنے لفظوں کے ذریعے سے اللہ کی محبت کو گوندھ دیا جائے۔۔۔
یہ سب سوچ کی بات ہوتی ہے ایمان۔۔۔ اور سارا کھیل ہی سوچ کا ہے۔۔۔ ہر کام کا آغاز ہوتا ہی سوچ سے ہے۔۔۔ اور یہ سارا فرق ہی سوچ کا ہے۔۔۔ اور یہ میری اور زخرف کی سوچوں میں پایا جانے والا تضاد ہی ہے جو ہم کبھی ایک نہیں ہو سکتے۔۔۔
اپنی بات مکمل کر کے وہ اسے سکتے میں بیٹھا چھوڑ واپس جا چکا تھا جبکہ میز پر پڑا ٹھنڈا انار کا جوس بنا چھوئے ہی گرم ہو گیا تھا جو ناجانے کب نوریں وہاں رکھ کر گئ تھی کے اپنی باتوں میں محو وہ دونوں ہی نوٹ نا کر پائے۔۔۔۔۔
*******
ایک پازیٹو چینج جو شامیر خان میں آیا تھا کے اسنے خود پر امجد کو مسلط کر لیا تھا۔۔۔ اسکے ہاتھ میں پورے دن کا شیڈیول دینے کے بعد اسنے امجد کو سخت وارنینگ دی تھی کے جب اسکے قدم ڈگمگانے لگے یا وہ کمفرٹ زون میں واپس جانے لگے یا اس دنیا کی چکا چوند اور دوستوں کا اسرار اسے اسکے مقصد سےہٹانے لگے تو تب امجد نے اسے سخت ریمائنڈر دینا ہے اور تب تک دیتے رہنا ہے جب تک وہ ٹریک پر واپس نا آجائے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو سخت سزا کا حقدار ہو گا۔۔۔۔
اب بیچارے امجد کی سہی جان مشکل میں پڑی تھی۔۔۔
وہ روازنہ آفس تو وقت پر آتا لیکن برا ہو جو کبھی پروشہ کبھی اسکا کوئی دوست تو کبھی مکمل دوستوں کا ٹولہ اسے لیجانے کے لئے وہاں آ دھمکتا اور شامیر انکے پرزور اسرار پر کام وائنڈ آپ کرتا انکے ساتھ چل دیتا۔۔۔
ایم سوری سر۔۔۔ آپ آفس سے نہیں جا سکتے۔۔۔ ابھی لنچ سے پہلے آپکی عدنان سر کے ساتھ پڑاجیکٹ کے حوالے سے ایک کلاس ہے جس میں وہ آپکو اس پڑاجیکٹ کے حوالے سے سب سمجھانے والے ہیں۔۔۔ اور لنچ کے بعد آپکی ایک میٹنگ ہے۔۔۔ اور اسکے بعد آپکو ریکارڈ کی فائلز چیک کرنی ہے۔۔ تو آپ ابھی کہیں نہیں جا سکتے۔۔۔ جانا چاہیں بھی تو لنچ میں جاسکتے ہیں اور لنچ کا وقت ہونے میں بھی ابھی ڈیرھ گھنٹہ باقی ہے۔۔۔ پہلے روز پروشہ کے ساتھ آفس ٹائمنگ میں کام چھوڑ کر جانے پر امجد اسکے سامنے بوتل کے جن کی مانند وارد ہوا تھا اور اسکے سامنے ہاتھ باندھے سر جھکائے مودبانہ انداز میں گویا ہوا کے شامیر سب یاد آنے پر سر کحجھا کر رہ گیا جبکہ پروشہ غصے سے لال پیلی ہوتی اس پر جھپٹنے کو تیار تھی۔۔۔
ہاو ڈئیر یو۔۔۔ تم ہوتے کون ہو اس پر حکم چلانے والے۔۔۔ یہ آفس اسکے باپ کا ہے۔۔۔ وہ یہاں کام کرے یا نا۔۔۔
ریلیکس پروشہ ریلیکس۔۔۔ اسے غصے میں آپے سے باہر ہوتے دیکھ شامیر کو ہی بات سمبھالنی پڑئ۔۔۔
اسے یہ ریمائنڈر دینے کو میں نے ہی کہا تھا۔۔۔ ویل امجد تھینکس یہ سب یاد ڈلونے کے لئے۔۔ میں واقعی بھول گیا تھا۔۔۔ سو پروشہ ایم سوری۔۔۔ آدھے گھنٹے کی لنچ بریک ہوگی اس میں ہم لنچ کرنے چلیں گے لیکن اس کے لئے بھی تمہیں ڈیرھ گھنٹہ انتظار کرنا پڑے گا۔۔۔ شامیر کے کہنے پر پروشہ غصے سے کھولتی پاوں پٹخ کر تن فن کرتی آفس سے ہی چلی گئ جبکہ شامیر شانے اچکاتا اپنے آفس میں آگیا ۔۔۔ اسکے بعد سے یہ تقریباً روز کا معمول بن گیا تھا ۔۔۔امجد کو روزانہ کی بنیاد پر تقریباً ایک دفعہ تو شامیر کو ٹوکنا پڑتا۔۔۔ امجد کو اب ان سب چیزوں کی عادت ہوتی جا رہی تھی اور کسی حد تک یہ سب کچھ شامیر کے بھی کام میں شامل ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔
*****
حامد سے ہوئی باتوں کا ایمان نے بہت گہرا اثر لیا تھا۔۔۔ اتنا کے وہ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاتے اسکے سر پر سوار ہونے لگیں تھیں۔۔۔ باتوں میں وزن تھا اگر وہ غلط روش اختیار کر سکتی تھی تو کیا محض وہی تھی جسنے یہ روش اختیار کی تھی یا اسکے ساتھ ساتھ مزید لوگ بھی تھے جو اسکے ساتھ ان غلط راہوں کے مسافر تھے۔۔۔ اسنے باقاعدہ اس بات پر ریسرچ کرنا شروع کی اور ینگسٹرز کی تعداد دیکھ کر چکراتا سر تھام کر رہ گئ۔۔۔ وہ تنہا نہیں تھی جو اس دلدل میں گر پڑی تھی۔۔۔ بلکہ وہ دلدل تو بھری پڑی تھی اس جیسے معصوموں سے جو کہیں نا کہیں کسی نا کسی طرح سے اس دلدل میں گر چکے تھے اور اب وہاں سے نکلنے کو بن جل پانی کی مانند ہاتھ پاوں مارتے تڑپ رہے تھے۔۔۔ خاموش آنسو اسکی آنکھوں سے بے دریغ بہہ نکلے۔۔۔ اسنے ان تمام ویب سائٹس اور سکالرز کے پاس ان تمام لوگوں کے کمنٹس چیک کئے جو اس دلدل سے نکلنے کی کوشیشوں میں ہلکان تھے۔۔۔۔۔ انکی آواز میں وہی درد اور کوشیش میں ناکام ہونے پر وہی کرب چھلکتا دیکھائی دیتا تھا جو ایمان کی ذات کا خاصا بنتا جا رہا تھا۔۔۔ اسے خود میں اور ان تمام ہزاروں لاکھوں لوگوں میں کوئی فرق محسوس نا ہوا۔۔ یہ وہ لوگ تھے جو آگاہی حاصل کر چکے تھے کے وہ ایک دلدل میں گر چکے ہیں جبکہ اسکے علاوہ ان لوگوں کی تو کوئی تعداد ہی نہیں تھی جو اس راستے پر چلتے ہنوز بے خبر اور گمراہ تھے۔۔۔
ایمان کو لگا اسکا دل درد سے پھٹ جائے گا۔۔۔ اسکا معاشرہ تباہی کے کس دہانے پر آ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔ پورا دن اور پوری رات ان تمام باتوں کا اثر لے کر خوب سارا رو رو کر اپنے رب سے ہدایت کی دعا مانگ کر وہ آخر کار اس نتیجے پر پہنچی کے بھائی کی باتیں سچی ہیں۔۔۔ ہم پورے معاشرے کو نہیں بدل سکتے۔۔۔
تبدیلی اور بہتری کا عمل خود سے شروع کر کے اپنے سے وابسطہ لوگوں تک پھیلایا جاتا ہے۔۔۔۔ اب وہ صبح پہلی فرصت میں سب سے پہلے زخرف سے مل کر اس بارے میں بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔ حیرت کی بات تھی کے جب پڑھنے والے فحش مواد سے ٹرگر ہو کر گمراہی کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں تو کیا فحش مواد کو لکھنے والا ان راستوں کا راہی نا ہوتا۔۔۔ ایمان جتنا ان باتوں کے بارے میں سوچتی اتنا ہی اسے اپنا سر چکراتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ لیکن اب وہ زخرف سے مل کر اس مسلے کا کوئی مستقل حل نکالنے کے بارے میں ٹھان چکی تھی۔۔۔
****"

No comments