Rah_e_haq novel 23rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 23rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
تئیسویں قسط۔۔۔
اسلام علیکم خان۔۔۔ کیسے ہیں آپ۔۔۔ سب خیریت ہے نا۔۔۔ مطلب آپ نے رات کے اس پہر فون کیا۔۔۔
فون کان سے لگاتے ہی وہ ڈھرکتے دل کے ساتھ گویا ہوئی ۔۔۔ لہجے میں خوف کا عنصر نمایاں تھا۔۔۔
کیوں ۔۔۔ کیا میں تمہیں رات کے اس پہر فون نہیں کر سکتا۔۔۔ دوسری طرف شامیر کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔
میرا وہ مطلب ہرگز نہیں خان۔۔ آپ جب چاہیں مجھے فون کر سکتے ہیں میں تو اس لئے کہہ رہی تھی کے عموماً کہا جاتا ہے کے آدھی رات کو آنے والی فون کالز خیریت کی نہیں ہوتی۔۔۔ اس لئے میں گھبرا گئ تھی۔۔۔
وہ سرعت سے صفائی دیتی گویا ہوئی کے کیا پتہ کونسی بات کب اس شخص کے مزاج پر گراں گزرے۔۔۔
وہ مسکرا دیا۔۔۔ سویٹ ہارٹ ہمارے ہاں فون کالز کرنے کا یہ ہی ٹائم ہوتا ہے۔۔۔
چھوڑو ان فضول باتوں کو۔۔۔ بتاو کیسی ہو۔۔۔ اور میرا بے بی کیسا ہے۔۔۔ کیا کر رہی تھی۔۔۔ وہ مسکرایا۔۔ لہجے میں استحقاق تھا۔۔۔
ایمان گہری سانس خارج کرتی کھلی آبشار کا گول مول سا جوڑا بناتی بیڈ کراوں سے ٹیک لگا کر نیم درز ہوگئ۔۔۔
میں ٹھیک ہوں اور بے بی بھی۔۔۔ بس طبیعت کچھ اوپر نیچے رہتی ہے۔۔۔ ڈاکٹر کے پاس گئ تھی انہوں نے کچھ وٹامنز ٹیبلٹس دی ہیں نیز کہا ہے کے ایسی طبیعت اس کنڈیشن میں عام ہے۔۔۔ اس شخص کی خیریت معلوم ہوئی تو وہ کچھ ریلیکس ہوتی اس سے کھل کر بات کرنے لگی۔۔۔
کیا آپ بہت مصروف ہوتے ہیں خان۔۔۔۔ انگلی کے ناخن سے انگھوٹے کا ناخن کھرچتی وہ جھجھک کر پوچھ بیٹھی کے سیدھی طرح یہ پوچھ نا پائی کے اس نے اتنے دنوں سے رابطہ کیوں نہیں کیا۔۔۔
بہتتتت زیادہ۔۔۔ مصروفیت اتنی ہوتی ہے کے میں خود کو بھی بھول جاتا ہوں۔۔۔ وہ بستر پر چت لیٹا آنکھین موندے پرسکون سا بات کر رہا تھا۔۔۔ سر کا درد رفتہ رفتہ زائل ہونے لگا تھا۔۔۔
کیا آپ نے مجھے مس کیا خان۔۔۔ ناجانے کیسے وہ پوچھ بیٹھی۔۔۔
خان نے پٹ سے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔۔
سچ بتاوں یا جھوٹ۔۔۔ اسکے اتنے سٹریٹ فارورڈ جواب پر ایمان کا دل دھک سے رہ گیا ۔۔ جانے کیسے وہ بات کی تہہ تک پہنچ گئ۔۔۔
رہنے دیں بتانے کو۔۔۔
کیوں۔۔۔ وہ کہنیوں کے بل لیٹتا دلچسپی سے گویا ہوا۔۔۔ آپکا لہجہ ٹیوں اور بات کرنے کا انداز بتا رہا ہے کے آپکا جواب مجھے پسند نہیں آئے گا۔۔۔ لحاظہ بھرم قائم رہنے دیں۔۔۔ اسکی آواز میں اداسی گھلنے لگی۔۔۔
خان نے ستائشی آئبرو اچکائی۔۔۔ کیسے ہو تم اتنی سمجھدار یار۔۔۔۔
حالات بنا دیتے ہیں آپکو سمجھدار۔۔۔ ویسے آپ میرے دل کو خوش فہم کرنے کو میری تردید بھی کر سکتے تھے۔۔۔ اسنے گہری سانس خارج کی۔۔۔
اور یہ ہی میں کرنا نہیں چاہتا۔۔۔ تم حقیقت پسند لڑکی ہو اسی لئے میں تمہیں خوش گمانیوں کی راہوں کا مسافر نہیں بنانا چاہتا ۔۔۔
آپ سب کے ساتھ ہی اتنے سٹریٹ فارورڈ اور خطرناک حد تک سچے ہو جاتے ہیں یا یہ کوالٹی محض میرے لئے ہے۔۔۔ وہ چڑی۔۔۔
محض تمہارے لئے ہے۔۔۔ بنا توقف کے موصول ہوتا جواب اسے لاجواب ہو گیا۔۔۔
اور کبھی جو آپکو مجھ سے خطرناک قسم کی محبت ہوگئ تو۔۔۔ دل اندر ہی اندر سلگ رہا تھا۔۔۔ وہ شخص اسکا تھا مگر خود کو اسکے لئے بے حد مشکل بنا رہا تھا یہ چیز اندر ہی اندر اسے کاٹ رہی تھی۔۔۔
تب کی تب دیکھیں گے۔۔۔ وہ سادگی سے بولا۔۔۔
مجھے اب یقین ہونے لگ گیا ہے خان کے میرا اللہ باوجود میرے گنہگار ہونے کے میری دعائیں سنتا ہے۔۔۔ اور میں اللہ سے دعا کروں گی کے وہ آپکے دل میں میرے لئے اتنی محبت ڈال دے۔۔۔ اتنی محبت ڈال دے کے مجھے دیکھے بنا مجھ سے بات کئے بنا آپکی صبح نا ہو۔۔۔ آپکا دن مجھ سے شروع ہو کر مجھ پر ہی ختم ہو۔۔۔میں آپکے روم روم میں بسنے لگوں۔۔۔ میرے بنا آپ خود کو ادھورا۔۔۔
گاڈڈددد۔۔۔۔ میں تمہیں خوش گمانیوں کے راستے کا مسافر بننے سے روکنا چاہتا ہوں سویٹ ہارٹ اور تم ہو کے بنا بریک کے نان سٹاپ اس پر بھاگی چلی جا رہی ہو۔۔۔ گریٹ۔۔۔
شامیر خان کے لہجے کی ہسی اور اسکی بات کاٹنا ناجانے کیوں ایمان کی آنکھیں نم کر گیا۔۔۔
وہ یک لخت خاموش ہوگئ۔۔۔۔
چلیں چھوڑیں۔۔۔ آپ سے کیا شکوہ کرنا۔۔۔ میرے معاملے میں تو آپ صدا کے ظالم ٹھہریں۔۔۔ وہ سرعت سے خود کو کمپوز کر گئ۔۔۔
کیا ہمارا رشتہ اس نہج پر پہنچ گیا جہاں تم مجھ سے گلے شکوے کرنے لگی۔۔۔ شامیر کی سنجیدہ آواز پر وہ کرب سے آنکھیں میچ گئ۔۔۔
اسنے دو تین گہرے گہرے سانس بھرتے خود کو کمپوز کیا۔۔۔
شکوہ نہیں کر رہی۔۔۔
لیکن مجھے تو ایسے ہی محسوس ہوا۔۔۔ جانتی ہو نا ہمارا رشتہ مجبوری کا سودا ہے۔۔۔ اس رشتے میں بندھے رہنا سراسر تمہاری چوائس ہے۔۔۔ ورنہ میں نے تمہیں کبھی بھی اپنا پابند نہیں بنایا تھا۔۔۔ اور ہم دونوں کو جوڑنے والی کڑی یہ بچہ ہے جو ابھی اس دنیا میں آیا ہی نہیں۔۔۔ تو پھر یہ دھونس یہ شکوے کیا ہے یہ سب ایمان۔۔۔
اسکا موڈ کب کہاں بگڑ جائے وہ کہاں جانتی تھی۔۔۔ تبھی اب اسکا یہ سنجیدہ اور سخت لہجہ اسکی جان پر بنا گیا تھا۔۔۔ اتنے دنوں بعد اسنے رابطہ کیا تھا اور تب بھی وہ اتنے غصے میں آ گیا تھا۔۔۔ اسکا دل ڈوبنے لگا۔۔ وہ شامیر کو غصہ نہیں دلا سکتی تھی۔۔۔
میں تمہیں سپورٹ کر رہا ہوں۔۔۔ اس بچے کے لئے ایک الگ دنیا بسا رہا ہوں مگر اسکا مطلب یہ نہیں کے میں اپنی دنیا سے لاتعلق ہو جاوں۔۔۔ تمہارا آج یہ حال ہے تو کل میری شادی پر کیا ہو گا۔۔۔ وہ خطرناک حد تک سٹریٹ فارورڈ ہو رہا تھا۔۔۔ وہ تمام چیزیں جو مستقبل میں اسکے غم کی وجہ بن سکتی تھی وہ رفتہ رفتہ اسے ان سب کا عادی بنا رہا تھا۔۔۔
شادی۔۔۔۔ ایمان کو لگا کے پورے اپارٹمنٹ کی چھت اس پر آ گری ہو۔۔۔
افکورس شادی۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے میرے ماں باپ میری شادی نہیں کریں گے۔۔۔ اور جب وہ لمحات میری زندگی میں ائیں گے تو کیا تب بھی تم مجھے یوں ایموشنل بلیک میل کر کے یا یوں شکووں کے انبار لگا کر مجھے شرمندہ کرنے کی کوشیش کرو گی۔۔۔۔
ری۔۔ ریلیکس خان۔۔۔ پلیز ایم سوری۔۔۔ میرا مقصد آپکو غصہ دلانا نہیں تھا۔۔۔۔ پلیز ریلیکس ہو جائیں۔۔۔ میں کوئی شکوہ نہیں کر رہی۔۔۔ میں اپنی زندگی میں خوش ہوں۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں۔۔۔ اچھا چھوڑیں یہ سب باتیں ۔۔۔ میں آپکو ہمارے بے بی کا کمرا دکھاتی ہوں میں نے اسے خود اپنے ہاتھوں سے دو دن لگا کر ڈیکوریٹ کیا ہے۔۔۔
وہ تحمل سے بات بدلتی اٹھ کر ننگے پاوں کمرے سے باہر آئی اور خان کا دھیان بٹانے کو اسے بے بی کے لئے تیار کردہ کمرے کی ایک ایک چیز دکھانے لگی۔۔۔ صد شکر کے وہ بھی اس بات کو جلد چھوڑ گیا۔۔۔ یا اسکا مقصد تھا ہی نہیں اس بات کو لمبا کھینچنا۔۔۔۔۔لیکن ایک بات جو اس روز کنزل ایمان نے جانی کے انکے رشتے میں گلے شکوے کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔ وہ خان سے گلہ نہیں کر سکتی۔۔۔
وہ اسے توجہ و محبت دے تو دے ورنہ وہ اس سے کوئی ڈیمانڈ نہیں کر سکتی۔۔۔۔ وہ چیز جو شامیر اسے اپنے رویے سے سمجھانا چاہتا تھا وہ پہلے ہی مرحلے میں بہت اچھے سے سمجھ گئ تھی۔۔۔
اسکے اندر ایک مستقل چپ لگنے لگی تھی۔۔۔ شاید شامیر خان اسے مسقبل کے لئے تیار کرنا چاہتا تھا تا کے وہ ابھی سے اپنی اور اسکی زندگی کے اتار چڑھاو کو سمجھنے لگے۔۔۔۔
******
شامیر خان بلیک جینز پر گرے ٹی شرٹ اور وائٹ کوٹ زیب تن کئے نئے ہیر کٹ کیساتھ نک سک سے تیار تیزی سے قدم اٹھاتا آفس کی عمارت میں داخل ہو رہا تھا۔۔۔۔ رات ایمان کی کہی باتیں ایک پل کو دماغ سے محو ہونے کو تیار نا تھیں۔۔۔ اسے تو اسنے بری طرح جھڑک دیا کے اس رشتے کا مستقبل کیا ہونا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کجا کے اس معصوم کو کوئی امید کا سرا پکڑانا۔۔۔ مگر خود وہ اب اپنے بچے کے لئے اپنی زندگی کیساتھ سنجیدہ ہونا چاہتا تھا۔۔۔
آفس کی راہداری سے گزرتے کئ ورکرز نے اسے کھڑے ہوتے سلام کیا وہ سر کے اشارے سے سب کو جواب دیتا آگے بڑھ رہا تھا۔۔ دفعتاً وہ بابا کی سیکریٹری کے ڈیسک کے آگے رکا۔۔۔
بابا آفس میں آگئے کیا۔۔۔۔
یس سر۔۔۔ انکی عدنان سر کے ساتھ کوئی میٹنگ چل رہی ہے۔۔۔ سیکریٹری کے کہنے پر وہ سر ہاں میں ہلاتا آگے بڑھ گیا۔۔۔
لفٹ سے سیکنڈ فلور پر آیا اور دائیں راہداری مڑ کر بابا کے آفس کی جانب بڑھا۔۔۔ دروازے کے سامنے رک کر وہ ہلکا سا ناک کرتا بنا اجازت کا انتظار کئے اندر بڑھ گیا۔۔۔
سامنے بابا اور عدنان بھائی کسی بزنس ماڈل پر ڈسکشن کر رہے تھے۔۔۔ سامنے ایک پلازہ کا کنسٹرکشن ماڈل پڑا تھا۔۔۔
اسے اندر آتا دیکھ وہ دونوں خاموش ہوتے اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔۔
سو فائنلی ہمارے شیر نے ایک ہفتے بعد آفس میں اپنی صورت دکھا ہی دی۔۔۔ عدنان بھائی اسے دیکھ مسکرائے جبکہ وہ بنا کوئی ردعمل دئیے انکے ساتھ کی کرسی گھسیٹ کر بیٹھا۔۔۔
بابا یہ دبئ والا نیا کنسٹرکشن کا پڑاجیکٹ میں پورا کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
وہ باپ کی جانب دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا جبکہ بابا اسکی بات سن کر مسکرا دئے جیسے بڑا چھوٹے بچے کی بات سن کر مسکراتا ہے۔۔۔
اور یہ کتنے دنوں کا فوبیا ہو گا۔۔۔۔بابا کا انداز شریر تھا۔
بابا پلیز۔۔۔ میں مذاق نہیں کر رہا۔۔۔
اور مذاق تو میں بھی نہیں کر رہا شامیر۔۔۔ یہ پراجیکٹ بہت اہم ہے۔۔
کیا مجھ سے بھی اہم ہے۔۔ وہ شاکی ہوا۔۔۔
اسکا ضدی اور ہٹ دھرم انداز دیکھ بابا خاموش رہ گئے۔۔۔۔
نہیں خیر میرے بیٹے سے زیادہ اہم تو نہیں۔۔۔۔ لیکن بزنس میں جذباتیت نہیں چلتی شامیر۔۔۔ وہ سبھاو سے گویا ہوئے۔۔۔
بابا آپ اپنے بیٹے کے لئے ایک پڑاجیکٹ جذباتیت کے نام کر ڈالیں۔۔۔ وہ میز پر آگے کو جھکتا باپ کی جانب دیکھتا بولا۔۔۔
زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا ورسٹ کیس سونیریو کیا ہوگا کے پڑاجیکٹ ناکام ہو جائے گا۔۔۔۔۔ تو سمجھئے گا کے آپ نے اپنے بیٹے کو ایک لیسٹیٹ مادل کی سپورٹ کار لے ڈالی۔۔۔ بس۔۔۔ اتنا سا ہی نقصان ہو گا آپکو اس پراجیکٹ کے ناکام ہونے سے۔۔۔
دوسرا چانس یہ بھی ہے کے یہ پڑاجیکٹ کامیاب ہوجائے۔۔۔ مگر دونوں صورتوں میں آپکے بیٹے کا بزنس کی دنیا میں اعتماد بڑھ جائے گا۔۔۔ کیا آپکا یہ پراجیکٹ آپکے بیٹے کے اعتماد سے بڑِھ کر ہے۔۔۔ اسکی اسقدر جذباتی تقریر پر بابا اپنے لاابالی اور لاپرواہ سے بیٹَے کو دیکھ کر رہ گئے۔۔ جبکہ عدنان بھائی نے باقاعدہ داد دینے والے انداز میں تالی بجاتے اسے اپریشیٹ کیا۔۔۔۔
بنا بزنس کی الف بے جانے تم یہ کیسے کرو گے شامیر۔۔۔ بابا نے بے طرح اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔
میں عدنان بھائی سے مدد لے لوں گا۔۔۔ وہ گویا اپنا ہوم ورک مکمل کر کے آیا تھا۔۔۔
عدنان نے اپنے سو کام بھی نبٹانے ہوتے ہیں۔۔۔
اٹس اوکے بابا۔۔۔ شامیر کے لئے میں آل ٹائم اوویل ایبل ہوں۔۔۔ بھیا کے سیز فائر کرنے والے انداز میں ہاتھ اٹھانے پر شامیر مسکرا دیا۔۔۔
ٹھیک ہے اگر تم دونوں نے مل کر میرے اس پراجیکٹ کو دبونے کا سوچ ہی لیا ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ پہلے میری اولاد کے اور الگ بکھیرے تھے جو اب ان بکھروں میں انہوں نے بزنس کو بھی انوالو کر لیا۔۔۔۔ مجھے ابھی سے اگلا پراجیکٹ دیکھنا ہو گا۔۔۔ بابا عدنان بھائی کے اس فیصلے سے ناخوش تھے۔۔ ۔
یہ پراجیکٹ کامیاب بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ شامیر نے جٹلایا۔۔۔۔
ننانوے فیصد چانسس ہیں کے یہ ناکام ہی ہوگا۔۔ بابا اس پلازے کے ماڈل کو سائیڈ پر ہٹاتے اپنے آگے فائل کھول چکے تھے گویا اس کام سے انکی دلچسپی ختم ہو گئ ہو۔۔۔
اور میرے کیس میں ایک فیصد ننانوے فیصد پر بھاری پڑنے والا ہے ۔۔۔ آپ دیکھ لیجئے گا۔۔۔ انشااللہ۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ جبکہ بابا تاسف سے سر نفی میں ہلا کر رہ گئے۔۔۔
******
ارے بھائی آپ۔۔۔ اپارٹمنٹ کا دروازہ ناک ہونے کی آواز پر نورین نے دروازہ کھولا تو کمرے سے نکلتی ایمان اندر داخل ہوتے حامد کو دیکھ چہک اٹھی۔۔۔
کیسی ہو ایمان ۔۔۔ دوستوں کے ساتھ جا رہا تھا تو ماں نے بولا کے یہ بریانی جاتا جاتا تمہیں دے جاوں۔۔۔ اسنے ایمان کے سر پر پیار دیتے اپنے آنے کا مقصد بتایا اور شاپنگ بیگ میں موجود باول اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
ارے واہ ماں نے بریانی بنائی ہے۔۔۔ وہ باول باہر نکالتی اسکا دھکن اتاتی ایک گہرا سانس بھر کر بریانی کی خوشبو اپنے اندر تک اتارتی مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔
ظاہر سی بات ہے کے یہ تمہاری فیورٹ ہے تو ماں بھلا تمہیں بھیجے بنا خود کیسے کھا سکتی تھیں اسکی خوشی دیکھ وہ مسکرا دیا۔۔۔۔
اچھا نا بھائی بیٹھیں آپ۔۔۔ جانے کی جلدی مت مچانا۔۔۔ مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ بہت دنوں سے آپ سے بات کرنے کی کوشیش کر رہی تھی لیکن وقت نہیں ملا۔۔۔
ایمان نے بریانی کا باول نورین کو پکرایا اور خود حامد کا بازو پکڑ کر اسے صوفے پر بیٹھانے لگی۔۔۔
ارے ایمان ابھی دیر ہو رہی ہے میرے دوست۔۔۔
کوئی نہیں۔۔۔ چھوڑیں سب۔۔۔۔ پہلے میری بات سنیں۔۔۔ اسنے گویا ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔
نورین تم فریش انار کا جوس بنا لاو۔۔۔ وہ حامد سے کہہ کر وہیں بیٹھے بیٹھے نورین سے گویا ہوئی۔۔۔
میں کچھ نہیں پیوں گا ایمان۔۔۔
میں اپنے لئے کہہ رہی تھی بھائی۔۔۔۔ اور جب میں پیوں گی تو آپکو بھی پینا پڑے گا کیونکہ مجھے کسی کی کمپنی چاہیے اور آپ سے بہتر مجھے کمپنی کون دے سکتا ہے۔۔۔ا سنے شانے اچکائے۔۔۔ شریر لڑکی۔۔۔ حامد نے اسکے شانے پر ایک چیت رسید کی۔۔۔
ہاں جلدی بولو کیا بات ہے۔۔ مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ وہ رسٹ واچ کی جانب دیکھتا گویا احسان کرنے والے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
بھائی ماں آج کل آپکی شادی کے لئے لڑکی ڈھونڈ رہی ہیں۔۔۔ تو اگر لڑکی کے حوالے سے آپکی کوئی ڈیمانڈ ہے تو آپ بتا دیں کے آپکو کیسی لڑکی بطور ہمسفر چاہیے یا آگر کوئی آپکو پسند ہے تو۔۔۔ وہ اپنی بات کرنے کے لئے تمہید باندھ رہی تھی۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں ایمان۔۔ مجھے بماں کی پسند پر پورا بھروسہ ہے۔۔۔ جیسے ماں میرے لئے پسند کریں گی یقیناً وہ میرے لئے ایک بہترین انتخاب ہوگا۔۔۔ حامد کے کہنے پر وہ کھل کر مسکرا دی۔۔۔
اگر ایسی بات ہے تو بتائیں پھر میری دوست زخرف کیسی ہے۔۔۔ اگر وہ میری بھابھی بن جائے تو۔۔۔ اسکے رویے سے حوصلہ پا کر وہ دل کی بات کہہ گئ۔۔۔
وھاٹ۔۔۔ اسکی بات سن کر گویا حامد کو چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔ وہ اپنی جگہ سے اچھل کر رہ گیا۔۔۔
بھائی پلیز آپ اپنی پرانی چپقلش کو ایک سائیڈ پر کر کے زرا نیوٹرل ہو کر اس کے بارے میں سوچ کر دیکھیں وہ یقیناً آپ کے لئے ایک بہتریں ہمسفر ثابت ہوگی۔۔۔ وہ اپنی بات میں وزن قائم کرنے کو دلائل دیتی مدبرانہ انداز میں گویا ہوئی جبکہ حامد گم صم سا بھنچے لبوں سمیٹ آنکھیں چندہی کئے ایمان کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
*****
جاری ہے۔۔۔
ڈئیر ریڈرز۔۔۔ کیا لگتا ہے کے حامد کا اس رشتے کو لے کر جواب کیا ہوگا۔۔۔
اینی گیسسز
۔۔۔

No comments