Rah_e_haq novel 22nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 22nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
بائسویں قسط۔۔۔
خان کو واپس گئے دو دن ہو گئے تھے مگر اس نے پلٹ کر ایمان سے رابطہ تک نا کیا ۔۔۔ یہ دو دن ایمان پر بہت بھاری گزرے۔۔۔۔ پہلے خان سے رابطہ نہیں تھا تو دل کو کوئی امید نہیں تھی اسی لیے وقت کٹ رہا تھا۔۔۔ مگر جب سے وہ اس سے مل کر گیا تھا۔۔۔ اسے اور اپنے بچے کو کھلے دل سے قبول کر کے گیا تھا تب سے دوبارہ اس سے رابطہ بحال نا ہونے پر دل کو پتنگے سے لگ گئے تھے۔۔۔ وہ ہر کچھ وقت بعد موبائل اٹھا کر دیکھتی۔۔۔کے شاید اسنے کوئی میسج چھوڑا ہو۔۔ مگر ندارد۔۔۔ زندگی کے اس مقام پر آ کر ایمان نے جانا تھا کے انتظار بہت بری چیز ہے۔۔۔ یہ آپکو گھن کی طرح کھا جاتی ہے۔۔۔ آپ اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر مرنے لگتے ہیں۔۔۔
انتظار کی سولی پر لٹکی وہ قطرہ قطرہ موم بن کر پگھلنے لگی تھی۔۔۔ مگر مقابل شاید ظالم تھا۔۔۔ نظر انداز کرنے کے ہنر سے باخوبی آگاہ تھا۔۔۔
اب تو نمبر کی بھی بات نہیں رہی تھی کے ایمان کے پاس اسکا نمبر نہیں۔۔۔ نمبر ہونے کے باوجود اسے اپنی ہی کہی بات کا پاس مارے جا رہا تھا۔۔۔ اور خان نے بھی تو اسے کوئی آس کا دیا نہیں تھمایا تھا۔۔۔ وہ تو واضح لفظوں میں اسے اسی کی کہی بات کا حوالہ دے گیا تھا کے وہ اپنے کہے کے مطابق اس سے رابطہ نہیں کر سکتی۔۔۔
کئ بار دل میں خیال آیا کے ڈھیٹ بن کر اپنی عزت نفس پر پاوں رکھتی اسے فون کر ڈالے مگر پھر اسی کے کہے الفاظ یاد آتے تو سر جھٹک جاتی۔۔۔
یہ رشتہ خوش اسلوبی سے تب تک چلتا رہے گا جب تک تم کچھ ڈیمانڈ نہیں کرو گئ۔۔۔کیونکہ اپنی تیزی سے بھاگتی ڈورتی زندگی میں اس رشتے کو اپنے ساتھ ساتھ لے کر چلنا میرے لئے کوئی آسان کام نہیں۔۔۔ البتہ اس رشتے کو اپنے ساتھ ساتھ گھسیٹنا ایک مشکل امر ہے۔۔۔
اور شامیر خان بہت سہل پسند ہے۔۔۔ مشکل کاموں سے میری جان جاتی ہے۔۔۔ لیکن اسکے باوجود میں نے مشکل امر چنا ہے۔۔۔ صرف تمہارے لئے اپنے بچے کے لئے۔۔۔۔
شاید آہستہ آہستہ میں ان سب کا عادی ہو جاوں لیکن فلحال اگر میرے لئے مشکلات بڑھی تو بحرحال فرار کا راستہ میرے لیے آسان ہو گا۔
اففف۔۔۔ وہ گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔۔۔
مجھے اس خود ترسی کی سی فیز سے نکلنا ہے۔۔۔ اس فیز میں رہی تو ہمہ وقت ڈپریسڈ رہ رہ کر میرا تو نروس بریک ڈاون ہو جائے گا۔۔۔ وہ چونک کر سمبھلی۔۔۔ آج کل منفی سوچیں اور اورر تھنک انگ اتنی زیادہ ہونے لگی تھی کے وہ خود تک کو فراموش کر جاتی۔۔۔ کرنے کچھ بیٹھتی اور اورر تھنک انگ میں کھو کر اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ ضائع کر کے ہوش میں آتی تو سر تھام کر رہ جاتی۔۔۔۔
آپی میرا کام ختم ہو گیا میں ایک گھنٹے کے لئے چلی جاوں۔۔۔ ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں انہیں کھانا کھلا کر دوائی دے کر واپس آ جاوں گی۔۔۔
دفعتاً نوریں ملازمہ کے آ کر پوچھنے پر وہ سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔ وہ بائیس چوبیس سالہ ایک خوش شکل لڑکی تھی جو اسکے پاس جز وقتی ملازمہ کے فرائض سر انجام دیتی تھی۔۔۔۔
اس کے جانے کے بعد دفعتاً ایمان کی نظر میز پر پڑے پمفلٹ پر پڑی ۔۔۔ اسے یاد آیا کے کل شام نورین کے ساتھ گروسری شاپنگ کرنے کے بعد واپس آتے ہوئے راستے میں یہ پمفلٹ اسے ایک بچے نے تھمایا تھا۔۔۔
وہ پمفلٹ کو اٹھاتی تفصیل سے پڑھنے لگی۔۔۔
دنیا میں بہتریں انویسٹمنٹ خود پر کئ جانے والی انویسٹمنٹ ہے۔۔۔
ایک قدم آگے بڑھیں اور خود پر انویسٹ کریں۔۔۔
خود شناسی کا سفر۔۔۔۔
پمفلٹ پر لکھی تحریروں پر نظر پڑتے ہی وہ کہیں کی کہیں پہنچنے لگی۔۔۔ وہ خود شناسی پر ایک شارٹ کورس تھا۔۔۔ لوکیشن بھی اپارٹمنٹ بلڈنگ کے آس پاس کی ہی تھی۔۔۔
آج کل کالج آف تھا اور کرنے کو اسکے پاس محض ایک ہی کام تھا اوور تھنک انگ۔۔۔۔ ایسے میں یہ اسکے لئے ایک بہترین چوائس تھی۔۔۔
اسنے وہیں بیٹھے بیٹھے آن لائن اس کورس میں ان رول کیا۔۔۔
اسکی پہلی کلاس ہی اب سے کچھ دیر بعد کی تھی۔۔۔ ہفتے کے چار دن ایک گھنٹہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے لئے نکالنا اسکے لئے کچھ مشکل نا تھا۔۔۔۔
*****
ایمان کے قدم اس بلڈنگ کی جانب تیزی سے اٹھ رہے تھے۔۔۔ وہ ایک بلند و بالا فاونڈیشن تھی جہاں گرمیوں کی چھٹیوں میں مختلف قسم کے شارٹ کورسز منعقد کئے گئے تھے ۔۔۔ سیلف گرومنگ ۔۔۔ سٹائلینگ۔۔۔ انگلش سپیکنگ کورس اور مینٹل ہیلتھ کورس اور طرح طرح کے کورس۔۔۔
اپنی کندیش کے زیر نظر ایمان نے کھلا سا لباس زیب تن کر رکھا تھا کندھے پر منی بیگ تھا جس میں اسکے ہلکے پھلکے سنیکس تھے کے وہ آج کل بھوک کے معاملے میں بہت کچی ہو چکی تھی۔۔۔ ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی۔۔۔
پہلے ہی دن اسکی وہاں بہت سی لڑکیوں سے ہیلو ہائے ہوگئ تھی۔۔۔۔
خود کو خود ہی خوش رکھیں ۔۔۔ یہ ذمہ داری کسی دوسرے کو مت دیں۔۔ لیکچر شروع ہوتے ہی سر نے کلاس میں داخل ہو کر ابتدائی تعارف کے بعد اسی جملے سے آغاز کرتے سبھی کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔۔۔۔
اگر آپ خوشی کے لئے کسی پر انحصار کرتے ہیں آپکی خوشی کسی کے ساتھ کے ساتھ مشروط ہے آپ خوش ہونے کے لئے کسی خاص وقت یا کسی خاص شخص کے منتظر ہیں کے میرے پاس فلاں چیز ہوگئ تو میں خوش ہونگا۔۔ میرا فلاں مسلہ حل ہو جائے گا تو میں خوش ہونگا۔۔۔ یا مجھے فلاں چیز مل جائے گی تو میں تب خوش ہونگا تو معذرت کیساتھ آپ زندگی میں کبھی خوش نہیں ہو سکتے۔۔۔
سر کے مسکرا کر کہنے پر ایمان کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ وہ ایک دم الرٹ ہو اٹھی۔۔۔ شاید اس کورس میں انویسٹ کرنے کا اسکا فیصلہ درست تھا۔۔۔
آگر آپ زندگی میں خوشحال رہنا چاہتے ہیں تو۔۔۔ وہ کچھ توقف کو رکے۔۔۔
ایک گلٹی سی ایمان کی گردن میں ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔ تو آپکو ابھی آپکی زندگی کی جو بھی فیز چل رہی ہیں۔۔۔ آپ بیمار ہیں۔۔۔ آپکے فنانشلی اشوز چل رہے ہیں۔۔ آپکے کچھ تحفظات ہیں۔۔۔ آپکا رشتہ نہیں ہو رہا ۔۔۔ آپکی اولاد نہیں ہے۔۔ آپکی بیٹیاں ہیں بیٹے نہیں ہیں یا کچھ بھی۔۔۔ آپکو اپنے حالات کو قبول کرتے اسی حالت میں خوش رہنا ہو گا۔۔۔
جو انسان اپنے موجودہ حال سے خوش نہیں وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔۔۔ دنیا کی کوئی نعمت اسے خوش نہیں رکھ سکتی۔۔۔۔
شکر گزاری نعمت کو بڑھا دیتی ہیں۔۔۔ مانا کے آپکی زندگی میں سو مسائل ہونگے۔۔۔ لیکن انکے ساتھ ساتھ اللہ کی کچھ نعمتیں بھی ہونگی۔۔۔ اور جب انسان کا فوکس مسائل سے زیادہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر ہونے لگے اور وہ ان نعمتوں کی شکر گزاری کرنا شروع کر دے تو اسے اپنے ارد گرد لاتعدات اللہ کی نعمتیں دکھائی دینے لگتی ہے۔۔۔
اس سے ہوتا کیا ہے۔۔۔ اس سے آپکا دل مطمئیں رہنے لگتا ہے۔۔۔ بے چینی ایگزائٹی اور ڈپریشن ختم ہونے لگتا ہے۔۔۔ اللہ پر توکل بڑھتا ہے اور انسان شاکر ہونے لگتا ہے۔۔۔
اور جب انسان کم پر بھی شاکر ہونے لگے تو اللہ اسکے لئے وہاں وہاں سے نعمتوں کے دروازے کھولتا ہے کے انسان کے گمان تک میں نہیں ہوتا۔۔۔
شکر کو اپنی زندگی میں شامل کر کے دیکھیں آپ اپنی زندگی میں بڑھتی ہوئی برکتوں کو واضح محسوس کریں گے۔۔۔ کلاس میں پن ڈراپ سائلینس تھا صرف ایک آواز گھونج رہی تھی جو سیدھا ایمان کے دل میں سرائیٹ کرتی جا رہی تھی۔۔۔
******
ایمان اس وقت اپنے اپارٹمنٹ کی بالکنی میں بیٹھی باہر بھاگتی دورتی زندگی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ ذہن کے پنچھی کہیں اور ہی پرواز کر رہے تھے۔۔۔
شکر گزاری نعمت کو بڑھا دیتی ہے۔۔۔۔
تو کیا میں ناشکری کی مرتکب ہو رہی ہوں۔۔۔ اپنے ارد گرد موجود نعمتوں کو بھلا کر ان چیزوں پر اداس اور ناشکری کر رہی ہوں جو کچھ مجھے میسر نہیں۔۔۔
ایک پرندہ اڑتا ہوا آیا اور آ کر اسکے عین سامنے ریلنگ پر بیٹھ گیا۔۔۔ وہ بے خودی میں اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔
دنیا میں سینکڑوں لڑکیاں ہیں جو اگواہ ہوتی ہیں۔۔۔ لیکن کیا وہ سب کی سب یوں میری طرح عزت سے سر اٹھا کر جی پاتی ہیں۔۔۔ ایک نئ سوچ کے ابھرتے ہی وہ ٹیک چھوڑ سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
مانا کے خان نے مجھے اغواہ کیا۔۔۔ لیکن میری التجا پر مجھ سے نکاح جیسا پاکیزہ بندھن باندھ کر مجھے اپنا بھی لیا۔۔۔ تو وہ کون تھا جسنے خان کے دل میں میرے لئے نرمی ڈالی۔۔۔
ایک تیز ہوا کا جھونکا آ کر ایمان کے چہرے سے ٹکرایا۔۔۔ ریلنک پر بیٹھا پرندہ تیز رفتاری سے اڑ گیا۔۔۔
تو کیا اس پاک ذات کا شکر ادا کرنا مجھ پر فرض نہیں۔۔۔ وہ آگاہی کا دن تھا۔۔۔
اور کتنی لڑکیاں ہیں جو تین راتیں باہر گزار کر واپس آئیں تو انکے گھر والے انہیں قبول کر لیتے ہیں۔۔ جو باعزت سے پھر اس معاشرے میں سر اٹھا کر رہ پاتی ہیں۔۔۔
اسکی آنکھیں گیلی ہونے لگی۔۔۔
ایک رم جھم باہر شروع ہو چکی تھی اور ایک رم جھم اسکے اندر۔۔۔
ٹھیک ہے خان مجھے مکمل طور پر قبول کر کے اپنی دنیا میں نہیں لے کر گئے۔۔۔ مگر وہ مجھے دھتکار کر بھی نہیں گئے۔۔۔
باہر موسم یکدم ہی خوشگوار ہو اٹھا تھا اور ہلکی کن من تیز بارش کا روپ ڈھارنے لگی تھی۔۔۔
کیا کر لیتی میں جو وہ مجھے اور میرے بچے کو قبول نا کرتے تو۔۔۔
تو کیا ایسے میں مجھے اس رب کا شکر ادا کرنا چاہیے یا خان کے مکمل طور پر اپنے ساتھ نا لے جانے پر ناشکرا پن کرنا چاہیے۔۔۔
مطلع صاف ہونے پر اسے سب واضح دکھائی دینے لگا تھا۔۔۔
کیوں ہم انسان چیزوں کو فارگرینٹڈ لیتے ہیں۔۔۔ کیوں ہم تھوڑے پر قانع نہیں ہوتے اور زیادہ کی طلب میں پاس موجود اللہ کی نعمتوں سے بھی مستفید نہیں ہو پاتے۔۔۔
خود کو خود ہی خوش رکھیں ۔۔۔ یہ ذمہ داری کسی دوسرے کو مت دیں۔۔
اسنے گہری سانس خارج کی۔۔ نہیں میں خود کو خود ہی خوش رکھوں لگی۔۔۔ آج کے لیکچر کا اس پر خوب خوب اثر ہو رہا تھا۔۔۔
اور اسکے لئے سب سے پہلے مجھے خود کو متحرک کرنا ہو گا۔۔۔ اپنے لئے مصروفیت ڈھونڈنی ہوگئ۔۔۔ کیونکہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔۔۔ مجھے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہوگا۔۔۔ بارش مزید تیز ہوئی تو وہ اٹھ کر اندر آ گئ۔۔۔
اپنے اپارٹمنٹ کو دیکھتے اسکی ایک ایک چیز کو دیکھتے وہ رب کا شکر ادا کر رہی تھی۔۔۔ ایسا گھر اور سہولیات اسکی پوری فیملی میں کسی کے پاس نا تھیں۔۔۔ سچ کہا تھا سر نے کے جب انسان شکر ادا کرنا شروع کرتا ہے تو ہر جانب اس رب کی عطا کردہ نعمتیں ہی نعمتیں دکھائی دینے لگتیں ہیں۔۔۔
وہ مسکراتی ہوئی اس کمرے کی جانب بڑھی جس کمرے میں بے بی کی ساری شاپنگ پڑی تھی۔۔۔
کیا اس سے خوبصورت اور دلچسپ کام بھی کوئی ہو سکتا تھا۔۔۔
وہ ساری شاپنگ کھولتی اس ننھے مہمان کا کمرا اپنے ہاتھوں سے سجانے لگی۔۔۔ جب مستقبل پر کسی کا زور ہی نہیں تو اسے سر پر سوار کر کے ڈپریس ہونے کا فائدہ۔۔۔ بہتر نہیں کے بہتری کی دعا کرتے اسے اسی ذات کے حوالے کر دیا جائے جسکا اس پر اختیار ہے
*****
وہ ایک اوپن ایریا تھا جہاں آج شام کی تقریب کے حوالے سے ارینجمنٹس کی گئ تھیں۔۔۔ میوزک اسقدر تیز تھا کے کان پڑتی سنائی نا دے رہی تھی۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد کیک کاٹا جا رہا تھا۔۔۔ یہ شامیر خان کے کسی دوست کی سالگرہ کا فنگشن تھا۔۔۔ رات تقریباً ایک بجے وہ فری ہو کر وہاں سے نکلا۔۔۔۔
تیز میوزک کے باعث اس وقت اسکا سر شدید قسم کا درد ہو رہا تھا وہ اس وقت گھر جا کر ایک بھرپور نیند لینے کا خواہاں تھا۔۔۔۔
امجد مستعدی سے کار چلا رہا تھا۔۔۔ ایمان کے پاس سے واپس آئے اسے ایک ہفتہ ہونے کو تھا۔۔۔ اور وہ پہلے دن کی بعد سے دوبارہ آفس نہیں گیا تھا۔۔۔ وہ بس پہلے دن کا فوبیہ تھا اسکے بعد سے وہ اپنی پرانی روٹین اختیار کر چکا تھا۔۔۔
خان ایک بات بولوں۔۔۔۔
گاری خان مینشن کے کار پورچ میں آ کر رکی تو سنجیدہ سا امجد گویا ہوا۔۔۔
ہممم۔۔ بولو امجد۔۔۔ تمہیں کب سے کچھ کہنے کے لئے اجازت درکار ہونے لگی۔۔۔ وہ گاڑی سے اترتا اترتا رکا۔۔۔
خان آپ نے کہا تھا کے جب میں اپنی دنیا میں گم ہونے لگوں تو مجھے یاد دلوا دینا کے پیچھے آپکی ایک اور دنیا بھی ہے جہاں کوئی آپکا منتظر ہے۔۔۔ امجد کے سنجیدگی سے کہنے پر وہ جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔ جیسے جھماکے سے کچھ یاد آیا ہو۔۔۔
کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہوئے جب وہ اسی گم صم حالت میں گاڑی سے اترتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
*****
وہ جیسے ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں اپنے کمرے تک پہنچا تھا۔۔۔ کمرے تک پہنچتے پہنچتے مسلسل ایک بے چینی اسکا احاطہ کر چکی تھی۔۔۔ ایک معصوم سا چہرا آنکھوں کے سامنے ابھرا تو بے چینی حد سے سوا ہونے لگی۔۔۔
کمرے میں آتا ہی وہ بستر پر چت ڈھنے کے سے انداز میں لیٹا یوں کے ٹانگیں نیچے لٹک رہی تھیں اور نگاہیں اوپر فین سیلنگ پر ٹکی تھیں۔۔۔ آنکھوں میں کئ منظر ابھر اور مٹ رہے تھے۔۔۔ ایمان کا مسکراتا چہرا۔۔۔ اسکا شرمانا۔۔۔ التجا کرنا۔۔۔ اپنی باتیں منوانا۔۔۔
افففف۔۔۔ وہ گہری سانس بھر کر رہ گیا۔۔۔ وہ کیسے فراموش کر گیا اسے اور اپنی آنے والی اولاد کو۔۔۔اسنے بے بسی سے ہاتھ کی مٹھی سر پر ماری۔۔۔ ساتھ ہی اپنی کوتاہیاں نظر آنے لگی۔۔۔ پہلے دن آفس کی شکل دیکھنے کے بعد اسنے دوبارہ وہاں کا رخ تک نا کیا تھا۔۔۔ شامیر خان تم کیسے ہو سکتے ہو اسقدر لاپرواہ۔۔۔
اسے خود پر غصہ آنے لگا۔۔۔۔
یکدم دماغ میں ایک جھماکا ہوا۔۔۔ اسنے سرعت سے جیب سے موبائل نکالا اور بنا وقت کا تعین کئے ایمان کا نمبر ڈائل کر ڈالا۔۔۔ وہ شامیر خان ہی کیا جو ان باتوں کا خیال رکھ جائے۔۔۔ دوسری جانب بیل جا رہی تھی اور وہ بے چینی سے فون کان سے لگائے دوسری جانب فون اٹھائے جانے کا منتظر تھا۔۔۔۔
*****
کمرے کی زیرو پاور کی لائٹ آن تھی۔۔۔ اور اے سی کی خنکی میں ایمان کمفرٹر سینے تک تانے محو استراحت تھی۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو وہ نیند کی وادیوں میں اتری تھی۔۔۔ سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل مسلسل بج رہا تھا ۔۔۔ دفعتاً اسکی نیند میں خلل پڑا اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹِی۔۔۔ بھلا اتنی رات کو کسکا فون آ گیا۔۔۔ اسکا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ موبائل اٹھا کر سامنے کیا تو اوپر جگمگاتا شامیر خان کا نمبر دیکھ کر وہ گھبرا اٹھی۔۔۔ یا اللہ خیر۔۔۔ اتنی دیر بعد وہ رابطہ کر رہا تھا۔۔۔ وہ بھی رات کے اس پہر۔۔۔ سب خیریت ہی ہو۔۔۔ وہ ڈھرکتے دل کیساتھ فون اٹھا کر کان سے لگا گئ۔۔۔
****

No comments