Header Ads

Rah_e_haq novel 21st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  21st Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

اکیسویں قسط۔۔۔۔
ایمان خان کے ساتھ ماں کے گھر آئی تو اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نا تھا۔۔۔ پہلی مرتبہ داماد کو بیٹی کے ساتھ گھر آتے دیکھ ماں کے تو قدم ہی زمین پر نا ٹک رہے تھے۔۔۔۔ 
شامیر خان سب سے خوشدلی سے ملا حتکہ حامد کے ساتھ بھی آگے بڑھ کر گلے ملا۔۔۔
کھانے کا تو وقت نہیں تھا البتہ ماں نے چائے کیساتھ اچھا خاصا انتظام کر ڈالا۔۔۔۔
باتوں کا خاصا لمبا دور چلا۔۔۔ حامد کی جاب لگ گئ تھی اور اب ماں کو اسکی جلد از جلد شادی کی فکر تھی۔۔۔ بھائی کی شادی کے حوالے سے ایمان بھی خاصی پرجوش تھی۔۔۔
کچھ وقت وہاں گزار کر وہ دونوں واپس لوٹ آئے ۔۔ شام تک ملازمہ بھی آگئ تو شامیر نے باقاعدہ خود اسے اسکا ہر کام سمجھایا۔۔۔
خان کیا میں آپکو فون کر سکتی ہوں۔۔۔ وقتِ رخصت وہ اسکے ساتھ اپارٹمنٹ کے دروازے سے چند قدم کی دوری پر کھڑی تھی۔۔۔ ڈھیلے سے لباس میں ملبوس ہلکا پھکلا سا میک آپ کئے آنچل سینے پر پھیلا کر اوڑھ رکھا تھا البتہ ہلکے نم بال کمر پر پھیلے ہوئے تھی۔۔۔۔اسکے برعکس وہ جینز پر ہاف سلیو شرٹ پہنے تراشیدہ بال اچھے سے سیٹ کئے ہوئے تھا۔۔۔۔
اگر تم یاد کرو تو تم نے مجھے کہا تھا کے تم کبھی مجھے پیچھے سے نہیں پکارو گئ۔۔۔ وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تو ایمان کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ وہ کب کی بات کو ابھی تک یاد رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔ وہ سر جھکاتی لب کچل کر رہ گئ۔۔۔۔واپس کب آئیں گے۔۔۔ ۔
کچھ کہہ نہیں سکتا ایمان۔۔۔ آجاوں تو اسی ہفتے آ جاوں نا آوں تو اگلے کئ مہینے نا آوں۔۔۔
دیکھو ایمان تم بہت سمجھدار لڑکی ہو۔۔۔ اسی لئے ہمارا رشتہ چل رہا ہے۔۔۔
ہمارا رشتہ کوئی نارمل رشتہ نہیں ہے۔۔۔ تم اور میں اگر ابھی تک ایک جائز اور حلال رشتے میں بندھے ہیں تو یہ سراسر تمہاری کاوشوں کا نتیجہ ہے۔۔۔ ۔
اور یہ رشتہ خوش اسلوبی سے تب تک چلتا رہے گا جب تک تم کچھ ڈیمانڈ نہیں کرو گئ۔۔۔کیونکہ اپنی تیزی سے بھاگتی ڈورتی زندگی میں اس رشتے کو اپنے ساتھ ساتھ لے کر چلنا میرے لئے کوئی آسان کام نہیں۔۔۔ البتہ اس رشتے کو اپنے ساتھ ساتھ گھسیٹنا  ایک مشکل امر ہے۔۔۔
اور شامیر خان بہت سہل پسند ہے۔۔۔ مشکل کاموں سے میری جان جاتی ہے۔۔۔ لیکن اسکے باوجود میں نے مشکل امر چنا ہے۔۔۔ صرف تمہارے لئے اپنے بچے کے لئے۔۔۔۔
شاید آہستہ آہستہ میں ان سب کا عادی ہو جاوں لیکن فلحال اگر میرے لئے مشکلات بڑھی تو بحرحال فرار کا راستہ میرے لیے آسان ہو گا۔۔۔
میں نا تمہیں  کوئی جھوٹی آس تھماوں گا اور نا ہی تمہیں کسی خوش فہمی میں مبتلا کروں گا۔۔۔ بس دعا کرنا کے اللہ میرے لئے آسانیاں پیدا کرے تاکے میں اپنی زندگی کی ہر چیز اچھے سے مینج کر پاوں۔۔۔
شامیر کے منہ سے نکلتے ہر لفظ کیساتھ اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
آ۔۔۔ آپ۔۔۔ آپ مجھ سے رابطہ رکھیں گے نا۔۔۔ اس مرتبہ اسنے سوال تبدیل کر ڈالا۔۔۔ البتہ بہت کوشیش سے لہجے کو بھرانے سے روکا لیکن پھر بھی آواز کی لغرش اسکی کوشیش ناکام ہونے کی چغلی کھا رہی تھی۔۔۔
انشااللہ۔۔۔ 
اس دفعہ شاید اسے ایمان پر ترس آ گیا تھا یا اسکے بھر آنے والے لہجے کا اعجاز تھا کے وہ نرمی سے کہتا اسے اپنے حصار میں لے گیا۔۔۔
باوجود ضبط کے بھی ایمان کی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔۔
*******
شامیر خان اس دنیا کی روشنیوں اور اسکی رنگینیوں کا باسی تھا وہ باخوبی جانتا تھا کے وہ ایک چیز کے لئے کبھی بھی کنسیسٹینٹ نہیں رہ سکتا۔۔۔ وہ بہت جلد ایک چیز سے اوب جاتا اسے ترک کر دیتا تھا۔۔۔
زندگی کو حد سے زیادہ ایزی اور فارگرانٹڈ لینے والا شخص۔۔۔۔ جسکے لئے زندگی کا بڑے سے بڑا واقعہ بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔۔۔ جو کسی اگلے کام میں قدم رکھتا تو پچھلے کو یکسر فراموش کر جاتا۔۔۔ جان بوجھ کر نہیں اگلے کام کی جانب وہ متوجہ ہی اتنا ہو جاتا کے پچھلہ سب بھول جاتا۔۔۔
ایمان کے نکاح کے بعد بھی پروشہ سے مل کر آوٹنگ کلبنگ اور دوستوں کے ساتھ گیٹ ٹو گیدر اور ہلے گلے میں وہ یکسر فراموش کر چکا تھا کے کیسے اسکی زندگی میں ایک اتنا بڑا واقعہ رونما ہوا اور ایک معصوم لڑکی اس کے ساتھ نکاح جیسے پاکیزہ بندھن میں بندھ گئ۔۔۔ وہ واقعہ جو اس کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا وہ کسی دوسرے شخص کی پوری زندگی کا محور بن گیا تھا۔۔۔
ایسا اسنے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔۔۔ بس وہ زندگی کی رنگینیوں میں کھو کر پچھلہ سب بھول جاتا تھا۔۔۔
اب بھی وہ نکاح نامہ اسکے سامنے نا آتا تو شاید مزید کتنے لمبے عرصے تک وہ اس بات کو فراموش ہی کئے رکھتا۔۔۔
بالکل اسی طرح وہ اب دوبارہ ایمان کے ہاتھ کوئی آس کا دیا نہیں تھما کر آنا چاہتا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کے وہ بے حد غیر ذمہ دار شخص ہے۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کے اپنی دنیا میں جا کر وہ اگر ایمان کی اس چھوٹی سی  دنیا کو فراموش کر جائے تو اس معصوم کی آس ٹوٹے اور وہ مزید ہرٹ ہو۔۔۔
البتہ اس بچے کی آمد کی خبر نے اسکے ذہن پر گہرا اثر ڈالا تھا۔۔۔ وہ ایک ذمہ دار شخص بننے کی پوری کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
لیکن جب تک اس کوشیش میں کامیاب نا ہوتا تب تک کیا۔۔۔
امجد۔۔۔
جی خان۔۔۔ گاڑی روڈ پر فراٹے بھرتی جا رہی تھی جب اسکے ساتھ پیسنجر سیٹ پر بیٹھا سر سیٹ کی پشت سے ٹکائے وہ کھویا کھویا سا گویا ہوا۔۔۔
جب میں اپنی زندگی کی رنگینیوں میں بہت زیادہ کھو جاوں اس میں گم ہو جاوں تو مجھے یاد دلا دینا کے میری ایک دنیا اور بھی ہے جہاں ایک معصوم لڑکی میری منتظر ہے۔۔۔ وہ کرب سے کہتا آنکھیں میچ گیا۔۔۔ جبکہ امجد اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
اپنے مالک کا اسقدر شکستہ انداز اسنے آج سے پہلے کبھی نا دیکھا تھا۔۔۔۔
******
زخرف آج ایمان کے اپارٹمنٹ میں اس سے ملنے آئی تھی اور اب پرشوق نگاہوں سے اردگرد دیکھتی اسکے اپارٹمنٹ کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔۔
سامنے ڈائینگ ٹیبل پر کے ایف سی کی کئ آئٹمز پڑی تھیں۔۔۔
بہت خوبصورت گھر ہے تمہارا ایمان۔۔۔ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھتی پزے کی جانب جھکی۔۔۔ ایمان مسکرا کر رہ گئ۔۔۔ 
ملازمہ اپارٹمنٹ کی صفائی کرنے کے بعد اب کچن میں ڈنر کی تیاری کر رہی تھی۔۔۔
سنا ہے تمہارے بھائی کی جاب لگ گئ ہے۔۔۔ پزے سے انصاف کرتے وہ عام سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔ خالہ مٹھائی بانٹ رہی تھیں نا محلے میں۔۔۔
ایمان کے اسکی جانب دیکھنے پر وہ صفائی دیتی گویا کوئی۔۔۔
ہاں نا۔۔۔ شکر الحمدللہ کہ اللہ نے ہماری سن لی ۔۔اور بھئی کی محنت رنگ لائی۔۔۔ بہت اچھی جاب لگی ہے انکی۔۔۔ جیسی بھائی کو چاہیے تھی بالکل ویسی اور سیلری پیکج بھی اچھا خاصا ہے۔۔۔ ایمان کے لہجے میں بھائی کے لئے محبت تھی۔۔۔۔
اچھا ایک بات تو بتاو ایمان پزے کے بعد وہ ہاٹ ونگز سے انصاف کرتی مصروف سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
ہمم پوچھو۔۔۔ ایمان گھونٹ گھونٹ جوس حلق سے نیچے اتاآرتی گویا ہوئی جو ابھی ابھی وہ ملازمہ اسے پیش کر کے گئ تھی۔۔۔
تمہیں میں کیسی لگتی ہوں۔۔۔ وہ اچانک سے مستفسر ہوئی کے ایمان اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
بہت اچھی ۔۔ بہت پیاری۔۔۔ انفیکٹ تم میری اتنی پیاری دوست ہو تو اچھی تو خودباخود لگو گی نا ۔۔ ایمان مسکرائی اسکے لہجے میں محبت تھی۔۔۔
زخرف بھی مسکرا دی۔۔۔
تو پھر کیا خیال ہے کے اس دوست کو بھابھی نا بنا لیا جائے۔۔۔
وہ اترائی۔۔۔۔ایمان چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔
مطلب یہ کے اگر میں تمہیں پسند ہوں تو مجھے اپنی بھابھی بنانے کے بارے میں کوئی چکر چلاو نا۔۔۔ میں جانتی ہوں کے تم حامد کی لاڈلی ہو۔۔۔ پہلے تم لوگوں کے درمیاں چاہے کچھ مسائل رہے ہوں لیکن اب وہ پھر سے تمہاری ہر بات ماننے لگا تھا۔۔ 
یا پھر خالہ سے بات کر کے انہیں کوئی مشورہ دو
۔۔ کیونکہ یہ حقیقت ہے کے حامد مجھے پسند ہیں اور اگر ایسا ہو جائے تو یہ میرے حق میں بہت بہتر رہے گا۔۔۔ دیکھو ایمان تم میری دوست ہو اس لئے تمہیں حامد کی بہن سمجھ کر نہیں بلکہ اپنی دوست سمجِھ کر میں نے تم سے اپنا راز شئیر کیا ہے۔۔۔ 
پلیز تم کوشیش کرنا۔۔۔
وہ بول رہی تھی جبکہ ایمان گم صم سے انداز میں اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ کیا بھلا اسکا بھائی اس شادی کے لئے راضی ہوتا وہ تو زخرف کا نام سن کر ہی آگ بھگولہ ہو جاتا تھا۔۔۔۔
*****
ارے صاحبزادے صاحب آپ اتنی صبح صبح یہاں۔۔۔ شامیر صبح ہی صبح نک سک سے تیار ناشتے کے لئے ڈائینینگ ٹیبل پر آیا تو عدنان بھائی اور ذوہیب بھائی کے ساتھ ساتھ بابا بھی چونک اٹھے۔۔
ابھی وہ رات دیر سے تو گھر پہنچا تھا ایسے میں تو وہ دوپہر چڑھے تک سو کر اپنی نیند اور تھکاوٹ اتارتا کجا اسکا تنی صبح صبح وہ بھی نک سک سے تیار ہو کر ناشتے کی میز پر پہنچنا ان سب کو ٹھٹھکا گیا۔۔۔۔
البتہ کالج یونیفارم میں ملبوس ارحم اور امل تک چونک اٹھے۔۔۔ 
یار آپ سب مجھے یوں کیوں دیکھ رہے ہیں۔۔۔ کیا میرے سر پر سینگ اگ آئے ہیں۔۔۔
میری یونیورسٹی لائف ختم ہوگئ یے۔۔۔ اب پڑیکٹیکل لائف میں قدم رکھ چکا ہوں اس لئے آج آفیشلی آفس جوائن کرنے کو اتنی صبح صبح نیند کی قربانی دے کر یہاں موجود ہوں۔۔۔
عدنان بھائی جو کے جوس پی رہے تھے شامیر کی باتوں پر انکے منہ سے جوس کا فوارہ پھوٹ پڑا جبکہ ذوہیب بھائی کے ساتھ ساتھ ارحم اور امل بھی پیٹ پکڑے ہس ہس کر دوہرے ہوگئے۔۔۔
البتہ ماں اپنی ہسی چھپانے کو چہرا جھکا گئیں۔۔۔
کیاااا۔۔۔ کیا میں نے کوئی لطیفہ سنایا ہے۔۔۔بابا آپ دیکھ رہے ہیں ان سب کے کام۔۔۔ یہ سب مل کر مجھے روسٹ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔۔ اسکے شکایتی انداز پر وہاں پھر سے ایک مرتبہ قہقہ پھوٹ پڑا۔۔۔
نہیں یار تمہیں سوجھا کیا۔۔۔ ذوہیب بھیا نے بامشکل اپنی ہسی ضبط کی۔۔۔ اسکی لاپرواہ اور سہل پسند عادت سے سبھی واقف تھے اور پھر وہ خود بھی تو اعلانیہ کہتا آیا تھا۔۔۔۔
بابا وہ بھلا کون تھا جو کہتا تھا کے یونیورسٹی ختم ہونے کے بعد اگلے چھ ماہ تک میں لائف انجوائے کرنے والا ہوں۔۔ دنیا ایکسپلور کروں گا۔۔۔۔ اور خبردار جو اس دوران کسی نے مجھے آفس جوائن کرنے کا کہا تو اسکی میری لڑائی پکی ہے۔۔۔ عدنان بھائی نے ہستے ہوئے اسے کن اکھیوں سے دیکھ کر اسی کی باتوں کا حوالہ دیا۔۔۔
اور بابا وہ کون ہے جو اب سب سے پہلے آفس جانے کو تیار کھڑا ہے۔۔۔ ابکی بار ذوہیب بھیا نے ٹکرا لگایا۔۔۔۔
انف از انف یار۔۔۔ کرتے رہیں آپ سب مجھے روسٹ۔۔۔ میں چلا آفس اب وہیں ملاقات ہوگی۔۔۔ وہ ان سب سے عاجز آتا ڈائینگ ٹیبل سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
خاموش ہو جاو سب۔۔۔ آو شامیر بیٹا ناشتہ کر کے جانا۔۔۔ ماں نے سب کو خاموش کرواتے اپنے موڈی بیٹے کو منانا چاہا جسکے ایک لمحے میں سینکڑوں موڈ بدلتے تھے۔۔۔ نہیں مام آفس میں ہی ناشتہ کروں گا اب۔۔۔
آپ جلدی پہنچئیے گا بابا۔۔۔ ویسے تو وہاں سب ہی مجھے جانتے ہیں پر آج آپ نے مجھے وہاں آفیشلی انٹروڈیوس کروانا ہے۔۔۔ اپنی بات کہہ کر وہ ان سب کو ورطہ حیرت میں چھوڑ کر باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ سب حیران پریشان تھے کے شامیر خان اور اتنا سمجھدار۔۔۔۔
****
افف۔۔۔۔ افف۔۔۔ اف۔۔۔
مجھے پتہ چلا کے آج کسی کا آفس میں پہلا دن ہے ۔۔۔ پتہ چلتے ہی میں تو جھٹ سے ڈوری چلی آئی۔۔۔
مائے گاڈ شامیر۔۔۔ لوکنگ سو ہینڈسم۔۔۔ انفیکٹ  اس کرسی پر بیٹھے زیادہ ڈیشنگ لگ رہے ہو۔۔۔
شامیر خان لنچ بریک ختم ہونے کے ابھی واپس اپنے آفس میں آیا ہی تھا جب وہاں پروشہ آن ٹپکی۔۔۔۔ لنچ اسنے عدنان بھائی کے ساتھ ہی کیا تھا۔۔۔ وہ اسکا فیورٹ بھائی تھا بالکل دوست کی طرح ۔۔۔ اور وہی اسے بزنس کے داو پیچ سمجھانے میں معاون ثابت ہو رہا تھا۔۔۔
پروشہ سٹائلش سی جینز پر کھلی سی شرٹ زیب تن کیا۔۔۔ سٹریپ بیگ ترچھا کندھے سے گھما کر ڈالے اسٹیکنگ زدہ بالوں کی ٹیل پونی بنائے ہوئے تھی۔۔۔ گلے میں پی ایلفابیٹ کی نفیس سی چین جھول رہی تھی ۔۔۔ چہرے پر مہارت سے کیا گیا میک آپ اسکے تمام فیچرز نمایا ں کر رہا تھا۔۔۔ البتہ پاوں میں سات انچ کی لمبی پنسل ہیل پہن رکھی تھی۔۔۔
ایک ہی نظر دیکھنے پر وہ کوئی پلاسٹک کی گڑیا لگتی تھی۔۔۔  کیوٹکس زدہ شفاف بے داغ ہاتھ اور نرم روئی کے گالوں جیسے سفید بے داغ پاوں۔۔۔ وہ تازہ تازہ سیلوں سے ہو کر آئی تھی۔۔۔
شامیر اسے ایک نظر دیکھ کر واپس فائل پر جھک گیا۔۔۔
اتنی تعریف کا شکریہ ۔۔۔ اب کیا بدلے میں مجھے بھی تعریف کرنی پڑے گی۔۔۔۔ اسنے مسکراہٹ دابی۔۔۔
اوہ کم آن میر۔۔۔ وہ بے تکلفی سے آ کر اسکی کرسی کی ہتھی پر ٹکتی زرا سا اس پر جھکتی اسکے گرد بازو کا حصار بنا کر چہرے سے چہرا مس کرتی اٹھ کر سامنے کرسی پر آ بیٹھی۔۔۔۔  یہ اس کلاس میں عام ملنے کا طریقہ تھا جسکا باسی شامیر خان تھا۔۔۔۔
ویسے تمہیں کیا سوجھی آفس جوائن کرنے کی۔۔ ابھی انجوائے کرتے نا لائف۔۔۔ ویسے میں دبئ کا ٹریپ پلان کر رہی تھی۔۔۔ سب فرینڈز چلتے۔۔۔ لائف ایکسپلور کرتے۔۔۔ سکائے ڈائیونگ اور رولر کوسٹر ایکسٹرا ایکسٹرا ۔۔۔۔ کیا خیال ہے۔۔۔ وہ ایک ادا سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے پیپر واٹ مومی انگلیوں میں گھماتی پوچھ رہی تھی۔۔۔
پھر کبھی سہی سوئیٹ ہارٹ۔۔۔ ابھی تو نیا نیا بزنس جوائن کیا ہے۔۔ اسے توجہ چاہیے۔۔۔
وہ مصروف سے انداز میں اسے نظر انداز کئے فائل پر جھکا بیٹھا تھا۔۔۔
توجہ کے کچھ لگتے ۔۔۔ تم نے جو ایک ہی دن میں بزنس میں پی ایچ ڈی کرنی ہے۔۔۔ اتنے وقت کے بعد اسلام آباد آئے ہو اور آتے ہی آفس میں گھس گئے ہو۔۔۔ چلو مجھے اچھی سی کافی پلواو یہ سب چلتا ہی رہے گا۔۔۔ وہ بڑے حق سے اسکے سامنے سے فائل بند کرتی اسکا ہاتھ کھینچ کر اسے اٹھا رہی تھی۔۔۔
پروشہ یار کام۔۔
اوہ پلیز۔۔۔ ہوتے رہیں گے کام ابھی چلو۔۔۔ وہ اسکی بازو گھسیٹتی اسے آفس سے باہر لے آئی۔۔۔
شامیر خان جھنجھلا کر رہ گیا۔۔۔ اپنی اس دنیا میں رہتے وہ ہو چکا کامیاب۔۔۔ یہاں کوئی اسے اون کر ہی نا رہا تھا۔۔۔ وہ سنجیدہ ہوتا تو کیسے۔۔۔ وہ جتنا سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہر چیز کنٹرول کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اسکی دنیا کے باسی اتنا ہی اسے لاابالی اور غیر ذمہ دار بنانے پر تلے تھے۔۔۔ ایسے میں اس ڈسٹریکٹڈ دنیا میں وہ اپنا ماضی یاد رکھ پاتا تو کیسے۔۔۔۔ یہاں قدم قدم ر فینٹسی تھی جو شامیر خان کو پچھلا سب بھلا دیتی ۔۔۔ اور اسکی ول پاور اتنی مضبوط نا تھی کے وہ اسکی بنیاد پر سب یاد رکھ پاتے ہر چیز مینج کر پاتا۔۔۔۔
زندگی صحیح شامیر خان کے لئے آزمائش بنی تھی۔۔۔
*******
جاری ہے۔۔۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.
4