Header Ads

Rah_e_haq novel 20th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  20th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

بیسویں قسط۔۔۔
خان قدم قدم چلتا آ کر اسکے عین سامنے سنگل صوفے پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھا اور سر تھام گیا۔۔۔ جبکہ ایمان تھوک نگلتی اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ ناجانے اب وہ اسے کیا کہنے والا تھا۔۔۔ اسکا دل سوکھے پتے کی مانند کپکپانے لگا۔۔۔ پتہ نہیں اب زندگی کو اس سے کیا آزمائش مطلوب تھی۔۔۔
خان خدا کی قسم یہ آپکا بچہ ہے۔۔۔ وہ نا نا کرتے بھی بے بسی سے رو دی۔۔۔ کبھی زندگی میں ایسا مقام بھی آنا تھا کے اسے اپنے ہی کردار کی صفائی پیش کرنی تھی وہ کہاں جانتی تھی۔۔۔
خان گم صم سا اسے سرخ خالی خالی نگاہوں سے  دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔
کونسا مہینا ہے۔۔۔۔ کافی دیر بعد وہ ناجانے کیا سوچتا ہوا مستفسر ہوا۔۔۔
چھٹا۔۔۔ وہ لب کچل کر رہ گئ۔۔۔
ایمان یہ نہیں ہونا چاہیے تھا یار۔۔۔ وہ کرب سے آنکھیں میچتا بے چینی سے بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔
ایمان ششدر سی اسے دیکھنے لگی۔۔۔ وہ اسکا رویہ سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔
اس میں بھلا کسی انسان کا کیا زور  خان۔۔۔ یہ تو رب کی دین ہے۔۔۔۔  
لیکن اسکے باوجود یہ نہیں ہونا چاہیے تھا ایمان۔۔۔ میں اولاد افورڈ کر ہی نہیں سکتا۔۔۔ تم اندازہ نہیں کر سکتی اس وجہ سے میری زندگی کس قدر پیچیدگیوں کا شکار ہو جائے گی۔۔۔
میری دنیا تمہاری دنیا سے الگ ہے یار۔۔۔۔ ہم دونوں کا کوئی میل نہیں۔۔۔ تم میری دنیا میں نہیں آ سکتی۔۔۔ وہاں سب اونچے شملے کے لوگ ہیں تمہیں کبھی قبول نہیں کریں گے۔۔۔ اور میں اپنی دنیا چھوڑ کر اگر تمہارے پاس آیا تو اپنی ہی شناخت کھو دوں گا۔۔۔
تم سمجھ رہی ہو میری بات۔۔۔
یار ہم دونوں الگ الگ دنیا کے باسی ہیں۔۔۔ ایسے میں یہ بچہ۔۔۔ مائے گاڈ۔۔۔۔ وہ بے بسی سے بال مٹھیوں میں جھکڑ کر رہ گیا۔۔۔
بہت غلط جگہ پر پھنسا دیا تم نے مجھے کنزل ایمان۔۔۔ اس بچے کو نا اپناوں تو مرتا ہوں۔۔۔ اور اگر اپنا لوں تو بھی مرتا ہوں۔۔۔
میرا اونچے شملے والا باپ تمہیں کبھی قبول نہیں کرے گا۔۔۔ اور تم تصور بھی نہیں کر سکتی ایمان کہ یہ بات اگر باہر نکلی اور اڑتی اڑتی میرے باپ اور میرے خاندان تک پہنچ گئ کے شامیر خان نے ایک عام سے طبقے سے تعلق رکھنے والی لڑکی کنزل ایمان سے شادی کر رکھی ہے تو میں بھی نہیں جانتا پھر کیا ہوگا کنزل۔۔۔ وہ لوگ راہ چلتے چلتے تمہیں ایک گولی کی نظر کروا دیں گے۔۔۔ یا کوئی روڈ ایکسیڈینٹ۔۔۔۔ تمہیں میری زندگی سے نکال باہر کرنے میں ایک لمحہ لگائیں گے۔۔۔۔ کیس فائل ہونے سے پہلے ہی بند ہو جائے گا۔۔۔
وہ میرا خاندان ہے ایمان میں باخوبی جانتا ہوں انہیں۔۔۔۔ 
خان کی باتیں اسکے چہرے کا کرب اور بے چینی ایمان کو ایک ان دیکھے خوف میں مبتلا کرنے لگا تھا۔۔۔
یار مجھے فکر ہو رہی ہے اس بچے کی۔۔۔ اگر اس بچے کا علم انہیں ہو گیا تو میں تو کبھی تمہارا تھا ہی نہیں نا ایمان۔۔۔ وہ اس بچے کو بھی تمہارے پاس نہیں چھوڑیں گے۔۔۔
کسی نے بے طرح ایمان کا دل مٹھی میں لے کر مسلا۔ یوں کے وہ بلبلا اٹھی۔۔۔۔
مم۔۔۔ میں۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتی سلام کی آواز پر بے طرح چونک کر دروازے کی جانب متوجہ ہوئی جہاں سجاد بھائی اور بھابھی کے ساتھ پیچھے ماں کھڑی تھیں۔۔۔
اسنے سرعت سے چہرے کے تاثرات درست کرتے مسکراہٹ چہرے پر سجائی اور گرم جوشی سے اٹھ کر انکی جانب لپکی۔۔۔
البتہ خان سنجیدہ صورت لئے ہی انہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔
ارے واہ آج تو اللہ اللہ کر کے آپ سے بھی ملاقات ہو ہی گئ خان بھائی۔۔۔ ورنہ آپکے بارے میں جب ایمان سے پوچھا اسکا یہ ہی کہنا تھا کے آپ آفیشلی ٹور پر ہیں۔۔۔
بھابھی انکے پاس آتیں خوشدلی سے گویا ہوئیں تو خان نے ٹھٹھک کر ایمان کی جانب دیکھا جسکی نگاہوں کی خاموش التجا نے اسے لب بھینچ لینے پر مجبور کر دیا۔۔۔
سجاد آگے بڑھ کر اس سے ملا۔۔
اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے مالک۔۔۔ خدا جوڑی ہمیشہ سلامت رکھے۔۔۔ تمہارا سایہ صدا میری بیٹی کے سر پر بنا رہے۔۔۔ ماں نے خان کے سر پر پیار دینے کے بعد اسکا چہرا اپنے ضعیف ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیا تو وہ ساکت سا انہیں دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
خان پلیز زرا بات سنیں۔۔۔
کچھ دیر بعد ایمان نے مسکرا
تے ہوئے خان کو کچن سے آواز دی تو اٹھ کر کچن کی جانب بڑھا۔۔۔۔
خان یہاں سوائے ماں کے کوئی نہیں جانتا کے ہمارے بیچ کیا چل رہا ہے۔۔۔ 
سب کی نظروں میں میں آپکے ساتھ ہسی خوشی اپنا گھر بسا رہی ہوں۔۔۔ خدارا آپ میرا یہ بھرم قائم رہنے دیں۔۔۔ کچھ دیر کی بات ہے زرا ہس کر میرے گھر والوں کو برداشت کر لیں۔۔۔ وہ کچھ دیر بعد چلے جائیں گے اور میرا بھرم قائم رہ جائے گا پلیز۔۔۔۔ ورنہ زندگی میرے لئے بہت کھٹن ہو جائے گی۔۔۔
وہ نم آنکھوں میں آس کے دئیے سموئے اسے التجائیہ کہہ رہی تھی۔۔۔
خان گم صم رہ گیا۔۔۔ اس چھوٹی سی لڑکی کے کتنے روپ تھے۔۔۔ پچھلے سات مہینوں سے وہ کیسے اپنا بھرم قائم رکھے ہوئے تھی۔۔۔۔۔
تم کیا کر رہی ہو۔۔۔ وہ اسے چولہے کے سامنے کھڑا برتن نکالتا دیکھ پوچھ بیٹھا۔۔۔
چائے بنا رہی ہوں۔۔۔ ان کے لئے کچھ کھانے پینے کا انتظام۔۔۔
چائے مت بناو۔۔۔ کھانے کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔۔ میں لنچ آرڈر کرتا ہوں۔۔۔ کھانا اکھٹے کھائیں گے۔۔۔ تم تب تک ٹیبل سیٹ کرو۔۔۔ خان کی اتنی سی بات نے ہی اسکی تشفی کرواتے اسکے چہرے پر پھول کھلا دئیے تھے ۔۔  وہ خوش ہو اٹھی کے اسکا شوہر اسکا بھرم قائم رکھنے کو تیار تھا۔۔۔۔
*****
کھانا بہت خوشگوار ماحول میں کھایا گیا تھا۔۔۔ خان نے ڈائینیگ ٹیبل انواع و اقسام کے کھانوں سے بھر دیا تھا۔۔۔۔ کھانے کے دوران بھی وہ ان سب سے کسی نا کسی ٹاپک پر گفتگو کرتا رہا۔۔۔
ان سب کے واپس جانے سے پہلے اسنے کئ پانچ پانچ ہزار کے نوٹ بھابھی کی گود میں اٹھائی گڑیا کے ہاتھ میں تھمائے تو بھابھی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔۔۔۔
سجاد بھائی نے منع کرنا چاہا جب ایمان نے بیچ میں کودتے پیار بھری دھونس جمائی تو وہ خاموش ہوگئے۔۔۔
بہت خوبصورت وقت انکے سنگ گزار کر وہ تینوں جا چکے تھے جبکہ شامیر کمرے میں کسی سے فون پر بات کر رہا تھا جب ایمان اسکے لئے چائے کا کپ لئے کمرے میں آئی۔۔۔
او ہو بابا۔۔۔ میں آ ہی رہا تھا واپس لیکن دوستوں کا ایک گیٹ ٹو گیٹ آ گیا جسکی وجہ سے نہیں آ سکا۔۔۔ آ جاوں گا اٹس ناٹ آ بگ ڈیل۔۔۔وہ ماتھا مسلتا خاصا جھنجھلایا ہوا تھا۔۔۔
اوکے۔۔  اوکے فائن۔۔۔ بات مکمل کر کے وہ فون بند کرتا وہیں صوفے پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھا جب ایمان اسکے سامنے چائے کا کپ رکھتی اسکے عین مقابل بیڈ کی پائنتی پر آ بیٹھی۔۔۔
خان۔۔۔ آپ کی نظر کرم مجھ پر آ ٹھہری۔۔۔ میں آپکو پسند آ گئ۔۔۔ اپنی خواہش کے حصول کے لئے آپ نے مجھے اغوا کروا لیا۔۔۔ اس میں میرا کیا قصور تھا بھلا۔۔۔۔ ایمان کی آواز میں ٹوٹے کانچ کی کرچیاں تھیں۔۔۔ اسکی آنکھیں لبالب پانیوں سے بھر آئیں۔۔۔
میرے اغوا کے بعد میرے گھر والوں کو بہت رسوائی سہنی پڑی وہ سب مجھے غلط سمجتے رہے کے میں نے اپنے کسی آشنا سے بھاگ کر شادی کر لی۔۔۔ میں ان سب کے لئے معیوب ٹھہری ۔۔۔ اس میں میں کہاں خطا وار تھی خان۔۔۔
میں نے سب سے یہ سچائی چھپائی اور انکے اس خدشے پر یقین کی مہر ثبت کرتی سب کی نظروں میں خطاوار ہوگئ۔۔۔ یہاں قید تنہائی کاٹتی رہی۔۔۔ میری کیا غلطی تھی خان۔۔۔ اسکے آنسو چھلک پڑے۔۔۔
یہ ایک ننھی جان جو مجھ سے نتھی ہوگئ ہے اب اسکا باپ اسے لے کر تحفظات کا شکار ہے تو مجھے بتائیں میں کہاں جاوں۔۔۔ میں کیا کروں۔۔۔ میرا کوئی قصور تو بتائیں۔۔۔ کیا غلطی ہے میری جو اسقدر پر آزمائش زندگی گزاروں۔۔۔ وہ سسک پڑی۔۔۔
شامیر خان لب بھینچے  خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔ اس لڑکی کا یوں سسکنا ہی اسکی کمزوری بنتا جا رہا تھا۔۔۔
تمہاری کوئی غلطی نہیں ایمان۔۔۔ ہر جگہ خطاوار تو میں ہوں۔۔۔ گیلی سانس اندر کھینچتا وہ اعتراف کر گیا۔۔۔۔
وہ سسکتے ہوئے اسے ساتھ آ براجماں ہوئی ۔۔
خان۔۔۔۔ اسنے اپنا کپکپاتا ہاتھ خان کے چہرے پر رکھتے اسکا چہر اپنی جانب کیا۔۔۔ انداز اسے منا لینے والا تھا۔۔۔
مانا کے آپکی اور میری دنیا الگ ہے۔۔۔ میں آپکی دنیا میں نہیں جا سکتی اور آپ میری دنیا میں نہیں آ سکتے۔۔۔ مگر بیچ کی تو کوئی راہ نکل ہی سکتی ہے نا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں ایک التجا تھی۔۔۔
جیسے۔۔۔ وہ ناسمجھی کے سے انداز میں بولا۔۔۔ جیسے اسکے خیالات تک پڑھ لینا چاہتا ہو۔۔۔
جیسے میں آپکی دنیا میں نہین آتی۔۔۔ آپکی دنیا میں کیا ہو رہا ہے مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔ میری دنیا میں کیا ہو رہا ہے اسکی بھنک بھی میں آپکی دنیا اور ان کے باسیوں کو نہیں لگنے دوں گی۔۔۔
مگر آپکو مجھے اپنا نام دینے کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کو بھی اپنی سرپرستی میں رکھنا ہو گا۔۔۔
ہم آپکی دنیا میں نہیں آئیں گے۔۔۔ لیکن آپکو ہر ماہ ہماری دنیا میں باقاعدگی سے آتے ہماری خبر گیری کرنا ہوگی۔۔۔ تاکے کوئی مجھے اور میری اولاد کو لاوارث نا سمجھے۔۔۔ تا کے میرا بچہ باپ کی محبت سے عاری نا رہے۔۔۔
اسنے پلکیں جھپکتے گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔ خان اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ لڑکی ہر مقام پر ہی سمجھداری کا مظاہرہ کرتی ہاری بازی اپنے ہاتھ میں کر جاتی تھی۔۔۔
خان نے اسے کھینچ کر خود میں بھینچ لیا۔۔۔
بہت نیک ہو تم ایمان۔۔۔ اللہ کی بہت پیاری بندی۔۔۔ میں تمہارے قابل کہاں تھا۔۔۔ اسکے بالوں میں چہرا چھپائے وہ اعتراف کر رہا تھا۔۔۔
جبکہ ایمان کا دل چاہا وہ ڈھاریں مار مار کر رو دے۔۔۔۔ اگر اسے پتہ چل جاتا کے وہ کس قدر گناہگار ہے اور کس دلدل میں پھنسی ہے تو شاید وہ اب اس وقت اسے اتنی عزت نا دے رہا ہوتا۔۔۔
اسکا دل چاہا کے ابھی کے ابھی سجدے میں گرتی اس رب کے حضور پھوٹ پھوٹ کر رو دے جس نے اسکے عیبوں کی پردہ پوشی کر رکھی تھی۔۔۔ جسنے اسکے اور اسکے گناہوں کو خود کے علاوہ باقی ہر کسی سے ڈھانپ لیا تھا۔۔۔ جسے اپنی گنہگار بندی کا بھی بھرم عزیز تھا۔۔۔ وہ کیسے اس رب کا شکریہ ادا کرتی۔۔۔ ورنہ اگر انسان ایک دوسرے کے گنہاہوں میں لتھرے چہرے دیکھ لیتے تو شاید ایک دوسرے سے نفرت کرتے نا تھکتے ۔۔۔
چلو ٹھیک ہے۔۔۔ کل جو ہوگا وہ دیکھا جائے گا۔۔۔ چلو آو شاپنگ کرنے چلتے ہے۔۔۔ تمہارے لئے شاپنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنے بے بی کے لئے بھی ڈھیر ساری شاپنگ کریں گے۔۔۔ ساتھ والا کمرہ بے بی کے لئے سیٹ کرتے ہیں۔۔۔ ابھی واپس جاوں گا تو دوبارہ ناجانے کب یہاں میرا چکر لگے۔۔۔ کم از کم ہمارے بے بی کے ویلکم کی تیاریاں تو مکمل ہوں۔۔۔ آخر کو شاہ میر خان کا بے بی آ رہا ہے۔۔۔ وہ اسکے آنسو صاف کر کے اٹھ کھڑا ہوتا گویا ہوا تو وہ بھی بے ساختہ مسکرا دی۔۔۔۔
اتنے مہینوں کی گھٹن کے بعد آج کوئی تازہ ہوا کا جھونکا اسے چھو کر گزرا تھا جب وہ مکمل مطمئں آسودگی سے مسکرا دی تھی۔۔۔۔
ویسے ایک بات تو بتاو بے بی بوائے یا بے بی گرل۔۔۔ کار پارکنگ سے نکالتے وہ شرارتی انداز میں گویا ہوا تو ایمان خفت سے سرخ پڑتا چہرا جھکا گئ۔۔۔
مجھے نہیں پتہ۔۔۔
خان قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔ یار ایک تو تم بلش بہت کرتی ہو۔۔۔ میں تو اس لئے پوچھ رہا تھا کے شاپبگ کرنے میں آسانی رہتی۔۔۔ چلو کوئی بات نہیں ایسی شاپنگ کریں گے جو بے بی گرل اور بے بی بوائے دونوں کے لئے استعمال ہو سکتی ہو۔۔۔ وہ اسکا شرمایا لجایا روپ دیکھ خود ہی اسکی مشکل آسان کرتا گویا ہوا۔۔۔
*****
شامیر خان اس وقت لاوئنج میں موجود چھوٹے سے ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھا رغبت سے ناشتہ کر رہا تھا جو ابھی ابھی کنزل نے بنایا تھا۔۔۔ کہنے کو یہ دوپہر تھی لیکن وہ اٹھا ہی دوپہر بارہ بجے تھا۔۔۔ اسکا طرز زندگی ہی یہ تھا۔۔۔۔ رات دیر تک جاگنا اور صبح دیر تک سوتے رہنا۔۔۔۔
ناشتے کے بعد کنزل نے اسے چائے کا مگ لا کر تھمایا۔۔۔ وہ ڈھیلے سے لباس میں ملبوس بالوں کا رف سا جوڑا بنائے ہوئے تھی۔۔۔۔
کنزل تم تو ناشتہ کرو یار۔۔۔ وہ اسے پلٹتا دیکھ بول اٹھا۔۔۔ میں صبح سے دو دفعہ کر چکی ہوں جناب مجھے اس حال میں بھوک کہاں برداشت ہوتی ہے۔۔۔ وہ نرمی سے مسکرائی۔۔۔
اچھی بات ہے۔۔  اپنی ڈائٹ کا خیال رکھنا  بھی چاہیے۔۔۔۔ 
کل رات وہ دونوں شاپنگ کے بعد ڈںر کر کے رات گئے کہیں لانگ ڈرائیو سے لوٹے تھے۔۔۔ آتے ہی شامیر نے بچے کے لئے کمرا تو سیٹ نا کیا البتہ اسکی شاپنگ کا سارا سامان اس کے لیے مختص کئے گئے دوسرے کمرپے میں رکھوا دیا۔۔۔۔ 
امجد سے بات کی ہے میں نے کنزل شام تک تمہارے پاس ایک جز وقتی ملازمہ آ جائے گی جو صبح سے شام تمہارے پاس رہے گی۔۔ اسکے رات تمہارے پاس رکھنے کے میں خود ہی قائل نہیں یوں ہماری پڑائیوٹ لائف زبان زد عام ہوگئ۔۔۔
ناشتہ کرنے کے بعد وہ اسے لئے لاوئنج میں آ بیٹھا۔۔۔
میں شام تک چلا جاوں گا۔۔۔ مجھے نہیں پتہ میری واپسی کب ہو گئ۔۔۔ شاید اگلے مہینے یا شاید اس سے بھی بعد۔۔۔ یا شاید بے بی کی ڈیلیوری پر۔۔۔ 
میں بہت بے فکرا شخص تھا کنزل لیکن اس بے بی کی آمد نے میری بے فکریاں اڑا دی ہیں۔۔۔
میرے پاس عیش کرنے کو باپ دادا کی بہت سی جاگیریں اور بزنس ہیں جس کے لئے میں پوری زندگی بھی بیٹھ کر کھانا چاہوں تو پرسکون انداز میں زندگی گزار سکتا ہوں۔۔۔۔میں سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والا شخص ہوں۔۔۔ لیکن اب میرے ارد گرد اگاہی کے در وا ہو رہے ہیں۔۔۔۔کے اگر اپنی اولاد کے لئے مجھے کچھ کرنا ہے تو کچھ زور بازو ہونا چاہیے۔۔۔
مجھے بزنس کے داو پیچ آنے چاہیے۔۔۔ میرے ہاتھ میں کوئی ایسا ٹیلنٹ ہونا چاہیے کے اگر مسقبل قریب میں کوئی ایسا مقام آئے جہاں تمہارے لئے یا اپنے بچے کے لئے مجھے اپنے خاندان والوں سے بھرنا پڑے تو میرے اپنے ہاتِ میں کچھ ہو۔۔۔
شامیر خان یکدم ہی لابالے پن اور بے فکری کی دنیا سے نکل کر سمجھداری کی دنیا میں قدم رکھ چکا تھا۔۔۔ وہ سمجھ کر سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
تم سے رابطے میں رہوں گا کنزل۔۔۔۔
خان اگر آپ برا نا منائیں تو میں آپکے سنگ امی کی جانب ایک چکر لگانا چاہتی ہوں۔۔۔  وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔ ہم زیادہ دیر نہیں رکیں گے۔۔۔ جلد ہی واپس آ جائیں گے۔۔۔ پلیز۔۔۔۔
چلو۔۔۔ وہ اسکی التجا کے جواب میں بنا توقف مان اٹھا تو اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا رہا۔۔۔۔
******
جاری ہے۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.
4