Rah_e_haq novel 19th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 19th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ
انیسویں قسط۔۔۔
خان گاڑی کی بیک سیٹ پر بیٹھا سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں مونڈے ہوئے تھا۔۔۔ ناچاہنے کے باوجود بھی اندر ایک بے چینی سی سرائیت کرنے لگی تھی ۔۔۔ اسکی مسلسل ہلتی ٹانگ اور پاوں اسکی بے چینی کے گواہ تھے۔۔۔ ناجانے کیوں وہ اس بات کو دماغ سے نکالنے میں ناکام ہو رہا تھا ۔۔ کئ دفعہ سر جھٹکا۔۔۔ کئ دفعہ دماغ کسی اور چیز کی طرف لگانا چاہا لیکن یہ ہی ایک بات جیسے دماغ میں اٹک سی گئ۔۔۔
امجد گاڑی موڑو۔۔۔۔
دفعتاً وہ ایک جھٹکے سے سیدھا ہو کر بیٹھتے فیصلہ کن لہجے میں گویا ہوا۔۔۔ خان کے حکم پر امجد نے لمحے کی تاخیر کئے بنا گاڑی کو بریک لگائی۔۔۔۔
گاڑی موڑنی کس جانب ہے خان۔۔۔ امجد فکرمند ہو اٹھا ۔۔۔ کیونکہ پلان کے مطابق انہیں لاہور ائیر پورٹ پر جا کر وہاں سے اسلام آباد کی فلائیٹ سے اسلام آباد جانا تھا۔۔۔ اب ائیرپورٹ سے چند پلوں کی مسافت پر گاڑی موڑنا وہ بھی تب جب فلائٹ میں محض پندرہ سے بیس منٹ باقی تھے سمجھ سے باہر تھا۔۔۔وہ الجھ اٹھا۔۔۔
اسی اپارٹمنٹ کی جانب جسے چند ماہ پہلے ایک حسین دوشیزہ کے نام کروایا تھا۔۔۔
خان کے کہنے پر اسکی بات کا مفہوم سمجھ کر امجد گم صم رہ گیا۔۔۔ بہت عرصے بعد اسکا مالک پرانی راہوں کا مسافر بننے جا رہا تھا۔۔۔۔ لیکن سوال پوچِھنے کا اختیار کسے تھا تبھی خاموشی سے گاڑی واپس موڑ ڈالی۔۔۔
پر خان اسلام آباد میں بڑے خان انتظار کر رہے ہیں آپکا۔۔۔ انکے مطابق آپ آج وہاں آ رہے ہیں ۔۔ امجد نے دبے دبے انداز میں اسے یاد دہانی کروائی۔۔۔
انہیں کہہ دینا کے دوستوں کے ایک دو ٹور اور نکل آئے ہیں جسکی وجہ سے میں نہیں آسکا۔۔۔
اپنی بات مکمل کر کے وہ واپس سیٹ کی پشت سے سر ٹکا گیا۔۔۔
*****
تمہیں جو سکھ پہنچتا ہے اللہ کی طرف سے پہنچتا ہے اور جو دکھ پہنچتا ہے وہ تمہارے اپنے نفس کی طرف سے پہنچتا ہے۔۔۔
(۴:۷۹)
اسنے نم آنکھوں اور بھیگی پلکوں کیساتھ بھاری دل لئے نماز کے بعد قرآن پاک کھولا تو پہلی ہی آیت نگاہوں سے ٹکرائی۔۔۔
بے ساختہ اسکی آنکھ بھر آئی۔۔۔
ہمارا نفس ہمارے دشمن کی طرح ہوتا ہے جب یہ ہمیں سنجیدہ پاتا ہے تو یہ ہماری اطاعت کرتا ہے ہماری بات سنتا ہے اور اگر اس کو ہم زرا سی بھی کمی نظر آ جائے یا ہم اسے زرا سی بھی ڈھیل دے دیں تو یہ شرکش ہوتا ہمیں قیدی بنانے کے در پر ہو جاتا ہے یوں اس انداز میں کے ہمارے ہاتھ پاوں باندھ کر حسب منشا سب کروا ڈالتا ہے۔ آپ اپنے نفس کو جتنی ڈھیل دیں گے یہ اتنا ہی آپکو رسوا کروائے گا۔۔۔
نفس کبھی مر نہیں سکتا۔۔۔ کسی صورت نہیں۔۔ کیونکہ یہ اگر مر جائے تو کہانی ہی ختم ہو جائے اور اصل جنگ تو ہے ہی اپنے نفس کے ساتھ جس میں ہمیں ہر حال میں فاتح ٹھہرنا ہے۔۔۔ رات کی پڑھی باتیں اسے یاد آنے لگی تو وہ پھوڑے کی مانند دکھتے دل کے ساتھ وہیں بیٹھ گئ۔۔۔ ناجانے کیوں وہ باوجود کوشیش کے اس ایڈکشن سے باہر نہیں نکل پا رہی تھی۔۔۔
اللہ کے حضور گڑگڑا کر دل ہلکا کر کے وہ احساس پشیمانی سے نکلتی تو اسے لگتا وہ ہر اٹھتے قدم کے ساتھ اپنے رب کی جانب بڑھ رہی ہے۔۔۔ رب کی جانب بڑھنے کا یہ سفر دن با دن زیادہ ہو رہا ہے وہ اپنے رب کے قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی ہے۔۔ ابھی وہ اس بات پر ٹھیک سے خوش بھی نا ہو پاتی کے سرکشی کا ایک طوفان اٹھتا جو اسکے سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتوں کو مفلوج کرتا اسکے ہاتھ پاوں باندھ کر اسے گھسیٹتا ہوا واپس تباہی کے اسی دہانے پر لے جاتا جہاں سے اسنے بڑی ہمت کے بعد رب کی جانب کا وہ سفر شروع کیا تھا۔۔۔ جسکے بعد پھر سے اسکی پشیمانی کا سفر شروع ہو جاتا۔۔۔ اتنے دن کی جستجو سے قدم قدم رب کی جانب بڑھ کر پاٹا جانے والا فاصلہ ایک ہی پل میں کھینچ کر پھر سے صدیوں کی مسافت پر محیط کر دیا جاتا۔۔۔
جانے کیوں وہ ناولز کے رومینٹک سینز پڑھتی ٹرگر ہو جاتی تھی۔۔۔ یا ایسا کوئی سین نگاہوں کے سامنے سے گزرتا تو وہ خود پر سے اختیار کھو جاتی۔۔۔
جیسے سگریٹ پینے والا شخص سگریٹ کا دھواں محسوس کر کے ٹرگر ہوتا تب تک سکون سے نہیں بیٹھ سکتا جب تک سگریٹ پی نا لے۔۔۔
جیسے بریانی کا شوقین اسکی خوشبو محسوس کر کے تب تک پرسکون نہیں ہو سکتا جب تک وہ اسے کھا نا لے۔۔۔
یہ ہی حال آج کل اسکا تھا۔۔۔ اس ایڈکشن سے بچنے کے لئے وہ جتنے ہاتھ پیر مار سکتی تھی مار رہی تھی۔۔۔ اب اسکی عقل سمجھ یہاں آ کر مفلوج ہو رہی تھی کے وہ ایسا کیا کرے جو ایک قبیح فعل سے دور ہو جائے۔۔۔
اسکی اب اپنے رب سے دعائیں بدلنے لگی تھی۔۔ وہ اب اپنی دعاوں میں اس راستے کے کھلنے کی دعائیں کرنے لگی تھی جس پر چل کر وہ اس تباہی کے دہانے سے دور ہو سکے جو نا صرف اس کی دنیا بلکہ آخرت بھی نگلنے کو تیار کھڑا تھا۔۔۔۔
وہ ابھی قرآن پاک جزدان میں لپیٹ کر بک شلف پر رکھ کر پلٹی ہی تھی جب کلک کی آواز کیساتھ دروازہ کھلنے کی آواز پر چونک کر اس جانب متوجہ ہوئی۔۔۔۔ جب سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر جہاں کی تہاں رہ گئ۔۔۔
*****
خان کے مضبوط قدم تیزی سے شناسا راستوں پر سفر کر رہے تھے۔۔۔
لفٹ سے نکلتے ہی وہ دائیں مرنری راہداری کی جانب مڑا ۔۔۔ ارد گرد ہائی سوسائٹی کے خوبصورت اپارٹمنٹس تھے اسکا چہرا سنجیدہ جبکہ نگاہیں کچھ کھوجتی ہوئی تھیں۔۔۔ اتنے مہینوں بعد وہ بنا بتائے یہاں آ موجود تھا۔۔۔
مطلوبہ اپارٹمنٹ کے سامنے رک کر اسنے اپنے پاس موجود چابی سے اپارٹمنٹ کا دروازہ وا کیا اور بالکل غیر متوقع طور پر اندر داخل ہوا۔۔۔
اسنے ایک ہی نظر میں سارے اپارٹمنٹ کا جائزہ لے لیا۔۔۔ صاف ستھرا سا اپارٹمنٹ اور لاوئنج میں کمرے کے دروازے کے سامنے کھلے سے لباس پر حجاب اوڑھے کھڑی ایمان۔۔۔ ۔
دفعتاً کلک کی آواز پر ایمان اس جانب پلٹی اور اتنے مہینوں کے بعد سامنے کھڑے خان کو دیکھ جہاں کی تہاں رہ گئ۔۔۔۔نم آنکھیں سرعت سے گیلی ہونے لگی تھیں۔۔۔ کیا اس گناہگار کی دعائیں بھی قبولیت کا شرف پا گئی تھیں۔۔۔ کیا اسکا انتظار ختم ہوا۔۔۔
بے یقینی سی بے یقینی تھی۔۔۔
اور تمہارے رب نے نا تمہیں چھوڑا ہے اور نا ہی وہ تم سے ناراض ہوا ہے۔۔۔
آیت کے الفاظ کانوں میں گھونجے تو وہ ڈھرکتے دل کیساتھ تھوک نگل کر رہ گئ۔۔۔۔
وہ پہلے سے بھی زیادہ ہینڈسم ہو گیا تھا۔۔۔ کھڑے مغرورانہ نقوش صاف رنگت کسرتی جسامت اور اسکی شخصیت کا سحر ۔۔۔ وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اللہ کی رحمت سے مایوس نا ہو۔۔۔۔۔
سورۃ الزمر
ۃ۵۴
ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی آنکھ سے پھسلا اور اسکا بے جان جسم جیسے یکدم ہی متحرک ہو اٹھا وہ بھاگ کر خان کی جانب لپکی۔۔۔
خخ۔۔۔ خان۔۔۔ آپ آگئے۔۔۔ مجھے امید تھی کے آپ ضرور آئیں گئے۔۔۔ مم میں۔۔۔
وہ بہتی آنکھوں اور کپکپاتے ہاتھوں سمیت اسکے چہرے کا ایک ایک نقش چھوتی گویا مسمرائز سی بول رہی تھی۔۔۔ جبکہ خان وہ سنجیدہ سا یک ٹک اسکے بھرے بھرے سراپے کو دیکھ رہا تھا جو اس پر حقیقت کے بہت سے راز آشکار کر رہا تھا ۔۔۔۔
خان آپ۔۔۔
خان نے سنجیدگی سے اسکا اپنے چہرے پر رینگتا ہاتھ تھام کر دور جھٹکا۔۔۔ یوں کے ایمان کے آنسو ٹھٹھر گئے وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
کس کا بچہ ہے یہ۔۔۔ شعلے اگلتی نگاہوں اور غراتی آواز میں یہ ایسا سوال پوچھا گیا تھا کے ایمان کو لگا وہ کھڑی کھڑی ہی فنا ہو گئ ہو۔۔۔
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں کے ساتھ اسے دیکھنے لگی۔۔۔ بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔۔۔ جسکے واپس آنے کی اسقدر دعائیں مانگیں۔۔۔ وہ واپس آتا ہی اسکے کردار پر سوال اٹھاتا ایسی جواب طلبی کرے گا کے وہ بے موت ماری جائے گی یہ کہاں سوچا تھا اسنے۔۔۔
تم نے شاید سنا نہیں۔۔۔ میں پوچھ رہا ہوں کے یہ کسکا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ اپنی بات مکمل کرتا ناجانے ایمان کے تن مردہ میں اتنی طاقت کہاں سے آئی کے وہ بھوکی شیرنی کی مانند اس پر جھپٹتی اسکا گریبان جھکڑ گئ۔۔۔
اپنی زبان کو یہیں لگام دے ڈالیں خان۔۔۔ مزید ایک لفظ نہیں۔۔۔ مانا کے بہت گنہگار ہوں مگر بدکردار نہیں۔۔۔ یہ اولاد آپکی ہے مجھے اس بات کی صفائی دینے کی قطعاً ضرورت نہیں۔۔۔ کیسے مرد ہیں آپ جسے یہ تک نہیں پتہ کے اسکے بیوی کے بطن میں پروان چڑھتی اولاد اسکی ہے یا نہیں۔۔۔ ایمان کی آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا۔۔۔،
اسکے لہجے کا کھڑا پن اور آنکھوں کی سچائی نے خان کو بے طرح ٹھٹھکایا۔۔۔۔
وہ اپنے گریبان کو جھکڑے ایمان کے ہاتھ بے طرح جھٹکتا قدم قدم پیچھے کی جانب ہٹا۔۔۔
ایمان یکدم ہوش میں اتی تھوک نگلتی اسے خوفزدہ نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ اگر وہ واپس چلا گیا تو
دل ڈوب کر ابھرا تھا۔۔۔
خخ۔۔۔خان۔۔۔
اگر وہ دنیا کی بھیڑ میں پھر سے گم ہو گیا تو۔۔۔
خان۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ وہ اسے دروازے کے پاس پہنچتا دیکھ اسکی جانب لپکی مگر تب تک وہ اسے نظر انداز کرتا تیزی سے چوکھٹ عبور کرتا باہر نکل گیا جبکہ اسکے کلتے ہی دروازہ واپس بند ہو گیا۔۔۔
خاننننن۔۔۔۔ پیچھے ایمان کو لگا جیسے کوئی اسکے جسم سے بے طرح روح جھپٹ کر نکال باہر لے گیا ہو۔۔۔۔
وہ جس خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے واپس جا چکا تھا۔۔۔
******
خان تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے مختل ہوتے حواسوں کو قابو کئے پارکنگ کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔۔
اسکا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔۔۔
اسے فوراً ہی لال بھبھوکا چہرا لئے باہر آتا دیکھ امجد الڑٹ ہو اٹھا۔۔۔ اسنے خان کے گاڑی تک پہنچنے سے پہلے ہی مستعدی سے ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی اور اسکے گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔۔
میرے اس سو کالڈ نکاح کو ہوئے کتنا عرصہ ہو گیا امجد۔۔۔۔ وہ ماتھ مسلتا بے چینی سے گویا ہوا۔۔۔۔
بے سکونی انگ انگ میں سرائیت کرنے لگی تھی۔۔۔
امجد نے انگلی کی پوروں پر شب و روز کا حساب لگایا۔۔۔
تقریباً چھ ۔۔۔ یا سات ماہ۔۔۔۔
گاڑی اپنے اپارٹمنٹ کی جانب موڑو۔۔۔ وہ اسی سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
اگلے آدھے گھنٹے میں مجھے پچھلے چھ سات ماہ کی ایمان کے بارے میں تمام انفارمیشن چاہیے۔۔۔
وہ کہاں گئ اسنے کیا کیا ۔۔۔ کون کون اس سے ملنے آیا۔۔۔ کس کس نے اپارٹمنٹ میں سٹے کیا۔۔۔ سب۔۔۔
اپنے اپارٹمنٹ کے سامنے اترتا وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔ جبکہ امجد بات سمجھ کر سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔
خان کا سنجیدہ روپ اور یہ تفتیش اسے بہت سی گڑبڑ کی نشاندہی کروا رہی تھی۔۔۔
*****
ٹھیک اگلے آدھے گھںٹے بعد امجد ساری انفارمیشن کیساتھ خان کے سامبے اسکے پارٹمنٹ میں موجود تھا۔۔۔ خان اس وقت ماتھا مسلتا صوفے پر نیم دراز تھا جب وہ سبھی معلومات سمیٹ وہاں داخل ہوا۔۔۔
یہ رہی اس اپارٹمنٹ احاطے کی سی سی ٹی وی فوٹیج خان۔۔۔ اس میں بھی واضح ہے اور انکے بارے میں ساری معلومات اکھٹی کرنے پر بھی یہ ہی پتہ چلا کے وہ جب سے اپارٹمنٹ میں شفٹ ہوئی ہیں بہت کم اپارٹمنٹ سے باہر نکلی ہیں۔۔۔ سوائے کالج جانے یا گروسری کرنے کے۔۔۔
نیز انکی ماں ہی اس اپارٹمنٹ میں انکے پاس آتی تھیں۔۔۔ بھائیوں سے کوئی چپکلش چل رہی تھی شاید۔۔۔ پہلے پہل وہ بہن سے نہیں ملتے تھے۔۔ کچھ ماہ پہلے ہی انکی صلح ہوئی ہے جسکی وجہ سے اب کبھی کبھی انکا بھی اپارٹمنٹ میں چکر لگ جاتا ہے۔۔۔۔۔
اب اپنے ایگزائمز کے بعد سے انہوں نے بالکل ہی اپارٹمنٹ سے نکلنا بند کر دیا ہے۔۔۔ اس کے علاوہ کوئی قابل گرفت بات پتہ نہیں لگ سکی خان۔۔۔ حالانکہ میں نے ہر طرح سے تشفی کی ہے۔۔۔
امجد کے سارے معلومات بہم پہنچانے پر وہ گم صم سا یک ٹک اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔
*****
خان کے جانے کے بعد ایمان یونہی ساکت سی صوفے پر بیٹھی تھی جیسے سب کچھ سوکھی ریت کی مانند ہاتھ سے پھسل گیا ہو۔۔ وہ ایک شخص واپس آیا بھی اور اس پر اتنا بڑا الزام لگا کر واپس چلا گیا۔۔۔
دل کی ڈھرکنیں جیسے سست پڑ رہی ہوں۔۔۔۔ یکدم ہی اسکا ہر چیز سے دل اچاٹ ہو گیا۔۔۔۔ وہ اس سے زیادہ آزمائشوں کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔
دفعتاً دروازہ ایک مرتبہ پھر سے کلک کی آواز کیساتھ کھلا اور وہی مخصوص کلوں کی خوشبو ایمان کے نتھنوں سے ٹکرائی تو وہ سانس تک روک گئ۔۔۔
خان قدم قدم چلتا آ کر اسکے عین سامنے سنگل صوفے پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھا اور سر تھام گیا۔۔۔ جبکہ ایمان تھوک نگلتی اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ ناجانے اب وہ اسے کیا کہنے والا تھا۔۔۔ اسکا دل سوکھے پتے کی مانند کپکپانے لگا۔۔۔ پتہ نہیں اب زندگی کو اس سے کیا آزمائش مطلوب تھی۔۔۔
*****

No comments