Rah_e_haq novel 54th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 54th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
54th epi...
کنزل الایمان اس وقت اپنے گھر کے کھلے سے ٹیرس پر موجود کین کی کرسی پر بیٹھی تھی۔۔۔ سامنے چھوٹے سے گول میز پر لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا جہاں وہ اپنی میلز چیک کر رہی تھی۔۔۔ آنچل سینے پر پھیلا ہوا تھا البتہ شہد رنگ بال پشت پر پھیلے تھے۔۔۔ وہ اپنے ورکنگ روم میں بیٹھی کام کر رہی تھی لیکن یکدم موسم کو انگڑائی لے کر کروٹ بدلتے دیکھ وہ اوپر ہی آگئ۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے اسکی شامیر سے بات ہوئی تھی وہ آ رہا تھا یقیناً کچھ دیر تک وہ بھی پہنچ جاتا۔۔۔
دونوں بچے ایک بک فئیر میں گئے تھے۔۔۔ البتہ نورین کام کر کے جا چکی تھی۔۔۔
وہ اس وقت تنہا تھی اور فراغت میں اپنا کافی کام نبٹا لینا چاہتی تھی۔۔۔ پھر اسے نیچے جا کر اچھے سے ڈنر کا انتظام بھی کرنا تھا۔۔۔
اپنی اسقدر مصروف ترین زندگی میں ایک کام جو اسنے اگر شروع کیا تھا تو اسے چھوڑا نا تھا وہ تھا لکھنے کا کام۔۔۔
پتہ نہیں کیسے وہ اپنا وقت مینج کر کے لکھنے کے لئے وقت نکال ہی لیتی۔۔
لفظ اس سے خود اپنا آپ لکھواتے تھے۔۔۔ اندر سے طلب اٹھتی تھی لکھنے کی۔۔۔ اور اپنی سوچ کو لفظوں کا پیراہن اوڑھا کر روشنیاں بکھیرنے کو لکھ کر وہ پرسکون ہو جاتی۔۔۔
وہ باقاعدگی سے اخبار میں لکھ رہی تھی اور یہ ہی نہیں وہ ڈیجٹلی اپنا ہر ہر آرٹیکل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اپلوڈ کرتی تھی۔۔۔
ایک چیز اسنے شدت سے نوٹ کی تھی۔۔۔ پاکستان میں ہنوز اسقدر پسماندہ علاقے بھی تھے جہاں انٹرنیٹ کا نام و نشان تک نا تھا۔۔۔ اگر تھا بھی تو ایزی ٹو ایکسز نا تھا۔۔۔ جیسے سندھ کے کئ فیوڈرل بیس علاقے اور بالخصوص تھر کا علاقہ۔۔۔ البتہ وہاں کی یوتھ تک اخبار اور رسائل کے ذریعے اسکی آواز پہنچ رہی تھی۔۔ اور پاکستان کے زرا ترقی یافتہ علاقے جہاں انٹرنیٹ ایزی ٹو ایکسس تھا ان لوگوں کو موبائل اور انٹرنیٹ کی اسقدر اڈکشن تھی کے وہاں اخبارات اور رسائل کی طرف دیکھا تک نا جاتا۔۔۔ وہاں وہ اپنی آواز سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچا رہی تھی۔۔۔ اسنے پلیٹ فارم کوئی بھی نا چھوڑا تھا۔۔۔ اور تقریباً ہر ہر موضوع کو زیر بحث لانے کی کوشیش کی تھی۔۔۔
پھر چاہیے وہ بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتیں تھی ۔۔۔ مہنگائی کی چکی میں پستا غریب تھا۔۔۔ خود شناسی کا سفر تھا۔۔۔ لڑکیوں کی مناسب وقت میں شادی تھی یا لڑکیوں کے ہنر مند ہونے پر آواز اٹھانا تھا۔۔ اسنے کم و بیش ہر ہر ٹاپک پر لکھا تھا۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے اپنی محنت کی بنیاد پر اسنے بہت کامیابیاں سمیٹی تھیں۔۔ ادبی حلقے میں اسکا نام تھا۔۔ لوگ اسے پہچانتے تھے۔۔۔
اسکے کالمز کے مجموعے پر اسکی دو کتابیں کامیابی سے ملک بھر میں سرکولیٹ کر رہی تھیں جبکہ اسکی تیسری کتاب حال ہی میں پبلش ہوئی تِھی۔۔۔
ابھی وہ میلز چیک کر کے فارغ ہوئی ہی تھی کے نیچے ایک طوفان بدتمیزی بھرپا ہوا جو نشاندہی تھا کے اسکے سپوت بالخصوص زوہان شامیر خان گھر آ چکا ہے۔۔۔ اسکے گھر آنے کا سٹائل یہ ہی تھا کے گھر آتے یا گھر سے نکلتے لوہے کا آہنی گیٹ اتنے ہی زور سے بند کیا جاتا کے ایمان دہل کر رہ جاتی۔۔۔
ممی۔۔۔ ممی۔۔۔
ممی کہاں ہیں آپ۔۔۔
اوپر ہوں زوہاں اوپر ہی آجاو دونوں۔۔۔ اسنے ریلنگ سے جھکتے آواز لگائی تو ساتھ ہی سیڑھیاں چڑھنے کی دھپ دھپ کی آواز ابھرنے لگی۔۔۔
یہ شامیر کی بیٹی کی پیدائش سے دو سال بعد کا واقعہ تھا جب زوہان تیرہ جبکہ سبحان پندہ سال کا تھا۔۔۔ اور سبحان نے نئ نئ بائیک چلانا سیکھی تھی اور دونوں بھائی اب سکول وین کی بجائے بائیک پر سکول جانے لگے تھے۔۔۔
مام بک فئیر سپر ڈپر ہٹ گیا۔۔۔
یو نو۔۔ وہاں سب کو کنزل الایمان کی خود سے خودی تک۔۔۔ کتاب چاہیے تھی۔۔۔
زوہاں کی خوشی دیدنی تھی وہ مسکراتا ہوا دھپ سے آ کر ڈھیلے سے انداز میں کرسی پر بیٹھا۔۔۔ جبکہ سبحان بھی بہت خوش تھا۔۔
یس ممی۔۔۔ آپکی کتابوں پر لوگوں کا ریویو سپر تھا۔۔۔۔
انفیکٹ یہ تو بول رہا تھا میں یہاں اناوئنس کر دیتا ہوں کے میں کنزل ایمان کا بیٹا ہوں۔ سبحان کے کہنے پر ایمان نے تعجب سے زوہان کو دیکھا۔۔۔
اور نہیں تو کیا ممی بالکل سٹار والی فیلنگز آنی تھی پھر۔ زوہان نے شانے اچکائے تو وہ سر نفی میں ہلاتی مسکرا دی۔۔۔
ممی ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا کے آپ اتنا پیارا لکھتی ہیں۔۔۔
کبھی پڑھا جو نہیں۔۔۔ بے ساختہ سبحان نے زوہان کی بات کاٹی تو وہ خونخوار انداز میں اسے گھورنے لگا۔۔۔
اوکے اوکے۔۔۔ وہ جھٹ سے سیز فائر کر گیا۔۔
آج وہاں آپکے لکھے پر لوگوں کا فیڈ بیک پڑھا تو پتہ چلا۔۔۔۔
اور اسے پتہ ہے کیا کہتے ہیں۔۔ ایمان نے مسکراتے ہوئے لب دانتوں تلے دابا۔۔۔ ٹھنڈی ہوائیں تیز ہواوں میں بدلنے لگیں تھیں۔۔
جی پتہ ہے بالکل پتہ ہے۔۔ سبحان نے ماں کی بات اچکی۔۔
کیا کہتے ہیں۔۔ زوہان نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔
گھر کی مرغی دال برابر ۔۔۔ سبحان کے کہنے پر تینوں مسکرا دئیے۔۔۔
لیکن مام جہاں سب لوگ آپکی تعریفیں کر رہے تھے وہاں کچھ لوگ تھے جو فضول کا میس کریٹ کر رہے تھے کے اس رائٹر کے لکھنے میں ایسا کیا خاص ہے۔۔ ایسی انفارمیشن سے تو انٹرنیٹ بھرا پڑا ہے۔۔۔تو یہ رائٹر ایسا کیا خاص لکھ رہی ہے جو یونیق ہو۔۔۔ یک لخت زوہان کو یاد آیا تو اسکے ہونٹوں کی مسکراہٹ سمٹی۔۔۔
ایمان اٹھتی اٹھتی واپس بیٹھ گئ۔۔۔
اس سے کیا ہوتا ہے زوہان۔۔۔ جو جو بولتا ہے بولتا رہے۔۔۔ ایسے میں قصور ان لوگوں کا نہیں ہے۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی خود کو بدلنے کی کوشیش ہی نہیں کی۔۔۔ اگر بدلنے کی اور دنیا کو ایکسپلور کرنے کی کوشیش کی ہوتی تو انہیں پتہ ہوتا کے وہ کونسی چیز ہے جو انٹرنیٹ پر موجود نہیں۔۔۔
نیٹ پر سب موجود ہے۔۔۔ ہر چیز۔۔۔۔ جسکی بھی کھوج میں نکلو۔۔۔
چاہے وہ کسی کی کامیابی کی کہانی ہو۔۔۔ کوئی ڈائٹ پلان ہو۔۔۔ کسی سورت کا ترجہ و تفسیر ہو۔۔۔ کسی بھی چیز کی کوچنگ ہو کوئی سکل ہو سب موجود ہے۔۔۔
لیکن کیا ہم سب تک ایکسز حاصل کرتے ہیں۔۔۔ وہ مسکرائی۔۔۔
وہاں سب کچھ ایکسس میں ہے اتنا زیادہ کے معلومات کے ڈھیر کا پہاڑ بنا ہوا ہے۔۔۔ جب کوئی وہاں مطلوبہ چیز کی جستجو میں جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔۔۔ اسقدر وافر مقدار میں انفارمیشن کے لوڈ میں اسے مطلوبہ چیز تلاش کرنا بھوسے کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈنے کے مترادف لگتا ہے۔۔
اور اپنی اپنی فیلڈ میں ایکسپرٹس کیا کرتے ہیں ۔۔۔ وہ کوئی ڈائٹیشن ہے کوچ ہے رائٹر ہے یا کوئی کریٹر۔۔۔
وہ اپنی آڈینس کی ضرورت کے مطابق اس پہار میں کودتا ہے۔۔ وہاں سے مطلوبہ چیز تلاش کر کے نکالتا ہے۔۔۔ اسے تراشتا ہے اسکی نوک پلک سنوارتا ہے اور آسان اور جامع انداز میں اسے ایزی ٹو ایکسس بناتا لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے تا کے لوگ اس ریلیٹ کر سکیں۔۔۔ اس سے مستفید ہو سکیں۔۔۔اور یہ ہی اصل آرٹ ہے۔۔۔ اب اگر کوئی بولے کے اس میں کیا کمال ہے یہ تو پہلے ہی نیٹ پر موجود ہے تو یہ ٹیلنٹ کی ناقدری ہے۔۔۔ اور ایسے لوگوں سے بحث بنتی ہی نہیں۔۔۔ ہم ایسے لوگوں کو سمجھا نہیں سکتے۔۔ کیونکہ سمجھایا اسے جاتا ہے جسے سیکھنے کی یا سمجھنے کی چاہ ہو۔۔۔
لفظ ایسے لوگوں کے لئے بے تاثر اور بے اثر ہوتے ہیں۔۔۔ ایسے لوگوں کا ایک ہی حل ہے ۔۔۔ اور وہ ہے اگنورینس۔۔۔ حد درجہ اگنورینس۔۔۔
ماں کے سمجھانے پر زوہان کا غصہ جاتا رہا جبکہ وہ لب چباتا ماں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
Ya you r right mom....
یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں۔۔۔
چلو اب اٹھو اور نیچے آ جاو۔۔۔ آثار بتا رہے ہیں کے بارش ہونے والی ہے۔۔۔ اسنے آسمان پر تیزی سے چھاتی کالی گھٹا کو دیکھتے کہا۔۔۔۔۔
واو ممی کلاوڈز فلوٹینگ کر رہے ہیں۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا خوبصورت قدرت کے نظاروں کی ویڈیو بنانے لگا تھا جبکہ ایمان مسکراتے ہوئے نیچے آگئ۔۔۔
****
رات کا وقت تھا وہ سب ڈنر کر چکے تھے۔۔۔ ایمان ڈنر کے بعد کچن سمیٹ رہی تھی جبکہ شامیر صوفے پر نیم دراز دیوار گیر ایل سی ڈی پر کوئی ٹاک شو دیکھ رہا تھا۔۔۔ سامنے ہی سنگل صوفے پر سبحان بیٹھا انہماک سے لیپ ٹاپ پر نئ نئ سیکھی گرافک ڈیزائنگ پر اپنی کریٹیویٹی آزما رہا تھا۔۔۔ آج کل اسکی فرسٹ کسٹمر اسکی ماں تھی اور وہ تمام تجربے ماں کی ویب سائٹس اور مختلف اکاونٹس کے لوگو اور انٹرو آوٹرو بنا کر کر رہا تھا۔۔۔۔
البتہ زوہان اپنے کمرے میں کچھ کر رہا تھا۔۔۔ دفعتاً زوہان بعجلت کمرے سے باہر آیا۔۔۔
ڈیڈ پلیز اپنا موبائل دینا ایک کال کرنی ہے۔۔۔ اسکے ہر ہر انداز میں عجلت تھی جیسے کسی بنا پر اسکا ابھی ابھی بات کے دوران کسی سے رابطہ دس کنیکٹ ہوا ہو۔۔۔
شامیر نے مصروف سے انداز میں اپنا موبائل ان لاک کر کے اسے تھمایا۔۔۔
وہ انہی قدموں پر کمرے میں واپس آ گیا۔۔۔ دوست سے بات کر کے اسنے فون بند کیا جب اسکی توجہ ایک نوٹیفیکیشن نے اپنی جانب مبذول کروا لی۔۔۔
وہ شامیر کو موبائل دینے واپس باہر آنے والا تھا جب کمرے سے نکلتا نکلتا رکا اور نوٹیفکیشن کھول بیٹھا۔۔۔
وہ ایک لڑکی کی ویڈیو کا چھوٹا سا کلپ تھا۔۔۔ زوہان چونکا۔۔۔
اور اسکے چونکنے کی سب سے بڑی وجہ اس لڑکی کی ڈریسنگ تھی۔۔۔ وہ سلیو لیس پاوں کو چھوتے سنہری گاوں میں ملبوس تھی ارد گرد بہت سے گورے اور گوریوں کا جمگھٹا تھا۔۔۔ غالباً وہ کسی کلب کا کلپ تھا جہاں وہ مسکرا کر میوزک کی لے پر لہراتی ہاتھ میں گلاس تھامے ہوئے تھی۔۔۔ یہ کلپ غالباً کسی اور ملک کا تھا۔۔۔
نیچے کیپشن تھا انجوائمنٹ آن پیک۔۔۔
باپ کے موبائل پر کسی غیر لڑکی کی ایسی ویڈیو دیکھ کر اسکا خون کھول اٹھا۔۔۔
اندر کہیں تجسس کے کیڑے نے سر ابھارا تو وہ نہایت غیر اخلاقی حرکت کرتا واٹس ایپ کی اسی چیٹ کو سکرول ڈاون کرنے لگا۔۔۔
وہاں اسی لڑکی کی ویسی ہی ڈریسنگ میں بے شمار کلپس اور فوٹوگرافز تھی۔۔۔ کہیں وہ جینز اور ٹاپ میں ملبوس سنو فالنگ میں گھوم رہی تھی اور کہیں پیچھے بہت خوبصورت نظارے تھے۔۔۔
کہیں وہ شارٹس میں تھی تو کہیں لانگ سکرٹ کے ساتھ شرٹ اتنی چھوٹی کے آدھا پیٹ ننگا ہوتا۔۔۔
اسکی کنپٹیوں میں خون تو تب جوش سے ابالے کھاتے ٹھوکریں مارنے لگا جب اسی لڑکی کے ساتھ اسکے باپ کی بھی تصویریں آئیں۔۔
وہ ابھی اتنی بے ہودہ ڈریسنگ میں اس لڑکی کی باپ کے ساتھ تصویریں دیکھ کر ہی کھول اٹھا تھا کے دفعتاً نیچے کیپشن پر نظر پڑی۔۔۔
نیچے کیپشن تھا مسٹر اینڈ مسز شامیر۔۔۔
زوہان کو اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتاا محسوس ہوا۔۔۔
وہ غصے سے کھولتا جبڑے بھینچے وہیں بیٹھ گیا۔۔۔ اور فرصت سے اس معاملے کی تہہ تک جانے لگا۔۔۔
وہاں گنی چنی تصویریں تھیں۔۔۔ لیکن اسے مکمل کہانی جاننی تھی تبھی گوگل فوٹوز میں آتا سالوں کے حساب سے پیچھے جانے لگا۔۔۔
وہاں شامیر کی ایک چھوٹی بچی کے ساتھ کئ تصویریں تھی۔۔۔ وہ ٹھٹھکا۔۔۔ اندر کہیں مزید کھد بھد شروع ہوئی۔۔
اسنے مزید سکرول ڈاون کیا
شامیر کے ہاتھ میں تھامی ایک دن کی بچی کو دیکھ اسکی سٹی گم ہونے لگی جسکے ساتھ ایڈیٹس میں مائے پرنسس لکھا تھا۔۔۔ اسنے بچی کی پیدائش کی تاریخ اور سال نوٹ کیا۔۔۔ اور مزید بیک جانے لگا۔۔۔ جب لگاتار بیک جاتے جاتے اسکے سامنے باپ کی شادی کا البم آگیا۔۔۔۔
اور بس وہیں اسکی انتہا ہوگئ۔۔۔ اسنے بے ساختہ باپ کی دوسری شادی کی تاریخ نوٹ کی اور انگلیوں کی پوروں پر حساب لگانا چاہا۔۔۔۔ چھ سال۔۔۔ چھ سال پہلے اسکے باپ نے ان سب کو دھوکہ دیتے دوسری شادی کی تھی۔۔۔ اور یہیں اسکی انتہا ہوئی اور پھر زوہان شامیر خان کو تو غصہ وراثت میں اسکے دادا سے ملا تھا۔۔۔
*****
What the Hell is this Dad...
غم و غصے سے چٹختے دماغ کے ساتھ وہ آندھی طوفان بنا کمرے سے باہر نکل کر باپ کے پاس آیا اور اسکا قیمتی موبائل کسی کھلونے کی مانند رکھ کر کانچ کی میز پر مارا۔۔۔
یوں کے چھناکے کی آواز کے ساتھ وہ موبائل کانچ کے مضبوط میز پر ڈراریں ڈالتا زمین بوس ہوا۔۔
شامیر اسکے انداز اور لہجہ دیکھ لمحے کی تاخیر کئے بنا حیرت سے سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ بھلا اسکے اس بدتمیزانہ رویے کی وجہ کیا تھی۔۔۔ وہ تو اسکا بہت فرمابردار بیٹا تھا۔۔ ہاں ضدی تھا مگر بدتمیز نہیں۔۔۔
جبکہ کچن سے چائے لے کر باہر آتی ایمان کے ہاتھ بیٹے کے اس روپ پر بے طرح کپکپائے۔۔۔
سبحان سرعت سے لیپ ٹاپ چھوڑ اسکی جانب لپکا۔۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے زونی۔۔۔۔
تم پیچھے ہو جاو بھائی۔۔۔ سبحان نے اسکی بازو تھامنی چاہی جب اسنے بے طرح اسکا ہاتھ جھٹکا۔۔۔
کیوں کیا آپ نے ایسا ڈیڈ۔۔ کیوں دیا ہم سب کو دھوکہ۔۔۔ وہ حلق کے بل چلایا۔۔۔۔ آنکھوں میں بے بسی اور کرب ہلکورے لینے لگا تھا۔۔۔شامیر کے لئے اسکی نافہم باتوں کو سمجھنا خاصا مشکل تھا۔۔۔
کونسا دھوکہ۔۔۔ سبحان نے پھر سے آگے بڑھنا چاہا جب بھائی کے الفاظ اسکے قدم زنجیر کر گئے۔۔۔
کیوں دیا ہمیں دھوکہ۔۔۔ کیوں کی آپ نے دوسری شادی۔۔
ڈھرام ڈھرام ڈھرام۔۔۔ شامیر کے سر پر ساتوں آسمان ایک ساتھ ٹوٹ پڑے۔۔۔
جبکہ ایمان کے کپکپاتے ہاتھوں سے چائے کا کپ چھوٹ کر زمین بوس ہوگیا۔۔۔
شامیر نے ایک بے بس نگاہ ایمان پر ڈالی۔۔۔
کیوں دیا میری ماں کو دھوکہ۔۔۔ہم سب کو دھوکہ۔۔۔۔ اسکی آواز غم و غصے سے پھٹ رہی تھی۔۔۔۔ کیا کمی تھی میری ماں میں۔۔۔ اسنے طیش سے آگے بڑھتے باپ کو دھکا دیا۔۔۔
ایمان کے قدم گویا وہیں فریز ہوگئے تھے۔۔۔ جسم پر لرزہ طاری ہونے لگا۔۔۔ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو چمکنے لگے۔۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھے شدت سے سر نفی میں ہلا رہی تھی۔۔۔۔
سب سوچ رکھا تھا۔۔۔۔ مگر یہ کہاں سوچا تھا کے جب یہ حقیقت اسکی اولاد کے سامنے آئے گی تو کیا ہو گا۔۔۔
ایک قیامت اس دن اس گھر میں بھرپا ہونی تھی جس روز وہاں شامیر کی پہلی شادی کا خلاصہ ہوتا۔۔۔ جبکہ ایک قیامت آج یہاں اس گھر میں بھرپا ہوئی تھی جب اسکے بیٹے اس حقیقت سے روشناس ہوئے تھے۔۔
اور شامیر تو گویا پتھر کا ہو گیا تھا۔۔۔
سبحان نے حیرت و انبساط میں گھرے آگے بڑھ کر نیچے سے موبائل اٹھایا اور سرچ ہسٹری چیک کرنے لگا۔۔۔
آپکو کیا لگا کے آپ میری ماں کے ساتھ اتنی نا انصافی کریں گے تو کوئی آپ سے پوچھنے والا نہیں ہوگا۔۔۔
زوہان کے چٹخنے پر وہ سرعت سے ہوش میں اتی آگے بڑھی۔۔۔
زوہان۔۔۔ زوہان۔۔۔
پیچھے ہٹیں مام ۔۔ کیا سمجھا ہے آپ نے ہماری ممی کو۔۔۔
ہم ہمیشہ یہ سوچتے رہے کے آپ بہت مصروف ہیں۔۔۔ بزنس کی مصروفیات ہیں جو آپ کئ کئ دن گھر نہیں آتے مگر ہمیں کیا پتہ کے آپ نے اپنی دوسری دنیا بسا رکھی اور دوسری بیوی کے ساتھ۔۔۔
چپ گستاخ۔۔۔ پیچھے ہٹو۔۔۔
ایمان کے جسم میں برقی رو ڈور گئ اسنے سرعت سے بیٹے کے منہ پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے اسکے کمرے کی جانب دھکا لگایا۔۔۔
مام پیچھے ہٹیں مجھے بات۔۔۔
چپ ۔۔ ایک دم چپ۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سمیٹ اسے پوری قوت صرف کرتی پیچھے دھکیل رہی تھی۔۔۔
ممی وہ ایسا۔۔۔
بالکل خاموش ۔۔۔ ایمان نے کمرے کا دروازہ وا کرتے اسے اندر بھیجا اور باہر سے کمرے کا دروازہ بند کرتے گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔۔۔ اسکا جسم اس ساری صورتحال پر بے جان ہونے لگا تھا۔۔۔
شامیر ہنوز پتھر کا بنا کھڑا تھا جبکہ سبحان بظاہر تو خاموش تھا لیکن اسکی آنکھوں میں گہرا ملال تھا۔۔۔
اور شامیر سب دیکھ سکتا تھا لیکن اس وقت بیٹوں کی نظروں میں ابھرتے احساسات و جذبات نہیں۔۔۔
وہ کسی شکست خوردہ شخص کی مانند بنا کسی جانب دیکھے گاڑی کی چابی اٹھاتا گھر سے نکلا۔۔۔
خخ۔۔ خان۔۔ رکیں۔۔۔ کہاں جا رہے ہیں آپ۔۔ خان۔۔۔
ایمان دیوانہ وار اسکے پیچھے بھاگی۔۔۔
خان کا اس وقت ایسی مینٹل کنڈیشن میں گاڑی ڈرائیو کر کے گھر سے جانا خطرے سے بالکل خالی نا تھا۔۔۔ وہ اسے ایسی حالت میں گھر سے نہیں جانے دے سکتی تھی۔۔۔
جب تک وہ اندھا دھند بھاگتی ہانپتی کانپتی ڈرائیوے تک آئی وہ گاڑی زن سے بھگا لے گیا ۔۔۔
سبحان۔۔۔ اسنے پیچھے مڑ کر بے بسی سے بیٹے کو دیکھا۔۔۔
مام یہ ڈیڈ نے بالکل ٹھیک نہیں کیا۔۔۔ بالکل بھی نہیں۔۔۔ ضبط سے کہتا وہ واپس اندر چلا گیا۔۔۔ جبکہ ایمان سر تھامتی بھربھری ریت کے تودے کی مانند وہیں بیٹھتی چلی گئ۔۔۔۔۔
سینچ سینچ کر بنائے گئے گھر کا شیرازہ کیسے بکھرنے لگا تھا کے باپ بیٹا ہی مدمقابل آ گئے تِھے۔۔۔ یہ سب نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔
وہ دکھتا سر داب کر رہ گئ۔۔
*****

No comments