Header Ads

Rah_e_haq novel 16th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  16th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

سولہویں قسط۔۔۔۔
ایمان کے شب و روز اور اسکی تنہائیاں مسلسل اسی دلدل میں دھنستے گزر رہی تھیں جسکے بارے میں اسے علم ہی نا تھا۔۔۔۔ بس نامحسوس انداز میں اسکی تنہائیاں عیب دار ہو گئ تھیں۔۔۔ نمازوں میں طویل وقفہ آنے لگا تھا۔۔۔ یاد آتا تو نماز ادا کر لیتی ورنہ سارا سارا دن اور رات ایک ہی گرداب میں پھنسے گزر جاتا۔۔۔ ایسے میں اسکی بے رنگ زندگی میں ہوا کا ایک جھونکا ثابت ہوتا ماں کا اسکے اپارٹمنٹ میں آنا۔۔۔۔
ماں اسے ہرگز بھولیں نا تھی۔۔۔ بلکہ بیٹی کا غم انکے دل میں ہنوز ویسے ہی تازہ تھا۔۔۔ تبھی بیٹوں کی ناراضگی کی پرواہ کئے بنا وہ ہر دوسرے دن ایمان کے پاس موجود ہوتیں۔۔ سارا سارا دن اسکے پاس رہتیں۔۔ اور بعض اوقات رات میں بھی اسکے پاس ہی ٹھہر جاتیں۔۔۔
گھر میں جب ایمان کی کوئی فیورٹ ڈش پکتی وہ بیٹی کے لئے ضرور لاتیں۔۔۔ 
اور ماں کی موجودگی سے ایمان کو بھی دوسراہٹ کا احساس ہوتا۔۔۔ اسکا دن اچھے سے گزر جاتا۔۔۔ ورنہ تنہائی میں دل لگانے کو وہ بہت غلط راستوں کی مسافر بن گئ تھی۔۔۔ جسکی کانوں کان خبر ماں تک کو بھی نا ہو سکی تھی۔۔۔
بظاہر موبائل ایک چھوٹا سا آلہ تھا مگر وہ اپنے اندر کن کن تباہ کاریوں کو چھپائے ہوئے تھا اسکا اندازہ اس سادہ لوح ماں کو کیسے ہوتا جسنے اسے استعمال ہی محض کال کرنے یا کال سننے کے لئے کیا تھا۔۔۔
اب بھی ماں دوپہر سے اسکے اپارٹمنٹ میں آئی ہوئی تھیں جب وہ شام کی چائے پیتیں اس سے مستفسر ہوئیں۔۔
ایمان پورا مہینہ گزر گیا بچے کیا تمہارے شوہر نے تم سے کوئی رابطہ کیا۔۔۔ وہ ماں تھیں کیسے اس سے بے خبر ہو جاتیں۔۔۔
اور ایمان کو لگا جیسے گرم چائے اسکے حلق میں ہی کہیں اٹک گئ ہوئی۔۔۔
وہ جھکے سر سمیت سر نفی میں ہلا گئ۔۔۔ جیسے خان کے رابطہ نا کرنے میں بھی سراسرا قصور اسی کا ہو۔۔۔
تو بیٹا تم خود اس سے رابطہ کر لیتی۔۔۔ کہتی کے زیادہ نہیں تو مہینے آدھ مہینے بعد ایک آدھ چکر تو تمہارے پاس لگا جائے۔۔۔ انکی آواز میں فکر مندی تھی۔۔۔
میرے پاس انکا رابطہ نمبر نہیں ہے ماں۔۔۔۔ وہ کپ کے کنارے پر انگلی پھیرتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
کیا۔۔۔ تمہارے پاس اسکا نمبر بھی نہیں۔۔۔ ماں کو شدید حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔ 
وہ بنا بولے لب کچلتی سر نفی میں ہلا گئ۔۔۔ اسکا کوئی اور اتہ پتہ۔۔۔ کوئی ٹھکانہ۔۔۔ کوئی ایڈریس۔۔۔۔ وہ کہاں رہتا ہے۔۔۔ مجھے بتاو میں خود اس سے ملوں گی۔۔۔۔ ماں کی پیشانی پر تفکرات کے جال ابھرنے لگے۔۔۔
میں کسی بارے میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔ بس اتنا پتہ ہے کے وہ بنیادی طور پر یہاں کے رہائشی نہیں۔۔۔ انکا تعلق اسلام آباد سے ہے۔۔۔ لاہور تو وہ یونیورسٹی کے لئے آئے ہیں۔۔۔  ایمان کے بتانے پر ماں سر تھام کر رہ گئیں۔۔۔
انہیں بیٹی کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
****
یہ ماں کی گھر میں کی جانے والی کاوشوں کا ہی نتیجہ تھا جو پتھر میں ڈرار پڑنے لگی تھی۔۔۔
وہ اٹھتی بیٹھتیں گھر میں بیٹی کے حق میں بات کرتی رہتیں۔۔۔ شروع شروع میں انکی اس طرفداری پر دونوں بیٹے تلملا جاتے۔۔۔ لیکن ماں نے مطلق پرواہ نا کی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے اب وہ رفتہ رفتہ بنا تلملائے ماں کی باتیں خاموشی سے سن لیتے۔۔۔ البتہ تبصرہ کرنا ضروری نا سمجھتے۔۔۔ 
ماں ایمان کے لئے بے حد فکر مند تھیں۔۔۔ انہیں اپنی زندگی کا کوئی بھروسہ نا تھا جانے کب داغ مفارقت دے جاتی۔۔۔ وہ بس بہن کو بھائیوں سے جوڑنا چاہتیں تھی۔۔۔ کے بھائیوں کے دل بہن کی جانب سے صاف ہوں اور وہ آپس میں دوبارہ ملنے جلنے لگیں۔۔ تاکے بھائی بہن کی خبر گیری رکھیں۔۔۔
اور انکی ان کاوشوں کا ہی نیجہ تھا کے آج بھابھی بھائی سے ایک طویل بحث کے بعد ماں کی سنگ ایمان کے اپارٹمنٹ میں موجود تھیں۔۔۔
ماں اتنے میں ہی راضی تھیں۔۔۔ پتھر میں شگاف پڑنے لگا تھا۔۔۔ آج بھابھی آئی تھی تو یقیناً کل بھائی بھی ضرور آتے۔۔۔۔
بھابھی کو اپنے گھر دیکھ کر ایمان کے تو قدم نا زمین پر ٹک رہے تھے۔۔۔
مزید یہ کے بھابھی امید سے تھیں۔۔۔ انکے آخری ماہ چل رہے تھے۔۔۔ اس لئے ایمان انکے لئے کبھی فروٹ سیلڈ بنا کر لاتی تو کبھی فریش انار کا جوس۔۔۔۔
اور بھابھی تو اسکے ٹھاٹ دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہی تھیں۔۔۔
گھر تو تمہارا بہت پیارا ہے ایمان۔۔۔ بالخصوص یہ فلور کشنز۔۔۔۔ وہ گھوم پھر کر اسکا اپارٹمنٹ دیکھتیں لاوئنج میں پڑے گول فلور کشنز کے کو دیکھ گویا ہوئی۔۔۔
سارا اپارٹمنٹ ہی جدید طرز کے خوبصورت فرنیچر اور بہتریں انٹرئیر  سے مزین تھا۔۔۔
سادہ سے گھروں میں رہنے والوں کے لئے وہ ایک لگزری تھا۔۔۔ مزید برآن گرمیوں میں گرم ہوا پھینکتے پنکھوں کے نیچے رہنے والوں اور کئ کئ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ میں کملائے لوگوں کے لئے اے سی کی ٹھنڈی ہوا اور یو پی ایس کی سہولت بھی کسی نعمت مترکبہ سے کم نا تھی۔۔۔
ٹھاٹ ہیں بھئ تمہارے تو ایمان۔۔۔ کہاں اس ٹوٹے سے گھر میں رہتی تھی اور کہاں یہاں شہزادیوں کی مانند رہ رہی ہو۔۔۔ قسمت کی دیوی بڑی مہربان ہے تم پر۔۔۔  بھابھی نے ستائشی انداز میں کہتے جوس کا گلاس منہ کو لگایا۔۔
البتہ ایمان پھیکا سا مسکرا دی۔۔۔۔ اب اسے کیا بتاتی کے قسمت کی دیوی اس پر کتنا مہربان ہے۔۔۔۔
اچھا سنو۔۔ بھابھی ادھر ادھر دیکھتی راز دارانہ انداز میں اس سے گویا ہوئی۔۔ماں دوسرے کمرے میں نماز ادا کر رہی تھیں۔۔۔
شوہر تو بڑا دولتمند ہے تمہارا۔۔۔ تمہیں خرچہ ورچہ دیتا ہے یا نہیں۔۔۔ بھابھی کے پوچھنے پر وہ کھینچ تان کر مسکراہٹ چہرے پر سجاتی سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
کتنے بجے آتا ہے وہ گھر۔۔۔ اگلے سوال پر اسکے دل سے ہوک سی نکلی۔۔۔ جھوٹ زبان کی نوک پر آ کر ٹھہر گیا۔۔۔
تم سے پوچھ رہی ہوں کچھ۔۔۔
جی۔۔۔ جی۔۔۔ بھابھی وہ دراصل انکا کوئی ٹائم تھوڑی ہے۔۔ اکثر و بیشتر وہ میٹنگ کے سلسلے میں کہیں نا کہیں گئے ہوتے ہیں۔۔۔ اور نا گئے ہوں تو گھر پر ہی ہوتے ہیں۔۔۔ وہ دقت سے بات بناتی بات سمبھال گئ۔۔۔ لیکن بھابھی کی اس کھوج لینے والی عادت سے اسکے دل کو پتنگھے سے لگ گئے تھے۔۔۔
کہیں اسکے منہ سے کچھ ایسا نا نکل جائے جو نہیں نکلنا چاہیے تھا۔۔۔ بس ماں جلدی سے نماز ادا کر کے آ جائیں۔۔۔
اچھا سنو۔۔۔ انکا انداز مزید رازدرانہ ہوا تو ایمان کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ اب ناجانے وہ کیا پوچھنے والی تھیں۔۔۔
جی۔۔۔
تمہیں تمہارے شوہر نے تمہارا حق مہر تو دے دیا نا۔۔۔ کوئی تھوڑا حق مہر نہیں تھا وہ۔۔۔ پورے پچاس لاکھ تھے۔۔۔۔ 
بھابھی کی تفتیش سے وہ گم صم رہ گئ۔۔۔ وہ لہجے اور انداز سمجھنے لگی تھی۔۔۔ اسے بھابھی سے کسی خطرے کی بو آنے لگی۔۔۔
بھابھی انکا اور میرا کچھ بٹا تھوڑی نا ہے۔۔ وہ بامشکل مسکرائی۔۔۔
ارے پاگل۔۔۔ ایسے تھوڑی کہتے ہیں۔۔۔ حق مہر تو حق ہوتا ہے ہر لڑکی کا۔۔۔ تمہارے بھائی نے تو پہلے ہی دن ادا کر دیا تھا۔۔۔ وہ اٹھہلائی
 ایمان انہیں کہہ نا سکی کے آپکا حق مہر پانچ ہزار تھا۔۔۔
ایسا کرو کے اپنے شوہر سے کہو کے باقی سب ٹھیک ہے لیکن تمہارا احق مہر ادا کرے۔۔۔۔ اس پر تمہارا حق ہے۔۔۔ ارے دشمن تھوڑی ہوں تمہاری۔۔۔۔ تمہاری بھلائی کی ہی بات کروں گی نا۔۔۔ کچھ نا کچھ ہاتھ میں رکھو۔۔۔ ان امیر مردوں کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔۔۔۔ کب انکا دل پلٹ جائے۔۔۔ 
آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں بھابھی۔۔۔
ارے حقیقت بیاں کر رہی ہوں۔۔۔ تم بہت کم عمر ہو۔۔۔ کچھ نہیں جانتی۔۔۔ تم بس اپنا حق مہر۔۔۔
صد شکر کے ماں کے وہاں آنے پر بھابھی کی حق مہر ۔۔۔ حق مہر نامی گردان بند ہوئی۔۔۔ لیکن ایمان کا دل بہت بھاری ہو چکا تھا۔۔۔ اب اسکے اپنے سگے رشتے بھی غرض کے رشتے بننے لگے تھے۔۔۔ صد شکر کے ابھی اسکی کہانی پس پردہ تھی۔۔۔ بھابھی مکمل حقیقت سے آگاہ ہوتیں تو ناجانے کیا کرتیں۔۔۔ ابھی تو وہ سرے سے ہی ناواقف تھیں کے ایمان کے حق مہر کے پیسے اسکے اپنے اکاونٹ میں اسی کے نام پر ہیں۔۔۔
****
آج کل ایمان کی طبیعت بہت گری گری رہنے لگی تھی۔۔۔  اسقدر سستی اور کاہلی۔۔۔ کے چند قدم چل کر اسکا سانس چڑھ جاتا ۔۔۔ کچھ دیر چلتی تو ٹانگیں کپکپانے لگتیں۔۔۔ پٹھوں میں ہمہ وقت کھنچاو رہنے لگا۔۔۔ اٹھتے بیٹھتے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا۔۔۔ وہ اپنی ہی کیفیات سے بہت پریشان تھی۔۔۔ ایسا بھلا کیوں ہو رہا تھا اسکے ساتھ۔۔۔ آج تک تو کبھی نا ہوا۔۔۔
وہ اپنے اندر کمزوری کے کئ اثرات دیکھ رہی تھی۔۔۔لیکن سب سمجھ سے بالاتر تھا۔۔۔
اس رات تنہائی میں وہ پھر سے انہی راستوں کی مسافر بنی تھی جن پر وہ آج کل چل نکلی تھی۔۔۔ جو اتنی طاقت رکھتے تھے کے جب وہ ان پر قدم رکھتی تو ان کی کشش اسے ارد گرد سے غافل کرتی مکمل طور پر خود میں مدغم کر لیتی۔۔۔ یوں کے وہ چاہ کر بھی خود پر اختیار نا رکھ پاتی۔۔۔
انہی راستوں کی مسافر بنی جب وہ پھر سے ایک مرتبہ خود لذتی جیسے قیبح فعل کی مرتکب ہوئی تب یکدم ہی اسکی طبیعت خراب ہو اٹھی۔۔۔
تب اس پر آگاہی کے بہت سے در وا ہوئے۔۔۔ ایک دم اچانک دماغ میں ایک جھماکہ سا ہوا کے کہیں اسکی خرابی طبیعت کا راز اس عمل سے تو نہیں مشروط۔۔۔۔۔
وہ وہیں تھم گی۔۔۔
دماغ میں چھوٹے چھوٹے سے دھماکے ہونے لگے تھے۔۔۔
آگاہی نے اپنے در وا کئے تو بہت سی کڑیاں کڑیوں سے ملنے لگی تھیں۔۔۔
اسکی طبیعت کب سے خراب ہونا شروع ہوئی تھی۔۔۔ دماغ بہت سلو انداز میں ریوائنڈ ہو رہا تھا۔۔۔
اسکا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ ظاہر سی بات تھی ان غلط راستوں کی مسافر بننے کے بعد سے۔۔۔
بے ساختہ اسنے تھوک نگلتے ان فحش ویب سائٹس کو بند کیا۔۔۔
اتنے عرصے بعد اب پہلی مرتبہ اسکے ہاتھ اس گھٹیا مواد کے علاوہ کچھ اور سرچ کر رہے تھے۔۔۔ دماغ میں بہت کچھ ایک ساتھ ہی چلنے لگا تھا۔۔۔
خود لذتی کے انسانی جسم پر اثرات۔۔۔ اور سرچ مکمل ہونے کے بعد شو ہونے والے رزلٹس دیکھ کر وہ چکرا کر رہ گئ۔۔۔
کمزری ۔۔۔ چکر آنا۔۔۔ بالوں کا گرنا۔۔۔ چہرے کا زردی مائل ہونا۔۔۔ خوبصورتی مانند پڑنا۔۔۔۔ پٹھوں کا کھنچاو۔۔۔ سستی۔۔۔ کاہلی۔۔۔ وہ جیسے جیسے ہیڈنگز پڑھتی جا رہی تھی اسکی آنکھین حیرت سے کھلتی جا رہی تھیں۔۔۔۔ 
یہ سبھی اثرات تو کہیں نا کہیں اسنے خود میں محسوس کئے تھے تو کیا وجہ یہ تھی۔۔۔۔ وہ چکرا گئ۔۔۔
کیا یہ اتنی ہی بری چیز ہے جسکی وہ مرتکب ہو رہی تھی۔۔۔ وہ سوچ کر رہ گئ۔۔۔
وہ انکشافات کی رات تھی۔۔۔ جسنے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔ اسکے ہاتھ تیزی سے مزید سرچ کر رہے تھے۔۔۔ وہ ڈھرکتے دل کے ساتھ اب اپنے مذہب میں اس چیز کی گنجائش ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔
اسنے کئ سکالرز چیک کئے مگر ہر جگہ پر اسکی ممانعت کرتے اسے حرام قرار دیا گیا۔۔۔
ایک نے تو طنز کرتے حد ہی کردی۔۔۔ کے اگر یہ اتنی ہی اچھی چیز ہوتی تو اسے سب کے سامنے کرنے کا حکم دیا جاتا۔۔۔ فخر سے بتایا جاتا کے ہمارا بچہ اس لت میں مبتلا ہے۔۔۔
اے سی کولنگ میں ہی وہ پسینے سے نہا گئ۔۔۔
وہ وہیں موبائل بند کرتی اللہ کے حضور سجدے میں گر گئ۔۔۔ رو رو کر اپنے اس گناہ کی معافی مانگتے اسنے آئندہ کے لئے اس گناہ سے توبہ کرتے کبھی ان راستوں پر واپس نا آنے کا تہیہ کیا۔۔۔
لیکن وہ بھول گئ کے دلدل میں پھنسنے  والا شخص وہاں سے نکلنے کو کتنی بھی کوشیش کر لے یا جتنے بھی ہاتھ پیر مار لے وہ دلدل اسے خود میں جھکڑ لیتی ہے یوں اس انداز میں کے وہ شخص بے بس ہوتا باوجود کوشیش کے بھی وہاں سے نکل نہیں پاتا۔۔۔۔  بشرطیکہ باہر سے اسے کوئی ہاتھ یا سہارا میسر نا آ جائے جسے تھام کر وہ اس دلدل سے باہر آ سکے۔۔۔
اس رات اسنے اپنا اپنے رب سے ٹوٹ چکا تعلق بحال کرنے کی پھر سے جستجو کی۔۔۔ کتنی ہی راتوں کے بعد اسنے فجر کی نماز ادا کر کے اپنے رب سے معافی مانگی اور پرسکون ہو کر سو گئ۔۔۔
مگر کب تک ۔۔۔ وہ اپنے کہے پر تب تک قائم تھی جب تک وہ ٹرگر نہیں ہوئی تھی۔۔۔ جب تک اس دلدل نے اسے واپس اپنے اندر نہیں کھینچا تھا۔۔۔ تب تک جب تک ان راستوں کی کشش نے اسکے قدم اپنی جانب مبذول نہیں کروائے تھے۔۔۔
رات تنہائی کے وقت پھر سے زخرف کا ناول پڑھتے وہ اس قدر ٹرگر ہوئی کے قدم خودباخود ان راستوں پر جا کر ہی رکے جنہیں اسنے خود پر شجر ممنوعہ بنا لیا تھا۔۔۔
پھر دماغ پر ان تمام چیزوں کا غلبہ  اسقدر حاوی ہوا اور تب تک حاوی رہا جب تک وہ پھر سے ایک قبیح فعل سر انجام دینے کی مرتکب نا ہوگئ۔۔۔
وقت ہاتھ سے سوکھی ریت کی مانند پھسلا اور وقت گزرنے کے بعد وہ شدید پشیمانی کی حالت میں سر تھامے بیٹھی تھی۔۔۔ کیسے اسکا خود پر اختیار نا رہا ۔۔۔ کیسے وہ ایک مرتبہ پھر سے اس قبیح فعل کی مرتکب ہو سکتی تھی جسے اسنے خود پر حرام کر لیا تھا۔۔۔۔ کیسے وہ اپنے رب سے کیا عہد توڑ سکتی تھی۔۔۔
کانوں میں صبح ہی سننے والے ایک فقرے کی بازگشت گھونجی ۔۔۔ کے کبھی لذت کے لئے گناہ نا کرنا۔۔۔ لذت چلی جائے گی۔۔۔ البتہ گناہ باقی رہ جائے گا۔۔۔
وہ پینک ہونے لگی تھی۔۔۔۔ اسے اپنے آپ کے شرمندگی ہونے کے ساتھ ساتھ۔۔۔ اپنے رب سے بھی شرمندگی ہونے لگی تھی جس سے وہ بڑے ڈھرلے سے وعدہ خلافی کر چکی تھی۔۔۔ سمجھ نا آئی کے کس منہ سے واپس اسکی بارگاہ میں جائے۔۔۔ احساس پشیمانی اسے سر تک اٹھانے نا دے رہا تھا۔۔۔ اسکا دل چاہا کے خود کو تہس نہس کر ڈالے۔۔۔ دیواروں میں سر مار مار کر اپنا غم مٹائے۔۔۔ کیوں اسکا خود پر اختیار نا رہا ۔۔ کیوں۔۔۔۔
*****
جاری ہے۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.
4