Header Ads

Rah_e_haq novel 17th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  17th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

سترھویں قسط۔۔۔۔
ایمان کا یہ تقریباً معمول بن چکا تھا۔۔۔ روز اپنے رب سے معافی مانگ کر نئے عہد باندھتی اور روز رات کو تنہائی میں ان عہد کو توڑ کر پشیمانی سے سر تھام کر خوب خوب پچھتاتی۔۔۔ ناجانے کیوں وہ اتنی کوشیشوں کے باوجود  کیسے اس غلط کام کی مرتکب ہو جاتی تھی۔۔۔
کئ بار سوچتی نہیں وہ ان ویب سائٹس تک نہیں جائے گی۔۔۔ مگر ناول پڑھتے پڑھتے وہ اسقدر ٹرگر ہوتی ہے کے آگے کے مراحل طے کرتے جیسے اسے کسی چیز کا ہوش ہی نا رہتا۔۔۔ جیسے وہ اپنے بس میں ہی نا رہتی ہو۔۔۔ بالکل ویسے جیسے ایک نشئ کو جب نشے کی طلب ہو تو نشا نا ملنے پر وہ سدھ بدھ کھوتا ہر ممکن کوشیش کرتا ہے اس نشے کو پانے کی۔۔۔ تب اسکے خود سے کئے گئے تمام عہد و پیمان بھری بھری ریت کے تودے ثابت ہوتے ہیں۔۔۔ اور اسے ہوش تو تب آتا ہے جب وہ نشہ حاصل کرنے کے بعد کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔۔۔ لیکن تب فائدہ جب وقت ہی سوکھی ریت کی مانند پھسل چکا ہو۔۔۔
اب بھی ایسا ہی  ہوا تھا۔۔۔ اایک غلط فعل کی مرتکب ہونے کے بعد وہ اب سر تھامے بیٹھی رو رہی تھی۔۔۔ اسے خود سے ہی نفرت محسوس ہونے لگی تھی۔۔۔ گناہ پر پشیمانی ضرور ہوتی لیکن گناہ کی عادت چھوٹ کر نا دیتی۔۔۔
ذہن رفتہ رفتہ اب یہ بات قبول کرنے لگا تھا کے وہ اس دلدل سے کبھی باہر نہیں ا سکتی جس میں دھنس چکی ہے۔۔۔ اسے رہ رہ کر یہ قلق کھائے جاتا کے وہ رات اسکی زندگی میں کیوں آئی جس رات کے بعد سے وہ اس دلدل کا شکار ہو گئ۔۔۔ اس سے پہلے کم از کم زندگی میں یہ غم تو نا تھا۔۔۔ جو نا اسے جینے دینا نا مرنے دیتا۔۔۔ جو اسے اسکے رب کے حضور شرمندگی سے سر تک نا اٹھانے دیتا۔۔۔۔
اسنے حضرت آدم اور اماں ہوا کی کہانی پڑھی۔۔۔ پڑھ کر وہ پورا دن روتی رہی۔۔۔ کیسے انہوں نے اللہ کے نیک بندے ہو کر اللہ کی نافرمانی کی۔۔۔ اور جنت سے نکال دئیے گے۔۔۔
یہ واقعی ظاہر کرتا تھا کے انسان خطا کا پتلہ ہے پھر چاہے وہ اللہ کے نیک پیغمبر ہوں یا عام انسان۔۔۔ یا شاید وہ مثالیں قائم کی گئ تھیں ہم جیسے گناہگاروں کو سمجھانے کے لئے۔۔۔
لیکن پھر کیا۔۔۔ کتنے ہی لمبے عرصے کے لئے وہ دنیا میں رہتے اپنے مالک سے معافی طلب کرتے اسے راضی کرنے کی جستجو میں لگے رہے کے حیات کا مقصد ہی یہ بنا لیا۔۔۔
لیکن کیا اسکی توبہ انکی توبہ کے پاسنگ بھی تھی۔۔۔ کیا اسکے دل میں اپنے رب کو راضی کرنے کی جستجو ان جیسی تھی۔۔۔
وہ تو ان کے پاوں کی خاک برابر نا تھی۔۔۔ 
پھر کیا ہوا۔۔۔ انکے رب نے انہیں معاف کر دیا۔۔۔ لیکن کیا انہوں نے بار بار اپنے رب کی نافرمانی کی۔۔۔
وہ جب یہ سب سوچنے پر آتی تو گھنٹوں بیٹھی سوچتی رہتی۔۔۔
نا اسکی توبہ ان جیسی نا گناہ پر پشیمانی۔۔۔ اور نا ہی دوبارہ گناہوں سے بچنے کی جستجو ویسی۔۔ تو کیا اسے اسکے رب کی جانب سے معافی ملے گی۔۔ کیا وہ تھی معافی کی حقدار ۔۔۔ اسقدر گناہوں میں لتھری لڑکی۔۔۔ جو روز رب سے توبہ کرتی ہو اور روز گناہوں کی مرتکب ہوتی ہو۔۔۔ سوچتے سوچتے اسکی ہچکی بندھ جاتی۔۔۔
اذان ہوئی اور نماز کا وقت تیزی سے گزرنے لگا لیکن اس میں اتنی ہمت تک نا تھی کے اپنا گناہگار وجود لئے اس رب کے حضور جا پاتی۔۔۔ خود سے نفرت اسقدر محسوس ہو رہی تھی اور اپنا آپ اسقدر گناہوں میں لتھرا محسوس ہو رہا تھا کے دل چاہ رہا تھا کے خود کو آگ لگا ڈالے۔۔۔
نہیں وہ دوبارہ اپنا داغدار وجود لے کر اپنے رب کے حضور نہیں جائے گی۔۔۔ شرمندگی نے اسکے قدم جھکڑ لئے تھے۔۔۔
کافی دیر کی سوچ بچھار کے بعد اسنے دیوار گیر ایل ای ڈی آن کی۔۔۔ اور پہلے ہی چینل پر ابھرتی مبہم تحریر پڑھ کر وہ اپنی جگہ ساکت رہ گئ۔۔۔
اور جو شخص کوئی برا کام کر گزرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے معافی مانگ لے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔۔۔
{۴:۱۱۰}
  ایمان کی نگاہیں انہی الفاظ پر ساکت رہ گئیں۔۔۔ ایک بار دو بار اور پھر بار بار وہ انہیں الفاظ کو پڑھ رہی تھی۔۔۔ سن رہی تھی دیکھ رہی تھی۔۔۔
اور جو شخص کوئی برا کام کر گزرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے معافی مانگ لے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔۔۔
{۴:۱۱۰}
یہ الفاظ اسکی تینوں حسوں کے ذریعے سے روح میں اترتے اسکے اندر تک سرائیت کرتے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔ اندر اس رب سے محبت کا الگ ہی جہاں آباد ہونے لگا۔۔۔ دل کی زمین نرم ہوئی تو اسے کچھ حوصلہ ہوا 
اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھوں سے جھرنا بہنے لگا۔۔۔ وہ تڑپ تڑپ کر رو دی۔۔۔
آیت بدلی تھی۔۔۔۔
تمہارے رب نے نا تم کو تنہا چھوڑا ہے اور نا ہی وہ تم سے غافل ہوا ہے۔۔۔
روتے روتے اسکی ہچکی بندھ چکی تھی۔۔۔ اسکے رب نے اسے واقعی تنہا نا چھوڑا تھا۔۔۔ اس تنہائی میں اسکے گناہوں سے لتھرے گنہاگار وجود کو جس سے اسے خود ہی نفرت محسوس ہونے لگی تھی لیکن اسکا رب اسے نہیں بھولا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا کے اسکی اس کمزور بندی کو اس وقت کن الفاظ کی اور  کس طرح کی تسلی کی ضرورت ہے۔۔۔
وضو کر کے نماز پڑھنے کے بعد اسنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر خدا سے  اپنے گناہوں کی معافی مانگی تھی۔۔۔ اسے اس دلدل سے نکالنے کی التجا کی تھی جس سے نکلنے کی سر توڑ جستجو میں وہ مسلسل ناکام ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ حتکہ اگلے ہی روز اس جستجو میں حدیث اور تفسیر کی کتابیں تک خرید لائیں۔۔
وہ کتابیں آج کل اسکے زخمی زخمی ہوئے دل کے لئے مرہم ثابت ہو رہی تھیں۔۔۔
وہ مریض بن چکی تھی۔۔۔ پورن ایڈکٹڈ۔۔۔ اور یہ ایڈکشن اسے اندر سے ختم کر رہی تھی۔۔۔ وہ بیمار تھی۔۔۔ اس دلدل سے نکلنا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن نکل نہیں پا رہی تھی۔۔۔ کوشیش کرتی۔۔۔ خود پر جبر کرتی۔۔۔ کئ کئ دنوں تک اس میں کامیابی حاصل کر لیتی۔۔۔ لیکن جب ٹرگر ہوتی تو خود پر سے اختیار کھوتی واپس انہی راستوں کی مسافر بن جاتی۔۔۔ پھر سے وہی سائیکل چلتا۔۔۔ پشیمانی۔۔۔ شرمندگی۔۔۔ اپنے رب کو ناراض کرنے کا خوف۔۔۔ خود سے نفرت اور خود اذیتی۔۔۔
وہ تکلیف میں تھی۔۔۔ بے حد تکلیف میں۔۔۔ لیکن تکلیف تھی کے ختم ہونے کا نام تک نا لیتی۔۔۔
یہ گرداب اسے چھوڑنے کو تیار نا تھا۔۔۔ کوئی نہیں جانتا تھا کے وہ کس عذاب سے گزر رہی ہے۔۔۔ محض اسکا اللہ ہی اسکا رازدار تھا۔۔۔
اور اس مالک کی یہ ہی صفت ہے کے وہ اپنے بندوں کے راز دھانپ لیتا ہے۔۔۔ انہیں رسوا نہیں کرتا۔۔۔
آج پھر وہ دکھی دل اور جھکی نم پشیمان نگاہوں کے ساتھ ایک کتاب کھولے بیٹھی تھی۔۔۔
جانے کیوں ان چیزوں کو پڑھ کر ایک الگ قسم کا سکون ملتا تھا۔۔۔
انسان کے ہاتھ میں کوشیش ہے۔۔۔ اس لئے کوشیش کبھی ترک نا کرنا۔۔۔ گناہوں کی دلدل سے نکلنے کی کوشیش۔۔۔ حرام کو ترک کرنے کی کوشیش۔۔۔ اللہ کی جانب سفر کرنے کی کوشیش۔۔۔ 
گناہ پر پشیمانی تمہارے زندہ دل اور زندہ ضمیر ہونے کی نشانی ہے۔۔۔
اور اللہ بھی تو ندامت کا ایک آنسو ہی مانگتا ہے۔۔۔ 
ڈرنہ اس وقت سے جب تمہارا دل گناہوں پر پشیمان ہونا چھوڑ دے۔۔۔ خوف محسوس کرنا اس وقت سے جب گناہوں پر تمہارا ضمیر تمہیں کچوکے لگانا چھوڑ دے۔۔۔۔
اے بنی آدم جس روز تم نے خدا کے سامنے خود کو اپنی غلطیوں اور گناہوں کو جسٹیفائی کرنا شروع کر دیا سمجھ لینا اس دن سے تمہارے دل پر غفلت کی مہر لگنا شروع ہوگئ۔۔۔
دن میں ایک گناہ کرو یا سو۔۔۔ لیکن احساس ہوتے ہی اپنے رب کی جانب پلٹنے میں تاخیر نا کرو۔۔۔ وہ رب بڑا رحیم بڑا مہربان ہے۔۔۔ وہ دھتکارتا نہیں ہے۔۔۔ قبول کر لیتا ہے۔۔۔
ٹوٹے بکھرے شکستہ اور گناہوں میں لتھرے وجود کو بھی دھتکارتا نہیں ۔۔۔ وہ صرف گناہ پر پشیمانی اور توبہ کی شدت دیکھتا ہے۔۔۔ وہ سمبھال لیتا ہے تھام لیتا ہے۔۔۔
اس لئے گناہ پر توبہ کرنے میں تاخیر نا کرنا۔۔۔ کیا پتہ اگلا پل زندگی کا ہو بھی یا نا ہو۔۔۔ وہ تمہارے سبھی حالاتوں سے آگاہ ہے۔۔۔ تم کس تکلیف سے گزر رہے ہو وہ جانتا ہے۔۔۔ اور وہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔۔۔ بس تم کوشیش نا ترک کرتے اسکی طرف بڑھنے کا سفر نا چھوڑنا خواہ وہ سفر چل کر ہو یا رینگ کر۔۔۔ تمہارا مرکز وہی پاک ذات ہونی چاہیے۔۔۔
یہ الفاظ اسکے پھوڑے کی مانند دکھتے دل کے لئے آسمانی مرہم ثابت ہو رہے تھے۔۔۔ اپنی زندگی میں اس وقت ڈولتی ہوئی وہ جس مقام پر تھی اسے انہی لفظی سہاروں کی ضرورت تھی جو اسکے پشیمان ڈولتے وجود کا رخ اسکے رب کی جانب موڑ دیتے تاکے وہ اس رحیم ذات کی طرف بڑھنے کا سفر رینگتے ہوئے ہی سہی مگر  شروع کر سکتی۔۔۔ وہ کتاب بند کرتی اسی سے سر ٹکا کر پھر سے رو دی۔۔۔ ندامت کے آنسو مسلسل بہتے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔ اور لبوں پر مسلسل ہدایت کی دعائیں تھیں۔۔۔
اے اللہ میری آزمائش ختم کر دے میرے عیبوں کو ڈھانپ لے اور مجھے راہِ حق کی مسافر بنا۔۔۔ 
وہ مسلسل یہ ہی دعا کر رہی تھی۔۔۔۔
******
ایمان اس وقت ڈھیر سارے گلابی غباروں۔۔۔ ایک دن کے بچے کے کپڑوں۔۔۔ بے بی باسٹک ۔۔۔ پیمپر بے بی کٹ اور ناجانے کن کن اشیاء کے ساتھ لدی پھندی سی ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوئی جہاں ماں پہلے ہی صوفے پر بیٹھیں ایک ننھی پڑی کو سلا رہی تھیں۔۔۔ جبکہ انسہ بھابھی نیم جان اور نڈھال سی ہسپتال کے مخصوص گاون میں بستر پر لیٹیں تھی۔۔۔ ایمان کو اندر آتا دیکھ اور اتنے سامان کے ساتھ لدھے پندھے آتا دیکھ ان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔۔۔ اعر زبان سے خودباخود پھول جڑنے لگے۔۔۔
وہ کاٹن کے خوبصورت پڑنٹڈ شلوار سوٹ میں ملبوس تھی۔۔۔ اوپر میروں ہی چادر اورھ رکھی تھی۔۔۔ چہرے کی شادابی مائل ہوتی زردی میں بدل گئ تھی۔۔۔ شب خوابی کے باعث آنکھوں کے گرد ہلقے پڑنے لگے تھے البتہ صحت بھی بری طرح متاثر ہوئی تِھی۔۔
حامد وہیں تھا ہسپتال کے کمرے میں مسکرا کر ماں سے بات کرتا وہ بچی کے بارے میں کوئی تبصرہ کر رہا تھا جبکہ اسے اندر آتا دیکھ اسکے منہ میں کڑوے باداموں  کا ذائقہ گھلا اور وہ سنجیدہ صورت لئے لب بھینچتا بات وہیں ادھوری چھوڑ اسے بھرپور نظر انداز کرتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔  اسکا یہ عمل کمرے میں موجود باقی دونوں نفوس کے ساتھ ساتھ ایمان نے بھی بری طرح محسوس کیا لیکن جلد ہی  سر جھٹک کر مسکراتی ہوئی وہ تمام چیزیں میز پر رکھتی سب سے پہلے ماں کی گود میں تھامی اس ننھی پری سے ملی اور پھر جا کر بھابھی کو مبارکباد دیتی ان سے ملی۔۔۔
ایمان یار۔۔۔ اس سب کی کیا ضرورت  تھی۔۔۔ بھابھی نے اخلاقیات نبھائی۔۔۔ البتہ لہجہ لفظوں کا ساتھ نا دے رہا تھا۔۔۔
ضرورت کیسے نہیں تھی بھابھی۔۔۔ ہماری ایک ننھی شہزادی دنیا میں آئی ہے۔۔۔ تو اسکا استقبال تو بنتا ہے نا۔۔۔ وہ مسکرا کر سادگی سے بولی۔۔۔
دفعتاً کمرے کا دروازہ دھکیل کر سجاد بھیا اندر داخل ہوئے۔۔۔ ہاتھوں میں فریش جوس اور پھلوں کے شاپر تھے۔۔۔
سامنے ایمان کو موجود پا وہ بھی ایک بار ٹھٹکے۔۔۔ پھر اسے نظر انداز کرتے ماں تک آئے اور تمام چیزیں انکے حوالے کیں۔۔۔
تب تک وہ لب چباتی وہاں سے اٹھ کر عین بھائی کے پیچھے آ کھڑی ہوئی۔۔۔
آپکو اس ننھی پری کی بہت بہت مبارک ہو بھائی۔۔۔ وہ کمال ہمت و جرات کا مظاہرہ کرتی انہیں وش کر گئ۔۔۔
سجاد بھائی نے اسے بے تاثر نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
ایسی ہی ایک ننھی پری سولہ سال پہلے بھی ہماری زندگیوں میں  آئی تھی۔۔۔ تب بھی لوگوں نے ایسے ہی مبارکباد دی تھی۔۔۔ لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کے وہ باپ بھائیوں کا مان کتنے برے طریقے سے توڑے گی۔۔۔
بس دعا کرنا کے یہ ننھی پری اسکی طرح منہ زور اور بے لگام  ہوتی  باپ بھائیوں کے سروں میں خاک نا انڈیل جائے۔۔۔ بس یہ ہی ایک چیز ہے جسکے باعث دل ان سے ڈرتا ہے۔۔۔ ورنہ بیٹی سے خوبصورت کوئی دوسری چیز پوری دنیا میں نہیں ہو سکتی۔۔۔
وہ سنجیدگی سے گہرا وار کرتا آگے بڑھ گیا جب ایمان تڑپ کر بھائی کے سامنے آتی اپنے کپکپاتے ہاتھ اسکے سامنے  جوڑ گئ۔۔۔
آج اتنی خوشی کا موقع ہے بھائی۔۔۔ اللہ نے آپکو باپ جیسی پاکیزہ اور اونچی  مسند پر بیٹھایا ہے۔۔۔ پلیز آج کے دن کے باعث ہی مجھے معاف کردیں۔۔۔
</ >
جانتی ہوں کے میرے باعث آپکا دل دکھا ہے۔۔۔  لیکن پلیز میری غلطیوں کو نادانی سمجھ کر معاف کر دیں۔۔۔
وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی جبکہ وہ بے حس بنا خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ ناجانے کیوں اسکی کوئی فریاد کوئی التجا دل تک نہیں پہنچ پا رہی تھی۔۔۔ شاید اسکی التجاوں اور دل کے درمیاں ڈھیر سارے شکووں کا انبار تھا۔۔۔ جو اسکی التجاوں کو دل تک پہنچنے کا راستہ روکے ہوئے تھے۔۔۔ تبھی تو اسکے بھائیوں کے دل سخت ہو گئے تھے۔۔۔
بس کردو سجاد۔۔  چھوٹی بہن ہے۔۔۔ دیکھو کیسے التجا کر رہی ہے۔۔۔ بہنوں سے اتنے لمبے عرصے تک ناراض نہیں رہتے۔۔۔   ماں نے بیٹی کی تڑپ اور بیٹے کی بے حسی دیکھ مصلحت کے تحت بیچ میں کودنا ضروری سمجھا۔۔۔
سجاد نے اپنا کپکپاتا ہاتھ اٹھا کر کنزل کے سر پر رکھا۔۔۔
میں یہ نہیں کہوں گا کے مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں۔۔۔ کیونکہ مجھے تم سے ان گنت شکوے و شکایات ہیں۔۔۔ دعا کرنا کے میں کبھی وہ سب بھلا سکوں جو میری بہن نے ہماری عزت خاک میں ملانے کے لئے کیا۔۔ بھاری دل کے ساتھ کہتا وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔ کنزل ایمان نے سکون کا سانس خارج کیا کے یہ بھی ایک نعمت مترکبہ سے کم نہیں تھا کے اسکے بھائی نے اس سے بات کرتے اسکے سر پر دست شفت دراز کیا تھا۔  وہ کافی حد تک ہلکی پھلکی ہو گئ۔۔۔
جہاں ماں سجاد کے اس قدم پر اس سے خوش تھیں وہیں ماں ایمان کی اتنی نڈھال اور گری گری طبیعت دیکھ پریشان 
بھی تھیں۔۔۔ ماں تھیں بیٹی کی شکل دیکھ کر پہچان گئیں 
تھی کے انکی بیٹی ٹھیک نہیں۔۔۔ وہ بیمار ہے۔۔۔ اور موقع دیکھتے ہی ماں نے اس سے کہہ بھی ڈالا۔۔
ایمان اب یہاں ہسپتال تک آ گئ ہو تو میرے ساتھ ڈاکٹر کے 
پاس چلو تا کے لگتے ہاتھوں تمہارا چیک آپ بھی ہو جائے۔۔۔
 ماں کے سنجیدگی و پریشانی سے کہنے پر وہ بے بسی سے
 انہیں دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ البتہ باوجود خواہش کے وہ انہین بتا نا پائی کے آپکی بیٹی جانتی ہے کے اسکے ساتھ کیا مسلہ ہے۔۔۔
****


No comments

Powered by Blogger.
4