Header Ads

Rah_e_haq novel 15th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  15th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download


Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔


  مصنفہ "ام ہانیہ

پندرھویں قسط۔۔۔۔
ماں واپس جا چکی تھیں اور ایمان کو لگا گویا جاتے جاتے وہ اپارٹمنٹ کی ساری رونق بھی اپنے ساتھ لے گئیں۔۔۔
انکے دم سے گھر گھر لگ رہا تھا۔۔۔ صبح سے وہ وہاں تھیں تو وقت گزرنے کا پتہ ہی نا لگا البتہ اب انکے جانے کے بعد پھر سے اداسی اور تنہائی کے ناگ اسے ڈسنے لگے تھے۔۔۔۔
صبح اسے کالج جانا تھا۔۔۔ اس لئے صبح کے حوالے سے اپنی ساری تیاری مکمل کر کے وہ یونہی بیٹھی تھی۔۔۔ جب خیال آیا کے کیوں نا کچھ پڑھ ہی لیا جائے۔۔۔ ویسے بھی اتنے دن ہوگئے تھے کوئی ناول نہیں پڑھا تھا۔۔۔ حتکہ زخرف کے ناول کی بھی کافی اقساط پڑھنے والی رہ گئ تھیں۔۔۔
وہ بیڈ کراوں سے ٹیک لگاتی یکے بعد دیگرے زخرف کے ہی ناول کی اکھٹی ہو چکی اقساط پڑھنے لگی۔۔۔
واقعی وہ ایک الگ ہی دنیا تھی۔۔۔ فینٹسی ورلڈ۔۔۔ جہاں ہیرو ہیروئن کے نکھرے اٹھاتا۔۔۔ اسکے آگے پیچھے پھرتا اسے شہزادیوں کی طرح ٹریٹ کرتا۔۔۔۔ اس پر آنے والی ہر مشکل پریشانی خود پر سہہ جاتا۔۔۔ ہر دم اسکی ڈھال بنا رہتا۔۔۔
پڑھتے پڑھتے یکدم ہی اسکی آنکھوں سے سیل رواں شروع ہو گیا۔۔۔ حقیقی زندگی کیوں نا تھی ایسی۔۔۔ کیوں تھے حقیقی زندگی میں اتنے چیلنجز۔۔۔۔ 
کیوں حقیقی زندگی میں ایسے شہزادے نہیں ہوتے۔۔۔ اپنی محرومیاں اور تشنگیاں مزید ابھر کر سامنے آنے لگیں۔۔۔
ہیرو اور ہیروئنز کے رومینٹک سینز اسے احساس محرومی میں مبتلا کرنے لگے تھے۔۔۔۔ ایسے احساسات آج سے پہلے کبھی نا اسکے ہوئے تھے۔۔۔ شاید ایسے حالات بھی تو اسکے آج سے پہلے کبھی نا بنے تھے۔۔۔۔
وہ زخرف کے اس ناولز کی سبھی اقساط پڑھ کر اسکے باقی سبھی ناولز کی چن چن کر رومینٹک اقساط پڑھ رہی تھی۔۔۔ لیکن تشنگی پھر بھی بڑھ رہی تھی۔۔۔
اسنے زخرف کے علاوہ باقی تمام بولڈ رومینٹک رائٹرز کو سرچ کرنا شروع کر دیا۔۔۔
وہاں ایسی رائٹرز کی کمی نا تھی۔۔۔ جو فحش سینز کو مزید نمایاں کر کے دوسروں کی توجہ حاصل کرنا چاہتی تھیں۔۔۔ وہ بے دلی سے سبکا کام چیک کر رہی تھی۔۔۔ رات کا اندھیر۔۔۔ تنہائی اور وہ۔۔۔ 
مگر طلب تھی کے ہر لمحے بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ صرف یہیں پر انتہا نا ہوئی وہ اس تنہائی میں ٹرگر ہوتی مزید کی جستجو کر رہی تھی۔۔۔
اور پھر انسان کو وہی ملا ہے جسکی وہ جستجو کرتا ہے۔۔۔
کافی دیر کی جستجو اسے ناول کے نام پر فحش مواد سے فحش ویب سائٹس تک لے آئی تھی۔۔۔۔ مگر برا ہو پاکستان میں بہت سی فحش ویب سائٹس لاکڈ تھیں۔۔۔ وہ سیدھے طریقے سے ان تک ایکسس نا حاصل کر پائی تھی۔۔۔۔
مگر اتنی جستجو کے بعد یہاں تک پہنچ کر وہ خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹ سکتی تھی۔۔۔ اسے بس کسی بھی طرح ان ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنی تھی۔۔۔ دماغ پر طرح طرح کے جذبات کا غلبہ پوری طرح چھایا تھا۔۔۔۔اسی لئے مختلف طرح کی ٹرکس آزما کر اور کچھ جدوجہد کے بعد وہ ان لاکڈ اور بین ویب سائٹس تک رسائی حاصل کر چکی
 تھی۔۔۔ اسکے چہرے کی چمک دیدنی تھی۔۔ جیسے اسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہو۔۔۔۔ وہ ایک الگ ہی دنیا تھی۔۔۔ جہاں اسکی عین توقعات کے مطابق ایک سے بڑھ کر ایک فحش مواد موجود تھا۔۔۔ ایمان کا دل زور سے ڈھرکا
یہ وہ دنیا تھی جس سے کنزل ایمان آج سے پہلے تک ناواقف تھی۔۔۔ اس دنیا سے اسکا تعارف آج ہوا تھا۔۔۔
مسلسل ویب سائٹس سکرول ڈاون کرتے اسکا حلق خشک ہونے لگا۔۔۔۔
ایک دفعہ اس تنہائی میں تنہا کمرے میں بیٹھے زیرو پاور کی مدہم روشنی میں سکرین سکرول ڈون کرتے اسکے ہاتھ کپکپا اٹھے۔۔۔ اسنے تھوک نگلتے یہاں وہاں دیکھا۔۔۔۔
مگر دل کو تسلی ہوئی کے وہاں تو کوئی بھی نہیں جو اسے دیکھ رہا ہو۔۔۔ وہ تو تنہا تھی۔۔۔ 
گہرا سانس خارج کرتی وہ واپس سکرین کی جانب توجہ مبذول کر گئ۔۔۔
اس اندھیرے میں موبائل کی سکرین سے ابھرتی روشنی براہ راست اسکے چہرے پر پڑتی اسکی اس کانٹینٹ سے محویت ظاہر کر رہی تھی۔۔۔
ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا وہ طرح طرح کا فحش مواد دیکھتی اپنے نفس کی تسکیں کر رہی تھی۔۔۔
اور یہیں نہیں۔۔۔ اسی تنہائی کی رات اس فحش مواد کے سنگ وقت گزارتے کنزل ایمان زندگی میں پہلی دفعہ خود لذتی جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہوئی تھی۔۔۔
اور اسنے جانا کے یہ تو کوئی اور ہی دنیا تھی جس سے وہ آشنا ہی آج ہوئی تھی۔۔۔
یہ کنزل ایمان کی گناہوں کی دلدل میں ڈھنسنے کی پہلی رات تھی۔۔۔ اور وہ اپنے زیاں سے بے خبر بہت مطمئیں تھی۔۔۔ جیسے اس سے زیادہ مطمیئں کبھی ہوئی ہی نا ہو۔۔۔ بلاشبہ گناہ میں بہت لذت ہے۔۔۔
ساری رات  اسی دلدل میں بڑے شوق سے اترنے کے بعد فجر کی اذانوں کے وقت ہی اس پر غنودگی چھانے لگی۔۔۔ 
اور گناہوں کی طرف قدم لیجانے کے بعد سب سے پہلا کام یہ ہی ہوتا ہے کے اللہ اس انسان سے بہت نامحسوس انداز میں سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے۔۔۔ اور غفلت میں مبتلا ہوتے انسان کو اس چیز کا احساس تک نہیں ہو پاتا۔۔۔
قدم تو وہی ہوتے ہیں جنہیں چاہے تو اللہ کی جانب موڑ لیا جائے۔۔۔ اور چاہے تو گناہوں کی دلدل کی جانب۔۔۔ 
جب یہ قدم اللہ کی طرف مڑتے ہیں تو ان قدموں کی گناہوں کی جانب سے خودباخود دوری بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔۔۔
اور بالکل اسی طرح جب یہ قدم گناہوں کی جانب بڑھنا شروع ہوتے ہیں تو خوباخود اللہ سے دور ہوتے جاتے ہیں۔۔۔
نیند سے بوجھل ہوتی آنکھوں کیساتھ موبائل ایمان کے ہاتھ سے چھوٹا اور وہ وہیں بے سدھ ہوتی سو گئ۔۔۔
******
شامیر بیٹا اگر تم برا نا مناو تو ایک بات پوچھوں۔۔۔۔ شامیر باپ کے ساتھ انکے کمرے میں بیٹا بزنس کے بارے میں کچھ ڈسکس کر رہا تھا جب ماں کی کھوئی کھوئی سی آواز پر چونک کر انکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
جی ماں حکم کیجئے۔۔۔ ۔
بیٹا تین سال ہوگئے تمہارے اور پروشہ کی شادی کو۔۔۔ تم لوگ اپنی فیملی سٹارٹ کرنے کے بارے میں کب سوچو گئے۔۔۔ میں تمہارے بچوں کو کھلانا چاہتی ہوں۔۔۔   عدنان اور ذوہیب کے بچوں کیساتھ ساتھ تمہارے بچوں کو بھی اپنے آنگن میں پروان چڑھتے دیکھنا چاہتی ہوں۔۔
ماں کی بات سن کر وہ مسکرا دیا۔۔۔۔
اس بارے میں آپکو اپنی بہو سے پوچھنا چاہیے ماں۔۔۔ وہ ابھی اولاد کے لئے تیار نہیں۔۔۔ البتہ مجھے کوئی مسلہ نہیں۔۔۔ مجھے ویسے ہی بچے بہت پسند ہیں۔۔
اسنے ہلکے پھلکے انداز میں بات ہوا میں اڑائی۔۔
کیسے مرد ہو تم شامیر۔۔۔ جب تمہیں اولاد کی خواہش ہے تو۔۔۔ بیٹے کی بات سن کر بابا آگ بگولہ ہوئے جبکہ شامیر انکی بات کا مفہوم اچھے سے سمجھتا درمیان میں ہی انکی بات کاٹ گیا۔۔۔
اولاد کی خواہش ضرور ہے بابا لیکن میں زبردستی کا قائل نہیں۔۔۔
زبردستی کیسی شامیر۔۔۔ تم نے پروشہ کو بہت ڈھیل دے رکھی ہے بچے۔۔۔ نا اسکے گھر آنے کا پتہ ہوتا ہے نا جانے کا۔۔۔
نا اسکا گھر میں دل لگتا ہے نا ہی گھر داری میں۔۔۔ ہم میں تو وہ دو گھری بیٹھتی تک نہیں۔۔۔ ماں کی جانب سے اگلا شکوہ آیا۔۔۔۔
ہو جائے گی ٹھیک ماں۔۔۔ ابھی کرنے دیں اسے انجوائے اپنی زندگی۔۔۔
کم از کم کوئی مجھے یہ تو نہیں کہہ سکتا کے میں نے اس پر کوئی پابندیاں عائد کی یا اسکے ساتھ اپنی رشتے کو نبھانے کی کوشیش نہیں کی۔۔۔ وہ اپنی مرضی کی مالکن ہے۔۔  اور زندگی اپنی شرطوں پر گزار رہی ہے۔۔۔ اور مجھے اس سے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ اسنے شانے اچکاتے بات ہی ختم کر دی۔۔۔ جبکہ ماں کے ساتھ ساتھ بابا بھی اسے گھور کر رہ گئے۔۔۔ انکا یہ سپوت خاندان میں سب سے بڑا زن مرید ثابت ہوا تھا۔۔۔
*******
اگلے دن ایمان کی آنکھ کھلی تو کالج جانے میں محض بیس منٹ باقی تھی۔۔۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔ جب نظر پاس ہی پڑے موبائل پر گئ اور آن کرنے پر نظر آنے والا وہ کانٹینٹ جسے وہ ساری رات دیکھتی رہی تھی اب خود ہی اسے دیکھ کر بوکھلا اٹھی۔۔۔ جلدی سے ادھر ادھر دیکھ کر کسی کے نا ہونے کا تعین کیا اور بعجلت اسے بند کر کے کالج کے لئے تیار ہونے کے لئے بھاگی ۔۔۔۔
بھاگم بھاگ تیار ہو کر وہ چائے کے ساتھ بریڈ کا سلائس کا کھاتی کالج کے لئے نکلی۔۔۔
کالج پہنچ کر بھی اسے کئ سٹودینٹس کی جانب سے شادی کی مبارکباد وصول ہوئی۔۔۔ گویا یہ واقعہ  جنگل میں آگ کی مانند  پھیل چکا ہو۔۔۔ اور لوگ طنز کے ریپر میں لپیٹ لپیٹ کر اسے مبارکباد پیش کر رہے ہوں۔۔۔ ایمان کو وہ مبارکباد بھی لوگوں کی جانب سے کوڑے محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ لیکن اسنے آنکھ کان سب بند کر لئے۔۔۔
اتنے دنوں کی چھٹیوں کے بعد اسے پچھلا سارا کام کور کرنے میں دشواری ہو رہی تھی۔۔۔
پے در پے کلاسز لینے کے بعد بریک میں وہ زخرف کیساتھ ہی گراونڈ میں آگئ۔۔۔
خان بھائی کیسے ہیں ایمان۔۔ یقیناً تم سے بہت محبت کرتے ہونگے۔۔  ویسے کب سے چل رہا تھا یہ سب اور تم نے تو ہوا تک نا لگنے دی۔۔۔۔ زخرف اسکے پاس بیٹھی اس سے سوال جواب کر رہی تھی جبکہ وہ محض مسکرا کر رہ گئ۔۔۔ کیا جواب دیتی اسکے ان سوالوں کا۔۔۔ بس ایک بھرم قائم تھا۔۔۔ اور وہ دعا گو تھی کے یہ بھرم تاحیات قائم رہے۔۔۔
اچھا یہ بتاو تمہاری خان بھائی سے پہلی ملاقات کیسے ہوئی۔۔ انہوں نے تمہیں اپروچ کیا یا پہل تمہاری جانب سے ہوئی تھی۔۔۔ ویسے تم جتنی شائے ہو پہل تو تمہاری جانب سے ہو نہیں سکتی۔۔۔
خیر جو بھی ہے۔۔۔خان بھائی ہیں بہت ہنڈسم۔۔۔ پورا محلہ انکی امارت اور پریسنیلٹی کا گرویدہ ہو گیا ہے۔۔۔
 زخرف کی باتوں پر ایمان کی نگاہوں کے سامنے خان کی شبیہہ لہرائی۔۔۔ بلاشبہ وہ تھا اس قابل کے اسے چاہا جائے۔۔۔
مگر وہ حاصل ہو کر بھی لاحاصل ہو گیا تھا۔۔۔ اور تو اور رابطے کے سبھی ذریعے کاٹ کر ساتھ لے گیا تھا۔۔۔ ایمان کے دل سے ہوک سی نکلی۔۔۔ 
چھوڑو یہ سب ایمان۔۔۔ بتاو۔۔۔ ناول مکمل کب ہو رہا ہے تمہارا۔۔۔ ہیپی اینڈنگ کرنا سبھی کپلز کی اور آج ایک رومینٹک سی ایپی سرپرائز کے طور پر بھی دے دینا۔۔۔ وہ بات کا رخ موڑنے کو گویا ہوئی۔۔۔
زخرف کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔
تمہاری کہانی بھی کسی ناول سے کم تھوڑی ہے۔۔۔ عام سے گھرانے میں رہنے والی لڑکی محلوں میں پہنچ گئ۔۔۔
اسے شاید ایمان کی کہانی جاننے میں زیادہ ہی دلچسپی تھی۔۔۔۔
ویسے اگر تم مجھ سے کااپڑیٹ کر کے اپنی کہانی سناو تو میں تم پر بھی کہانی لکھ سکتی ہوں اور یقیناً میرے ریڈرز کو یہ کہانی بہت پسند آئے گی۔۔۔
وہ کسی بھی طرح اسے اسکی کہانی سنانے پر اکسانا چاہتی تھی۔۔۔
میری کہانی میں ایسا کچھ خاص نہیں زخرف جسے لکھا جا سکے۔۔۔ وہ گہری سانس خارج کر کے رہ گئ۔۔۔
کیوں بھئ ۔۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ اتنے ٹریجیڈک انداز میں شادی ہوئی تمہاری۔۔۔
خان بھائی نے اتنے فلمی انداز میں اینٹری دے کر سب کے سامنے تمہیں پھر سے اپنایا۔۔۔ پھر تم ایسا کیسے کہہ سکتی ہو۔۔۔ شئیر نا کرنا چاہو تو وہ الگ بات۔۔۔ وہ نڑوتھے پن سے بولی۔۔۔۔
اچھا چھوڑو۔۔۔ یہ بتاو خان بھائی رومینٹک ہیں یا نہیں۔۔۔ اور وہ۔۔۔
انفففف۔۔ یار۔۔۔ راز کی باتیں سب کو نہیں بتاتیں۔۔۔ اس لئے چلو اٹھو آو کینٹین چلیں بھوک لگ رہی ہے مجھے جا کر کچھ کھاتے ہیں۔۔۔۔
اس سے پہلے کے زخرف مزید کچھ معنی خیز سا پوچھتی وہ اسکی بات کا مفہوم سمجھتی عقلمدی کا مظاہرہ کرتی اسے ٹوک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
اسکا رخ کینٹین کی جانب تھا۔۔۔ زخرف نے بھی اسکی تقلید کی۔۔۔ سچ بات تھی کے اسکے پاس زخرف کی کسی بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔ اور اپنی کہانی وہ کسی سے بھی شئیر نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اپنی دوست سے بھی نہیں کے اسے اپنا بھرم سب سے عزیز تھا۔۔۔
دنیا میں جو ایک ہستی قابل اعتبار تھی۔۔۔ جس سے وہ بنا سوچے سمجھے اپنا ہر دکھ درد شئیر کر سکتی تھی اس سے کر چکی۔۔۔ اور اس ایک رشتے کے علاوہ دنیا میں دوسرا کوئی مخلص رشتہ نہیں۔۔۔ سب غرض کے رشتے ہیں تو وہ کہیں بھی اپنی آپ بیتی سنا کر لوگوں کو خود پر ترس کھانے کا موقع نہیں دے سکتی تھی۔۔۔۔
*****
آج کی ایپی لکھنے کے لئے بہت ہمت درکار تھی ریڈرز۔۔۔  اور میں نے پوری کوشیش کی ہے کہ اس ایپی کو اور اس سے اگلی آنے والی اقساط کو مہذب سے مہذب الفاظ کے چناو کے ساتھ آپ سب تک پہنچا سکوں۔۔۔امید ہے میرے بہت سے ریڈرز اس سے ریلیٹ کر پائیں گے۔۔۔ کیونکہ ریسرچ کے مطابق کم و بیش  ہر تیسرا انسان اس دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔۔۔اور میں دعا گو ہوں کے یہ ناول ایسے تمام لوگوں کے لئے راہِ حق ثابت ہو۔۔۔
اس ناول کے کسی بھی کردار کو جج کرنے سے گریز کریں۔۔۔ کیونکہ یہ کرادر انسانوں کے کرداد ہیں۔۔۔ اور کچھ بھی ہو ہم انسان پرفیکٹ نہیں ہو سکتے۔۔۔ سو نیوٹرل رہ کر ناول انجوائے کریں اور اپنا فیڈ بیک دینا بالکل نا بھولیں۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.
4