Rah_e_haq novel 3rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 3rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
تیسری قسط۔۔۔
شامیر کو نہیں یاد کے اسے وہاں چھت پر موجود فون پر بات کرتے کتنی دیر گزری۔۔۔ وہ بس اسکی مدہر کوئل سی مانند کھنکتی آواز کے سحر میں جھکڑا گیا تھا۔۔۔ ہوش تو تب آیا جب کہیں دور مسجدوں سے فجر کی اذانوں کی آواز سنائی دینے لگی تو اس دوسرے نفوس کے ہی احساس دلانے پر وہ ہوش میں آیا۔۔۔۔ وہ غالباً فجر کی نماز کی ادائیگی کے لئے اس سے اجازت چاہ رہی تھی جب وہ گویا ہوش میں آتا اسکی التجا پر مسکرا دیا۔۔۔۔ رابطہ منقطع ہونے کے بعد اسنے چھت سے جھانک کر نیچے دیکھا جہاں جیسے تقریب کے ابھی کچھ دیر پہلے ہی اختتام پذیر ہونے کے اثرات مرتب تھے۔۔۔ ساری رات وہاں یہ ہی کچھ چلتا رہا تھا۔۔۔ وہ گہرا سانس خارج کرتا ریلنگ سے ہٹتا نیچے کی جانب بڑھا۔۔۔۔ اب جسم پر تھکاوٹ سوار ہونے لگی تھی۔۔۔ وہ ایک بھرہور نیند چاہتا تھا۔۔۔ بارات دوپہر کو جانی تھی اور یقیناً تب تک وہ فریش ہوتا۔۔۔
لیکن اسکی جان خلاصی ہوگئ یہ محض اسکی خام خیالی تھی۔۔۔ نیچے اترتے ہی ہال میں لگی سب گھر والوں کی پریس کانفرینس کو دیکھ اسے شدت سے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔۔ وہ وہیں ٹھٹھک کر رکا۔۔۔
آئیے صاحبزادے صاحب آئیے۔۔۔ دفعتاً بابا کی اس پر نظر پڑی اور انکی طنزیہ کاٹ دار آواز سن کر وہ بالوں میں ہاتھ چلاتا آگے بڑھا۔۔۔
انداز میں ایک شان بے نیازی تھی۔۔۔
جی بابا جان۔۔ وہ انکے سامنے صوفے پر بیٹھتا صوفے کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
کہاں سے آ رہے ہو۔۔۔۔ بابا کے سختی سے مستفسر ہونے پر ماں آکر اسکے ساتھ بیٹھی۔۔۔ گویا بگڑتے معاملے کو کور کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ وہ انکی اس اختیاط پسندی پر مسکرا دیا۔۔۔۔
چھت پر تھا۔۔۔ اسنے شانے سہلاتے گردن دائیں بائیں موڑی۔۔۔
کیوں۔۔۔ بتانا پسند کرو گئے کے اپنا اسقدر اہم فنگشن چھوڑ کر تم چھت پر کیا کر رہے تھے۔۔۔ بابا کے غصیلے لہجے میں کہنے پر وہ سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
چھوڑ کر کہاں گیا تھا۔۔۔ رسم ہو چکی تھی اور میری پرفارمینس بھی۔۔۔ ضروری کام تو سارے نمٹ گئے تھے۔۔۔ طبیعت ٹھیک نہیں تھی میری۔۔ گھبراہٹ ہو رہی تھی اسی لئے کھلی ہوا میں سانس لینے کو زرا پرسکون ماحول کے لئے چھت پر آگیا۔۔۔ اسکے لہجے میں زرا سی بھی شرمندگی نہیں تھی البتہ باپ کے لئے وضاحت ضرور تھی۔۔۔
تمممم۔۔۔۔۔
بابا چھوڑیں نا۔۔۔ بتا تو رہا ہے کے اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ اسی لئے چلا گیا چھت پر۔۔ ہمیشہ کی طرح اسکی ڈھال بننے سب سے پہلے عدنان بھیا ہی آگے بڑھے تھے۔۔۔ صبح ہی صبح اس تفتیش پر اسکا سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔۔۔
تمہیں اندازہ ہے اسنے کل رات کیا کیا ہے۔۔۔ وہ بچی اپنی زندگی کی شروعات کی پہلی رات ہی اسکے لئے کس قدر بے چین رہی ہے۔۔۔ اوپر سے یہ اسکا فون تک نہیں اٹھا رہا تھا۔۔۔ بابا بھڑکے۔۔
وہ اپنا دکھتا سر مسل کر رہ گیا۔۔۔۔۔
میرب جاو شامیر کے لئے چائے لاو۔۔۔ اسکی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔ عدنان بھیا بابا کی باتیں نظر انداز کرتے بیوی سے گویا ہوئے تو وہ سر ہاں میں ہلاتی کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
بھیا ٹھیک کہہ رہے ہیں بابا ۔۔۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔۔ ویسے بھی آج اسکی زندگی کا اتنا بڑا دن ہے ہم اسے کچھ کہہ نہیں سکتے۔۔۔ اب کی بار ذوہیب بھیا مفاہمتی انداز اختیار کرتے آگے بڑھے۔۔۔۔
تم فون اٹھا لیتے تو بات اتنی نا بڑھتی۔۔۔ ذوہیب اسکی دوسری طرف آ کر بیٹھا۔۔۔
اسنے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔۔۔
اپنے طور طریقے درست کر لو شامیر۔۔۔ تم اس بچی کے ساتھ یہ رویہ اختیار نہیں کر سکتے۔۔۔ وہ جس باپ کی بیٹی ہے تم سوچ۔۔۔
واٹ ربش بابا۔۔۔ کیا میں ساری زندگی یہ ہی سنتا رہوں گا۔۔۔ کہ وہ کس باپ کی بیٹی ہے اور اس سے شادی کے بعد ہمیں کتنا منافع ملنے والا ہے۔۔۔ وہ بھڑکتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
اس سے شادی کا مطلب اب میں خود پر پابندیاں لگا لوں۔۔ میری اپنی کوئی مرضی کوئی ایکٹیویٹی نہیں۔۔۔ مطلب آپ میری شادی نہیں کر رہے بلکہ بیٹا بیچ رہے ہیں۔۔۔ غصے سے چٹخ کر کہتا وہ ہر کسی کو شاک کر گیا۔۔۔ اس شادی کو لے کر اسکا اتنا شدید ردعمل۔۔۔
بابا لب بھینچتے خاموشی سے اسے دیکھتے رہے جیسے اسے جانچنا چاہ رہے ہوں۔۔۔
اگر میں اتنا ہی برا ہوں اور وہ آپکی اتنی ہی چہیتی ہے تو ارحم سے کر دیں اسکی شادی۔۔۔۔ وہ انتہائی غصے میں بہت غلط بات منہ سے نکال گیا تھا۔۔۔
جبکہ اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا ارحم بدک کر دو قدم پیچھے ہٹا۔۔۔۔
بھائی۔۔۔ خدا کا خوف کریں یار۔۔۔ میری ہونے والی بھابھی ہیں وہ۔۔۔
شامیررررر۔۔۔ جہاں بابا کی گرجدار آواز گھونجی وہیں سبھی گھر والے حق دق سے منہ پر ہاتھ رکھ گئے۔۔۔
اس سے پہلے کے بابا غصے میں اسکی جانب بڑھتے ہر حد پار کر جاتے ماں بھاگ کر انکے اور شامیر کی درمیان آئیں جبکہ عدنان اور ذوہیب بھی بگڑتی صورتحال دیکھ بابا کی جانب لپکے اور وہ خود غصے سے ہانپتا خود کو کمپوز کر رہا تھا۔۔۔
ناحلف اولاد۔۔۔ بتاو کون ہے وہ جس کے لئے بغاوت پر اتر رہے ہو۔۔۔ حالانکہ یہ وہی پروشہ ہے جس سے تمہاری گہری چھنتی تھی۔۔۔ بابا غصے سے ہانپنے لگے تھے۔۔۔ آںکھوں سے شعلے لپک رہے تھے جیسے بس نا چل رہا تھا کے چہیتے بیٹے کو بھسم کر ڈالتے جو عین شادی کے دن انکی ساکھ روکنے پر تل گیا تھا۔۔۔
اور یہیں شامیر کا غصہ جھاگ کی مانند بیٹھا۔۔۔۔ وہ بابا کے فرشتوں کو بھی کسی بات کا علم نہیں ہونے دے سکتا تھا۔۔۔ اپنی بدولت کسی اور معصوم جان کو داو پر لگانے کا رسک وہ نہیں لے سکتا تھا۔۔۔۔تبھی وہ دھیما پڑا۔۔۔۔
بابا یار پلیز۔۔۔۔ بات کو غلط رخ نا دیں۔۔۔ کہہ تو رہا ہوں کے رات طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لئے وہاں سے چلاآیا۔۔۔ آپ بھی تو بات کو ہوا بنا دیتے ہیں۔۔۔ وہ عاجزی سے کہتا چہرے پر ہاتھ پھیرتا وہیں صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔
جبکہ ذوہیب بھائی کے اشارہ کرنے پر رفیہ بھابھی بھاگ کر پانی لے آئیں۔۔۔ ذوہیب نے پانی کا گلاس تھامے بابا کو پکڑایا۔۔۔
بابا پلیز غصہ تھوکیں اور پانی پیئں۔۔۔ بات کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ آج اتنی خوشی کا موقع ہے اسے یوں غصے کی نظر مت کریں۔۔۔ ذوہیب نے انکا شانہ سہلاتے انہیں ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔۔
اور جو اسنے اسقدر غلط بکواس کی ہے۔۔۔ وہ ہھر سے گرجے۔۔۔
بابا غصے میں میں بکواس ہی کرتا ہوں یار۔۔۔ اچھا نا سوری۔۔۔ وہ انکی جانب بڑھتا انکے گلے سے آ لگا ۔۔۔ یار شادی ہے آج میری آج تو بخش دیں۔۔۔ شامیر کی پیش قدمی پر ماں کا کب سے اٹکا سانس بحال ہوا تو بابا کا غصہ بھی قدرے دھیما پڑا۔۔۔۔
حرکتیں ٹھیک کر لو اپنی شاہو۔۔۔ بچے نہیں رہے اب تم۔۔۔۔۔
جی جی بالکل بابا۔۔۔ اب پلیز میں کچھ دیر ریسٹ کر لوں۔۔۔ بائے دا وے ۔۔۔ میں آج کا چیف گیسٹ ہوں۔۔۔
ہاں لیکن ناشتہ کر کے ۔۔۔ پھر تمہیں وقت پر تیار بھی ہونا ہے۔۔۔ بیگم ناشتے کا بندوبست کروائیں۔۔۔ وہ اس سے مخاطب ہونے کے بعد نعیمہ بیگم سے مخاطب ہوئے تو شامیر سکھ کا سانس خارج کرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔ اگلے چند دن اسے بے حد اختیاط کی ضرورت تھی۔۔۔ وہ کسی طرح کی مشکوک حرکت کر کے بابا کے شک پر یقین کی مہر ثبت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ بابا کو شک میں ڈالنا مطلب کسی اور کی زندگی کو داو پر لگانا۔۔۔ اور وہ یہ ہرگز نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔ اس لئے خاموشی سے فریش ہونے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔
******
زخرف یار میری کیا غلطی ہے اس سب میں۔۔۔ مجھ سے کیوں خفا ہو تم یوں۔۔۔۔ مجھ سے تو بات کرو۔۔۔ پلیز یار۔۔۔ صبح سے زخرف ایمان سے کھنچی کھنچی تھی۔۔۔۔ بات تک نہیں کر رہی تھی۔۔۔ ابھی تک کا وقت ایمان نے بہت ضبط سے کاٹا تھا ۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے جیسے ہی پریڈ فری ہوا وہ اسے لان میں بیٹھے دیکھ وہیں اسکے پاس آگی۔۔۔۔
زخرف نے خفگی سے اسے دیکھا۔۔۔
سوری یار۔۔ وہ مصومیت سے بولی۔۔۔
تمہارے اس اعلی و ارفع بھائی نے کیسے اجازت دے دی مجھ جیسی فحش لڑکی سے بات کرنے کی۔۔۔ وہ جل کر بولی۔۔۔
انہیں تھوڑی نا پتہ ہے یار کے میں تمہیں منا رہی ہوں۔۔۔۔ پتہ نہیں انہیں کیا ہوا ہے بہت خفا ہوئے تمہارے جانے کے بعد مجھ پر بھی۔۔۔ بہت ڈانٹا۔۔۔۔
جہاں زخرف توقع رکھتی تھی کے وہ اسے صفائی دے گی کے ایسی کوئی بات نہیں وہاں اسکی الگ منطق سن کر کھول کر رہ گئ۔۔۔
مگر تم فکر مت کرو یار۔۔۔ میں ہی بے وقوف تھی جو فخر سے گھر میں ہر کسی کو بتاتی پھر رہی تھی کے میری دوست رائٹر ہے اور اسکی اتنی فالونگ ہے۔۔۔ نیز تمہارا پیج اور چینل تک متعارف کروا دیا۔۔۔
لیکن اب میں نے سوچ لیا ہے۔۔۔ جیسے ہی بھیا آئیں گے میں انکے موبائل سے چینل یوٹیوب ریکمنڈیشن اور سرچ ہسٹری سے ڈیلیٹ کر دوں گی ایسا ہی پیج کے ساتھ کروں گی تو پھر انہیں کسی بارے میں پتہ نہیں لگے گا۔۔۔ اور جب تمہارا لکھا انکے سامنے نہیں آئے گا تو وہ چند دنوں میں خود ہی یہ بات بھول جائیں گے۔۔۔ اور دوبارہ میں یہ بات کسی سے شئیر ہی نہیں کروں لگی۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ پلیز اب تو مان جاو ۔۔۔۔
اپنے تئیں وہ اسے حل پیش کر رہی تھی لیکن زخرف کو ایک گہری مہیب چپ لگ گئ۔۔۔۔
بلکہ ایک کام کرو تم بھی اپنے گھر میں کسی کو مت بتانا کے تم کیا لکھتی ہو۔۔۔۔ ابھی تک تو تمہاری امی اور بھائیوں کو یہ پتہ ہے کے تم لکھتی ہو۔۔ کیا لکھتی ہو یا کتنا رومینٹک لکھتی ہو یہ تو انہوں نے نہیں پڑھا نا۔۔۔ تو اپنا چینل اور پیج ان سے متعارف مت کروانا۔۔۔ ہو سکتا ہے کے انہیں بھی پھر بھائی کی طرح اس پر اعتراض ہو ۔۔۔ باقی تمہاری مرضی۔۔۔ لیکن پلیز غصہ تھوکو۔۔۔ اس دن جو بھی کچھ ہوا میں بھائی کی طرف سے تم سے معافی مانگتی ہوں پلیز اب آو کینٹین چلتے ہیں۔۔۔ آج کی پیمنٹ میری طرف سے وہ اسکا ہاتھ تھام کر اسے اٹھاتی گھسیٹتی ہوئی اپنے ساتھ لے جا رہی تھی جبکہ وہ گّم صم سی کسی گہری سوچ میں گم اسکے ساتھ گھسیٹتی چلی جا رہی تھی۔۔۔
******
سبحان بیٹا میں زرا چائے بنا لاوں تب تک تم زوہان کو یہ نومیریکل سمجھا دو۔۔۔
زوہان اور کنزل لاوئنج میں بیٹھے تھے۔۔۔ زوہان کے میٹرک کے امتحانات تھے۔۔۔ جبکہ کنزل کو لگتا تھا یہ زوہان کے نہیں بالکل اسکے اپنے امتحانات ہیں۔۔۔ وہ خود انہیں پڑھاتی تھی اور انکی ایک ایک چیز پر اسکی نظر ہوتی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے وہ کتاب کے کس چیپٹر میں کمزور ہیں وہ باخوبی آگاہ تھی۔۔۔
سارا سارا دن اور پھر آدھی آدھی رات تک وہ اسکے ساتھ جاگ کر اسے پیپر کی تیاری کرواتی۔۔۔
اگر وہ ماں کے دم سے جیتے تھے تو اس میں بھی زیادہ ہاتھ کنزل کا ہی تھا جو ابھی تک انہیں اپنے پروں میں لئے پھرتی تھی۔۔۔ انہیں ہر چیز کے لئے ماں چاہیے ہوتی اور وہ بھی ایسی تھی جس کے لئے اولاد سے بڑھ کر کچھ نا تھا۔۔۔ یہ دونوں اسکی زندگی کا قیمتی سرمایہ تھے اور اسنے اپنی زندگی کا بہترین وقت ان پر انویسٹ کیا تھا۔۔۔
اور انسانوں کی طرح رہنا۔۔۔لمحوں میں جنگلی مت بن جانا۔۔۔ وہ اٹھتے اٹھتے بھی انہیں تنبیہ کرنا نا بھولی کے اولاد کی حرکتوں کو اس سے بڑھ کر کوئی نہیں جان سکتا تھا۔۔۔ دونوں تابعداری سے سر ہاں میں ہلا گئے۔۔۔
سبحان نے اسکے ساتھ بیٹھتے اسے نومیریکل سمجھانا شروع کیا۔۔۔
آیا سمجھ۔۔۔ پورا نومیریکل سمجھا کر وہ مستفسر ہوا۔۔۔
نہیں۔۔۔ تمہارے سمجھانے کا طریقہ نہایت خراب ہے۔۔۔ ممی کے طریقے سے سمجھاو۔۔۔ وہ پرسکون سا گویا ہوا۔۔۔
ربش۔۔۔ تمہیں کچھ بھی سمجھ نہیں ایا۔۔۔۔ وہ جھنجھلا۔۔۔
نو۔۔۔ آگے سے پرسکون سا جواب موصول ہو۔ا۔۔
ٹانگ ہٹاو پیچھے۔۔۔۔ سبحان نے اسکی ریلیکس انداز،میں پھیلی ٹانگ کو دیکھ کوفت سے کہا جو اسکے آگے تک آ رہی تھی۔۔۔
نا ہٹاوں تو۔۔۔ انداز چیلنجنگ تھا۔۔۔
سبحان نے ایک نظر اسے غصے سے دیکھنے کے بعد کچن میں کام کرتی ماں کو دیکھا جو چائے بنا کر اب کپوں میں انڈیل رہی تھی۔۔۔
ہٹا رہے ہو ٹانگ یا نہیں۔۔۔
نہیں ہٹا رہا۔۔۔ اکھاڑ لو جو اکھاڑ سکتے ہو۔۔۔۔ زونی کا فائٹنگ موڈ آن ہو چکا تھا۔۔۔
تمہارے پاس ہے ہی کیا جو اکھاڑ لوں۔۔۔ سبحان نے اسے چڑاتے قہقہ لگایا۔۔
یووووو۔۔۔۔۔
زونی ۔۔۔ حان ۔۔۔ جنگلیوں انف از انف۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ دونوں ایک دوسرے پر پل پلتے گھتم گھٹا ہوتے وہ چائے کی ٹرے تھامے لمبے لمبے ڈگ بھرتی وہاں آئی۔۔۔
اسے سمجھا لیں مام۔۔۔ مرے گا یہ میرے ہاتھوں۔۔۔ زونی نے غصے سے کالر جھٹکا۔۔۔
غضب خدا کا لڑکے بکواس کرتے ہو۔۔۔۔ کنزل دہل اٹھی۔۔۔
ہاں اور تم تو جیسے سمجھے سمجھائے ہو نا۔۔۔۔ اور کل تم نے میری شرٹ کس خوشی میں پہنی تھی۔۔۔ میں نے کچھ کہا نہیں اٹ مینز کے تم کچھ بھی کرتے رہو۔۔۔ سبحان سینے پر ہاتھ باندھتا جرح ہر اترا۔۔۔ جو اسکی ہر نئ چیز پہلے خود استعمال کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔۔۔ عموماً سبحان نظر انداز کر دیتا لیکن ایسے معاملوں میں طنز کرنے سے باز نا آتا۔۔۔۔
سبحان جاو جہاں سے ۔۔۔ بہت شکریہ بہت سمجھا دیا تم نے اسے نومیریکل باقی میں سمجھا لوں گی۔۔۔ کنزل ان دونوں کے درمیان آتی حان کو منظر سے ہٹانے لگی۔۔۔
تم سے مطلب جو میرے جی میں ائے گا میں کروں گا۔۔۔ کیا کر لو۔۔۔
اوے خاموش گستاخ۔۔۔ آواز نا آئے تمہاری۔۔۔ کنزل نے آگے بڑھتے زوہان کو آنکھیں نکالتے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔۔
مام آپ تو۔۔۔
چپ ایک دم چپ چلو میرے ساتھ۔۔۔ اس سے پہلے کے سبحان کچھ کہتا وہ اسکا ہاتھ تھام کر کھینچتی ہوئی اسے اسکے کمرے میں لے کر آئی اور اسے اندر دھکی کر کمرے کا دروازہ بند کرتے باہر آئی۔۔۔
پتہ نہیں وہ کتنے خوش نصیب ماں باپ ہونگے جنکی اولادوں میں اتفاق ہوتا ہوگا۔۔۔
آہ۔۔۔ (ہر ماں باپ کی خواہش۔۔۔۔)
ورنہ میرے گھر تو جنگلی جمع ہیں جو دو پل سکون سے اکھٹے نہیں بیٹھ سکتے۔۔۔ وہ بڑبڑا کر کہتی زونی کا مگ اسکے سامنے رکھتی سبحان کا مگ اٹھا کر اسکے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ جبکہ زونی شانے اچکا کر نومیریکل حل کرنے لگا جو اسے پہلی ہی دفعہ میں سمجھ آگیا تھا مگر سبحان کو تنگ کرنے کا الگ ہی مزہ تھا۔۔۔۔
*****
خان پتہ لگا لیا ہے اس لڑکی کے بارے میں۔۔۔ خان اس وقت اپنے پرتعش کمرے میں صوفے پر بیٹھا کمر صوفے کی پشت سے ٹکائے ٹانگنیں سامنے کانچ کے میز پر رکھے لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا جب امجد کے دروازہ ناک کر کے اندر آنے پر اسنے لیپ ٹاپ سے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا جس نے آگے بڑھتے ایک کاغذ اسکے سامنے رکھا۔۔۔
نام ۔۔ ایمان۔۔۔
مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہے۔۔۔ باپ واپڈا میں ملازم تھا لیکن باپ کی حادثاتی موت کے بعد وہاں اب اسکا بڑا بھائی جاب کر رہا ہے۔۔۔
اسکے دو بھائی ہیں جبکہ دوسرا بھائی ڈگڑی کے بعد نوکری کی تلاش میں ہے۔۔۔ جبکہ اس کے علاوہ ایک ماں اور ایک بھابھی ہے گھر میں۔۔۔۔
وہ کاغذ کو پڑھ رہا تھا جبکہ پیچھے کھڑا امجد طوطے کی طرح اسے ساری معلومات سے اگاہ کر رہا تھا۔۔۔
ایمان کے بارے میں سب کچھ جان کر ایک آسودہ مسکراہٹ خان کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔۔
پھر تو اس لڑکی کا حصول قطعاً مشکل نہیں۔۔۔ اٹھا لاو اسے آج رات ہی فارم ہاوس پر۔۔۔۔ اسکے کہنے پر امجد دھنگ رہ گیا۔۔۔
خان صاحب ایک مرتبہ پھر سوچ لیں۔۔۔ وہ مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہے۔۔۔ اور ایسے خاندانوں میں محض عزت ہی سب کچھ ہوتی ہے۔۔۔۔ اس پر بھی داغ لگ جائے تو۔۔۔
میرا مطلب ہے کے ایسا مطالبہ آپ نے زندگی میں پہلی مرتبہ کیا ہے تو۔۔۔
_
وہ بولتے بولتے جھجھک کر رکا۔۔۔
خان قہقہ لگاتا ہس دیا۔۔۔ یار مطالبہ پہلی مرتبہ کیا ہے کیونکہ ایسی کوئی اس سے پہلے ملی بھی تو نہیں نا۔۔۔ اتنا معصوم اور بے داغ حسن۔۔۔ وہ موبائل پر اسکی تصویر نکال کر دیکھتا کھویا کھویا سا گویا ہوا۔۔۔
جبکہ رہ گئ بات لڑکی کی عزت کی۔۔۔ تو پیسہ ہر چیز پر بھاری ہوتا ہے۔۔۔ یقیناً اوقات سے بڑھ کر پیسہ پا کر وہ لڑکی اور اسکے گھر والے سب کچھ بھول جائیں گے۔۔۔
وہ تھوڑی پر ہاتھ پھیرتا سفاکیت سے بولا جبکہ امجد کچھ کہنے کی چاہ میں لب بھینچ گیا۔۔۔
جی بہتر سر جی۔۔۔ وہ سر ہلاتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ ابھی اسے اپنے صاحب کے حکم کی تعمیل کے لئے منصوبہ بندی بھی کرنی تھی۔۔۔
******

No comments