Header Ads

Rah_e_haq novel 4th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  4th Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

چوتھی قسط۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں شامیر فریش ہو کر ناشتہ کرنے کی غرض سے ڈائینینگ ٹیبل پر موجود تھا۔۔۔ ساری رات کی گہما گہمی اور اسکے بعد لاوئنج میں لگنے والی پریس کانفرینس کے باعث صبح صادق کے وقت ہی ناشتہ کیا جا رہا تھا۔۔۔ ارادہ ناشتہ کرنے کے بعد ہی نیند لینے کا تھا۔۔۔۔ اب بھی ڈائینیگ ٹیبل پر آدھے گھر کے افراد موجود تھے جبکہ آدھے غالباً سونے جا چکے تھے۔۔۔۔
شامیر آ کر کرسی گھسیٹ کر بیٹھا ہی تھا کے ماں اسے ناشتہ صرف کرنے لگیں۔۔۔
بھائی بابا کہہ رہے تھے کے آپ نو بجے تک بھابھی کے سیلوں پہنچ جائیں انہیں پک کرنے کے لئے۔۔۔ اسنے ابھی بڑیڈ کا پہلا سلائس اٹھایا ہی تھا جب ارحم کی آواز ابھری۔۔۔
کیوں خیریت۔۔۔۔ نو بجے کیوں۔۔۔ بارات تو دوپہر کی ہے نا۔۔۔۔  اسنے معتجب ہوتے اپنے ساتھ بیٹھے ارحم کو دیکھا ۔۔۔
ہاں بارات تو دوپہر کی ہی ہے مگر بھابھی نو بجے تک تیار ہونگی پھر آپکو انہیں لے کر جانا ہے ۔۔۔۔ تین مختلف جگہوں پر آپکا فوٹو شوٹ ہوگا۔۔۔ اسکے بعد آپ بھابھی کو انکے گھر چھوڑ کر واپس آ جانا۔۔۔ وہاں سے بھابھی اپنے گھر والوں کے ساتھ ہال آئیں گی اور آپ یہاں سے بارات لے کر جائیں گے۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ یار۔۔۔ اسنے ہاتھ میں تھاما سلائس واپس پلیٹ میں پٹخا۔۔۔
ایک نکاح کی اتنی کحچ کحچ۔۔۔۔ اس سے بہتر نہیں کہ میں نو بجے ہی اسے سیلون سے پک کر کے سیدھا میرج رجسٹرار کے آفس لے جاوں۔۔۔ وہاں پہلے نکاح کروں پھر فوٹو شوٹ کروا کر اسے سیدھا گھر ہی لے آوں۔۔۔
اسکے چڑ کر کہنے پر میرب بھابھی مسکرا دیں۔۔۔
ہاں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا بھابھی۔۔۔  اب تھکا ہوا ہوں آرام کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ اوپر سے نیا حکم۔۔۔ 
اور مجھے جانا بھی تیار ہو کر پڑے گا۔۔۔ مطلب میں خود اب آرام کرنے کی بجائے سیلون چلا جاوں تیار ہونے
۔۔
کیا ہو گیا ہے شامیر بیٹا۔۔۔ شادیوں پر اتنا تو ایڈجسٹ کرنا ہی پڑتا ہے۔۔۔۔
کیا ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے مام۔۔۔ لوگ بیٹیوں کو نکاح سے پہلے نامحرم کے ساتھ کہیں نہیں بھیجتے اور یہاں شادی کے روز نکاح کے بغیر مجھے اجازت مل رہی ہے ایک نامحرم کو ساتھ لیجانے کی۔۔۔۔ وہ جھنجھلایا۔۔۔
ہمارے ہاں شادیاں یونہی ہوتی ہیں شامیر۔۔۔۔ اور یہ محرم نامحرم کی باتیں تمہیں تب یاد نا آئیں جب یونیورسٹی کے زمانے سے اسکے ساتھ گھومتے رہے ہو۔۔۔ اسے ڈیٹ کرتے رہے ہو۔۔۔ اب یہ محرم نا محرم والی باتیں کہاں سے  آ رہی ہیں تمہارے ذہن میں۔۔۔ تمہارا سورس آف انفارمیشن کیا ہے۔۔۔ ذوہیب بھیا کے ترشی سے کہنے پر وہ کرب سے آنکھیں میچ گیا۔۔۔۔
وہ خود نہیں جانتا تھا کے ایک اور وجود کیسے اسکے روم روم میں بستا بہت نا محسوس انداز میں اسے اپنے رنگ میں رنگتا چلا جا رہا تھا۔۔۔۔
لیکن ایک بات کا احساس اسے اب ہوا تھا۔۔۔ جس کلاس میں وہ تھا اس کلاس میں راہِ حق پر چلنا پل صراط پر چلنے کے مقابل تھا۔۔۔ دنیا داری اسے مارے دے رہی تھی۔۔۔ یا تو راہِ حق چنتا اور سب سے کٹتا چلا جاتا۔۔۔ یا اپنی کلاس کی مانتا اور  پوری زندگی بھٹکتا پھرتا۔۔۔ 
ہمارا مذہب تو کہتا ہے کے دین اور دنیا ساتھ لے کر چلو۔۔۔ مگر یہاں تو یہ ایک کام مشکل ہی نہیں ناممکن کے مترادف تھا۔۔۔ ڈھنکے کی چوٹ پر اس فوٹو شوٹ سے انکار کرتا تو اختتام کیا نکلتا۔۔۔ وہ سوچ کر ہی جھر جھری لے گیا۔۔۔ اور ایک طویل کانفرینس کے بعد اسے پھر ہار ماننا ہی پڑتی۔۔۔۔  اسے اس وقت مڈل کلاس فیملی کے لوگوں پر رشک آیا۔ جنہیں راہِ حق اختیار کرنے میں اتنی مشکالات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔۔۔ سب کچھ ابتدائی فیزز سے ہی انہیں سیکھنے کو ملتا ہے۔۔۔ اور یہاں اگر سیکھنے بیٹھو بھی تو جج کرنے والے ہزار کھڑے ہیں۔۔۔ فائدہ اتنی شان و شوکت اور ٹھاٹ بھاٹ کا۔۔۔ جب بندہ اپنے اصل سے ہی نا مل پائے۔۔۔ جب بندہ اپنی اور اپنے رب کی پہچان ہی نا کر پائے ۔ وہ کرسی دھکیلتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔  ٹھیک ہے میں چلا جاوں گا۔۔۔ وہ بحث سمیٹٹا مرا۔۔۔
شامیر۔۔۔ ذوہیب بھیا اٹھ کر اسکے سامنے آئے۔۔۔ صد شکر تھا کے بابا وہاں نہیں تھے ورنہ پھر سے اسکے نادر خیالات سن کر ہنگامہ بھرپا کر دیتے۔۔۔ یار کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔ وہ نرمی سے گویا ہوا۔۔۔
کچھ نہیں بھیا۔۔۔ مجھے بس لگا کے اس سے اللہ ناراض نا ہو جائے۔۔۔ وہ دقت سے بول پایا۔۔۔ دل پر بہت بوجھل پن آ گیا تھا۔۔۔ وہ یہ تو کہہ ہی نا سکا کے اللہ کو راضی کرنے کا کوئی طریقہ نہیں سوجھ رہا۔۔۔ کے اسکی حکم عدولی ہی اتنی کی ہے کے سمجھ ہی نہیں آتا اس سے رابطہ استوار کیا جائے تو کیسے۔۔۔ وہ یہ سب باتیں ان سب سے تھوڑی شیئر کر سکتا تھا جہاں ان باتوں کی کوئی ویلیو ہی نہیں۔۔۔ اور جس سے کر سکتا تھا اس سے رابطے پر آج کل گھر والوں کے شکوک کے باعث اسنے خود پہرے بیھٹا دئیے تھے۔۔۔۔
فکر نا کرو شہزادے۔۔۔ اللہ کو راضی کرنے کا بھی انتظام کیا ہے۔۔۔ سو بکروں کا صدقہ دے کر گوشت غریبوں میں بٹوا رہے ہیں ساتھ میں اس شادی کی خوشی میں غریبوں کو راشن اور کپڑے بانٹے جا رہے ہیں۔۔۔
 عدنان بھیا ناشتہ کرتے مسکرا کر بولے۔۔۔
کیا اس سے اللہ راضی ہو جائے گا۔۔۔ وہ کھویا کھویا سا گویا ہوا۔۔۔
کیوں نہیں شامیر۔۔۔ کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔۔ میرب بھابھی عدنان بھیا کو جوس پکڑاتیں اس سے مستفسر ہوئیں۔۔۔ وہ نفی میں سر ہلا گیا۔۔۔
شامیر بچے ناشتہ تو کرتے جاو۔۔۔ ماں اسکی باتیں سنتیں گم صم سی گویا ہوئیں۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرا دیا۔۔۔ ابھی بھوک نہیں ہے ماں۔۔۔
کمرے کی طرف جاتے اسکے دماغ میں طرح طرح کے سوالات جنم لے رہے تھے۔۔۔ کیا چوبیس گھنٹے ہر ہر لمحے اللہ کی حکم عدولی کے کر۔۔۔۔۔
 اسکے ہر حکم سے روگردانی کر کے ۔۔۔ نماز چھوڑ کر پردہ چھوڑ کر۔۔۔۔۔۔ مردوں اور عورتوں کی نیم برہنہ محفلیں سجا کر ۔۔۔ اذان کا لحاظ کئے بنا اونچی آوازوں میں میوزک چلا کر۔۔۔ آدھی آدھی رات تک انجوائمنٹ کے نام پر پاڑتیز اور کلبنگ کر کے شادی پر پیسہ پانی کی طرح بہا کر ۔۔۔ ہر جگہ اللہ کی نافرمانی کر کے ۔۔۔
پھر کیا صدقہ خیرات کرنے سے اللہ راضی ہو جاتا ہے۔۔۔۔ کیا وہ معاف کر دیتا ہے۔۔۔ دل کا بوجھ مزید بڑھنے لگا تھا۔۔۔ دل میں ایک سو ایک سوالات جنم لے رہے تھے لیکن انکے جوابات حاصل کرنے کا کوئی طریقہ اسے سوجھ نہیں رہا تھا۔۔۔
اسی کش مکش میں گم بستر پر دراز ہوتے وہ کب نیند کی وادیوں میں اترا وہ سمجھ ہی نا پایا۔۔۔۔
*****
اللہ۔۔۔ اللہ۔۔۔
یہ مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنا بھی نری ذلالت ہے۔۔۔ ٹھاٹ ہیں بھئ اپر کلاس لوگوں کے۔۔۔ نا کوئی روک نا ٹوک۔۔۔ اپنی مرضی کی نیند لو ۔۔۔ اپنی مرضی سے جاگو۔۔۔ نا پیسے کی فکر نا کسی کے فرمودات سنے کی سر کھپائی۔۔۔ 
مرضی کا کھاو۔۔ مرضی کا پہنو۔۔۔ دوستوں کے ساتھ گھومنے جاو۔۔۔ پکنک مناو۔۔۔ 
اور یہاں ۔۔۔ رات کو سوتے ٹاٹم گیارہ بج جائیں تو لیکچر شروع۔۔۔ کالج سے واپسی پر ایک آدھ گھںٹہ اوپر نیچے ہو جائے تو کلاس الگ۔۔۔ اور کمرے میں بیٹھ کر فون پر بات کرو سہی۔۔۔ الگ تفتیش شروع کے کس سے بات ہو رہی تھی۔۔۔ پتہ نہیں کیوں  اللہ نے دنیا میں غریب امیر بنائے۔۔۔
زخرف جھنجھلائی سی اونچی آواز میں بولتی مشین سے کپڑے نکال کر ٹب میں ڈال رہی تھی۔۔۔ آج شام کے وقت اسنے مشین لگا رکھی تھی ۔۔۔
خدا کا شکر ادا کرو ہر حال میں لڑکی۔۔۔ شکر نعمتوں کو بڑھا دیتا ہے۔   جبکہ ناشکری نعمتوں کو گھٹا دیتی ہے۔۔۔۔ اسکی باتیں سن صحن کے کونے میں چارپائی پر بیٹھی سبزی کاٹتی ماں کے ماتھے پر شکنوں کا جال ابھرا۔
یہاں ہے ہی کیا جسکا شکر ادا کروں۔۔۔ اسنے سر جھٹکتے مشین میں مزید کپڑے ڈالے۔۔۔
خدا کے غضب سے ڈرو لڑکی۔۔۔ اور جن امیروں کی تم مثالیں دیتی پھر رہی ہو نا۔۔۔ وہاں سکون کی کس قدر کمی ہے تم کیا جانوں۔۔۔۔ ماں قدرے جلال میں آئیں۔۔۔
اور یہاں جیسے بہت سکون ہے نا۔۔۔ اور یہ بھی تیری غلط فہمی ہے ماں۔۔۔ کے پیسے والوں کے پاس سکون کی کمی ہے۔۔۔ کیوں بھئ ۔۔۔ کا چیز کی کمی انہیں۔۔۔ پیسے سے دنیا جہاں کی ہر چیز خریدی جا سکتی ہے۔۔۔ اور جب پیسہ ہو نا جیب میں تو آسودگی خودباخود آجاتی ہے۔۔۔ پھر بھلا کس سکون کی تلاش۔۔۔۔
جلدی جلدی ہاتھ چلاتے اسکی زبان بھی اسی رفتار سے چل رہی تھی۔۔۔
ماں نے اسے قہر آلود نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
تم شکر ادا نہیں کرتی تمہارے ہاتھ پاوں سلامت ہیں۔۔ سر پر اپنی چھت ہے۔۔۔ پہننے کو کپڑے ہیں ۔۔۔ کھانے کو عزت سے تین وقت کا کھانا ہے اور۔۔۔
اور کیا زندگی بس انہیں چیزوں کا نام ہے۔۔۔ کھا لیا کام کر لیا اور سو لیا۔۔۔ کھاٹ کے الو کی طرح۔۔۔ 
وہ ماں کی بات کاٹتی کپڑے سوکھنے ڈال کر اندر چلے گئ۔۔۔ ابھی اسے آج کی قسط بھی اپلوڈ کرنی تھی۔۔۔ ایکسٹرا رومینٹک۔۔۔ پھر ہی تو ویوز بڑھتے ۔۔۔ اور ویوز بڑھتے تو اسکا ریوینو جنریٹ ہوتا۔۔۔ اور ریوینیو جنریٹ ہوتا تو اسکے چھوٹے بڑے کئ مسلے حل ہوتے۔۔۔ ابھی تو شکر تھا کے یہ یوٹیوب کی انکم آنے لگی تھی تو وہ زرا کھل کر جینے لگی تھی۔۔۔ آزادی سے سانس لینے لگی تھی۔۔۔ ہاتھ میں پیسہ ہوتا تو اسے کسی بھی اچھے سے اچھے مال یا بیکڑی میں جانے کے لئے کسی کی محتاجی کی ضرورت نا ہوتی۔۔۔ وہ آسانی سے کالج سے واپسی پر کسی بھی جگہ گھوم پھر آتی۔۔۔ اسی لئے تو آئے دن کالج سے لیٹ ہونے لگی تھی۔۔۔ پیسہ اسے خود مختار بنا رہا تھا۔۔۔۔
*****
وہ ناکامی جسکی تکلیف اور جسکا دکھ تمہیں تمہارے رب کے قریب لے آئے۔۔ وہ ناکامی بھی کامیابی ہے۔۔۔ اس پریشانی و مشکل کا بھی شکریہ جو آپکا تعلق آپکے رب سے استوار کروا دے۔۔۔ اور وہ کامیابی جو آپکو خودسر بناتی آپکو آپکے رب سے دور کر دے۔۔۔   اسکے احکامات کا منکر اور قائم کردہ  حدود کو تجاوز کروا دے اس کامیابی سے بڑی ناکامی کوئی نہیں۔۔۔۔
ایمان نے گہرا سانس خارج کرتے کتاب بند کی اور کالج کی چھٹی کی ہوتے ہی کتاب لائبریری میں واپس وہیں رکھتی لائبریری سے نکل آئی۔۔۔۔ 
آج پھر سے بھیا مصروف تھے اسی لئے اسے خود ہی واپس جانا تھا۔۔۔ سونے پر سہاگا کے آج تو زخرف بھی نہیں آئی تھی اس لئے وہ زیادہ جھنجھلائی ہوئی تھی۔۔۔ اسے تنہا روڈ سے جانا ہمیشہ ہی کوفت میں مبتلا کر دیتا تھا۔۔۔
اس لئے وہ ادھر ادھر دیکھ کر روڈ کراس کرتی آگے بڑھی۔۔۔۔ ہمیشہ والے راستے کی نسبت آج اسنے شارٹ کٹ سے جانا بہتر سمجھا تا کے جلد از جلد گھر پہنچ سکے۔۔۔
اس راستے پر لوگوں کا گزر کم ہوتا لیکن دو گلیاں چھوڑ کر اسکا گھر تھا۔۔۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔ اس خاموش سنسان سڑک پر آتے ہی اسے شدت سے احساس ہوا کے اسنے یہ راستہ منتخب کر کے غلطی کی تھی۔۔۔ یکدم ہی دل میں کسی انہونی کا خدشہ ابھرا۔۔۔ دل اتنی زور سے ڈھرکا کے وہ خود ہی گھبرا اٹھی۔۔۔ اسنے سرعت سے آدھے راستے سے ہی قدم واپسی کو موڑے اور تیز قدم اٹھاتی واپس گنجان راستے کی جانب بڑھی۔۔۔
*****
کالج کے گیٹ سے کچھ فاصلے پر سیاہ شیشوں والی سفید وین چھٹی سے کوئی آدھا گھنٹہ پہلے ہی سے وہاں تاک لگائے کھڑی تھی۔۔۔۔ خان کا حکم تھا اور امجد پر بجا لانا فرض تھا۔۔۔ پھر چاہے وہ غلط ہی کیوں نا ہوتا۔۔۔
انکا ہوم ورک مکمل تھا۔۔۔ اور ایمان کے کالج آنے کی تصدیق بھی ہو چکی تھی۔۔۔ ایمان کے کالج سے نکلتے ہی وہ لوگ ہجوم میں سے اسے اٹھا لے جانے والے تھے۔۔۔ ان سب کے چہروں پر ماسک تھا۔۔۔ کسی کے وہم و گمان تک میں نا ہوتا کے یہ کڈنیپنگ کس نے کی ہے۔۔۔ کوئی انکی دھول تک کو نا پا سکتا۔۔۔ لیکن ہاں گرلز کالج کے سامنے سے سب کے بیچ سے ایک لڑکی کو اغوا کرنے کا ہنگامہ اچھا پھیلتا۔۔۔ چہ مگوئیاں بھی ہوتی اور بات میڈیا تک بھی پہنچتی۔۔۔ لیکن یہ سب کور کرنا خان اور اسکی فیملی کے لئے مشکل نا تھا۔۔۔
دفعتاً کالج کی چھٹی ہوئی اور کچھ ہی دیر بعد لڑکیوں کے جھرمٹ میں ایمان باہر نکلتی دکھائی دی۔۔۔ ہنوز وہی معصومیت اور سفید یونیفارم پر سیاہ شال اوڑھے۔۔۔۔
اسے آتا دیکھ امجد وین سٹارٹ کرتا فارم میں آیا۔۔۔لیکن یہ کیا وہ لڑکی راستہ تبدیل کر گئ تھی۔۔۔
امجد نے کچھ فاصلے سے اسکا پیچھا کیا۔۔۔۔
وہ لڑکی ایک سنسان راستہ منتخب کرتی انکا کام مزید آسان کر گئ تھی۔۔۔ یقیناً اگر وہ اسے اس سنسان راستے سے اغوا کرتے تو یہ معاملہ خبروں کی زد میں آنے سے بچ جاتا۔۔۔۔
ایمان آدھے راستے سے واس پلٹتی تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی جب تیز رفتاری سے وین اسکی مخالف سمت سے اس جانب بڑھی۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھ پاتی ۔۔۔ وین کے ٹائر عین اسکے پاس آ کر چڑچڑائے۔۔۔
وہ بدک کر دو قدم پیچھے ہٹتی سہم کر اس جانب دیکھنے لگی۔۔۔ اس اچانک افتاد پر دل کپکپا کر رہ گیا تھا۔۔۔
دفعتا یکدم وین کے دروازے کھلے اور اندر سے سیاہ نقاب پوش باہر نکلے۔۔۔
ایمان کا دل خوف کے باعث لرزنے لگا۔۔۔
اسکے خدشات جھوٹے نا تھے۔۔۔ انہونی واقعی اسکے سر پر آن کھڑی تھی۔۔
کون تھے وہ لوگ اور اس سے کیا چاہتے تھے۔۔۔ یہ سب سوچنے کا وقت نا تھا۔۔۔ ابھی اسے خود کو بچانے کو ہاتھ پاوں مارنے تھے۔۔۔۔
وین سے نکلتے ہی نقاب پوش سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اسکی جانب بڑھے۔۔۔ جبکہ اسی رفتار سے دماغ کا استعمال کرتے ایمان واپسی کو پلٹی اور اندھا دھند بھاگ پڑی۔۔۔
امجد اس لڑکی کی اتنی پھرتیلی اور حاضر دماغی پر قائل ہوئے بنا نا رہ سکا۔۔۔
سبھی نقاب پوش اسکے پیچھے لپکے جبکہ امجد وہیں وین سٹارٹ کئے کھڑا تھا کے جانتا تھا وہ نازک سی دھان پان سی لڑکی ان ہٹے کٹے نوجوانوں کے سامنے زیادہ دیر تک ٹک نہیں پائے گی۔۔۔ مزید وہ بھاگ بھی اسی سنسان راستے کی طرف رہی تھی جہاں سے کسی مدد ملنے کے کوئی اثار نا تھے۔۔۔ اسی لئے وہ ریلیکس تھا۔۔۔
بھاگتے بھاگتے اسکا کالج بیگ وہیں زمین بوس ہوا ۔۔۔ چادر لڑھک گئ جسکا سرا اسنے مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔۔۔ اپنے پیچھے ابھرتے قدموں کی دھمک سن اسکا دل خوف سے بند ہونے لگا ۔۔۔۔ٹانگیں تھر تھر کانپتی ساتھ دینے سے انکاری تھیں۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ مزید قوت سے بھاگتی۔۔۔ جلادی ہاتھوں کے شکنجوں میں جھکڑی جاتی بے بس ہوئی۔۔۔ ساتھ ہی انہوں نے کلوروفارم لگا رومال اسکے منہ پر رکھا۔۔۔ اسنے بن جل مچھلی کی مانند انکی گرفت میں پھڑپھڑاتے اس رومال کو سونگھنے سے انکار کرنا چاہا ۔۔۔ مگر کب تک۔۔۔ جلد ہی نشہ سانس کے ذریعے حواسوں پر چھانے لگا اور وہ وہیں ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتے ڈھ گئ۔۔۔۔
دور سے وین سٹارٹ کئے کھڑے امجد نے چڑیا کو بے بس ہو کر پسپائی اختیارکرتے دیکھ جھٹ سے خان کو ٹاسک مکمل ہونے کا میسج سینڈ کیا۔۔۔ اب اسے جلد از جلد اس چڑئا کو فارم ہاوس خان کی خدمت میں پیش کرنا تھا۔۔۔۔
******
ڈئیر ریڈرز۔۔۔ ایپی پڑھ کر فیڈ بیک ڈراپ کئے بنا ہرگز نا جائیں۔۔۔ ایک تکا تو چھوڑ ہی جائیں کے آگے کیا ہونے والا ہے۔۔۔ 

No comments

Powered by Blogger.
4