Rah_e_haq novel 2nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 2nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
دوسری قسط۔۔۔
وہ سفید کرتا شلوار میں ملبوس سبز واسکٹ پہنے پیلی چنری گلے میں ڈالے بال جیل سے سیٹ کئے بہت دلکش انداز میں اینٹرس کی جانب بڑھا۔۔۔ ارد گرد کھلے سے لان میں رنگ برنگی فینسی لائٹس سے کی گئ ڈیکوریشن آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔۔۔ مہندی کی مناسبت سے تھیم سیٹ کی گئ تھی۔۔۔ تیز آواز میں میوزک چل رہا تھا۔۔۔کئ کیمرا مینز کیمرا تھامے الڑٹ کھڑے تھے۔۔۔ رنگ برنگنے آنچل ادھر ادھر لہراتے دکھائی دے رہے تھے۔۔وہ ایلیٹ کلاس کا فنگشن تھا جہاں آنچل بھی مہندی کی تقریب کے لحاظ سے فیشن کے طور پر سیٹ کئے گئے تھے۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں پلان کے مطابق پروشہ کی پالکی آ کر انٹرس پر رکی تو شامیر مسکراتا ہوا اس جانب بڑھا جہاں چار ورکرز نے پالکی کے چاروں کونے تھام رکھے تھے۔۔۔ اور اسے چاروں طرف سے موتیے کے پھولوں کی لڑیوں سے ڈھانپا گیا تھا۔۔۔
شامیر نے آگے بڑھتے ان پھولوں کی لڑیوں کو ہاتھ سے ہٹایا تو اندر سے سبز کھسے میں مقید دودھیا پاوں باہر نکلا۔۔۔
ہر طرف سے ہوٹنگ اور تالیوں کا شور بھرپا ہونے لگا ۔۔۔ دفعتاً اندر سے سی گرین اور سلور کلر کا لہنگا کرتی زیب تن کئے ماتھے پر سلور ماتھا پٹی لگائے جس میں سبز سٹون تھے پروشہ باہر نکلی۔۔۔ ٹاپ بیوٹیشن کے ہاتھوں کئے گئے ماہرانہ میک آپ سے اسکے چہرے کا ایک ایک فیچر نمایاں ہو رہا تھا۔۔۔ کانوں میں پھولوں کے آویزیں تھے جبکہ بالوں کا خوب صوروت ہیئر سٹائل بنانے کے بعد انہیں کرل کر کے ایک شانے پر ڈالا گیا تھا جبکہ اسی سٹائل میں موتیے کی لڑیاں پرو کر انہیں دوسرے شانے پر ڈالا گیا تھا۔۔۔جبکہ آنچل سر پر ٹکا کر اسکے دونوں پلوں شانوں کے پیچھے ہی سیٹ کئے گئے تھے۔۔۔ وہ خوبصورت تھی اور آج قہر ڈھا رہی تھی۔۔۔
شامیر نے اسے مسکرا کر دیکھتے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔ وہ اپنا نازک ہاتھ شامیر کے ہاتھ میں دئیے سہج سہج کر قدم اٹھاتی سٹیج کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔
ان سے چند فٹ کی دوری پر فوٹو گرافر کا جھمگھٹا لگا تھا جو انکے ایک ایک لمحے کو کیمرے کی آنکھ میں مقید کر رہے تھے۔۔۔۔
جلد ہی رسم کے بعد ڈانس پرفارمینس کا سلسلہ شروع ہوا جس میں سب سے پہلی پرفارمینس شامیر کی پروشہ کے لئے تھی ۔۔۔ سٹیج پر فینسی لائٹس کے درمیان میوزک کی لے پر جب شامیر نے رخ سب کی جانب کرتے پروشہ کی جانب اشارہ کر کے سٹیپس لینا شروع کئے تو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ہوٹنگ کرنے والی بھی پروشہ ہی تھی۔۔۔۔
اس ایلیٹ فیملی کے سبھی بڑے بھی اوپن مائنڈڈ تھے جو بہت خوشی سی اس تقریب کو انجوائے کر رہے تھے۔۔۔
جسٹ لائیک آ پرفیکٹ فیملی۔۔۔
لیکن کہیں کچھ مسنگ تھا۔۔۔ کچھ گہرا مسنگ۔۔۔
ماں باپ کے ساتھ ساتھ شامیر کے تینوں بھائی دونوں بھابھیاں انکےبچے اور بہن بھی وہاں موجود تھی۔۔۔ سبھی دوست احباب پروشہ کی فیملی۔۔۔ سب۔۔ لیکن پھر بھی کچھ ادھورا تھا۔۔۔ ایک ادھورا پن جو اسکی ذات کا حصہ بنتا چلا جا رہا تھا۔۔۔
شامیر کی پرفارمینس کے بعد باری باری سب کی پرفارمینس تھیں۔۔۔ وہ خاموشی سے سٹیج سے اتر آیا۔۔۔
اندر کچھ خالی خالی سا تھا۔۔۔ یہاں سب تھا مگر سکون کہاں تھا۔۔۔ وہ ہر چیز سے بے پرواہ اندرونی عمارت کے ہال سے گزرتا بالائی منزل کی چھٹ پر آ گیا۔۔۔
وہاں سے بھی نیچے کا سارا منظر اور وہاں کی رونقیں واضح نظر آ رہی تھیں۔۔۔ مگر دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا۔۔۔
اسکے سیل پر بار بار پروشہ کی فون کالز آنے لگی تھیں۔۔۔ شاید وہ اسے ادھر نا پا کر اسے ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔ اسے بلا رہی تھی۔۔۔ اسکے ڈیڈ کے سب سے بہترین دوست کی نخریلی بیٹی۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا اور انجام کی پرواہ کئے بنا فون سائیلنٹ پر لگا دیا ۔۔۔ یقیناً اسکی اس حرکت کے بعد مہندی کے روز ہی بابا کے ہاتھوں اسکی ایک کلاس پکی تھی۔۔۔
مگر وہ بھی کیا کرتا اور کب تک۔۔۔ بغاوت وہ کر نہیں سکتا تھا۔۔۔ شاید ایک کمفرٹ زون کو ٹورنے کا حوصلہ اس میں نا تھا۔۔۔ یا پورے خاندان سے ٹکر لے کر تن تنہا ایک محاز پر کھڑا ہو کر لڑنے کی ہمت اس میں مفقود تھی۔۔۔ تبھی وہ ہمیشہ سے بیچ کا راستہ اختیار کر لیتا۔۔۔۔
ذہنی خلفشار سے تنگ آ کر اسنے کرتے کی جیب سے سگریٹ نکالتے سلگائی۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ سلگتی ہوئی سگریٹ لبوں سے لگاتا جب ہوا کے دوش پر ایک نسوانی آواز اسکے کانوں سے ٹکراتی اسے مزید بے چین کر گئ۔۔
پلیز آپ یہ سگریٹ مت پیا کریں۔۔۔ اسنے بڑے حق سے آگے بڑھتے شامیر کے لبوں میں دابا وہ شعلہ اپنی مومی انگلیوں سے نکالا تھا کے شامیر اسے گھور کر رہ گیا۔۔۔ یوں کے وہ جھٹ سے اپنی غزالی نگاہیں جھکا گئ۔۔۔ سوری۔۔۔ آپ میری موجودگی میں یہ نا پیا کریں۔۔۔ یا پھر۔۔۔۔ اسکی کوئل سی مدھر آواز کچھ مدہم پڑی۔۔۔ یا پھر مجھے بتا دیا کریں میں وہاں سے چلی جایا کروں گئ۔۔۔ اسکے دھویں سے میری طبیعت خراب ہونے لگتی ہے۔۔۔۔
شامیر نے کرب سے آنکھیں میچتے ہاتھ میں تھاما شعلہ دور ہوا میں اچھالا۔۔۔
ڈیم اٹ۔۔۔۔ کہاں ہو تم۔۔۔ اسنے زور سے ہاتھ کی مٹھی ریلنگ پر ماری۔۔۔۔ کہیں نہیں ہو تم میری زندگی میں۔۔۔ مگر کیوں روم روم میں بسنے لگی ہو۔۔۔۔ اسنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں بالوں کو جھکڑا۔۔۔ سارا سٹائل تہس نہس ہوا تھا۔۔۔ مگر وہ سکون کا خواہاں تھا۔۔۔ جو کہیں نہیں تھا۔۔۔۔
خود پر سے اختیار کھوتے بلآخر تنگ آ کر اسنے بنا سوچے سمجھے رات کے اس پہر وہ نمبر ملا ڈالا تھا جسے خود سے کبھی نا ملانے کے وہ دن میں کئ کئ عہد کرتا تھا۔۔۔
دوسری طرف سے ابھرتی مدھر کوئل سی میٹھی مگر حیران کن آواز پر اسکے لبوں پر بڑی دلکش مسکراہٹ ابھری ۔۔۔ وہ سکون سے آنکھیں موندتا ریلنگ سے ٹیک لگا گیا۔۔۔۔ یہ لڑکی واقعی ساحرانہ طاقتوں کی مالکن تھی جو اس پر سحر پھونکتی تھی۔۔۔ جبکہ نیچے شامیر کی غیر موجودگی کے باعث ایک ہلچل مچ گئ تھی جس سے بے خبر وہ اوپر پرسکون سا کھڑا اس آواز کو سن رہا تھا۔۔۔ جسکے ساتھ ساتھ اسکا دل ڈھرکتا تھا
******
مام آج یہ کھانا کس نے بنایا ہے ۔۔۔۔ کنزل کچن سے پانی کا جگ لا کر ڈائینیگ ٹیبل پر رکھ رہی تھی جب وہ دونوں بھائی آگے پیچھے آ کر ڈائینیگ ٹیبل پر بیٹھیں۔۔۔ سب سے پہلے ڈونگے سے ڈھکن اتار کر پوچھنے والا زوہان ہی تھا۔۔۔ جبکہ اس کے کہنے پر کرسی پر بیٹھ چکے سبحان نے بھی کھانے پر غور کیا ۔۔۔
کنزل دانت پیستی اندر ہی اندر خفیف سی ہوئی۔۔۔ اسکی اولاد اسے تگنی کا ناچ نچواتی تھی۔۔۔۔
میں نے ۔۔۔ وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھتی ڈونگے سے سالن نکال کر اپنی پلیٹ میں ڈالنے لگی۔۔۔
جھوٹ۔۔۔۔ وہ پریقین انداز میں کہتا کرسی گھسیٹ کر ریلیکس ہو کر ماں کو دیکھنے لگا۔۔۔
ہاں ماں تمہاری جھوٹی جو ہے۔۔۔۔ کبھی سچ بولا کیا میں نے تم دونوں سے۔۔۔ اسنے ان دونوں کی جانب دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی البتہ روٹی کا پہلا نوالہ توڑتے منہ میں رکھا۔۔۔۔
مام یار یہ ایموشنل بلیک میلنگ کر کے غلط کو درست ثابت کرنے کی کوشیش نا کیا کریں آپ۔۔۔ جو غلط ہے وہ غلط ہے۔۔۔ زونی کی دو ٹوک آواز پر کنزل نے اسے گھورا ۔۔۔۔
اینڈ ویٹ۔۔۔ ماں کے ہاتھ میں تھامی روٹی دیکھ اسنے ہاٹ پاٹ کا دھکن اٹھاتے اندر سے گرم گرم روٹی کنارے سے تھام کر یوں نکال کر دیکھی جیسے اسکا معائنہ کر رہا ہو۔۔۔۔ روٹی بھی آپ نے نہیں بنائی۔۔۔ اسنے روٹی واپس وہیں رکھتے اسکا ڈھکن بند کیا۔۔۔
کنزل نے کوفت سے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔۔۔
خاموشی سے چپ چاپ کھانا کھاو زونی۔۔۔
وہ زرا روبدار آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
آپ بہت اچھے سے جانتی ہیں مام۔۔۔ کے میں کھانا صرف آپکے ہاتھ کا کھاتا ہوں۔۔۔۔ آپ نے آج لھر سے کھانے کے لئے نورین کی سروسز لی ہیں نا۔۔۔ آپ نے اسے گھر کے دوسرے کام کاج میں ہیلپ کے لئے رکھا ہے یا کوکنگ کے لئے۔۔۔
میں نہیں کھا سکتا اسکے ہاتھوں کا بنا کھانا۔۔ اسکے لہجے میں بیزاری تھی۔۔۔
جبکہ سبحان بھائی کی طرح جرح پر تو نا اترا تھا البتہ کھانے کو اسنے بھی نہیں چھوا تھا۔۔۔ وہ دونوں بھائی اسی کے ہاتھ سے بنا کھانا کھاتے تھے۔۔ اور یہ چیز کئ دفعہ اسکی جان کا آزار بن جاتی تھی۔۔۔
زونی۔۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی بیٹا ۔۔۔ کوکنگ کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ اس لئے نورین سے بول دیا۔۔۔ کیا ہے اس کھانے کو جو آپ دونوں کھا نہیں سکتے۔۔۔ وہ عاجز آتی گویا ہوئی۔۔۔
کیا ہوا آپکی طبیعت کو مام۔۔۔ آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔ وہ دونوں بیک وقت اسکی جانب لپکے۔۔۔ اگر اسکی اپنے بچوں میں جان تھی۔۔۔ تو بچے بھی اسکے دم سے جیتے تھے۔۔۔۔ اسی لئے تو وہ انہیں اپنی خرابی طبیعت کے بارے میں کچھ بتانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔
نہیں زیادہ کچھ نہیں بس تھوڑی سی تھکاوٹ ہو رہی تھی۔۔۔ کنزل نے لب کچلے۔۔۔
اوہ مام۔۔۔ ایسی کوئی بات تھی تو بتاتیں نا۔۔۔ ہم باہر سے آرڈر کر لیتے۔۔۔۔
زوہان کے کہنے پر کنزل نے اسے بے طرح گھورا۔۔۔ بس آگئ نا اصل بات منہ پر۔۔۔
بس یہیں آ کر تو تان توٹتی ہے تمہاری۔۔۔ جتنا جنک آپ لوگ کھاتے ہو نا وہ صحت کے لئے کتنا مضر ہے احساس ہے تمہیں اس بات کا۔۔۔ ابھی پچھلے ہفتے بیماری سے اٹھے ہو۔۔ ہوا کسی دن کھا لیا۔۔۔ آپ لوگوں نے تو روز کا ہی کام پکڑا ہوا ہے۔۔۔ اسکا جلالی موڈ آن ہو چکا تھا جو نہایت کم وبیش آن ہوتا تھا۔۔۔
مجھے بیچ میں مت گھسیٹیں مام۔۔ گھر میں جنک آتا ہے تو میں کھاتا ہوں ورنہ آپ جانتی ہیں کے میں اچار سے بھی روٹی کھا سکتا ہوں۔۔۔
سبحان سیز فائر کرتا کرسی سے اٹھ کر کچن کی جانب بڑھا۔۔۔
کنزل چٹخ کر رہ گئ کے جانتی تھی وہ اب کچن سے اچار کا ڈبہ لینے گیا ہے۔۔۔
اچار کھا سکتے ہو مگر یہ سالن نہیں۔۔۔ ابکی بار غصہ اپنے ہونہار اور فرمابردار سپوٹ پر اترا۔۔۔
جی۔۔۔ کیونکہ یہ اچار بھی آپ ہی کے ہاتھوں بنا ہے۔۔۔ وہ صاف لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔۔۔
سوری پر میں اچار نہیں کھا سکتا۔۔۔ پلیز میرے لئے پزا آرڈر کر دیں۔۔۔ زوہان کے کہنے پر کنزل نے خونخوار تیور لئے اسے دیکھا۔۔۔
پلیز مام۔۔۔
کنزل نے زوردار انداز میں پلیٹ پیچھے کھسکائی۔۔۔۔
Just go to hell both of you....
وہ پھنکار کر کہتی کرسی سے اتھتی کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
مام۔۔۔ مام۔۔۔ جبکہ زونی کی جان پر بنی اور وہ بوکھلائے سے انداز،میں پیچھے لپکا۔۔۔
چلیں جی ۔۔۔ ساتھ میں مجھے بھی گھسیٹ لیں اب۔۔۔ سبحان دونوں ہاتھ فضا میں اٹھا کر ۔۔جیسے کچھ بھی۔۔۔ کا اشارہ کرتا اچار سے روٹی کھانے لگا۔۔ جبکہ کنزل کے زوردار انداز میں کمرے کا دروازہ بند کرنے پر زونی بنا تاخیر کئے دروازہ وا کر کے اندر داخل ہوا۔۔۔
لائٹ بند کرو زونی۔۔۔ اسکے لائٹ جلانے پر وہ ٹرخی۔۔۔
ایم سوری مام۔۔۔
میرے کمرے سے جاو زونی۔۔۔ کنزل آنکھوں پر بازو دھرتی رخ موڑ گئ۔۔
مام سوری پلیز۔۔۔ وہ ڈھیلے سے انداز میں ماں کے پاس ہی پائنتی پر بیٹھ گیا۔۔۔
مام پلیز اٹھیے نا دیکھیں آپکے شہزادے کو بھوک لگی ہے۔۔ وہ ماں کو منانے کے ہر گر سے واقف تھا۔۔۔
کنزل کے دل کو کھینچ لگی۔۔۔ وہ بے وقوف تو دوپہر میں بھی کچھ کھا کر نہیں گیا تھا۔۔۔۔
ہاں تو باہر پڑا ہے کھانا کھا لو جا کر۔۔۔
وہ بے رخی سے بولی۔۔۔ مام پزا کھانا ہے پلیز۔۔۔
پلیز مام مان جائیے نا۔۔۔۔۔
وہ بنا کچھ بولے یونہی لیٹی رہی۔۔۔ مگر وہ بھی اپنے نام کا ایک ہی ڈھیٹ تھا۔۔۔ آدھا گھںٹہ گزرنے کے باوجود بھی وہ وہیں پائنتی پر بیٹھا ماں کی منتیں کر رہا تھا۔۔۔ تھک ہار کر کنزل کو ہار ماننی پڑی ۔۔۔ ٹھیک ہے جاو کھا لو پزا۔۔۔ انداز میں ابھی بھی ہلکی خفگی تھی۔۔۔
ایسے نہیں مام۔۔۔ میرے ساتھ باہر آئیں۔۔۔ خود آرڈر کریں اور میرے ساتھ کھائیں۔۔ پھر میں کھاوں گا۔۔۔ کنزل نے رخ پلٹتے اسے گھورا۔۔۔ وہ مسکیں سی صورت بنا گیا۔۔۔
اور جو اتنا کھانا بنا پڑا ہے وہ۔۔۔ کیا وہ رزق کی ناقدری نہیں۔۔۔ وہ تڑخ کر کہتی اٹھ بیٹھی۔۔۔۔ ڈھیلی سی پونی میں مقید بال شانے پر پھسل آئے تھے۔۔۔ غصے میں وہ اور بھی پیاری لگنے لگتی۔۔۔ زونی نے ماں کا غصیلہ چہرا دیکھا۔۔۔ وہ پرنٹڈ لانگ شرٹ اور چوری دار پاجامے میں ملبوس تھی۔۔۔
وہ صبح آپ نورین کو دے دینا۔۔۔ وہ اور اس کے بچے کھا لیں گے۔۔۔ اسکے پاس جیسے ہر بات کا جواب موجود تھا۔۔۔ وہ بعض اوقات اپنی اولاد کی حاضر جوابی سے تنگ آ جاتی۔۔۔
ہاں اور تمہارے باپ کی فیکٹریاں چل رہی ہیں نا۔۔۔ پیسے تو پیر پر اگتے ہیں۔۔۔ ناجانے آج اسے کیوں اتنا غصہ آ رہا تھا۔۔۔
کوئی شک۔۔۔ اسنے مسکرا کر آئبرو اچکائی۔۔۔ ابھی ایک کال پر پورا میکڈونلڈ میرے نام ہو جائے گا۔۔۔ چیلنج۔۔۔ کرواں ابھی اپنے نام۔۔۔
غضب خدا کا لڑکے ۔۔۔ حان پزا آرڈر کرو اس کے لئے۔۔۔ وہ عاجز آتی وہیں سے سبحان کو آواز دینے لگی۔۔۔ پس طے ہوا وہ کبھی اپنی اولاد کے سامنے جیت نہیں سکتی تھی۔۔۔ وہ اسے اسی کے الفاظ کے گھیرے میں لے لیتی تھی۔۔۔
دفعتاً سبحان ہاتھ میں پزا باکس تھامے اندر داخل ہوا۔۔۔
لیجئے۔۔۔ میں نے تب ہی آردڑ کر دیا تھا جب یہ اپکے پیچھے آیا تھا کے میں جانتا تھا اس ملاقات کا اختتام کہاں ہونا ہے۔۔۔ حان نے پزا باکس بیڈ کے درمیان میں رکھا اور خود بھی زوہان کیساتھ بیٹھ گیا۔۔۔۔
جبکہ کنزل سر جھٹکتی پزے کا سلائس اٹھا کر کیچپ لگاتی کھانے لگی کے جانتی تھی جب تک وہ نہیں کھانا شروع کرے گی وہ دونوں بھی اسے ہاتھ نہیں لگائیں گے۔۔۔
******
اللہ ۔۔۔ کتنا لیٹ ہوگئ۔۔۔ ایک تو زخرف کی بچی بھی بھائی کے نادر خیالات کے باعث اسقدر ناراض ہے کے فون تک نہیں اٹھا رہی ایک دفعہ کالج پہنچ جاوں جاتے ہی اسے منا لوں لگی۔۔۔ بھیا کی طرف سے ایکسکیوز کر لوں گی۔۔۔ سفید کالج یونیفارم میں ملبوس ایمان سیاہ چادر خود پر اوڑھے کالج بیگ شانے پر ڈالے تیز تیز قدم اٹھاتی کالج کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔ سرخ و سپید معصوم چہرا سیاہ چادر کے ہالے میں دمک رہا تھا۔۔۔ آج بھیا کام کے سلسلے میں صبح جلدی نکل گئے تھے جسکی وجہ سے اسے آج پیدل کالج آنا پڑ رہا تھا ورنہ یہ ذمہ داری بھیا کی تھی۔۔۔ اگر کبھی وہ مصروف ہوتے تو وہ زخرف کے ساتھ پیدل آجاتی۔۔۔ کے کالج گھر سے زیادہ دور بھی نا تھا۔۔۔
اللہ۔۔۔۔۔
سامنے روڈ پر شدید ٹریفک دیکھ وہ ٹھٹھک کر رکی۔۔۔ روڈ کراس کر کے دوسری جانب کالج تھا۔۔۔۔
وہ جھنجھلا اٹھی وہ جتنا جلدی پہنچنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔ اتنا ہی لیٹ ہو رہی تھی۔۔۔
*****
ریڈ سگنل آن ہونے پر اپنی رفتار سے جاتی سیاہ مرسڈی یکدم رکی۔۔۔ جہاں پیسنجر سیٹ پر بیٹھے خان نے موبائل سے نگاہیں اٹھاتے کوفت سے ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔ وہ براون جینز پر لائٹ براوں جسم سے چپکی ہاف سلیو ۔۔وی گلے کی شرٹ زیب تن کئے ہوئے تھا جس سے اسکے سینے اور بازوں کے کٹس نمایاں ہوتے اسے مزید پرکشش بن رہے تھے۔۔۔ بازو میں برینڈڈ گھڑی پاوں میں برینڈڈ شوز اور ہاتھ میں پکڑا لیٹسٹ ماڈل کا آئی فون۔۔۔ وہ شخص چلتا پھرتا برینڈ تھا۔۔۔جسکی امارت اسکی ایک ایک چیز سے ٹپکتی۔۔۔ اسنے آنکھوں سے گلاسز اتارتے کوفت سے یہاں وہاں دیکھا۔۔۔ آج صبح ہی صبح اسکی یونی میں کلاس تھی جسکے لئے اسے اتنی جلدی آنا پڑا۔۔۔ اب ارد گرد ٹریفک کے ساتھ ساتھ کالج کی لڑکیوں کا رش اسے مزید کوفت میں مبتلا کر رہا تھا جبکہ یکدم اسکی نگاہ ایک جھنجھلائے سے وجود پر گئ اور گویا وہیں ٹھٹھک کر رک گئی۔۔۔
وہ سفید کالج کے یونیفام میں ملبوس سیاہ چادر اوڑھے ہوئے تھی اور سیاہ چادر کے ہالے میں اسکا معصوم چہرا چودھویں کے چاند کی مانند دمک رہا تھا۔۔۔ شہد رنگ آنکھیں اتنی دور سے بھی اسے کسی مقناطیسی قوت کی مانند اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔۔۔
امجد یہ لڑکی کون ہے۔۔۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے امجد نے چونک کر اپنے چھوٹے صاحب کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا جہاں کالج یونیفارم میں ملبوس ایک لڑکی ریڈ سگنل آن دیکھ تیزی سے گاڑیوں کے بیچ سے راستہ بناتی کالج کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔
انکی گاڑی کے قریب سے گزرتے خان نے بڑی فرصت سے اسکا حسین مکھڑا کیمرے کی آنکھ میں مقید کیا ۔۔۔ موبائل کی سکرین پر اسکا جھنجھلایا ہوا سائیڈ پاز تھا جسے وہ اب زوم کئے قریب سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسکی دائیں گال پر تل کا نشان تھا جسے دیکھتے ہی اسے چھونے کو وہ مچل اٹھا۔۔۔
امجد مجھے یہ لڑکی چاہیے۔۔۔ سگنل کھلنے پر گاڑی آگے بڑھ چکی تھی جبکہ خان شاید کھویا کھویا سا وہیں رہ گیا تھا۔۔۔
امجد زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے چھوٹے صاحب کی ایسی فرمائش پر چونک چونک گیا۔۔۔
صاحب معاملہ دل کا ہے کیا۔۔۔ اگر ہاں تو زرا سوچ سمجھ لیں۔۔۔ بڑے صاحب آپکا رشتہ طے کر چکے ہیں۔۔۔ انکے فیصلے کے خلاف گئے تو قیامت آ جائے گی۔۔۔ امجد کے لہجے میں خدشے پنپ رہے تھے۔۔۔ بلاشبہ خان بڑے صاحب کی سب سے لاڈلی اولاد تھا مگر انہیں اپنی زبان اور اسکا پاس سب سے عزیز تھا۔۔۔
وھاٹ ربش امجد۔۔۔۔۔۔
مجھے کل تک یہ لڑکی اپنے فارم ہاوس پر چاہیے۔۔۔ اس لڑکی کے بارے میں ساری معلومات نکلوا کر اسے ہر حال میں کل تک فارم ہاوس پر لاو۔۔۔ اگر پیسے سے مان گئ تو ٹھیک۔۔۔ ورنہ اگر معاملہ زیادہ بڑھا تو بھی حل کر لیں گے۔۔۔ اسنے ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔
چڑھتی جوانی۔۔۔ پیسہ۔۔۔ پاور۔۔۔۔پشت پناہی اور گناہ کرنے کی طاقت۔۔ سب کچھ موجود ہونے کے بعد پھر بھلا وہ کیا چیز تھی جو اسے گناہ سے روکتی۔۔۔۔اور بلاشبہ گناہ میں بہت لزت ہے۔۔۔ اس وقت تو محض ایک ہی خواہش تھی جو سر چڑھ کر بول رہی تھی اس لڑکی کے حسن کو خراج پیش کرنا۔۔۔ پھر بھلا کون تھا جو اسے اسکے ارادوں سے باز رکھ پاتا۔۔۔
جی صاحب بہتر۔۔۔ امجد کے تابعداری سے کہنے پر وہ آسودگی سے مسکرا دیا۔۔۔
*****

No comments