Header Ads

Rah_e_haq novel 1st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Rah_e_haq novel  1st Episode   by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 

Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "راہِ حق"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

پہلی قسط۔۔
وہ ایک پر آسائش کمرا تھا جہاں نیم تاریکی کا رج تھا۔۔۔ قد آدم دیوار گیر کھڑی سے مخملی پردے ہٹائے گئے تھے اور کھلی کھڑی سے چاند کی چاندی چھن چھن کر اندر آتی کمرے میں موجود گہرے اندھیرے کو مکمل طور پر نگلنے میں ناکام  تھی۔۔۔  چاند کی چاندنی کیساتھ ساتھ چند مضنوعی روشنیاں بھی کسی حد تک اسی راستے سے اندر داخل ہو رہی تھیں۔۔۔ وہ غالباً نیچے لان میں موجود اعلی قسم کی ارینجمنٹس کی بتیاں تھیں۔۔۔
ان محدود رشنیوں کی موجودگی میں جہازی سائز بیڈ پر بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے نیم دراز ایک ہیولہ سا دکھائی دیتا تھا۔۔۔۔
وہ ہیولہ خاصا مضطرب و بے چین تھا۔۔۔ جیسے اضطراب اور بے چینی انگ انگ میں سرائیت کرتی اسے بے حد مضطرب کر رہی تھی۔۔۔ کیا جو سب اسکی زندگی میں ہو رہا تھا وہ ٹھیک تھا۔۔۔ یا وہ کسی غلطی کا مرتکب ہو رہا تھا۔۔۔ غلطی یا گناہ۔۔۔اسنے بے طرح ماتھا مسلا۔۔۔
کتنی بہترین تھی نا زندگی اسکی ۔۔۔۔ ہر سوچ ۔۔۔۔ہر غم ۔۔۔۔ہر فکر سے آزاد۔۔ بے فکری بھری۔۔۔ جو دل چاہا کر لیا۔۔۔ جہاں دل چاہا چل دیئے۔۔۔
مگر پھر کیا ہوا۔۔۔ پھر وہ آگئ اسکی زندگی میں۔۔۔ کسی بن بلائے مہمان کی طرح اور پھر اس سے جونک کی مانند چمٹ ہی گئ۔۔۔ ایسے کے اس وجود سے خود کو چھڑاونے کی ہر ہر تدبیر رائیگاں گئ اسکی۔۔۔ وہ کسی صورت اس سے دامن نا چھڑوا پایا۔۔۔ بلکہ وہ تو اسے موازنوں کی دلدل میں لا پٹخ چکی تھی۔۔۔ گناہ ثواب۔۔۔ صحیح غلط۔۔۔ اچھائی برائی۔۔۔
شامیر نے ہاتھ کی مٹھی بے طرح ماتھے پر ماری۔۔۔
کہاں تھا انکی کلاس میں ان چیزوں کا تصور۔۔۔ شامیر  ایک رئیس باپ کی لاڈلی اولاد۔۔۔ وہ جو کرتا وہ ٹھیک تھا۔۔۔جس طرح سے کرتا وہ ٹھیک ہوتا۔۔۔ جس راستے کا انتخاب کرتا وہی درست ہوتا۔۔۔ پھر وہ کیسے اسے اتنی بے چینوں کی نظر کر گئ۔۔۔ کے آج اپنی زندگی کی اتنے اہم دن پر وہ بے چین تھا۔۔۔ اسقدر بے چین۔۔۔ اور سکون کہاں تھا۔۔۔ ناجانے کیوں سکون اسی کے پاس جا کر نصیب ہوتا۔۔۔ ورنہ شاید وہ بھی روٹھ گیا تھا۔۔۔۔ اسنے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔ وہ بندی سحر کرنا جانتی تھی اور یقیناً اس پر سحر پھونکتی تھی جو وہ جھکڑا جاتا تھا۔۔۔
ٹچ ٹچ ٹچ۔۔۔ دفعتاً کمرے کی ساری بتیاں روشن ہوئیں اور کمرا روشنیوں میں نہا گیا۔۔۔
اندھیرے کے بعد روشنیوں سے متعارف ہونے پر یکدم اسکی آنکھیں چندھیا گئیں۔۔
اسنے بعجلت اپنی کسرتی بازو آنکھوں پر رکھتے روشنی کا راستہ روکا۔۔۔
وہ اونچا لمبا مضبوط ڈیل ڈول کا حامل ایک بھرپور مرد تھا۔۔۔ شہابی رنگت ستواں ناک ہلکی بڑھی بھوری شیو۔۔۔ اور ماتھے پر بکھرے بھورے بال ۔۔۔
شامیر یہ کیا یار۔۔۔ ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئے۔۔۔ دفعتاً عدنان بھیا اندر داخل ہوئے اور اسے ہنوز ویسے ہی بیٹھے دیکھ سر پیٹ گئے۔۔۔ یار مہندی ہے آج تمہاری۔۔۔ ساری ارینجمنٹس مکمل ہو چکی ہیں۔۔ ہر کوئی تیار ہو کر نیچے پہنچ چکا ہے ڈرائیور پروشہ کو پک کرنے سیلون جا چکا ہے اور یہاں دلہے میاں ہے کے ابھی تک تیار ہی نہیں ہوئے۔۔۔۔
بھیا کی باتوں پر وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔ بس طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی بھیا۔۔۔ ابھی تیار ہوتا ہوں۔۔۔
وہ بے دلی سے بستر سے اترتا جوتا اڑسنے لگا۔۔۔
شامیر تمہاری پروشا سے لو میرج ہے۔۔۔ لیکن تمہیں دیکھ کر لگتا ہے جیسے یہاں زبردستی کا معاملہ ہو۔۔۔ بھیا نے گہری سانس خارج کی۔۔۔ واش روم کی جانب جاتا جاتا شامیر ٹھٹھکا۔۔۔ دل سے ایک ہوک سی اٹھی۔۔۔ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا تھا بھیا۔۔۔
اوہ کم آن شامیر۔۔۔ اس سال تیس کے ہو جاو گئے۔۔۔ پچھلے تین سالوں سے تم یہ شادی ڈیلے کر رہے ہو بنا کسی جواز کے۔۔۔ کوئی بات ہے تو مجھ سے شئیر کرو۔۔۔ میں محض تمہارا بڑا بھائی ہی نہیں دوست بھی ہوں۔۔ کوئی پریشانی ہے کیا۔۔۔ انکی آواز میں نرمی  کیساتھ ساتھ تشویش بھی اتری۔۔۔
دو دنیا جہاں سے خوبصورت چہروں کی شبیہ شامیر کی آنکھوں میں اتری ۔۔۔ مگر وہ جلد سر جھٹکتا مسکرا دیا۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں بھیا۔۔۔ آپ چلیں میں بس دس منٹوں میں آیا۔۔۔ وہ واش میں داخل ہوتا گویا ہوا۔۔۔
جلدی آنا یار۔۔۔ پروشا نے کہا ہے کے اسکی گاڑی آنے سے پہلے تم گیٹ پر ہو۔۔۔ انٹری اسنے تمہارے ساتھ دینی ہے۔۔  بھیا باہر جاتے جاتے اونچی آواز میں بولے۔۔۔ آپ چلیں میں بس آیا۔۔۔ اسنے واش روم سے ہی آواز دی۔۔۔
******
مام میری ٹائی نہیں مل رہی کہاں ہے۔۔۔
کچن میں کھڑی پین میں انڈا ڈالتی کنزل اس اونچی آواز پر اچھلی۔۔۔
حد ہے زونی۔۔۔ چھوٹے بچے ہو جو ایک ایک چیز کے لئے ماں کو آوزیں دیتے ہو۔۔۔ تمہارے  یونیفارم کے ساتھ ہی رکھی تھی۔۔۔
کنزل نے جھنجھلاتے ہوئے پڑاتے کے نیچے آنچ ہلکی کرتے دیوار گیر کلاک کی جانب دیکھا ۔۔۔ اور بھاگ کر جوسر میں کٹے ہوئے آم ڈالتے دودھ ڈالا۔۔۔ صبح کا وقت خاصا ہربونگ لئے ہوتا تھا۔۔۔ جب ہر چیز بعجلت کرنے کے چکروں میں کنزل خاصا بوکھلا جاتی اور ان دونوں کے گھر سے نکلنے کے بعد یوں محسوس ہوتا جیسے ایک طوفان تھم چکا ہو۔۔۔
مام نہیں مل رہی تائی یار کدھر ہے۔۔۔ جوسر  کے یکدم چلنے کی آواز میں زوہان کی جھنجھلائی سی آواز کہیں  دب سی گئ۔۔۔
میرا ناشتہ تیار ہے کیا مام۔۔۔ اگر نہیں تو اٹس اوکے میں باہر سے کچھ کھا لوں گا۔۔۔۔
دفعتاً کالج جانے کے لئے مکمل تیار سبحان کالج بیگ کندھَے سے لٹکائے کچن کے دروازے میں نمودار ہوا۔۔۔
نو نو نو۔۔۔۔ حاں ۔۔۔ آل از ریڈی۔۔۔
تم بس ٹیبل پر بیٹھو۔۔۔ کنزل نے بھاگم بھاگ جوسر بند کر کے پڑاٹھا اٹھا کر ٹرے میں رکھا اور ساتھ ہی جوش کھاتی چائے کے نیچے آگ بند کرتے فرائی ہوا انڈا پلیٹ میں نکالتے ٹرے سبحان کے حوالے کی۔۔۔ تم یہ لے کر چلو میں  چائے لاتی ہوں۔۔۔
سبحان کے پلیٹ ٹھامتے ہی وہ چائے کی جانب پلٹی اور چائے کپ میں چھاننے لگی۔۔۔
مام ٹائی۔۔۔۔ زوہاں کی جھنجھلائی آواز پھر سے ابھری۔۔
حان بیٹا دیکھنا اسکی ٹائی۔۔۔ وہیں پڑی تھی۔۔۔ وہ بریڈ کے سلائس ٹوٹسر میں ڈالتی وہیں سے بولی۔۔۔۔  اور چائے ڈائینیگ ٹیبل تک پہنچاتی انکی واٹر بوڑلز میں شیک بھرنے لگی۔۔۔
جب تک ٹوسٹ سینکے وہ واٹر بوٹلز بھر کر ٹوسٹ پلیٹ میں نکالتی انڈا فرائی کر کے ڈائینگ ٹیبل تک پہنچی۔۔۔ تب تک زوہان بھی سکول کے لئے مکمل تیار وہیں آگیا۔۔۔ 
شکر کے اسکی ٹائی مل گی۔۔۔ مام نے ٹوسٹ اور فرائی انڈا اسکے سامنے رکھا۔۔۔
وہیں تھی مام بس جان بوجھ کر ڈرامے کر رہا تھا۔۔۔ سبحان نے سر جھٹکتے اپنی جگہ سمبھالی۔۔۔
ڈرامے کی کیا بات۔۔۔ مجھ نہیں دکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔
اٹینشن سیکر۔۔۔ محض مام کی اٹینشن چاہتے تھے تم۔۔۔
یوووو۔۔۔ مام آپ دیکھ لیں اب۔۔۔
زوہان۔۔۔ سبحان انف۔۔۔ کنزل کی سخت تنبیہی آواز پر جہاں سبحان خاموش ہوا وہیں زوہان اسے گھوری سے نوازتا دوبارہ سے کھانے میں مشغول ہوا۔۔۔۔
مام کل میرے کچھ دوست آئے تھے۔۔۔ ناشتہ کرتے یکدم یاد  آنے پر سبحان گویا ہوا۔۔۔
ہاں آئے تھے مگر تم اکیڈمی جا چکے تِھے۔۔۔ کنزل نے کچن سے واٹر بوتل لاتے ان دونوں کے پاس رکھیں۔۔۔
دروازہ آپ نے کھولا تھآ۔۔۔ 
ظاہر سی بات ہے حان۔۔۔ اس وقت میں ہی ہوتی ہوں گھر پر۔۔۔ نورین تو کام کر کے جا چکی ہوتی۔۔۔ کنزل کو اسکی بات کا مطلب نا سمجھ آیا۔۔۔
تبھی تو۔۔۔ وہ کہہ رہے تھے ہم تمہارے گھر گئے تو دروازہ تمہاری آپی نے کھولا تھا۔۔۔ میں نے بولا نہیں مام ہونگی۔۔۔ کہتے نہیں وہ تمہاری مام نہیں آپی تھئ۔۔۔ وہ سر جھٹکتے مسکرا دیا۔۔۔
ایک مسکراہٹ کنزل کے ہونٹوں کو بھی چھو گئ۔۔۔ اسنے آنکھ بھر کر اپنے خوبرو بیٹوں کو دیکھا جنہوں نے یکدم ہی قد کاٹھ نکالا تھا وہ کہیں سے بھی سترہ سالہ یا پندرہ سالہ بچے نا لگتے تھے۔۔۔۔
اور نہیں تو کیا ممی۔۔۔ بندے کو تھوڑا سا ممی تو لگنا چاہیے نا۔۔۔ لوگ ہر بار ہی غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کے آپ ہماری مام نہیں بلکہ بہن ہیں۔۔۔ چھوٹی سی تو ممی ہے ہماری۔۔۔ زوہان کا پسندیدہ موضوع شروع ہو چکا تھا۔۔۔ وہ کنزل کے دراز قد ہونے کے باوجود اسے چھوٹی سی ممی کہتا ۔۔۔ کیونکہ بیٹوں کی دراز قد و قامت کے آگے وہ واقعی چھوٹی سی محسوس ہوتی۔۔۔ 
بس کر دو زونی ۔ پیپرز پر دھیان دو۔۔۔ کچھ ہی دنوں میں تمہارے میٹرک کے پیپرز ہیں۔۔۔ کنزل مسکرائی۔۔۔
فکر ناٹ مام۔۔۔۔ میری تیاری مکمل ہے۔۔۔
ان دونوں کے آگے پیچھے اٹھ کھڑے ہونے پر وہ بھی انکے ساتھ ہی اٹھتی آیت کرسی پڑھتی انکے ساتھ ساتھ کار پورچ تک آ رہی تھی۔۔۔ ان دونوں کے گیٹ سے بائکس نکالنے تک وہ تین دفعہ آیت الکرسی پڑھ کر ان پر پھونک چکی تھی۔۔۔ یہ بچے ہی تو اسکا کل سرمایا تھے اور وہ انکے معاملے میں زرا سی کوتاہی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
*****
خالہ ایمان کہاں ہے۔۔۔
 زخرف ہاتھ میں پزے کا ڈبہ تھامے چہکتی ہوئی بیرونی گیٹ عبور کر کے اندر داخل ہوئی تو خالہ کو صحن میں چارپائی پر بیٹھے سبزی بناتے پایا۔۔۔ جبکہ بھابھی صحن کے دوسرے کونے میں مشین لگا کر کپڑے دھو رہی تھیں۔۔۔
بیٹا وہ کمرے میں سو رہی ہے۔۔۔ طبیعت کچھ ٹھیک نہیں اسکی۔۔۔
کیا ہوا اسکی طبیعت کو۔۔ چلیں میں دیکھتی ہوں۔۔۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی گرل کا دروازہ کھول کر اندر بڑھی اسکا رخ ایمان کے کمرے کی جانب ہی تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ ایمان کے کمرے میں تھی۔۔۔ جہاں وہ گلابی رنگ کی قمیض شلوار  میں ملبوس آئینے کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی۔۔۔ غالباً ابھی ابھی سو کر اٹھی تھی۔۔۔
ملائی سی سپید رنگت۔۔۔ ستواں ناک۔۔۔ باریک گلاب کی پنکھریوں کی مانند لب اور سب میں نمایاں ہوتیں شہد رنگ آنکھیں۔۔۔ وہ ریشم سے بھورے بالوں کو پونی میں مقید کرتی ڈھیلی سی پونی بنا رہی تھی۔۔۔
ارے زخرف۔۔۔ یہ کیا ہے۔۔۔ شیشے میں ابھرتے اسکے عکس کو دیکھ کر وہ مسکراتی ہوئی پلٹی۔ ریشم سے بالوں کی پونی کمر پر لہرا گئ۔۔۔۔ وہ خوبصورتی و مٰعصومیت کا مرکب تھی۔۔۔
گیس واٹ۔۔۔ 
زخرف چہکتی ہوئی پزے کا ڈبہ بجاتی ایمان کے مزید قریب ہوئی۔۔۔
یوٹیوب کی پیمنٹ آگی تمہاری۔۔۔ شاید۔۔۔ ایمان دماغ پر زور دیتی سوچ کر گویا ہوئی۔۔ کے آج کل اسکا ایک یہ ہی کام اٹکا ہوا تھا۔۔۔ جسکے پیچھے وہ پڑی تھی۔۔۔
ایگزیکٹلی۔۔۔ اور اسی خوشی میں۔۔۔ اسنے گھوم کر پزے کا ڈبہ بستر پر رکھ کر اسے کھولا۔۔۔ تمہارا فیورٹ  فجیتا پزا۔۔۔ اسنے پزے کا سلائس اٹھا کر ایمان کے منہ میں ڈالا۔۔۔
کانگریجولیشنز یار۔۔۔ پزا کھاتے اسنے منہ صاف کیا۔۔۔ آنٹی کا کیا ری ایکشن ہے اور بھائی۔۔۔
سب بہت خوش ہیں ایمان۔۔۔ امی کو تو مجھ پر بہت فخر ہے کے انکی بیٹی گھر بیٹھے بیٹھے کمانے لگی۔۔۔ بنا گھر سے باہر نکلے۔۔۔ نا جاب کا جھنجھٹ نا باس کی چک چک۔۔۔ وہ پاوں جھلاتی خود بھی پزے سے انصاف کر رہی تھی۔۔۔
بس کیا خیال ہے اپنے ریڈرز کو سرپرائز ایپی دے رہی ہو اسی خوشی میں۔۔۔ ایمان نے اسکے پاس ہی چوکری لگا کر بیٹھتے پزے کا دوسرا پیس اٹھایا۔۔۔ 
افکورس ۔۔۔ کیوں نہیں۔۔۔ آر اینڈ جے سپیشل رومینٹک ایپی۔۔۔ زخرف نے پزے منہ میں ڈالتے آنکھ ماری تو ایمان کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔
یہ ہوئی نا بات۔۔۔ 
ویسے تو تم بہت ٹیلنٹڈ ہو۔۔۔ یقیناً فیوچر میں بڑا نام کمانے والی ہو۔۔۔ محض ایک سال میں ایف بی پر پچیس ہزار فالورز اور محض تین مہینوں میں ہی یوٹیوب کی پہلی پیمنٹ آگئ ہے تو تم اپنے فیوچر کے بارے میں سوچ سکتی ہو۔۔۔ یقینا مستقبل میں تم ایک بڑی رائٹر بنو گی۔۔۔  ایمان نے پزا ختم کر کے ہاتھ جھارتے سر پر پھیرے۔۔۔
جو یہ محترمہ لکھتی ہیں وہ اردو ادب کی توہین ہے۔۔۔ اسکی بیس پر انہیں مصنفہ کہنا اردو ادب کی اس بھی زیادہ بڑی توہین ہے۔۔۔
دروازے سے ابھرتی حامد کی آواز پر جہاں ایمان نے چونک کر بھائی کو دیکھا وہیں مسکرا کر تعریف وصولتی زخرف کے چہرے کی مسکراہٹ بھی یکدم پھیکی پڑی۔۔۔ یہ بے عزتی شدید تھی۔۔۔
ایکسیوز می۔۔۔ کہنا کیا چاہتے ہیں آپ۔۔۔
وہ یکدم آگ بگولہ ہوتے نوارد کے مقابل آئی جو رف سے ٹراوز شرٹ میں ملبوس کہیں باہر سے آ رہا تھا یا غالباً کہیں جا رہا تھا لیکن انکی باتوں سے مستفید ہوتا وہیں رک گیا۔۔۔
یہ ہی کہنا چاہتا ہوں کے جو تم لکھتی ہو وہ اردو ادب نہیں فحاشی کہلاتا ہے۔۔ زخرف کی آنکھوں میں اپنی سرد آنکھیں گارتا وہ سجیدہ و سرد انداز میں اسے لفظوں کا تھپڑ لگا چکا تھا۔۔۔ زخرف بلبلا اٹھی۔۔۔
جلتے ہیں آپ میری کامیابی سے۔۔۔ خود تو ڈگری مکمل کرنے کے باوجود  بھی ابھی تک جاب نا حاصل کر سکے۔۔۔ اور میں ڈگری مکمل کئے بنا ہی کمانے لگی تو۔۔۔
محترمہ۔۔۔ جلا بھی اس چیز میں جاتا ہے جس میں کچھ دم ہو۔۔۔ تم میں ہے کیا بھلا جس سے جلا جائے۔۔۔ اور حرام کی کمائی کمانا کبھی بھی مشکل نہیں رہا۔۔۔ پھر چاہے وہ ماڈلز اور ایکٹرس کی طرح سکرین پر اپنا آپ دکھا کر حاصل کی گئ ہو یا پھر سکرین پر اپنے گندے اور فحش خیالات کا اظہار کر کے لوگوں کا رحجان فحاشی کی جانب مبذول کروا کر حاصل کی گئ ہو۔۔۔۔  وہ شاید سامنے والے کو کوڑے لگا کر لہولہان کرنے کے فن سے آگاہ تھا تبھی پوری قوت سے گویا زخرف کو اسکے لفظوں کا کوڑا ہی لگا تھا جو وہ آپے سے باہر ہوتی اس پر جھپٹ پڑی۔۔۔
مجھے جج کرنے والے آپ ہوتے کون ہیں۔۔۔
ایمان بگڑتی صورتحال دیکھ پھٹی پھٹی آنکھوں سمیٹ ہڑبڑا کر آگے بڑھی۔۔۔
زخرف۔۔۔ 
بھیا۔۔۔ 
اسنے زخرف کو بازوں سے تھامتے پیچھے کرنا چاہا مگر وہ شاید کسی اور موڈ میں ہی تھی۔۔۔ 
میں ایک رائٹر ہوں۔۔۔ جو میرا دل چاہے میں وہ کروں گی۔۔۔ اگر اتنا ہی معیوب لکھتی ہوں تو کیوں بھیڑ لگی پڑی ہے میرے پیج اور چینل پر۔۔۔ لوگ کیوں بے صبری سے منتظر ہوتے ہیں اگلی قسط کے ۔۔۔۔
ناجانے اس میں اتنی طاقت کہاں سے آئی تھی کے ایمان کے دبوچنے کے باوجود وہ حامد کے گریبان کو جھٹکے دیتی بھوکی شیرنی کی مانند غرائی۔۔۔
کیونکہ۔۔۔۔
کیونکہ مکھیاں ہمیشہ گند پر ہی  بھنبھنایا کرتی ہیں۔۔۔ لال بھبھوکا چہرا لئے وہ اسکے ہاتھ بری طرح جھٹکتا غرایا۔۔۔۔ یوں کے ایمان کے تھامنے کے باوجود وہ کئ قدم پیچھے کو لڑھکی۔۔۔ گرفت اتنی سخت تھی کے زخرف کو اپنے بازو ٹوٹے محسوس ہوئے۔۔۔
وہ صدمے کی کیفیت میں لب بھینچتی پھٹی پھٹی آنکھوں سمیٹ اس ظالم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۰
تنفیس تیز تھا اور آنکھیں اس بے بسی پر سرعت سے بھیگنے لگی تھیں۔۔۔
رہ گئ بات ڈگری مکمل کرنے کی۔۔۔ تو محترمہ جس حساب سے تم ایک کلاس میں ٹکی ہو نا اگلے پانچ سال تک یہ ہی  کلاس کلئیر ہوجائے تو غنیمت جانو۔۔۔ کجا کے ڈگری کلئیر کرنا۔۔۔ زخرف کی جانب سے ملنے والا بے روزگاری کا تانہ اسکی مردانہ انا پر ایک تازیانہ تھا تبھی وہ جارحانہ انداز میں حساب بے باک کر گیا۔۔۔
وہ چاہ کر بھی کہہ نا پائی کے اسکے دو سال اسکی بیماری کے باعث مس ہپوئے تھے۔۔۔ کے جانتی تھی اگر اب کچھ بولتی تو اسنے رو دینا تھا۔۔۔
وہ ایمان کے ہاتھ جھٹکتی غصے سے کھولتی آنسو پیتی سرعت سے حامد کے قریب سے گزرتی باہر کو بھاگی۔۔
ایمان نے لب چباتے تاسف سے بھائی کو دیکھا۔۔۔
This is not fair Bhai....
 انف۔۔۔ از انف۔۔۔ ایمان۔۔۔ 
دوبارہ تم مجھے اس لڑکی کیساتھ نا دکھو۔۔۔ وہ کسی صورت تمہاری دوستی کے قابل نہیں۔۔۔ گھٹیا واحیات۔۔۔ وہ غصے سے کھولا۔۔۔ دماغ میں ابھی تک اسکی ویڈیوز کے فحش تھمب نیل گھوم رہے تھے جسے دیکھ اسکی ویڈیو پر مکھیوں کی مانند بیڑ لگتی تھی۔۔۔  وہ لفظوں کے فحش مناظر اسکا دماغ کھولا رہے تھے۔۔۔
بھائی وہ دوست ہے میری۔۔۔ بھائی کا غصہ دیکھ ایمان گھیگھیائی۔۔۔
اپنی عمر کی لڑکیوں سے دوستی کرو ایمان۔۔۔  وہ غرایا۔۔۔
اگر کئ سال تک فیل ہونے کے بعد وہ تمہارے ساتھ فرسٹ ائیر کی سٹودینٹ ہے تو اسکا مطلب قطعاً نہیں کے وہ تمہاری دوستی کے قابل ہے۔۔۔ اسکی ماں اور بھائیوں نے تو غالباً غیرت بیچ کھائی ہے جو دکھائی نہیں دے رہا کے انکے گھر کی بہن بیٹی کیا کرتی پھر رہی ہے۔۔۔ ایک ان میرڈ لڑکی کو یہ اخلاقیات سے عاری کام قطعاً ذیب نہیں دیتے جو کرتی وہ پھر رہی ہے۔۔ چبا چبا کر اپنے لفظوں پر زور دیتا وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
جبکہ ایمان اس وقت کو کوستی سر تھام کر بیٹھ گئ جب اسنے فخر سے گھر میں بتایا تھا کے اسکی دوست رائٹر ہے اور اسکی اتنی فین فالونگ ہے۔۔۔ نا وہ اس چیز کا ذکر گھر میں کرتی نا حامد اسکا پیج اور چینل چیک کرتا۔۔۔
اب اسے رہ رہ کر زخرف کا خیال آ رہا تھا جو روتے ہوئے یہاں سے گئ تھی۔۔۔
*****
جاری ہے۔۔۔۔

 

No comments

Powered by Blogger.
4