Roshan Sitara novel 116th last Episode part 1st by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 116th last Episode part 1st by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
116th last epi part 1
ماہرہ عجیب طرح کی کش مکش کا شکار روبورٹ کے ساتھ اپارٹمنٹ میں جا رہی تھی۔۔۔ اور پارکنگ سے اپارٹمنٹ تک جانا ایک الگ محاظ ثابت ہوا تھا۔۔۔ انکی پریس کانفرینس مکمل ہونے سے پہلے ہی جنگل میں آگ کی مانند پھیل چکی تھی اور فائز ٹھہرا ہر دلعزیز۔۔۔ سب کا چہیتا۔۔۔ اپارٹمنٹ تک پہنچتے بلنڈنگ کے کی لوگ روبورٹ کو فائز سمجھ کر اس سے ملنے اس تک آئے۔۔۔اس غیر متوقع صورتحال کے درپیش ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ماہرہ کا حلق خشک ہو رہا تھا جبکہ روبورٹ کو ایسی کوئی کمانڈ نہیں دی گئ تھی اس لئے وہ سب کو نظر انداز کرتا تیزی سے اپارٹمنٹ کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔ ماہرہ کا گھبراہٹ کے مارے برا حال تھا۔۔۔ کیونکہ وہاں امیج فائز کا ہی خراب ہو رہا تھا کے ہمیشہ عزت و احترام سے ملنے والا فائز آج یوں ایک محاز سر کر کے کیسے سب کو نظر اندز کئے آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔ شاید اس میں غرور آ گیا تھا۔۔۔ کے وہ بہت بڑا آدمی بن چکا ہے۔۔۔ ایک کامیاب تریں شخص۔۔ جتنے منہ اتنی باتیں ہونے لگی تھیں۔۔۔ پلان یوں بھی الٹ ہو سکتا تھا یا اسکا ایک یہ پہلو بھی نکل سکتا تھا یہ تو اسنے سوچا ہی نا تھا۔۔۔
وہ۔۔۔ وہ دراصل ابھی ہریس کانفرینس چل رہی ہے نا اس لئے ابھی فائز پر پریشر بہت ہے۔۔۔ کچھ ضروری کام کی وجہ سے وہ اپارٹمنٹ واپس آیا ہے۔۔۔ وقت رہتے وہ کام کرنا بے حد ضروری ہے اس لئے وہ بعجلت اندر چلا گیا۔۔۔ ورنہ فائز اور کسی کو نظر انداز کر جائے کیا بھلا ممکن ہے یہ۔۔۔ دونوں متضاد چیزیں ہیں۔۔ وہ ڈھرکتے دل کیساتھ مسکراتے ہوئے سب سے ہر بات کلئیر کر رہی تھی۔۔۔ چند بزرگوں کے سمجھ کر سر ہلانے پر وہ گہری سانس خارج کرتی اپارٹمنٹ کی جانب بڑھی۔۔۔
****
یہ اسکی خام خیالی تھی کے باہر سے جان بخشی ہونے پر بلا ٹلی۔۔۔ اصلی امتحان تو ابھی اندر منتظر تھا ۔۔۔ اسنے بعجلت اندر آ کر اپارٹمنٹ کا دروازہ بند کیا جب سامنے کا منظر دیکھ کر اسے اپنی آنکھوں کے سامنے زمین گول گول گھومتی محسوس ہوئی۔۔۔۔
فائز میرے بچے۔۔۔ میری جان تم زندہ ہو۔۔۔ بیٹا تم ابھی تک کہاں تھے۔۔۔ یوں بھی کوئی اپنوں کو ستاتا ہے۔۔۔ اگر تم پڑاجیکٹ بھی مکمل کر رہے تھے تو کم از کم مجھے تو اعتماد میں لیتے۔۔۔ کیا تمہیں لگتا ہے کے میں کبھی تمہارے فیصلے کے خلاف جاتا۔۔۔ ماموں جان اسکے سامنے کھڑے نم آنکھوں سے اسے دیکھتے بول رہے تھے۔۔۔
جبکہ ماہرہ کا دل سوکھے پتے کی مانند کپکپانے لگا تھا۔۔ وہ جانے انجانے میں ہی سہی پر باپ کے جذبات سے کھیل گئ تھی۔۔۔ اگلے الفاظ پر وہ آنکھیں کرب سے میچ گئ۔۔۔
میں معذرت خواہ ہوں کے آپ کسی غلط فہمی کا شکار ہیں۔۔۔ میں کوئی فائز علوی نہیں بلکہ روبو بوائے ہوں ایک روبورٹ ایک مشین۔۔۔۔ اسکی روبورٹک آواز سن کر ماموں جان جو اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھڑنے جا رہے تھے انکے ہاتھ بے یقینی سے نیچے گرے۔۔۔ وہ حیرت و تعجب سے اسے دیکھنے کے بعد ماہرہ کی جانب متوجہ ہوئے جو شرمندگی و خجالت سے لب چباتی سر جھکائے کھڑی تھی۔۔۔
مام اور اظہر بھی حیرت سے اپنی جگہ سے اٹھتے روبورٹ تک آئے۔۔۔
تم روبورٹ ہو۔۔۔ اظہر نے ششدر سے انداز میں اسے ٹٹول کر تسلی کرنی چاہی جبکہ اظہر صاحب سے ضبط کرنا محال تھا۔۔۔
کیا ہے یہ سب ماہرہ۔۔۔ بتاو مجھے کیا ہے یہ سب۔۔۔ وہ جارحانہ انداز میں ماہرہ کی جانب بڑھے اور جارحانہ اسکی بازو پکڑ کر زندگی میں پہلی مرتبہ اس سے اسقدر درشت لہجے میں مستفسر ہوئے۔۔۔
بابا۔۔۔۔ وہ بدلے میں چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
مائے گاڈ ماہرہ۔۔۔ وہ اسکی بازو چھوڑ کر بالوں پر ہاتھ پھیرتے خود کو کمپوز کرتے وہیں صوفے پر ڈھتے سر ہاتھوں میں تھام گئے۔۔۔
یہ روبو بوائے ہے تو فائز کہاں ہے ماہرہ۔۔۔ مظہر نرمی سے اس سے مستفسر ہوا۔۔جب وہ بابا کے سامنے دوزانو بیٹھ کر آنکھیں صاف کرتی نم لہجے میں انہیں ساری حقیقت سے آشنا کرواتی گئ جبکہ اسکی ساری تفصیل سن کر ماں کا دل چاہا کے وہ اپنا سر دیوار میں دے ماریں۔۔۔
ماہرہ کیا تمہیں کبھی زندگی میں عقل نہیں آئے گی۔۔۔ ماں اسکے سامنے بیٹھتیں پرتاسفانہ انداز میں بولیں۔۔۔۔ ماں باپ کی لاج کہیں نا رکھنا تم بچے۔۔۔ انکے لہجے میں درد تھا اذیت تھی وہ تڑپ تڑپ گئ۔۔۔
مذاق بنا رکھا ہے ہر چیز کو تم نے ماہرہ۔۔۔ مگر زندگی مذاق نہیں۔۔۔ کیوں ایک سیراب کے پیچھے بھاگتے ہوئے حماقتوں پر حماقتیں کر رہی ہو۔۔۔
تم بیٹی ہو ہماری ۔۔۔ ہم ماں باپ ہیں تمہارے۔۔۔ تمہاری فکر ہے ہمیں کیونکہ تم سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ہم اور تم اسی محبت کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہو۔۔۔ ماں باپ ہوتے ہوئے اگر ہماری یہ خواہش ہے کے ہم تمہارا گھر بستا دیکھنا چاہتے ہیں تو بتاو مجھے کہ اس میں کیا قباحت ہے۔۔۔
تم جانتی ہو تمہارے اس بلنڈر نے کتنی غلط فہمیاں پیدا کی ہیں۔۔۔ فائز علوی تمہارا سابقہ شوہر ہے۔۔۔ لفظ سابقہ پر اسے محسوس ہوا کسی نے اسکا دل بھرچھی سے زخمی کر ڈالا ہو وہ بلبلا کر رہ گئ مگر لب سئیے رکھے ۔۔
تمہارا رشتہ طے ہو چکا ہے چند روز بعد تمہاری شادی ہے ایسے میں تم یہ اناوئنس کرتی پھر رہی ہو کے تمہارا سابقہ شوہر زندہ ہے۔۔۔ تم جانتی ہو کے اس بے وقوفی کا انجام کیا نکلے گا۔۔۔
ماں اس وقت خود کو ازحد بے بس محسوس کر رہی تھیں۔۔۔
مجھے زاوی کا فون آیا تھا نہایت ڈسٹرب ہوا ہے وہ اس خبر سے۔۔۔ جب اسے پتہ چلے گا کے یہ سب جھوٹ تھا اور جھوٹ بھی تمہاری طرف سے تو تمہاری اس حرکت کو وہ کس زمرے میں لے گا۔۔۔ ماہرہ عقل نام کی کوئی چیز کیوں نہیں ہے تم میں۔۔۔
مام فائز زندہ ہے اور میں اسکا انتظار۔۔۔
بسسسسس۔۔۔۔ بس ماہرہ ۔۔ انف از انف۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ سسکتی ہوئی کوئی صفائی پیش کرتی بابا کی دو ٹوک اور حتمی آواز پر خوف سے چپ ہوئی۔۔۔۔ ایکدم چپ۔۔۔
بہت کر لی تم نے منمانیاں ماہرہ۔۔۔ اور بہت سن لیا ہم نے تمہیں۔۔ لیکن آج جو تم نے ہمارے جذباتوں کے ساتھ کھیلا نا ماہرہ۔۔۔ یہ تمہیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ بے ساختہ بابا کی آواز بھرا گئ۔۔۔ ماہرہ بے بسی سے لب بھینچ گئ۔۔۔
جو بھی ہے میں مزید تمہیں ایک سیراب کے پیچھے خوار ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا۔۔۔
فائز علوی میرے جگر کا ٹکرا تھا۔۔۔ تم دونوں سے زیادہ عزیز تھا وہ مجھے۔۔۔۔ بابا نے اسکے اور مظہر کی جناب اشارہ کیا۔۔۔
مگر اب وہ اس دنیا میں نہیں یہ حقیقت ہے اور تمہیں بھی اس حقیقت کو قبول کرتے آگے بڑھنا ہوگا۔۔۔ کیونکہ تبدیلی کائنات کا معمور ہے۔۔۔ ایک جگہ کھڑے رہنے سے تو صاف شفاف پانی کو بھی کائی لگ جاتی ہے۔۔۔
اس لئے میں تمہارا باپ ہونے کی حیثیت سے یہ فیصلہ کرتا ہوں کے کل یعنی کے جمعہ کے روز تمہارا نکاح زاویار سے ہوگا اور آپ بیگم۔۔۔۔ بلوائیں اسے۔۔۔ کہیں اسکے جو بھی ضروری کام ہے سب چھوڑ کر پہلی فرصت میں پاکستان واپس لوٹے۔۔۔ یہ نکاح کل ہی ہو گا۔۔۔
بابا اٹل لہجے اور حتمی انداز میں کہتے پشت پر ہاتھ باندھتے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔ ان کے چہرے پر چٹانوں کی سی سختی تھی جیسے اب کسی کی کوئی بات نا سننے والے ہوں۔۔۔
جبکہ ماہرہ کو اپنے دل کی ڈھرکن رکتی محسوس ہوئی۔۔۔ جیسے روح رفتہ رفتہ جسم سے سرک رہی ہو۔۔۔ اسے اپنا آپ بے دم ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ اسکی ساری طاقت ہی اسکا باپ تھا انکا یہ اٹل انداز اسے خوف سے کپکپانے پر مجبور کر رہا تھا۔۔۔
بابا میری بات۔۔۔
بسس ماہرہ۔۔۔ ایک لفظ اور نہیں۔۔۔ وہ ہاتھ اٹھا کر اسکی بات کاٹتے دروازے کی جانب بڑھے ۔۔۔ ماہرہ کے دل کو زور سے کھینچ لگی۔۔۔ وہ وہیں فرش پر بیٹھی تھی۔۔۔ باپ کا سخت اور کٹیلا لہجہ کہاں ہضم ہوا تھا اسے تبھی بنا سوچے سمجھے لپک کر انکی ٹانگوں سے لپٹتی گھٹنوں پر سر رکھے زاروقطار رو دی۔۔۔ ایسا نا کریں بابا۔۔۔ آپ یہ انداز اپنائیں گے تو آپکی ماہرہ مر جائے گئ۔۔۔ اسکا انداز وہی تھا جیسے وہ بچپن میں بابا کی ٹانگوں سے لپٹتی اپنی ہر فرمائش ضدی انداز میں منواتی تھی۔۔۔ اب وہ بڑی ہو چکی تھی مگر تھی تو وہی ماہرہ نا۔۔۔
اسکا انداز بابا کے ساتھ ساتھ ماں کا دل بھی دہلا گیا۔۔۔
یقین جانو میرا فیصلہ تمہارے حق میں غلط ہرگز نہیں ہو گا اور یہ بات وقت ثابت کر دے گا۔۔۔ مگر میں اپنی بیٹی کو مزید کوئی حماقت کرتے نہیں دیکھ سکتا۔۔۔
بابا نے نرمی سے اسے شانوں سے تھامتے اپنے روبرو کھڑا کیا۔۔۔
تھوڑا سا وقت دے دیں بابا۔۔۔ پلیز۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سمیت ملتجی ہوئی۔۔۔ ۔بابا نے آنکھوں کی نمی کو اندر دھکیلتے شدت سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
یہ نکاح کل ہی ہوگا۔۔۔
پلیز بابا۔۔۔ پلیز۔۔۔ بس ایک ہفتہ اگلے ہفتے کی پریس کانفرینس کے بعد جو آپ کہیں گے وہ ہوگا۔۔۔ بس ایک ہفتہ وہ انکا چہرا اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں تھامتی اس انداز میں گویا ہوئی کے بابا بے بس ہو کر رہ گئے۔۔۔
ماہرہ یہ آخری ضد ہے تمہاری۔۔۔
کانفرنس والے روز رات کو تمہاری مہندی ہے اور اگلے روز شادی۔۔۔ اور اس بار اگر تمہاری طرف سے مزید کوئی حماقت ہوئی یا تم نے دوبارہ اس رشتے سے انکار کیا تو بھول جانا کے میں تمہارا باپ ہوں۔۔۔ وہ اسکے انداز سے قائل ہوتے سختی سے کہتے اسکے ہاتھ چہرے سے ہٹا کر اپارٹمنٹ سے نکل گئے کے یہ سختی فلحال بے حد ضروری تھی ورنہ انکی بیٹی شاید زندگی میں کبھی بھی درست فیصلہ نا لے پاتی۔۔۔ ان سب کے وہاں سے جاتے ہی ماہرہ کٹے ہوئے شہتر کی مانند دھتی بلک بلک کر رو دی۔۔۔
کہاں ہو تم فائز علوی۔۔۔ کہاں ہو۔۔۔ کیوں میر اسقدر ضبط آزما رہے ہو۔۔ پلیز آجاو۔۔۔ آجاو نا۔۔۔
یا اللہ میرے فائز کو بھیج دے۔۔۔ بھیج دے نا اللہ۔۔۔ تیرے لئے کیا مشکل ہے۔۔۔۔ دیکھ میری بے بسی میرے مالک۔۔۔ تیری بندی مر رہی ہے۔۔۔ میرا دل بند ہو جائےَ گا میرے مالک میرے شوہر کو بھیج دے ۔۔۔ تجھے تیرے محبوب کا واسطہ اپنے محبوب کے صدقے میں میرے شوہر کو بھیج دے۔۔۔ میرے فائز کو بھیج دے میرے اللہ۔۔۔ تجھے تیری خدائی کا واسطہ اسے مجھ سے ملا دے۔۔۔ ننھے بچوں کی مانند ایڑیاں رگڑ رگڑ کر روتی اس رب کے حضور بلک بلک کر فریادیں کرتی وہ نجانے کس وقت ٹھںڈی میٹھی نیند کی آغوش میں اتر گئ وہ جان ہی نا سکی۔۔۔
*****
مائے گاڈ یار رزلٹس ان بلیو ایبل ہیں۔۔۔
واو اٹس گریٹ یار۔۔۔ امیزنگلی امیزنگ۔۔۔۔
اسے مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی مانند آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔ اسے اپنا سر بھاری بھاری سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ جب اسنے سر پر ہاتھ رکھتے بھاری ہوتے پیوٹوں کو کھولا ۔۔ وہ اپارٹمنٹ کے لاوئنج میں ہی موجود تھی جب آوازوں کا منبع تلاشتے اسنے اٹھ کر بیٹھنا چاہا ۔۔۔ وہ سب اپارٹمنٹ واپس آ چکے تھے اور ان سب کی آوازیں لیب سے آ رہی تھیں۔۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی خود کو گھسیٹتی وہیں آگئ۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو ماہرہ۔۔۔ دیکھو یار محض چند گھنٹوں میں ہی لانچنگ کے بعد سے ویب سائٹ کے وزیٹرز کی تعداد سینکڑوں یا ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھ کراس کر چکی ہے اور ایپ یوزرز بھی کتنی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔۔۔ ہمارا پراجیکٹ سپر ڈوپر کامیاب جارہا ہے۔۔۔ مرتسم اور وہاج کی خوشی دیدنی تھی جنکے سامنے بڑی سی سکرین پر اینالیٹکس کھلے تھے۔۔۔
اس پراجیکٹ کی لانچنگ کے بعد میرا فائز واپس آ جائے گا نا۔۔۔ یکدم اسکی بھرائی آواز میں پوچھنے پر سب چونک کر اسکی جانب پلٹے جب اسکے سرخ چہرے اور سوجھی آنکھوں کو دیکھ سب کو گویا سانپ سونگھ گیا۔۔۔
وہ سب ماہرہ کی تکلیف دل پر محسوس کر رہے تھے۔۔۔
انشااللہ۔۔۔ اللہ بہتریاں کرنے والا ہے۔۔۔ اس پر بھروسہ رکھو۔۔۔ مرتسم نے ہی جلد سمبھلتے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے چند حوصلہ افزا جملے کہے تھے۔۔۔ اور بعض اوقات انسان کو محض انہی حوصلہ افزا جملوں کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔
انشااللہ۔۔۔ وہ منہ ہی منہ بڑبڑاتی لیب سے نکل گئی جبکہ سب خاموش نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔۔۔
******
اور پھر دن رات اور رات دن میں بدلنے لگے۔۔۔ ہر گزرتے لمحے کیساتھ ماہرہ کے لبوں پر قفل لگتے جا رہے تھے۔۔۔ انتظار گویا لاحاصل میں بدلنے لگا تھا۔۔۔۔مگر اتنے ناموافق حالاتوں اور مخالف چلتی ہواوں کے دوران بھی دل گویا پر امید تھا۔۔۔ جیسے سمندر کی بہتی لہروں کے مخالف سے کوئی پوری طاقت سے ان لہروں کو چیرتا ہوا آئے گا اور اسکے قسمت کی کہانی کےپنے کو پلٹ دے گا۔۔۔
کیوں تھی دل کو یہ امید کے وہ آ جائے گا۔۔۔ کیوں تھا وہ اس لاحاصل کو حاصل کرنے کا منتِظر۔۔۔
اسکی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔۔۔ ماں ہر دوسرے دن اسے شاپنگ کے لئے گھسیٹ لاتیں۔۔۔ وہ تو گویا احتجاج کرنا تک بھول گئ تھی۔۔۔ گویا خود کو وقت کے ڈھارے پر چھوڑ چکی تھی۔۔۔ جہاں جس طرف اسے لیجایا جاتا چل پڑتی جو کرنے کو کہا جاتا کرنے لگتی ۔۔۔۔محض وہ منتظر نگاہیں تھی جو ابھی تک منتظر سی دروازے پر ٹکی تھین۔۔۔ جیسے ابھی وہ یہیں سے آ نکلے گا۔۔ اور باہیں وا کرتا اسے اپنے حصار میں چھپاتا ہر دکھ تکلیف اور اس بے رحم دنیا کے دکھوں سے کہیں دور لے جائے گا۔۔۔ جہاں وہ دونوں ہونگے اور انکا پیارا سا مائز۔۔۔ بس۔۔۔ اور زندگی کا ہر دکھ سکھ انہیں دیکھ کر رخ موڑ لے گا۔۔۔
یہ تصور اسنے کتنی مرتبہ کیا تھا گویا اب تو وہ تصور بھی مجسم حقیقت لگنے لگا تھا۔۔۔
مگر زندگی کی تخلی اسے کہاں اس تصور میں بھی جینے دیتی تھی۔۔۔۔ زندگی روز ایک نیا امتحان لینے کو آ کھڑی ہوتی۔۔۔ شادی کے قریب ہوتے دنوں کے ساتھ اب تو زاوی سے بھی سامنا ہونے لگا تھا۔۔۔ وہ کس ضبط کا اس وقت مظاہرہ کرتی تھی شاید کے وہ بیان کر پاتی۔۔۔
اب تو وہاج اور مرتسم بھی گم صم سے ہوگئے تھے۔۔۔ ایک دوسرے سے نگاہیں چراتے پھرتے کے شاید وہ ِبھی اس حقیقت پر یقین کر چکے تھے کے فائز واپس نہیں آسکتا۔۔۔
وہ روز روبو بوائے کو اپارٹمنٹ میں چلتے پھرتے کچن میں کام کرتے اسکے ساتھ یہاں وہاں بیٹھے اور مائز کے ساتھ کھیلتا دیکھتی تھی کاش کاش اسکی جگہ فائز لے لے۔۔۔ دل سے رہ رہ کر فریادیں نکلتیں۔۔۔ کے شاید کوئی فریاد۔۔۔ کسی وقت کی فریاد کسی وقت کی تڑپ قبولیت کا شرف پا جائے۔۔۔۔
صبح پریس کانفرینس تھی اور وہ مرتسم اور وہاج کی پریشانی محسوس کر سکتی تھی۔۔۔ وہ دونوں گھںٹوں سر جوڑے پریشانی سے ناجانے کیا کیا ڈسکس کرتے رہتے تھے ۔۔۔۔شاید اب انکی حقیقت ایکسپوز ہونے کا وقت آ گیا تھا صبح انہیں روبورٹ پریس میں شو کروانا تھا اور باقی وہ ساری کہانی کو کیسے کور کرتے کے فائز کہاں ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ حقیقی بات تھی کے انکی پریشانی سچی تھی۔۔۔ مگر اب تو گویا ماہرہ کی اس پراجیکٹ سے دلچسپی بھی صفر ہو گئ تھی۔۔۔ یہ پراجیکٹ اسکے لئے اہم تھا اسنے اس پر دن رات صرف کیا تھا۔۔۔بڑی سے بڑی انسویٹمنٹ کی تھی مگر محض فائز کے لئے۔۔۔ جب وہ نہیں تو اسے ان سب چیزوں سے بھی کوئی غرض نہیں۔۔۔ بھاڑ میں جائے سب۔۔۔
مرتسم اور وہاج صبح پریس کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں وہ اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی جب فائز نہیں تو وہ سوچ کر کرتی بھی کیا۔۔ ابھی اس پریس سے بڑے بڑے امتحان باقی تھے اسکی زندگی میں۔۔۔ کل اسکی مہندی تھی اسے کسی اور کے نام پر سجنا تھا۔۔۔ کیا یہ روگ کم تھا۔۔۔ مگر اب اندر خاموشی تھی۔۔۔ وہ خود کو حالات کے ڈھارے پر چھوڑ چکی تھی محض یہ سوچ کر کے ایک پلان انسان بناتا ہے اور پھر ایک پلان اسکا اللہ بناتا ہے۔۔۔ اور بے شک اللہ کا پلان ہمیشہ بہترین ہوتا ہے۔۔۔۔
یقیناً اسکی زندگی میں اب جو بھی ہوتا وہ اسکے رب کی مرضی سے ہوتا۔۔۔ وہ اب دل مار کر اس رب کی رضا میں راضی ہونے کی کوشیش کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔ یہ مشکل تھِا مگر ناممکن نہیں۔۔۔ کیا جاتا اگر وہ خود کو اپنے رب کی رضا کے تابع کر لیتی تو۔۔۔ چھوٹی سی تو زندگی ہے اگر اسے رب کی رضا پر قانع ہو کر گزار لیتی تو کیا جاتا۔۔۔
اگر اسکے رب نے اسکی اتنی دعاوں کے باوجود اسکے لئے فائز نہیں بلکہ زاوی رکھا تھا تو اس میں بھی اسکے رب کی کوئی حکمت پوشیدہ تھی۔۔۔ آج اس وقت پریس کے لئے جاتے ہوئے تو اسکی دعائیں تک بدل چکی تھیں۔۔۔
یااللہ تو بہتر جانتا ہے کے میرے حق میں کیا بہتر ہے۔۔۔ میرے حق میں وہ کر جو میرے لئے بہتر ہے۔۔۔ میرے مالک مجھے تیری رضا میں راضی رہنے کی توفیق عطا فرما۔۔۔ مجھے صبر دے میرے مالک۔۔۔
گو کے یہ مشکل تھا۔۔۔ بے حد مشکل۔۔۔ دل کو مارنا آسان نا تھا۔۔۔ بے شک اسکی تکلیف انسان کو مارنے سے بھی زیادہ تھی۔۔۔ مگر وہ مار رہی تھی محض اپنے رب کے لئے۔۔۔ اس شخص کو بھلانا ہرگز آسان نا تھا جو روم روم میں بس چکا تھا مگر وہ اپنے رب کی خاطر اپنا ضبط آخری حد تک آزما لینا چاہتی تھی کے اسکا رب یہ نہیں دیکھتا کے بندہ اپنی کوشیش میں کامیاب ٹھہرا کے نہیں۔۔۔ وہ محض اپنے بندے کی کوشیش دیکھتا ہے کے اسنے کوشیش کی۔۔۔وہ اس مقصد میں کامیاب ٹھہرتی یا نہیں۔۔۔ وہ نہیں جانتی تھی مگر اسکا اللہ جان لیتا کے اسکی کمزور اور ادنی سی بندی نے خالص اسکی رضا کے لئے کوشیش کی۔۔۔ اور انسان کے ہاتھ میں محض کوشیش ہی ہے۔۔۔ کہ جیسا کے اللہ فرماتا ہے۔۔۔
"اے ابنِ آدم!! ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے، مگر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے! اگر تو نے خود کو سپرد کردیا اُس کے جو میری چاہت ہے تو میں بخش دوں گا تجھ کو جو تیری چاہت ہے!اور اگر تونے نافرمانی کی اُس کی جو میری چاہت ہے تو میں تھکادوں گا تجھ کو اُس میں جو تیری چاہت ہے اور پھر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے!!
وہ بھی اب خود کو اپنے رب کی چاہت کے سپرد کر چکی تھی۔۔۔
*****
فلیش لائٹس۔۔۔ شور۔۔۔ لوگوں کا رش۔۔۔ آوازیں۔۔۔ وہ ایک طویل کانفرینس ہال تھا ۔۔۔۔ یہ کانفرینس پچھلی کانفرینس سے بھی بڑئ تھی۔۔۔ وہ ہر چیز سے لاتعلق سی ایک کونے میں کھڑی تھی ذہن میں رات کا فنگشن چل رہا تھا۔۔ وہ واقعی رات کسی اور کے نام پر سجنے والی تھی۔۔۔
سٹیج پر ابتدائی تعارف شروع ہو چکا تھا۔۔۔ مرتسم اور وہاج وہیں کھڑے تھے روبورٹ نے کچھ وقت بعد انکے اناوئنس کرنے پر وہاں آنا تھا۔۔۔
یا اللہ مجھے اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق دے میرے مالک۔۔۔ میرے حق میں وہی کر جو میرے لیے بہتر ہے بے شک تو بہتریاں کرنے والا ہے۔۔۔ دل پھورے کی مانند دکھ رہا تھا۔۔۔ ایسے میں اسے اپنی تکلیف کے سوا کہاں کچھ سوجھنا تھا۔۔۔ وہ مسلسل اپنے رب کے حضور دعا گو تھی جب یکدم یوں ہوا جیسے اسے لگا اسکا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ہو۔۔۔ جسم پر کپکپی سے طاری ہونے لگی۔۔۔ اسنے شدت سے اپنا ہاتھ سختی سے اپنے سینے کے مقام پر جمایا ۔۔۔۔ اور حواس باختہ نگاہوں سے یہاں وہاں دیکھا۔۔۔ رنگت خطرناک حد تک سرخ پڑنے لگی تھی۔۔۔۔۔ اور جسم خزان رسید پتے کی مانند کپکپانے لگا تھا۔۔۔۔ وہ دیوانوں کی مانند جہاں وہاں دیکھنے لگی۔۔۔
ارد گرد کیا ہو رہا تھا اسے نہیں پتہ۔۔۔ وہ تو محض اپنی کیفیت سے پریشان ہو اٹھی تھی۔۔۔ یکدم اسکی نظر بازو میں پہنے بریسلیٹ پر گئ جسکی وائبز اس حد تک تیز ہو چکی تھیں کے وہ اسکا دل سینے کی حدود سے نوچ لانے کے در پر تھیں۔۔۔
پریشانی حد سے سوا تھی۔۔۔ یہ کیا ہوا۔۔۔ اور کیسے۔۔۔ اسنے سٹیج کی جانب دیکھا۔۔۔ وہاں روبورٹ کھڑا تھا۔۔۔
اسنے سختی سے اپنے بازو میں پہنے بریسلیٹ کو نوچا مگر یہ کیا۔۔۔
تھوڑا سا تو مسکراو روبو بوائے۔۔۔ایک آواز ہوا کے دوش پر اسکے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔
میں معذرت خواہ ہوں کے میں ایک مشین ہوں اور مشین مسکرایا نہیں کرتی۔۔۔
دماغ سائیں سائیں کرنے لگا تھا۔۔۔ آنکھوں کے سامنے زمین آسمان کے کلاپے گھومنے لگے ۔۔۔۔ یہ کیا۔۔۔ سامنے کھڑا روبورٹ تو مسکرا رہا تھا۔۔۔ مگر کیسے۔۔۔
وہ گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔۔۔ سب سمجھ سے بالا تر تھا۔۔۔ جب اسنے سامنے سے سپاٹ صورت لئے اسی جانب آتے روبو بوائے کو دیکھا۔۔۔ اور پھر اسی شاک کی سی کیفت سے سامنے باہیں پھیلاتے مسکراتے ہوئے روبورٹ کو۔۔۔
اسکا دماغ بلنک کرنے لگا۔۔۔ یہ کیا تھا بھلا۔۔۔ کیا ہو رہا تھا یہ۔۔۔۔کیا۔۔۔ کیا۔۔۔ اسکا۔۔۔ فائز۔۔۔ اس سے آگے اس سے سوچا ہی نا جا رہا تھا۔۔۔
روبورٹ اس مسکراتے روبورٹ کی کھلی باہوں میں آسمایا اور ساتھ ہی پورا ہاتھ تالیوں کی گھونج سے گھونج اٹھا۔۔۔
مرتسم اور وہاج ان دونوں کے گرد مسکراتے ہوئے کھڑے تھے ایک ٹیم کی مانند۔۔۔
آنسو ماہرہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ بہنے لگے۔۔۔ بریسلیٹ کی بپ حد سے سوا تھی جو اسے پاگل کرنے کے در پر تھی۔۔۔
دل ہنوز کپکپا رہا تھا۔۔۔
بے ساختہ اسکی آنکھوں کے سامنے سے وہ آیت گزری جو ابھی صبح ہی اسکی نگاہوں کے سامنے سے گزری تھی۔۔۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
کیا اسکا تصور مجسم حقیقت بنا اسکے سامنے تھا ۔۔۔
اسکے کانوں میں وہی الفاظ گھونجنے لگے۔۔۔
اے ابن آدم ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے۔۔ مگر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔۔۔اگر تو نے سپرد کیا خود کو جو میری چاہت ہے تو میں بخش دوں گا تجھ کو وہ جو تیری چاہت ہے۔۔۔
کیا یہ سچ تھا حقیقت تھی یا گمان۔۔۔
ساتھ ہی اسے لگا کے آنکھ کھلی اور خواب چکنا چور ہوا۔۔۔۔
******
جاری ہے۔۔۔۔

No comments