Header Ads

Roshan Sitara novel 115th 2nd last Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  115th 2nd last Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

115th 2nd last epi..
 لگ رہا ہے نا ایک دم فائز۔۔۔ ماہرہ روبو بوائے کر ارد گرد چکر کاٹتی اسے ناقدانہ نگاہوں سے دیکھ کر کچھ فاصلے پر کھڑے وہاج اور مرتسم سے گویا ہوئی۔۔۔
روبو بوائے اس وقت آنکھوں پر سن گلاسز لگائے فائز کے ہی طرح براون پینٹ سفید شرٹ اور براون ہی کوٹ میں ملبوس تھا۔۔۔ 
البتہ بالوں کا سٹائل بھی وہی تھا۔۔۔
روبو بوائے سمائل پلیز۔۔۔ 
میں معذرت خواہ ہوں کہ میں ایک مشین ہوں اور مشین مسکرایا نہیں کرتی۔۔۔ ماہرہ کے مسکرا کر کہنے پر اسکی روبوٹک آواز ابھری تو ماہرہ اسے گھور کر رہ گئ۔۔۔
سب ٹھیک ہو گا نا۔۔۔ کہیں کوئی گڑبڑ تو نہیں ہوگئ۔۔۔ اگر اس الو کی دم نے وہاں بھی کہہ دیا کے میں ایک مشین ہوں بلا بلا تو۔۔۔ وہ پریشان ہوتی ان دونوں کی جانب پلٹی۔۔۔
فکر مت کرو ماہرہ۔۔۔ اس وقت محض ایک ہی کام کرو اور وہ ہے اللہ سے دعا کے ہماری آج کی پریس کانفرینس سب سے بہتریں رہے۔۔۔ اس موقع پر سٹریس لینا چھوڑ دو اور ریلیکس رہو۔۔۔
اسکی پریشانی پر مرتسم نے اسے نرمی سے سمجھایا اور سب اکھٹے ہی اپارٹمنٹ سے نکل پڑے۔۔۔ آج ان سب کی زندگیوں کا بہت بڑا تھا۔۔ ماہرہ مسلسل درود شریف کا ورد کر رہی تھی آج کسی غلطی کی گنجائش تک نا تھی۔۔
وہ سبھی دو گاڑیوں میں جانے والے تھے۔۔۔ پارکنگ میں سبھی گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے جب ماہرہ اپنے موبائل پر واٹس ایپ کھولتی زرا سائیڈ پر ہوئی۔۔۔
اسلام علیکم مام۔۔۔ کہتے ہیں ماں کی دعا اولاد کو پار لگوا دیتی ہے۔۔ آج آپکی بیٹی کی زندگی کا بہت اہم دن ہے اور مجھے آپکی دعاوں کی بہت ضرورت ہے۔۔۔ میرے لئے ڈھیروں ڈھیر دعائیں کرنا مام کے آج اللہ آپکی بیٹی کو فتحیاب کر کے لوٹائے۔۔۔ ماں کو وائس نوٹ بھیجنے کے بعد وہ ایسا ہی ایک وائس نوٹ باپ کو بھیجتی آ کر گاڑی میں بیٹھی۔۔۔
*****
فائز علوی آج تقریباً ایک ہفتے بعد آفس میں آیا تھا۔۔۔ اب وہ قدرے بہتر تھا۔۔۔ آفس آتے ہی اسکا پہلا ٹاکرا میر کیساتھ ہوا جیسے وہ بھرپور نظر انداز کرتا آ کر اپنی مطلوبہ جگہ پر بیٹھتا اپنے ادھورے سوفٹ وئیر پر کام شروع کر چکا تھا۔۔۔
سر ہم یہاں تک تو آگئے جیٹ لینڈ بھی کر لیا اب آگے کیا کرنا ہے کہاں جانا ہے ۔۔۔ وہ ایک کھلا ریتلا میدان تھا جہاں  انکا جیٹ لینڈ کر چکا تھا۔۔۔ میجر اریز وہاں پرسوچ انداز میں کھڑا تھا جب رفیق اس سے گویا ہوا۔۔۔۔ میجر اریز نے گم صم سے انداز میں اسے دیکھا۔۔۔ سمجھ نا آیا کے یہاں آنے کے بعد اپنی تلاش کہاں سے شروع کرے۔۔۔
ہال کحچھا کچھ لوگوں سے بڑا پڑا تھا کئ معروف شخصیات صحافی اور میڈیا کے نمائندے عہاں موجود تھے۔۔۔۔۔یہ کانفرینس لائیو ہر جگہ پر دکھائی جانے والی تھی۔۔۔ غلطی کی کہیں کوئی گنجائش نا تھی۔۔۔ ماہرہ کے ماتھے پر ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔ وہ آہستہ آواز میں اپنے دائیں بائین کھڑے مرتسم اور وہاج سے گویا ہوئی۔۔۔
بی بریو۔۔۔ مرتسم مسکراتا ہوا سب کی جانب دیکھتا ہلکا سا اسکی جانب جھک کر آہستگی سے گویا ہوا۔۔۔
البتہ فاہا علایہ اور مائز کرسیوں کی پہلی قطار میں بیٹھا تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں باقاعدہ کانفرینس کا آغاز ہوا تو ان تینوں کے سٹیج پر آنے پر سب الڑٹ ہوتے اپنی پوزیشنز سمبھال گئے۔۔۔
اسلام علیکم ایوری بڈی۔۔۔ سامنے سٹیج پر کھڑے بات کا آغاز مرتسم نے کیا تھا۔۔۔
آج اس پریس کانفرینس کا مقصد یہ ہے کے ہم یہاں اپنا ایک اے ائی بیس روبورٹ متعارف کروانے آئے ہیں۔۔۔ یہ ایک خواب تھا پروفیسر عظیم کا جنہوں نے اپنے ملک کی ترقی کے لئے یہ خواب جاگتی آنکھوں سے دیکھا لیکن وہ دشمنوں کی نظر میں آگئے۔۔ خیر انکا اور ہمارا ساتھ شاید اتنا ہی تھا مگر جاتے جاتے انہوں نے اپنے جس سٹوڈینٹ کو قابل اعتبار جانتے قوم و ملک کی خدمت کی ذمہ داری سونپی آج وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا اس میں سرخرو ٹھہرا۔۔۔
اپنے لاوئنج میں بیٹھی اپنی بیٹی کو کھیر کھلاتی سونم باپ کے نام پر ٹھٹھکتی چونک کر سکرین کی جانب متوجہ ہوئی جو چینل سرفنگ کے دوران چینل۔لگا تھا اور وہ وہاں دو لڑکوں کے ساتھ سیاہ عبایہ اور گولڈن سکارف میں ملبوس بنا کسی آرائش و زیبائش  کے کھڑی ماہرہ کو دیکھ سانس تک روک گئ۔۔۔ کیا واقعی اسکے باپ کا خواب پورا ہوا۔۔۔
ملازمہ کے سر پر کھڑے ہو کر کچن کی ڈیپ کلینگ اپنی زیر نگرانی کرواتیں مام لاوئنج میں ابھرتی اس آواز پر چونک کر باہر آئیں جہاں بابا اور مظہر کسی چیز کے بارے میں ڈسکس کرتے پریس کانفرینس کی لائیو کوریج دیکھ رہے تھے۔۔
سر اس سافٹ وئیر کو مکمل کرنے کے لئے آپکی کچھ مدد درکار ہے۔۔۔
فائز اپنے دھیاں لیب میں داخل ہوا جہاں دلاور خان کیساتھ ساتھ میر بھی پوری یکسوئی سے سامنے چلتی دیوار گیر ایل ای پر نظریں ٹکائے ساکت سے بیٹھے تھے۔۔۔ فائز نے چونک کر سکرین کی جانب دیکھا مگر وہاں موجود مرتسم اور وہاج کیساتھ ماہرہ کو کھڑا دیکھ جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔ 
آج کتنے عرصے بعد وہ اپنوں کی صورتیں دیکھ رہا تھا۔۔۔ دل میں جذبت کی طغیانی سی اٹھی جن پر وہ بامشکل بندھ باندھ پایا۔۔۔
So let's get a big hand for our super hero 
 ہم سب کی جان۔۔۔ ہماری قوم و ملک کا ایک قیمتی سرمایا ہمارا پیارا فائز علوی۔۔۔
مرتسم کے جوش سے کہنے پر ہال تالیوں کی گھونج سے گھونج اٹھا۔۔۔۔ ساتھ ہی بیک سٹیج سے روبو بوائے سپاٹ چہرے کے ساتھ ہاتھ ہلاتا نمودار ہوا۔۔۔ ہال میں لوگ کھڑے ہوتے جوش و خروش سے تالیاں پیٹنے لگے تھے۔۔۔
اسے تھوڑا سا تو مسکرانا چاہیے تھا نا وہاج۔۔۔ کہیں یہ کچھ خراب نا کر دے۔۔۔ ماہرہ بے طرح ہاتھ مسلتی گھبراتی آواز میں وہاج کے کان میں منمنائی۔۔۔
سیدھی ہو جاو ماہرہ۔۔۔ اور چہرے کے ایکسپریشن درست کرو۔۔۔ تم سینکڑوں کیمروں کی زد میں ہو۔۔۔ روبو بوائے کا تو پتہ نہیں البتہ تمہارے چہرے کے تاثرات اور تمہارا گھبرایا انداز ضرور مروائے گا ہمیں۔۔۔
وہاج دانت پیستے زرا سختی سے بولا تو وہ سرعت سے مسکراتی سیدھی ہوئی البتہ دل ہنوز ڈھرک رہا تھا۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ فائز بھائی۔۔۔ سونم کے ہاتھ سے بے ساختہ کھیر کی پیالی چھوٹتی زمین بوس ہوئی۔۔۔
  یااللہ۔۔۔ یہ فائز ہے۔۔۔ یہ زندہ ہے۔۔۔ مام ساکت سی بے یقینی سے بڑبڑاتیں آ کر صوفے پر بیٹھیں جبکہ بابا اور مظہر کی حالت بھی ان سے مختلف نا تھی۔۔۔ وہ دونوں بھی حیرت و شاک سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ اظہر صاحب کی آنکھیں سرعت سے نم ہوئیں۔۔۔ انکا سب سے فرمانبردار بچہ انکا فائز زندہ تھا۔۔۔ مگر وہ اب تک تھا کہاں۔۔ کتنے ہی سوالوں نے سینے میں طلاتم مچایا تھا۔۔۔ وہ اڑ کر اس تک پہنچنا چاہتے تھے۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ بے ساختہ دلاور خان کے منہ سے نکلا۔۔۔ میر نے ایک حیرت سے گنگ نگاہ ایل ای ڈی پر نظر آتے فائز پر ڈالنے کے بعد تھوک نگلتے دوسری نگاہ احمر پر ڈالی جو  خود ساکت سا سکرین کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اسلام علیکم ایوی بڈی۔۔۔
This is me Faiz Alvi...
 میں جانتا ہوں کے میرے مرنے کی خبریں زبان  زد عام رہی ہیں میرا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور پوسٹ مارتم ریپورٹ تک موجود ہے۔۔۔ لیکن وہ سب کہاںی کا کور تھا۔۔۔ میری کہانی کا کور کیونکہ مجھے پروفیسر عظیم کے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا اور اسکے لئے یہ سب بہت ضروری تھا۔۔۔  میں دشمن کی نگاہ میں تھا۔۔۔لیکن آج میں بہت خوش ہوں کیونکہ الحمدللہ ہمارا پراجیکٹ مکمل ہو گیا اور مجھے آج یہاں یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ یہ سب میری ٹیم کے خلوص  انکی کاوشوں اور انکی دن رات کی انتھک محنت  کی بدولت ممکن ہو پایا ہے۔۔۔ وہ فائز کی اے آئی بیس وائس ریکارڈنگ نوٹ تھا جو یہاں پر آ کر مکمل ہو چکا تھا اس سے آگے انہیں اس روبو بوائے کو وہاں سے نکالنا تھا کیونکہ اگر اس سے کوئی سوال جواب مانگے جاتے تو وہ بری طرح انکا بھانڈا پھوڑنے والا تھا۔۔۔ ٹیم کے تعارف پر ان تینوں نے مسکرا کر سر خم کیا۔۔۔
ساتھ ہی روبو بوائے کی جیب میں پڑا موبائل بج اٹھا۔۔۔
وہ ایکسکیوزمی کہتا فون آن کر کے کان کو لگاتا بیک سٹیج کی جانب بڑھا۔۔۔ یہ سب اسکی ٹرینینگ کا حصہ تھا اسے یونہی سٹیج سے غائب ہونا تھا۔۔۔ وہاج کے اشارے پر ماہرہ بھی مسکراتی ہوئی سرعت سے اسکے پیچھے غائب ہوئی۔۔۔
وہاں سے میلوں دور چلتی سکرین پر یہ منظر دیکھتے فائز علوی کی آنکھیں گہرا مسکرائیں وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں ساری کہانی سمجھ چکا تھا۔۔۔ آج اسے اپنی بیوی اور دوستوں پر بے حدبفخر محسوس ہوا جو اسکا ادھورا کام مکمل کر چکے تھے۔۔۔ سٹیج پر موجود وہ شخص اسی کی شکل کا روبورٹ تھا۔۔۔ جو آج مکمل ہو کر لانچ ہونے جا رہا تھا۔۔۔ آج اسکی نس نس میں سکون اترنے لگا تھا۔۔۔۔ گویا اتنے عرصے کی آبلہ پائی کے بعد مسافر کو منزل مل گئ ہو۔۔۔ پروفیسر عظیم کی قربانی رائیگاں نہیں گی تھی۔۔۔ اسکی اتنی تپسیا۔۔۔ اتنے عرصے کی جلا وطنی ضائع نہیں گئ تھی۔۔۔ آج انکا ایک خواب پورا ہوا۔۔۔  یکدم ہی وہ ہلکا پھلکا ہوتا پرسکون ہو گیا۔۔۔ اب تک اسے یہ ہی غم کھائے جا رہا تھا کے وہ پروفیسر عظیم کا خواب پورا نا کرپایا تھا۔۔۔اب زندگی میں کوئی غم نہیں رہا تھا۔۔۔ اب تو موت بھی آ جاتی تو دکھ نا تھا کے مقصد کامیاب رہا۔۔۔ 
وہاں سے واپس میلوں دور اسی پریس کانفرینس میں جاو تو مرتسم اور وہاج وہاں کھڑے اپنے پراجیکٹ کو لانچ کر رہے تھے۔۔۔
یہ اپنی طرز کا اے آئی بیس ایک پراجیکٹ ہے جس سے انسانیت کی بہت مدد ہونے والی ہے۔۔۔ ہم اپنے روبورٹ کو آفیشلی اگلے ہفتے یہاں لانچ کریں گے۔۔۔ لیکن اے آئی بیس روبورٹ ہر کسی کے پہنچ کی بات نہیں۔۔۔
اس لئے ہر خاص و عام انسان کی مدد کے لئے ہیلپ آف ہیومن  یعنی کے ایچ ایف ایچ کے نام سے ہماری ایک ویب سائٹ اور ایپ ہے جسے کوئی بھی انسان اپنے اینڈرائیڈ  یا ایپل  ڈیوائسز پر لاگ ان کر سکتا ہے۔۔۔ یہ اے آئی بیس ہے یہاں آپ کسی بھی طرح کی معلومات کسی بھی چیز کی دسکرپشن تھیم کے مطابق کوئی بھی سکرپٹ کسی بھی ٹاپک پر کوئی بھی آرٹیکل لمحے کے ہزارویں حصے میں حاصل کر سکتے ہیں۔۔ ایک کام جو کوئی بھی انسان دنوں میں کرنے والا تھا وہ اس اے آئی بیس ٹیکنالوجی کے باعث منٹوں نہیں سیکنڈوں میں ممکن ہے۔۔۔ جو آرٹیکلز لکھوانے کے لئے پہلے کانٹینٹ رائٹرز کی ضرورت پڑتی تھی وہ کوئی بھی انسان لمحوں میں یہاں سے انڈیویجولی حاصل کر سکتا ہے۔۔۔
اس میں فنگشن ہے کے آپ اپنی ریکوائرمنٹس کے مطابق اسے کمانڈ دے کر کوئی بھی کسی بھی چیز کی  تصویر  گویا وہ کوئی انسان  ہو لڑکی یا لڑکا یا جانور ہو اسکی تصویر جنڑیٹ کروا سکتے ہیں۔۔۔ وہ کام جسے کرنے کے لئے پہلے لاکھوں کا سیٹ لگا کر لاکھوں کی ماڈل کو ہائیر کر کے جو کام کئ دن لگا کر کیا جاتا تھا وہ کام آپ اپنی کمانڈ دے کر منٹوں نہیں سیکنڈوں میں کر سکتے ہیں۔۔۔  جیسے اپنی ریکوائرمنٹس کے مطابق ہیرو یا ہیروئن یا مطلوبہ ماڈل کی تصویر۔۔۔۔ جیسے یہ۔۔۔وہاج نے چند بٹن دبائے تو وہاں سکریں پر ایک ماڈل کی تصویر نمایاں ہوئی۔۔۔۔ اب کمپنیز کو جب اپنے اشتہارات کے لئے یہ یا اس جیسی تصویر چاہیے ہو تو وہ اسے حاصل کرنے کے لئے باقاعدہ ان کمپنیز سے رابطہ کرتی ہیں جو انکی
 ریکوائرمنٹ کے مطابق انہیں فوٹو شوٹ کروا کر دیتی ہیں۔۔۔ لیکن یہ ایک تصویر ان سب پر بھاری  ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کے یہ تصویر اے آئی جنریٹڈ تصویر ہے یعنی کے یہ لڑکی جو اس تصویر میں موجود ہے اسکا اس دنیا میں کہیں کوئی نام و نشان نہیں۔۔۔ یہ کہیں ایگزیسٹ ہی نہیں کرتی۔۔۔ اے آئی نے آپکی کمانڈ کے مطابق اپنے ڈیٹا میں موجود تصویروں سے کہیں سے ناک کہیں سے بال کہیں سے ہونٹ اور کہیں سے سٹائیلنگ لے کر اس تصویر کو تشکیل دیا ہے۔۔۔ 
انکی بات مکمل ہوتے ہی ہال تالیوں کی گھونج سے گھونج اٹھا۔۔۔ہوپ سو اب آپ تھوڑا تھوڑا اسکی افادیت کو جان پا رہے ہونگے کے دراصل اے آئی چیز کیا ہے اور یہ کام کیسے کرتی ہے۔۔۔
اس کے تھرو کسی کی آواز کو کاپی کروانے کے لئے آپکو کسی وائس آرٹیسٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔ 
آپ کسی بھی امتحان کی تیاری یہاں پر بہت آسانی سے کر سکتے ہیں۔۔ اب طالب علموں کو کسی بھی سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے مطلوبہ کتاب یا لائبریری میں گھنٹوں صرف کرنے کی بجائے یہاں محض اپنا سوال ٹائپ کرنا ہے اور لمحوں میں آپکے پاس اسکا مفصل جواب موجود ہو گا۔۔۔ جیسے جیسے آپ اسے استعمال کرتے جائیں گے اسکی فادیت کے بھنور کو جانتے جائیں گے۔۔۔ یہ ہر لحاظ سے ایک انسان کی مدد کے لئے ترتیب دیا گیا ہے۔۔۔ اس سے انسانی زندگی میں بہت سہولت ہونے والی ہے یہ آنے والا وقت آپکو بتائے گا۔۔۔
آپ کسی بھی وقت کسی بھی چیز کی رہنمائی اس سے لے سکتے ہیں۔۔۔
اس سے بھی بڑھ کر یہ آپکے پیٹرن آف ورک کو سمجھ کر آپکا سارا کام خود اپنی کمانڈ میں لے کر خود کر سکتا ہے۔۔۔ جیسے ہم نے اس سارے سسٹم کو تشکیل دے دیا اور اب حقیقت یہ ہے کہ اس سارے پراسس کو تشکیل دینے کے بعد اسے آپریٹ کرنے کے لئے ہماری بھی ضرورت نہیں۔۔۔ ہمارا فزیکلی تیار کردہ روبو بوائے اس سارے پراسس کو سمبھال سکتا ہے تب تک جب تک اس میں کوئی ٹیکنیکلی اشو نا آ جائے۔۔۔۔
انسان کام کر کے تھک جاتا ہے اسے آرام کی ضرورت پڑتی ہے لیکن مشین کبھی تھکتی نہیں کبھی کام کرنے سے رکتی نہیں  بشرطیکہ اس میں کوئی ٹیکنیکلی پرابلم نا آ جائے۔۔۔ وہ دونوں اپنے پراجیکٹ کی افادیت اور اسکے سبھی پوائنٹس پوائنٹ آوٹ کر رہے تھے جب پورا ہال تالیوں کی گھونج سے گھونج اٹھا۔۔۔
****
روبو بوائے کار ڈرائیو کر سکتے ہوں نا تم۔۔۔۔ ماہرہ چوکنے انداز میں ہر جانب دیکھتی روبو بوائے کو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھانے کے بعد خود آ کر پیسنجر سیٹ پر بیٹھی۔۔۔۔ مائز فاہا اور علایہ کے پاس ہی تھا ابھی سب سے پہلے کسی بھی بدمزگی سے بچنے کے لئے روبو بوائے کو واپس اپارٹمنٹ پہنچانا ضروری تھا۔۔۔
آپ بے فکر رہیں میں بہت اچھی ڈرائیو کر سکتا ہوں آپ بس کمانڈ دیتی جائیں۔۔۔
اپارٹمنٹ کا راستہ پتہ ہے نا۔۔۔ بس جلد از جلد وہیں پہنچا دو۔دو۔۔۔۔وہ بوکھلائی سی لبوں پر زبان پھیرتی اسے کمانڈ دے کر زرا سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔
جب اگلے ہی لمحے گاڑی سٹارٹ ہوتی ہواوں سے باتیں کرنے لگی۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ وہ اسکی حد سے تجاوز کرتی سپیڈ دیکھ سرعت سے سیدھی ہو بیٹھتی مضبوطی سے دیش بورڈ تھام گئ۔۔۔
اسنے حیرت سے پھٹ پڑتی آنکھوں کیساتھ سامنے دیکھنے کے بعد روبو بوائے کو دیکھا۔۔۔
جو دو ٹرکوں کے درمیاں موجود تھوڑے سے فاصلے سے تیزی سے گاڑی تیڑھی کرتا بھگا لیجا رہا تھا۔۔۔
یااللہ خیر۔۔۔ ماہرہ کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔۔ وہ خود گاڑی ٹیرھی ہونے کے باعث ساری کی ساری اس پر الٹ پڑی۔۔۔ کچھ بعید نا تھا کے اسنے ڈیس بورڈ مضبوطی سے تھام نا رکھا ہوتا تو اب تک اسکا سر ڈرائیونگ سیٹ کے شیشے سے جا ٹکرایا ہوتا۔۔۔
گاڑی سیدھی ہوتے ہی وہ اچھل کر اپنی جگہ پر گری اور سر دوسری جانب لڑھک گیا۔۔۔
الو کی دم گاڑی روکو۔۔۔ بدتمیز روبو بوائے۔۔۔ وہ غصے کی شدت سے سرخ چہرا لئے چیخی۔۔۔ صد شکرا تھا کے مائز انکے ساتھ نا تھا ورنہ ان حالات میں اس ننھی جان کا کیا بنتا وہ جھرجھری لے کر رہ گئ۔۔ لیکن یکدم گاڑی رکنے پر اسکا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
وہ کمانڈ کے مطابق عین روڈ کے درمیان میں گاڑی روک گیا تھا۔۔۔ اسنے خوفزدہ نگاہوں سے پیچھے دیکھا جہاں مسلسل ہارن بجاتی انکی طرف بھاگتی آتی گاڑیاں ان سے کچھ ہی فاصلے پر تھیں۔۔۔
اجڈ جاہل گنوار روبو بوائے گاڑی بھگاو۔۔۔وہ پوری قوت سے چیخی۔۔۔
اگلے ہی لمحے گاڑی پھر سے ہواوں میں باتیں کر رہی تھیں۔۔۔
گاڑی کی سپیڈ لمٹ میں کرو۔۔ وہ گھٹنوں میں سر دیتی کانوں پر ہاتھ رکھے پھر سے چیخی۔۔۔
اگلے ہی لمحےنگاڑی کی سپیڈ اعتدال پر آ چکی تھی ماہرہ نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔۔۔ گاڑی کی سپیڈ اعتدال پر تھی مگر اسکے دل کی ڈھرکنیں ہنوز منتشر تھیں۔۔۔ اسنے بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔
جاہل انسان میرا دل چاہ رہا ہے کے تمہارا گلہ دبا دوں۔۔۔ وہ خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھتی پھنکاری۔۔۔
میں معذرت خواہ ہوں کے میں ایک انسان نہیں مشین ہوں اور مشین کا گلہ نہیں دبایا جا سکتا۔۔۔
وہ کوفت سے آنکھیں میچ گئ۔۔۔
تمہیں گاڑی نہیں چلانی آتی یوں گاڑی چلاتے ہیں۔۔۔ اتنی تیز۔۔  ایسکیڈینٹ کروانا تھا کیا۔۔۔ تمہارا کیا ہے تم میں تھوڑی نا جان ہے جو  تم نے  مرنا تھا مجھے ہی مروانا چاہتے تھے نا۔۔۔ وہ روہانسی ہوتی پھر سے چٹخ اٹھی۔۔۔
میں آپکی کمانڈ پر ہی عمل کر رہا تھا آپ نے کہا تھا کے اپارٹمنٹ جلدی پہنچنا ہے۔۔۔ وہ جھٹکے سے گاڑی روک چکا تھا۔۔۔ ماہرہ نے چونک کر باہر دیکھا وہ لوگ اپارٹمنٹ پہنچ چکے تھے۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ اسے مزید کچھ کہتی سامنے کھڑی بابا کی گاڑی دیکھ اسکی گردن میں ایک گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔ مطلب وہ سب یہاں پر پہنچ چکے تھے اور ابھی اگلا مرحلہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما ہونے والا تھا۔۔۔ جب انہیں پتہ چلتا کے یہ فائز نہیں بلکہ روبو بوائے ہے تو کیا ہوتا۔۔۔۔ 
*****
فائز نم مگر چمکتی آنکھوں سے سکریں پر ابھرتے ان مناظر کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسکے دونوں جگری یار بہت اچھے سے سب بریف کر رہے تھے کاش وہ اس وقت انکے پاس ہوتا تو دونوں کو زور سے گلے سے لگا لیتا جنہوں نے اسکی مدد کے بغیر اڑنا سیکھ لیا تھا۔۔۔ 
یہ مسکرا رہا ہے۔۔۔ چچا جان یہ ہماری ناکامی پر مسکرا رہا ہے۔۔۔ دفعتا میر بے بسی سے چٹخا اسے مسکراتا دیکھ اس پر چڑ ڈورا۔۔۔۔ یہ ناکامی چھوٹی نا تھی۔۔۔ پچھلے دو سالوں سے اس پراجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے انہوں نے کیا کیا نا کیا تھا۔۔۔ یہ پراجیکٹ وہ خود پایہ تکمیل تک پہنچا کر اسکا ایک ایک حصہ ایک ایک مخصوص کمپنی کو مہنگے داموں فروخت کر کے اسکی ساری کمانڈ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے تھے ۔۔۔۔جیسے ہزاروں امیجیز کمپنیوں میں کوئی ایسی کمپنی جسکے پاس یہ سہولت ہوتی کے وہ اپنے کسی بھی کسٹمر کی ڈیمانڈ پر اسے ویسی تصویر تشکیل دے کر دیتی بغیر کسی کی مدد کے تو بجائے کسی دوسری امیجز شاپ کے سب سے زیادہ مارکیٹ میں اسی کا بول بالا ہوتا کسٹمر اسی کے پاس بھاگ بھاگ کر آتا۔۔۔ اور اس چیز کے لئے وہ کمپنی انہیں منہ مانگی رقم دیتی نیز اس چیز کی ساری کمانڈ انکے ہاتھ میں ہوتی جب کمپنی کوئی زرا سا مول بھاو کرتی وہ اسکی ویب سائٹ کو نکارہ کرتے وہی ڈیل اسکے کمپیٹیٹر سے طے کر لیتے ۔۔۔ یہ چیز انہیں کتنا منافع دے سکتی تھی شاید ہی کسی کی سوچ ہوتی۔۔۔ لیکن فائز علوی نے یہ چیز گھر گھر پہنچاتے ان سب کے بزنسز کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔۔۔
اس پراجیکٹ کے لئے انہوں نے دن رات ایک کئے تھے لیکن پھر بھی ناکامی مقدر ٹھہری تھی۔۔۔
دلاور خان کی نگاہوں میں بھی اس ناکامی پر خون اتار ہوا تھا۔۔۔
میں اس لئے ہس رہا تھا کے شکر ہے اتنے عرصے بعد ہی صحیح لیکن یہ تو کلئیر ہو گیا کے میں فائز علوی نہیں۔۔۔ اب شاید میری جان بخشی ہو سکے۔۔۔ وہ پھر سے مسکرایا۔۔۔
ہاں یہ کنفرم ہو گیا کے تم فائز علوی نہیں۔۔۔ جب تم فائز ہوہی نہیں تو ہمارے کس کام کے۔۔ کیوں ہم سانپ کو دودھ پلائیں۔۔۔ جب تم ہمارے کسی کام کے ہی نہیں تو یہاں رہنے کا مقصد۔۔۔
میر نافہم انداز میں گویا ہوا۔۔۔ شکست نے اسے اندھا کر ڈالا تھا۔۔۔ وہ کف اڑانے لگا تھا۔۔۔ فائز کو اسکی باتوں سے خطرے کی بو محسوس ہوئی۔۔۔ وہ ٹھٹھکا۔۔۔ کیونکہ میر اس وقت پاگل ہو نے کے در پر تھا۔۔۔
جب تم فائز ہو ہی نہیں اور ہمارے کسی کام کے ہی نہیں تو اب تک زندہ بھی کیوں ہو پھر۔۔۔ تمہیں تو پھر مر جانا چاہیے ۔۔ وہ چیختے ہوئے ہولستر سے ریوالور نکلاتا اس پر تان چکا تھا۔۔۔
اس سے پہلے کے فائز کچھ سمجھتا ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ۔۔۔۔۔ کئ ایک فائرز کی آواز گھونجی۔۔۔۔ وہ فائر کسی شعلے کی مانند فائز علوی  آڑ پار ہوئے اور وہ بنا سمبھلے پورے قد سے زمین بوس ہوا۔۔۔ بس ایک ہی لمحے لگا تھا اس سب میں۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سرخ سیال کا سیلاب امڈ آیا تھا۔۔۔ فائز کی نگاہوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔ اسکے سبھی اپنوں کی صورتیں اس اندھیرے میں مدغم ہونے لگیں۔۔۔۔گولیوں کی آواز سے وہاں اسکے خاص آدمی بھاگے چلے آئے تھے۔۔۔
اٹھاو اسے۔۔۔ دیکھو زندہ ہے تو اسے کال کوٹھری میں پھینک کر بھول جاو۔۔۔ خود ہی کیڑے مکوڑے بھنبھور ڈالیں گے اسکے نیم مردہ جسم کو اور اگر مر گیا ہے تو اسکی لاش کو باہر کتوں کے آگے پھینک آو کے اسکا مقدر یہ ہی ہے۔۔۔ اسکی قسمت میں دو گز زمین بھی نہیں لکھی۔۔۔ وہ غصےسے پاگل ہوتا پھنکارا جبکہ دلاور خان درد سے پھٹتے سر کو تھامتا وہیں بیٹھ گیا۔۔۔ اس شکست نے اسکی کمر توڑ ڈالی تھی۔۔۔
*******
جاری ہے۔۔۔


No comments

Powered by Blogger.
4