Header Ads

Roshan Sitara novel 114th 3rd last Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  114th 3rd last Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

3rd last epi...
 ہاں آگے بولو۔۔۔ مرتسم نے اسکی ہمت بندھائی 
ہم نے روبورٹ کو فائز کی حیثیت سے متعارف کروانا ہے اور۔۔۔
بالی ووڈ کی فلم کی شوٹنگ نہیں چل رہی یہ ماہرہ تم سمجھ کیوں نہیں رہی۔۔۔ وہاج جھنجھلا اٹھا۔۔۔ اور تم بجائے سمجھانے کے الٹا اسکے پاگل پن میں اسکا ساتھ دے رہے ہو۔۔۔ اب وہ مرتسم پر الٹ پڑا تو وہ پریشانی سے ماتھا مسل کر رہ گیا۔۔۔ جبکہ ماہرہ کی ہمت یہیں تک تھی۔۔۔ دل کو تو ویسے ہی ہر دم ایک ڈھرکا سا لگا رہتا تھا۔۔۔ بے چینی حد سے سوا تھی۔۔۔۔ رہتی کسر وہاج کے تلخ لہجے نے پوری کر دی۔۔۔ وہ ضبط کھوتی بے بسی سے رو دی۔۔۔
دیکھو میری بات سمجھنے کی کوشیش کرو ۔۔۔ وہ اپنے لہجے کی بدصورتی محسوس کرتا لبوں پر زبان پھیر کر اسے تر کرتا ماہرہ کے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھا۔۔۔ روبورٹ کو ہم کسی بھی انسان کی صورت پر تشکیل ضرور دے سکتے ہیں مگر تم ان بے جان آنکھوں میں زندگی کی رمق کیسے بھرو گی۔۔۔ کیا وہ بے جان پتھر انسانی آنکھ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔۔۔ آئی کانٹینٹ بھی کسی چیز کا نام ہوتا ہے ماہرہ۔۔۔۔ بھرے مجمعے میں تم کیسے اتنے لوگوں کو دھوکہ دو گی۔۔۔ بے جان پتھروں کو دیکھ کر کوئی بھی باخوبی سمجھ جائے کے یہ انسان نہیں ہے۔۔۔ اتنی سی بات تم کیوں نہیں سمجھ رہی۔۔۔
وہ اسے سمجھاتا سمجھاتا گویا عاجز آنے لگا تھا۔۔۔
اتنی بھی اب کوئی بات نہیں وہاج۔۔۔ اتنی باریک بینی سے شاید ہی وہاں کوئی نوٹ کرے۔۔ اور روبورٹ کو دیکھ کر عام انسان اتنی جلدی نہیں پہچان پائے گا ہاں البتہ اگر کوئی سائنٹیسٹ یا اس شعبے سے وابسطہ کوئی شخص ہو تو شاید پہلی نظر میں پہچان جائے۔۔۔ مرتسم آہستگی سے گویا ہوا۔۔۔ 
میرے بھائی یہ سوشل میڈیا کا دور ہے جہاں پر لوگ بیٹھے ہی چھوٹی چھوٹی غلطیاں پکڑنے کو ہے۔۔ بہت بڑی کنٹروورسٹی جنم لے لے گی۔۔۔
ہمیں ان سب خامیوں کو کور کرنا ہے وہاج ایک الوزن کریٹ کرنا ہے جیسے بھی کر کے۔۔۔ ماہرہ آنسو صاف کرتی مستحکم آواز میں بولی۔۔۔۔ اب وہ پہلے کی نسبت خود کو سمبھال چکی تھی۔۔۔
جیسے۔۔۔ وہاج نے آئبرو اچکائی۔۔۔
جیسے ہم روبورٹ کی آنکھوں کو کور کرنے کے لئے سن گلاسز استعمال کر سکتے ہیں۔۔۔
وہاج بے بسی سے اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
ماہرہ سن گلاسز دھوپ میں استعمال کرتے ہیں۔۔۔ ہم کانفرنس روم میں وہ کیسے استعمال کریں گے۔۔۔ 
مجھے ہر چیز میں ڈینائل مت کرو وہاج۔۔۔ وہ جیسے چڑی۔۔۔
اوکے اوکے۔۔۔ وہ سرعت سے ہاتھ اٹھاتا سیز فائر کر گیا۔۔
فائز کی پوسٹ مارتم ریپورٹ موجود ہے اور ڈیٹھ سرٹیفکیٹ بھی۔۔۔ ان پر سوال اٹھائے جائیں گے۔۔۔ اسے کیسے کور کرنا ہے۔۔۔ کیونکہ یہ ایک بہت بڑے لیول پر کانفرینس ہے تو ہمیں ہر چیز کور کرنی ہے۔۔۔ کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں موجود صحافیوں کے دماغ الامان ہونگے۔۔۔ کب کہاں سے کون سا سوال آ جائے ہمیں پوری تیاری سے میدان میں اترنا ہے نا۔۔ اس لئے میرے سوالوں پر پینک ہونے کی بجائے انکے جواب دینے کی کوشیش کرو۔۔۔ وہ ماہرہ کی آنکھوں میں ابھرتی خفگی دیکھ سرعت سے وضاحت دیتا گویا ہوا۔۔۔
ماہرہ نے مدد طلب نگاہوں سے مرتسم کو دیکھا۔۔۔
اسکی بات میں بہت دم ہے ماہرہ۔۔۔ ہم اگر دشمن کو چاروں شانے چت کرنے نکلنے ہیں تو ہمیں پوری تیاری سے  قدم آگے بڑھانے ہونگے۔۔
ہم کور سٹوری تیار کر سکتے ہیں کے پڑاجیکٹ کے دوران فائز کی جان کو دشمن سے خطرہ تھا اس لئے یہ کور سٹوری تیار کی گئ کے فائز مر چکا ہے۔۔ اور ۔۔۔ اور۔۔۔
وہ رکی اور واپس گود میں پٰڑے ہینڈ بیگ میں چہرا جھکاتی تیزی سے کچھ تلاش کرنے لگی ۔۔۔ اور یہ کارڈ ہے میجر اریز کا۔۔۔ وہ فائز کا دوست ہے۔۔۔ اسی نے میری مدد کی تھے مجھے میر کے چنگل سے نکالنے کے لئے۔۔۔ ہوپ سو یہ ہماری مدد کر سکتا ہے اس معاملے میں۔۔ تم دونوں ایک دفعہ اس سے سب ڈسکس کر کے آگے کا پلان بنا لو۔۔۔ ماہرہ نے بیگ سے کارڈ نکالا گویا وہ تب سے یہ ہی ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔ یہ وہی کارڈ تھا جو میجر اریز نے اس سویٹ میں اسے دیا تھا۔۔۔
مرتسم نے حیرت سے کارڈ پکڑ کر اسے الٹ پلٹ کر کے دیکھا۔۔۔ ہاں یہ چیز ہمارے حق میں کافی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔۔۔ اسنے کارڈ وہاج کی جانب بڑھایا۔۔۔
تم فکر مت کرو ماہرہ شام تک ہمارا روبورٹ تیار ہو گا۔۔۔ پھر پہلے ہم خود اسکا اچھے سے معائنہ کریں گے کہ وہ کونسی چیزیں ہیں جو پہلی نظر میں دیکھنے پر اسے ایک انسان سے منفرد بناتی ہیں پھر ہم اسے کور کرنے کی کوشیش کریں گے اور کوشیش کریں گے کے اس روبورٹ کی  فائز کی حیثیت سے کانفرینس میں شمولیت نہایت معمولی وقت کے لئے ہو۔۔۔ یعنی کے اسکی ایک جھلک دکھا کر اور پبلکی یہ اناوئنس کر کے کہ فائز علوی زندہ ہے اور اپنا پڑاجیکٹ مکمل کر چکا ہے ہم اسے منظر عام سے ہٹا دیں گے۔۔ یوں ہمارے پکڑے جانے کے چانسز بہت کم ہو جائیں گے۔۔۔ مرتسم کے تسلی آمیز انداز میں سمھجانے پر اسکی ڈھارس بندھی اور وہ سر ہاں میں ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
******
دائیں جانب چہرا آہستگی سے پھیرنے کے بعد فائز علوی نے اسی انداز میں چہرا بائیں جانب پھیرا اور ہاتھ دعا کے لئے اٹھا دئیے۔۔۔ وہ نیلے رنگ کے پیشنٹ ڈریس میں ملبوس ہسپتال کے کمرے میں ہی جائے نماز پر بیٹھا نماز ادا کرنے کے بعد دعا مانگ  رہا تھا۔۔۔ دعا مانگ کر ہاتھ چہرے پر پھیر کر وہ جائے نماز اکھٹا کرتا اٹھ کھڑا ہوا تو اسے ایک زبردست قسم کا چکر آیا وہ سر تھامتا وہیں تھم گیا۔۔۔ ہسپتال کے فوری طور پر علاج کے باعث اس میں کافی امپرومنٹ آئی تھی مگر اتنے ہائی وولٹیچ شاک کا اثر ابھی بھی کہیں کہیں جسم پر ظاہر ہوتا تھا۔۔۔ کمزوری حد سے زیادہ تھی۔۔۔ کھڑے ہونے پر یکدم سب سیاہ ہوتا دکھائی دینا بند کر جاتا۔۔۔ لیکن یہ محض لمحاتی کیفیت ہوتی۔۔۔ صد شکر تھا کے بروقت علاج سے وہ کسی ذہنی یا جسمانی معذوری سے محفوظ رہا تھا۔۔۔ وہ واپس بستر پر آتا چت لیٹتا آنکھیں مونڈ گیا۔۔۔
صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ اسے کیسے بھی کر کے اپنے وطن واپس پہنچنا تھا جسکے لئے ایک فل پروف پلانینگ کی ضرورت تھی۔۔۔ ابھی وہ اسی کش مکش میں مبتلا تھا کے دروازہ چڑرر کی آواز سے کھلا اور ہیل کی ٹک ٹک سنائی دینے لگی۔۔۔ وہ بنا دیکھے بھی جان چکا تھا کے نوارد کون ہے اسکے ساتھ ہی اسکے چہرے کے زاویے بگڑنے لگے۔۔۔
شائنہ خاموشی سے آ کر اسکے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔۔۔ فائز کو اتنی خاموشی کھلی۔۔۔ وہ لڑکی اور چپ کر کے بیٹھ جائے۔۔۔ دفعتاً اسے اپنے ہاتھ پر اس کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا۔۔۔
بے ساختہ فائز کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں ۔۔۔ پھر اسے اپنے ہاتھ پر اسکی نرم گرفت محسوس ہوئی۔۔۔ وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتا ہنوز لیٹا اسکے اگلے عمل کا منتظر تھا۔۔۔
اسے اپنے ہاتھ پر اسکا لمس دہکتا انگارہ محسوس ہو رہا تھا۔۔۔دفعتاً اسے اپنا انگوتھا سخت و سرد جگہ پر لگتا محسوس ہوا تو اسنے کرنٹ کھا کر آنکھین کھولیں اور حیرت و انبساط سے اسکی جانب دیکھا۔۔۔
اگلا منظر غیر متوقع تھا۔۔۔۔ حد سے زیادہ غیر متوقع۔۔۔ اتنا کے وہ کسی بھی چیز کی توقع کر سکتا تھا۔۔۔ مگر اس ایک منظر کی نہیں۔۔۔ بے ساختہ اسکا ایمان اس بات پر مزید پختہ ہو گیا کے خدا وہاں سے وسیلے بنا دیا کرتا ہے جہاں تک انسان کا گمان تک نہیں جا سکتا۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتا جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔۔۔ اچانک اٹھنے کے باعث آنکھوں کے سامنے ایک دفعہ اندھیرا چھایا مگر وہ سر جھٹک گیا۔۔۔
یہ کیا تھا۔۔۔ اسنے تھوک نگلتے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے کھینچا اور سختی سے گویا ہوا۔۔۔ لیکن وہ خود اس بات کا گواہ تھا کے آواز میں ہمیشہ سی سختی مفقود تھی۔۔۔ شائنہ م آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھا۔۔۔
میرا مخلص پن شاید ہی تمہیں کبھی دکھائی دے فائز علوی ۔۔۔ کیونکہ میں تمہارے دشمن کی بیٹی ہوں۔۔۔ وہ اسکے قریب جھکتی طنزیہ مسکرائی۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ۔۔۔ وہ سر جھٹکتا  اپنے جھنجھناتے حواسوں پر قابو پانے لگا۔۔۔
لیکن میں نے اپنے خلوص کو ثابت کرنے کی پہلی کاوش کی ہے آگے تم پر ہے تم اس پر یقین کرتے ہو یا نہیں۔۔۔ اسکی آنکھیں سر خوشی سے جگمگا رہی تھی۔۔۔
کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم یہ سب کر کے۔۔۔ وہ ہنوز اکھڑا اکھڑا سا تھا۔۔۔ اس روز تم سم کے بہانے اپنا بائیو میٹرک کروانے گئے۔۔۔ 
مجھے واقعی سم چاہیے تھی وہ قطیعت سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
اوکے۔۔۔ اوکے۔۔۔ میں نے قبول کی تمہاری جسٹیفکیشن۔۔۔۔ وہ سر خم کر گئ۔۔۔ ویل تم اس مقصد سے نہیں گئے تھے میں اپنے الفاظ کی توصیح کرتی ہوں۔۔۔ مجھے ایسا لگتا ہے کے تم فائز علوی ہو۔۔۔ فائز نے اسے خونخوار نگاہوں سے گھورا۔۔۔
نہیں تم ہو نہیں۔۔۔ کہا نا مجھے ایسے لگتا ہے۔۔ وہ سیز فائر کرتے ہاتھ اٹھا کر شوخ سے لہجے میں آنکھ مارتی گویا ہوئی تو فائز زیر لب بڑبڑاتا نگاہوں کا رخ پھیر گیا۔۔۔ اور مجھے ایسا لگتا ہے کے اس روز تم  پیچھے اپنے کسی عزیز کو اپنا کوئی سگنل دینا چاہتے تھے۔۔۔ اس لئے میں نے تمہاری بائیو میٹرک کروا دی ۔۔ اسنے شانے اچکائے۔۔۔
فائز نے ایک اچٹتی نگاہ اسکے ہاتھ میں تھامی اس چھوٹی سی بائیو میٹرک مشین پر ڈالی۔۔۔ بہت صاف اور نیک نیتی سے۔۔۔ اسکا لہجہ یکدم ہی سنجیدہ  ہوا۔۔۔  کہ اگر واقعی پیچھے کوئی ہے جو تمہارے لئے سٹینڈ لے سکتا ہے تو اب تک پھر اسے سگنل جا چکا ہو گا۔۔۔ آگے جو تمہارے حق میں بہتر ہوا۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتی اٹھ کر کمرے سے نکل گئ۔۔  جبکہ پیچھے فائز سر تھام کر رہ گیا۔۔۔ دل کی ڈھرکنیں منتشر تھیں۔۔۔ کیا واقع اسکے حق میں کوئی بہتری نزدیک ہی تھی۔۔۔
***
چاروں جانب سے سکرینز سے ڈھکے کمرے میں یکدم ہی ایک بپ کی آواز ابھری ۔۔۔ سکرین مانیٹر نے یکدم الڑٹ ہوتے مطلوبہ صفحہ کھولا اور وہاں نمودار ہوتی لوکیشن کو دیکھ بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔
لاشعوری طور پر اسکے ہاتھ وائرلیس کی جانب بڑھے۔۔۔ سر پلیز آپ جہاں بھی ہیں جلد از جلد مانیٹرنگ روم میں پہنچے۔۔۔ آپ کے لئے خوشخبری ہے۔۔۔

میجر اریز جو ابھی ابھی ایک میَٹنگ سے فری ہو کر میٹنگ روم سے نکلا ہی تھا اس بریفنگ پر فوراً الرٹ ہوتا سرعت سے آپریٹنگ روم کی جانب لپکا.  
صبح میں فائز کے دوستوں کا فون آنا اور اس سے اپنی پلانینگ شئیر کرنا نیز اب ایک بریفنگ ملنا۔۔۔ وہ ڈورتا ہوا بیسمنٹ کی سیڑھیاں اتر رہا تھا۔۔۔ ایک جھٹکے سے آپریٹنگ روم کا گلاس ڈور کھول کر وہ اندر داخل ہوا اسکے قدموں کو بریک مطلوبہ جگہ پر جا کر لگی تھی۔۔۔
اسے دیکھ کر سکرین مانیٹر کرتا شخص الرٹ ہوتا سیدھا ہوا جبکہ اریز سکرین پر جھکا۔۔۔
کیا خبر ہے۔۔۔ اسکا سانس پھولا تھا۔۔۔
سر احمر شیخ کی لوکیشن سرحد پار کی ہے وہ اس وقت افغانستان میں ہے۔۔۔ ملک واضح ہے لیکن چونکہ یہ سرحد پار ہے تو ہم ایگزیکٹ لوکیشن پتہ نہیں لگا پا رپے۔۔۔ لیکن اتنا کنفرم ہے کے احمر شیخ اس وقت افغانستان میں ہے کس علاقے میں ہے اس کے لئے معذرت۔۔۔
میجر اریز کی نگاہیں اس وقت سکرین پر ہی مرکوز تھی جہاں موجود نقشے پر افغانستان کے مقام پر ایک سرخ دائرہ تھا۔۔۔
جہاں تک راستہ واضح ہے وہاں تک تو چلیں آگے کا راستہ وہاں جا کر واضح ہو جائے گا۔۔۔
رفیق۔۔۔ جیٹ تیار کرو ہمیں ہنگامی بنیادوں پر افغانستان جانا ہے مزید کنفرمیشن میں تمہیں افسران بالا سے اجازت لے کر دیتا ہوں۔۔۔ وہ وائرلیس پر پیغام دیتا سرعت سے کمرے سے نکلا۔۔۔
*****
اوہ مائے گاڈ۔۔۔ ماہرہ فائز علوی اس وقت حیرت و شاک سے گنگ نم آنکھیں لئے اس شاہکار کے سامنے کھڑی تھی جسے اسکی ٹیم نے مل کر بنایا تھا۔۔۔  وہ  مسمرائز سی اسکے چہرے پر ہاتھ پھیر رہی تھی جسکے چہرے پر مہربان سے تاثرات اور نرم سی مسکراہٹ نہیں تھی ورنہ وہ اسی کا فائز تھا۔۔۔
آہممم آہممم۔۔۔
Actually its a Robort not Faiz...
 مرتسم نے اسکی بے خودی دیکھ گلہ کنگارا۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے مسکراتی ہاتھ کھینچ گئ۔۔۔
You are right its our Robo boy... Welcome to our family Robo boy...
 Thank you..
 اوہ مائے گاڈ۔۔۔ ماہرہ کے فرط جذبات سے کہنے پر اسکی آواز ابھری تو وہ حیرت سے ہس دی۔۔۔
ایک کمی ہے اسکی آواز فائز جیسی نہیں۔۔۔ وہ مایوس ہوئی۔۔۔
وہ نہیں ہو سکتی البتہ اے آئی بیس فائز کی آواز ریکارڈ کر کے انٹرو اسکی آواز میں کروایا جا سکتا ہے اور پھر بس اسکے بعد ہمیں اس روبو بوائے کو منظر سے ہٹانا ہوگا ورنہ بہت برا پھنسے گے۔۔۔
وہاج کے کہنے پر وہ سمجھ کر سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔ 
وہ ایک بہت مصروف رات تھی کل کے انتظار میں جو ان سب نے آنکھوں میں کاٹی۔۔۔ ساری رات کل کے حوالے سے انکی تیاریاں ختم نا ہوئی۔۔۔ کبھی روبورٹ کو کوئی انسٹرکشن دی جاتی تو کبھی کوئی۔۔۔ کل کی کانفرینس کے حوالے سے ایک ایک چیز پر نظر ثانی کی جا رہی تھی۔۔۔ ساری رات جاگنے کے باوجود  ان تینوں کے چہروں ہر تھکاوٹ کا شائبہ تک نا تھا البتہ ایکسائٹمنٹ لیول عروج پر تھا۔۔۔
یکدم مائز کے رونے کی آواز پر ماہرہ باہر بھاگی جہاں روبو بوائے اسے ماہرہ کے انداز میں جھلا رہا تھا البتہ انداز اتنا جارہانہ تھا کے ماہرہ دہل کر رہ گئ۔۔۔
اوے روبو بوائے ایڈیٹ الو کی دم رک جاو اتارو میرے بیٹے کو۔۔۔ اسکے آگ بگولہ ہو کر چلانے پر  وہ سبھی لیب سے باہر بھاگے جہاں ماہرہ جھپٹ کر مائز کو اسکی گرفت سے آزاد کروا رہی تھی۔۔۔
خبردار جو دوبارہ تم نے میرے بیٹے کو اٹھایا تو۔۔۔ وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتی غرائی جبکہ باقی سب سے ہسی ضبط کرنا محال ہوا۔۔۔
میں اس سے کھیل رہا تھا۔۔
غضب خدا کا کھیل رہے تھے یا مارنے والے تھے۔۔۔ کوئی ضرورت نہیں دوبارہ اس سے کھیلنے کی۔۔۔ ماہرہ مائز کو سینے سے لپٹائے اسکی کمر سہلا رہی تھی جبکہ علایہ اور فاہا کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔  روبو بوائے تم نے دوبارہ ہمارے بےبی بوائے کو نہیں اٹھانا وہ دونوں ماہرہ کے شانے پر ہاتھ رکھتیں اسے ٹھنڈا کرنے لگی۔۔۔
میں آئندہ اسے آپکی کمانڈ کے سوا بےبی بوائے کو نہیں اٹھاوں گا۔۔۔
کمانڈ مائے فٹ۔۔۔ دے ہی نا دوں تمہیں میں کمانڈ۔۔۔ وہ اسکے تابعداری سے کہنے پر سر جھٹکتی گویا ہوئی۔۔ ایک صرف شکل ہی فائز کی ہےورنہ کوئی کل نہی. ملتی  اس سے۔۔۔ وہ بگڑے تاثرات سمیت گویا ہوئی
****

No comments

Powered by Blogger.
4