Roshan Sitara novel 113th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 113th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
113th epi....
میں سچ کہہ رہی ہوں احمر تم شاید میری باتوں کو سیریس نہیں لے رہے۔۔۔ وہ صدمے کی حالت میں بولی جبکہ فائز ہنوز اسے نظر انداز کئے لیٹا رہا۔۔۔
میں ایسا کیا کروں جو تمہیں مجھ پر یقین آ جائے احمر۔۔۔ وہ مزید اسکے قریب ہوتی آہستہ آواز میں بولی۔۔۔ مگر وہ ٹس سے مس نا ہوا۔۔۔ میں جانتی ہوں کے تم احمر نہیں تم فائز ہو۔۔۔ پیچھے تمہاری فیملی ہے تمہارے اپنے ہیں۔۔۔ احمر شیخ میں نے محبت کی ہے تم سے۔۔۔ اور اسی محبت کے صدقے میں چاہتی ہوں کے تم ان بے حس لوگوں سے واپس چلے جاو۔۔۔ وہاں جہاں تمہارے اپنے ہوں۔۔۔ پلٹ جاو اپنوں کے
درمیاں۔۔۔ اسکے لئے میں ہر حد سے گزر جاوں گی۔۔۔ وہ اور بھی ناجانے کیا کیا بول رہی تھے لیکن فائز سنی ان سنی کیا چت لیٹا رہا۔۔۔ یہ اندازا لگانا مشکل امر تھا کے وہ سو گیا ہے یا جاگ رہا ہے۔۔۔ شائنہ کافی دیر تک لب بھینچے اسے دیکھتی رہی ۔۔۔ پھر گہرا سانس خارج کرتی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوتی کمرے سے نکل گئ۔۔۔ شاید وہ واقعی سو گیا تھا۔۔۔ اسکے کمرے سے نکلتے ہی فائز نے آنکھیں کھولیں اور تاسف سے سر جھٹکتا پھر سے آنکھیں موند گیا۔۔۔۔
*****
اتنی چپ چی سی۔۔۔ اتنی خاموش کیوں ہو علایہ۔۔۔۔ اگر کوئی بات ڈسٹرب کر رہی ہے تو شئیر کرو نا یار۔۔۔ ہمارا رشتہ اس نوعیت کا تو ضرور ہے کے ہم ایک دوسرے سے اپنی باتیں شیئر کر سکیں۔۔۔ اگر میری کوئی بات بری لگی ہے تو بھی بتاو تو سہی نا۔۔۔ یوں خاموش ہو جانا کونسے مسلے کا حل ہے۔۔۔
وہاج اور علایہ رات کے کھانے کے بعد واک پر آئے تھے جب راستے میں آئسکریم کھاتے وہاج علایہ کا گم صم انداز دیکھ مستفسر ہوا۔۔ پہلے وہ اسکی خاموشی اور گم صم انداز کو اسکے امتحانات سے مشروط دے رہا تھا لیکن کل اسکا آخری پیپر تھا اور پیپرز سے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ بجائے اسے فریش اور ریلیکس ہونے کے ہنوز ویسا ہی دیکھ پوچھے بنا نا رہ سکا۔۔۔
وہاج کے درست تجزے پر علایہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
نہیں۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔۔ وہ بمشکل تھوک نگلتی گویا ہوئی۔۔۔
پھر مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے۔۔۔
نہیں تو۔۔۔ اس سے آئسکریم کھانا محال ہوا۔۔۔ بھلا کیا جواب دیتی اسے۔۔۔
کتنے دن ہوگئے تم نے میرے لئے کچھ پکایا نہیں۔۔۔۔
اسکے شکوے پر علایہ نے حیرت سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔۔۔ اسکی آواز میں تاسف تھا۔۔
ایکسکیوز می۔۔۔ میں ایسا کیوں کرنے لگا بھلا۔۔۔ وہاج نے آنکھیں چندہی کرتے اسے دیکھا۔۔۔ کیونکہ میرے کھانوں میں ایسا کچھ نہیں کے اسے یاد رکھا جائے یا انکی فرمائش کی جائے۔۔۔ علایہ نے آئسکریم کپ سے آخری چمچ بھی نکال کر منہ میں ڈالتے کپ وہیں پھینکا۔۔۔
جی نہیں۔۔۔ اب ایسی بات بھی نہیں۔۔۔ خاصی امپرومنٹ آ چکی ہے تمہاری کوکنگ میں۔۔۔ اور مجھے اچھا لگتا ہے تمہارا میرے لئے کچھ نا کچھ پکانا۔۔۔ میرا انتظار کرنا ۔۔۔ اور اسرار کر کے کھلانا۔۔۔ دراصل تم مجھے اپنا عادی بنا کر اب چیک کرنا چاہتی ہوں کے میں کس قدر تمہارا عادی ہوا ہوں۔۔۔ اور ہوا بھی ہوں یا نہیں۔۔۔ تو مسز۔۔۔ ہو گیا یار تمہاری اوٹ پٹانگ حرکتوں کا عادی۔۔۔ اسنے جان بوجھ کر لفظ اوٹ پٹانگ کا استعمال کیا کے جانتا تھا اب بحث پکی تھی۔۔۔ اسی لئے تو اب مس کر رہاہوں وہ سب۔۔۔ کیونکہ تمہاری انسانوں والی سیریس حرکتیں سمجھ نہیں آ رہی نا۔۔۔ اس نے مسکراہٹ دابی۔۔۔ لیکن اسکی حیرت کی انتہا نا رہی جب علایہ نے اسکی کسی بات پر کوئی غیر متوقع ردعمل نا دیا تو۔۔۔
ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔۔ وہ گم صم سی چہرا جھکائے سینے پر بازو باندھے سڑک کنارے چلتی الجھی الجھی سی بول رہی تھی۔۔۔
ایک چھوڑ سو پوچھو۔۔۔۔
آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی۔۔۔
مرتسم نے چلتے چلتے زرا سا رک کر اسے تعجب سے دیکھا۔۔۔ پھر قہقہ لگا کر ہس پڑا۔۔۔
To be very honest...
تمہارے حسن پر فدا نہیں ہوا تھا یار۔۔۔ اور نا ہی تم سے کوئی دھوان دار قسم کا عشق ہوا تھا۔۔۔ یہ تو مام کا دل آ گیا تھا تم پر جو میری قسمت پھوٹ گئ۔۔۔ اسکا لہجہ شریر تھا۔۔۔ وہ جان بوجھ کر اسے چھیڑ رہا تھا۔۔۔ لیکن اسکا لفظ لفظ علایہ کے دل پر کس انداز میں اثرانداز ہو رہا تھا شاید ہی وہ سمجھ پاتا۔۔۔
آپکو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ وہ کافی دیر بعد بولی۔۔۔
ہممم۔۔۔ دراصل تمہاری طرح کھلم کھلا انکار نہیں کر سکا نا۔۔۔ وہ مضنوعی تاسف سے سر نفی میں ہلاتا گویا اپنی غلطی مان رہا تھا۔۔۔ علایہ کے دل پر بوجھ بڑھا ۔۔۔۔
آپ ایک بہت اچھے انسان ہیں وہاج۔۔۔ علایہ کے کہنے پر وہ کورنش بجا لایا۔۔۔
بلاشبہ آپ کسی بھی لڑکی کے آئیڈیل ہو سکتے ہیں۔۔۔ وہ کھوئی کھوئی سی بول رہی تھی۔۔۔
تمہارا ہوں نا۔۔۔ اسنے جیسے کنفرم کیا۔۔۔
بلاشبہ۔۔۔۔
بس پھر باقی لڑکیوں کو چھوڑو یار۔۔۔۔۔ اسنے جیسے بات ہوا میں اڑائی۔۔۔
آپکو اپنے لئے سٹینڈ لینا چاہیے تھا۔۔۔
کیسا سٹینڈ۔۔۔ وہ الجھا۔۔۔
آپکو یوں اپنی محبت سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ آپکی محبت سے دستبرداری میری زندگی کی سب سے بڑی خلش ہے اسکی آواز بھرا گئ۔۔۔
وہاج تھم سا گیا۔۔۔ یکدم جیسے دماغ میں کچھ کلک ہوا۔۔۔ کوئی الارم سا بجا۔۔۔ اسنے وہیں کھڑے کھڑے سب ریوائنڈ کیا۔۔۔
کب سے شروع ہوا تھا یہ سب۔۔۔ علایہ کا رویہ کب بدلا کیوں بدلا۔۔۔ کیا مطلب تھا ان نافہم باتوں کا بھلا ۔۔
کیا ماہرہ کے اپارٹمنٹ میں آنے کے بعد سے یا اسنے ہی اسکا بدلہ رویہ تب محسوس کیا۔۔۔
اس سے پہلے بھلا کیا ہوا تھا۔۔۔ اتنی ساری سوچوں کے درمیان وہ جھنجھنا اٹھا۔۔۔
ان سب چیزوں کا لنک ایک ہی چیز سے شو ہو رہا تھا وہ مزید دماغی طور پر الجھ نہیں سکتا تھا۔۔۔ تبھی لمبے لمبے ڈگ بھرتا علایہ تک پہنچا جو چلتے چلتے اس سے کافی آگے نکل گئ تھی۔۔۔
کیا تم سے حرا نے کوئی بکواس کی ہے۔۔۔ اسنے علایہ تک پہنچتے اسکے بازو سے پکڑ کر یکدم اسکا رخ اپنی جانب موڑا۔۔۔ علایہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ تنا چہرا۔۔۔ غصیلے تاثرات سختی لیے ہوئی آنکھیں۔۔۔۔ وہ لب بھینچ لگی۔۔۔
علایہ مجھے ساری بات کھل کر بتاو۔۔۔ کیا کیا بکواس کی اسنے تم سے۔۔۔
وہ گہری سانس خارج کرتا خود کو کمپوز کرتا تحمل سے گویا ہوا۔۔۔ ابھی تک ایک شک تھا کے شاید یہ سب حرا کا کیا ڈھرا ہے اس پر حقیقت کی مہر علایہ ہی ثبت کر سکتی تھی۔۔۔
آپ غصہ کیوں کر رہے ہیں وہاج۔۔۔ اسنے تو اپنا دکھ شئیر کیا تھا مجھ سے کے۔۔۔
دکھ ۔۔۔دکھ مائے فٹ۔۔۔ وہ غصے سے بولتا بولتا مٹھیاں میچے پھر سے اپنا آپ کنٹرول کر گیا۔۔۔ پھر وہیں کھڑے کھڑے دو تین گہرے سانس خارج کئے اور جیب سے موبائل نکالتے تیزی سے ایک نمبر ڈائل کیا۔۔۔
ابھی تک شک تھا مگر علایہ کا ایک ہی جملہ اس شک کو حقیقت میں بدل گیا تھا۔۔۔
دوسری طرف بیل جا رہی تھی وہ فون سپیکر پر لگا گیا۔۔۔ ہاتھ کی مٹھی بنا کر ماتھے پر مارتے اسکا بس نا چل رہا تھا کے فون کے اندر سے ہاتھ ڈال کر حرا کو اپنے سامنے لا کھڑا کرے۔۔۔
Hey bro... Is every thing OK...
اتنی صبح صبح کال۔۔۔ دوسری جانب سے حرا کی نیند میں ڈوبی آواز ابھری۔۔۔ وہاں غالباً اس وقت صبح صادق تھی۔۔۔
کیا بکواس کی ہے تم نے علایہ سے۔۔۔ وہ اسکی آواز اور بات دونوں نظر انداز کرتا ڈھارا۔۔۔
دوسری طرف چند لمحوں کے توقف کے بعد بڑا جاندار قہقہ گھونجا۔۔۔
آہا۔۔۔ بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے۔۔۔ اسکی نیند شاید اڑ چکی تھی تبھی چٹخارہ لیتے بڑے پرسکون انداز میں گویا ہوئی۔۔
علایہ کے کان فوراً کھڑے ہوئے۔۔۔
بکواس نہیں۔۔۔ سیدھی طرح مجھے وہ بات بتاو جو علایہ سے کہی ہے ورنہ امریکہ پاکستان سے اتنا دور بھی نہیں۔۔۔
چل برو۔۔۔ چل یار۔۔۔ کیا ہو گیا۔۔۔
It was just a prank... Just like that..
جیسا آپ نے جوزف سے کیا تھا۔۔۔ پارٹنر۔۔۔ آپ ہی سے سیکھ کر آپکی ٹرک آپ پر ہی چلائی ہے۔۔۔ ایک چیز جو آپ کرو وہ ٹھیک ۔۔۔ میں کروں تو وہ خراب کیسے ہوگئ۔۔۔ وہی سب کچھ میں نے بھابھی سے کہا جو آپ نے دانیال کے کہنے پر جوزف سے کہا تھا۔۔۔ سو سمپل۔۔۔ پھر یہ سب غلط کیسے ہو گیا۔۔۔ اسکی اطمیئنان بھرے لہجے پر وہ کوفت سے آنکھیں میچ گیا۔۔۔
حرو۔۔۔۔۔ وہ غیر مسلم تھا یار۔۔۔ تم میں دلچسپی دکھا رہا تھا۔۔۔۔ تم سے نکاح کبھی نا کرتا محض ڈیٹ کرتا یار۔۔۔ اور یہ ہم کیسے برداشت کرلیتے۔۔۔ اس لئے میں نے اور دانیال نے پلان کیا تھا یہ سب اور وہ سب تو۔۔۔
وہ سب تو پرینک تھا رائٹ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہاج بات مکمل کرتا وہ اسکی بات کاٹ گی۔۔۔
تو یہ بھی پرینک تھا پارٹنر۔۔۔ سمجھ لیں اس پرینک کا جواب تھا کیونکہ ہم ادھار نہیں رکھتے آپ جانتے ہیں یہ بات۔۔۔ ابھی آپکا ادھار چکایا ہے دانیال کے ساتھ مل کر ابھی اسکا حساب بے باک کرنا ہے آپکے ساتھ مل کر سو چل۔۔۔۔ باقی اپنی مسز کو خود ہی ڈیل کریں یہ میرا ہیڈیک تھوڑی ہے اور اب مجھے سونے دیں خوامخواہ ہی اتنی صبح صبح نیند خراب کر دی۔۔۔ اپنی بات مکمل کر کے وہ بنا اسکی کوئی بات سنے فون بند کر چکی تھی ۔۔۔۔وہ گہرا سانس خارج کرتا فون بند کر گیا۔۔۔ اچانک اسکی نگاہ علایہ کی جانب اٹھی جو حق دق سی اڑی اڑی رنگت لئے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ بے ساختہ وہاج کی ہسی نکل گئ۔۔۔ بس اب زیادہ زور نا دو اپنے چھوٹے سے دماغ پر پہلے ہی ناجانے اس پر کتنا بوجھ ڈالتی تم کیا کیا سوچتی رہی ہو۔۔۔ اسنے ہاتھ بڑھا کر اسے کھینچتے خود میں بھینچا۔۔۔
ایم سوری وہاج ۔۔۔ وہ ۔۔۔وہ دراصل۔۔۔۔
اٹس اوکے یار۔۔۔ اٹس اوکے۔۔۔ بی ریلیکس۔۔۔ اسنے نرمی سے اسکا سر سہلایا اور آہستگی سے اسے خود سے الگ کیا اور پھر سے چلنے لگا۔۔۔۔
مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کے وہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔ بلکہ میں تو گلٹ میں تھی کے میری وجہ سے۔۔۔
اوہ کم آن علایہ۔۔۔ میں اگر کسی لڑکی سے محبت کرتا تو کیوں اس سے دستبردار ہوتا۔۔۔ کیا تمہیں میں ایسا لگتا ہوں کے اپنی محبت کے لئے سٹینڈ نا لے پاتا۔۔۔۔ علایہ میاں بیوی رشتے کی بنیاد ہے اعتبار ۔۔۔ میں جانتا ہوں ہماری ارینج میرج ہے اور ماضی میں ہوئے چند واقعات کی بنا پر تم حرو کے پرینک کو سچ سمجھ گی۔۔۔ لیکن مستقبل میں میں تم سے ایسی کسی بے وقوفی کی توقع نہیں رکھتا ۔۔۔ میری زندگی میں آنے والی واحد لڑکی مسز علایہ وہاج خانزادہ ہے جو اس وقت میری بیوی کے حیثیت سے میرے ساتھ کھڑی ہے۔۔۔ وہ نرمی سے اسکی بات کاٹتا گویا ہوا۔۔۔
مجھے تم سے محبت ہے عشق ہے یا کیا ہے میں نہیں جانتا۔۔۔ بس اتنا جانتا ہوں کے تمہاری عادت ہوگئ ہے۔۔۔ مجھے تمہارے ساتھ رہنا باتیں کرنا اور تمہارے ہاتھ کے کھانے کھانا اچھا لگتا ہے۔۔۔ وہ وقت میرے دن بھر کے وقت میں سے سب سے بہترین وقت ہوتا ہے جو میں تمہارے ساتھ گزارتا ہوں اینڈ ڈیٹس اٹ۔۔۔۔۔ اب یہ کیا ہے اسے تم خود ہی کوئی نام دے لو۔۔۔
محبت کرنا یا محبت کی شادی کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔۔۔ یہ سب کر لیتے۔۔۔ اصل بات ہوتی ہے شادی کے بعد محبت نبھانا۔۔۔ جو سب کے بس کی بات نہیں یہ کوئی کوئی ہی کر پاتا ہے۔۔۔۔ نوے فیصد محبت کی شادیاں ناکام ہو جاتی ہیں۔۔۔کیوں۔۔۔ کیونکہ لوگ شادی سے پہلی کی لفاظی کئیر اور میٹھے بولوں کو محبت سمجھتے ہیں۔۔ حالانکہ اصل محبت شروع ہوتی ہی شادی کے بعد۔۔۔ جہاں اختلافات بھی ہوتے ہیں غلط فہمیاں بھی شکوے اور شکایات بھی۔۔۔ اور محبت کے دعوے دار انہی سچویشنز کو ہینڈل نہیں کر پاتے۔۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسلہ بنا لیتے ہیں۔۔ یوں گھر نہیں بستے۔۔۔ گھر بستے ہی سمجھداری سے ہیں ۔۔۔ کمپرومائز سے ہیں۔۔۔ کبھی جھک کر تو کبھی جھکا کر۔۔۔ انا اور ضد کو چھوڑ کر ۔۔۔ اور یہ ہی تو محبت کا اصل امتحان ہوتا ہے۔۔۔
دیکھو علایہ غلط فہمیاں ہر جگہ پیدا ہو جاتی ہیں۔۔۔ یہ ہی زندگی ہے۔۔۔ اس میں اختلاف بھی پیدا ہونگے اور غلط فہمیاں بھی۔۔۔ آج تمہیں غلط فہمی ہوئی کل مجھے بھی ایسی غلط فہمی ہو سکتی ہے۔۔۔ لیکن خاموش رہ کر اندر ہی اندر کڑھنا اسکا حل نہیں۔۔۔ آگر آج میں تم سے بات کلئیر نا کرتا تو کیا ہوتا۔۔۔ تم پوری زندگی اس ایک کسک کو اندر لے کر اندر ہی اندر سلگتی رہتی۔۔۔
یار مسلے حل ہوتے ہیں بات کرنے سے۔۔۔ مستقبل میں تمہیں مجھ سے جو بھی اختلاف ہو جو بھی کوئی غلط فہمی ہو وہ بات کر کے کلئیر کر لینا۔۔۔ خدارا خاموش مت رہنا۔۔۔ خود بھی پرسکون رہنا اور مجھے بھی رکھنا۔۔۔ وہ بہت نرمی سے مسکراتے ہوئے بول رہا تھا۔۔۔علایہ نے نم انکھوں سے اسے دیکھتے سر ہاں میں ہلایہ۔
۔ بلاشبہ وہ اسکے لئے ایک بہترین انتخاب تھا۔۔۔
****
کہاں تک پہنچا سب۔۔ ماہرہ اپنے ہینڈ بیگ میں سر دئیے وہاں سے کچھ تلاشتی مصروف سے انداز میں اندر داخل ہوئی۔۔۔ جیسے جیسے انکا پراجیکٹ مکمل ہو رہا تھا پریشر بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔ کہ اگر انکا اگلا پلان فلاپ ہو گیا تو۔۔۔ اگر ویسا نا ہوا جیسا انہوں نے سوچا ہے تو۔۔۔
آج شام یا کل صبح تک یہ فائنل ہو جائے گا۔۔۔ وہاں ہارڈ وئیر کا بہت سا سامان بکھرا پڑا تھا۔۔۔ وہاج اور مرتسم دونوں ہی مصروف تھے۔۔۔ وہاج روبورٹ کی باقی مانندہ چیزوں کو تشکیل دے رہا تھا جبکہ مرتسم سوفٹ وئیر کے آخری کام مکمل کر رہا تھا۔۔
ہمیں کل ہی اس روبورٹ کو لانچ کرنا ہے۔۔۔
کل ۔۔۔ اتنی جلدی۔۔۔ ماہرہ کی بات پر مرتسم الجھا۔۔۔ ہاں میں مزید تاخیر نہیں چاہتی پتہ نہیں کیوں مگر میرے دل کو ایک ڈھرکا سا لگا ہے۔۔۔ جیسے اگر ہم نے اسے لانچ کرنے میں دیر کی تو بہت دیر ہو جائے گی۔۔۔
اوکے پھر پلان کیا ہے۔۔۔ مرتسم لیپ ٹاپ کی سکرین فولڈ کرتا اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
کل ہم اس روبورٹ کو دنیا کے سانے روبورٹ نہیں بلکہ فائز علوی کے طور پر متعارف کروائیں گے۔۔بہت عام سے انداز میں ماہرہ نے بہت بڑا دھماکہ کیا تھا کے دونوں اپنے کاموں سے ہاتھ روکتے اسے یوں دیکھنے لگے جیسے اسکا دماغ چل گیا ہو۔۔۔
ناممکن امر ماہرہ۔۔۔ پڑیکٹیکیلٹی سے بہت دور۔۔۔۔ روبورٹ اور انسان میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔۔۔ دیکھتے ہی پہچانا جا سکتا ہے کے یہ روبورٹ ہے یا انسان۔۔۔
مزید فائز کی ڈیٹھ ڈکلئیر ہے ڈیٹھ سرٹیفکیٹ تک بن چکا ہے۔۔۔ اسکی پوسٹ مارتم ریپورٹ موجود ہے۔۔۔ ایسے میں ایک روبورٹ کے ساتھ یہ کلیم کرنا کے وہ زندہ ہے اور بعد میں اگر ہم پکڑے گے تو محض تم ہی نہیں بلکہ ہم دونوں بھی پھنس سکتے ہیں۔۔۔ اس لئے تم اپنا پلان چینج کرو کیونکہ میری تو ابھی نی نئ شادی ہوئی ہے۔۔۔ وہاج سنجیدگی سے کہتا آخری بات غیر سنجیدگی سے کہہ کر واپس اپنے کام کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
پلان چینج نہیں ہو گا۔۔۔ اگر یہ رسک ہے تو میں یہ رسک لینے کو تیار ہوں۔۔۔ اور تم دونوں کو بھی فائز کی خاطر یہ رسک لینا ہوگا۔۔ کیونکہ میں ہر طرح کی کشیاں جلا کر میدان میں کودی ہوں۔۔۔ وہ یکدم ہی بپھر اٹھی تھی۔۔۔ اس مقام پر آ کر وہ اسے انکار کر رہے تھے۔۔۔
ریلیکس ہو جاو ماہرہ۔۔۔ جو تم چاہتی ہو وہی ہو گا۔۔۔ وہ مذاق کر رہا ہے۔۔۔ پورا پلان بتاو۔۔۔ اگر یہ پاگل پن ہے تو ہم فائز کے لئے یہ پاگل پن بھی کر چھوڑیں گے۔۔۔ کامیاب ہوئے تو ٹھیک ورنہ اگر پھسے تو اکھٹے ہی پھنسیں گے۔۔۔ پھر اکھٹے مل کر سوچ لیں گے کے آگے کیا کرنا ہے۔۔۔ مرتسم اسے ریلیکس کرنے کو مسکرا کر گویا ہوا جسے دیکھ کر ہی لگ رہا تھا کے ان دونوں کے انکار پر وہ کسی بھی پل رو دے گی۔۔۔ مرتسم کی جانب سے ڈھارس ملنے پر وہ بنا بحث کئے کرسی گھسیٹ کر اسکے قریب ہو کر بیٹھی جبکہ وہاج مرتسم کو گھور کر رہ گیا۔۔۔مرتسم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے پرسکون رہنے کا اشارہ کیا اور خود ماہرہ کی بات سننے لگا۔۔۔ یہ بات تو طے تھی کےمحبت میں دیوانی یہ لڑکی ان دونوں کو بری طرح پھنسانے والی تھی۔۔۔
*****

No comments