Roshan Sitara novel 112th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 112th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
112th epi...
میر نے اسے بالوں سے جھکڑتے جھٹکا دے کر اوپر اٹھایا فائز نے نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھا جب میر کے اشارے پر چند لوگوں نے پکر کر اسے کرسی پر بیٹھاتے اسکے ہاتھ اور پاوں کرسی کے ہینڈلز کے ساتھ لاک کئے یوں کے وہ اس سخت گرفت سے خود کو آزاد کروانے کی کوشیش میں پھڑپھڑا کر رہ گیا۔۔۔
گردن ایک جانب کو ڈھلکنے لگی تھی۔۔۔
یااللہ میرے فائز کی حفاظت کرنا۔۔۔ اسے اپنے حفظ و ایمان میں رکھنا میرے مالک۔۔۔ گرم ہوا کا جھونکا تک اسے چھو کر نا گزر سکے اسے ہر سرد و گرم سے محفوظ رکھنا۔۔۔ سجدے میں سر رکھے ماہرہ کی ہچکیاں بندھنے لگی تھیں۔۔۔ دل کو عجیب ڈھرکا و بے چینی لگی تھی۔۔۔۔
میر جا کر دلاور خان کے ساتھ والی کرسی پر پرسکون ہو کر بیٹھا اسکی مسکراتی فاتحانہ نگاہیں بے بس بیٹھے فائز کی جانب تِھیں جسے اب اسکے بندے تیزی سے وائرز سے جھکڑ رہے تھے۔۔۔ ہاتھوں بازوں اور پاوں کے علاوہ کندھوں اور کنپتیوں پر بھی مخصوص وائرز سیٹ کی جا رہی تھی۔۔۔ فائز علوی اپنی پوری ول پاور استعمال کرتا انکی قید میں پھڑ پھڑاتا خود سے ان وائرز کو الگ کرنے کی کوشیشوں میں ہلکان ہو رہا تھا جبکہ دور بیٹھا میر اسکی بے بسی سے حظ اٹھا رہا تھا۔۔۔
میرے مالک تیرے حکم کے بنا اس دنیا کا ایک پتہ تک نہیں ہل سکتا۔۔۔ میرے فائز پر رحم کر میرے مالک۔۔۔ وہ جہاں بھی جس حالت میں بھی ہے اسکی حفاظت فرما۔۔۔ میرے فائز کی حفاظت فرما میرے مالک۔۔۔
دفعتاً میر اپنی جگہ سے اٹھا اور ان وائرز کو آپریٹ کرتی مشین تک آیا پھر ہاتھ بڑھا کر دو چھوٹے چھوٹے سرخ رنگ کے بٹنوں کو زور لگاتے نیچے کیا۔۔۔ ساتھ ہی فائز علوی کا جسم بے برح جھٹکے کھانے لگا۔۔۔یوں کے اگر اسکے ہاتھ بازو اور ٹانگیں کرسی کے ساتھ سختی سے لاک نا ہوتیں تو وہ وہاں سے اچھلتا کئ فٹ دور جا گرتا۔۔۔۔ منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکلنے لگیں تھیں۔۔۔ شاک کی وولٹیج زیادہ تھی۔۔۔ اسکا جسم پے در پے جھٹکے کھا رہا تھا۔۔۔میر کے تمام اہلکار قطار میں ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔۔۔
دفعتاً اسنے بٹن اٹھا دئیے ایک زور دار جھٹکا کھا کر فائز کا جسم ساکت ہوا۔۔۔ سر ایک جانب کو دھلک گیا۔۔۔ جبکہ سرخ پڑتی آنکھوں سے ایک بے بس آنسو ٹپکا۔۔۔
میرے مالک تیرے ہاتھ میں سارے جہانوں کی بادشاہت ہے۔۔۔ تیرے لئے کچھ ناممکن نہیں۔۔۔ میرے فائز کے لئے غیب سے مدد بھیج۔۔۔ میرے شوہر کو فتح یاب کر کے واپس ہم تک لوٹا دے۔۔۔
بولو کون ہو تم۔۔۔ کیا نام ہے تمہارا اور یہاں کس مقصد سے آئے ہو۔۔۔ بولو۔۔۔ میر غرایا۔۔۔ یہاں اس مقام پر اچھے اچھے سورما تیر کی طرح سیدھے ہو جاتے تھے۔۔۔۔ وہ تو پھر اسے کافی ہیوی دوز دے چکا تھا۔۔۔
بولو۔۔۔ اسے ہنوز خاموش دیکھ وہ اسکے سر پر پہنچتا اسکے بال اپنی سخت گرف میں جھکڑے جھٹکے دیتا گویا ہوا۔۔۔
میر۔۔۔ میرا نا۔۔۔۔ نام۔۔۔ اسکا جسم بے جان ہوا پڑا تھا۔۔۔ حلق سے لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھے۔۔۔ سفید پڑتے ہونٹ کچھ کہنے کی چاہ میں پھڑ پھڑا رہے تھے۔۔۔۔میر کے ہونٹوں پر فخریہ مسکراہٹ ابھری۔۔۔ دلاور خان ٹیک چھوڑ سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
میرے فائز کی مدد کر میرے مالک۔۔۔ بے شک ہم تیری مدد کے محتاج ہیں۔۔۔ میرے شوہر کی مدد کر میرے مالک۔۔۔
میرا نام۔۔۔ ااا۔۔۔اح۔۔۔ احمر ش۔۔۔ شیخ ہے۔۔۔
بے ساختہ میر کے چہرے کے زاویے بگھڑے۔۔۔۔ یہ بھلا کیسے ممکن تھا۔۔۔ سب کانشیئس مائنڈ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔ لاشعور کی حالت میں وہ شخص کیسے جھوٹ بول رہا تھا۔۔۔ اسنے طیش میں ایک جھٹکے سے اسکے بال چھوڑے اور لمبے لمبے ڈگ بھڑتا واپس آپریٹنگ مشین تک گیا اور ایک ہی جھٹکے میں بٹن واپس گرا دئیے مشین چلنے کی آواز کیساتھ واپس فائز کا جسم جھٹکے کھانے لگا۔۔۔
بولو کیا نام ہے تمہارا۔۔۔ جلد ہی اسنے بٹن اٹھا دئیے پھر بنا اسکے جواب کا انتظار کئے واپس بٹن گرا دئیے۔۔۔ وہ یہ کام سیکنڈوں کے حساب سے کر رہا تھا۔۔۔ جیسے کوئی فارغ بیٹھا انسان بتی جلا اور بجھا رہا ہو۔۔۔
اور یہ فیز زیادہ خطرناک تھا۔۔۔ ایک پل کو فائز کا جسم جھٹکا کھاتا تو اگلے پل ساکت۔۔۔ ابھی اس حالت کو چند سیکنڈ نا گزرتے کے اسکا جسم واپس جھٹکا کھانے لگتا۔۔۔
جیسے میر کے سر پر کوئی جنون سوار ہو۔۔۔
تو کسی انسان کو اسکی ہمت طاقت اور اس کی سکت سے زیادہ نہیں آزماتا میرے مالک۔۔۔ دیکھ میری طرف۔۔۔ دیکھ میری بے بسی میرے ملک۔۔۔ میری ہمت ٹوٹ رہی ہے۔۔۔ سکت ختم ہو رہی ہے۔۔۔ میں قطرہ قطرہ مر ہوں میرے مالک مجھے سکون دے۔۔۔ میری آزمائش ختم کردے میرے مالک۔۔۔ بلاشبہ تیرے سوا یہ کسی کے بس کی بات نہیں۔۔۔ میرے شوہر کو ہم سے ملا دے۔۔۔ اسکی سختی اسکی آزمائش ختم کر ڈال۔۔۔
بول کیا نام ہے تیرا۔۔ بولللللل۔۔۔ وہ ایک مرتبہ پھر سے اسکے سر پر سوار تھا۔۔۔
ااااحححمممرررررر۔۔۔۔
تو ایسے نہیں مانے گا۔۔۔ وہ واپس آپریٹنگ مشین تک گیا۔۔۔
ظلم حد سے بڑھے تو ختم ہو جاتا ہے۔۔۔ ظالم کو شکست دے میرے مولا۔۔۔ میرے فائز کو فتح یاب کر دے یا رب۔۔۔ اسکی آواز بھاری ہونے لگی تھی۔۔۔ سجدے میں سر رکھے ہی اس پرغنودگی طاری ہونےلگی۔۔۔ میرے۔۔۔ فائززز۔۔۔ کی ۔۔۔۔ مم۔۔۔ مدد۔۔۔۔۔
اسنے پھر سے مشین کے بٹن دبائے جب کاریڈور سے ہیل کی ٹک ٹک کی آواز تیزی سے ابھرتی سنائی دی۔۔ جیسے کوئی بھاگتا ہوا اس طرف آ رہا ہو۔۔۔
میر نے بٹن اٹھاتے چند سیکنڈ کا وقفہ دیا اس سے پہلے کے پھر سے بٹن نیچے پھینکتا۔۔۔
What the hell is that going on there....
شائنہ ڈھارتی ہوئی ٹارچر سیل کر دروازہ دھکیلتی اندر داخل ہوئی۔۔۔ بلیک جینز اور بلیک ہی جیکٹ میں ملبوس ۔۔۔ اسکی رنگت اڑی ہوئی تھی۔۔۔ سانس چڑھا ہوا تھا وہ ہواس باختہ دکھائی دیتی تھی۔۔۔ اسنے چند سیکنڈ رک کر اپنی سانس بحال کی اور واپس فائز کی جانب لپکتی اندھا دھند اس پر لگی وائرز نوچ نوچ کر پھینکنے لگی۔۔۔
کیا کر رہی ہو تم پیچھے ہٹو۔۔۔ میر غصے سے اسکی جانب لپکا۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی حیوان درندے۔۔۔ یہ کیا طریقہ ہے کسی کو ٹارچر کرنے کا۔۔۔ وہ اسے پوری قوت سے پیچھے دھکیلتی چیخی۔۔
یہ ایک مجرم ہے اور میں اس سے حقیقت تسلم کروا۔۔۔
پھر کروا لی حقیقت تسلیم۔۔ بتا دیا اسنے سچ۔۔۔ وہ اکھڑے سانسوں سمیٹ لڑنے بھرنے کو تیار تھی۔۔۔
نہیں کیا ابھی سچ تسلیم۔۔۔ لیکن جلد کرے گا۔۔۔
نوووو۔۔۔ نوووو۔ اب تم اس سے سچائی تسلیم نہیں کرواو گے وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی غرائی۔۔۔ کیونکہ لاشعور میں انسان بولتا ہی سچ ہے۔۔۔ جو وہ بول چکا۔۔۔ اب تو تم۔۔۔ وہ کچھ توقف کو رکی۔۔۔ تاثرات مزید سخت ہوئے۔۔۔ اس سے دشمنی نکالو گے۔۔۔ کیونکہ تم اور کسی طرح سے اس سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔۔۔ نا عقل سے نا ہاتھ سے۔۔۔
چچا جان یہ۔۔۔ وہ تلملاتا ہوا کرسی پر سکون سے بیٹھے دلاور خان کی جانب بڑھا۔۔۔ جیسے شائنہ کے الفاظ چابک کی مانند لگے ہوں۔۔۔
اٹھاو اسے اور کمرے میں پہنچاو۔۔۔ وہ پیچھے کھڑے آدمیوں سے روبدرانہ انداز میں گویا ہوئی۔۔۔ وہ سبھی الڑت ہوتے آگے بڑھے۔۔۔
تم صرف اسے جسمانی معذوری دینا چاہتے ہو۔۔۔ تا کے اسے بے بس کر کے اس پر اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ سکو۔۔۔ مگر میں تمہیں بتاوں۔۔۔ وہ واپس اسکی جانب گھومی جو چچا جان کی خاموشی کے باعث مٹھیاں بھینچے ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا۔۔۔ شاید چچا جان بھی احمر پر یقین لے آئے تھے۔۔۔
کے وہ شخص اگر خدانخواستہ معذور ہو بھی جائے۔۔ وہ رکی لہجہ مزید کڑوا ہوا۔۔۔
تو بھی تم پر بھاری رہے گا۔۔۔ غصے سے کہتی وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی کمرے سے نکل گئ۔۔۔
******
صبح ماہرہ کی آنکھ کھلی تو رات والی بے چینی مفقود تھی لیکن اندر کہیں ایک گہری چپ لگ گئ تھی۔۔۔۔ وہ ماں کے ساتھ ناشتہ کر کے اپارٹمنٹ واپس آگئ۔۔۔ باقی چاروں وہاں پہلے سے ہی موجود تھے اور اپنا کام شروع کر چکے تھے۔۔۔ وہ تھکے تھکے قدم اٹھاتی لیب میں ہی آگئ۔۔۔
کانگریجولیشنز ماہرہ ہمارا اے آئی بیس روبورٹ تقریباً تیار ہے محض کچھ ٹیسٹس باقی ہیں۔۔۔ اور ہاں اس بار ہم نے روبورٹ میں فائیٹنگ موڈ بھی رکھا ہے تا کے خطرہ بھانپنے پر یا آٹو موڈ آن کرنے پر یہ دشمن سے لڑ سکے اور ٹرسٹ می یہ ایک اکیلا روبورٹ سو انسانوں پر بھاری ہے۔۔۔ مرتسم اور ووہاج کے لہجے میں خوشی تھی۔۔۔ ماہرہ روبورٹ کے عین سامنے کھڑی تھی جو ابھی دیکھنے سے لوہے کا ڈھانچہ لگتا تھا ابھی اسکا کچھ کام باقی تھا۔۔۔ ایسے ہی ایک روبورٹ سے پہلی ملاقات پر وہ اچھا خاصا ڈر گئ تھی۔۔۔ ایک بھولی بسری یاد نے اسکے لبوں پر اداس مسکراہٹ بکھیر دی۔۔۔
یہ ابھی نامکمل ہے وہاج۔۔۔ وہ کھوئی کھوئی سی گویا ہوئی۔۔۔
ہاں اسکا کچھ کام باقی۔۔۔
کچھ نہیں ابھی کافی کام باقی ہے۔۔ وہ بے ساختہ اسے ٹوک گئ۔۔۔ مرتسم اور وہاج دونوں ٹھٹھکے۔۔۔
مطلب۔۔۔ کیا کچھ اور بھی ہے جو ابھی کرنا باقی ہے۔۔۔
ہاں۔۔۔ وہ ہنوز کھوئی کھوئی سی تھی۔۔
کیا۔۔۔
کسی بھی روبورٹ کو ہم کسی بھی شکل کا تشکیل کر سکتے ہیں۔۔۔ فائز کے اس روبورٹ کو ہمیں فائز کی صورت پر تشکیل دینا ہے۔۔۔
وھاٹٹٹٹ۔۔۔ وہ دونوں حیرت زدہ سے چیخے۔۔۔
یس۔۔۔ اسکی آواز مستحکم تھی۔۔۔
لیکن کیوں۔۔۔ کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں۔۔۔
پہلے ٹاسک پورا کرو پھر بتاوں گی۔۔۔ وہ گہری سانس خارج کرتی پیچھے ہٹ کر کرسی پر بیٹھتی پرسکون سی روبورٹ کو ناقدانہ نگاہوں سے جانچ رہی تھی۔۔۔
نا صرف شکل بلکہ قد قاتھ حتکہ جسامت بھی ہو بہو اسکے جیسی ہونی چاہیے۔۔۔ اسکی نگاہیں ہنوز روبورٹ کا احاطہ کر رہی تھی۔۔۔
اسکے لئے مزید کچھ چیزیں آرڈر کرنی پڑیں گی۔۔ وہ دونوں ہی اسکی بات کا احترام کرتے واپس اپنی سیٹیں سمبھال چکے تھے۔۔۔
کر لو آرڈر۔۔۔ مگر کوشیش کرنا سب ارجینٹ بیسسز پر مل جائے۔۔۔ میں مزید انتظار نہیں کر سکتی۔۔۔
انشااللہ سب بہتر ہو گا۔۔۔ مرتسم نے اسے تسلی دی اور اب وہ خود آنلائن ویب سائٹ سے اپنی مطلوبہ چیزیں ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔
*****
فائز نے رفتہ رفتہ اپنی آنکھیں کھولیں تو نگاہیں سیدھی فین سیلنگ سے ٹکرائیں۔۔۔ وہ چند لمحے ساکت نگاہیں وہیں مرکوز رکھے بے دھیانی میں دیکھتا رہا۔۔۔ رنگت زرد پڑ رہی تھی کنپٹیوں ہاتھوں بازو ٹانگوں اور شانوں پر گہرے سبز رنگ کے گویا نیل سے بن گئے تھے۔۔۔ یہ وہ مقامات تھے جہاں وائرز اٹیچ کی گئ تھیں۔۔۔ وہ غالباً کسی ہسپتال کا کمرا تھا۔۔۔ اسنے نگاہیں گھما کر دیکھا اسکے ہاتھ پر آئی وی لائن کی مدد سے ڈرپ اٹیچ تھی جہاں سے قطرہ قطرہ محلول اسکے جسم میں شامل ہو رہا تھا۔۔۔ پاس ہی موجود سنگل کرسی پر شائنہ بے آرامی سے سو رہی تھی۔۔۔ اسے دیکھ فائز کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری۔۔۔ ایک نیا ٹریپ۔۔۔ ہمدری کے ریپر میں لپیٹ کر۔۔۔ وہ سر جھٹک گیا۔۔۔ وہ واپس سر سیدھا کرتے آںکھیں مونڈ گیا۔۔۔ وہ یہاں اس مقام پر جان دے سکتا تھا لیکن اپنے وطن سے غداری نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔
رات جو بھی ہوا جلد یا بدیر وہ اس چیز کی توقع رکھتا تھا۔۔۔ دشمن طاقت ور ہو اور شکست سے دوچار ہونے پر ظلم اور درندگی پر نا اترے یہ ممکن نا تھا۔۔۔ اور اس ایک وقت کی اسنے بہت سی تیاری کر رکھی تھی۔۔۔ لیکن اتنی ساری تیاری کے باوجود وہ اس وقت سے خوفزدہ تھا۔۔۔ پتہ نہیں کیسے اسنے رات وہ ایک خوفناک منزل پار کر لی تھی شاید کسی کی دعائیں رنگ لے آئی تھیں۔۔۔
سب کانشئیس مائنڈ یعنی کے لاشعور کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔ سب کانشئیس مائنڈ بنا کسی کمانڈ کے سب خودباخود کرتے چلے جاتا ہے۔۔۔ جیسے ایک مسلم خاتوں کا سو کاموں میں مصروف ہونے کے باوجود اذان کی آواز پر خودباخود لپک کر آنچل اٹھا کر سر پر اوڑھنا۔۔۔ یا نماز کے وقت دماغ میں سو الجھنوں کے باوجود بے خیالی میں ساری نماز ادا کرتے چلے جانا۔۔۔ یہ سب لاشعور کرتا ہے۔۔۔ نماز میں اکثر لوگوں کو رکعتیں تب بھولتیں ہیں جب لاشعور اور شعور مل جاتا ہے۔۔۔ جیسے انسان کسی سوچ میں غرق نماز ادا کر رہا ہو اور بیچ نماز میں وہ اس سوچ کو جھٹکتے نماز کی طرف توجہ لے جائے تو لاشعور اور شعور ٹکرا جاتے ہیں اور اکثر انسان رکعتیں بھول جاتا ہے۔۔۔ اسی طرح سکول کالج یا آفس کا راستہ جہاں روز کا آنا جانا ہو وہاں انسان بے خیالی میں بھی پہنچ جاتا ہے کیونکہ سب لاشعور نے سمبھال رکھا ہوتا ہے۔۔۔
اسی طرح شعور کو سلا کر لاشعور سے انسان کا نام یا اسکی حقیقت دریافت کی جائے تو ایک پرسنٹ بھی چانس نہیں کے لاشعور جھوٹ بول جائے۔۔۔ لیکن فائز کے معاملے میں ایسا ہوا تھا ۔۔۔ لاشعور نے جھوٹ بولا تھا ۔۔۔ کیوں۔۔۔
کیونکہ فائز علوی نے اس چیز پر بہت محنت کی تھی۔۔۔
لاشعور کیسے بنتا ہے۔۔۔
وہ کام جو انسان روزانہ کی بنیاد پر مسلسل لگاتار کرتا ہو وہ انسان کے لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے۔۔۔ پھر اس پیٹرن کو دہرانے کے لئے انسان کو زیادہ محنت درکار نہیں ہوتی۔۔۔ یعنی کے انسان کی اپنی کمانڈ سے سب کانشیئس مائنڈ بنتا ہے۔۔۔
پچھلے پونے دو سالوں سے جب سے فائز علوی نے خود کو احمر شیخ کی آئیڈینٹیٹی سے ریپریزینٹ کیا تھا اسنے صبح و شام اپنے دماغ کو کمانڈ دی تھی کے وہ احمر شیخ ہے۔۔۔ سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھے اسنے اپنے لاشعور کو یہ واضح پیغام دیا تھا کے وہ کون ہے۔۔۔ فائز علوی نام کو وہ شعور میں بھی بہت کم دہراتا تھا۔۔۔۔ اسی لئے کہا جاتا ہے جس چیز کو حاصل کرنا چاہو یا جس چیز پر کام کر رہے ہو اسے اپنے لاشعور کا حصہ بنانے کے لئے بار بار خود کو اسکی کمانڈ دو حتکہ وہ آپکے لاشعور کا حصہ بن جائے۔۔۔
لیکن اسکے باوجود اسے کچھ خدشات لاحق تھے کے لاشعور میں وہ کچھ غلط نا کر بیٹھے۔۔۔ یہ اللہ کی کچھ خاص کرنی تھی کے میر خان کی سوئی اسکے نام سے آگے نا بڑھی۔۔۔ اگر وہ نام سے آگے بڑھتے اسکے متعلق کچھ اور پوچھ لیتا تو شاید لاشعور ابھی تک سب اگل چکا ہوتا۔۔۔۔
لیکن اسے اپنے رب پر یقین تھا۔۔۔ جسنے ابھی تک اسکی مدد کی تھی تو وہ آگے بھی کرنے والا تھا۔۔۔
احمر۔۔۔ احمر تمہیں ہوش آ گیا۔۔۔ دفعتاً اسے آنکھیں کھولے دیکھ شائینہ تڑپ کر اسکی جانب لپکی۔۔۔ وہ کوفت سے آنکھیں میچ گیا۔۔۔ جب وہ پلان فیل ہو گیا تو اب ہمدری کا پلان آن ہو چکا تھا۔۔۔ یقیناً اب وہ اسے ہمدری کی چادر میں مدد کا لولی پاپ لپیٹ کر اس سے سچ اگلوانے کی کوشیش کرتی۔۔۔ اسکے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری۔۔
احمر پلیز آنکھیں کھولو۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرا تھامے ہوئے تھی۔۔
احمر نے غصے سے آنکھیں کھولیں۔۔۔ یہ لمس اسے رات لگنے والے شاک سے بھی زیادہ برا محسوس ہوا۔۔۔
ہاتھ ہٹاو۔۔۔ وہ سرخ نگاہیں اسکی جانب اٹھائے سختی سے گویا ہوا تو شائنہ بے ساختہ شرمندہ ہوتی ہاتھ ہٹا گئ۔۔۔
اسکی آنکھیں نم تھیں اور چہرے کے تاثرات تکلیف زدہ۔۔۔
احمر اسنے رازدرانہ انداز میں دروازے کی جانب دیکھا۔۔۔
وہ اندر ہی اندر تلخی سے ہسا۔۔۔ ایکٹنگ شروع۔۔۔۔ وہ منتظر تھا اس کردار کے اگلے ڈائیلاگز کا۔۔۔
میں جانتی ہو تم فائز علوی ہو۔۔۔ وہ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی ایک چور نگاہ دروازے کی جانب دیکھتے اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ لیکن میں تمہاری مدد کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ بتاو میں تمہارے لئے کیا کرسکتی ہوں۔۔۔
وہ ہاتھ کی انگلیاں چٹخاتی خاصی بے چین دکھائی دیتی تھی۔۔۔
واقعی تم میری مدد کرو گی۔۔۔ فائز کی آنکھوں میں امید کے جگنو چمکے۔۔۔
ہاں ضرور۔۔ بتاو میں تمہارے لئے کیا کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔ وہ فرط جذبات سے سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
واحد کام جو تم اس وقت کر سکتی ہو۔۔۔ وہ رکا۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔ میں کروں گی۔۔۔۔
فلحال فوری طور پر اپنی صورت یہاں سے گم کر لو بی بی مجھے کچھ دیر کے لئے سکون چاہیے۔۔۔ وہ تلخی سے کہتا آنکھیں مونڈ کر اس پر بازو رکھ گیا جبکہ وہ شاک کی سی کیفیت میں اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
******

No comments