Roshan Sitara novel 111th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 111th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
111the epi...
یہ کیا بات ہوئی ماہرہ تم ولیمے کی تقریب میں کیوں شمولیت نہیں کر رہی۔۔۔ پہلے تو چلو ٹھیک تھا تم ہماری شادی کے کسی فنگشن میں نہیں آئی۔۔۔ فاہا کہ بارات کا فنگشن اٹینڈ نہیں کیا۔۔۔ مگر اب تو ہم ایک فیملی ہیں۔۔۔ اکھٹے ٹیم ورک کر رہے ہیں۔۔۔ ایسے میں تمہارے نا جانے کا جواز۔۔۔ علایہ لاوئنج کے بیچ و بیچ کمر پر دونوں ہاتھ رکھے ماہرہ کو آڑے ہاتھوں لے رہی تھی۔۔۔ جو صوفے پر سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی۔۔۔ مائز پاوں پاوں چلتا کبھی لاوئنج تو کبھی کسی کمرے میں کھیلنے چلے جاتا۔۔۔ اس وقت بھی وہ لیب میں چیزیں سمیٹتے وہاج کے پاس کھڑا میز پر پڑے کاغذات کو کھینچنے کی کوشیش کر رہا تھا جسے وہ مسکراتا ہوا اسکی پہنچ سے دور کر رہا تھا۔۔۔۔ بہت جلد مائز ان سب کے ساتھ گھل مل گیا تھا۔۔۔ اب تو وہاج یا مرتسم میں سے جو بھی اپارٹمنٹ سے نکلنے لگتا وہ لپک کر انکے پیچھے بھاگتا۔۔۔۔
ماہرہ کے پاس ہی صوفے پر اسکی بلیک میکسی پڑی تھی جس پر ہلکا سا سلور سٹون ورک تھا۔۔۔ اسکی اور علایہ کی میکسی سیم ایک جیسی تھی اور علایہ ہی اسکے لئے یہ لے کر آئی تھی۔۔۔
تم سمجھ نہیں رہی علایہ۔۔۔۔ مجھے کہیں بھی آنا جان اچھا نہیں لگتا میں کمفرٹیبل محسوس نہیں کرتی۔۔۔
انشااللہ فائز واپس آئے گا تو اسکے ساتھ آپ سب کے گھروں میں آوں گی۔۔۔ ماہرہ کی آواز بھرا گئ۔۔۔ عرصہ ہوا اسنے ہر طرح کا ہار سنگھار ترک کر ڈالا تھا۔۔۔
مائز کو اٹھا کر لیب سے نکلتے وہاج نے دل ہی دل شدت سے اسکے یقین راسخ کو حقیقت میں بدلنے کی دعا کی۔۔۔
وہ سب تو ٹھیک ہے ماہرہ لیکن کسی ایک شخص کی کمی کے باعث ہر چیز کو ترک نہیں کر دینا چاپیے۔۔۔ہم جانتے ہیں کے تمہاری زندگی میں کوئی بھی شخص فائز کی جگہ نہیں لے سکتا لیکن ہم بھی تو تمہارے اپنے ہیں ۔۔۔ اور بہت کچھ دل مار کر اپنوں کی خوشی کے لئے بھی کیا جاتا ہے۔۔۔ وہاج نے لاوئنج میں آتے پہلی مرتبہ گفتگو میں حصہ لیا۔۔۔۔
ماہرہ بے بسی سے اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
چلو جلدی کرو اٹھو اٹھو شاباس نو مور آرگیومنٹس۔۔۔ وہاں فاہا سیلون میں میرا انتظار کر رہی ہوگئ۔۔۔ تمہیں پتہ ہے میری شادی پر وہ ایک ایک لمحہ میرے ساتھ تھی۔۔۔ اب اسکے خاص وقت پر میں اسکے ساتھ ہی نہیں۔۔۔ فوت ہی کر ڈالنا ہے اسنے مجھے۔۔۔ تم نے اتنا لیٹ کروا دیا۔۔۔ سارا وقت تو تمہیں منانے میں گزر گیا۔۔۔ وہ بعجلت اسکا ہاتھ کھینچ کر ماہرہ کو اٹھاتی دوسرے ہاتھ سے میکسی اٹھا کر اسے کھینچتی ہوئی کمرے کی جانب لے کر جا رہی تھی۔۔۔
***""
ولیمے کی تقریب عروج پر تھی۔۔ ماہرہ علایہ وہاج مرتسم حتکہ ننھا مائز تک مکمل تیار سا وینیو پر پہنچ چکا تھا۔۔۔ محض فاہا کا انتظار تھا علایہ سیدھا سیلون جانے والی تھی لیکن وقت کی قلت کے باعث بابا نے کہہ دیا کے سب سیدھا وینیو پہنچیں فاہا کو میں خود لے آوں گا۔۔۔
علایہ ہلکی سی جیولری اور نفاست سے کئے گئے میک آپ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی جبکہ اس کے برعکس ماہرہ نے محض کپڑے تبدیل کئے تھے میک آپ کے نام پر ہلکی سی فاونڈیشن یا لپ اسٹک تک نا لگائی تھی۔۔۔ اس معاملے میں اسنے علایہ کی ایک نا سنی۔۔۔ جب اسے سراہنے والا ہی یہاں نا تھا تو پھر اس سنگھار کا فائدہ۔۔۔ وہ سادگی اور سوگواریت میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ جبکہ مائز کا بلیک پینٹ کوٹ وہاج کے ساتھ میچنگ تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں بابا کی گاڑی آ کر اینٹرس پر رکی تو وہ س جانب متوجہ ہوئے جہاں پستہ کلر کی میکسی میں ملبوس فاہا باہر نکلی تو اسی جانب دیکھتا مرتسم ایک پل کو مبہوت رہ گیا۔۔۔
پھر وہ سرعت سے ہوش میں آتا اسکی جانب بڑھا اور اسکے پاس جاتے ہاتھ اسکی جانب بڑھایا فاہا نے اتنی نگاہوں کا مرکز بنے جھجھکتے ہوئے ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھا تو ہر جانب سے ہوٹنگ کا شور اٹھا۔۔۔ وہ کمیرے کی فلیش لائٹس میں اسکے سنگ سٹیج کی جانب بڑھا۔۔۔۔
ہال کی ڈیکوریشن دیدہ زیب تھی۔۔۔ اسے لا کر سٹیج پر بیٹھایا گیا تو سٹیج کے گرد جمگھٹا سا لگتا انکی فوٹوگرافز بنانے لگا۔۔۔
نا تو آج میری بارات ہے اور نا ہی میں روایتی دلہنوں کی طرح گھونگٹ نکالے آپکا انتظار کر رہی ہوں۔۔۔ اس لئے بہتری اسی میں ہے کے آپ شرافت سے میرا رونمائی کا تحفہ نکال دیں مرتسم صاحب۔۔۔ سٹیج پر بیٹھی کمیرے کی جانب دیکھتی فاہا مسکرا کر دانت پیستی مرتسم کی جانب جھک کر گویا ہوئی۔۔۔ جو کل سے کسی صورت رونمائی کی تحفے کی طرف آ ہی نا رہا تھا۔۔۔ ابھی صبح بھی تو وہ اس سے اسی موضوع پر اچھی خاصی بحث کر چکی تھی اور وہ اس بات کی طرف آنے کی بجائے اسے نئ نویلی دلہنوں کی طرح شرمانے کی اچھی اچھی ٹپس دے کر نو دو گیارہ ہو گیا تھا۔۔۔ اس نے ناجانے کس ضبط سے دوبارہ اس کے روبرو ہونے تک کا وقت کاٹا تھا۔۔۔ اسی لئے بنا جگہ اورصورتحال کو سمجھے وہ اس سے الجھ پڑی
بے ساختہ وہ مسکرا دیا۔۔۔
صحیح موقع پر مانگ رہی ہو یار۔۔۔ کمرے میں تو پہنچ لو۔۔۔ پھر کرتے ہیں حساب کتاب۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے ایک تیکھی نگاہ مرتسم پر ڈالی ور پھر سے رخ سیدھا کر گئ۔۔۔
ابھی۔۔۔ پہلے پچھلے حساب کتاب کلئیر ہونگے پھر اگلی بات۔۔۔
یار منہ دکھائی رات میں دلہن کو ملتی ہے جب دلہا کمرے میں آتا ہے ۔۔۔
وہ ویڈنگ نائٹ کی بات ہوتی ہے جو ہماری گزر چکی ۔۔۔
تو اس نائٹ کو ویڈینگ نائٹ بنانے میں کیا قباحت ہے۔۔۔ وہ شوخ ہوا۔۔۔
پٹری سے نا اتریں۔۔۔ لائن پر آئیں۔۔۔ اسنے آنکھیں ٹیرھی کئے اسے دیکھا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کوئی جواب دیتا علایہ وہاج ماہرہ اور مائز سٹیج پر آئے اور فاہا سے ملتے گروپ فوٹوز بنوانے لگے۔۔۔ہسی مذاق قہقے۔۔۔۔ مائز ہر تصویر میں نمایاں تھا جو تقریبا ایک کی گود سے دوسرے کی گود میں سفر کر رہا تھا۔۔۔ اسکا آخری سٹاپ فاہا کی گود تھی جس میں بیٹھا وہ اسکی جیولری سے چھیر چھاڑ کرنے میں مصروف تھا۔۔۔
زرا تیار ہو کر کمرے میں آئیے گا مرتسم لودھی آج آپکی خیر نہیں۔۔۔ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی تو واپسی کے راستے پر گامزن ہونے سے پہلے وہ مرتسم کو وارن کرتے گویا ہوئی کے منہ دکھائی کے معاملے میں وہ کیوں کسی صورت اسکے ہاتھ نا آ رہا تھا۔۔۔
اسکا فلک شگاف قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔
بائے دا وے یہ لائن دلہے کی نہیں ہوتی۔۔۔ اسنے شریر سے انداز میں کہتے آنکھ ماری تو فاہا تلملاتے ہوئے جھنجھلائی سی رخ موڑ گئ۔۔۔
وہ بات کیا کر رہی تھی اور مسٹر ہر بات میں اپنا مطلب ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔
****
وینیو سے واپسی پر اپارٹمنٹ کوئی بھی نہیں گیا تھا سبھی کا رخ اپنے گھروں کی جانب تھا صبح سب اپارٹمنٹ میں اکھٹے ہونے والے تھے۔۔۔
علایہ اور وہاج ماہرہ کو اسکے مائیکے ڈراپ کر گئے تھے۔۔۔ جبکہ مرتسم اور فاہا بھی سیدھے گھر ہی آئے تھے۔۔۔
شادی کی رات کی طرح آج رات مرتسم نے کمرے میں جانے کے لئے تاخیر نہیں کی تھی جبکہ کچھ ہی دیر بعد وہ کمرے میں موجود تھا۔۔۔ جبکہ شادی کی رات کی طرح آج فاہا بھی اسکی منتظر بیڈ پر نہیں بیٹھی تھی جبکہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی جلد از جلد خود کو جیولری کے بوجھ سے آزاد کروا رہی تھی جب مرتسم دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا جبکہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی فاہا اور اسکے بگڑے تیور دیکھ آنکھ اچکاتا سینے پر ہاتھ باندھے وہیں کھڑے ہو گیا۔۔۔۔
وہ ائیر رنگز ڈریسنگ پر پٹختی تیکھے انداز میں مرتسم کو دیکھتی اسکی جانب رخ کر کے اسی کے انداز میں سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو گئ۔۔۔
مسز کیا آپکو نہیں پتہ کے دلہن کا یہ سنگھار اسکے شوہر کے لئے ہوتا ہے اور شوہر کے آنے سے پہلے اسے یوں بگھارا نہیں جاتا۔۔۔ اسنے بھنور اچکائی۔۔۔
دراصل چند دن پہلے تک نا مجھے بھی یہی لگتا تھا لیکن پھر میں نے اپنی ویڈینگ نائٹ سے یہ سیکھا کے بجائے ساری رات انتظار کے کڑے مراحل سے گزرنے اور بے آرام رہنے کے خود کو فری کرتے سکون سے سو جانا چاہیے۔۔۔ وہ مسکرائی۔۔۔
اگر یہ مجھے شرمندہ کرنے کی کوشیش تھی تو سوری۔۔۔ تم ناکام رہی۔۔۔ تب چند غلط فہمیاں تھیں جو ختم ہو گئ اور میں پچھلی باتوں کو یاد کر کے اپنے آج کے خوبصورت پل تباہ نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔
وہ شانے اچکا کر کہتا دھپ سے بیڈ پر بیٹھا۔۔۔
میں بھی انہیں دہرانا نہیں چاہتی۔۔۔ وہ بھی اسکے پاس ہی آتی بیڈ پر بیٹھی۔۔۔
پھر کیا خیال ہے ۔۔۔ نئ شروعات کریں۔۔۔ وہ لمحوں میں شوخ ہوتا اسکی جانب رخ کر گیا۔۔۔
نہیں پہلے پچھلے حساب۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے ہتھیلی اسکی جانب پھیلائی۔۔۔۔
کیا اسکے بنا نئ شروعات نہیں ہو سکتی۔۔۔۔ اسنے مسکینیت سے کہتے کان کی لو مسلی۔۔۔
فاہا تاسف سے اسے دیکھ کر نفی میں سر ہلاتی میکسی سمبھالتی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
ارے کدھر۔۔۔ اسنے فاہا کی کلائی جھکڑتے اسے جھٹکا دیا تو وہ واپس وہیں آ گری۔۔۔
بات تو سن لو۔۔۔ وہ کچھ مزید اسکی جانب کھسکا۔۔۔
پہلی رونمائی۔۔۔ مرتسم نے اسکا بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا تو وہ سرعت سے ہاتھ کھینچ گئ۔۔۔
یار تم پر اتنا خرچہ کیا ہے اتنی شاپنگ کروائی اور تو اور یہ ولیمے کا اتنا مہنگا لباس دلوایا اتنا میرا کباڑا ہو گیا کیا ابھی بھی رونمائی کی گنجائش باقی ہے۔۔۔۔ مرتسم کے مسکینیت سے کہنے پر وہ صدمے سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
دنیا کا ہر شوہر یہ سب کرتا ہے مرتسم۔۔۔ اور اسکے ساتھ ساتھ رونمائی کا تحفہ بھی دیتا ہے۔۔۔ اسکا ملال بڑھا۔۔۔
مطلب معافی کسی صورت نہیں۔۔۔
میں نے آپکو اتنا کنجوس کبھی نہیں سمجھا تھا مرتسم۔۔۔وہ روہانسی ہو اٹھی۔۔۔۔ وہ نروٹھے پن سے چہرا جھکائے بیٹھی تھی جب مرتسم اسکے سامنے دوزانو بیٹھا۔۔۔
Thanks for coming in my life faha....
وہ نرمی سے اسکے دونوں ہاتھ تھامتا گویا ہوا تو فاہا نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔
ایم سوری۔۔۔ میری زندگی کی ایک خوبصورت رات میرے بے جا غصے کی نظر ہوئی۔۔۔ لیکن میں پوری کوشیش کروں گا کے آئندہ تمہارے معاملے میں کبھی غصہ نا کروں۔۔۔ فاہا نم آنکھوں سمیت اسے دیکھتی رہی۔۔۔
کوشیش کریں گے وعدہ نہیں۔۔۔ وہ ہولے سے بولی۔۔۔
یار وعدہ کرنا مشکل ہے نا۔۔۔ لیکن کوشیش پوری کروں گا۔۔۔
چلیں کوشیش پر بھی گزارا ہو جائے گا۔۔۔ بس غصے میں مارجن رکھ لیا کرنا۔۔۔ وہ دھیمے سے مسکرائی۔۔۔
دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی کے لئے چھوٹا سا تحفہ اسنے ایک چھوٹا سا کیس کھولتے اسکے سامنے کیا۔۔۔ جس میں نفیس سا بریسلیٹ تھا جس میں چھوٹے چھوٹے ڈائمنڈز سے فاہا مرتسم لکھا تھا۔۔۔
واو مرتسم اٹس سو پریٹی۔۔۔ وہ کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں بریسلیٹ پر ہاتھ پھیرتی اچھنبے سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
اتنا پیارا تحفہ جیب میں رکھ کر آپ مجھے تنگ کرتے پھر رہے تھے مرتسم۔۔۔ وہ اسے خفگی سے دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
جیب میں نہیں تھا نا یار۔۔۔ کسٹمائز بنوایا ہے تو ابھی کچھ دیر پہلے ڈیلیوری ملی اسکی۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے وہ بریسلیٹ اسکی نازک سی کلائی کی ذینت بنایا۔۔۔
اب تو پرانے کھاتے کلئیر نا۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ سہلاتا ہونٹوں سے لگا گیا تو وہ مسکرا کر سر ہاں میں ہلاتی چہرا جھکا گئ۔۔۔
******
نہیں ۔۔۔ چھوڑو فائز کو۔۔۔۔ خدا غارت کرے تم لوگوں کو چھوڑو اسے۔۔۔ فائزززز۔۔۔
فائز کے ہاتھ زنجیروں کی مدد سے باندھ کر اوپر لٹکائے گئے تھے جبکہ جسم نیم برہنہ تھا۔۔۔ جس پر چند نقاب پوش لوہے کی گرم دہکتی سلاخیں لگا رہے تھے۔۔۔ سلاخ جسم کو چھوتے ہی ماس کو جلاتی گوشت دکھانے لگی۔۔۔ پورے حال میں فائز کی کربناک چیخیں گونج رہی تھیں۔۔ وہ ایک کونے میں کھڑی بن جل مچھلی کی مانند تڑپ رہی تھی۔۔۔ اسکا جسم سوکھے پتے کی مانند کپکپا رہا تھا۔۔۔ اسے دو نقاب پوشوں نے سختی سے جھکڑ رکھا تھا اتنی سختی سے کے ان نقاب پوشوں کی انگلیاں اسے اپنی ہڈیوں میں گھستیں محسوس ہوئیں۔۔۔ وہ ان کے ہاتھوں سے پھسل پھسل جا رہی تھی۔۔۔ فائز کے جسم پر لگتی ہر گرم سلاخ اسے اپنے دل پر لگتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ فائز کی چیخوں کے ساتھ ساتھ اب حال میں اسکے بین اور سسکیوں کی آوازیں گھونجنے لگی تھیں۔۔۔
چھوڑ دو اسے ظالموں۔۔۔ خدا کا خوف کرو۔۔۔ وہ مر جائے گا۔۔۔ میرا فائز مر جائے گا۔۔۔ بخش دو اسے۔۔۔ بخش دو۔۔۔ کیا بگاڑا ہے اسنے تم لوگوں کا۔۔۔
چیخ چیخ کر اسکے گلے کی رگیں پھولنے لگیں۔۔۔ آنکھوں کے ساتھ ساتھ چہرے کی رنگت بھی دہکتے ہوئے سرخ ہو گئ۔۔۔
ایک دم ہی وہ چیختے ہوئے اٹھ بیٹھی۔۔۔ ماہرہ نے گہرے گہرے سانس لیتے ہاتھ مار کر سائیڈ لیمپ جلایا۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں تھی چہرا پسینے سے تر تھا۔۔۔ سانس دھولکنی کی مانند چل رہا تھا۔۔۔ وہ خواب دیکھ رہی تھی اور ابھی تک اسی خواب کے زیر اثر تھی۔۔۔ اسکی حقیقت میں وہی حالت تھی جو خواب میں اپنی دیکھ چکی تھی۔۔۔ اسکا جسم خزاں رسید پتے کی مانند کپکپا رہا تھا جبکہ آنکھوں سے سیل رواں جاری تھا۔۔۔ یہ کیسا خواب تھا بھلا۔۔۔ اتنا برا خواب۔۔۔ اسکا فائز مشکل میں تھا۔۔۔ اسکا دل بے طرح گھبرا رہا تھا۔۔۔۔
فائز علوی اپنے بستر پر چت لیٹا تھا دونوں ہاتھ سر کے نیچے تھے۔۔۔ اور آنکھیں اوپر چھت پر تکی تھیں پاوں قینچی کی صورت بنا رکھے تھے۔۔ ذہن بری طرح الجھا تھا۔۔۔ اسکی چھٹی حس اسے بار بار ایک الارم بجا رہی تھی جیسے خطرہ اسکے بہت قریب ہے۔۔۔ وہ مسلسل کسی نا کسی آیت کا ورد کر رہا تھا جب آہٹ پر یکدم سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ یہ کسی کے کودنے کی آواز تھی۔۔۔ وہ آوازوں سے اندازہ لگا سکتا تھا کے کوئی بالکنی سے کودا ہے اور وہ تعداد میں ایک دو نہیں بلکہ زیادہ ہیں۔۔۔وہ فوراً الڑٹ ہوتا سیدھا ہوا۔۔۔
ماہرہ اظہر رات کے اس پہر ہہتی آنکھوں سمیٹ پانی کے قطروں سے تر چہرا لئے وضو کر کے واش روم سے باہر نکلی۔۔۔ اب وہ کپکپاتے ہاتھوں سے آنچل چہرے کے گرد لپیٹ رہی تھی۔۔۔
اس سے پہلے کے فائز کچھ سمجھتا وہ سات سے آٹھ لوگ یکدم اس پر حملہ آور ہوئے اور اسے سمبھلنے کا موقع دئیے بنا ہی لمحوں میں اس پر اکھٹا دھاوا بولتے اسے ادھ موا کر گئے۔۔۔ وہ سمجھ ہی نا پایا کے حملہ کدھر سے ہوا تھا اور اسے بچاو کہاں سے کرنا تھا۔۔۔۔میر ٹھیک کہتا تھا۔۔ انسان ہمیشہ بے خبری میں ہی مرتا ہے۔۔۔
ماہرا نے کپکپاتے ہاتھوں سے جائے نماز بچھاتے نیت باندھی۔۔ جسم ہنوز کپکپا رہا تھا اور آنکھوں سے یونہی آنسو موتیوں کی صورت آبہتے چلے جا رہے تھے اور کپکپاتے لبوں سے وہ اسی ذات سے مدد طلب کر رہی تھی جس پر ساری آسیں امیدیں تھی۔۔۔ وہ فائز سے کوسوں دور محض یہ ہی کر سکتی تھی اور وہ اسکی سلامتی کے لئے جی جان سے وہی کر رہی تھی۔۔۔
فائز کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا ماتھے ناک اور ہونٹوں سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔ اسکا جسم نیم جان ہو چکا تھا جبکہ وہی لوگ اسے گھسیٹتے ہوئے کسی کوریڈور سے گزار کر لے جا رہے تھے۔۔ وہ بہت مشکل سے اپنے شعور کو جھگائے ہوئے تھے شعوری کوشیش سے وہ کچھ کچھ سمجھنے کے قابل ہو رہا تھا۔۔ راستے جانے پہچانے تھے۔۔۔ اسے سمجھ آنے لگا تھا کے اسے کہاں لیجایا جا رہا ہے۔۔۔ اسکے شعور پر اندھیرے کا غلبہ چھانے لگا تھا۔۔۔ اور وہ جانتا تھا کے شعور سے نکل کر لاشعور میں جاتے ہی لاشعوری طور پر انسان ہمیشہ سچ اگلتا ہے۔۔۔ اسے آنے والے وقت سے ڈر لگ رہا تھا۔۔۔ وہ اپنے وطن کے ساتھ غداری نہیں کر سکتا تھا ہاں اسکے برعکس اسے موت قبول تھی۔۔۔ اسے سامنے ٹارچر سیل کا دروازہ نظر آ رہا تھا کچھ ہی دیر میں اسے گھسیٹتے ہوئے لا کر ٹارچر سیل میں پھینکا گیا تو اسے گھومتے سر کے ساتھ سامنے میر کا مکروہ چہرا دکھائی دیا۔۔۔ ساتھ ہی اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں۔۔۔۔
******

No comments