Roshan Sitara novel 110th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 110th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
110th epi...
چھناکے کی آواز کیساتھ گلاس کرچیوں میں بٹا اور اسکی کرچیاں یہاں وہاں بکھری۔۔۔ گلاس میں موجود پانی زمین پر نقش و نگار بناتا دور تک پھیلتا چلا گیا۔۔۔
شٹ۔۔۔ فاہا ماتھا مسلتی وہیں بیٹھتی بری طرح لب کچلنے لگی۔۔۔
کچن میں ناشتے کے لئے انڈے فرائی کرتی ماہرہ نے رک کر ایک نظر باہر دیکھا۔۔۔ جبکہ کالج یونیفارم میں ملبوس پیپر کے لئے تیار سی علایہ نے بھاگ کر آ کر تیزی سے کرچیوں کی جانب بڑھتے مائز کو اٹھایا۔۔۔ لیب میں کام کرتے مرتسم اور وہاج نے بھی ایک اچٹتی نظر باہر دیکھا۔۔ جبکہ فاہا گہرا سانس خارج کرتی اٹھ کر گلاس کی کرچیاں سمیٹنے لگی۔۔۔
کل سے اس پر ایسی ہی بوکھلاہٹ طاری تھی۔۔۔ آج اسکا امتحان تھا اور وہ اسقدر کنفیوز تھی کے کل سے یونہی اسکے ہاتھوں سے چیزیں چھوٹ رہی تھی۔۔۔ ہاتھ پیر ساتھ چھوڑ جاتے۔۔۔ وہ یوں تھی جیسے میلے میں بچھڑا کوئی بچہ ہو۔۔۔ بس کسی بھی پل رو دینے کو۔۔۔ اسنے اس امتحان کے لئے دن رات کا فرق مٹا کر محنت کی تھی۔۔۔ لیکن جیسے جیسے امتحان کا وقت قریب آ رہا تھا دل کو ایک ڈھرکہ لگا ہوا تھا۔۔۔ ہاتھ پیر ساتھ چھوڑ رہے تھے اور اگر وہ اس اینٹرس کو کریک نا کر پائی تو۔۔۔ آگے سوچا تک نا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
ہٹو میں اٹھاتا ہوں۔۔۔ بے خیالی میں کرچیاں چنتے وہ آواز پر ہوش میں آئی۔۔۔ مرتسم اسکے سامنے دوزانو بیٹھا اسکے ہاتھ سے کرچیاں تھام کر باقی کی کرچیاں سمیٹنے لگا ۔۔۔۔
وہ اتنی بے دم تھی کے فوراً اٹھ کر صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔
سب ناشتہ کر لیں پھر ٹھنڈا ہو جائے گا۔۔۔ ماہرا نے بریڈ فرائی انڈے اور چائے کے کپ لا کر میز پر رکھے۔۔۔ تو سب سے پہلے آنے والی علایہ ہی تھی۔۔۔ اسکا پیپر تھا اور اسے جلدی نکلنا تھا۔۔۔ علایہ کی آواز پر وہاج بھی لیب سے آ نکلا جبکہ ماہرہ چائے کا کپ تھامتی بریڈ کے چھوٹے چھوٹے نوالے مائز کے منہ میں ڈالنے لگی جو پورے لاوئنج کا چکر کاٹتا مسکرا مسکرا کر ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔
مرتسم کرچیاں اٹھانے کے بعد فرش صاف کر کے مضظرب سی کتاب میں گھسی فاہا کے پاس آیا۔۔۔
آخری نوالہ لیتے ہی علایہ اور وہاج نکل گئے۔۔۔
جبکہ مرتسم نے سنجیدگی سے فاہا کی گود سے کتاب اٹھاتے اسے بند کیا تو فاہا نے چونک کر ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔
اتنی نروس کیوں ہو۔۔۔
مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے مرتسم۔۔۔ پتہ نہیں۔۔۔ پتہ نہیں مجھے کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔ وہ بے طرح ہاتھ مسلتی بیچارگی سے گویا ہوئی تو مرتسم نے اسکے دونوں ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں تھامے ۔۔۔
ریلیکس۔۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔
وہ نرمی سے گویا ہوا۔۔۔
اگر میں یہ اینٹرس کریک نا کر پائی تو۔۔۔ اسنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔ لہجے میں اندیشے بول رہے تھے۔۔۔
لسن فاہا۔۔۔ ہار جیت اور کامیابی ناکامی۔۔۔ زندگی کا حصہ ہیں۔۔۔ ریممبر رندگی کا حصہ ہیں۔۔ اسنے لفظ حصے پر زور دیا۔۔۔ پوری زندگی نہیں۔۔۔ اسکے لفظوں میں ٹھہراو تھا۔۔۔ اس لئے بی ریلیکس۔۔۔ اگر اس بار یہ اینٹرس کریک نا ہوا تو ہم اگلی دفعہ کوشیش کر لیں گے سمپل۔۔۔
کبھی ناکامی کو اتنا سیریس مت لینا کے وہ تمہیں بستر سے لگاتی اٹھنے نا دے اور کبھی کامیابی کو اتنا سر پر سوار نا کرنا کے وہ تمہیں مغرور بناتی خاک کر دے۔۔۔
کامیابی بھی ایک لمحے کی اور ناکامی بھی محض ایک لمحے کی۔۔۔ اگلے ہی لمحے سے پھر سے کوشیش شروع ہو جاتی ہے۔۔۔ کامیاب ہو جاو تو بہتری کے لئے۔۔۔ اور ناکام ہو جاو تو پھر سے کامیاب ہونے کی۔۔۔
بس اتنی سی کہانی ہے کامیابی و ناکامی کی اگر سمجھو تو۔۔۔
So be humble in both phase's....
جس کام میں اللہ کی طرف سے تمہارے لئے بہتری ہوگئ وہ ہو جائے گا۔۔۔ تم نے اپنا سو پرسنٹ دیا۔۔۔ اب بس بے فکر ہوتی سب اللہ پر چھوڑ دو۔۔ ایک گہرا سانس لو اور ہر فکر سے آزاد ہو جاو۔۔۔ جو ہو گا وہ دیکھا جائے گا۔۔۔ ریلیکس مائنڈ کے ساتھ جاو گی تو اچھا ہی پرفارم کرو گی لیکن اگر یوں اتنا پریشان ہو کر جاو گی تو یقیناً سب کچھ خراب ہی کرو گئ۔۔۔
یہ مرتسم کے سمجھانے کا ہی اثر تھا کے وہ کچھ ریلیکس ہوگئ تھی۔۔
آو ناشتہ کرو پہلے۔۔۔ مرتسم کے کہنے پر وہ سر ہاں میں ہلاتی اٹھ کر میز کے پاس آئی۔۔۔
****
فکر نہیں کرنی۔۔۔ ٹینشن نہیں لینی۔۔۔۔ بس اچھے سے اپنا امتحان دینا ہے پھر شام میں تمہیں کل کے ولیمے کے فنگشن کے لئے اپنا ڈریس بھی لینے جانا ہے نا۔۔۔ گاڑی روڈ پر فراٹے بھرتی جا رہی تھی جب مرتسم ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔۔۔ وہ پھیکا سا مسکرا دی۔۔۔ ابھی میں کسی شاپنگ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔
ہممم۔۔ کہا بھی تھا بابا سے کے ولیمے کا فنگشن چند دن آگے رکھ لیں پر نہیں۔۔۔ انہوں نے اور ماں نے تمہارے امتحان تک کا وقت دے دیا یہ ہی بہت تھا۔۔۔
ویل بیسٹ آف لک۔۔۔ فکر نہیں کرنا اوکے۔۔۔ گاڑی اسکے سینٹر کے سامنے روکتے اسنے فاہا کا گال تھپتھپاتے نرمی سے کہا تو وہ مسکرا کر سر ہاں میں ہلاتی اندر بڑھ گئ۔۔۔۔
*****
احمر تندہی سے سسٹم کے کی بورڈ پر جھکا اپنے نئے سوفٹ وئیر پر کام کر رہا تھا لیکن اسکی سبھی حسیں اپنے ارد گرد ہوتی کاروائیوں پر لگی تھیں۔۔۔ اردگرد کچھ تو تھا غیر معمولی۔۔۔ مگر کیا وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔ لیکن اندر ہی اندر ان سب کے بیچ کچھ تو کچھڑی پک رہی تھی۔۔۔۔ وہ اپنے ارد گرد خطرہ بھانپ سکتا تھا۔۔۔ کچھ تو وہ لوگ گڑبڑ کر رہے تھے۔۔۔ شائنہ ابھی ابھی گم صم سے انداز میں اسے کام کرتا دیکھ کر گئ تھی۔۔۔ اسکے انداز بھی احمر کو ٹھٹھکا رہے تھے۔۔۔۔
آپ لوگ کب اپنے پلان پر عمل پیرا ہونے کا سوچ رہے ہیں۔۔۔ لیب میں داخل ہوتے ہی شائنہ باپ سے مخاطب ہوئی۔۔۔
پرسوں۔۔۔ جواب میر کی جانب سے آیا تھا۔۔۔ دلاور خان کچھ بولتے بولتے رکا۔۔۔ کل تم نے اپنی یونیورسٹی کے جس کام سے یونیورسٹی جانا ہے وہ تم کر آو پھر پرسوں احمر والا کام نبٹائیں گے۔۔۔ میر کے کہنے پر وہ غائب دماغی سے سر ہاں میں ہلاتی لیب سے نکل گئ۔۔۔
تم نے اس سے جھوٹ کیوں بولا۔۔۔ اسکے جاتے ہی دلاور خان نے بھتیجے کو جانچتی نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
شائنہ ایک بہت ہی جذباتی لڑکی ہے چچا جان۔۔۔ یہ میرے کام میں رکاوٹ بنے گی۔۔۔ مجھے کیسے بھی کر کے احمر شیخ کو بے بس کرتے اس سے سچائی اگلوانی ہے۔۔۔ پھر چاہے اسکے لئے مجھے سخت سے سخت اقدام ہی کیوں نا کرنے پڑیں۔۔۔ لیکن میں دیکھ سکتا ہوں کے شائنہ میرے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔۔۔ اس لئے سب اس کے علم میں لائے بنا اور اسکی غیر موجودگی میں ہی کرنا پڑے گا۔۔۔ شاید کل دن میں یا کل رات ۔۔۔ احمر کی بے خبری میں۔۔۔ کیونکہ بے خبری میں جو مرتا ہے وہ بہت برا مرتا ہے۔۔۔۔نیند میں سے کسی شخص کو گھسیٹ کر ٹارچر سیل کا ٹارچر دیا جائے تو وہ ویسے ہی حواسوں میں نہیں ہوتا ایسے میں اسکا حقیقت بیان کرنا مزید آسان ہو جاتا ہے۔۔۔ اس لئے ہم نے احمر پر حملہ بھی اسکی لاعلمی میں ہی کرنا ہے۔۔۔ اسکا ہوم ورک مکمل تھا اور انکھوں میں شعلوں سی تپش تھی۔۔۔ اس بار احمر شیخ اپنی بے خبری کے ہاتھوں مرنے والا تھا اور وہ احمر سے اپنے پچھلے سبھی حساب کلئیر کرنے والا تھا۔۔۔ دلاور خان سمجھ کر سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔
****
شام کا وقت تھا مرتسم وہاج اور ماہرہ کیساتھ لیب میں کام کر رہا تھا۔۔۔ ماہرہ ٹائیپنگ کر رہی تھی جبکہ وہاج آج صبح ہی ڈیلیور ہوئے سامان کو کھول کر سکریو کی مدد سے جوڑتا اسے روبورٹ کی شیپ دے رہا تھا۔۔۔
مائز فاہا کے ساتھ سو رہا تھا۔۔۔ پچھلے کئ دنوں سے وہ امتحان کی ٹینشن میں ٹھیک سے سو تک نا پائی تھی۔۔۔ جبکہ آج امتحان سے فارغ ہونے کے بعد گھر آتے ہی وہ ہر چیز پس پشت ڈالے جا کر سو گئ۔۔۔ جبکہ علایہ کل ولیمے کی تیاریوں کے لئے پیپر کے بعد ماں کے گھر چلی گئ تھی۔۔۔
لیپ ٹاپ پر کام کرتے اچانک مرتسم نے ٹائم دیکھا اور کچھ سوچ کر فاہا کا رزلٹ چیک کرنے کی خاطر مخصوص ویب سائٹ پر گیا۔۔۔
مگر بے سود۔۔۔ ویب سائٹ پر اس وقت ہیوی ٹریفک تھا۔۔۔ مسلسل لوڈنگ شو رہی تھی۔۔۔ وہ وقفے وقفے سے کام کے دوران بار بار چیک کرتا رہا کے اچانک ویب سائٹ کھل گئ۔۔۔ اسنے فاہا کا رولنمبر لکھتے اینٹر کا بٹن دبایا۔۔۔
دوبارہ لوڈنگ۔۔۔
افف۔۔۔ وہ سب کام چھوڑے کرسی کی ہتھی پر کہنی ٹکاتا لبوں پر ہاتھ کی مٹھی جمائے کرسی کی پشت سے کمر ٹکا گیا۔۔۔ بے چین نگاہیں لیپ ٹاپ کی سکرین پر ہی ٹکی تھیں ۔۔ دفعتاً لوڈنگ کے بعد آہستہ آہستہ فصحہ کھلنے لگا۔۔۔ وہ متفکر سا ٹیک چھوڑ سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
دل دھک دھک کرنے لگا تھا جیسے یہ فاہا کا نہیں اسکا رزلٹ ہو۔۔۔
کم آن۔۔ کم آن کم آن۔۔۔۔ وہ کرسی کی ہتھی پر انگلیاں بجاتا خاصا بے چین۔۔۔ دفعتا صفحہ کلئیر ہوا تو گویا اسے سانپ سونگ گیا۔۔۔وہ اپنی جگہ پر ساکت رہ گیا ۔۔۔ نگاہیں بے یقینی کے ساتھ گویا وہیں جم گئیں۔۔۔ اسنے تھوک نگلتے بالوں پر ہاتھ پھیرتے وہی ہاتھ منہ پر پھیرا اور کرسی کی پشت سے کمر ٹکاتا آنکھیں موند گیا۔۔۔
مائے گاڈدددد۔۔۔۔
کچھ دیر بعد سیدھا ہوتا وہ جوش سے بولا کے ماہرہ اور وہاج نے سے حیرت سے دیکھا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔
مائے گاڈ یار۔۔۔ وہ خوشی سے چلاتا کرسی سے اٹھ کر اندھا دھند لیب سے باہر کو بھاگا۔۔۔۔ وہ دونوں حیرت و پریشانی سے اسی کے پیچھے لپکے۔۔۔
ہوا کیا ہے تمہیں۔۔۔ وہاج پیچھے سے چلایا۔۔۔
وہ آندھی طوفان بنا دوسرے کمرے کا دروازہ زور سے کھولتا اندر داخل ہوا کے ماہرہ دہل گئ۔۔۔
آرام سے مرتسم۔۔۔ مائز اٹھ جائے گا۔۔۔ا تنی مشکلوں سے دو گھنٹے لگا کر اسے سلایا۔۔۔
اسکے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے۔۔۔ وہ بھلا کہاں اسکی بات سننے والا تھا اس پر تو کوئی دھن سوار تھی۔۔۔
فاہا۔۔۔ا ٹھو یار کیا فضول کی نیندیں پوری کر رہی ہو۔۔۔
کم آن ہری آپ ۔۔ اٹھو آٹھو جلدی سے اٹھو۔۔۔ آنکھیں کھولو ہوش سمبھالو۔۔۔
وہ اونچی آواز میں کہتا گہری نیند میں سوئی فاہا کو بنا سمبھلنے کا موقع دئیے بازو سے جھکڑتا ایک جھٹکے سے بیٹھا گیا۔۔۔
ساتھ ہی فضا میں مائز کا بھونپو شروع ہو گیا۔۔۔
ماہرہ دانت پیستی مرتسم کو گھور کر دیکھتی سرعت سے مائز کی جانب لپکی اور اسے سینے سے لگاتی تھپکنے لگی۔۔۔
اتنی گہری نیند سے یکدم اٹھائے جانے پر فاہا کا سر چکرا کر رہ گیا۔۔۔ وہ چکراتے سر کو تھامتی نیم گنودہ سی اجنبی آنکھوں سے مرتسم کو دیکھنے لگی جیسے فوری طور پر نیند سے بیدار ہونے پر دماغ اسکی بات سمجھنے سے قاصر ہو۔۔۔
ہوش کرو یار ہوش کرو۔۔۔ مرتسم نے اسے جھنجھورتے سائیڈ ٹیبل پر پڑے پانی کے گلاس سے پانی کے چھینٹے اسکے منہ پر مارے۔۔۔
مرتسممم۔۔۔ کیا مسلہ ہے آپکو۔۔۔ وہ جٹپٹاتی اسکے ہاتھ جھٹک کر چلا اٹھی۔۔۔
اسنے ہاتھوں سے بال سنوارتے خونخوار نگاہوں سے مرتسم کو گھور۔۔۔
سویٹ ہارٹ گھورنا بند کرو۔۔۔
You crack the examination...
وہ چلایا۔۔۔ جبکہ فاہا حیرت سے گنگ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
ایسے ہونقوں کی مانند مجھے مت دیکھو یار واقعی تم نے سی ایس ایس کا تحریری ایگزام کلئیر کر لیا ہے۔۔۔ مرتسم نے ایک مرتبہ پھر سے اسے جھنجھوڑ ڈالا۔۔۔۔
واقعی۔۔۔ وہ شاک میں تھی۔۔ جبکہ ماہرہ کے تنے اعضلات بھی کچھ ڈھیلے پڑے۔۔۔
واقعی مرتسم وہ سر خوشی سے بستر سے اترتی ننگے پاوں لیپ ٹاپ کی جانب بڑھی۔۔۔ جیسے مرتسم پر یقین نا ہو۔۔۔ خود کنفرم کرنا چاہتی ہو۔۔۔ اسکے ہاتھ لیپ ٹاپ کی کیز پر تیزی سے سفر کر رہے ہے۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ اوہ مائے گاڈ۔۔۔ مرتسم۔۔۔ مجھے یقین نہیں آ رہا۔۔۔ لیپ ٹاپ پر ابھرتے رزلٹ کو دیکھتے ہی وہ منہ پر ہاتھ رکھتی خوشی سے اچھل پڑی۔۔۔
کانگریجولیشنز فاہا۔۔۔ یو ڈیزرو اٹ۔۔۔ ماہرہ نے آگے بڑھتے اسے گلے سے لگایا۔۔۔دفعتاً علایہ بھی وہاں پہنچ گئ۔۔۔ اچھا خاصا ہلہ گلہ ہو گیا۔۔۔ فاہا کے تو قدم ہی زمین پر نا ٹک رہے تھِے۔۔۔ اتنی بڑی کامیابی۔۔۔ اتنی زیادہ خوشی اس سے سمبھالے نا سمبھل رہی تھی۔۔۔
چلو فاہا اب تو ٹریٹ بنتی ہے جلدی کرو نو مور ایکسکیوزز۔۔۔ علایہ فرمائشی پروگرام لئے جھٹ اسکے سامنے آئی۔۔۔۔۔
کیوں نہیں بھئ آج کا ڈنر میری طرف سے میری مسز کی کامیابی کی خوشی میں۔۔۔ اس سے پہلے کے فاہا کچھ کہتی مرتسم کہتا اسکے ساتھ آ کر کھڑا ہوا۔۔۔ علایہ نے ستائش سے ائبرو اچکایا۔۔۔
باہر چلنے کی بجائے آئی تھنک ہمیں ڈنر یہیں آرڈر کر لینا چاہیے۔۔۔ ماہرہ کے کہنے پر وہ لوگ اس کی خواہش کا احترام کرتے متفق ہوئے تو مرتسم ڈنر آرڈر کرنے لگا۔۔۔
****
مسز لودھی کر لو کل کے حوالے سے جو جو شاپنگ کرنا چاہتی ہو۔۔۔ مرتسم اسے اپنے سنگ مال میں لاتا کھلی آفر کروا گیا تو فاہا نے بھی ہستے مسکراتے بے فکری سے کل کے فنگشن کے لئے شاپنگ کی۔۔۔ البتہ کل کی پستہ کلرکی دیدہ زیب میکسی مرتسم کی پسند تھی۔۔۔ ساری شاپنگ مکمل کر کے گھر لوٹتے لوٹتے انہیں رات کا ایک بج گیا وہ لوگ واپس اپارٹمنٹ جانے کی بجائے لودھی ہاوس آگے۔۔۔ وہاج کو مرتسم پہلے ہی میسج کر کے بتا چکا تھا ۔۔۔ ماں بابا سے ڈھیروں ڈھیر دعائیں لے کر وہ کمرے میں آگے۔۔۔
فاہا کی خوشی دیدنی تھی۔۔۔ اسکے تو قدم زمین پر نا ٹک رہے تھے۔۔۔ خوشی سے چہرے پر الوہی چمک ابھر آئی تھی۔۔۔
مرتسم آپکو نہیں لگتا کے ہمیں واپس اپارٹمنٹ چلے جانا چاہیے تھا۔۔۔ مرتسم فرہش ہو کر کمرے میں آیا تو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنی جیولری کی ایک ایک چیز اٹھا کر خود سے لگا کر چیک کرتی فاہا چہک کر بولی۔۔۔ وہ بے خود نگاہوں سے اسکے کھلے کھلے سے روپ کو دیکھتا قدم قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔
کیوں۔۔۔
کیوں۔۔۔ کیوں کا کیا مطلب بھلا۔۔۔ مانگ ٹیکا ماتھے پر رکھے وہ الجھ کر کہتی آئینے میں ابھرتے اسکے عکس کو دیکھنے لگی۔۔۔
کیا تم جانتی ہو کے کل ہمارا ولیمہ ہے۔۔۔ مرتسم اسکے عین پیچھے کھڑا بوجھل سی آواز میں گویا ہوا۔۔۔
ظاہر سے بات ہے مرتسم۔۔۔ یہ بھی کوئی بھولنے والی بات ہے۔۔۔ وہ شانے اچکاتی مانگ ٹیکا واپس ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتی نیکلس اٹھا کر گلے سے لگانے لگی۔۔۔
پھر تو یہ بھی جانتی ہو گئ کے ولیمے سے پہلے ولیمے کو جائز بھی کیا جاتا ہے چند فطری بشری تقاضوں کو پورا کر کے۔۔ مرتسم نے نرمی سے اسکی بازوں سے تھامتے اسکا رخ اپنی جانب کیا تو تب سے اب پہلی مرتبہ اسکی بہکی بہکی مخمور نگاہیں اور آواز کا بوجھل پن محسوس کر کے فاہا ٹھٹھکی۔۔۔ اسکی معنی خیز باتوں کا مفہوم سمجھتے فاہا کے ہاتھ کپکپا اٹھے اور نیکلس ہاتھ سے چھوٹ گیا۔۔۔ شرم و حیا کا ایسا غلبہ ہوا کے وہ سر تک نا اٹھا پائی۔۔۔
مرتسم نے نرمی سے اسے خود میں بھینچتے لائٹ بند کی تو وہ ڈھرکتے دل کیساتھ آنکھیں موندتی خودسپردگی دے گئ۔۔۔
*****

No comments